Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Social, معاشرت, اخلاقیات, اسلام, علم دین

سرفراز کی جماہی

قرآنی آیات احادیث مبارکہ اور اسلامی تعلیمات کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے معانی و مفاہیم اپنے اندر نہایت وسعت لیے ہوئے ہیں۔ مختلف اوقات اور حالات کے حساب سے ان کی نت نئی حکمتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مثلاً جماہی لینے کے بارے میں اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ جماہی آئے تو اس کو حتی الامکان روکنا چاہیے، یا منہ پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے گزشتہ روز بھارت کے خلاف میچ کے دوران جماہی لی جو گراؤنڈ میں لگے ٹی وی کیمروں نے براہ راست پوری دنیا میں نشر کر دی۔ میچ میں شکست کے بعد سرفراز احمد کی اس جماہی پر سوشل میڈیا صارفین نے خوب ہاتھ صاف کیا۔۔۔ بعضوں نے جماہی کی تصویر کے ساتھ بڑے ذو معنی جملے تحریر کئے اور بعضوں نے سرفراز کو خوب تمسخر کا نشانہ بنایا۔

کہا جا سکتا ہےاگر سرفراز احمد جماہی روک لیتے یا کم از کم منہ پہ ہاتھ رکھ لیتے تو شاید مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن ان کے منہ پھاڑ کے جماہی لینے کا منظر ساری دنیا نے دیکھا۔ بہر حال سرفراز احمد نے جو کیا سو کیا۔۔۔ اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کا ایک اور پہلو عیاں ہوا۔ ایک اور حکمت سامنے آئی۔ کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے۔

اگلی بات سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے۔

سرفراز احمد سے قبل ایک پاکستانی سپورٹر کی تصویر وائرل ہوئی تھی جو آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر افسردگی و مایوسی کے عالم میں دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے کھڑے تھے۔ پھر سرفراز احمد کی جماہی والی تصویر سوشل میڈیا والوں کے ہاتھ لگ گئی۔ دونوں کی تصاویر لے کر جو سلوک کیا گیا اسے تضحیک و تمسخر کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ایک لمحہ کو سوچئے کہ یہ خود یا ان کے گھر والے اور رشتہ دار جب ایسی تضحیک آمیز پوسٹس دیکھتے ہوں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی۔۔۔ قرآن کریم میں سورة الحجرات میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے ہدایت کی گئی کہ لا یسخر قوم من قوم کہ ایک دوسرے کا تمسخر مت اڑاؤ۔۔۔ حکم اتنا اہم و تاکیدی ہے کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ مخاطب کر کے حکم دیا گیا۔۔۔ آگے اسی آیت میں مومن بھائی کو عیب لگانے اور برے نام سے پکارنے سے بھی روکا گیا۔۔۔

عرض اتنی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت بے احتیاطی و لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ جانے انجانے میں ہم کبائر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔۔۔ اور پھر یہ سلسلہ صرف ایک فرد واحد تک محدود نہیں رہ جاتا بلکہ آگے شیئر در شیئر کا ایک لا متناہی سلسلہ۔۔۔

اس پر ایک اور آیت ذہن میں آ گئی۔۔۔ سورة العنکبوت آیت 13 میں ارشاد ہوا۔۔۔ ولیحملن اثقالھم و اثقالا مع اثقالھم۔۔۔ اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔

ایمان والوں کو مذاق سے قبل یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بات مذاق نہیں ہوتی۔۔۔ اور سوشل میڈیا کا استعمال تو ہرگز مذاق نہیں ہے۔ کچھ اندازہ بھی ہے کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے؟

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اخلاقیات, اسلام, علم دین

خذوا زینتکم عند کل مسجد

آج کل گرمی اور حبس بہت زیادہ ہے۔ پسینہ بہت آ رہا ہے جس کے باعث جسم سے بو آنے لگتی ہے۔ جو آس پاس کھڑے نمازیوں کے لئے سخت ناگواری کا باعث بنتی ہے۔
مسجد جاتے ہوئے چند باتوں کا اہتمام کر لیجیے:

☜ ممکن ہو تو غسل کر لیجیے۔ ٹھنڈک کی ٹھنڈک۔۔۔ پاکیزگی کی پاکیزگی۔

☜ ممکن ہو تو نماز کے لیے ایک صاف ستھرا جوڑا الگ کر دیجیے۔

☜ کم از کم یہ تو ضرور ہی کیجیے کہ مسجد جانے سے قبل مناسب سا عطر لگا لیجیے۔

☜ جینز پہننے والے بھائیوں کی خاص توجہ درکار ہے۔ جینز کی پتلون عموماً کئی کئی دن پہنی جاتی ہے۔ اس گرمی اور پسینے کے موسم میں جینز پہن کے مسجد (بلکہ کسی بھی مجلس) میں نہ جائیے۔ پسینے کے باعث بعض اوقات جینز سے پیشاب کے مماثل بو آ رہی ہوتی ہے۔۔۔ جو اطراف میں موجود لوگوں کے لیے انتہائی ناگواری کا سبب بنتی ہے۔

یا بنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد

اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت خود کو مزّین کیا کرو۔ (الاعراف)

Ramadhan, Taraweeh, تراویح, رمضان المبارک

پیروں پر ورم

پیروں پر ورم

الحمد للہ پورے انتیس دن تراویح ادا کر لی۔
عشاء سمیت روز کی کم از کم 29 رکعات۔۔۔
روز کا سوا تا ڈیڑھ گھنٹہ کا قیام و رکوع و سجود
لیکن مجال ہے جو ایک بار بھی پیروں پر ورم آیا ہو
نجانے اور کتنی دیر کھڑے ہونے کے بعد پیروں پر ورم آتا ہے

اللھم صل و سلم علیٰ نبینا محمد

فداہ ابی و امی و روحی و مالی و ولدی

Eid, Islam, moon sighting, Ramadhan, Roza, اسلام, رمضان المبارک, رویت ہلال, روزہ, عید

سوال ہونا چاہئے

سوال ہونا چاہئے۔۔۔

*مفتی پوپلزئی سے*
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ جب حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کا پورا ادارہ بنایا ہوا ہے جس کی صوبائی اور ذیلی کمیٹیاں بھی ہیں، جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماء شامل ہیں، اور جس پر کسی مکتبہ فکر کے علماء کو اعتراض ہے نہ اس سے اختلاف، پھر آپ کیوں اس ادارے کی رویت سے انحراف کرتے ہیں؟ آپ کیوں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں؟ آپ کس حیثیت میں رویت ہلال کا اعلان کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ سعودی عرب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو وضاحت کر دیجئے ہم اس کو قبول کر لیں گے۔۔۔ لیکن آپ جھوٹی رویت کا اعلان کیوں کرتے ہیں؟کیوں کذب بیانی کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ ماہرین فلکیات کی تحقیقات بتا رہی ہوتی ہیں کہ چاند افق پر موجود ہی نہ ہو گا، یا غروب آفتاب سے قبل یا ساتھ یا فوری بعد غروب ہو جائے گا، پھر یہ چاند آپ کو کہاں اور کیسے نظر آ جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ پھر آپ کیوں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے ہیں؟ کیوں قومی و ملی یکجہتی کو پارہ پارہ کرتے ہیں؟ کیوں امت میں انتشار پیدا کر رہے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔ کیا آپ کا یہ طرز عمل آپ کو اس فہرست میں لاکھڑا نہیں کر رہا؟ آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ کو سعودی عرب بھیج دیا جائے یا آپ وہاں کے شہری ہوتے یا آپ کو آج وہاں کی شہریت عطا کر دی جائے تو کیا آپ وہاں ایسی کسی جرات کا تصور بھی کر پائیں گے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ کہ آپ کے عزائم کیا ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ سال میں صرف دو چاند کی رویت پر کیوں اس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اور باقی دس ماہ کہاں غائب ہوجاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ محرم الحرام کی رویت کے وقت آپ کا احساس ذمہ داری کہاں سو جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ کیا آپ محرم الحرام کا چاند ادھر ادھر کرنے کی جرات ہمت کر سکتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کے صرف دو چاند میں مسئلہ آتا ہے ، اختلاف آتا ہے ۔۔۔ باقی دس ماہ سیدھے کیسے ہو جاتے ہیں؟ باقی دس ماہ کی قمری تاریخیں کیوں بقیہ ملک سے آگے پیچھے نہیں ہوتیں؟ اور اگر ہوتی ہیں تو اب تک تو دس بارہ پندرہ دن کا فرق کیوں نہیں آ گیا آپ کے اور حکومت کے چاندوں کی رویت میں؟ کیا آپ بقیہ دس ماہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ہی چلتے ہیں؟

*مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے*
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ ایک شخص آپ کے خلاف برس ہا برس سے مسلسل علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے، آپ نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔ کہ اس فتنے کی سرکوبی کے لئے آپ کے پاس کیا کوئی اختیارات ہیں؟ اور اگر اختیارات نہیں ہیں تو اب تک اختیارات حاصل کرنے کی کیا کوئی کوشش کی گئی؟ اور اگر نہیں کی گئی تو کیوں نہیں کی جاتی؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ آپ نے اب تک اس فتنے کے خلاف عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا؟

*حکومت سے*
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ جس وقت مسجد قاسم خان کا مفتی کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے اس وقت حکومت کی رٹ کہاں ہوتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے ریاست کے اندر ریاست بنائے بیٹھا ہے، حکومت کب جاگے گی ؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ حکومت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرتی؟ کیوں ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایسے مواقع پر کیوں اس فتنے کو ڈھیل دی جاتی ہے؟ کیوں اس فتنے سے آنکھ چرائی جاتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ اگر قانونی کاروائی ممکن نہیں تو کم از کم ایسے مواقع پر اس فتنے کو دو تین دن کے لئے نظربند کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کیوں اس کا موبائل نہیں چھین لیا جاتا؟ کیوں اس کو ملک سے باہر نہیں بھیج دیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ کیوں ایسے مواقع پر دفعہ ۱۴۴ کا استعمال نہیں کیا جاتا؟ کیوں اس کے گرد جمع ہونے والے جمگھٹے کو منتشر نہیں کر دیا جاتا؟

*میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے*
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ ایک غیر اہم شخص کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کیوں اتنی کوریج دیتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں بھول جاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں پکڑتے کہ آؤ ناں مفتی صاب اب چاند دکھاؤ ۔ محرم کا چاند دکھاؤ۔ ربیع الاول کا چاند دکھاؤ۔ ذی الحج کا چاند دکھاؤ؟

*پیمرا سے*
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ ایک شخص کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے، تو اس کے گرد جمع ہونے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کی پالیسی کیا ہے؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ ایسے فتنے کو خواہ مخواہ اہمیت دینے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کے قوانین کیا کہتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ اس بارے میں پیمرا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے؟ اور اگر کوئی نہیں ہے تو ضابطہ اخلاق کیوں نہیں تیار کر لیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ جس طرح گزشتہ برسوں میں رمضان المبارک میں فضول گیم شوز پر پابندی کا حکم جاری کیا، ، کیوں اس فتنے کی رپورٹنگ پر پابندی کا حکم جاری نہیں کیا جاتا؟

*معاصر علمائے کرام سے*
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ وہ امت میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات اس فتنے کے خلاف کیوں آواز بلند نہیں کرتے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔ کہ آپ حضرات نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات کئے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات نے اب تک مسجد قاسم خان کے مفتی کا گریبان کیوں نہیں پکڑا؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات کیوں اس فتنے کی مذمت نہیں کرتے؟ کیوں اس کے خلاف واشگاف الفاظ میں ہم آواز ہو کر برات کا اعلان نہیں کرتے؟

*عدلیہ سے*
سوال ہونا چاہئے عدلیہ سے۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے پورے ملک میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ برس ہا برس سے مسلسل حکومت اور اداروں کے خلاف چل رہا ہے ۔۔۔ برس ہا برس سے عوام الناس کو حکومتی اداروں کے خلاف بلا وجہ بھڑکا رہا ہے۔۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے روزے اور عیدیں برس ہا برس سے خراب کرا رہا ہے ۔۔۔ معزز عدالت کیوں اس فتنے کے خلاف سوموٹو ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کو عدالت میں طلب نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کے خلاف احکامات جاری نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پابند سلاسل نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پھانسی کی سزا نہیں سناتی؟

*عوام الناس سے*
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ اے مسلمانو! تم کیوں اس شخص کی پیروی کرتے ہو جس نے امت کو تفرقہ میں ڈال رکھا ہے؟

سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ جب حکومت نے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے جو درست کام کر رہا ہے ، اور جس پر بڑے بڑے علمائے وقت کو اعتماد ہے ، مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی ایسے اکابرین وقت جس کی رویت کے مطابق روزے عید کرتے ہیں ، اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام! تم کیوں اس ادارے سے انحراف کرتے ہو؟ کیوں اپنے روزے عید برباد کرتے ہو؟
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ سعودی عرب میں بھی رویت ہلال میں خطا یا غلطی ہو جاتی ہے، یا ہو چکی ہے، ذی الحج کی رویت میں خطا ہو چکی ہے، تو ایسا ہو جانے کے باوجودوہاں کے علمائے کرام نے کبھی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا۔۔۔ بلکہ حج بھی درست قرار پایا اور روزے کی قضا بھی کر لی۔۔۔ اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام ! حکومت نے ادارہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔ اگر وہ کوئی غفلت کرتے ہیں تو گناہ ثواب ان کے ذمہ ۔۔۔ اور اللہ کے فضل سے آج تک کوئی غفلت ثابت بھی نہیں ہوئی ، پھر کیوں اس ادارے پر اعتماد نہیں کرتے؟

*اللہ رب العزت کی بارگاہ میں۔۔۔*
اے اللہ! مفتی پوپلزئی نے تیری امت میں تفرقہ ڈال رکھا ہے۔ ۔۔تیری امت میں اختلاف و انتشار کا سبب بنا ہوا ہے ۔۔۔ تیرے مسلمان بندوں کے روزے عیدیں خراب کرا رہا ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف خروج کئے ہوئے ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے۔۔۔
اے اللہ ! تو قرآن میں کہتا ہے الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ کہ فتنہ و فساد قتل و غارت گری سے بھی زیادہ برا ہے۔۔۔
اے اللہ! تو قرآن میں کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔
اے اللہ! یہ شخص خود کو مفتی کہلواتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی اصلاح کے نام پر فتنہ فساد کا سبب بنا ہوا ہے۔۔۔
اے اللہ ! اس کو ہدایت عطا فرما۔۔۔ اور اگر اس کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو پھر پاکستان کے مسلمانوں کو اس فتنے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادے۔۔۔
اے اللہ ! تو اس کو مفسدین میں شمار کرتے ہوئے اس کے انجام تک پہنچا دے۔
آمین

Behaviors & Attitudes, Social, معاشرت, اخلاقیات

Encroachment

و ما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ان دنوں شہر کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف حالیہ مہم کا آغاز شہر کے قلب صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف موجود ناجائز دوکانوں کے انہدام سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں دوکانوں کے باہر نکلے شیڈز اور فٹ پاتھوں پر بڑھائے گئے دوکانوں کے حصوں کو مسمار کر دیا گیا ، یا کیا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ اور آرام باغ ایسے مرکزی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے۔ اس مہم پر جہاں شہریوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا  ہے وہیں جن لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا ہے وہ اس مہم کے خلاف مبغوض و مغموم نظر آ رہے ہیں۔  ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب متاثرین کا نقصان پورا کرے اور ان کی روزی کا پہلے سے بہتر انتظام فرما دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں  کئی مرتبہ  ان پتھاروں اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن بھی ہوئے لیکن بات نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھی ۔ دو چار دن بعد سب پہلے جیسا ہو جاتا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان قابضین کو حکومت اور انتطامیہ کی جانب سے مختلف جگہوں اور دوکانوں کی پیشکش کی گئی کہ اپنا کاروبار وہاں سیٹ کر لیں۔ اسی طرح کی پیشکشیں کچی آبادیوں میں مقیم  افراد کی بھی کی گئیں۔ زمینیں بھی الا ٹ کی گئیں اور پیسے بھی دیئے گئے۔ لیکن  انہوں نے ان دوکانوں زمینوں ہی کو بیچ ڈالا ، یا کرائے پر چڑھا دیا اور خود واپس وہیں آن موجود ہوئے۔ اس طرح کے “کامیاب تجربات “کے بعد شاید ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا سخت ایکشن ہو جائے گا اور ایک روز وہ فی الواقعی فٹ پاتھ پر آ جائیں گے۔

دیکھا جائے تو اس میں سب سے بڑا قصور خود ان ہی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے مفت کی جگہوں پر بیٹھ کے خوب پیسے بنائے۔ جم کے کاروبار کیا۔ کیا اتنا نہ کما لیا تھا کہ چاہتے تو کسی مناسب جگہ دوکان لے کر کاروبار سیٹ کر لیتے ؟ بھلے سے پتھارہ بھی ساتھ ساتھ چلاتے رہتے۔  لیکن لاکھوں کمانے کے باوجوداپنا طرز عمل بدلا نہ ٹھکانہ۔ اب چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، رو رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، جھولیاں پھیلا پھیلا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے! نادانی  بھلا کس نے دکھائی ۔ عارضی ٹھکانے پر بیٹھے کاروبار کرتے رہے۔ سو وہ ٹھکانہ عارضی ہی ثابت ہوا۔ایسے جو دوکاندار ابھی بچ رہے ہیں، وہ اس سب سے سبق سیکھیں     ؎ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا۔

یہ مہم ہمیں ایک اور امر کی جانب بھی متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ عارضی ٹھکانہ ایک دن چھننے والا ہے۔ سب کاروبار جائیدادیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عارضی پتھارے کے بجائے آخرت کی پکی دوکان کو سیٹ کیا جائے۔ دنیا کی اس کچی آبادی کے بجائے آخرت کے پکے گھر کی تعمیر پر محنت کی جائے۔ نماز روزے حج عمرے کی فکر کر لی جائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی فکر کر لی جائے۔ نیکیوں  کے قمقموں سے اس گھر کو مزین کر لیا جائے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مالک الملک کے حکم پر یہ عارضی ٹھکانہ مسمار کر دیا جائے گا۔ پھر تہی دامانی کے پچھتاووں کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحديد: ٢٠﴾

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد  میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) سخت عذاب اور (مومنوں کے لئے) اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔

 

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Social, Uncategorized, پاکستان, حسن معاشرت

IDEAS

 

Do they know…There exists the “Civic Center?” Do they know… How many offices are situated there? #KDA! #HBFC! #KBCA! #ExciseAndTaxationDept! #KElectric! #PostOffice! #Banks! #SSGC offices! #DCoffice!

Do they know… How many employees work at these offices? Do they know… how many citizens daily visit these offices?

Do they know… there exist two of the largest medical institutions of Pakistan? #LNH! #AKU!

Do they know… how many #Doctors and paramedical staff work there?
Do they see… hear… The #Ambulances… and the #hooters… and the #patients…?

Do they know… the disturbance created cuz of this mess?
And that too for 4 whole working days!
:@
#Ideas2016