Eman, Islam, Uncategorized, اسلام, علم دین

دعا اور نیک اعمال کا وسیلہ

اپنے کسی نیک عمل کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کرنا

صحیح مسلم کی روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلی امت کے تین آدمی سفر کررہے تھے۔ رات گزارنے کے لئے ایک غار میں داخل ہوئے۔ پہاڑ سے ایک پتھر نے لڑھک کر غار کے منہ کو بند کردیا۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اس پتھر سے ایک ہی صورت میں نجات مل سکتی ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرو۔

چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا۔۔۔
اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے کسی کو دودھ نہ پلاتا تھا۔ ایک دن لکڑی کی تلاش میں میں بہت دور نکل گیا، جب شام کو واپس لوٹا تو وہ دونوں سوچکے تھے۔ میں نے ان کے لئے دودھ نکالا اور ان کی خدمت میں لے آیا۔ میں نے ان کو سویا ہوا پایا۔ میں نے ان کو جگانا ناپسند سمجھا اور ان سے پہلے اہل وعیال وخدام کو دودھ دینابھی پسند نہ کیا۔ میں پیالا ہاتھ میں لئے ان کے جاگنے کے انتظار میں طلوع فجر تک ٹھہرا رہا۔ حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک سے بلبلاتے تھے۔ اسی حالت میں فجر طلوع ہوگئی۔ وہ دونوں بیدار ہوئے اور اپنے شام کے حصہ والا دودھ نوش کیا۔ اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضامندی کی خاطر کیا تو تو اس چٹان والی مصیبت سے نجات عنایت فرما۔ چنانچہ چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی۔ مگر ابھی غار سے نکلنا ممکن نہ تھا۔

دوسرے نے کہا۔۔۔
اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی۔ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے کا اظہار کیا مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ قحط سالی کا ایک سال پیش آیا جس میں وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دئے کہ وہ خود پر مجھے قابو دے گی۔ اس نے آمادگی ظاہر کی اور قابو دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا تو اللہ سے ڈر!اور اس مہر کو ناحق وناجائز طور پر مت توڑ۔ چنانچہ میں اس فعل سے باز آگیا حالانکہ مجھے اس سے بہت محبت بھی تھی۔ اور میں نے وہ ایک سو بیس دینار اس کو ہبہ کردئے۔ یا اللہ اگر میں نے یہ کام خالص تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عنایت فرما جس میں ہم مبتلا ہیں۔ چنانچہ چٹان کچھ اور سرک گئی۔ مگر ابھی تک اس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔

تیسرے نے کہا۔۔۔
یا اللہ میں نے کچھ مزدور اجرت پر لگائے اور ان تمام کو مزدوری دے دی۔ مگر ایک آدمی ان میں سے اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کاروبار میں لگا دی۔ یہاں تک کہ بہت زیادہ مال اس سے جمع ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے بندے میری مزدوری مجھے عنایت کردو۔ میں نے کہا تم اپنے سامنے جتنے اونٹ، گائیں، بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہو، یہ تمام تیری مزدوری ہے۔ اس نے کہا اے اللہ کے بندے میرا مذاق مت اڑا۔ میں نے کہا میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا اور اس میں سے ذرہ برابر بھی نہیں چھوڑا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ تیری رضامندی کے لئے کیا تو تو اس مصیبت سے جس میں ہم مبتلا ہیں، ہمیں نجات عطا فرما۔ پھر کیا تھا چٹان ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل گئے۔

اس وقت پوری دنیا کے انسان کیا کافر کیا مسلمان ایک تاریک غار میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ غار کے منہ پر کورونا وائرس چٹان کی صورت موجود ہے۔ نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ ہر طرف موت کا ڈیرہ ہے۔ دکھ پریشانی کا پہرہ ہے۔ اٹلی کا وزیراعظم بے بسی سے منہ اٹھائے آسمان کو تک رہا ہے۔ سب سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ اپنی حفاظت اپنے بچاؤ کے لیے جس سے جو کچھ بن پڑ رہا ہے کر رہا ہے۔

