Hajj Umrah

حج کا سبق

حج کا سبق

از۔۔۔ ابو شہیر

حج اسلام کا پانچواں رکن اور نہایت عظیم الشان عبادت ہے ۔ یہ عبادت کئی اعتبار سے منفرد ہے ۔ مثلاً نماز روزہ بدنی عبادات ہیں ۔ زکوٰۃ مالی عبادت ہے ۔ لیکن حج ایسی عبادت ہے جس میں مال بھی کھپانا پڑتا ہے اور جان بھی جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے ۔ اسی طرح نماز روزہ زکوٰۃ تو مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے میں ادا کر سکتے ہیں لیکن حج {اور عمرہ } کی ادائیگی کرنی ہو تو لازم ہے کہ حجاز مقدس کا قصد کیا جائے ۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا جائے ، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جائے ۔ دیگر مناسک حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ کے پہلو میں واقع مختلف میدانوں یعنی منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کی خاک چھانی جائے ۔ ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ ایک ہی مقام پر انسانوں کی ایک نہایت کثیر تعداد بیک وقت یہ عبادت انجام دے رہی ہوتی ہے جیسا کہ آج کل دنیا بھر سے کم و بیش پچیس لاکھ فرزندان توحید ہر سال اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کی غرض سے حجاز مقدس پہنچتے ہیں ، جن میں پاکستان کے ایک لاکھ اسی ہزار خوش نصیب بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح اس عبادت کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس عبادت کی ادائیگی کے دوران عام زندگی میں لاگو ہونے والے بہت سے شرعی احکامات یا تو موقوف کر دیئے جاتے ہیں یا ان کے بالکل مخالف حکم سامنے آ جاتا ہے ۔

ان احکامات کا جائزہ لیا جائے تو ایک اہم اور غور طلب امر سامنے آتا ہے کہ مناسک حج کی ادئیگی سے آخر مقصود کیا ہے ؟ اس ساری جد و جہد کے دوران بندے کو کس بات کی تربیت دی جا رہی ہے یا اس کی کون سی ادا کو جانچا جا رہا ہے ؟ اختصار کے ساتھ چند امور کا جائزہ لیتے ہیں ۔ مناسک حج کے آغاز کو دیکھیں تو سب سے پہلے تو بندے کا لباس تبدیل کرا دیا جاتا ہے یعنی دو چادریں پہنا دی جاتی ہیں ۔ پھر جب وہ حج  {یا عمرہ} کی نیت سے احرام باندھ لیتا ہے تو اس پر چند حلال امور بھی حرام ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً عام حالات میں تو اللہ  تعالیٰ بندے کے پاک صاف رہنے کو، خوشبو لگانے کو پسند فرماتے ہیں ۔ بال ناخن کاٹنے کو فطری امور قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ناخنوں یا جسم کے غیر ضروری بالوں کا ایک حد سے زیادہ بڑھ جانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نا پسندیدہ ہے ۔ لیکن یہ سارے امور جو کہ عام حالات میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہیں ، احرام کی حالت میں حرام قرار دے دیئے جاتے ہیں ۔ ازدواجی تعلقات عام حالات میں حلال ہیں لیکن حالت احرام میں ممنوع ہیں ۔

حج کے دن یعنی نو ذی الحج کو یہی احرام باندھ کر مسلمان جب عرفات کے میدان میں پہنچتے ہیں تو پہلا حکم یہ ہے کہ زوال آفتاب کے بعد ظہر اور عصر کی نماز ملا کر ادا  کرو ۔”ہیں جی ؟ ابھی تو عصر کی نماز کا وقت ہی نہیں ہوا ، ابھی سے عصر کی نماز ادا کر لیں ؟ “

“ہاں ۔ آج یہی حکم ہے ۔ “

{اس حکم کی فقہی تفصیلات کا اگرچہ یہ موقع تو نہیں ہے لیکن پھر بھی اس نیت سے عرض کر دی جاتی ہیں کہ خدا نخواستہ کسی حاجی کو کوئی غلط فہمی نہ ہو جائے ۔ علمائے کرام کے مطابق تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ وہ حجاج کرام جو کہ عرفات کی مسجد یعنی مسجد نمرہ میں اس کے امام کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہیں ، صرف وہی حجاج کرام ظہر اور عصر کی نماز ملا کر پڑھ سکتے ہیں ۔ باقی وہ حجاج جوکہ مسجد نمرہ سے ہٹ کر اپنے خیموں میں نماز ادا کر رہے ہیں ان کے لئے حکم یہی ہے کہ ظہر کی نماز ظہر کے وقت پر اور عصر کی نماز عصر کے وقت پر ادا کریں }۔

