Hunh! Hamen to kisi nay poocha hi nahi…

ہونہہ! ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں …

از۔۔۔ ابو شہیر

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ یعنی وہ دس صحابہ ؓ، جن کو دنیا ہی میں زبان رسالت ﷺ سے جنت کی بشارت عطا ہوئی ۔ان  کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا نکاح کر لیا ہے ؟

کہا: جی ہاں ۔

دریافت فرمایا: کس سے ؟

جواب دیا: ایک انصاری عورت سے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : اسے مہر کتنا دیاہے ؟

انہوں نے کہا :ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔

حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار چوٹی کے مالدار صحابہ ؓ میں ہوتا تھا۔ دولت ان پر برستی تھی ۔ مکے سے خالی ہاتھ آئے تھے لیکن جب ان کے انصاری بھائی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال ان کو پیش کیا تو انہوں نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کر لی اور دعا دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بازار کا راستہ بتا دیجئے ۔ یوں انہوں نے مدینہ منورہ میں تجارت کا آغاز کیا جو کہ بعد ازاں اتنی وسعت اختیار کر گئی کہ ان کا تجارتی مال سینکڑوں اونٹوں پر لد کر باہر جاتا اور اسی طرح باہر سے آتا ۔ تجارت کے علاوہ زراعت بھی وسیع پیمانے پر کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت کے ساتھ ساتھ دل کے بھی غنی تھے۔ اپنی دولت راہ خدا میں بے دریغ خرچ فرمایا کرتے تھے ۔ ابن اثیر کے مطابق حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو بار چالیس چالیس ہزار دینار راہ خدا میں وقف کئے ۔ ایک مرتبہ جہاد کے موقع پر پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ حاضر کئے ۔ سورۃ برأۃ کے نزول کے موقع پر چار ہزار درہم پیش کئے ۔ ایک مرتبہ اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینا ر میں فروخت کی اور یہ ساری رقم فقراء ، اہل حاجت اور امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک مرتبہ شام سے تجارتی قافلہ لوٹنے پر رسول اکرم ﷺ کا یہ قول سنا کہ عبد الرحمٰن ابن عوف ؓ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گےتو پورا قافلہ راہ خدا میں وقف کر دیا ۔ ابن سعدؒ کے مطابق ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کر کے ساری رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک اور موقع پر ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمان غنی ؓ کو فروخت کر کے وہ رقم بھی راہ خدا میں وقف کر دی ۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی میں ہزاروں غلام اور لونڈیاں آزاد کیں ۔

وفات کے وقت جو ترکہ پیچھے چھوڑا اس میں کثیر جائیداد کے علاوہ ١ ہزار اونٹ،٣ ہزار بکرياںاور سو گھوڑے چھوڑے ۔ ٢٠ اونٹ ان کی جرف کی زمينيں سيراب کرتے تھے۔ سونا اتنا تھا کہ اسے کلہاڑی سے کاٹا گيا اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں ميں آبلے پڑ گئے۔ عبدالرحمان کی ٤ بيواؤں ميں سے ہر ايک کو ٨٠ ہزار دينار ملے۔ ٥٠ ہزار ديناران کی وصيت کے مطابق مسافروں کو ديے گئے۔ جنگ بدر ميں حصہ لینے والے ہر صحابی کے ليے انھوں نے ٤٠٠ دينار کی وصيت کی تھی ، جن کی تعداد ١٠٠ تھی ۔ امہات المومنين کے ليے ایک باغ کی وصیت کی جو ٤ لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔ اپنے غلاموں ميں سے بيشتر کو انھوں نے آزاد کر ديا تھا۔ یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ    کی دولت کا مختصر سا جائزہ ہے ، جس سے بخوبی ظاہر ہے کہ وہ اپنے وقت کے کروڑ پتی آدمی تھے ۔ اتنے بڑے رئیس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا … تو اتنی سادگی سے  … کہ وقت کے نبی رسول اکرم ﷺ تک کو بھی مدعو نہیں کیا ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول پاک ﷺ سے کس قدر محبت تھی ، یہ جاننے کے لئے سیرت مبارکہ کے دو واقعات دیکھ لیتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی کفار کے نمائندے بن کر آئے تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ آپ ؐ کے وضو کا پانی تک زمین پر گرنے نہیں دیتے اور لے لے کر ہاتھوں اور چہروں پر مل لیتے ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ حضرت ام سلیم ؓ کے گھر میں آرام فرما رہے تھے ۔ گرمی کے باعث آپؐ کے جسم اطہر سے پسینہ ٹپک رہا تھا ۔ حضرت ام سلیم ؓ نے وہ پسینہ ایک بوتل نیچے رکھ دی اور پسینہ اس میں جمع ہونے لگا۔ حضور ﷺ کی آنکھ کھلی تو پوچھا کہ ام سلیم کیا کر رہی ہو۔ کہا آپ کا پسینہ مبارک جمع کر رہی ہوں۔ بعد میں جب اس پسینے کو چھڑکتیں تو پورا گھر مہک اٹھتا کہ حضور ﷺ کا پسینہ مبارک بھی معطر اور خوشبودار ہوتا تھا۔

