Hajj Umrah, Islam, Uncategorized, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

پھیرے کتھے لینے ہیں؟

مناسک حج و عمرہ سیکھنے کی اہمیت

ایک صاحب بتاتے ہیں کہ۔۔۔

اللہ رب العزت نے 2011 میں ایک مرتبہ پھر عمرہ کی سعادت عطا فرمائی۔ یہ واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا۔

ایک روز مسفلہ مکہ مکرمہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر کھڑا تھا کہ ایک بابا جی پاس آئے اور پوچھنے لگے۔۔۔
پتر! پھیرے کتھے لینے ہیں؟

پہلے تو میں نے انہیں ہاتھ کے اشارہ سے سمجھایا کہ بابا جی اسی گلی میں سیدھے چلے جائیے۔ مسجد الحرام باب عبد العزیز پہنچ جائیں گے۔ وہاں مزید کسی سے پوچھ لیجیے گا۔

وہ آگے بڑھے اور تھوڑا آگے جا کے پھر ایک اور شخص سے پوچھنے لگے۔ ادھر مجھے خیال ہوا کہ میاں اللہ موقع دے رہا ہے “دیہاڑی لگانے کا” اور تم ایسے ہی جانے دے رہے ہو۔ لپکا بابا جی کی طرف اور ان کو اطمینان دلایا کہ آئیے آپ کے ساتھ چل کے عمرہ کرا دیتا ہوں۔

راستے میں تھوڑا انٹرویو کیا بابا جی کا۔

پوچھا: بابا جی کیا کرتے ہو؟

بولے: زمینداری

پوچھا: بابا جی عمرہ کے لیے کتنا خرچہ کیا؟

بولے: لاکھ روپئیے۔

پوچھا: بابا جی کسی سے تربیت لی تھی؟

بولے: ہاں کسی نے بتایا تھا ادھر جا کے پھیرے لینے ہیں۔

مزید سوالات سے پتہ چلا بابا جی بغیر کسی خاص تربیت کے ہی چلے آئے ہیں۔

ادب سے عرض کی: بابا جی سیکھ کے آنا چاہیے تھا ناں۔ زمینداری کرتے ہیں تو اس کا تو سب علم ہے آپ کو۔ بیج کب ڈالنا ہے۔ پانی کب لگانا ہے۔ اسپرے کب کرنا ہے۔ وغیرہ۔

بے چارے اتنا ہی کہہ سکے: بس پتر ۔۔۔

خیر۔۔۔
میری خوش بختی کہ اللہ نے مجھے استعمال کر لیا۔ بیت اللہ لے جا کے انہیں عمرہ ادا کرایا۔ اللہ نے ان پر بھی کرم کیا کہ ان کے عمرہ کی درست طریقے سے ادائیگی کا انتظام فرما دیا۔ بغیر سیکھے پہنچ گئے تھے۔ اکیلے جانے کی صورت میں غلطی اور دم کا قوی امکان تھا۔

اس واقعہ میں عازمین حج و عمرہ کے لیے بڑا سبق ہے۔ آپ اتنی بڑی عبادت کرنے جا رہے ہیں۔۔۔ لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔۔۔ ہزاروں میل سفر کی مشقت اٹھا رہے ہیں۔۔۔ بیوی بچوں سے ہفتوں کی دوری برداشت کر رہے ہیں۔۔۔ اور جانے کیا کیا قربانی دے رہے ہیں۔۔۔ مناسک حج و عمرہ کو سیکھنے کی طرف بھی خوب توجہ دیجئے۔

حج عمرہ کے لیے دو طرح کا علم درکار ہے۔ ایک عبادات کا دوسرا معاملات کا۔ دونوں کا خوب علم حاصل کیجیے۔

اتنی بڑی عبادت۔۔۔

اتنا بڑا اجر۔۔۔

بغیر سیکھے جانے کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ تھکن مشقت اور سفر کے گرد و غبار کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آئے۔

طالبعلم بن کر سیکھئے، اور اتنا اعتماد حاصل کیجئے کہ بعد میں معلم بن کے دوسروں کو بھی سکھا سکیں۔ اپنے ہم سفروں میں ایسے لوگ تلاش کیجئے جو سیکھ سمجھ نہ پائے ہوں۔۔۔ انہیں محبت اور احترام سے سکھائیے۔۔۔ ڈھیروں ڈھیر اجر و ثواب کمائیے۔