آگے چلئے ۔ عرفات میں قیام کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ۔ اب حکم یہ ہے کہ “خبر دار۔ کو ئی مغرب کی نماز میدان عرفات میں ادا نہ کرے ۔ بغیر نماز مغرب ادا کئے مزدلفہ کی جانب چلو “۔

“اچھا جی ۔ چلو راستے میں کہیں رک کر پڑھ لیں گے”

. “ہر گز نہیں ۔ کوئی راستے میں بھی نہ پڑھے “۔

 “چلو بھئی جلدی جلدی مزدلفہ کو بھاگو مغرب کی نماز وہیں پڑھنی ہے اور نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے “

“نہ نہ نہ ۔ مزدلفہ میں بھی اس وقت تک نہیں پڑھنا جب تک کہ عشاء کا وقت نہ ہو جائے “۔

” ہیں جی ۔ نماز کا وقت نکل جانے کے بعد نماز ادا کریں ؟ یہ کیسا حکم ہے ۔ ساری زندگی تو یہی سنا پڑھا کہ نماز کے وقت پر نماز ادا کرو ورنہ نماز قضا ہو جائے گی ۔ آج تو عجیب عجیب سے احکامات آ رہے ہیں  ۔ ایک نماز کا وقت ہی نہیں ہوا اور کہا جا رہا ہے کہ ادا کر لو ۔ دوسری کا وقت ہو چکا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ اس کا وقت نکل جانے دو ، پھر ادا کرنا یہ نماز ” ۔

آگے بڑھے ۔ دس ذی الحج کا دن شروع ہو گیا ۔ اب شیطان کو کنکر مارنے ہیں ۔ لیکن شیطان تو کہیں نظر ہی نہیں آ رہا ۔ وہ تو بس کچھ ستون بنے ہوئے ہیں {جن پر اب بڑی بڑی دیواریں بنا دی گئی ہیں } ان ستونوں کو شیطان کی علامت بتا کر پتھر لگوائے جا رہے ہیں ۔ چلئے صاحب یہ بھی کر لیا ۔ اس کے بعد قربانی کر کے بال کاٹ لو اور احرام سے آزاد ہو گئے ۔ اب احرام کی پابندیاں ختم ۔ اب چادریں اتار کر عام لباس پہن سکتے ہو ۔ بال ناخن کاٹ سکتے ہو ۔ خوشبو لگا سکتے ہو ۔ لیکن حج کے طواف {طواف  زیارت جو کہ حج کا فرض ہے } سے قبل ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنا ۔

لیجئے جناب ۔ کچھ سمجھ آیا ؟ کبھی ایک چار دیواری کو اپنا گھر بتا کراس کے گرد چکر لگوائے جا رہے ہیں ۔ کبھی دو پہاڑیوں {صفا و مروہ } کو اپنی نشانی بتا کر ان کے درمیان دوڑیں لگوائی جا رہی ہیں ۔ کہیں ایک پتھر {حجر اسود} کا بوسہ دلوایا جا رہا ہے یا استلام کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو کہیں ایک پتھر {مقام ابراہیم }کو اپنی نشانی بتا کر اس کے پیچھے دو رکعت نماز {واجب الطواف } ادا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ یہ کس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ؟ کون سی ادا جانچی جا رہی ہے ؟ کس بات کی تربیت دی  جا رہی ہے ؟

سوچئے ۔ خوب سو چئے ۔

ایک ہی جواب ہے ۔

“اطاعت “

جی ہاں ۔ اس سارے سفر میں ، اس ساری جد و جہد کے دوران یہی  ادا جانچی جا رہی ہے یا دوسرے الفاظ میں اسی ادا کی تربیت کی جا رہی ہے ۔ کہ بندہ “اطاعت ” اختیار کر لے ۔ چوں چرا چھوڑ دے ۔ کسی حکم پر “کیا ؟ کیوں؟” نہ پوچھے ۔

بلکہ صرف یہی کہے : “سمعنا  و  اطعنا ” ۔  { سن لیا ۔ مان لیا }

یہی “اطاعت” ہی درحقیقت حج کی اصل ” عبادت ” ہے ۔

تو محترم جناب حاجی صاحب۔ سفر حج کے دوران بھی یہی کرنا ہے اور واپسی کے بعد باقی ماندہ زندگی میں بھی یہی کہنا ہے : “سمعنا  و  اطعنا ” ۔

یعنی ۔۔۔سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے  !

