Behaviors & Attitudes, media, Pakistan, Politics, Social, Uncategorized, پاکستان, اخلاقیات

Media ki Makhi

میڈیا کی مٙکھی

اشفاق احمد لکھتے ہیں…
میں نے تائے سے کہا: تایا سن میں تمہیں ایک کام کی بات بتاتا ہوں – وہ بڑے تجسس سے میری طرف دیکھنے لگا – میں نے اسے بتایا کہ یہ جو مکھی ہوتی ہے اور جسے معمولی اور بہت حقیر خیال کیا جاتا ہے یہ دیکھنے اور بینائی کے معاملے مین تمام کیڑوں سے تیز ہوتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں میں تین ہزار محدب شیشے یا لینز لگے ہوتے ہیں اور یہ ہر زاویے سے دیکھ سکتی ہے – اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بھی اور جس طریقے سے بھی اس پر حملہ آور ہوں ، یہ اڑ جاتی ہے – اور اللہ نے اسے یہ بہت بڑی اور نمایاں خصوصیت دی ہے –

اب میں سمجھ رہا تھا کہ اس بات کا تائے پر بہت رعب پڑے گا کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے کمال کی بات تھی لیکن تایا کہنے لگا:

” لکھ لعنت ایسی مکھی تے جندیان تن ہزار اکھاں ہوون او جدوں وی بہندی ائے گندگی تے بہندی ائے “

(ایسی مکھی پر لعنت بیشمار ہو جس کی تین ہزار آنکھیں ہوں اور وہ جب بھی بیٹھے گندگی پر ہی بیٹھے)

آج کل میڈیا جس رویہ کا مظاہرہ کر رہا ہے یہ مثال اس پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے… تین ہزار محدب عدسوں کی مانند ایچ ڈی کیمرے… لیکن اصل ایشوز کے بجائے نان ایشوز پر گھنٹوں کے مباحثے اور ٹاک شوز…
تف ہے ایسے میڈیا پر…

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

TABDILI

یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ اس مضمون میں ان امور کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے خیال میں کراچی کی سیاست میں واضح تبدیلی کا باعث بنے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔

یہ جو ووٹ کا رجحان ہے

اس کے پیچھے کپتان ہے

حالیہ انتخابات میں ایم کیو ایم جس ہزیمت کا شکار ہوئی ہےوہ ایم کیو ایم کی قیادت اور اس کے سپورٹرز کے لئے انتہائی غیر متوقع اور نا قابل قبول ہے۔ہماری دانست میں وجوہات بہت سادہ ہیں جن کے سبب کراچی کی مقبول ترین سیاسی جماعت اس قدر عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی، اور پی ٹی آئی نے فقید المثال کامیابی حاصل کی۔

اسّی کی دہائی میں ایم کیو ایم کراچی اور شہری سندھ کے متوسط طبقہ کی جماعت بن کر ابھری۔ شہری اور دیہی سندھ میں تفریق، کوٹہ سسٹم، اردو بولنے والوں سے امتیازی سلوک، ان کے جائز حقوق کی پامالی یہ سب وہ عوامل تھے ، ایم کیو ایم جن کے خلاف احتجاج کے طور پر وجود میں آئی۔ چنانچہ ابتدا ہی سے اسے شاندار پزیرائی حاصل ہوئی۔ الطاف حسین ایک نمایاں لیڈر کے طور پر ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ الطاف حسین خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سپورٹرز کے سامنے ایک انقلابی منشور پیش کیا کہ ایم کیو ایم ان کے حقوق کے لئے کس طرح پارلیمانی جد و جہد کرے گی اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوں گے۔ لوگوں کو ان کا پروگرام قابل عمل نظر آیا۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے جمہوری راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایم کیو ایم نے متعدد انتخابات میں ریکارڈ توڑ کامیابیاں حاصل کیں۔

لیکن ۔۔۔ پچیس برس گزرنے کے بعد بھی خواب خواب ہی رہا۔ پچھلی نسل کے بزرگ خواب کی تعبیر کے انتظار میں قبر کے کنارے تک، اور جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے۔ خواب دکھانے والا پردیس سدھارا۔ پیچھے کارکنان کا جبر شروع ہوا۔ گن پوائنٹ پر چندے فطرے بھتے قربانی کی کھالوں کی وصولی اور جبری ہڑتالیں۔ کاروبار دوکانیں ٹھپ، تعلیمی ادارے بند۔ ظلم و جبر کے خلاف بننے والی جماعت آج خود ظلم و جبر کی علم بردار بن چکی تھی۔ سو پچھلی نسل میں سے بہت سے لوگ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو ئے۔

پھر یہ بھی کہ پردیس سے پارٹی بھلا کب تک چلائی جا سکتی تھی، کب تک متحد و منظم رکھی جا سکتی تھی۔ چنانچہ گزشتہ الیکشن کے بعد سے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو چلی۔ قائد کو مائنس کر دیا گیا۔ پارٹی کے اندر سے ہی کئی دھڑے وجود میں آگئے۔ جب سرکردہ رہنماؤں نے ہی اپنے لیڈر کو خیر باد کہہ دیا تو بھلا ووٹرز کو کیا پڑی تھی تعلق نبھانے کی۔

دوسری طرف ہماری نئی نسل خاموشی سے جوانی کی طرف گامزن تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ کل کے بچے آج شناختی کارڈ ہولڈر ہو چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم نکتہ تھا، کراچی کی دیگر سیاسی جماعتیں جسے مِس کر گئیں۔ دو بچوں کو دیکھ کر تو ہمیں خود حیرت ہوئی کہ اچھا یہ بھی ما شآء اللہ ووٹ ڈالنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس نئی پود کو ایم کیو ایم کا منفی تعارف تھا۔ ادھر عمران خان کی صورت میں ملک کے سیاسی افق پر ایک نیا لیڈر نمودار ہوا جو کہ نئی نسل کو نئے پاکستان کا رومانوی خواب دکھا رہا تھا۔ ادھر تیس برس سے ملکی سیاست پر چند معروف چہرے ہی قابض تھے جنہوں نے قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہ دیا۔ تقریباْ اسی طرح کا ویکیوم اسی طرح کے زمینی حالات موجود تھے جن کے نتیجے میں ایم کیو ایم وجود میں آئی.

