Agar Hisaab Ho Gya to…?

اگر حساب ہو گیا تو ۔۔۔!؟

از ۔۔۔ ابو شہیر

ہم ایک آزاد قوم ہیں ۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے ہم میں سے ہر شخص کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے ۔ حکمرانوں اور اشرافیہ کا تو ذکر ہی کیا ، ہم عوام بھی قدم قدم پر قواعد و ضوابط اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم سے کس قدر غلط عمل سر زد ہو گیا ،  ہماری ذات سے کس کس کو کتنی کتنی تکلیف یا اذیت پہنچی، کس کس نے ہمیں برا بھلا کہا، اور کون کون خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖوَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا ۔ (النسا۔ 36)

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے : “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ “اسی طرح  ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفہوم) “اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔” دریافت کیا گیا : “یا رسول اللہ ! کون؟” فرمایا : “وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ۔ “

لفظ پڑوسی معنویت کے اعتبار سے بڑا وسیع لفظ ہے ۔ عرف عام میں تو اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے گھر آپ کے گھر سے متصل یا اطراف میں ہوتے ہیں ۔ تاہم وسیع تر معنوں میں پڑوسی اور پڑوس کا اطلاق ہر اس جگہ پر کیا جاتا ہے جہاں جہاں آپ کا وجود ہوتا ہے۔ مثلاً کاروبار کی جگہ ، دفتر ، دوکان ، کارخانہ ، بازار ، سفر ، مسجد ، درسگاہ وغیرہ۔ پھر اس سے آگے ایک گاؤں دوسرے گاؤں کا ، ایک شہر دوسرے شہر کا اور ایک ملک دوسرے ملک کا پڑوسی کہلائے گا ۔اس تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ بالا آیت قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں آئیے اپنا محاسبہ کرتے ہیں  اور ان افعال و اعمال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ دوسرے انسانوں کو تکلیف پہنچانے والے اعمال و افعال ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بڑے دھڑلے سے کئے جا رہے ہیں ۔

اولین المیہ تو شاید یہ ہے کہ نظم و ضبط نامی شے ہماری لغت میں ہی نہیں ہے۔ ٹریفک ہی کو دیکھ لیجئے ۔ کس قدر بے ہنگم طریقے سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں ۔ ٹریفک اصولوں اور قوانین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہوتے ہیں ۔ سگنل توڑنا ہم اپنی شان سمجھتے ہیں ۔ رانگ سائیڈ ڈرائیونگ میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ کراچی میں کسی بھی جگہ یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے لیکن شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ مناظر جامعہ کراچی کے اطراف میں رہائش پزیر لوگوں کو دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ روزانہ دن کے مختلف اوقات میں ٹریفک جام ہو جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آئی بی اے / جامعہ کراچی کے طلبا ، اساتذہ اور رہائش پزیر لوگ اپنی گاڑیاں آگے  یو ٹرن سے گھمانے کی  بجائے رانگ سائیڈ موڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے اطراف سےآنے والی گاڑیاں الجھ کر رہ جاتی ہیں ۔ سوچئے ! یہ مادر علمی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ (مہذب یا باشعور لکھنے کو جی نہیں مانتا)اساتذہ و طلبا کے نظم و ضبط کی تکلیف دہ صورت حال ہے۔اسی طرح غلط سمت (رانگ سائیڈ )سے یو ٹرن میں داخل ہو جانا اور اس پر ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کرنا ہماری روایت بنتی جا رہی ہے ۔ دو رویہ سڑک پر اپنی لین میں ٹریفک جام ہو جانے کے بعد دوسری لین میں گھس جانا اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کا راستہ بند کردینا بھی معمول کی بات ہے ۔

قطار انتظار کے تو ہم قائل ہی نہیں ۔ یوٹیلیٹی بل جمع کرانا ہو یا یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر سستے داموں چینی حاصل کرنی ہو ،  کسی اسٹیڈیم کے باہر میچ کا ٹکٹ لینا ہو یا خدانخواستہ کسی قدرتی آفت کا شکار ہونے کے بعد امدادی کیمپ سے امدادی سامان کا حصول ہو ، حرم مکی میں بیت اللہ شریف کی چوکھٹ یعنی “ملتزم” سے لپٹ کر دعا کرنے کی آرزو پوری کرنی ہو یا  “حجر اسود “کا بوسہ لینا ہو ، اور یا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں “ریاض الجنۃ “اور “اصحاب صفہ کے چبوترے “جیسے بابرکت مقامات پر نوافل ادا کرنے اور دعائیں مانگنے کی خواہش پوری کرنی ہو، ہر ہر مقام اور موقع پر الا ما شااللہ  ہمارا “نظم و ضبط “قابل دید ہوتا ہے ۔

