Uncategorized

Dard e dil k wastay

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ان دنوں شہر کراچی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ خاص کر صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت واحد عدد یعنی سنگل ڈجٹ میں چل رہا ہے۔ جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت یعنی رئیل فیل چار پانچ ڈگری تک بھی گر چکا ہے۔

تو بھئی ہمیں تو آج کل بہت سردی لگ رہی ہے۔ یقیناً آپ کو بھی سردی لگ رہی ہو گی۔ ایسے میں اپنے ملازمین کا ضرور خیال کیجیے۔ وہ بھی انسان ہیں۔ انہیں بھی سردی لگ رہی ہوتی ہے۔ شاید ہم اور آپ سے زیادہ۔۔۔ کہ ان کے وسائل ہماری آپ کی نسبت کہیں کم اور محدود ہیں۔

اکثر علاقوں میں مزدور اپنی روزی کی خاطر گاڑیوں کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں۔ فی گاڑی سات آٹھ سو روپے ماہانہ مزدوری لیتے ہیں۔ کوئی آسان کام ہے اتنی سردی میں ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالنا۔۔۔ وہ بھی صبح صبح؟ ممکن ہے آپ کی گاڑی صاف کرنے بھی کوئی بندہ آتا ہو۔ اب اگر وہ سردی کی وجہ سے ایک دو دن ناغہ کر جائے تو کیا تنخواہ سے پیسے کاٹ لینے چاہئیں؟ اکثر دفاتر میں ملازمین کو paid leave ملتی ہے۔ اپنے ملازم کو بھی یہ سہولت دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔

گھروں میں صفائی دھلائی کے لیے ماسیاں آتی ہیں۔ جھاڑو پوچا برتن کپڑے دھونا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کل ایک گھر میں دیکھا۔۔۔ بے چاری ملازمہ اتنی سخت سردی میں لان کے کپڑے پہنے کھلے آسمان تلے ٹھنڈے پانی سے کپڑے دھو رہی۔ ہمیں تو دیکھ کے ہی جھرجھری آ گئی۔ بے حسی سی معلوم ہوئی۔ بھئی کپڑے دھلوانے اتنے ہی ضروری ہیں تو اندر غسل خانے میں دھلوا لیجیے۔ اور ہاں ملازمین کو بھی گرم پانی کی سہولت فراہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر خدمت تو وہ ہماری آپ ہی کی کر رہے ہوتے ہیں ناں؟ ملازمت اور بیگار میں کچھ تو فرق بہرحال رہنا ہی چاہیے۔

چوکیدار اور سیکیورٹی گارڈز بھی ہماری آپ کی املاک کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔ گارڈز کو گولی اور سردی دونوں سے بچانا ضروری ہے۔ ان کے لیے پکی چوکی بنا دی جائے تو بہت ہی اچھا ہے وگرنہ موسمی اثرات سے بچاؤ کے لیے مناسب سائبان کا انتظام ضرور ہونا چاہیے۔ کھلے آسمان تلے کرسی پر بٹھا دینا کچھ غیر انسانی سا عمل معلوم ہوتا ہے۔

Hajj Umrah, عمرہ

Umrah Package…15 days or 20 days?

عمرہ پیکیج ۱۵ دن یا ۲۰ دن؟

عمرہ سیزن آج کل زوروں پر ہے۔ لوگ جوق در جوق حرمین شریفین کا رخ کر رہے ہیں۔
عمرہ زائرین کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ 15 روزہ پیکیج کے بجائے 20 روزہ پیکیج لیجیے۔ خاص طور سے وہ زائرین جو پہلی مرتبہ اس مبارک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یاد رکھئے 15 روزہ پیکیج ناکافی ہے۔

* پندرہ روزہ عمرہ پیکیج ناکافی کیوں*

عام طور پر معتمرین اپنے وطن سے براستہ جدہ مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں دو ڈھائی دن قیام کے بعد مدینہ منورہ روانہ ہو جاتے ہیں۔ اور مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازوں کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے آٹھ نو دن مدینہ منورہ میں قیام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر مکہ مکرمہ آتے ہیں اور وہی دو ڈھائی دن قیام کے بعد براستہ جدہ وطن واپسی۔