کپتان کی سیاست سے ضرور اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہو گی کہ اس نے نئی نسل کو سیاست کی جانب متوجہ کیا، ووٹ کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا. عمران خان نے قومی سطح پر تبدیلی کے خواہشمند افراد کو اپنی جماعت کے ذریعے ایک راہ دکھائی۔ کپتان کا پیش کردہ نئے پاکستان کا خواب اس قدر حسین و دلکش تھا کہ نئی پود ساری کی ساری اس کی جھولی میں جا گری۔ ساتھ ہی پچھلی نسل کے مایوس و بیزار لوگوں نے بھی اپنا وزن ڈالا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سو حیرت کیسی؟

Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

یہی تو ہے وہ اپنا پن

(یہ مضمون الیکشن 2018  سے چند روز قبل لکھا گیا۔ لہذا اسے اسی تناظر میں پڑھا جائے۔ بوجوہ قدرے تاخیر سے یہاں اب شائع کیا جا رہا ہے۔ ؎ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔

 یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ سیاسی اختلاف بہر حال ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے۔)

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

 صاحب! واقعہ یہ ہے کہ اپنوں نے اپنوں کو چاہا تو واقعتاً دم نکال کے رکھ دیا اپنوں کا۔

اپنوں نے اپنوں کے لئے سیاسی جماعت بنائی تو اپنوں نے اپنوں کی جماعت کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ ہر الیکشن میں اپنوں کو ووٹ دیا . بھر بھر کے دیا۔ سالہا سال دیا۔ کیا قومی اسمبلی ، کیا صوبائی اسمبلی ، اور کیا بلدیاتی انتخابات۔ بیلٹ باکس بھر دیئے۔ لاکھوں ووٹ ، اور لاکھوں کے فرق سے کامیابی۔ لیکن جلد ہی اپنوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔

کچھ اپنوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دھتکار دیا گیا۔ جس کے بعد اپنوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ اس پھوٹ کے نتیجے میں اپنے ، اپنوں ہی کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے۔ اپنوں کی اس لڑائی میں اپنوں ہی کا خون بہا اور بہت بہا۔ اپنے شہر کے باسیوں نے ٹارگٹ کلنگ کا تاریک دور دیکھا۔ اپنے ہی جواں سال بچوں کے لاشے اٹھائے ۔ اپنے ہی شہر کے کچھ علاقے اپنوں کے لئے بند ہو گئے۔ نو گو ایریاز وجود میں آئے۔ پہلے سارا شہر اپنا تھا۔ سارے محلے اپنے تھے۔ اب اپنے ہی علاقے پرائے ٹھہرے۔ اپنے، اپنوں سے ملنے کے لئے ترسنے لگے۔

مار دھاڑ کے اس دور کے بعد طاقت پکڑنے والے اپنے ، اپنے ہی شہر پر ، اپنے ہی شہر والوں پر ، اپنے ہی ہم زبانوں پر قابض و حاوی ہوتے چلے گئے۔ بد معاشی اس قدر بڑھی کہ اپنوں سے اپنا حصہ وصولنے پر اتر آئے۔ عید الاضحیٰ آئی تو اپنوں نے اپنوں سے کہا کہ قربانی کی کھالیں اپنوں کو دیجئے۔ اپنوں نے پس و پیش کی تو گن پوائنٹ پر کھالیں چھینی گئیں۔اپنوں کی اس بد معاشی کے باعث بہت سے اپنے، اپنی قربانیاں اپنے گھر پر کرنے کے بجائے مدارس میں کرانے پر مجبور ہو گئے۔ رمضان المبارک آیا تواپنوں نے اپنوں سے زکوٰۃ طلب کی۔ عید الفطر آئی تو فطرے کی پرچیاں پہلے ہی اپنوں کے گھروں دفتروں تک پہنچا دی جاتیں۔ اور پرچیوں کی تعداد کے بقدر فطرہ کی جبری وصولی ہوتی رہی۔

اپنوں سے اپنائیت کی وصولی کا ایک خوفناک طریقہ بے سر و پا ہڑتالیں تھیں۔ آئے دن شہر کو تالا لگوا دیا جاتا۔ اپنوں کے حکم سے انحراف کی کسی اپنے کو اجازت نہ تھی۔ شہر میں کوئی اپنا مارا جاتا یا برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کسی اپنے کے خلاف تحقیقات کرنا چاہتی، نتیجہ ہڑتال۔ لندن سے یا رابطہ کمیٹی سے ایک حکم آنے کی دیر ہوتی۔ سارے یونٹ و سیکٹر انچارج اپنے اپنے علاقوں میں نکل آتے، ہوائی فائرنگ ہوتی ۔۔۔ اور اپنا شہر شٹ ڈاؤن۔ ہر ماہ کئی کئی ہڑتالیں۔ بسا اوقات ایک ایک ہفتہ میں دو دو تین تین ہڑتالیں۔ آن کی آن میں سارا شہر بند۔ ٹرانسپورٹ بند۔ بلکہ اگلے دن کی ہڑتال کی کال اور شہر کو شام سے ہی تالا۔ ارے جو اپنا صبح گھر سے نکلا ہے، وہ شام کو گھر کیسے پہنچے گا، اپنوں کی بلا سے۔ ہر اپنا اپنے گھر والوں کی بخیریت گھر واپسی کے لئے فکر مند اور دعا گو۔ اپنوں کی دوکانیں بند، کاروبار بند۔ اپنوں کی گاڑیاں نذر آتش۔ اپنوں کی دوکانیں نذر آتش۔ اپنوں کی فیکٹریاں نذر آتش۔ اور کہیں فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور بھی نذر آتش۔ اپنے ہی بچوں کے تعلیمی ادارے بند۔ اپنوں کے گھروں میں لاشے۔ اپنوں کے گھروں میں فاقے۔ اپنے بچے تعلیم سے دور، گٹکا اور مین پوری تھوکنے پر مسرور۔ ایک طرف اپنوں کے بازار کاروبار بند ، دوسری طرف اپنوں ہی سے قربانی کی کھالیں ، چندے فطرے زکوٰۃ کی بھتے کی طرح وصولی۔ کمائے گا نہیں تو کھلائے گا کہاں سے؟ اپنوں کی بلا سے۔