یہ جہان اسباب کا جہان ہے۔ سو دنیاوی اسباب بھی مکمل طور پر اختیار کرنے چاہئیں۔ حکومت ڈاکٹرز اور علمائے دین کی ہدایات پر پوری طرح عمل کرنا چاہیے۔ دنیاوی اسباب اپنی جگہ۔۔۔ ہم مسلمانوں کے پاس اعمال کی بہت بڑی طاقت ہے۔۔۔ دعا کا بہت بڑا ہتھیار ہے۔۔۔
آئیے اپنے رب کو اپنے کسی نیک عمل کا واسطہ دیں اور دعا کریں کہ۔۔۔
اے اللہ! اگر تیرے علم میں میرا فلاں عمل خالص تیری رضاجوئی کے لیے تھا۔۔۔
تو
یا رب! ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما جس میں ہم گرفتار ہیں۔ ہمیں اس تاریک غار سے نجات عطا فرما۔ غار کے منہ سے اس کورونا وائرس کی چٹان کو ہٹا دے۔ ہمیں خلاصی و رہائی عطا فرما۔
آمین
برحمتک یا ارحم الراحمین

Behaviors & Attitudes, Social, Uncategorized

Conventianal or Guerilla War?

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 250%; line-height: 200%; text-align: right;”> روایتی یا گوریلا جنگ؟