Advertisements
Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, علم دین

Labbaik Allahumma Labbaik

(اس مضمون میں مناسک حج و عمرہ ایک نہایت منفرد انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ مختصر تمہید کے بعد اصل مضمون شروع ہوتا ہے۔ مکمل مضمون پڑھنے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نیا ولولہ، ایک نئی تازگی محسوس کریں گے۔ ان شآء اللہ)

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔ 

از۔۔۔ ابو شہیر 

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ یہ مالی و بدنی عبادات کا مجموعہ ہے ۔ حج ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مسلمان ، عاقل و بالغ ، تن درست اور مالدار ہو ۔ جیسا کہ درج ذیل آیت میں حکم ہے ۔

و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین o  {اٰل عمران ۔ ۹۷}

مفہوم : اور … لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو ، وہ اس کا حج کرے…. اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو بھی وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے ۔

سبحان اللہ ! اللہ رب العزت …. جس نے اپنی ذات کا خود تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ غنی ہے ، وہ صمد ہے ، وہ بے نیاز ہے ، وہ بے عیب ہے ، اس کی ذات کسی بھی قسم کی اثر پذیری سے پاک ہے ، ساری دنیا نافرمان ہو جائے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ساری دنیا فرمانبردار بن جائے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا …. وہ جو داتا ہے ، جو عطا ہی عطا ہے ، جس کی صفت نوازنا ہی نوازنا ہے ، دینا ہی دینا ہے …. وہ اللہ رب العالمین کہہ رہا ہے کہ لوگوں پر میرا یہ حق ہے کہ جو میرے گھر یعنی بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ میرے گھر کا حج کرے ۔
ذرا غور کیجئے ! اللہ تعالیٰ نے دنیا پہلے بنائی …. دنیا کو پہلے سجایا ، ہمیں بعد میں اس دنیا میں بھیجا ۔ بے شمار نعمتیں بن مانگے ہی عطا فرما دیں ۔ ایمان و صحت ، گاڑی ، بنگلہ ، نوکر چاکر ، بینک بیلنس ، بیوی بچے ، عیش و عشرت…. کیا کچھ عطا فرما دیا ۔ اس سب کو ذہن میں رکھتے ہوئے بندہ جب مذکورہ بالا آیت کا جائزہ لیتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت اس سے سوال کر رہی ہے کہ “اے  بندے ! تیرے رب نے تجھے اتنی ساری نعمتیں عطا کیں …. تو کیا اس رب کا اتنا بھی حق نہیں بنتا کہ تو اس کے  گھر کا حج کرے ؟ “

پس ! جن لوگوں کو یہ بات سمجھ آ جاتی ہے وہ پکار اٹھتے ہیں …. لبیک اللہم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔میں حاضر ہوں ! میرے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ہوں ۔ سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور ملک بھی تیرا ہی ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ مبارک ہیں وہ عشاق ، جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا ۔ جی ہاں ! یہ مبارک کلمات یعنی …. لبیک اللہم لبیک …. یہ حج کا ترانہ ہیں ۔
لیکن اے رحمان کے معزز مہمانو! ان کلمات پر غور بھی کر لینا کہ یہ کلمات دراصل کیا ہیں ؟ ان الفاظ کی ادائیگی سے کون سی ادا ظاہر ہونی چاہئے ؟ کسی فلسفے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک دیوانگی کا اظہار ہے جو بندہ اپنے رب کی محبت کے اظہار کے طور پر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اب میں قدم قدم پہ اپنے نفس کی ، اپنی خواہشات کی ، اپنی پسند نا پسند کی نفی کرنے کو تیار ہوں ۔
اللہ کہے : میرے بندے ! حج کی ادائیگی کے لئے تیار ہے ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : یہ بڑا اونچا عمل ہے ۔ اس کی ادائیگی کے لئے مال بھی پاکیزہ (حلال ) ہونا چاہئے ، نیت بھی پاکیزہ (خالص ) ہونی چاہئے ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! مجھے پتہ ہے کہ تجھے مال سے محبت ہے ۔ دیکھ لے ! بڑا خرچہ ہو جائے گا تیرا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھ لے تجھے اپنا گھر بار اور بیوی بچے بھی بہت عزیز ہیں ۔ میری خاطر یہ سب چھوڑنے کو تیار ہو ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : آگے بڑی مشقت ہے ۔ آرام نہیں ملے گا ۔ پیدل بہت چلنا پڑے گا ۔ توتھک جائے گا ۔ برداشت کر لے گا یہ سب ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : گرد و غبار بھی سہنا پڑے گا ۔ گرمی بھی بہت ہو گی ۔ بندہ کہے : میرے اللہ ! قیامت کی گرمی سے بچا لینا ۔ جہنم کی آگ سے بچا لینا ۔ میں حاضر …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اچھا ! چل بھئی پھر اب احرام باندھ لے ۔ اپنے کپڑے اتار کر دو چادریں باندھ لے ۔ (عمرہ کی نیت کر لے ) ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے !میری بندی ! اب بال اور ناخن نہیں کاٹنا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! اب خوشبو نہیں لگانا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اب سر کو مت ڈھانپنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اب بند جوتا نہیں پہننا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! چہرے کو کپڑا مت لگانا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! اب آپس میں میاں بیوی والا تعلق قائم نہ کرنا ۔

وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : بلکہ اب تو اس قسم کی (یعنی شہوت والی ) کوئی بات بھی نہ کرنا ، الفاظ بھی منہ سے نہ نکالنا ، ایک دوسرے کو اس نیت سے چھونا بھی نہیں ۔ وہ کہیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو !اب کوئی گناہ کا کام نہ ہونے پائے ۔ بندے بندیاں جواب دیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو !لڑائی جھگڑا مت کرنا ۔ بندے بندیاں کہیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو ! یہ میرے حرم کی حدود ہیں ۔ ان کی حرمت کا خیال رکھنا ۔ گھاس پتے نہ توڑنا ۔ جوں ٹڈی نہ مارنا۔ شکار نہ کرنا نہ شکار کی طرف رہنمائی کرنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اضطباع کر لے یعنی اپنا دایاں کندھا کھول لے ۔ اور طواف کی نیت کر لے۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک …. 1
اللہ کہے : حجر اسود کا استلام کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….میرے اللہ !تیر ے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پتھر کا بوسہ لیا ۔ میں تیرے حکم اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع میں اس پتھر کا بوسہ لیتا ہوں ۔ بلکہ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کے بوسے کا بھی بوسہ لیتا ہوں ۔{  تیرےبوسے کو بوسہ دیتے ہیں سنگ اسود پر       وگرنہ ہم مسلمانوں کا کیا رکھا ہے پتھر میں}

اللہ کہے : اب میرے گھر کے گرد پروانہ وار (سات )چکر لگاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! شروع کے تین چکروں میں پہلوانوں کی طرح اکڑ اکڑ کر چلو (رمل کرو ) اور آخر کے چار چکر عام انداز سے چل کے پورے کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : کندھا دوبارہ ڈھانپ لو اور میرے گھر کی چوکھٹ (ملتزم ) پر آؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : مقام ابراہیم کے پیچھے جاکر دو رکعت نماز (واجب الطواف ) ادا کرو ۔ ( ایسی جگہ ادا کرو کہ طواف کرنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے تمہیں بھی نماز کی ادائیگی میں تکلیف نہ ہو اورتمہارے نماز پڑھنے سے طواف کرنے والوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔ پوری مسجد مقام ابراہیم کے پیچھے ہے ) بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : زم زم پانی پیو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب صفا مروہ کے درمیان سعی کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! سبز ستونوں کے درمیان دوڑو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : سر کے بالوں کی قربانی دو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب چادریں اتار کر اپنے کپڑے پہن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : جاؤ اب میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہو کر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی …. دیکھو میرے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار کے آداب کا خاص خیال رکھنا ۔ آواز پست رکھنا ۔ زور زور سے نہ بولنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب واپس مکہ آکر عمرہ ادا کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
پھر آٹھ ذی الحج کا دن آن پہنچے اور اللہ کہے : (حج کی نیت سے ) دوبارہ احرام باندھ لو اور (ظہر سے قبل )منیٰ میں پہنچ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : نو ذی الحج کو (زوال آفتاب سے قبل )عرفات کے میدان میں آ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : ظہر عصر کی نماز ملا کر پڑھو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : غروب آفتاب کے بعد اب مزدلفہ کے میدان کو چلو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو ابھی مغرب کی نماز مت پڑھنا ( ہر چند کہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے ) ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک….
اللہ کہے : مزدلفہ کے میدان میں پہنچ کر (عشاء کا وقت ہو جانے کے بعد )مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : رات کھلے آسمان کے نیچے بسر کرنی ہے ۔ سردی بھی لگے گی ۔ گر دو غبار بھی سہنا پڑے گا ۔ نیند بھی قربان کرنی پڑے گی۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : شیطان کو مارنے کے لئے مزدلفہ کے میدان سے کنکریاں چن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دس ذی الحج کی صبح فجر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر مزدلفہ میں ٹھہر کر وقوف مزدلفہ ادا کرو ۔ بندہ کہے…. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب واپس منیٰ کو لوٹ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب جا کے صرف بڑے شیطان کو سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک …. 2
اللہ کہے : چلو اب دم شکرانہ (ذبیحہ ) ادا کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب بال کٹوا لو ۔ بندہ کہے …. میرے اللہ ! تو بال کٹوانے کو کہہ رہا ہے ۔ آج تو میں تیری خاطر سر کٹوانے کو بھی تیا ر ہوں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب چادریں اتار کر عام لباس پہن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندو! دیکھو ! احرام سے تو باہر آ چکے ہو لیکن طواف زیارت سے قبل ازدواجی تعلقات قائم مت کرنا ۔ بندے بندیاں کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب طواف زیارت ادا کرو ۔ صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے: گیارہ ذی الحج کو تینوں جمرات کی رمی کرو یعنی سات سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : بارہ ذی الحج کو تینوں جمرات کی رمی کرو یعنی سات سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! تو نے یہ سب کچھ کر دیا ۔ اب میری باری ہے ! جا میں نے تیرے سارے (صغیرہ و کبیرہ) گناہ معاف کر دئیے ۔بلکہ ان کو نیکیوں سے تبدیل کر دیا۔ بندہ خوشی سے جھومتے ہوئے نعرہ مارے …. ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! دیکھ اب میں نے تجھے پاک صاف کر دیا ۔ اب میری نافرمانی نہ کرنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب آخری کام ۔ طواف وداع ادا کرو ۔ بندہ کی کراہ نکل جائے … کہ اب بیت اللہ سے رخصت کا وقت آن پہنچا ۔ اس کربناک کیفیت میں بھی بندہ یہی کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میں تیرے دل کی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہوں ۔ تو میرے گھر سے جدائی کا رنج نہ کر ۔ میں ہر جگہ تیرے ساتھ ہوں ناں ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! غم نہ کر ! میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبانی تجھے ضمانت دی تھی ناں کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ بس مجھ پر ، میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کے وعدے پر یقین کر لے کہ جنت تیری منتظر ہے ۔ تو عنقریب اس میں داخل ہو نے والا ہے ۔ بندہ کہے :…. لبیک اللہم لبیک ….
اور پھر ایک دن جب بندے کی سانسیں رک جائیں ……. تو اللہ کہے : …. یا ایتھا النفس المطمئنۃ o ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ o فادخلی فی عبادی o وادخلی جنتی o ….
اے اطمینان پانے والی روح ! اپنے رب کی طرف لوٹ چل ، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ۔ تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا ۔ اور میری بہشت میں داخل ہو جا ۔ {الفجر 27-30 }
اور جنت میں داخلے کا پروانہ ملنے کی خوشی میں بندہ نعرہ مارے:…. لبیک اللہم لبیک ….لبیک لا شریک لک لبیک۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

1۔ فقہی حکم یہ ہے کہ عمرہ کے طواف کی نیت کے بعد تلبیہہ پڑھنا بند کر دی جائے۔۔۔ اس سے اگلے مراحل میں ہم نے جو لبیک اللہم لبیک کی تکرار کی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ حاجی کی قلبی کیفیت اور جذبہ وہی رہے ۔۔۔ یعنی خود سپردگی  اور تسلیم و رضا۔

2۔ اسی طرح فقہی حکم کے مطابق دس ذی الحج کو رمی جمار سے قبل تلبیہہ پڑھنا بند کر دی جائے گی۔۔۔ اس سے اگلے مراحل میں ہم نے جو لبیک اللہم لبیک کی تکرار کی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ حاجی کی قلبی کیفیت اور جذبہ وہی رہے ۔۔۔ یعنی خود سپردگی اور تسلیم و رضا۔