باہر سے آنے والے اس شہر میں کھپ گئے، پنپ گئے۔ ان کی دوکانیں جم گئیں۔ ان کے کاروبار چمک گئے۔ کپڑے کا کاروبار دیکھئے، اکثر دوکانیں پٹھانوں کی ہیں۔ رابی سینٹر ہو یا سمامہ شاپنگ سینٹر ۔ پٹھانوں کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسری قومیت کا بندہ نظر آئے۔ پورے پورے بازار پٹھان چلا رہے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ بھی پہلے پٹھان ہی چلا رہے تھے اور خوب چلا رہے تھے۔ ان کی منی بسیں بند ہوئیں تو آج سرائیکی المعروف ریاستی رکشے چلا رہے ہیں۔ اپنے شہر کے بچے ہی کچھ نہ کر پائے۔ جنہوں نے پاکستان بنایا اور پھر محدود وسائل کے باوجود نوزائیدہ مملکت کو کامیابی سے چلا کے دکھایا، ان کے اپنے بچے اس قدر ناکارہ ہرگز تو نہیں ہو سکتے!

تیس سال سے شہر پر قابض اپنوں کو نہ شہر میں لوڈ شیڈنگ نظر آئی نہ کچرا، نہ ٹرانسپورٹ نہ شہر کے دیگر مسائل۔ درمیان میں مصطفیٰ کمال نہ آتا تو اپنوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اپنوں کے لئے۔ آج وہ بھی اپنوں سے ناطہ توڑ بیٹھا ہے۔ جو اپنے کسی اور جماعت میں تھے، وہ غیر ٹھہرے۔ غیروں نے کے الیکٹرک کی دھاندلیوں کے خلاف نیپرا اور دیگر فورمز پر اپنوں کا مقدمہ لڑا اور خوب لڑا۔ ہر فورم پر لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کے خلاف آواز بلند کی۔

واٹر بورڈ میں تو الا ماشآء اللہ سارے ہی اپنے بیٹھے ہیں۔ ان کی مہربانی سے شہر کے بیشتر علاقے پانی کو ترس رہے ہیں۔ اپنے عارف علوی نے واٹر پالیسی پیش کی تو اپنوں کو بھی اپنا سمندر یاد آیا ۔ کہ اس کے پانی کو ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ذریعے میٹھا کر کے پانی کی قلت کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ارے تیس سالوں سے کیا کر رہے تھے؟

قصہ مختصر بہت لمبی کہانی ہے اپنے پن کی۔ آج 2018 کا الیکشن آیا تو کہتے ہیں، اپنوں کا ووٹ اپنوں کے لئے۔۔۔ کام تو اپنے ہی آتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

وقت آ گیا ہے کہ اپنوں کو اپنائیت کا بھرپور گرم جوشی سے جواب دیا جائے۔

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

Politician’s Marriages

سیاست دانوں کی شادیاں

جنگ جیو اور نونیوں کے مزے آ گئے ہیں۔
خوب چٹخارے لئے جا رہے ہیں کہ عمران خان نے ایک اور شادی کر لی۔
عمران خان شادی کرے یا طلاق دے ہر دو صورتوں میں مخالفین کی مراد بر آتی ہے۔ سب اپنی زبانوں کو دھار لگا کے میدان میں کود پڑتے ہیں۔
خیر۔۔۔
اپنی اپنی زبان ہے پیارے۔۔۔!

جنگ جیو اور نونیوں کے تبصروں کے حساب سے شادی ایک نہایت قبیح عمل اور غلیظ فعل معلوم ہوتی ہے۔ تو بھائی اگر یہ اتنا ہی گھناؤنا عمل ہے تو پھر ذرا اپنا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون اٹھائیے اور گوگل پر اپنے ہر دلعزیز لیڈر شہباز شریف کا پروفائل چیک کیجئے۔۔۔ چلئے اور شارٹ کر کے بتا دیتا ہوں، سرچ بار میں شہباز شریف اسپاؤسز  لکھ کے سرچ کر لیجئے۔ کر لیا آپ نے قارئین!؟

آپ کے سامنے ایک پیج اوپن ہوا ہو گا جس پر شہباز شریف کی بیگمات کے نام آ رہے ہوں گے۔

ذرا گنتی کیجئے گا کتنی بیگمات ہیں؟

ایک، دو ، تین ، چار ، پانچ۔

یس س س س!