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>دیکھئے یہ جنگی صورتحال ہے۔ سو حکمت عملی بھی جنگی ہی اپنانی پڑے گی۔ دشمن کی جب طاقت بہت زیادہ ہو، تعداد بہت زیادہ ہو، یا مد مقابل میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت یا پیش قدمی روکنے کی سکت نہ ہو، تو ایسے میں روایتی جنگ لڑنا اپنی افرادی و مادی قوت کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ ایسے میں گوریلا جنگ کا آپشن زیادہ مناسب اور موثر ہوتا ہے۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>کورونا وائرس دنیا بھر میں جس تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور جس کثرت سے لوگ اس کا شکار ہو کر بیمار یا فوت ہوتے جا رہے ہیں، اس کے بعد اس وائرس کے سامنے آ کر لڑنا ہرگز دانش مندی نہیں۔ اگر کوئی اس وائرس کو آسان لے رہا ہے تو وہ خود کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے اور اپنے متعلقین کو بھی۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ موجودہ صوتحال میں ہمارے پاس گوریلا جنگ سے زیادہ موزوں آپشن کوئی نہیں ہے۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>گوریلا جنگ کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ فوری طور پر اپنے افرادی و مادی وسائل کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا جائے۔ آپ کے لیے سب سے محفوظ مورچہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ خواہ مخواہ باہر نکلنا خطرناک ہی نہیں تباہ کن ہو سکتا ہے۔ آپ دشمن کو گھر کی راہ دکھا سکتے ہیں۔ یا دشمن آپ کا تعاقب کر کے آپ کے کسی عزیز یا متعلقہ فرد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>اگلے مرحلے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی ہو گی۔ کمزوریاں تلاش کرنی ہوں گی اور موقع تاک کے چھاپہ مار کارروائیاں کی جائیں گی۔ کورونا کے مدمقابل ہتھیار یعنی دوا اس وقت دستیاب نہیں ہے۔ دوا کی تلاش و تیاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ صورت چھاپہ مار کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ اللہ تعالی انسانیت پر رحم فرمائے اور جلد از جلد اس وائرس کا توڑ عطا فرمائے۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی میں اضافہ کے ساتھ وائرس کا زور ٹوٹنا شروع ہو جائے گا، دوسرے الفاظ میں وائرس تھکنا شروع ہو جائے گا۔ کمزور پڑ جائے گا۔ اللہ عافیت فرمائے کہ ایسا ہی ہو۔ تب شاید ہلکے پھلکے ہتھیار بھی کارآمد ثابت ہوں۔ اس وقت اس کا تعاقب بھی کیا جائے گا۔ تب تک دیکھو اور موقع کا انتظار کرو کی پالیسی اپنانی ہو گی۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>جنگ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ دشمن کے جاسوسوں سے بھی محتاط رہا جائے۔ سوائے انتہائی قابل اعتماد افراد کے، کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ صورتحال میں یہ انتہائی قابل اعتماد افراد صرف اور صرف آپ کے اپنے اہل خانہ ہو سکتے ہیں۔ باقی تمام رشتہ دار متعلقین دوست احباب دفتر کے ساتھیوں کو اس وقت جاسوس کی فہرست میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ لہذا عقلمندی اسی میں ہے کہ محتاط رہا جائے۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>اپنا دفاع بھی مضبوط کرنا ہے اور اپنی سیکیورٹی بھی۔ دفاع کی مضبوطی قوت مدافعت کی مضبوطی پر منحصر ہے۔ سو ایسی غذا استعمال کرنی ہو گی جس سے قوت مدافعت کو تقویت ملے۔ نزلہ زکام کھانسی کا باعث بننے والی اشیاء کو فی الحال ترک کرنا ہو گا۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا ہو گا۔ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ ضرورت کے مطابق دستانے ماسک کا بھی استعمال کرنا ہو گا۔ طبی ماہرین اور اولواالامر کی مجوزہ احتیاطی تدابیر و ہدایات پر بھی عمل کرنا ہو گا۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>اپنی سیکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ انٹرنیٹ کی مثال سے سمجھنا بہت آسان ہے۔ جس طرح انٹرنیٹ پر وائرس اور ہیکرز سے بچاؤ کے لیے فائر وال قائم کی جاتی ہے اسی طرح کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فائر وال بنانی ہو گی۔ اس کے لیے شریعت اسلامیہ میں چودہ سو برس پہلے سے رہنمائی موجود ہے۔ فللہ الحمد۔۔ باوضو رہنا، صبح و شام کے اذکار، آخری تین قل، آیت الکرسی، سورة البقرة کی آخری دو آیات، درود شریف کی کثرت، دعاؤں، صدقات، خیرات اور توبہ و استغفار کا باقاعدگی سے اہتمام کر کے بہترین فائر وال قائم کی جا سکتی ہے۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>اللہ تعالی ساری دنیا کے انسانوں پر رحم فرمائے۔ بالخصوص امت محمدیہ علیہ الصلوة والسلام پر۔ اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔ اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اولو الامر کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالی اس وباء کو ہم سے اور ہمیں اس وباء سے دور فرمائے۔ اللہ تعالی خوف کو دور فرما کر ہمیں ہر سمت ہر جہت سے امن و سلامتی عافیت عطا فرمائے۔ اللہ تعالی ہمارے شہروں گلیوں مسجدوں اور خاص کر حرمین شریفین کی رونقوں کو بحال فرمائے۔ آمین۔

<p dir=”rtl” style=”direction: ltr; font-family: ‘Jameel Noori Nastaleeq’, ‘Alvi Nastaleeq’, ‘Nafees Web Naskh’, ‘Urdu Naskh Asiatype’, Al_Mushaf, Tahoma, sans-serif; font-size: 150%; line-height: 200%; text-align: right;”>وصلی اللہ علی النبی الکریم

Uncategorized

Why Isolation???