تو رسول اللہ ﷺ سے تمام تر محبت کے باوجود حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے نکاح میں آپ ﷺ کو دعوت نہ دی ۔ بعد ازاں جب رسول اللہ ﷺ نے زرد رنگ کے نشانات دیکھے تو استفسار فرمایا کہ کیا نکاح کر لیا ہے ؟ جس کے بعد دونوں حضرات کے مابین درج بالا مکالمہ ہوا ۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعو نہ کئے جانے پر کسی قسم کی کوئی شکایت نہ کی ۔

بڑے دعوے کرتے ہیں ہم رشتہ داروں سے محبت کے ۔ لیکن جب ہمارا کوئی رشتہ دار ہمیں کسی وجہ سے اپنے ہاں کی تقریب میں مدعو نہ کرے تو ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے ؟ منہ بسور کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ناراض ہو جاتے ہیں۔ لڑ پڑتے ہیں۔ حد تو یہ کہ قطع تعلق کر بیٹھتے ہیں۔

“ہونہہ ! ہمیں تو کسی نے بلایا ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی نے اس قابل ہی نہیں سمجھا ۔ناک کٹ گئی ہماری ۔ لعنت ہو ایسی رشتہ داری پر۔  دفعہ کرو ایسے رشتہ داروں کو ۔ “

سوال یہ ہے کہ ہم اپنے رشتہ داروں سے جس قدر شدید محبت کے دعوے کیا کرتے ہیں …کیاہماری محبت اس محبت سے زیادہ … یا اس کے برابر ہے …یا ہو سکتی ہے … جو  صحابہ کرام ؓ اور رسول اللہ ﷺ نے درمیان تھی ؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہم صحابہ کرام ؓ اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے جتنے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے ہیں … کیا ہمارے گھروں کی شادیاں اتنی سادگی اور اتنی خاموشی سے ہو سکتی ہیں ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہمارا کوئی رشتہ دار سنت کی پیروی میں شادی ایسی “سادی “کر لے تو … کیا ہمارے لئے اس کا یہ عمل قابل قبول یا قابل برداشت ہوتا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنی کسی مجبوری کے تحت ہمیں مدعو نہ کرے  تو …  کیا ہمارا رد عمل سنت نبوی ﷺ سے مطابقت یا مشابہت رکھتا ہے ؟

Aik Jasarat

ایک جسارت

از۔۔۔ ابو شہیر

الیکشن سے دو دن قبل یعنی 9 مئی 2013 ؁ کو ہمارے ایک بزرگ ہمارے گھر تشریف لائے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ دوران گفتگو والدہ نے سوال کیا کہ

ووٹ کس کو دیں گے؟”

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا : “ایم کیو ایم۔ ۔۔بقا کا معاملہ ہے۔ “