شہباز شریف ابھی تک پانچ شادیاں کر چکے ہیں۔

پانچوں بیگمات کے نام یہ ہیں:

نصرت شہباز ، عالیہ ہنی، نرگس کھوسہ، تہمینہ درانی اور کلثوم حئی۔

-قارئین! اسی پیج پر کے عنوان سے ایک اور لنک بھی نظر آئے گا آپ کو۔
shahbaz sharif 5 wives story and reality
http://www.awamipolitics.com/shahbaz-sharif-5-wives-story-a
اس لنک پر کلک کیجئے تو شہباز میاں کی شادیوں کی مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔

-قارئین! ان تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کون کون سی شادیاں خفیہ طور پر کی گئیں۔ اور جنگ جیو اورنونیوں کے حساب سے خفیہ شادی ایک اور جرم ہے۔

-اچھا اب ذرا شہبازمیاں کی عمر اور شادیوں کی تاریخ بھی دیکھ لیجئے۔

وکیپیڈیا کے مطابق شہباز شریف 23 ستمبر 1951 کو پیدا ہوئے۔

ان کی پہلی شادی بیگم نصرت شہباز سے ہوئی، سال ہے 1973۔ اس وقت ان کی عمر تھی 22 برس۔

دوسری شادی انہوں نے عالیہ ہنی سے کی، سال ہے 1993۔ گویا اس وقت ان کی عمر تھی 42 برس۔

تیسرا نکاح انہوں نے اسی سال یعنی1993 میں فرمایا نرگس کھوسہ سے ، عمر وہی 42 برس۔

ایک عشرے کے بعد انہیں ایک اور شادی کا خیال آیا اور یوں 2003 میں انہوں نے تہمینہ درانی سے شادی کی، 52 برس کی عمر میں۔ واضح رہے کہ تہمینہ درانی کی بھی یہ تیسری شادی تھی اور شہباز میاں کی اہلیہ بننے سے قبل وہ غلام مصطفیٰ کھر کی اہلیہ ہونے کے باعث تہمینہ کھر کہلاتی تھیں۔

مزید کوئی ایک عشرے کے بعد شہباز میاں کا ایک اور شادی کا جی چاہا۔۔۔ اور یوں انہوں نے 2012 میں کلثوم حئی سے پانچویں شادی رچائی، اس وقت ان کی عمر 61 برس کے لگ بھگ تھی۔ کلثوم حئی کی بھی یہ دوسری شادی تھی۔

اوہوہوہوہوہوہوہو!

بڑھاپے میں شادی تو ایک اور جرم ہے۔

ہے ناں؟

-اچھا اب ذرا ان کی کلثوم حئی سے شادی کی تفصیل بھی گوگل پر سرچ کر لیجئے ۔ کلثوم حئی شہباز میاں کے نکاح (قبضے؟) میں آنے سے قبل سابق ڈی سی او اکاڑہ طارق قریشی کی بیوی تھیں۔ مذکورہ بالا لنک کے مطابق شہباز میاں نے کلثوم حئی سے درخواست (؟) کی تھی کہ اپنے موجودہ شوہر سے طلاق لے لو ۔ انہوں نے رضامندی (؟) ظاہر کی اور طلاق لے لی۔ یوں شہباز میاں نے ان سے شادی کر لی۔

قارئین!
اگر آپ کو لگتا ہے کہ کہانی ختم ہو گئی تو آپ غلطی پر ہیں۔ شہباز کی اب تک کی “پرواز” کے حساب سے ان کی اگلی شادی 2022 میں ہونے کا قوی امکان بنتا ہے، اگر ان کی عمر نے وفا کی۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بیگم نصرت شہباز کا انتقال ہو چکا جبکہ عالیہ ہنی کو انہوں نے طلاق دے دی تھی۔ بقیہ تین بیگمات ان کے نکاح میں ہیں۔
گویا شہباز میاں کے پاس۔۔۔
ایک لائف لائن۔۔۔
ابھی باقی ہے۔

قارئین!
اگر آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ کہانی ختم ہو گئی تو آپ ابھی بھی غلطی پر ہیں۔

-ذرا شہباز میاں کے فرزند ارجمند حمزہ شہباز شریف کو بھی گوگل کر لیجئےگا۔

آگے کیا ہوا؟
وہ میں بعد میں بتاؤں گا۔
ابھی اس بک میں …
بہت سارے پیجز باقی ہیں۔۔۔ 

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Social

Panama Leaks-Poetry

۔۔۔۔ پانامہ لیکس ۔۔۔۔

خارش پاگل کر دیتی ہے

پیچش پاگل کر دیتی ہے

مکھن ہوش بھلا دیتا ہے

پالش پاگل کر دیتی ہے

ڈالر پونڈ ریال دِرَم کی

بارش پاگل کر دیتی ہے

کرسی پہ قابض رہنے کی

خواہش پاگل کر دیتی ہے

ہر عہدہ ہو میرے تابع

نازش پاگل کر دیتی ہے

جج صاحب اور جرنیلوں سے

رنجش پاگل کر دیتی ہے

قسمت والو! قسمت ہی کی

گردش پاگل کر دیتی ہے

پاؤں تلے، یا  کرسی تلے ہو

جنبش پاگل کر دیتی ہے

کھاتے وقت یہ ہوش کہاں تھا

بندش پاگل کر دیتی ہے

مجرم کو اقبال ہی بہتر

مالش پاگل کر دیتی ہے

کس نے پہنائے یہ جھمکے

پرسش پاگل کر دیتی ہے

لے آئے خط اک، قطری کا

پوزش پاگل کر دیتی ہے

کیلیبری یہ بتلاتا ہے

دانش پاگل کر دیتی ہے

قصر وزارت کیوں چھڑوایا

آتش پاگل کر دیتی ہے

پاجامہ کہ پانامہ ہو

لغزش پاگل کر دیتی ہے

افسانے کا حاصل یہ ہے

پیچش پاگل کر دیتی ہے

Election, Pakistan, Politics

Muqaddar Ka Sikandar

مقدر کا سکندر

وہ 1949 ء میں ایک متمول کشمیری گھرانے میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ ایک تاجر اور صنعتکار تھا ۔ 70 کی دہائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا تو اس کے باپ کے کارخانے کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں اس نے سیاست میں کودنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اپنی سیاست کا آغاز کیا ۔ قسمت اور بڑے صوبے کے اس وقت کے گورنر جنرل غلام جیلانی خان کی مہربانی سے وہ 1980 ء میں اسی صوبے کا وزیر خزانہ بن گیا ۔ جبکہ اگلے پانچ برسوں میں وہ اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اسی دوران وہ اپنا خاندانی کارخانہ بھی دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ آج اس کا خاندان فولاد کی ایک عظیم الشان انڈسٹری کا مالک ہے ۔ نیز اس خاندان نے زراعت ، ٹرانسپورٹ اور شوگر ملز میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