اللہ کے مہمانوں کی اس سے بڑی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کو درست طریقہ سے حج عمرہ کرا دیا جائے۔ اور اس کے لیے فقط فرائض، واجبات اور سنن کا علم ہونا کافی ہے۔ فقہی مسائل تو ظاہر ہے علماء و مفتیان سے ہی دریافت کئے جائیں گے۔

Uncategorized

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

ایک دوست کے سانحہ ارتحال پر قلبی تاثرات۔۔۔

ہے دل میں بپا اک پکار محبت

نکالیں چلو کچھ غبار محبت

اس دھوکے کے گھر میں، جسے دنیا کہا جاتا ہے، موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ لوگ ہماری زندگیوں میں آتے ہیں۔۔۔ ہمارے ساتھ زندگی بسر کرتے پیں۔۔۔ اپنا ایک نقش ہماری زندگیوں میں چھوڑتے ہیں۔۔۔ اور پھر ایک دن اچانک ہمیں روتا دھوتا رنجیدہ افسردہ دکھی چھوڑ کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ پیچھے ہم ایک دوسرے کو اطلاع کرتے رہ جاتے ہیں کہ فلاں کا انتقال ہو گیا۔

لوگ تو مرتے ہی رہتے ہیں۔ روزانہ۔۔۔ ہر لمحہ۔۔۔ ان گنت۔ متعلقین۔۔۔ غیر متعلقین… سبھی! تو کیا دنیا چھوڑ کے جانے والے سبھی لوگ مر جاتے ہیں؟

واقعی؟

نہیں نا؟

میرے متعلقین میں سے بہت سے لوگ دنیا سے چلے گئے۔ بعض کی موت کو دل نے تسلیم کر لیا۔ صبر و قرار آ گیا۔ لیکن میرے دل کے ایک کونے میں ایک قطار ان احباب کی بھی ہے جن کی موت کے بارے میں، میں ابھی تک ایک انکار کی کیفیت میں ہوں۔ عجب ہی معاملہ ہے۔ جانے والے چلے بھی گئے۔ ان کی تجہیز و تکفین کے مراحل میں حصہ بھی لیا۔ ان کی نماز جنازہ بھی پڑھی۔ انہیں اپنے ہاتھوں سے قبر میں بھی اتار دیا۔ ان کے لیے روزانہ دعائے مغفرت بھی کرتا ہوں۔۔۔ لیکن پھر بھی تسلیم نہیں کر پاتا کہ وہ لوگ فوت ہو چکے ہیں۔ ڈھونڈوں تو نظر نہیں آتے۔۔۔ سوچوں تو پاس بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ جیتے جاگتے!

مثلاً ڈاک صاب ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جون  ۱۹، ۲۰۱۹ کو وہ ہوا جس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔

معمول کے مطابق دفتر کے لیے نکلا۔ گاڑی سروس کے لیے دفتر کے قریب ایک سروس اسٹیشن پہ چھوڑی۔ گھنٹا آدھ گھنٹہ دفتر میں لگا ہو گا۔ ڈیوٹی وصول کر کے فیلڈ میں جانے کے لیے دفتر سے نکلنے تک زندگی پرسکون تھی۔

دفتر سے نکلتے نکلتے ہمشیرہکا فون آیا۔
آواز بھرائی ہوئی تھی۔

بھائی میسج دیکھ لیا؟

گھبرا کے پوچھا: نہیں تو۔ خیریت؟

عصام بھائی کا انتقال ہو گیا ہے۔

نہیں۔۔۔

کائنات دل میں گویا بھونچال آ گیا۔ اور ایک شجر سایہ دار دھڑام سے زمیں بوس ہوا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے آپ میں سے کتنوں نے اکھڑے ہوئے درختوں کا منظر دیکھا ہو گا۔۔۔ دیکھا بھی ہو گا تو معلوم نہیں کبھی ایک لمحہ رک کر اس کے گرد و پیش پر غور بھی کیا ہو گا۔ ایک تناور درخت جب آندھیوں کے ہاتھوں زمیں بوس ہوتا ہے تو جہاں اس کا وجود گرتا ہے وہاں اچھی خاصی تباہی ہوتی ہے۔ ہر حساس فرد درخت گرنے کا درد محسوس کرتا ہے۔۔۔ جن کے آنگن کا درخت گرتا ہے ان کا کرب ہرگز محتاج بیاں نہیں۔ ان کا دکھ یقیناً سب سے سوا ہوتا ہے۔ سب ان سے اظہار تاسف و ہمدردی بھی کرتے ہیں۔