یہ بھی یاد کھئے کہ 15 روزہ پیکیج میں روانگی اور آمد کا دن دونوں شامل ہیں۔ نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی روانگی کی فلائٹ شام کے وقت ہو اور وطن واپسی کی فلائٹ صبح کی۔ ایسی صورت میں آپ کا پیکیج چودہ ساڑھے چودہ دن کا ہی رہ جائے گا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانگی اور واپسی میں بھی تقریباً آدھا آدھا دن صرف ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جدہ ایئر پورٹ پر آمد کے وقت امیگریشن اور پھر وہاں سے مکہ مکرمہ کے سفر میں کئی گھنٹے مزید صرف ہو جاتے ہیں۔ وطن واپسی کے وقت تو فلائٹ سے آٹھ دس گھنٹہ قبل مکہ مکرمہ سے جدہ روانہ کر دیا جاتا ہے۔

اس تمام تفصیل کے بعد آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں آپ کو محض خواب جتنا ہی قیام کا وقت مل پائے گا۔ اس دوران مکہ مکرمہ میں دو عمرے اور زیارات بھی کرنی ہوں گی۔ بعد میں بہت قلق ہو گا کہ کاش مکہ مکرمہ میں کچھ وقت اور مل جاتا۔

اب یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ یا تو مکہ مکرمہ میں محض چار پانچ دن کے قیام پر صبر کر لیجیے یا اگر مکہ مکرمہ میں کچھ زیادہ دن قیام کرنے کی خواہش ہو تو پھر مسجد نبوی ﷺ کی 40 نمازوں کی فضیلت کے حصول پر سمجھوتہ کر لیجیے۔

اس لیے میرا بصد اصرار یہ مشورہ ہے کہ عمرہ زائرین 15 روزہ پیکیج کے بجائے 20 روزہ پیکیج لیجیے۔ خاص طور سے وہ زائرین جو پہلی مرتبہ اس مبارک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔

*فائدہ:*

☜ حرم مکی و حرم مدنی دونوں جگہ اطمینان سکون کے ساتھ بھرپور قیام کا موقع مل جائے گا۔

☜ مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازوں کی فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی۔

☜ مکہ مکرمہ میں بھی کثرت سے طواف کی سعادت مل جائے گی۔

☜ حرم مکی کی ہر نیکی کا ثواب ایک لاکھ کے برابر۔ ڈھیروں اجر و ثواب کمانے کے مواقع۔

☜ طائف کی میقات جعرانہ سے مزید عمرہ کی سعادت۔

☜ حرمین شریفین میں تین نماز جمعہ کی ادائیگی کی سعادت۔

☜ زیادہ قیام کا مطلب زیادہ سے زیادہ آب زم زم پینے کا موقع۔

*میں نے اب تک جتنے عمرہ پیکیجز دیکھے ہیں ان میں 15 دن کے بجائے 20 دن کے پیکیج میں رقم کا فرق محض چار پانچ ہزار روپے کا پایا۔ حرمین شریفین میں قیام کے درج بالا فضائل کے مقابلے میں یہ چار پانچ ہزار روپے کی رقم کچھ بھی نہیں۔* (واضح رہے کہ یہاں ایک نارمل عمرہ پیکیج کی بات ہو رہی ہے۔)

اگر آپ کی جیب یا مصروفیات 20 روزہ پیکیج کی بجائے 15 روزہ پیکیج ہی کی متحمل ہو سکتی ہیں تو پھر درج بالا معروضات کی روشنی میں مدینہ منورہ میں قیام کے ایام پر نظر ثانی کر لیں۔

*آخر میں ایک ضمنی مشورہ*

میں نے 2016 میں کراچی۔مدینہ منورہ۔کراچی فضائی سفر کیا اور خاصا آسان اور بہتر پایا۔ جدہ ایئر پورٹ مکہ مکرمہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ مکہ مکرمہ سے حاجی کو آٹھ دس گھنٹے پہلے جدہ کے لیے روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مدینہ ایئر پورٹ شہر کے مضافات میں ہے۔ آدھے گھنٹے میں ایئرپورٹ سے ہوٹل تک پہنچ جاتے ہیں اور واپسی میں ہوٹل سے ایئرپورٹ۔ کافی وقت بچ جاتا ہے۔ مدینہ منورہ ایئر پورٹ پر ایئر ٹریفک بھی زیادہ نہیں ہے۔ امیگریشن میں بھی کافی سہولت رہتی ہے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, Social, معاشرت, اسلام

طوفان آتا کیسے ہے

طوفان آتا کیسے ہے

ان دنوں ‘کیار’ نامی سمندری طوفان نے بحیرہ عرب کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ‘کیار’ بحیرہ عرب کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا اور سال 2019 میں دنیا بھر میں آنے والا سب سے شدید سمندری طوفان ہے۔

گزشتہ شب ایک ٹی وی رپورٹ میں کراچی کے ساحلی علاقے ہاکس بے کا منظر دکھایا گیا کہ کیسے سمندر کا پانی سڑک تک آ رہا ہے۔ دوسری طرف بہت سے منچلے بھی وہاں موجود تھے۔ رپورٹر نے پوچھا آپ لوگ یہاں کیوں جمع ہیں؟ جواب آیا: ہم یہ دیکھنے آئے ہیں کہ طوفان آتا کیسے ہے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سیرت النبی ﷺ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تو ہوا بھی تیز چلتی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔ اس حدیث کی تشریح یہ بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد پرآندھی کا عذاب آیا تھا۔ اس لیے آندھی آنے پر آپ ﷺ عذاب الٰہی کا تصور فرما کر گھبرا جاتے۔

ایک اور واقعہ حجة الوداع کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد 10 ذی الحجة کی صبح واپس منیٰ کو روانہ ہوئے۔ منٰی کی راہ میں جب وادی محسر کے دامن میں پہنچے تو اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی۔ واضح رہے کہ وادی محسر وہ مقام ہے جہاں رب کعبہ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعہ کنکریاں برسا کر نیست و نابود کر دیا۔

ایسے ہی قرآن پاک میں سورة الاحقاف آیت 22 تا 25 میں حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا قصہ بیان ہوا۔ قوم عاد نے ہود علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان دھرنے کی بجائے الٹا اپنے نبی کو چیلنج کر دیا۔۔۔

(اے ہودؑ) اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا تم وعده کرتے ہو اسے ہم پر لے آؤ(22) (حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو (23) پھر جب انہوں (قوم عاد) نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (ہود علیہ السلام نے کہا: نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے (24) جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔

زلزلے سیلاب آندھی طوفان یہ سب قدرتی آفات کی مختلف شکلیں ہیں جن سے بعض قوموں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ 2004 میں انڈونیشیاء میں سونامی آیا تھا۔ بحر ہند میں 80 تا 100 فٹ بلند لہریں بنیں۔ یعنی 8 تا 10 منزلہ عمارت جتنی بلند لہریں۔ جو لہر بند آچے نامی شہر کے ساحل سے ٹکرائی وہ تیس فٹ بلند بتائی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی تھا گویا سمندر ساحل پر امڈ آیا۔ سوا دو لاکھ انسان لقمہ اجل بنے۔ بعض منچلے اس وقت بھی تصویر کشی میں مشغول تھے۔

اللہ نہ کرے کہ یہ طوفان عذاب الہی ہو۔۔۔ قدرتی آفت بہرحال ہے۔ یہ وقت اٹھکھیلیاں کرنے کا نہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے۔ ہر چیز مذاق نہیں ہوتی۔ خاص کر سمندری طوفان تو بالکل بھی مذاق نہیں۔

#Kyaar

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک

صبر یا حاجی” حج کی حفاظت۔4″

 اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔4

صبر یا حاجی

حج عمرہ کا ایک اہم سبق صبر ہے۔ حاجی کو واش روم سے لے کر بس کے چلنے تک اور طواف کے ہجوم میں پھنس پھنس کر چلنے سے لے کر ایئر پورٹ پر فلائٹ کی روانگی تک کہاں کہاں انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حج عمرہ سے وطن واپسی پر حاجی یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ بیلٹ پر سامان جمع کرنے کے بعد زم زم کا انتظار ان کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض حاجی کسی دوسرے حاجی کی زم زم کی بوتل لے کر چلتے بنتے ہیں۔ اس خیال سے کہ کوئی بات نہیں وہ ہماری بوتل لے جائے گا۔

ایسا نہ کیجیے۔

یہ چوری ہے۔ گناہ کبیرہ! اتنا بڑا گناہ کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔

پھر آپ کی ذرا سی جلد بازی اور بد نظمی سے وہ حاجی سخت مشکل میں آ جائے گا جس کا زم زم آپ لے جا رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ کہ حاجی عبد الرحمان صاحب اس کی بوتل اٹھا لے گئے ہیں سو بدلے میں وہ بھی حاجی عبد الرحمان کی بوتل اٹھا لے جا سکتا ہے۔

ممکن ہے حاجی عمر رسیدہ ہو۔

ممکن ہے حاجی بیمار ہو۔

عین ممکن ہے اسے آخر تک انتظار کرنا پڑے۔ اس سارے عمل میں اس کا کتنا وقت خراب ہو گا اور ساتھ ساتھ باہر منتظر اس کے گھر والوں کا وقت بھی نیز ان کو بھی انتظار کی شدید اذیت سے گزرنا ہو گا۔