تاریخ کی کتابوں کو کھنگالا جائے تو شاید ہی کوئی ایسی دوسری مثال ملے کہ قسمت کسی پر اس درجہ مہربان ہوئی ہو جتنی اس پر مہربان ہوئی ۔ اس کے کاروبار پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آج اس کی صنعتی ایمپائر دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ اس کے سیاسی کیریر جائزہ لیں تو تعجب ہوتا ہے کہ وہ محض31 برس کی عمر میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر خزانہ، پھر 33 برس کی عمر میں اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ، اور پھر صرف 41 برس کی عمر میں ملک کا وزیر اعظم بن چکا تھا۔ اتنی کم عمری میں کسی کو ترقی کی اتنی منازل طے کرتے ہوئے اس زمین آسمان نے کم کم ہی دیکھا ہو گا ۔ اس وقت کے صدر نے اس کی حکومت کو برطرف کی تو عدالتی حکم اس کے حق میں آ گیا ۔ یہ اور بات کہ جلد یا بدیر اسے بہرحال وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا ہی پڑا۔

ایک مختصر وقفے کے بعد قسمت نےپھر انگڑائی لی اور اس شان سے کہ اس کی جماعت نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ اس مرتبہ پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی سادہ اکثریت کے باعث وہ ایک طاقتور وزیر اعظم تھا۔ وہ چاہتا تو کیا کچھ نہیں کر سکتا تھا! وہ چاہتا تو ملکی تاریخ کا دھارا موڑ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کا مقدر سنوار سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنا کر عوام کے دلوں پر حکومت کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو ملکی دولت لوٹنے والوں کو عبرت کا نشان بنا سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں اسلامی شریعت نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں عدل و انصاف کا اسلامی نظام نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو یہ سب کر کے اپنا حشر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کروا سکتا تھا۔۔۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

تاہم اس کی خوش قسمتی کے قصے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ مقدر نے اسے ایک اور سنہرا موقع فراہم کیا ۔ ہمسایہ ملک بھارت نے 1998 ء میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا تو مئی 1998 ء کو اس کی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کے ہاتھوں پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اور کرہ ارض کی ساتویں جوہری قوت بن گیا۔ قومی تاریخ کا یہ وہ یادگار ترین لمحہ تھا کہ جب نہ صرف یہ کہ پوری پاکستانی قوم ایک سرشاری کے عالم میں اس کی پشت پر کھڑی تھی بلکہ پورا عالم اسلام بھی اس پر فخر کر رہا تھا ۔ لیکن پھر اچانک ایک احمقانہ فیصلے کے ذریعے فارن کرنسی اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی گئی جس کے نتیجے میں قومی یک جہتی کی ساری فضا سبو تاژ ہو گئی ۔ اس فیصلے کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی بھی کہا جاتا ہے۔ صرف عوام کی دولت ہی نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھی لوٹ لئے گئے ۔

لیکن وہ اس سب سے بے پروا محض اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آیا۔ اس جد و جہد میں وہ ان آہنی دیواروں سے ٹکرا بیٹھا جن سے ٹکرانے کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوتا ۔سو اس کی حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی اور ملک ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں پھنس گیا۔ جیل کی کال کوٹھری اس کا مقدر بنی ۔ وہ عر ش سے گر کر پاتال میں پہنچ چکا تھا۔ اس کے سر پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے۔لیکن قسمت نے ابھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ سو یہ خطرہ بھی کسی نہ کسی طور ٹلا اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں آمر وقت نے اسے جلا وطن کرنے کا حکم دیا ۔ وہ سرزمین حجاز مقدس جا پہنچا جہاں وہ شاہی مہمان کی حیثیت سے جدہ کے ایک عالیشان محل میں قیام پزیر رہا ۔

پھر کسی نہ کسی طرح وہ وطن واپس آنے میں کامیاب ہوا ۔ اور آج وہ ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بن چکا ہے۔ آج پھر پارلیمنٹ میں اسے عددی اکثریت حاصل ہے۔ آج ایک بار پھر اس کے پاس موقع ہے کہ وہ چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اسے کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے کسی دوسری پارٹی کی حمایت درکار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی سیاسی حریف ماری جا چکی ہے جبکہ اس کی حریف سیاسی جماعت آخری ہچکیاں لیتی نظر آ رہی ہے۔ وہ الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کر رہا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر یہ کریں گے ، اور وہ کریں گے۔ اسے ملک کی سسکتی بلکتی عوام نے نجات دہندہ سمجھ کر بھاری اکثریت سے منتخب کیا لیکن آج اس کی حکومت کے ابتدائی فیصلے دیکھ کر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ماضی کے نشیب و فراز سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اس نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے سابقہ ادوار حکومت کی طرح سرکاری ملازمتوں پر پابندی کا حکم صادر کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی خارج از امکان قرار دیا جا چکا ہے۔ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے لٹیروں کا بے لاگ احتساب کر کے لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کے بجائے آئی ایم ایف سے مزید سودی قرضے لینے کو ناگزیر قرار دیا جا چکا ہے ۔ بے چہرہ جنگ اور ڈرون حملوں سے متعلق حکومتی پالیسیز بھی کمزوری اور بودہ پن کا شکار نظر آ رہی ہیں۔