ان کا جواب سن کر سخت حیرت ہوئی۔ جی میں تو آئی کہ ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں ، ان کو احساس دلائیں کہ آپ کا یہ عمل آپ کی آخرت کے اعتبار سے کس قدر خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ، لیکن پھر ساتھ ہی وہ تلخ رویے یاد آئے ،  ماضی میں اس قسم کی جسارتوں پر جن کا سامنا کرنا پڑا ۔ سو فوری طور پر کوئی جواب نہ بن پڑا۔

بزرگوار تو یہ کہہ کر کچھ دیر میں چلے گئے لیکن ہمیں ایک اضطراب ، ایک کرب میں مبتلا کر گئے۔ یقیناً آپ یہ جاننا چاہ رہے ہوں گے کہ بزرگوار کے جواب پر ہمارے اس درجہ مضطرب ہوجانے کی وجہ کیا تھی ؟ تو چلئے پہلے اس کا جواب دیئے دیتے ہیں۔

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری اصل شناخت ، اصل پہچان اسلام ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں ، دیگر جو کچھ بھی ہیں اس کے بعد ہیں ۔ اس مسلمانی کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں ، جن سے انحراف و روگردانی کرنے کی صورت میں خدانخواستہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً عصبیت کے بارے میں حدیث رسول ﷺ ہے:

“لیس منا من دعا الی عصبیة ، ولیس منا من قاتل عصبیة ، ولیس منا من مات علی عصبیة”۔ (رواہ ابوداؤد‘ مشکوٰة:۴۱۸)

مفہوم: جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو عصبیت کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔یعنی عصیبت کی طرف بلانے والے سے نبی اکرم نے اعلان بریت کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر کئی سیاسی جماعتوں کی طرح ایم کیو ایم  بھی لسانیت کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ، اور لسانیت عصبیت ہی کی ایک شکل ہے۔

لسانیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ایم کیو ایم کے ابتدائی دور کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ اس کا آغاز بہت عمدہ تھا اور واقعتاً یہ ایک تحریک بن کر ابھری۔ جماعت کی تنظیم کی اگر بات کی جائے تو وہ بھی مثالی تھی اور آج بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ اس جماعت نے نوجوان طبقے کو بہت زیادہ متاثر کیا اور نوجوان قیادت کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا ۔ عظیم احمد طارق جیسے جواں سال لیڈر کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ نوجوان کارکن جس طرح اپنے قائد کے جانثار بنے ، جلسوں میں جو شاندار نظم و ضبط کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، جس طرح قائد کی ایک آواز پر جلسہ گاہ میں خاموشی طاری ہو جایا کرتی ہے ، وہ درحقیقت اس جماعت کا ایک امتیازی وصف ہے ۔ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسا نوجوان میئر نصیب ہوا جس نے اپنی انتھک محنت اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محض چار برسوں میں اس شہر کی کایا پلٹ دی ۔ قائد تحریک الطاف حسین کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی ۔ جن کے ایک اشارے پر تنظیم کے کارکن کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ الطاف حسین ہی کی بصیرت تھی جس نے مصطفیٰ کمال میں چھپی صلاحیتوں کو پہچانا ورنہ مصطفیٰ کمال کو کون جانتا تھا ؟

