Uncategorized

Hasrat

آہ…
پھر وہی ایام!
پھر وہی سالانہ حسرت…

لبیک اللھم لبیک
لبیک لا شریک لک لبیک
ان الحمد و النعمة لک و الملک
لا شریک لک
😥
#Hajj2018

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Pakistan, اخلاقیات

Question

14th August, 2018

Today, my 6yr old daughter was going to her school for the #Independence_Day Celebrations. She was very excited. However, nobody knew how she was thinking about The Day.

On her way, she kept watching outside through the car’s window. Suddenly, she raised a question:

“Mumma! Aaj #Independence_Day hy… Lekin kisi nay Pakistan ko saaf he nahi kiya…
(Mumma! It’s Pakistan’s #Independence_Day today; yet nobody cleaned the country!)

 

#HeartMelt

Behaviors & Attitudes, Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

TABDILI

یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ اس مضمون میں ان امور کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے خیال میں کراچی کی سیاست میں واضح تبدیلی کا باعث بنے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔

یہ جو ووٹ کا رجحان ہے

اس کے پیچھے کپتان ہے

حالیہ انتخابات میں ایم کیو ایم جس ہزیمت کا شکار ہوئی ہےوہ ایم کیو ایم کی قیادت اور اس کے سپورٹرز کے لئے انتہائی غیر متوقع اور نا قابل قبول ہے۔ہماری دانست میں وجوہات بہت سادہ ہیں جن کے سبب کراچی کی مقبول ترین سیاسی جماعت اس قدر عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی، اور پی ٹی آئی نے فقید المثال کامیابی حاصل کی۔

اسّی کی دہائی میں ایم کیو ایم کراچی اور شہری سندھ کے متوسط طبقہ کی جماعت بن کر ابھری۔ شہری اور دیہی سندھ میں تفریق، کوٹہ سسٹم، اردو بولنے والوں سے امتیازی سلوک، ان کے جائز حقوق کی پامالی یہ سب وہ عوامل تھے ، ایم کیو ایم جن کے خلاف احتجاج کے طور پر وجود میں آئی۔ چنانچہ ابتدا ہی سے اسے شاندار پزیرائی حاصل ہوئی۔ الطاف حسین ایک نمایاں لیڈر کے طور پر ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ الطاف حسین خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سپورٹرز کے سامنے ایک انقلابی منشور پیش کیا کہ ایم کیو ایم ان کے حقوق کے لئے کس طرح پارلیمانی جد و جہد کرے گی اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوں گے۔ لوگوں کو ان کا پروگرام قابل عمل نظر آیا۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے جمہوری راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایم کیو ایم نے متعدد انتخابات میں ریکارڈ توڑ کامیابیاں حاصل کیں۔

لیکن ۔۔۔ پچیس برس گزرنے کے بعد بھی خواب خواب ہی رہا۔ پچھلی نسل کے بزرگ خواب کی تعبیر کے انتظار میں قبر کے کنارے تک، اور جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے۔ خواب دکھانے والا پردیس سدھارا۔ پیچھے کارکنان کا جبر شروع ہوا۔ گن پوائنٹ پر چندے فطرے بھتے قربانی کی کھالوں کی وصولی اور جبری ہڑتالیں۔ کاروبار دوکانیں ٹھپ، تعلیمی ادارے بند۔ ظلم و جبر کے خلاف بننے والی جماعت آج خود ظلم و جبر کی علم بردار بن چکی تھی۔ سو پچھلی نسل میں سے بہت سے لوگ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو ئے۔

پھر یہ بھی کہ پردیس سے پارٹی بھلا کب تک چلائی جا سکتی تھی، کب تک متحد و منظم رکھی جا سکتی تھی۔ چنانچہ گزشتہ الیکشن کے بعد سے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو چلی۔ قائد کو مائنس کر دیا گیا۔ پارٹی کے اندر سے ہی کئی دھڑے وجود میں آگئے۔ جب سرکردہ رہنماؤں نے ہی اپنے لیڈر کو خیر باد کہہ دیا تو بھلا ووٹرز کو کیا پڑی تھی تعلق نبھانے کی۔

دوسری طرف ہماری نئی نسل خاموشی سے جوانی کی طرف گامزن تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ کل کے بچے آج شناختی کارڈ ہولڈر ہو چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم نکتہ تھا، کراچی کی دیگر سیاسی جماعتیں جسے مِس کر گئیں۔ دو بچوں کو دیکھ کر تو ہمیں خود حیرت ہوئی کہ اچھا یہ بھی ما شآء اللہ ووٹ ڈالنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس نئی پود کو ایم کیو ایم کا منفی تعارف تھا۔ ادھر عمران خان کی صورت میں ملک کے سیاسی افق پر ایک نیا لیڈر نمودار ہوا جو کہ نئی نسل کو نئے پاکستان کا رومانوی خواب دکھا رہا تھا۔ ادھر تیس برس سے ملکی سیاست پر چند معروف چہرے ہی قابض تھے جنہوں نے قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہ دیا۔ تقریباْ اسی طرح کا ویکیوم اسی طرح کے زمینی حالات موجود تھے جن کے نتیجے میں ایم کیو ایم وجود میں آئی.

کپتان کی سیاست سے ضرور اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہو گی کہ اس نے نئی نسل کو سیاست کی جانب متوجہ کیا، ووٹ کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا. عمران خان نے قومی سطح پر تبدیلی کے خواہشمند افراد کو اپنی جماعت کے ذریعے ایک راہ دکھائی۔ کپتان کا پیش کردہ نئے پاکستان کا خواب اس قدر حسین و دلکش تھا کہ نئی پود ساری کی ساری اس کی جھولی میں جا گری۔ ساتھ ہی پچھلی نسل کے مایوس و بیزار لوگوں نے بھی اپنا وزن ڈالا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سو حیرت کیسی؟

Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

یہی تو ہے وہ اپنا پن

(یہ مضمون الیکشن 2018  سے چند روز قبل لکھا گیا۔ لہذا اسے اسی تناظر میں پڑھا جائے۔ بوجوہ قدرے تاخیر سے یہاں اب شائع کیا جا رہا ہے۔ ؎ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔

 یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ سیاسی اختلاف بہر حال ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے۔)

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

 صاحب! واقعہ یہ ہے کہ اپنوں نے اپنوں کو چاہا تو واقعتاً دم نکال کے رکھ دیا اپنوں کا۔

اپنوں نے اپنوں کے لئے سیاسی جماعت بنائی تو اپنوں نے اپنوں کی جماعت کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ ہر الیکشن میں اپنوں کو ووٹ دیا . بھر بھر کے دیا۔ سالہا سال دیا۔ کیا قومی اسمبلی ، کیا صوبائی اسمبلی ، اور کیا بلدیاتی انتخابات۔ بیلٹ باکس بھر دیئے۔ لاکھوں ووٹ ، اور لاکھوں کے فرق سے کامیابی۔ لیکن جلد ہی اپنوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔

کچھ اپنوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دھتکار دیا گیا۔ جس کے بعد اپنوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ اس پھوٹ کے نتیجے میں اپنے ، اپنوں ہی کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے۔ اپنوں کی اس لڑائی میں اپنوں ہی کا خون بہا اور بہت بہا۔ اپنے شہر کے باسیوں نے ٹارگٹ کلنگ کا تاریک دور دیکھا۔ اپنے ہی جواں سال بچوں کے لاشے اٹھائے ۔ اپنے ہی شہر کے کچھ علاقے اپنوں کے لئے بند ہو گئے۔ نو گو ایریاز وجود میں آئے۔ پہلے سارا شہر اپنا تھا۔ سارے محلے اپنے تھے۔ اب اپنے ہی علاقے پرائے ٹھہرے۔ اپنے، اپنوں سے ملنے کے لئے ترسنے لگے۔

مار دھاڑ کے اس دور کے بعد طاقت پکڑنے والے اپنے ، اپنے ہی شہر پر ، اپنے ہی شہر والوں پر ، اپنے ہی ہم زبانوں پر قابض و حاوی ہوتے چلے گئے۔ بد معاشی اس قدر بڑھی کہ اپنوں سے اپنا حصہ وصولنے پر اتر آئے۔ عید الاضحیٰ آئی تو اپنوں نے اپنوں سے کہا کہ قربانی کی کھالیں اپنوں کو دیجئے۔ اپنوں نے پس و پیش کی تو گن پوائنٹ پر کھالیں چھینی گئیں۔اپنوں کی اس بد معاشی کے باعث بہت سے اپنے، اپنی قربانیاں اپنے گھر پر کرنے کے بجائے مدارس میں کرانے پر مجبور ہو گئے۔ رمضان المبارک آیا تواپنوں نے اپنوں سے زکوٰۃ طلب کی۔ عید الفطر آئی تو فطرے کی پرچیاں پہلے ہی اپنوں کے گھروں دفتروں تک پہنچا دی جاتیں۔ اور پرچیوں کی تعداد کے بقدر فطرہ کی جبری وصولی ہوتی رہی۔