لیکن اس زمین کے دکھ کا کیا مداوا ہو کہ جس میں وہ شجر پیوست تھا؟۔ پیوست کا مطلب تو آپ سمجھتے ہی ہوں گے۔

محبت کا شجر زمین دل میں نمو پاتا ہے۔ جوں جوں یہ درخت تناور ہوتا جاتا ہے۔۔۔ اس کی جڑیں زمین دل میں شریانوں کی صورت پیوست ہوتی جاتی ہیں۔ پھر جب کسی آندھی کے سبب یہ شجر محبت زمیں بوس ہوتا ہے تو دل کی زمین پھٹ جاتی ہے۔ اچھی خاصی مٹی جڑوں کے ساتھ اکھڑ جاتی ہے اور پیچھے خاصا گہرا شگاف پڑ جاتا ہے۔ سال بیت چکا ہے۔ زمین دل کا شگاف جوں کا توں معلوم ہوتا ہے۔ جانے کیا صورت ہو گی اس کے پر ہونے کی۔۔۔ ہو گی بھی کہ نہیں۔

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے مابین تعلق کتنا پختہ و توانا ہو چکا تھا اس کا اندازہ ڈاک صاب کے اچانک چلے جانے کے بعد ہوا۔ وہ میرے رفیق بھی تھے اور میرے اور میرے اہل و عیال کے طبیب و مسیحا بھی۔ میری عربی کی لغت بھی تھے اور مترجم بھی۔۔۔ میرا قرآن و حدیث کا سرچ انجن بھی تھے اور ریفرنس بک بھی۔ جب جب کسی قرآنی آیت یا حدیث مبارکہ کی تلاش ہوتی تو ان ہی سے رجوع کرتا۔ ہر لحاظ سے “فون اے فرینڈ”۔ فون اے فرینڈ تو آپ سمجھتے ہی ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل و عیال میں سے کسی کی طبیعت کی خرابی کی صورت میں فوراً  ڈاک صاب کو فون کرتا۔

عجیب طبیب تھے۔ ڈاکٹر ہونے کے باوجود اینٹی بائیوٹک ادویات سے حتی الامکان دور رہنے کا مشورہ دیتے۔ بخار تین دن تک نہ اترے تب ہی اینٹی بائیوٹک دی جائے گی اس سے پہلے فقط کیلپول یا پیناڈول اور ساتھ صبر کی تلقین۔ اور ہاں مسنون دعا بھی لا باس طھور ان شآء اللہ۔

عجیب طبیب تھے۔ ایلوپیتھک ڈاکٹر ہونے کے باوجود حکمت اور ہومیوپیتھی کے بھی معترف۔ عطائیوں سے استفادہ کے بھی قائل تھے۔ متعلقین میں سے کسی کو جوڑ پٹھوں کی تکلیف ہوتی تو رفاع عام سوسائٹی میں ایک عطائی حکیم صاحب کے پاس بھیج دیتے۔ اللہ کے فضل سے مجھ سمیت کتنے ہی لوگوں کو آرام آیا۔

عجیب طبیب تھے۔ حکمت اور ہومیوپیتھی کی قدامت اور بزرگی کو مانتے تھے ۔ کہا کرتے تھے کہ یہ طریقہ ہائے علاج سینکڑوں سال سے چلے آ رہے ہیں جبکہ ایلوپیتھی کی عمر سو سال سے بھی کم ہے۔ بس سرجری میں ایلوپیتھی آگے ہے۔

عجیب طبیب تھے۔ طبی و شرعی ہر دو تقاضوں سے واقف۔ کئی برس پہلے ایک روزے کے دوران میری اہلیہ کی طبیعت کافی خراب ہو گئی۔۔۔ Doc Saab نے فون پر کیفیات و علامات سنیں تو فوراً ہی روزہ ختم کرنے کا مشورہ دے دیا۔ عمل درآمد میں ذرا تامل نہ ہوا کہ عبادات میں رخصت کے ضمن میں علماء یہی فتوی دیتے ہیں کہ ایسے طبیب کے مشورے پر عمل کیا جا سکتا ہے جو دین دار ہو۔ کیا کیا آسانیاں تھیں ڈاک صاب کی بدولت۔

مجھے یا میرے متعلقین میں سے کسی کو ڈاک صاب سے معائنہ کروانا ہوتا تو وی آئی پی پروٹوکول ملتا۔۔۔ “سلمان بھائی سیدھے میرے کمرے میں چلے آئیں۔” نہ قطار نہ انتظار۔ میرے فیملی آئی اسپیشلسٹ بن چکے تھے۔ میری والدہ، ایک ماموں، تین خالاؤں اور میرے سسر کے آنکھوں کے آپریشن انہی کے کلینک پر ہوئے۔ آپریشن کے بعد خود ہی مجھے فون کر کر کے سب کی خیریت بھی لیا کرتے۔