مہنگائی اور افراط زر کی ماری عوام بجا طور پر کسی ریلیف کی آس لئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی لیکن اس کے وزیر خزانہ کے پیش کردہ بجٹ کے نتیجے میں غریب آدمی کے تن پر موجود آخری چیتھڑہ اور منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی ۔ 82 ارب روپے کا کلیم تو اکیلے توقیر صادق پر ہی نکلتا ہے۔ ایسے کتنے ہی توقیر صادق ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرتے رہے ۔ لیکن انہیں پکڑ کر ان سے غبن کردہ ملکی دولت وصول کرنے کی بجائے وہ ایک بار پھر عوام ہی سے قربانی کا طلبگار ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس سولہ فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے ۔ موبائل فون پر ٹیکسز میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ آج موبائل فون صارفین کو 100 روپے کے کارڈ پر 41.50 روپے ٹیکس دینا ہو گا گویا 41.50 فیصد ٹیکس۔ دنیا میں شاید ہی کسی ملک میں اس شرح سے ٹیکس نافذ کیا گیا ہو۔ سی این جی کی قیمتوں میں بھی رمضان المبارک کے بعد ہوشربا اضافہ کی شنید ہے جو کہ ذرائع کے مطابق 80 فیصد تک ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی یقیناً ایک عالمی ریکارڈ ہی ہو گا ۔ حد تو یہ ہے کہ عازمین حج پر بھی فی کس پانچ ہزار روپے ٹیکس لگا دیا ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ ٹیکس حجاج کرام پر نہیں بلکہ حج ٹور آپریٹر پر لگایا گیا ہے ، لیکن ظاہر ہے ٹور آپریٹر وصول تو حاجیوں سے ہی کرے گا ، اپنے پاس سے تو دینے سے رہا۔ کاش کبھی کوئی غیر جانبدار ادارہ اس بات کا جائزہ لے اور بتائے کہ پاکستان کی عوام بالخصوص ملازمت پیشہ طبقہ (جن کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس پیشگی ہی وصول کر لیا جاتا ہے) انکم ٹیکس، جی ایس ٹی ، ایکسائز ڈیوٹی ، پراپرٹی ٹیکس ، موٹر وہیکل ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کی مدات میں اپنی آمدنی کا کل کتنا فیصد حصہ بطور ٹیکس ادا کر رہا ہے؟

ملک کی اسلام پسند عوام اور دینی حلقے اس سے بجا طور پر توقع کر رہے ہیں کہ وہ ملکی معیشت کو سودی نظام سے پاک کرنے کے لئے اقدامات کرے… ملک میں اسلامی نظام عدل رائج کرے … اسلامی شریعت کے نفاذ کی عملی کوشش کرے … ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سعی کرے… لیکن ایسی “خرافات ” اس کی ترجیحات میں شامل کہاں؟

اتنے مواقع جس شخص کو ملیں اسے مقدر کا سکندر کہا جاتا ہے ۔۔۔  معلوم نہیں کہ اتنے مواقع ملنے کے بعد بھی ملک و قوم کے لئے کچھ نہ کر پانے والے شخص کو کیا کہا جائے گا؟90 کی دہائی میں جب وہ پاکستان کا وزیر اعظم تھا تو ملائیشیا میں مہاتیر محمد اس کا ہم عصر تھا۔ آج ترکی کا رجب طیب اردگان اس کے معاصرین میں شامل ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے وطن کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ دونوں نے ملکی و عالمی سطح پر کتنی نیک نامی کمائی ۔

آہ ارضِ وطن …. تیرا مقدر !

واہ سکندر… تیرا مقدر!

Election, Pakistan, Politics, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Aik Jasarat

ایک جسارت

از۔۔۔ ابو شہیر

الیکشن سے دو دن قبل یعنی 9 مئی 2013 ؁ کو ہمارے ایک بزرگ ہمارے گھر تشریف لائے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ دوران گفتگو والدہ نے سوال کیا کہ

ووٹ کس کو دیں گے؟”

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا : “ایم کیو ایم۔ ۔۔بقا کا معاملہ ہے۔ “

ان کا جواب سن کر سخت حیرت ہوئی۔ جی میں تو آئی کہ ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں ، ان کو احساس دلائیں کہ آپ کا یہ عمل آپ کی آخرت کے اعتبار سے کس قدر خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ، لیکن پھر ساتھ ہی وہ تلخ رویے یاد آئے ،  ماضی میں اس قسم کی جسارتوں پر جن کا سامنا کرنا پڑا ۔ سو فوری طور پر کوئی جواب نہ بن پڑا۔

بزرگوار تو یہ کہہ کر کچھ دیر میں چلے گئے لیکن ہمیں ایک اضطراب ، ایک کرب میں مبتلا کر گئے۔ یقیناً آپ یہ جاننا چاہ رہے ہوں گے کہ بزرگوار کے جواب پر ہمارے اس درجہ مضطرب ہوجانے کی وجہ کیا تھی ؟ تو چلئے پہلے اس کا جواب دیئے دیتے ہیں۔

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری اصل شناخت ، اصل پہچان اسلام ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں ، دیگر جو کچھ بھی ہیں اس کے بعد ہیں ۔ اس مسلمانی کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں ، جن سے انحراف و روگردانی کرنے کی صورت میں خدانخواستہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً عصبیت کے بارے میں حدیث رسول ﷺ ہے:

“لیس منا من دعا الی عصبیة ، ولیس منا من قاتل عصبیة ، ولیس منا من مات علی عصبیة”۔ (رواہ ابوداؤد‘ مشکوٰة:۴۱۸)

مفہوم: جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو عصبیت کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔یعنی عصیبت کی طرف بلانے والے سے نبی اکرم نے اعلان بریت کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر کئی سیاسی جماعتوں کی طرح ایم کیو ایم  بھی لسانیت کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ، اور لسانیت عصبیت ہی کی ایک شکل ہے۔

لسانیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ایم کیو ایم کے ابتدائی دور کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ اس کا آغاز بہت عمدہ تھا اور واقعتاً یہ ایک تحریک بن کر ابھری۔ جماعت کی تنظیم کی اگر بات کی جائے تو وہ بھی مثالی تھی اور آج بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ اس جماعت نے نوجوان طبقے کو بہت زیادہ متاثر کیا اور نوجوان قیادت کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا ۔ عظیم احمد طارق جیسے جواں سال لیڈر کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ نوجوان کارکن جس طرح اپنے قائد کے جانثار بنے ، جلسوں میں جو شاندار نظم و ضبط کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، جس طرح قائد کی ایک آواز پر جلسہ گاہ میں خاموشی طاری ہو جایا کرتی ہے ، وہ درحقیقت اس جماعت کا ایک امتیازی وصف ہے ۔ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسا نوجوان میئر نصیب ہوا جس نے اپنی انتھک محنت اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محض چار برسوں میں اس شہر کی کایا پلٹ دی ۔ قائد تحریک الطاف حسین کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی ۔ جن کے ایک اشارے پر تنظیم کے کارکن کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ الطاف حسین ہی کی بصیرت تھی جس نے مصطفیٰ کمال میں چھپی صلاحیتوں کو پہچانا ورنہ مصطفیٰ کمال کو کون جانتا تھا ؟

جس جماعت کو ایسے جانثار اور مخلص کارکن میسر ہوں وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی تھی !لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ یہ جماعت ان تاریک راہوں کی جانب چل نکلی جن پر سفر نے اسے آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اپنے بھی خفا ہیں اور بیگانے بھی ناخوش ۔ ایم کیو ایم جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم لے کر کھڑی ہوئی تھی لیکن بد قسمتی سے آج خود ایک جاگیردار جماعت کا روپ دھار چکی ہے۔ فیوڈل ازم سے نفرت کرنے والی اس جماعت کے اطوار و افکار میں آج خود فیوڈل ازم واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ بات بے بات ہڑتالیں کرنے میں یہ جماعت اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اردو بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار اس جماعت کے مختلف اقدامات سے آج اردو بولنے والوں ہی کا شدید استحصال ہو رہا ہے ۔ شہر کراچی کی آبادی کا بیشتر حصہ اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور شہر کے بیشتر علاقے اردو بولنے والوں کا مسکن ہیں۔ ہم خود بھی اردو بولنے والے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ہڑتالوں کے سبب کاروبار زندگی معطل ہوجانے سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے یقیناً کوئی راکٹ سائنس درکار نہیں۔صرف الیکشن سے قبل ماہ مئی کے ابتدائی ہفتے کا جائزہ لیں تو اس دوران تین مرتبہ شہر کراچی بند ہوا اور الیکشن کے بعد سے اب تک متعدد بار شہر بند کرایا جا چکا ہے ۔تاہم طریقہ واردات میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ لندن یا رابطہ کمیٹی کی جانب سے ایک یوم سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر دوکانیں اور کاروبار بند رکھیں۔ اور اس رضاکارانہ یوم سوگ ، اور عوام کا ایم کیو ایم سے اظہار یک جہتی وغیرہ کی حقیقت بھی اب سب پر پوری طرح عیاں ہو چکی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں کے باعث ان پر اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے ۔ کاروباری طبقے سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں سے ان کو کہاں کہاں کتنا کتنا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

اختلاف رائے اس جماعت کو برداشت نہیں ہے ۔ آپ اس کے قائد کی جانب انگلی اٹھا کے دیکھیں ، یہ آپ کا بازو کیا ، گردن مروڑنے پر اتر آئے گی ۔ ایم کیو ایم کی قیادت دینی طبقے سے بھی شدید بیزار معلوم ہوتی ہے ۔ خود اس جماعت کے کارندے کلاشنکوفیں لے کر دندناتے اور شہر بند کراتے پھرتے ہیں ، لیکن اگر کوئی اسلام پسند فحاشی کے اڈے بند کرانے کے لئے ڈنڈہ اٹھالے تو یہ پورے شہر میں “ڈنڈہ بردار کلاشنکوفی شریعت نامنظور “کے بینرز کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اس کھلی غنڈہ گردی کے باوجود بھی میڈیا ان کی طرف براہ راست نشاندہی کرنے سے عاجز ہے اور ساری فرد جرم “نا معلوم افراد “پر عائد کر دی جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا! قربانی کی کھالوں کی چھینا جھپٹی اور زور زبردستی سے شروع ہونے والا سلسلہ آج یہاں تک دراز ہو چکا ہے کہ ووٹ بھی گن پوائنٹ پر لئے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کے ثبوت کے طور پر حالیہ الیکشن کے بعد کی چند ویڈیوز ہی دیکھ لیجئے ۔ الیکشن میں دھاندلی اور جعلی ووٹنگ کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جب یہ جماعت ایک بار پھر کراچی کی بیشتر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو اگلے روز لندن سے ویڈیو خطاب میں جماعت کے قائد الطاف حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں فرمایا کہ “اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کی عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو پھر کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کر دیجئے “۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان جب اس دھاندلی کے خلاف مظاہرے کے لئے تین تلوار چورنگی پر اکٹھے ہوئے تو ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ تین تلوار پر جو لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں، بہت شو بازی کر رہے ہیں ، میں لڑائی جھگڑا چاہتا نہیں ہوں ورنہ تو ابھی اپنے کارکنوں کو حکم دوں تو وہ تین تلواروں کو اصلی تلواروں کی شکل دے دیں گے” ۔ اسی طرح سے میڈیا کے مختلف اینکر پرسنز کو ٹھونک دینے والا بیان بھی سب کو یاد ہی ہو گا۔ اس شر انگیزی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے مختلف ترجمان مثلا ً رضا ہارون وغیرہ اپنے قائد کے ان فرامین کی عجیب و غریب تاویلیں اور توجیہات بھی پیش کر رہے تھے ۔