عین ممکن ہے حاجی کو اپنے زم زم کی تلاش میں ایئر پورٹ پہ دھکے کھانے پڑیں۔

ایئر پورٹ عملے کی منت خوشامد کرنی پڑے۔

زم زم گمشدگی کی شکایت درج کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے۔ جو کہ اسے کبھی نہیں ملنے والا کیونکہ اس کا زم زم کھویا نہیں کوئی دوسرا حاجی لے جا چکا ہے۔

ممکن ہے اس حاجی کی تربیت یا حج عمرہ کے بعد کی ایمانی کیفیت اسے کسی اور کا سامان اٹھانے کی اجازت ہی نہ دے۔ اور وہ اپنی بوتل پر صبر کر کے ایسے ہی خالی ہاتھ چلا جائے۔

اس ساری تکلیف و دل آزاری کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

غور کیجیے ایک بوتل اٹھانے کے پیچھے کیا کیا گناہ کما لیا۔

ممکن ہے آپ کا سارا حج عمرہ یہیں برباد ہو جائے۔

اللہ سے ڈرتے رہیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Hajj Umrah, Social, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔3

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے* 3

کھجور آب زم زم اور شاپنگ کے باعث حج سے واپسی پر اکثر حاجیوں کا بیگیج (سوٹ کیس) کا وزن مقررہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چنانچہ جدہ ایئر پورٹ پر کسی حاجی کے سامان کا وزن 5 کلو کسی کا 10 کلو اور کسی کا 20 کلو زائد ہو جاتا ہے۔ بعضوں کا اس سے بھی زیادہ۔

اضافی وزن کے چارجز اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سن کے حاجیوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہیں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ حاجی کو شارٹ کٹ کی سجھاتا ہے۔ دو نمبری پر اکساتا ہے۔

حاجی ایئرلائن افسر سے مک مکا کی کوشش کرتے ہیں۔ شیطان تو افسر پر بھی محنت کر رہا ہوتا ہے۔ سو کہیں نہ کہیں معاملہ “طے” ہو جاتا ہے۔ تھوڑے سے پیسوں میں۔۔۔

یاد رکھئے۔۔۔

یہ رشوت ہے۔ رشوت کے اس لین دین سے بچئے۔

کئی طریقے ہیں۔۔۔

اول: اپنا سامان مقررہ حد کے اندر رکھئے۔ زیادہ شاپنگ نہ کیجیے۔ پانچ سات کلو کھجور بہت کافی ہو جاتی ہے تقسیم کرنے کے لیے۔ اور اب تو پاکستان میں بھی ملنے لگی ہے۔ کھجور مدینہ منورہ ہی سے خریدیں۔۔۔ اس نیت سے کہ وہاں بسنے والوں کا کاروبار چلتا رہے۔ انہیں نفع ہو۔ یہ نیت بھی باعث اجر و ثواب ہے۔ کم پڑ جائے تو یہیں پاکستان سے خرید لیجیے۔ امتیاز سپر مارکیٹ پہ بھی سارا سال وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ عجوہ۔ عنبر۔ خضری۔ سکری۔ صقعی۔ صفاوی۔ مبروم۔ سب مل جاتی ہیں۔

دوم: سامان زیادہ ہو جانے کی صورت میں اپنے گروپ کے حاجیوں میں جن کے سامان کا وزن مقررہ حد سے کم ہو ان کے ساتھ اپنے سامان کا اجتماعی وزن کرا لیجیے۔ اگر آپ کا سامان دس کلو زیادہ ہے اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک دو ساتھی کا سامان مقررہ حد سے دس کلو کم ہے تو آپ کا کام بن گیا۔ آپ ان کے ساتھ اپنے سامان کا مشترکہ وزن کرائیے۔ بغیر کسی اضافی رقم کے آپ کا سامان نکل جائے گا۔

سوم: اگر یہ بھی ممکن نہ ہو سکے تو پھر بلا چوں چرا اضافی چارجز ادا کر دیجیے۔

یاد رکھئے۔۔۔

رشوت حرام ہے۔ گناہ کبیرہ ہے۔ حدیث کے مطابق رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

یاد رکھئے۔۔۔

آپ ابھی حج کر کے آ رہے ہیں۔ سارے گناہ معاف کرا کے آ رہے ہیں۔ شیطان کو کنکریاں مار کر آ رہے ہیں۔ لاکھوں روپے داؤ پر لگائے تھے آپ نے اس مغفرت و بخشش کے حصول کے لیے۔ کیا ابھی سے سب برباد کر دیں گے۔ ابھی تو سر پہ بال بھی واپس نہیں آئے۔

محتاط رہیے۔۔۔

اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔2

*اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے* 2

بعض حاجیوں کو دیکھا کہ اگر حرم شریف میں چپل گم ہو گئی تو باہر پڑی کوئی بھی چپل پہن کر چل دیئے۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ بعضے تو دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو ایسا کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ ایک تو یہ چپل چوری میں شمار ہو گا، دوم کسی مسلمان کی دل آزاری کا سبب ہو گا۔ اور بھی کئی قباحتیں ہیں۔

چپل غائب ہونے پر یقیناً رنج تو بہت ہوتا ہے لیکن ایک تو چپل اٹھانے والے کو اللہ کی رضا کے لیے فوراً معاف کر دینا چاہیے ۔ دوسرا یہ کہ باہر کا فرش بہت زیادہ گرم نہ ہو تو ننگے پیر جا کے ورنہ بصورت دیگر کسی ساتھی سے چپل مستعار لے کے یا ساتھی کو بھیج کے قریبی دوکان سے چپل خرید لینی چاہیے۔

یقیناً یہ بھی خاصا تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ پانچ دس ریال بھی خرچ ہو سکتے ہیں لیکن بہرحال کسی اور کی چپل اٹھانے کی صورت میں خدانخواستہ  آخرت میں پھنسنے سے کہیں بہتر ہے۔حج الگ خراب ہو گا۔

محتاط رہئے۔ اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Social, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔1

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے*

  اللہ رب العزت نے ۲۰۰۲ میں حج کی سعادت عطا فرمائی۔

 اس وقت دو حج اسکیمز ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ اور اسپانسر شپ۔

ہم نے اسپانسرشپ اسکیم کے تحت نیشنل بینک میں درخواست جمع کرائی۔ بینک کے ایک ملازم نے عبد الغنی نامی ایک صاحب  کا پتہ دیا جو حجاج کے لیے رہائش کا انتظام کرتے تھے۔

ان سے ملے۔ وہ مکہ کی رہائش کے 1600 ریال مانگ رہے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ 1500 ریال میں معاملہ نمٹ جائے۔ ( بینک اکاؤنٹ بالکل خالی ہو چکا تھا)۔ خاصی بحث و تکرار کے بعد طے پایا کہ 1500 ریال ابھی جمع کرا دیں۔۔۔ بقیہ 100 ریال مکہ مکرمہ پہنچ کر ادا کر دیجیے گا۔ ہم نے 1500 ریال ادا کر دیئے۔

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عبد الغنی صاحب ہاتھ ہی نہ آئے۔ یہاں تک کہ حج بھی گزر گیا۔ حج کے بعد عبد الغنی صاحب نے حجاج کرام کی ضیافت کی۔ اس دن وہ موجود تھے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کو یاد دلایا کہ بھائی ان کے 100 ریال ادا کر دیتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا کہ چھوڑو کیا ضرورت ہے یاد دلانے کی۔ میں نے کہا: بھائی ہمیں 100 ریال کے پیچھے اپنا حج برباد نہیں کرنا چاہیے۔ بات اس کے بھی دل کو لگی۔

جا کے عبد الغنی صاحب سے ملے اور یاد دلایا کہ آپ کے 100 ریال باقی تھے۔

اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا۔

بولے: ارے چھوڑیئے۔۔۔ خیر ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔ بس۔۔۔ ہو گیا سب۔
اللہ اکبر۔۔۔

اللہ رب العزت نے ہمارا حج بھی خراب نہیں ہونے دیا اور ہمارے 100 ریال بھی بچا لیے۔ فللہ الحمد۔

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کی عطا کردہ توفیق سے یہ ممکن ہوا۔ ہمارا کوئی کمال نہیں۔

معزز عازمین حج

ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حج پہ شیطان بہت چوکس ہوتا ہے۔ مقابلے میں حاجی کو بھی بہت چوکس اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چند برس قبل ایک صاحب گورنمنٹ پیکج پہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے میں ہر حاجی کے لیے دہی کا ایک پیکٹ یا ایک کیلا یا ایک سیب مختص ہوتا ہے۔ بعض حاجی ایک کے بجائے دو دو اٹھا لیتے۔۔۔ پیچھے کئی حاجی محروم رہ جاتے۔

ایسے ہی بند کمروں میں سگریٹ پینا ساتھی حاجیوں کے لیے سخت آزار کا باعث ہوتا ہے۔ محتاط رہیے! اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