جس جماعت کو ایسے جانثار اور مخلص کارکن میسر ہوں وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی تھی !لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ یہ جماعت ان تاریک راہوں کی جانب چل نکلی جن پر سفر نے اسے آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اپنے بھی خفا ہیں اور بیگانے بھی ناخوش ۔ ایم کیو ایم جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم لے کر کھڑی ہوئی تھی لیکن بد قسمتی سے آج خود ایک جاگیردار جماعت کا روپ دھار چکی ہے۔ فیوڈل ازم سے نفرت کرنے والی اس جماعت کے اطوار و افکار میں آج خود فیوڈل ازم واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ بات بے بات ہڑتالیں کرنے میں یہ جماعت اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اردو بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار اس جماعت کے مختلف اقدامات سے آج اردو بولنے والوں ہی کا شدید استحصال ہو رہا ہے ۔ شہر کراچی کی آبادی کا بیشتر حصہ اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور شہر کے بیشتر علاقے اردو بولنے والوں کا مسکن ہیں۔ ہم خود بھی اردو بولنے والے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ہڑتالوں کے سبب کاروبار زندگی معطل ہوجانے سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے یقیناً کوئی راکٹ سائنس درکار نہیں۔صرف الیکشن سے قبل ماہ مئی کے ابتدائی ہفتے کا جائزہ لیں تو اس دوران تین مرتبہ شہر کراچی بند ہوا اور الیکشن کے بعد سے اب تک متعدد بار شہر بند کرایا جا چکا ہے ۔تاہم طریقہ واردات میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ لندن یا رابطہ کمیٹی کی جانب سے ایک یوم سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر دوکانیں اور کاروبار بند رکھیں۔ اور اس رضاکارانہ یوم سوگ ، اور عوام کا ایم کیو ایم سے اظہار یک جہتی وغیرہ کی حقیقت بھی اب سب پر پوری طرح عیاں ہو چکی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں کے باعث ان پر اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے ۔ کاروباری طبقے سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں سے ان کو کہاں کہاں کتنا کتنا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

اختلاف رائے اس جماعت کو برداشت نہیں ہے ۔ آپ اس کے قائد کی جانب انگلی اٹھا کے دیکھیں ، یہ آپ کا بازو کیا ، گردن مروڑنے پر اتر آئے گی ۔ ایم کیو ایم کی قیادت دینی طبقے سے بھی شدید بیزار معلوم ہوتی ہے ۔ خود اس جماعت کے کارندے کلاشنکوفیں لے کر دندناتے اور شہر بند کراتے پھرتے ہیں ، لیکن اگر کوئی اسلام پسند فحاشی کے اڈے بند کرانے کے لئے ڈنڈہ اٹھالے تو یہ پورے شہر میں “ڈنڈہ بردار کلاشنکوفی شریعت نامنظور “کے بینرز کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اس کھلی غنڈہ گردی کے باوجود بھی میڈیا ان کی طرف براہ راست نشاندہی کرنے سے عاجز ہے اور ساری فرد جرم “نا معلوم افراد “پر عائد کر دی جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا! قربانی کی کھالوں کی چھینا جھپٹی اور زور زبردستی سے شروع ہونے والا سلسلہ آج یہاں تک دراز ہو چکا ہے کہ ووٹ بھی گن پوائنٹ پر لئے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کے ثبوت کے طور پر حالیہ الیکشن کے بعد کی چند ویڈیوز ہی دیکھ لیجئے ۔ الیکشن میں دھاندلی اور جعلی ووٹنگ کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جب یہ جماعت ایک بار پھر کراچی کی بیشتر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو اگلے روز لندن سے ویڈیو خطاب میں جماعت کے قائد الطاف حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں فرمایا کہ “اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کی عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو پھر کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کر دیجئے “۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان جب اس دھاندلی کے خلاف مظاہرے کے لئے تین تلوار چورنگی پر اکٹھے ہوئے تو ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ تین تلوار پر جو لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں، بہت شو بازی کر رہے ہیں ، میں لڑائی جھگڑا چاہتا نہیں ہوں ورنہ تو ابھی اپنے کارکنوں کو حکم دوں تو وہ تین تلواروں کو اصلی تلواروں کی شکل دے دیں گے” ۔ اسی طرح سے میڈیا کے مختلف اینکر پرسنز کو ٹھونک دینے والا بیان بھی سب کو یاد ہی ہو گا۔ اس شر انگیزی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے مختلف ترجمان مثلا ً رضا ہارون وغیرہ اپنے قائد کے ان فرامین کی عجیب و غریب تاویلیں اور توجیہات بھی پیش کر رہے تھے ۔

درج بالا تمام عوامل کو بالفرض نظر انداز کر بھی دیا جائے تو ایک نہایت سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت کے قائد الطاف حسین قادیانیوں کے بارے میں بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کبھی وہ مرزا طاہر کی موت پر افسردہ و رنجیدہ نظر آتے ہیں تو کبھی مرزا مسرور کی ماں کی موت پر تعزیتی پیغام جاری فرماتے اور دعائے مغفرت فرماتے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں انہوں نے مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے جن خیالا ت کا اظہار فرمایا ، وہ آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایسی جماعت کو ووٹ دینا ، اس کو سپورٹ کرنا ، اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا ، مظلوموں کی آہیں لینے کا ساتھ ساتھ ہماری دانست میں ایمان کے بنیادی تقاضوں کی بھی خلاف ورزی ہے جو اخروی خسارے کا بھی باعث بن سکتی ہے ۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے تفصیل سے بحث کی ہے جس کے آخر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں :

“خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے ۔ ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت ۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے ، اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نا اہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی ، اور اس کے تباہ کن ثمرا ت بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ “

تو قارئین ! یہ تھیں ہمارے کرب و اضطراب کی وجوہات۔ ہمارے وہ بزرگ ہم سے اور ہم ان سے محبت کے دعوے دار ہیں، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص سے محبت کا حقیقی اظہار یہ ہے کہ اسے نقصان سے بچایا جائے ، اور سب سے بڑا اور حقیقی نقصان تو آخرت کا ہے ۔ انہیں شاید اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ایم کیو ایم کو ووٹ دے کر وہ درحقیقت ایم کیو ایم کے متوقع جرائم میں شریک ہو جائیں گے جس پر آخرت میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ دماغ مسلسل اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا کہ ان تک پیغام کس طرح اور کن الفاظ میں پہنچایا جائے ۔ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ہماری اس جسارت کو گستاخی پر محمول نہ کر لیں، کہیں وہ برا نہ مان جائیں، کہیں ناراض نہ ہو جائیں ۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ صرف بزرگوار ہی پر کیا موقوف، اور بھی نجانے کتنے لوگ اپنا اپنا ووٹ ایسی ہی کسی جماعت کو دینے کا سوچے بیٹھے ہوں ۔ تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دینی فریضے کو مد نظر رکھتے ہوئے کافی غور و خوض کے بعد موبائل فون پر ایک پیغام ترتیب دیا اور بزرگوار کے ساتھ ساتھ فون کونٹیکٹس میں محفوظ دیگر نمبرز پر بھی ارسال کر دیا ۔  

ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھئے گا کہ …

-شرعی طور پر ووٹ کی حیثیت شہادت یعنی گواہی کی ہے …. تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ کا ووٹ کسی فاسق و فاجر شخص / جماعت کے حق میں گواہی تو نہیں بن رہا ؟

پاکستان ایک وعدے کے تحت حاصل کیا گیا تھا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام … تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ جس کو ووٹ دے رہے ہیں وہ شخص / جماعت اس عہد کے برخلاف نظریات کی حامل تو نہیں ۔

-یہ مت بھولئے گا کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں آخرت کا ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے اس ووٹ کا کیا جواز پیش کریں گے؟

اگلے روز ان کا جواب موصول ہوا کہ … تمہارا پیغام بہت پر اثر تھا ، جس نے مجھے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔

اللہ اکبر ! ہمیں ایک قلبی سکون و طمانیت محسوس ہوئی کہ ہمارے ان بزرگ نے ہمارے پیغام کو اہمیت دی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائی ۔ درحقیقت یہ ان کا بڑا پن ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ ناراض ہوئے نہ برہم ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہمارے دل میں ان کی عزت و تکریم مزید بڑھ گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کار خیر کی توفیق ، فہم ، جرات اور حوصلہ عطا فرمایا ۔

جو افراد بھی ایم کیو ایم (یا ایسی ہی کسی اور جماعت )سے وابستگی یا اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ وہ بھی ہماری درج بالا گزارشات پر غور فرمائیں اور ایک بار مسلمان بن کر ضرور سوچیں ۔۔۔ یا تو تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے باطل نظریات پر نظر ثانی کرے یا پھر اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے ۔

کراچی کی عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک اس جماعت کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی، کب تک ہڑتالوں اور یوم سوگ کے نام پر کاروبار اور دوکانیں بند کرتی رہے گی؟ کراچی کی عوام کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ آیا وہ مظلوم ہے ظالم ؟ کہ ظالم کو ظلم سے نہ روکنے والا یا ظلم میں ہاتھ بٹانے والا بھی ظالم ہے۔

آخر میں ہم یہ کہتے چلیں کہ ہمیں اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ ہم نے یہاں اصلاح احوال کی جو کوشش کی ہے ، اس کو غلط معنوں میں لئے جانے یعنی ہماری اس جسارت کو گستاخی سمجھے جانے کا خاصا امکان ہے ، جس کے بعد ہمیں بھی کڑے رد عمل اور تنقید کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ٹھونک دینے پر اتر آئے … لیکن کیا کیجئے …. مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ !

اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ ، و ارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

حوالہ جات:

کراچی کو الگ کر دیجئے  ، اور پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=1nHwERmyTrM

اینکر پرسنز کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=9mSENwP4EMo

ووٹ کی شرعی حیثیت

http://urdulook.info/forum/showthread.php?6986-%D9%88%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA!

Anay walay dino ka aik khaka…

آنے والے دنوں کا ایک خاکہ

از۔۔۔ ابو شہیر

ایک بار پھررمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔

ایک بار پھر شہر میں تراویح کے شارٹ پیکیجز کے بینرز جا بجا سجا دیئے جائیں گے ۔

ایک بار پھر رویت ہلال پر فضیحتہ ہو گا ۔ پھر ملک کے ایک مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی روزوں کا آغاز کر کے قومی و ملی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیں گے۔

ایک بار پھر ٹی وی چینلز پر رویت ہلال کے حوالے سے طویل و لا حاصل مباحثے دیکھنے کو ملیں گے۔

ایک بار پھر رویت ہلال کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر بہت سے اولو العزم افراد تین روزہ اور چھ روزہ تراویح پڑھ کر باقی مہینے کے لئے فارغ ہو جائیں گے ۔

ایک بار پھر اوقات سحر میں بعض مساجد سے اعلانات بلند ہوں گے کہ حضرات اس وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہو رہے ہیں۔ آپ حضرات جلد از جلد سحری کھا کر فارغ ہو جائیں۔ سحری کا انتہائی وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہے ۔

ایک بار پھر روزہ خوری انجوائے کرنے والے بصد اہتمام روزی خوری انجوائے کریں گے ۔ دفاتر اور جائے کاروبار میں اس مقصد کے لئے الیکٹرک کیٹل ، ٹی بیگز اور خشک دودھ کا اسٹاک کر لیا جائے گا۔ چھوٹے کو حلوائی کی دوکان پر بھیج کر سموسے منگوا لئے جائیں گے جہاں صبح گیارہ بجے سے ہی سموسے تلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہو گا ۔ یہ نہ بھی ہوا تو بیکریاں زندہ باد۔ سگریٹ پان بھی خاطر خواہ مقدار میں رات کو ہی جمع کر لئے جائیں گے تاکہ دن کے اوقات میں پریشانی نہ ہو ۔

ایک بار پھر پھلوں اور سبزیوں کے نرخ بڑھا دیئے جائیں گے ۔ بد تر سے بد تر کوالٹی کے پھل کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہو گی ، لیکن خریدار پھر بھی خرید رہے ہوں گے ۔ تاہم ساتھ ساتھ ریڑھی والے کو بے بھاؤ کی بھی سنا رہے ہوں گے ۔