شور شرابا بھی ہمیں بہت پسند ہے ۔ موٹر سائیکل ہے تو اس کا اچھا بھلا سائیلنسر نکلوا کر اس کی جگہ پائپ فٹ کروا دیا ۔۔۔ گاڑیوں میں woofer پر دھما دھم ہو رہی ہے ۔ گھروں میں اونچی آواز میں ٹیپ ریکارڈ ۔۔۔ سوری ڈیجیٹل سی ڈی پلیئرز (ٹیپ ریکارڈ تو بہت فرسودہ سی چیز ہو چکی ہے) پر موسیقی ، نعتیں یا نوحے بج رہے ہیں ۔۔۔ کسی کے کان کے پردے پھٹتے ہیں یا اعصاب متاثر ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ، who cares۔ بائیک میں ٹرین یا بس کا ہارن لگوا لیا اور پھر ہارن پر ہاتھ رکھ کر بھول گئے ۔ اب عوام الناس کی سماعتوں پرگراں گزر رہا ہو تو گزرتا رہے ۔ کہیں میوزیکل نائیٹ کے نام پر لوگوں کی راتوں کی نیند حرام کی جا رہی ہے تو کہیں “میلاد ” پورے محلے پر “مسلط”کیا جارہا ہے ۔

اسی طرح راہیں مسدود کرنا ، جگہ جگہ اسپیڈ بریکر بنانا اور بیریئر لگانا بھی ہمارا محبوب مشغلہ ہے خواہ آنے جانے والوں کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو ۔ قبرستانوں کا حال یہ ہے کہ راستوں میں قبریں بنا دی جاتی ہیں یہاں تک کہ چلنے کی جگہ بھی نہیں  بچتی جس کے باعث میت کو اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچانا حد درجہ دشوار ہو جاتا ہے ۔ اہم شاہراہوں اور پر ہجوم بازاروں کی گلیوں اور فٹ پاتھ پر لگے پتھارے بھی یہی بتاتے ہیں کہ ہمیں کسی کی تکلیف و پریشانی سے کوئی غرض ہی نہیں ہے ۔ مسجد میں ہم exit کے پاس بیٹھتے ہیں کیونکہ واپس بھی تو جانا ہوتا ہے ! بعد میں آنے والوں کو مشکل ہو تو یہ ان کا مسئلہ ہے ، ہمارا نہیں ۔ حرمین شریفین اپنی بے پناہ وسعت اور کشادگی کے باوجود تنگ پڑ جاتے ہیں اور اس کی سب سے اہم اور بنیادی وجہ یہی ہوتی  ہے کہ حجاج کرام مساجد کے اندرونی حصوں کی جانب بڑھنے کی بجائے راستوں میں ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ باہر کے صحن ، اندرونی راستے اور سیڑھیاں پہلے بھر جاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کو اندر جانے کا راستہ ہی نہیں مل پاتا ۔ نتیجتاً ان بے چاروں کو یا تو نماز ہی نہیں مل پاتی یا پھر سڑک یا فٹ پاتھ پر نماز پڑھنی پڑتی ہے جبکہ مسجد کے اندر بہت سے گوشے خالی پڑے ہوتے ہیں ۔