درج بالا تمام عوامل کو بالفرض نظر انداز کر بھی دیا جائے تو ایک نہایت سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت کے قائد الطاف حسین قادیانیوں کے بارے میں بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کبھی وہ مرزا طاہر کی موت پر افسردہ و رنجیدہ نظر آتے ہیں تو کبھی مرزا مسرور کی ماں کی موت پر تعزیتی پیغام جاری فرماتے اور دعائے مغفرت فرماتے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں انہوں نے مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے جن خیالا ت کا اظہار فرمایا ، وہ آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایسی جماعت کو ووٹ دینا ، اس کو سپورٹ کرنا ، اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا ، مظلوموں کی آہیں لینے کا ساتھ ساتھ ہماری دانست میں ایمان کے بنیادی تقاضوں کی بھی خلاف ورزی ہے جو اخروی خسارے کا بھی باعث بن سکتی ہے ۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے تفصیل سے بحث کی ہے جس کے آخر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں :

“خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے ۔ ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت ۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے ، اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نا اہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی ، اور اس کے تباہ کن ثمرا ت بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ “

تو قارئین ! یہ تھیں ہمارے کرب و اضطراب کی وجوہات۔ ہمارے وہ بزرگ ہم سے اور ہم ان سے محبت کے دعوے دار ہیں، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص سے محبت کا حقیقی اظہار یہ ہے کہ اسے نقصان سے بچایا جائے ، اور سب سے بڑا اور حقیقی نقصان تو آخرت کا ہے ۔ انہیں شاید اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ایم کیو ایم کو ووٹ دے کر وہ درحقیقت ایم کیو ایم کے متوقع جرائم میں شریک ہو جائیں گے جس پر آخرت میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ دماغ مسلسل اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا کہ ان تک پیغام کس طرح اور کن الفاظ میں پہنچایا جائے ۔ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ہماری اس جسارت کو گستاخی پر محمول نہ کر لیں، کہیں وہ برا نہ مان جائیں، کہیں ناراض نہ ہو جائیں ۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ صرف بزرگوار ہی پر کیا موقوف، اور بھی نجانے کتنے لوگ اپنا اپنا ووٹ ایسی ہی کسی جماعت کو دینے کا سوچے بیٹھے ہوں ۔ تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دینی فریضے کو مد نظر رکھتے ہوئے کافی غور و خوض کے بعد موبائل فون پر ایک پیغام ترتیب دیا اور بزرگوار کے ساتھ ساتھ فون کونٹیکٹس میں محفوظ دیگر نمبرز پر بھی ارسال کر دیا ۔  

ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھئے گا کہ …

-شرعی طور پر ووٹ کی حیثیت شہادت یعنی گواہی کی ہے …. تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ کا ووٹ کسی فاسق و فاجر شخص / جماعت کے حق میں گواہی تو نہیں بن رہا ؟

پاکستان ایک وعدے کے تحت حاصل کیا گیا تھا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام … تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ جس کو ووٹ دے رہے ہیں وہ شخص / جماعت اس عہد کے برخلاف نظریات کی حامل تو نہیں ۔

-یہ مت بھولئے گا کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں آخرت کا ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے اس ووٹ کا کیا جواز پیش کریں گے؟

اگلے روز ان کا جواب موصول ہوا کہ … تمہارا پیغام بہت پر اثر تھا ، جس نے مجھے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔

اللہ اکبر ! ہمیں ایک قلبی سکون و طمانیت محسوس ہوئی کہ ہمارے ان بزرگ نے ہمارے پیغام کو اہمیت دی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائی ۔ درحقیقت یہ ان کا بڑا پن ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ ناراض ہوئے نہ برہم ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہمارے دل میں ان کی عزت و تکریم مزید بڑھ گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کار خیر کی توفیق ، فہم ، جرات اور حوصلہ عطا فرمایا ۔

جو افراد بھی ایم کیو ایم (یا ایسی ہی کسی اور جماعت )سے وابستگی یا اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ وہ بھی ہماری درج بالا گزارشات پر غور فرمائیں اور ایک بار مسلمان بن کر ضرور سوچیں ۔۔۔ یا تو تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے باطل نظریات پر نظر ثانی کرے یا پھر اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے ۔

کراچی کی عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک اس جماعت کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی، کب تک ہڑتالوں اور یوم سوگ کے نام پر کاروبار اور دوکانیں بند کرتی رہے گی؟ کراچی کی عوام کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ آیا وہ مظلوم ہے ظالم ؟ کہ ظالم کو ظلم سے نہ روکنے والا یا ظلم میں ہاتھ بٹانے والا بھی ظالم ہے۔

آخر میں ہم یہ کہتے چلیں کہ ہمیں اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ ہم نے یہاں اصلاح احوال کی جو کوشش کی ہے ، اس کو غلط معنوں میں لئے جانے یعنی ہماری اس جسارت کو گستاخی سمجھے جانے کا خاصا امکان ہے ، جس کے بعد ہمیں بھی کڑے رد عمل اور تنقید کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ٹھونک دینے پر اتر آئے … لیکن کیا کیجئے …. مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ !

اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ ، و ارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

حوالہ جات:

کراچی کو الگ کر دیجئے  ، اور پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=1nHwERmyTrM

اینکر پرسنز کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=9mSENwP4EMo

ووٹ کی شرعی حیثیت

http://urdulook.info/forum/showthread.php?6986-%D9%88%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA!