Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, JIHAD, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Sahaba kay Waqiat, جہاد

مجاہد

اسلام اور مسلمانوں کی حربی تاریخ شجاعت و بہادری کی لا زوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔

دور نبوی ﷺ کو لے لیجئے تو خود رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ جری۔۔۔ سب سے زیادہ نڈر ۔۔۔ سب سے زیادہ  بہادر۔

پھر آپ ﷺ کے جانثار صحابہ کرام ؓ ۔۔۔ آپ ﷺ کے ایک اشارے پر  مر مٹنے کو ہر دم تیار۔

بدر میں بے سر و سامانی کے باوجود اپنے سے تین گنا بڑے دشمن سے ٹکرا گئے اور سرفروشی کا ایک درخشاں باب رقم کیا۔

احد میں بھی وہی بے سروسامانی۔۔۔  معرکہ میں مسلمانوں کی ابتدائی کامیابی کے بعد صورتحال کی تبدیلی، رسول اللہ ﷺ کا کفار کے نرغے میں آ جانا۔۔۔ ایسے میں سات انصاری اور دو قریشی کل نو جانثار آپ ﷺ کی حفاظت پر کمربستہ، ساتوں انصاری صحابہ ؓ کٹ کٹ کر گرتے رہے اور داخل جنت ہوتے رہے۔۔۔

سعد بن ابی وقاصؓ جن کے لئے فرمایا: تیر چلاؤ میرے ماں باپ تم پر قربان۔۔۔

طلحہ بن عبید اللہ ؓ جن کے بارے میں ارشاد ہوا: جو شخص کسی شہید کو روئے زمین پر چلتا ہوا دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو دیکھ لے۔۔۔

سید الشہدا حمزہ بن عبد المطلب، عبد اللہ بن رواحہ ، جعفر بن ابی طالب ، علی ابن ابی طالب ، ابو عبیدہ بن الجراح ، عمرو بن العاص ، سعد بن معاذ ، ابو دجانہ، اسامہ بن زید، اور بعد ازاں خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اجمعین ۔کیسے کیسے شجاعت کے مینار۔۔۔

صحابہؓ کے بعد کے ادوار میں قتیبہ بن مسلم باہلی، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر، محمد بن قاسم سے لے کر یوسف بن تاشفین، جلال الدین خوارزم شاہ، سلطان صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی، ٹیپو سلطان، سراج الدولہ، شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید رحمہم اللہ ایسی نابغہ روزگار ہستیاں۔ اور ان کے علاوہ بے شمار ایسے سپاہی جو محض رضائے الٰہی اور شوق شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر داد شجاعت دیتے ہوئے رزق خاک ہو گئے اور دنیا ان کا نام تک نہیں جانتی ۔۔۔۔۔ اللہ اکبر!

نشان حیدر پانے والے شہدا سے لے کر ایم ایم عالم جیسے شاہین تک۔۔۔ خراسان سے لے کر ہندوستان تک، ہسپانیہ سے لے کر بوسنیا چیچنیا تک، کشمیر سے لے کر کارگل تک اور سیالکوٹ سے لے کر سیاچن تک سرفروشی کی ان گنت داستانوں کی داستان۔۔۔

یہ داستان ختم نہیں ہوئی۔

یہ داستان قیامت تک جاری رہے گی۔

آج ایک طرف اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔۔۔ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔۔۔ مٹی پاؤ۔۔۔ سانوں کی۔۔۔ کی عملی تفسیر، قحط الرجال کا شکار امت مسلمہ کے خاکستر میں ایسی چنگاریاں ہنوز موجود ہیں جن کی دہشت سے عالم کفر لرزہ بر اندام ہے ، جن کی سرفروشی و جانبازی، جرات و بہادری دیکھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔۔۔

کیا ہوا جو آج پرائے تو کیا اپنے بھی ان کے لئے دو حرف تحسین کے ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔۔۔

لیکن
تاریخ تو رقم ہو رہی ہے۔

بلکہ تاریخ تو رقم ہو چکی ہے!

کہ سارا عالم کفر اپنے مسلمان اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ آور ہوا تھا، واقعتاً اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، ہر قسم کا اسلحہ آزما لیا گیا ۔۔۔ سنگلاخ پہاڑوں کو مٹی کے تودوں میں تبدیل کر دیا گیا۔۔۔

ایسے میں وہی مٹھی بھر مجاہدین اسلام عالم کفر کے خلاف نبرد آزما، گویا زبان حال سے کہہ رہے تھے

؎ ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

تاریخ نے مادی قوت و اسباب کے مابین ایسا تفاوت شاید ہی کبھی دیکھا ہو گا!

فیصلہ شاید آج نہ ہو سکے ۔۔۔ ہو بھی نہیں سکتا کہ

؎ جنوں کا نام خرد رکھ دیا، خرد کا جنوں

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

لیکن مستقبل کا مورخ جب اِس دور کی تاریخ لکھے گا تو بعید نہیں کہ اس سپہ سالار کا نام انہی مجاہدین کی فہرست میں درج کر دے جن کے اسمائے گرامی اوپر پیش کئے گئے۔

خبر آئی ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہ، امیر المجاہدین ملا محمد عمر انتقال فرما چکے ہیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون!

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

 

وضاحت: یہ مضمون 2015 میں ملا عمر رحمہ اللہ کے انتقال کی اطلاع پر تحریر کیا تھا۔ بوجوہ تاخیر سے یہاں اب شایع کیا جا رہا ہے۔

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Uncategorized, نماز, اسلام, علم دین

Prayer on Chair

کرسی پر نماز

کرسی پر نماز کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔

بہت سے لوگ معمولی عذر یا تکلیف کی صورت میں بھی کرسی پکڑ لیتے ہیں۔

ہر فرد کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ اپنے عذر کی نوعیت کو کسی عالم دین سے ڈسکس کر کے ان سے معلوم کرے کہ آیا اس کے لئے کرسی پر نماز ادا کرنا درست ہے یا نہیں۔

عمل دیکھ کر نہیں سیکھ کر کرنا چاہئے۔

یہ نماز کا مسئلہ ہے۔

فرض عبادت کا مسئلہ ہے۔

روزانہ اور پانچ وقت کا مسئلہ ہے۔

اورقیامت کے روز پہلے سوال کا مسئلہ ہے۔

Behaviors & Attitudes, Islam, Social, اخلاقیات

Watch, then Wash

گھر کی دہلیز ایسے اوقات میں دھوئیے جن اوقات میں گلی میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوتی ہو۔۔۔

اور اگر آپ کا گھر مسجد کے راستے یا اطراف میں ہے تو پھر دھلائی سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ نماز کا وقت تو قریب نہیں۔۔۔