اپنوں سے اپنائیت کی وصولی کا ایک خوفناک طریقہ بے سر و پا ہڑتالیں تھیں۔ آئے دن شہر کو تالا لگوا دیا جاتا۔ اپنوں کے حکم سے انحراف کی کسی اپنے کو اجازت نہ تھی۔ شہر میں کوئی اپنا مارا جاتا یا برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کسی اپنے کے خلاف تحقیقات کرنا چاہتی، نتیجہ ہڑتال۔ لندن سے یا رابطہ کمیٹی سے ایک حکم آنے کی دیر ہوتی۔ سارے یونٹ و سیکٹر انچارج اپنے اپنے علاقوں میں نکل آتے، ہوائی فائرنگ ہوتی ۔۔۔ اور اپنا شہر شٹ ڈاؤن۔ ہر ماہ کئی کئی ہڑتالیں۔ بسا اوقات ایک ایک ہفتہ میں دو دو تین تین ہڑتالیں۔ آن کی آن میں سارا شہر بند۔ ٹرانسپورٹ بند۔ بلکہ اگلے دن کی ہڑتال کی کال اور شہر کو شام سے ہی تالا۔ ارے جو اپنا صبح گھر سے نکلا ہے، وہ شام کو گھر کیسے پہنچے گا، اپنوں کی بلا سے۔ ہر اپنا اپنے گھر والوں کی بخیریت گھر واپسی کے لئے فکر مند اور دعا گو۔ اپنوں کی دوکانیں بند، کاروبار بند۔ اپنوں کی گاڑیاں نذر آتش۔ اپنوں کی دوکانیں نذر آتش۔ اپنوں کی فیکٹریاں نذر آتش۔ اور کہیں فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور بھی نذر آتش۔ اپنے ہی بچوں کے تعلیمی ادارے بند۔ اپنوں کے گھروں میں لاشے۔ اپنوں کے گھروں میں فاقے۔ اپنے بچے تعلیم سے دور، گٹکا اور مین پوری تھوکنے پر مسرور۔ ایک طرف اپنوں کے بازار کاروبار بند ، دوسری طرف اپنوں ہی سے قربانی کی کھالیں ، چندے فطرے زکوٰۃ کی بھتے کی طرح وصولی۔ کمائے گا نہیں تو کھلائے گا کہاں سے؟ اپنوں کی بلا سے۔

باہر سے آنے والے اس شہر میں کھپ گئے، پنپ گئے۔ ان کی دوکانیں جم گئیں۔ ان کے کاروبار چمک گئے۔ کپڑے کا کاروبار دیکھئے، اکثر دوکانیں پٹھانوں کی ہیں۔ رابی سینٹر ہو یا سمامہ شاپنگ سینٹر ۔ پٹھانوں کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسری قومیت کا بندہ نظر آئے۔ پورے پورے بازار پٹھان چلا رہے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ بھی پہلے پٹھان ہی چلا رہے تھے اور خوب چلا رہے تھے۔ ان کی منی بسیں بند ہوئیں تو آج سرائیکی المعروف ریاستی رکشے چلا رہے ہیں۔ اپنے شہر کے بچے ہی کچھ نہ کر پائے۔ جنہوں نے پاکستان بنایا اور پھر محدود وسائل کے باوجود نوزائیدہ مملکت کو کامیابی سے چلا کے دکھایا، ان کے اپنے بچے اس قدر ناکارہ ہرگز تو نہیں ہو سکتے!

تیس سال سے شہر پر قابض اپنوں کو نہ شہر میں لوڈ شیڈنگ نظر آئی نہ کچرا، نہ ٹرانسپورٹ نہ شہر کے دیگر مسائل۔ درمیان میں مصطفیٰ کمال نہ آتا تو اپنوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اپنوں کے لئے۔ آج وہ بھی اپنوں سے ناطہ توڑ بیٹھا ہے۔ جو اپنے کسی اور جماعت میں تھے، وہ غیر ٹھہرے۔ غیروں نے کے الیکٹرک کی دھاندلیوں کے خلاف نیپرا اور دیگر فورمز پر اپنوں کا مقدمہ لڑا اور خوب لڑا۔ ہر فورم پر لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کے خلاف آواز بلند کی۔

واٹر بورڈ میں تو الا ماشآء اللہ سارے ہی اپنے بیٹھے ہیں۔ ان کی مہربانی سے شہر کے بیشتر علاقے پانی کو ترس رہے ہیں۔ اپنے عارف علوی نے واٹر پالیسی پیش کی تو اپنوں کو بھی اپنا سمندر یاد آیا ۔ کہ اس کے پانی کو ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ذریعے میٹھا کر کے پانی کی قلت کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ارے تیس سالوں سے کیا کر رہے تھے؟

قصہ مختصر بہت لمبی کہانی ہے اپنے پن کی۔ آج 2018 کا الیکشن آیا تو کہتے ہیں، اپنوں کا ووٹ اپنوں کے لئے۔۔۔ کام تو اپنے ہی آتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

وقت آ گیا ہے کہ اپنوں کو اپنائیت کا بھرپور گرم جوشی سے جواب دیا جائے۔