عجیب طبیب تھے۔

آشوب چشم کی دوا کیا کرتے تھے۔۔۔

آشوب چشم میں مبتلا کر گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذاتی خوبیوں کی بات کریں تو ڈاک صاب اعلیٰ صفات و اخلاق کے حامل تھے۔ خاص کر کچھ عادات بڑی عمدہ اور پختہ تھیں۔ لین دین ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کرتے۔ اگر کوئی بایاں ہاتھ بڑھا بھی دیتا تو اسے بائیں ہاتھ سے چیز نہ لینے دیتے بلکہ دائیں ہاتھ میں ہی دیتے۔ اسی طرح اپنے والد والدہ کا ذکر ہمیشہ ان الفاظ میں کرتے۔۔۔ “بابا ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔امی ، اللہ ان پر رحم فرمائے۔” ان کے کسی واقف کی معرفت کسی کا کوئی کام نکل جاتا تو ہمیشہ یہی کہتے کہ “اللہ نے اسکا دل نرم کر دیا۔”

اور ایک نمایاں عادت تھی کثرت سے سلام کرنا ۔۔۔ اتنی کثرت سے کہ بسا اوقات تو ہمیں اختلاج ہونے لگتا۔۔۔ جتنی بار کمرے سے باہر گئے، واپس داخل ہوئے تو السلام علیکم۔۔۔

اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید ڈاک صاب نے اپنی جنت پکی کرنے کے لئے اس حدیث کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔

وَعن عبدِاللَّهِ بنِ سَلاَمٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشوا السَّلامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا باللَّيْل وَالنَّاسُ نِيامٌ، تَدخُلُوا الجَنَّةَ بِسَلامٍ.

رواهُ الترمذيُّ وقالَ: حديثٌ حسنٌ صحيحٌ.

اے لوگو ! سلام کو عام کرو، اور کھانا کھلاؤ، اور رات میں جب لوگ سوتے ہوں اُس وقت نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“

تو حدیث مبارکہ میں مذکور تین باتوں پر عمل کرنے کی تو بھرپور سعی کرتے رہے ڈاک صاب ۔ سلام بھی خوب کثرت سے کیا کرتے تھے۔ کھلانے پلانے میں بھی بخیل نہ تھے۔ کتنی ہی مرتبہ ان سے ٹریٹ لی۔ گاڑی کی تبدیلی پر ٹریٹ۔ صاحب زادے کی امتحان میں کامیابی پر ٹریٹ۔ صاحبزادی کے ڈاکٹر بن جانے پر ٹریٹ۔ اور جانے کون کون سی موقع بے موقع ضیافتیں۔ کھلانے پلانے کا دوسرا مطلب اگر غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا لیا جائے تو وہاں بھی پیچھے نہ تھے۔ رات کی عبادت کا بھید بھی وفات کے وقت ظاہر ہو گیا۔ ان شآء اللہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گئے ہوں گے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بڑی امید ہے۔ اس سے بڑا قدردان کوئی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنازہ اس بات کا ثبوت اور گواہ تھا کہ ڈاک صاب نے اپنی زندگی میں خوشبو ہی خوشبو بانٹی۔ ایک بڑا مجمع ان کے حق میں دعائے مغفرت کے لئے موجود تھا۔ نماز جنازہ جامعہ ستاریہ میں ادا کی گئی جو کہ اہل حدیث مکتبہ فکر سے متعلق ہے۔ کسی نے بتایا کہ ڈاک صاب فجر کی نماز اکثر یہیں پڑھا کرتے تھے۔ نماز جنازہ جہری پڑھی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی پیش امام کو میت کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے پایا۔ نماز جنازہ میں وہ بھی موجود تھے جو اہل حدیث امام کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور تدفین میں وہ بھی موجود تھے جو اس سے قبل کبھی کسی میت کی تدفین کے لئے قبرستان نہیں گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سال سے اوپر ہو چکا ڈاک صاب کے انتقال کو۔ کہاں کہاں نہیں یاد آئے۔۔۔ کہاں کہاں نہیں یاد آتے۔۔۔ اکثر ان کے گھر کے سامنے سے گزر ہوتا ہے۔۔۔ بسا اوقات دن میں دو مرتبہ۔۔۔ ایسے ہی کبھی ناظم آباد پٹرول پمپ کے پاس سے گزروں تو لازماً یاد آتے ہیں۔۔۔ اور وہ سروس اسٹیشن جہاں ان کی وفات کے دن گاڑی سروس کو دی تھی وہ تو آفس کے راستے ہی میں ہے۔۔۔ اور دوستوں کی ہفتہ وار مجلس میں۔۔۔ اور خاص کر کورونا وبا کے ان ایام میں کسی طبی مشورے کے لئے، جبکہ اکثر کلینکس کی بندش کے باعث ڈاکٹرز تک رسائی بے حد دشوار ہو چلی ہے۔ دعائے مغفرت کی صورت میں محبت کا خراج لازمی وصول کرتے ہیں۔ آہ میرے فون اے فرینڈ۔ اب تو بس یہ دعائے مغفرت ہی ان سے رابطہ کا ذریعہ ہے۔ فللہ الحمد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کا بچپن لڑکپن مکہ مکرمہ کی گلیوں میں کھیلتے کودتے گزرا۔ حرم مکی باب عمرہ کے عین سامنے والے محلے میں رہا کرتے تھے۔ کنگ عبداللہ ایکسٹینشن کے بعد یہ سارا علاقہ اب حرم مکی میں شامل ہو چکا۔ مکہ مکرمہ میں قیام تین عشروں سے زائد پر محیط رہا۔ اللہ تعالی ڈاک صاب کی کامل مغفرت فرمائے۔ درجات بلند فرمائے۔ اور جیسے دنیا میں انہیں سالہا سال اپنے گھر کا پڑوس عطا فرمایا ایسے ہی آخرت میں ہمیشہ کے لیے اپنا پڑوس عطا فرمائے۔ اللہ کریم ان کے اہل و عیال کی حفاظت کفالت فرمائے۔ آمین۔

اللھم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ و اکرم نزلہ و وسع مدخلہ و اغسلہ بالمآء و الثلج و البرد و نقہ من الذنوب و الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔
اللھم حاسبہ حسابا یسیرا و ادخلہ الجنۃ بغیر حساب و لا عذاب۔

ربنا اغفر لنا و لاخواننا الذین سبقونا بالایمان و لا تجعل فی قلوبنا غل للذین آمنوا ربنا انک رؤف رحیم۔

ربنا اغفر لی و لوالدی و للمؤمنین یوم یقوم الحساب۔ رب ارحمھما کما ربیٰنی صغیرا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو ادب میں کچھ اشعار ایسے ہیں کہ ڈاک صاب کے اچانک چلے جانے کے بعد سے بار بار یاد آتے ہیں۔۔۔

مثلا بہادر شاہ ظفر کا یہ ضرب المثل مصرعہ۔۔۔۔

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

یا خالد شریف کا یہ ضرب المثل شعر۔۔۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

یا مرزا غالب کا یہ شعر۔۔۔

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

اور جون ایلیا کا یہ شعر تو قیامت ہے

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

اور جون ایلیا ہی کا ایک اور شعر جو اب ان کی وفات کو ایک سال گزرنے پر یاد آ رہا ہے۔۔۔

جانی! کیا آج میری برسی ہے؟

یعنی کیا آج مر گیا تھا میں؟

نہیں ڈاک صاب۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذکر فان الذکری تنفع المومنین۔

ایمان کا مذاکرہ ایمان والوں کو نفع دیتا ہے۔

مومن مومن کا بھائی ہے۔۔۔ ایک دوسرے کا سہارا ہے۔ ایک کا ایمان یا عمل کمزور پڑنے لگتا ہے تو دوسرے کو دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں، وہ بھی تو کر رہا ہے۔ اللہ کے چند بندوں نے اس فکر کے ساتھ کہ اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسل کو اس پرفتن دور میں کس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے، آپس میں جڑنا شروع کیا۔ ایک ٹوٹی پھوٹی سی کوشش جاری ہے۔ ایک ساتھی جو سب سے کم عمر تھا کئی برس قبل موبائل اسنیچنگ کے دوران گولی لگنے سے شہید ہو گیا، ایک ساتھی جو عمر میں سب سے زیادہ تھا وہ سجدے کی حالت میں اپنے رب سے جا ملا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیگر ساتھیوں کو بھی حسن خاتمہ کی نعمت سے نواز دے۔ آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واٹس ایپ پر ڈاک صاب کی جانب سے موصول ہونے والی آخری نصیحت شیئر کر رہا ہوں جو 14 جون 2019 کو موصول ہوئی۔ ایک مسنون دعا سے متعلق حدیث مبارکہ مکمل عربی متن اور اردو انگریزی ترجمہ کے ساتھ۔ ڈاکٹر صاحب اکثر یہ دعا دہرایا کرتے تھے اور ہمیں بھی سکھلایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس دعا اس پیغام اور ڈاک صاب کی دیگر حسنات کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ اور بلندی درجات کا سبب بنائے۔

حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ قُلْتُ لأُمِّ سَلَمَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ عِنْدَكِ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ ” يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ” . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لأَكْثَرِ دُعَائِكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ ” يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلاَّ وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ ” . فَتَلاَ مُعَاذٌ : ( ربَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا )

Shahr bin Hawshab said: “I said to Umm Salamah: ‘O Mother of the Believers! What was the supplication that the Messenger of Allah ﷺ said most frequently when he was with you?” She said: ‘The supplication he said most frequently was: “O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā Muqallibal-qulūb, thabbit qalbī `alā dīnik).’” She said: ‘So I said: “O Messenger of Allah ﷺ, why do you supplicate so frequently: ‘O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion.’ He said: ‘O Umm Salamah! Verily, there is no human being except that his heart is between Two Fingers of the Fingers of Allah, so whomsoever He wills He makes steadfast, and whomever He wills He causes to deviate.’”

حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ اے ام المومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس اکثر کیا دعا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایايَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَی دِينِکَ (یعنی۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ) پھر فرمانے لگیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اکثر یہی دعا کیوں کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوئی شخص ایسا نہیں کہ اس کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو۔ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ پھر حدیث کے راوی معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا) 3۔ ال عمران : 8) (یعنی اے اللہ ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کر۔)

[Jami At-Tirmidhi, Chapters on Supplication, Hadith: 3522]

Chapter: The Supplication: “O Changer Of The Hearts”.

Grade: Hasan

#Supplication #Hadith

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس دن ڈاک صاب  کی وفات ہوئی اس دن سے ان سے تعلق کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا۔ لیکن جب کبھی لفظ جوڑنے بیٹھتا تو دل پہلے بیٹھنے لگ جاتا۔ اب بھی کئی دن کی مشقت کے بعد بمشکل یہ چند لفظ جوڑ پایا ہوں۔۔۔ اور یہ کئی دن بھی کئی مہینوں پر محیط ہیں۔۔۔ نصف صدی کا قصہ نہ سہی، دو چار برس کی بات بھی تو نہیں۔۔

نکالا ہے کچھ کچھ غبار محبت

اک عرصے سے تھا اک ادھار محبت

انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ۔۔۔

فصبر جمیل و اللہ المستعان

Intaqal, Mayyat, میت, انتقال, اردو ادب, جنازہ

موت کا ادب

موت کا ادب

اردو زبان میں کسی کی موت کو ادبی پیرائے میں کئی طرح سے بیان کیا جاتا ہے اور مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔
کئی برس قبل یہ اصطلاحات جمع کر کے ایک کاغذ پر لکھ لی تھیں۔ وہ کاغذ تو ادھر ادھر ہو گیا۔ اب دوبارہ یاد آنے پر ایسی اصطلاحات ایک بار پھر جمع کی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے۔ کوئی ترکیب رہ گئی ہو تو کمنٹس کے خانے میں درج کیجئے۔
مر گئے
مارے گئے
فوت ہو گئے
انتقال کر گئے
رخصت ہو گئے
وفات پا گئے
چل بسے
گزر گئے
دار فانی سے کوچ کر گئے
ابدی سفر پہ روانہ ہو گئے
دار فنا سے دار بقا کو ہجرت کر گئے
داغ مفارقت دے گئے
پیوند خاک ہوئے
سوگوار کر گئے
رحلت فرما گئے
راہی ملک عدم ہوئے
سوئے عدم کو چل دیئے
خالق حقیقی سے جا ملے
سفر آخرت پر روانہ ہو گئے
رب کے حضور پیش ہو گئے
وصال کر گئے
ابدی نیند سو گئے
داعی اجل کو لبیک کہا
جان جان آفریں کے سپرد کر گئے
موت کا جام پیا
موت کو گلے لگایا
زندگی کا چراغ گل ہو جانا
سانحہ ارتحال
قضا آ گئی
جاں بحق
قتل
ہلاک۔ سب سے برا لفظ غالبا” یہی ہے۔