ایک بار پھر بے صبری کے مناظر اپنے عروج پر ہوں گے ۔ بالخصوص شام کے اوقات میں دفتر اور کاروبار سے لوٹنے والوں کی کیفیت وہی ہو گی کہ بس میں نکل جاؤں، دنیا جائے بھاڑ میں۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں پھر ٹریفک جام کے مناظر نظر آئیں گے ۔پھر سڑکوں پر ٹریفک درہم برہم نظر آئے گا ۔

ایک بار پھر سڑکوں پر لوگ لڑائی جھگڑا ، ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کرتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر موسیقی کے دلدادہ لوگ جو سارا سال ہندوستانی فلمی گانوں سے  لطف اندوز ہوتے رہے ، رمضان کے احترام میں قوالیوں سے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر رمضان عمرہ سیزن کے نام پر ٹریول ایجنٹ عازمین عمرہ کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر گلی محلوں میں رمضان ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ اور نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرائے جائیں گے۔

ایک بار پھر خواتین پورا پورا دن ٹی وی چینلز کے  کوکنگ پروگرامز  دیکھتی، ان میں بتائی جانے والی نت نئے پکوانوں کی تراکیب ذہن نشین کرتی اور شام کو کچن میں ان پر عملدرآمد کرتی نظر آئیں گی۔

ایک بار پھر افطاری میں خوش خوراکی کے مناظر نظر آئیں گے ۔ لذت کام و دہن کی اشیاء حلق تک بھر لینے کے بعد لوگ تراویح میں ڈکاریں مارتے نظر آئیں گے۔ اسی طرح بہت سے نمازی دوران نماز جھولے جھولتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر دوران تراویح  بہت سے نمازی امام صاحب کے رکوع میں جانے کے انتظار میں بیٹھے نظر آئیں گے اور جونہی امام صاحب رکوع میں جائیں گے یہ جلدی سے نیت باندھ کر رکوع میں شامل ہو جائیں گے ۔ اور یوں ایک ٹکٹ میں دو مزے ہو جائیں گے یعنی تراویح کی تراویح  اور آرام کا آرام۔

ایک بار پھر ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ تراویح میں نمازیوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی ۔ لیکن ختم قرآن والی شب ایک بار پھر نمازیوں کی ایک بھرپور تعداد نظر آئے گی۔

ایک بار پھر اعتکاف میں معتکفین اپنا پورا پورا بیڈروم اٹھا کر مسجد میں ڈیرہ ڈال لیں گے ۔

ایک بار پھر معتکفین مسجد کے واش روم میں جا جا کر سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہوا کریں گے ۔

ایک بار پھر عید کے چاند کی رویت پر فضیحتہ ہو گا ۔ اور پھر ملک کے اسی مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی عید منا کر ایک بار پھر قومی و ملی یکجہتی کو پرزے پرزے کر دیں گے ۔

ایک بار پھر میڈیا پر رویت ہلال کے مسئلے پر طویل و لا حاصل مباحثے گرم ہو جائیں گے۔

ایک بار پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات المعروف “چاند رات ” کو نوجوان لڑکے بازاروں میں اپنی نظروں کی تسکین کا سامان کرنے پہنچ جائیں گے ۔

ایک بار پھر اسی انعام کی رات میں خواتین ہاتھوں پر مہندی لگوانے کے لئے یا چوڑیاں پہننے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے بیٹھی ہوں گی ۔

ایک بار پھر مساجد ویران ہو جائیں گی۔

اور ایک بار پھر سال بھر کے دوران نمازوں میں نمازیوں کی وہی گنی چنی تعداد نظر آیا کرے گی جو کہ جمعۃ المبارک کے علاوہ نظر آیا کرتی ہے۔

قارئین کرام!

غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ تاہم گزشتہ برسوں میں ہم نے وطن عزیز میں رمضان المبارک کے دوران جس قسم کے مناظر دیکھے ہیں ، ان کی روشنی میں ہم نے آئندہ رمضان المبارک کا ایک خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ماہ مبارک میں یہ سب کچھ یا ایسا بہت کچھ نہ ہو۔