آئسولیشن کا فائدہ؟؟؟

ہم سب کورونا وائرس کے سبب گھروں تک محدود کر دیئے گئے ہیں۔ بظاہر احتیاطی تدبیر ہے وائرس سے بچنے بچانے کی۔ حقیقت اللہ ہی جانے کہ اس آئسولیشن کے پیچھے اس کا کیا پلان ہے ہمارے لیے؟

ابھی چار چھ دن پہلے تک وقت رک ہی نہیں رہا تھا۔ کب رات ہوئی کب دن نکلا کچھ پتہ ہی نہ چلتا تھا۔ نہ کام پورے ہو رہے تھے نہ آرام۔ کھانا بھاگم بھاگ تو نمازیں لپک جھپک۔ ہر وقت ایک افراتفری۔ اب فرصت ہی فرصت ہے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا کریں۔ ٹک کے گھروں میں بیٹھنا دوبھر لگ رہا ہے۔

غالب نے کہا تھا
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

تو فرصت کے یہ دن تصور جاناں میں بھی بسر کئے جا سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے دن میں کچھ لمحات اپنے رب کے ساتھ نہ گزار لیے جائیں؟ کتنا تھک گئے تھے ناں ہم۔ تو ماں سے ستر گنا زیادہ شفیق و مہربان رب کی گود میں چند منٹ سستا نہ لیا جائے؟ کیوں نہ نمازوں کو سکون سے ادا کر لیا جائے۔ اللہ کا کچھ ذکر کچھ تلاوت قرآن کریم کچھ صبح و شام کی تسبیحات کا اہتمام کر لیا جائے۔ رب کریم سے راز و نیاز کی باتیں کر لی جائیں۔ پیارے نبی ﷺ کی خدمت میں روزانہ سو دو سو درود پاک کا ہدیہ پیش کر دیا جائے۔۔۔ کچھ سیرت مبارکہ کا مطالعہ کر لیا جائے۔ گھر والوں کے ساتھ دو چار منٹ اللہ رسول کی بات کر لی جائے۔

کیا کہا؟
نسخہ طویل ہو گیا۔
اچھا۔۔۔
چلیں مختصر کر لیں۔
فقط اپنی نمازوں کو ہی کچھ طویل کر لیں۔
آج کل بیشتر افراد گھروں پر ہی نماز ادا کر رہے ہیں۔

فجر کی نماز میں طویل سورتوں سے تلاوت مسنون ہے۔ تو جن کو طویل سورتیں یا ان کا کچھ حصہ یاد ہو وہ نماز فجر میں وہی تلاوت کر لیں۔ کم سے کم اتنا قیام ہو جائے جتنا مسجد میں ہوتا ہے۔ چھوٹی سورتیں یاد ہیں تو ایک سے زائد سورتیں ترتیب سے تلاوت کر لیں۔ ظہر میں بھی تلاوت کی مقدار کچھ بڑھا لیں۔ بعض اکابرین کا سنا کہ ظہر کی اول دو رکعات میں سورة یس کی تلاوت کرتے ہیں۔ جن کو سورة یس حفظ ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ یا کوئی اور طویل سورة۔ ورنہ وہی ایک سے زائد چھوٹی سورتوں کی تلاوت کر لیں۔ ایسے ہی عشاء میں کر لیں۔ عشاء کے وتر کی رکعات میں رسول اللہ ﷺ سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس سنت پر عمل کر لیں۔

کیا کہا؟

ابھی بھی زیادہ ہے۔

اچھا۔۔۔

چلیں تلاوت کم مقدار میں ہی کر لیں۔ رکوع سجدے کی تسبیحات بڑھا لیں۔ تین کی بجائے پانچ سات مرتبہ پڑھ لیں۔ سنن و نوافل میں قومہ میں سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کا اضافہ کر لیں۔ سجدے میں تسبیحات کے علاوہ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفر لی یا اور کوئی مسنون دعا کا اضافہ کر لیں۔ دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں اللھم اغفر لی و ارحمنی و عافنی و ارزقنی و اھدنی واسترنی و اجبرنی و ارفعنی پڑھ لیں۔ قعدہ آخر میں تشھد اور درود شریف کے بعد ایک دعا کی بجائے زیادہ دعائیں کر لیں۔

جی؟

اس سے بھی کم۔

چلیں پھر نماز کے بعد کچھ اضافی دعا ہی کر لیں۔ آج کل تو ویسے بھی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ناں ہم سب کو۔
سوچ لیجیے۔

جانے یہ فرصت کتنے روز کی ہے۔

ایاما معدودات

کتنے ہی واقعات ہیں آئسولیشن کے۔ یونس علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، اصحاب کہف، غار حرا، شعب ابی طالب۔ غور کیجیے ان آئسولیشنز کے بعد کے مدارج پر۔

اللہ ہی جانے کہ اس کا ہمارے لیے اس آئسولیشن کے پیچھے کیا پلان ہے؟ فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ ان میں سے ایک یہ کہ فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔

زندگی تم ذرا یہیں رکنا ؏

میں زمانہ بدل کے آتا ہوں

زندگی رکی ہوئی ہے۔

زمانہ بدلنے کی کچھ کوشش نہ کر لی جائے۔

#خودکلامی

Uncategorized

Dard e dil k wastay

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ان دنوں شہر کراچی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ خاص کر صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت واحد عدد یعنی سنگل ڈجٹ میں چل رہا ہے۔ جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت یعنی رئیل فیل چار پانچ ڈگری تک بھی گر چکا ہے۔

تو بھئی ہمیں تو آج کل بہت سردی لگ رہی ہے۔ یقیناً آپ کو بھی سردی لگ رہی ہو گی۔ ایسے میں اپنے ملازمین کا ضرور خیال کیجیے۔ وہ بھی انسان ہیں۔ انہیں بھی سردی لگ رہی ہوتی ہے۔ شاید ہم اور آپ سے زیادہ۔۔۔ کہ ان کے وسائل ہماری آپ کی نسبت کہیں کم اور محدود ہیں۔

اکثر علاقوں میں مزدور اپنی روزی کی خاطر گاڑیوں کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں۔ فی گاڑی سات آٹھ سو روپے ماہانہ مزدوری لیتے ہیں۔ کوئی آسان کام ہے اتنی سردی میں ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالنا۔۔۔ وہ بھی صبح صبح؟ ممکن ہے آپ کی گاڑی صاف کرنے بھی کوئی بندہ آتا ہو۔ اب اگر وہ سردی کی وجہ سے ایک دو دن ناغہ کر جائے تو کیا تنخواہ سے پیسے کاٹ لینے چاہئیں؟ اکثر دفاتر میں ملازمین کو paid leave ملتی ہے۔ اپنے ملازم کو بھی یہ سہولت دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔

گھروں میں صفائی دھلائی کے لیے ماسیاں آتی ہیں۔ جھاڑو پوچا برتن کپڑے دھونا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کل ایک گھر میں دیکھا۔۔۔ بے چاری ملازمہ اتنی سخت سردی میں لان کے کپڑے پہنے کھلے آسمان تلے ٹھنڈے پانی سے کپڑے دھو رہی۔ ہمیں تو دیکھ کے ہی جھرجھری آ گئی۔ بے حسی سی معلوم ہوئی۔ بھئی کپڑے دھلوانے اتنے ہی ضروری ہیں تو اندر غسل خانے میں دھلوا لیجیے۔ اور ہاں ملازمین کو بھی گرم پانی کی سہولت فراہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر خدمت تو وہ ہماری آپ ہی کی کر رہے ہوتے ہیں ناں؟ ملازمت اور بیگار میں کچھ تو فرق بہرحال رہنا ہی چاہیے۔

چوکیدار اور سیکیورٹی گارڈز بھی ہماری آپ کی املاک کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔ گارڈز کو گولی اور سردی دونوں سے بچانا ضروری ہے۔ ان کے لیے پکی چوکی بنا دی جائے تو بہت ہی اچھا ہے وگرنہ موسمی اثرات سے بچاؤ کے لیے مناسب سائبان کا انتظام ضرور ہونا چاہیے۔ کھلے آسمان تلے کرسی پر بٹھا دینا کچھ غیر انسانی سا عمل معلوم ہوتا ہے۔

Hajj Umrah, عمرہ

Umrah Package…15 days or 20 days?

عمرہ پیکیج ۱۵ دن یا ۲۰ دن؟

عمرہ سیزن آج کل زوروں پر ہے۔ لوگ جوق در جوق حرمین شریفین کا رخ کر رہے ہیں۔
عمرہ زائرین کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ 15 روزہ پیکیج کے بجائے 20 روزہ پیکیج لیجیے۔ خاص طور سے وہ زائرین جو پہلی مرتبہ اس مبارک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یاد رکھئے 15 روزہ پیکیج ناکافی ہے۔

* پندرہ روزہ عمرہ پیکیج ناکافی کیوں*

عام طور پر معتمرین اپنے وطن سے براستہ جدہ مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں دو ڈھائی دن قیام کے بعد مدینہ منورہ روانہ ہو جاتے ہیں۔ اور مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازوں کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے آٹھ نو دن مدینہ منورہ میں قیام کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر مکہ مکرمہ آتے ہیں اور وہی دو ڈھائی دن قیام کے بعد براستہ جدہ وطن واپسی۔

یہ بھی یاد کھئے کہ 15 روزہ پیکیج میں روانگی اور آمد کا دن دونوں شامل ہیں۔ نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی روانگی کی فلائٹ شام کے وقت ہو اور وطن واپسی کی فلائٹ صبح کی۔ ایسی صورت میں آپ کا پیکیج چودہ ساڑھے چودہ دن کا ہی رہ جائے گا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانگی اور واپسی میں بھی تقریباً آدھا آدھا دن صرف ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جدہ ایئر پورٹ پر آمد کے وقت امیگریشن اور پھر وہاں سے مکہ مکرمہ کے سفر میں کئی گھنٹے مزید صرف ہو جاتے ہیں۔ وطن واپسی کے وقت تو فلائٹ سے آٹھ دس گھنٹہ قبل مکہ مکرمہ سے جدہ روانہ کر دیا جاتا ہے۔

اس تمام تفصیل کے بعد آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں آپ کو محض خواب جتنا ہی قیام کا وقت مل پائے گا۔ اس دوران مکہ مکرمہ میں دو عمرے اور زیارات بھی کرنی ہوں گی۔ بعد میں بہت قلق ہو گا کہ کاش مکہ مکرمہ میں کچھ وقت اور مل جاتا۔

اب یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ یا تو مکہ مکرمہ میں محض چار پانچ دن کے قیام پر صبر کر لیجیے یا اگر مکہ مکرمہ میں کچھ زیادہ دن قیام کرنے کی خواہش ہو تو پھر مسجد نبوی ﷺ کی 40 نمازوں کی فضیلت کے حصول پر سمجھوتہ کر لیجیے۔

اس لیے میرا بصد اصرار یہ مشورہ ہے کہ عمرہ زائرین 15 روزہ پیکیج کے بجائے 20 روزہ پیکیج لیجیے۔ خاص طور سے وہ زائرین جو پہلی مرتبہ اس مبارک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔

*فائدہ:*

☜ حرم مکی و حرم مدنی دونوں جگہ اطمینان سکون کے ساتھ بھرپور قیام کا موقع مل جائے گا۔

☜ مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازوں کی فضیلت بھی حاصل ہو جائے گی۔

☜ مکہ مکرمہ میں بھی کثرت سے طواف کی سعادت مل جائے گی۔

☜ حرم مکی کی ہر نیکی کا ثواب ایک لاکھ کے برابر۔ ڈھیروں اجر و ثواب کمانے کے مواقع۔

☜ طائف کی میقات جعرانہ سے مزید عمرہ کی سعادت۔

☜ حرمین شریفین میں تین نماز جمعہ کی ادائیگی کی سعادت۔

☜ زیادہ قیام کا مطلب زیادہ سے زیادہ آب زم زم پینے کا موقع۔

*میں نے اب تک جتنے عمرہ پیکیجز دیکھے ہیں ان میں 15 دن کے بجائے 20 دن کے پیکیج میں رقم کا فرق محض چار پانچ ہزار روپے کا پایا۔ حرمین شریفین میں قیام کے درج بالا فضائل کے مقابلے میں یہ چار پانچ ہزار روپے کی رقم کچھ بھی نہیں۔* (واضح رہے کہ یہاں ایک نارمل عمرہ پیکیج کی بات ہو رہی ہے۔)

اگر آپ کی جیب یا مصروفیات 20 روزہ پیکیج کی بجائے 15 روزہ پیکیج ہی کی متحمل ہو سکتی ہیں تو پھر درج بالا معروضات کی روشنی میں مدینہ منورہ میں قیام کے ایام پر نظر ثانی کر لیں۔

*آخر میں ایک ضمنی مشورہ*

میں نے 2016 میں کراچی۔مدینہ منورہ۔کراچی فضائی سفر کیا اور خاصا آسان اور بہتر پایا۔ جدہ ایئر پورٹ مکہ مکرمہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ مکہ مکرمہ سے حاجی کو آٹھ دس گھنٹے پہلے جدہ کے لیے روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مدینہ ایئر پورٹ شہر کے مضافات میں ہے۔ آدھے گھنٹے میں ایئرپورٹ سے ہوٹل تک پہنچ جاتے ہیں اور واپسی میں ہوٹل سے ایئرپورٹ۔ کافی وقت بچ جاتا ہے۔ مدینہ منورہ ایئر پورٹ پر ایئر ٹریفک بھی زیادہ نہیں ہے۔ امیگریشن میں بھی کافی سہولت رہتی ہے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, Social, معاشرت, اسلام

طوفان آتا کیسے ہے

طوفان آتا کیسے ہے

ان دنوں ‘کیار’ نامی سمندری طوفان نے بحیرہ عرب کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ‘کیار’ بحیرہ عرب کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا اور سال 2019 میں دنیا بھر میں آنے والا سب سے شدید سمندری طوفان ہے۔

گزشتہ شب ایک ٹی وی رپورٹ میں کراچی کے ساحلی علاقے ہاکس بے کا منظر دکھایا گیا کہ کیسے سمندر کا پانی سڑک تک آ رہا ہے۔ دوسری طرف بہت سے منچلے بھی وہاں موجود تھے۔ رپورٹر نے پوچھا آپ لوگ یہاں کیوں جمع ہیں؟ جواب آیا: ہم یہ دیکھنے آئے ہیں کہ طوفان آتا کیسے ہے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سیرت النبی ﷺ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تو ہوا بھی تیز چلتی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔ اس حدیث کی تشریح یہ بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد پرآندھی کا عذاب آیا تھا۔ اس لیے آندھی آنے پر آپ ﷺ عذاب الٰہی کا تصور فرما کر گھبرا جاتے۔

ایک اور واقعہ حجة الوداع کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد 10 ذی الحجة کی صبح واپس منیٰ کو روانہ ہوئے۔ منٰی کی راہ میں جب وادی محسر کے دامن میں پہنچے تو اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی۔ واضح رہے کہ وادی محسر وہ مقام ہے جہاں رب کعبہ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعہ کنکریاں برسا کر نیست و نابود کر دیا۔

ایسے ہی قرآن پاک میں سورة الاحقاف آیت 22 تا 25 میں حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا قصہ بیان ہوا۔ قوم عاد نے ہود علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان دھرنے کی بجائے الٹا اپنے نبی کو چیلنج کر دیا۔۔۔

(اے ہودؑ) اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا تم وعده کرتے ہو اسے ہم پر لے آؤ(22) (حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو (23) پھر جب انہوں (قوم عاد) نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (ہود علیہ السلام نے کہا: نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے (24) جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔

زلزلے سیلاب آندھی طوفان یہ سب قدرتی آفات کی مختلف شکلیں ہیں جن سے بعض قوموں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ 2004 میں انڈونیشیاء میں سونامی آیا تھا۔ بحر ہند میں 80 تا 100 فٹ بلند لہریں بنیں۔ یعنی 8 تا 10 منزلہ عمارت جتنی بلند لہریں۔ جو لہر بند آچے نامی شہر کے ساحل سے ٹکرائی وہ تیس فٹ بلند بتائی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی تھا گویا سمندر ساحل پر امڈ آیا۔ سوا دو لاکھ انسان لقمہ اجل بنے۔ بعض منچلے اس وقت بھی تصویر کشی میں مشغول تھے۔

اللہ نہ کرے کہ یہ طوفان عذاب الہی ہو۔۔۔ قدرتی آفت بہرحال ہے۔ یہ وقت اٹھکھیلیاں کرنے کا نہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے۔ ہر چیز مذاق نہیں ہوتی۔ خاص کر سمندری طوفان تو بالکل بھی مذاق نہیں۔

#Kyaar

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک

صبر یا حاجی” حج کی حفاظت۔4″

 اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔4

صبر یا حاجی

حج عمرہ کا ایک اہم سبق صبر ہے۔ حاجی کو واش روم سے لے کر بس کے چلنے تک اور طواف کے ہجوم میں پھنس پھنس کر چلنے سے لے کر ایئر پورٹ پر فلائٹ کی روانگی تک کہاں کہاں انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حج عمرہ سے وطن واپسی پر حاجی یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ بیلٹ پر سامان جمع کرنے کے بعد زم زم کا انتظار ان کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض حاجی کسی دوسرے حاجی کی زم زم کی بوتل لے کر چلتے بنتے ہیں۔ اس خیال سے کہ کوئی بات نہیں وہ ہماری بوتل لے جائے گا۔

ایسا نہ کیجیے۔

یہ چوری ہے۔ گناہ کبیرہ! اتنا بڑا گناہ کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔

پھر آپ کی ذرا سی جلد بازی اور بد نظمی سے وہ حاجی سخت مشکل میں آ جائے گا جس کا زم زم آپ لے جا رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ کہ حاجی عبد الرحمان صاحب اس کی بوتل اٹھا لے گئے ہیں سو بدلے میں وہ بھی حاجی عبد الرحمان کی بوتل اٹھا لے جا سکتا ہے۔

ممکن ہے حاجی عمر رسیدہ ہو۔

ممکن ہے حاجی بیمار ہو۔

عین ممکن ہے اسے آخر تک انتظار کرنا پڑے۔ اس سارے عمل میں اس کا کتنا وقت خراب ہو گا اور ساتھ ساتھ باہر منتظر اس کے گھر والوں کا وقت بھی نیز ان کو بھی انتظار کی شدید اذیت سے گزرنا ہو گا۔

عین ممکن ہے حاجی کو اپنے زم زم کی تلاش میں ایئر پورٹ پہ دھکے کھانے پڑیں۔

ایئر پورٹ عملے کی منت خوشامد کرنی پڑے۔

زم زم گمشدگی کی شکایت درج کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے۔ جو کہ اسے کبھی نہیں ملنے والا کیونکہ اس کا زم زم کھویا نہیں کوئی دوسرا حاجی لے جا چکا ہے۔

ممکن ہے اس حاجی کی تربیت یا حج عمرہ کے بعد کی ایمانی کیفیت اسے کسی اور کا سامان اٹھانے کی اجازت ہی نہ دے۔ اور وہ اپنی بوتل پر صبر کر کے ایسے ہی خالی ہاتھ چلا جائے۔

اس ساری تکلیف و دل آزاری کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

غور کیجیے ایک بوتل اٹھانے کے پیچھے کیا کیا گناہ کما لیا۔

ممکن ہے آپ کا سارا حج عمرہ یہیں برباد ہو جائے۔

اللہ سے ڈرتے رہیے۔