اور وہ منظر بھی نہایت قابل دید ہوتا ہے جب شادی ولیمہ کی تقریبات میں کھانا کھُلتا ہے ۔ اچھے خاصے متمول احباب بھی کھانے پر یوں ٹوٹتے ہیں جیسے کئی دن فاقے کے بعد کھانا ملا ہو یا یہ آخری کھانا ہے اور اس کے بعد کھانا نہیں ملے گا ۔ ایک ایک شخص کئی کئی بندوں کا کھانا پلیٹ میں جمع کرنا شروع کر دیتا ہے  اور پھر کھانے کے بعد کا منظر یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک میز پر کئی کئی افراد کا کھانا بچا ہوا ہوتا ہے بلکہ بہت سی پلیٹوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ ان کو تو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آج کل تقریبات میں کھانا کم از کم دو سو روپے فی کس کے حساب سے تیار ہوتا ہے ۔ اب ایک آدمی کے دو چار پانچ افراد کا کھانا پلیٹ میں نکالنے کا مطلب ہزار پانچ سو روپے کا کھانا برباد کرنا ہے کیونکہ کھائے گا تو وہ اپنی گنجائش کے ہی مطابق ۔ یوں یہ صورتحال صرف رزق کی بربادی ہی کا سبب نہیں بنتی بلکہ بہت سے مہمان کھانے سے محروم بھی رہ جاتے ہیں ۔ نیز اس صورتحال سے کھانا کم پڑ جانے کا بھی تاثر پیدا ہوتا ہے جو کہ میزبان کی سبکی اور بے عزتی پر منتج ہوتا ہے ۔ سوچئے ! اک ذرا سی ہوس سے کتنے لوگوں کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ہو گئیں!

ایسی اور بھی بہت سی تکلیف دہ مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مثلاً گاڑی کے پیچھے گاڑی پارک کر دینا ، واٹر ٹینکرز کے نلکوں سے بہنے والے پانی کے نتیجے میں سڑکوں پر کھنچتی ہوئی موت کی لکیریں ، بسوں میں خواتین کے لئے مخصوص حصوں پر مردوں کا قبضہ ، وغیرہ لیکن۔۔۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

ہزاروں ہی قصے ہیں کیا کیا بتاؤں

مختصر یہ کہ قدم قدم پر مسلمانوں کے جائز حقوق پامال یا سلب کئے جا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو ستایا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔ کہیں حکومت اس کی ذمہ دار ہے ، کہیں معاشرہ ۔ کہیں عوام اور کہیں فردِ واحد ۔ یہ جو معاشرہ بالخصوص مسلمان خواتین مردوں کو دوسری شادی سے روکتی ہیں ، کیا یہ ایک مسلمان مرد کے اس بنیادی حق کی نفی نہیں ہے جو کہ اس کو “اللہ رب العالمین  “نے دیا ہے ؟ صرف اس ایک “حق تلفی “سے معاشرے میں کتنا بگاڑ آ رہا ہے ، کتنی بے راہ روی بڑھ رہی ہے ، کتنے گھر اجڑ رہے ہیں یا کتنی بچیاں گھر بیٹھی ہیں ، اس کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں ۔

ہم مسلمان ہیں ۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ، یوم آخرت اور حساب کتاب پر ، نظامِ جزا و سزا  اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ سورۃ الزلزلۃ کی آخری دو آیات سے واضح ہے کہ کس قدر کڑا حساب کتاب ہونے والا ہے ۔

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴿٨

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا  (7)  اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا (8)

اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ حساب کتاب کو آسان فرمائے بلکہ بغیر حساب کتاب کے ہی بخش دے ۔ آمین ۔ لیکن ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم سے کہیں کوئی کوتاہی کوئی چوک تو نہیں ہو رہی ۔ دیکھ لینا چاہئے کہ ہم سے کہیں مذکورہ بالا یا ان جیسے دیگر “مظالم” میں سے کوئی ظلم تو سرزد نہیں ہو رہا۔ اگر ہو رہا ہے تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ “اگر میرے اس عمل کا حساب ہو گیا تو۔۔۔!؟”

اور یہ بھی واضح رہے کہ حساب کتاب تو مسلمانوں کا ہی ہو گا ۔ کافر تو بغیر حساب کتاب کے ہی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ تو ہم جو قدم قدم پر مسلمانوں کو ایذا پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ان کی حق تلفی کر رہے ہوتے ہیں ، اس کے بعد ہمیں اگلا سوال خود سے یہ کرنا  چاہئے کہ کیا ہم مسلمان باقی رہ گئے ہیں ؟کیا ہمارا ایمان برقرار ہے ؟کہ نبیِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا:

“اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ۔ “

لفظ پڑوسی کی تعریف اوپر درج ہے ۔ ازاراہ کرم ایک بار پھر دیکھ لیجئے ۔

Hum! Saya-daar Payr

ہم! سایہ دار پیڑ۔۔۔ 

از۔۔۔ ابو شہیر 

درخت دیکھ کر پہلا خیال ذہن میں کیا آتا ہے ؟ خوبصورتی، شادابی، ٹھنڈک، سبزہ، چھاوَں وغیرہ۔ ان میں سے کوئی ایک ، یا یہ سب۔ چلچلاتی دھوپ میں درخت کے سائے میں بیٹھ کر کیسی راحت ملتی ہے ، اس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ باغ ہو یا راہ گزر۔۔۔شجر سایہ دار بلا تخصیص ہر کسی کو ٹھنڈک اور سایہ فراہم کر رہا ہوتا ہے ، چاہے وہ جانور ہوں یا انسان ، مقیم ہوں یا مسافر۔ مسافر اپنی سواری اور دیگر ساز وسامان کے ساتھ چلچلاتی دھوپ میں درخت کے نیچے پہنچتا ہے ۔ سواری کے جانور کو درخت کے تنے سے باندھتا ہے ۔ درخت کے سائے میں چادر بچھا کر لیٹتا ہے تو اس کی نگاہ درخت کے پتوں پر پڑتی ہے جو کہ اسے سرسبز و شاداب، ہرے بھرے نظر آتے ہیں ۔ لیکن اس وقت اس کو درخت کا وہ حصہ نظر نہیں آ رہا ہوتا جو اس کو راحت پہنچانے کی غرض سے سورج کی ساری تمازت اپنے وجود پر برداشت کر رہا ہوتا ہے اور اس کو پوری تندہی و جانفشانی سے نیچے لیٹے مسافر تک پہنچنے سے روک رہا ہوتا ہے ۔ درخت خود کو مسافر کے سامنے ہشاش بشاش اور مطمئن ظاہر کر رہا ہوتا ہے جبکہ درحقیقت وہ ایک شدید کرب کی کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے ۔۔۔!

تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد مسافر تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو پھر وہ اپنے جانور کے لئے پتے جھاڑنے کی غرض سے چھڑی یا لاٹھی ہاتھ میں لے کر درخت کی شاخوں پر مارنا شروع کر دیتا ہے ۔ درخت ان شدید ضربوں کو خاموشی سے اپنے وجودپر سہہ لیتا ہے اور جواب میں اپنے پتے ۔۔۔ جی ہاں پتے ۔۔۔ جو کہ درخت کی زندگی ہیں ۔۔۔ اس کی رگ جاں ہیں ۔۔۔ اس کے سانس لینے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔ مسافر کے اوپر نچھاور کر دیتا ہے ۔ کوئی پتھر تاک کر نشانہ مارتا ہے ۔۔۔ تو ہر چند کہ درخت کو درد تو بہت ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ پتھر کے جواب میں اپنے پھل پتھر مارنے والے پر نچھاور کر دیتا ہے ۔۔۔۔ وہ پھل جن کو تیار کرنے میں درخت اپنی غذا کا بہترین حصہ مختص کرتا ہے ۔۔۔ یا بالفاظ دیگر جن کو اپنا خون جگر پلاتا ہے ۔۔۔!

مسافر کو بھوک لگتی ہے تو اس کو کھانا بنانے کا خیال آتا ہے ۔ کھانا کیسے بنے ؟ اس کے لئے تو آگ درکار ہوتی ہے ۔ اور آگ کے لئے لکڑی ۔ اس کی نگاہ پھر درخت پر پڑتی ہے ۔ مسافر کلہاڑی ہاتھ میں لےکر درخت کی شاخوں  پر برسانا شروع کر دیتاہے ۔ درخت  لہو لہان ہو جاتا ہے ۔۔۔ لیکن کلہاڑی مارنے والے کو اپنے بازو کاٹ کر پیش کر دیتا ہے کہ لو ! ان کو جلا کر اس پر اپنا کھانا پکا لو ۔۔۔!

پھر کچھ اور مسافر آ جاتے ہیں ۔  درخت اپنی چھاوَں ان کے لئے بھی وا کر دیتا ہے ۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے ایک اور حیرت انگیز اور کرب ناک منظر کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ مسافر درخت کی چھاوَں پر جھگڑنا شروع کر  دیتے ہیں ۔۔۔ گویا کہ وہ درخت یا اس کی چھاوَں کے مالک ہوں۔ ان کی آپس کی اس لڑائی کا منظر درخت کے لئے ناقابل برداشت درد کا باعث  ہوتا ہے۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی اپنی چھاوَں نہیں سمیٹتا ۔۔۔  تم آپس میں لڑتے ہو تو لڑتے رہو۔۔۔ لیکن میں اپنی چھاوَں پھر بھی نہیں کھینچوں گا ۔

آتے جاتے پریمی جوڑے درخت کی چھاوَں میں بیٹھ کر آپس میں عہد و پیماں کرتے ہیں ۔ راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں ۔ اور پھر جاتے جاتے انہیں خیال آتا ہے کہ کیوں نہ درخت کے بدن پر اپنے پیار کی نشانی۔۔۔ ملن کی اس جگہ کی یادگار کے طور پر لکھتے جائیں ۔ سو وہ چھری کی نوک درخت کے مہربان وجود میں اتاردیتے ہیں ۔ تکلیف کی شدت سے درخت کے آنسو رواں ہو جاتے ہیں ۔۔۔ جنہیں وہ گوند سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ درخت ان پیار کرنے والوں کو کرب و حیرت سے دیکھتا چلا جاتا ہے کہ ۔۔۔ “کیسے پیار کرنے والے ہو۔۔۔!؟”

غرض یہ کہ درخت تو ہر آنے جانے والے کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے لیکن جواب میں اسے کم وبیش اسی قسم کی بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ درخت یہ سارے صدمات سہتے سہتے اندر سے سخت ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر ایک طرف یہ ناقابل برداشت صدمات۔۔۔ اور دوسری طرف گردش دوراں، موسموں کی شدتیں۔۔۔ یہ عوامل ا س کے وجود پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔  درخت کے پتے گرنے لگ جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ بالکل تہی داماں ہو جاتا ہے ۔۔۔ اور اس کی رگ جاں ٹوٹنے لگ جاتی ہے ۔۔۔!

ادھر حکومت وقت کو خیال آتا ہے کہ اس جگہ تو مسافروں کی سہولت کے لئے سڑک بنانی چاہئے ۔ تو پھر یہی درخت ان کو کھَلنے لگتا ہے ۔ حکم نامہ جاری ہوتا ہے کہ کاٹ دو ! راستے سے ہٹا دو ! اور پھر درخت کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔ اس  مہربان وجود کا لاشہ ایک دھماکے سے زمین پر آن گرتاہے ۔ پھر اس کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے ہیں ۔ اسے آروں سے چیر دیا جاتا ہے ۔ رندوں سے اس کے مہربان وجود کے چیتھڑے اڑا دئیے جاتے ہیں ۔ اس کے بدن کے اندر میخیں اور کیلیں ٹھونک دی جاتی ہیں ۔ اور پھر کہیں میزیں اور کرسیاں بنا دی جاتی ہیں ، کوئی مسہری اور الماریاں بنا لیتا ہے ، کوئی دروازے اور کھڑکیاں بنا رہا ہے ، کہیں عمارتی لکڑی کے طور پر اس کے وجود کو فی الواقع کیلوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ لکڑی بھی ناقابل استعمال ہو جاتی ہے ۔ ردی ہو جاتی ہے ۔ پھر اس کو کہیں کھانا پکانے کے لئے اور کہیں سردی سے بچاوَ کے لئے جلانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ درخت جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔ پھر اس راکھ کو برتن مانجھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔!

وہ سراپا ایثار وجود ہر حال میں یہی کہتا ہے : “تم چاہے میرے ساتھ کچھ بھی سلوک کرو۔۔۔ میں ہر حال میں تمہیں راحت ہی پہنچاوَں گا ، تمہارے کام ہی آوَں گا ۔”

معروف شاعر منور رانا ؔنے درخت کے ایثار و کرب کی اس ساری داستان کو نہایت خوبصورتی اور اختصار کے ساتھ فقط ایک شعر میں بیان کر دیا ہے ۔۔۔

؎                 ہم ، سایہ دار پیڑ ! زمانے کے کام آئے

                    جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے

سوال یہ ہے کہ ہم تو اشرف المخلوقات بھی ہیں اور مسلمان بھی۔۔۔ ہم میں کوئی ہے درخت جیسا ؟

اور اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ درخت کیسے بنا جائے؟

ایک حدیث مبارکہ یاد آ رہی ہے  : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده۔۔۔ (البخاری)

جس کا مفہوم ہے : “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ ” 

اور ایک اور حدیث مبارکہ ہے:  أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترک المرا وإن کان محقا ۔۔۔ او کما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام ( ابوداؤد )

“میں جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے ۔”

ذرا دیکھئے گا! کہیں شجر سایہ دار بننے کا فارمولا تو بیان نہیں کیا گیا ان احادیث مبارکہ میں ؟