گلی میں کیچڑ پانی کے باعث نمازیوں کو مسجد جاتے آتے دشواری ہوتی ہے۔

#خودکلامی

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Pakistan, اسلام

B L E S S E D – F R I D A Y

بلیسڈ فرائیڈے

وجہ چاہے عالمگیریت ہو یا مرعوبیت ، روشن خیالی ہو یا میڈیا کی ڈھٹائی، غیر اسلامی معاشروں کا گند غلاظت رفتہ رفتہ اسلامی معاشرت کو آلودہ کرتا جا رہا ہے۔ صحیح غلط کی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ کفار ہم سے کچھ سیکھیں نہ سیکھیں، ہم ان سے بہت کچھ امپورٹ کر رہے ہیں۔
پہلے ویلنٹائن ڈے جیسا فحش اور قبیح تہوار مسلم ممالک میں داخل ہوا اور اب بلیک فرائیڈے کا ڈنکا بج رہا ہےیا بجایا جا رہا ہے۔ مختلف اداروں کی جانب سے بھرپور رعایتی سیل کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ویب سائٹس ، ایس ایم اسی مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے خوب تشہیر کی جا رہی ہے۔ معروف پاکستانی آن لائن اسٹور دراز ڈاٹ پی کے نے اس موقع پر قیمتوں میں ۸۶ فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے۔ اس رعایتی سیل کی تشہیر کے لئے لگائے گئے بینرز پوسٹرز شہر میں مختلف مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح معروف کورئیر سروس ٹی سی ایس کے آن لائن اسٹور یہ وہ ڈاٹ کام نے بھی اس موقع پر ۸۰ فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ شعائر اسلام میں سے ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ بڑا اہم اور فضیلت والا دن ہے ۔ اس کی شان میں رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث مبارکہ بھی روایت ہوئی ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ نے جمعہ کو سید الایام کہا یعنی ہفتہ کے دنوں کا سردار ۔ اسی طرح ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ سورج کے طلوع و غروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں۔ اسلام کے متوالوں کے لئے یہ رحمتوں اور برکتوں والا دن ہے، ایک روشن اور منور دن ہے۔

لیکن ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اس دن کوسیاہ دن کا نام دیا جا رہا ہے اور اب اس کی اس قدر منظم انداز میں تشہیر کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی زبانوں پر بھی یہی الفاظ چڑھتے جا رہے ہیں۔ عالم اسلام کو اس قسم کی چالبازیوں سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم کفار کو تو نہیں روک سکتے البتہ ان کی تقلید سے بچنا بہرحال ضروری ہے۔

ہم ان سطور کے ذریعے پاکستان کے تمام اسٹورز اور برانڈز کو متنبہ کرتے ہیں کہ خدارا اسلامی شعائر کی اہانت سے باز رہئے۔ کیا ضروری ہے کہ مسلمان بھی اسی دن سیل کے اعلانات کرتے پھریں ؟ اسلام نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دو تہوار دے رکھے ہیں۔ اگر سیل لگانی ہے تو ان مواقع پر لگائیے تاکہ آپ کے دینی بھائیوں کو فائدہ ہو۔ اور آخری بات یہ کہ اگر آپ نے اسی دن سیل لگانی ہے تو کم از کم اس مکروہ نام سے تو نہ لگائیے ، کیوں نہ ایک نیا نام متعارف کرا دیا جائے۔۔۔ بلیسڈ فرائیڈے یا برائٹ فرائیڈے۔۔۔
#Blessed_Friday
#Bright_Friday

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Seerat-un-Nabi, Social, اسلام, علم دین

Wazifa

وظیفہ

ہم میں سے اکثر لوگ پریشان ہیں۔ کوئی روزگار کے سلسلے میں پریشان ہے تو کوئی رشتوں کے سلسلے میں ۔ کوئی صحت کو ترس رہا ہے تو کوئی اولاد کو۔ کہیں میاں بیوی میں نہیں بن رہی تو کہیں اولاد نافرمان ہے۔ کسی کو رزق کی تنگی کی پریشانی ہے تو کوئی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ الغرض ہم ہر طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

اب ان مسائل کے حل کے لئے ہم کیا کرتے ہیں۔ کہیں پیروں فقیروں سے تعویذ مانگے جا رہے ہیں تو کہیں علمائے کرام سے وظیفہ۔ علمائے کرام مسائل  کی نوعیت کے حساب سے ہر ایک کو وظیفہ بتا دیا کرتے ہیں کہ ہر نماز کے بعد فلاں وظیفہ اتنی مرتبہ پڑھ لیجئےاور اتنے اتنے دن یہ عمل کر لیجئے۔ لیکن مدت پوری ہونے کے بعد اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ حضرت کام نہیں بنا کوئی اور وظیفہ بتائیے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نماز کے بجائے وظائف کو اصل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنے آئے، جلدی جلدی نماز ادا کی اور پھر نہایت اہتمام کے ساتھ وظائف و تسبیحات میں مشغول ہو گئے۔ بھول گئے کہ اصل گیان دھیان تو نمازوں میں درکار تھا ۔ لیکن وہاں تو نہ فرائض کا خیال رکھا جا رہا ہے نہ واجبات کا۔ تو جب نماز ہی آداب کی رعایت کے ساتھ ادا نہ کی تو پھر وظیفہ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے پر حیرت کیسی؟ شکایت کیسی؟

اللہ رب العزت  نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا  جس کا مفہوم ہے۔۔۔

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔

اور سیرت نبوی ﷺ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی دشوار امر پیش آتا تو آپ ﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ آندھی چلتی تو نماز ، سورج چاند گرہن ہوتا تو نماز، جنگ ہوئی تو نماز، بارش نہ ہوئی تو نماز۔ اور جب آپ ﷺدار الفنا سے دار البقا کی جانب رحلت فرما رہے تھے توآخری سانسوں میں بھی امت کو نماز کی تلقین فرمائی۔

چلئے  فقط یہی یاد کر لیجئے کہ نماز کہاں عطا کی گئی؟ معراج پر۔ آسمانوں سے اوپر بلا کر رسول اللہ ﷺ کو یہ تحفہ عنایت کیا گیا۔ اللہ اکبر۔۔۔ کیا شان ہے ، کیا عالی مقام ہے نماز کا ۔۔۔ کہیں اسے آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو کہیں اسے ایمان و کفر کے درمیان فرق  کرنے والا عمل بتایا جا رہا ہے۔ کہیں بتایا جا رہا ہے کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے سجدہ میں زیادہ دعا کیا کرو۔

 خلاصہ  یہ کہ مومن کا اصل وظیفہ نماز ہی ہے۔

بہت ہلکا لے لیا ہے ہم نے ان نمازوں کو۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Seerat-un-Nabi, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Jannay wala

جاننے والا

کوئی پانچ سات برس قبل کی بات ہے ۔  میرے آفس کے ایک صاحب حج کو جا رہے تھے۔ ساتھ میں کچھ محرم خواتین بھی تھیں۔ روانگی سے قبل اتنے ہی فکرمند و پریشان  تھے جتنا کہ ایک حاجی ہوا کرتا ہے۔

میری ملاقات ہوئی تو کہنے لگے: بھائی مکہ میں تو ایک دوست رہتا ہے ۔اس سے بات ہو گئی ہے۔ اور بھی ایک دو جاننے والے ہیں۔ وہاں کی تو ساری سیٹنگ ہو گئی ہے ۔ بس مدینہ کی ٹینشن ہے۔وہاں اپنا کوئی جاننے والا نہیں ہے۔

میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: ہمارا تو ہے اک جاننے والامدینہ میں۔۔۔

آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

 ہاں۔۔۔
ہے تو ایک جاننے والا۔۔۔

جس نے ہماری فکر میں اپنی نیندیں قربان کیں اور رات رات بھر قیام کر کے اپنے پیر سُجائے۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جس کے طائف میں کھائے گئے پتھروں سے لہولہان بدن کا صدقہ محمد بن قاسم ؒ کی صورت میں اس خطے کو ایمان کی روشنی سے منور کر گیا۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جب میں اس پر درود بھیجتا ہوں تو درود پہنچانے پر مامور فرشتہ میرا اور میرے والد کا نام لے کر کہتا ہے کہ یا رسول اللہ! آپ کے امتی فلاں بن فلاں نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا نذرانہ بھیجا ہے۔

ہاں! ہم پہچانیں نہ پہچانیں۔ وہ ہمیں خوب پہچانتا ہے۔

ہمارے ماں باپ مال آل اولاد اس پر قربان۔۔۔

صلی اللہ علیہ و آلہٖ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا دائما ابدا ابدا