Chaand ki Eid

چاند کی عید

از ابو شہیر

“پاکستان کے کروڑوں عوام کی نسبت مسجد قاسم علی خان میں بیٹھنے والی رویت ہلال کمیٹی روایتی طور پر خاصی تیز نگاہ اور دور بین ثابت ہوئی ہے لہٰذا جو چاند بلوچستان سندھ پنجاب اور خود صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں نظر نہیں آتا وہ گھونگھٹ نکال کر پشاور اور مردان کے آس پاس گردش کرنے لگتا ہے اور کسی نہ کسی کے حلقہٴ بصارت میں سماجاتا ہے جو فی الفور مسجد قاسم علی خان پہنچتا اور حلفیہ گواہی پیش کردیتا ہے۔ برس ہابرس سے یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔ماہرین علم فلکیات کو سراغ لگانا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کوئی تو وجہ ہوگی کہ جو چاند ملک بھر کے کسی حلقے میں دکھائی نہیں دیتا مطلع صاف ہونے کے باوجود کسی افق پر جلوہ گر نہیں ہوتا وہ چاند پشاور  مردان اور چارسدہ کی فضاؤں میں کیوں مسکراہٹیں بکھیرنے لگتا ہے؟ ” معروف کالم نگار عرفان صدیقی  کے قلم سے ماضی میں نکلی یہ سطور آج بھی بالکل تر و تازہ معلوم ہوتی ہیں۔

وطن عزیز میں گزشتہ چند برسوں سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے چاند کے حوالے سے افسوسناک بلکہ شرمناک صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ اس سال تو حد ہی ہو گئی یعنی تین دن میں تین چاند دیکھے گئے اور تین عیدیں منائی گئیں ۔ گویا “عید کا چاند “ہونے کے بجائے چاند کی “عید ہو گئی”۔  سرکاری رویت ہلال کمیٹی محض تماشائی بن کر رہ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی اس افسوس ناک صورتحال پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصروں کی بھرمار شروع ہو گئی ۔اور پھر “جتنے منہ اتنی باتیں” کے مصداق ہر خاص و عام اپنی اپنی رائے دینے لگا ۔

رویت ہلال سے متعلق دو احادیث مبارکہ ہیں:

1۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ” مہینہ 29 رات کا ہوتا ہے ، پس روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو 30 دن پورے کر و۔ “(متفق علیہ )

2۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تو افطار کرو ، پھر اگر تم پر بادل ہو جائیں تو تیس روزے پورے کرو ۔” (صحیح مسلم)

جامعۃ العلوم الاسلامیہ ، علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر ان احادیث کی وضاحت اس طرح درج ہے : “یعنی 29 تاریخ کی شام کو مطلع ابر آلود ہونے کے باعث چاند نظر نہ آئے تو مہینے کے تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔ حدیث کے الفاظ میں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ روزے رکھنے والے خود اپنی آنکھوں سے ضروری طور پر چاند دیکھیں ، بلکہ اس کا مفہوم ہے کہ … جب چاند دکھائی دے جائے … بادل کا لفظ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ اسلامی احکامات میں نئے چاند کا مطلب آنکھوں سے دکھائی دینا ہے ، کیونکہ بادل چاند دکھائی دینےکی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں۔ ” (مکمل مضمون کے لئے دیکھئے : http://www.banuri.edu.pk/en/node/166)

دیکھا جائے تو کلیہ بہت سادہ ہے ۔ ایک چیز ہے چاند کا افق پر موجود ہونا ، اور دوسری چیز ہے چاند کا نظر آنا ۔ درج بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ چاند افق پر دکھائی دے یا نظر آئے ۔ سو وہ طبقہ جو اس بات پر مصر ہے کہ علم فلکیات کی روشنی میں حساب کتاب لگا کر ایک قمری کیلنڈر بنا لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ، اس کی یہ رائے شریعت سے متصادم ہے کیونکہ چاند کا افق پر نظر آنا شرعی شرط ہے۔ اب علم فلکیات کی مدد سے بنائے جانے والے کیلنڈر کے مطابق 29 تاریخ کو چاند افق پر موجود ہے لیکن مطلع ابر آلود ہونے یا کسی اور وجہ سے چاند دیکھنا ممکن نہیں ،تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ مہینہ 30 کا شمار کیا  جائے گا اور اس کے بعد اگلا مہینہ شروع کیا جائے گا ۔  لوگ کہتے ہیں کہ مولوی اکیسویں صدی میں ساتویں صدی کے طریقے سے چاند دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ جہاں شریعت کا حکم آجائے وہاں ہر مسلمان کے لیے ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عہدہ دار کیوں نہ ہو،  سر تسلیم خم کر دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اسلام کے معنی ہی ہیں سر تسلیم خم کردینا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ  ان بادلوں کے  پیچھے چاند موجود ہے یا یہ کہ اس وقت چاند پیدا ہو چکا ہے، علماء کا تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ فیصلہ کہ کل روزہ  ہوگا  یا عید ہوگی  ،اسلام کی بڑی خوبصورت تصویر ہے جس کے لیے علماء تنقید و تحقیر کے نہیں ، تعریف و تحسین کے مستحق ہیں ۔

دوسرے طبقے کی رائے یہ ہے کہ چاند نظر آ جانے کی شہادت مل جانے کے بعد رویت ہلال کا اعلان کر دینا چاہئے ۔ تو اگرچہ شریعت کا حکم تو یہی ہے لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کیونکہ شریعت نے قاضی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ شہادت کو پہلے پرکھے ، پھر چاہے قبول کرے یا رد کردے۔ موجودہ دور کے مطابق اس کی شکل یہ بنتی ہے کہ چاند کی شہادت کو علم فلکیات کی روشنی میں بھی پرکھ لیا جائے ۔ جیسا کہ حالیہ عید الفطر کا چاند متنازعہ بنا دیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ” مورخہ 18 اگست 2012 کو پاکستان میں عید کاچاندنظر آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔چاند نظرآنے کے لئے اسکی عمر بتیس گھنٹے درکار ہے مگرشام کوچاند کی عمر صرف بائیس گھنٹے سترہ منٹ ہوگی۔ سورج شام کو چھ بجکر پنتالیس منٹ پر غروب ہوگا جبکہ سورج کی شفق سات بجکر گیارہ منٹ پر ختم ہوگی اورشفق ختم ہونے سے پہلے ہی چھ بجکر پچپن منٹ پر چاند غروب ہوچکاہوگا اس لئے چاند نظرکاکوئی امکان نہیں ہے۔ “

چلئے محکمہ موسمیات کو تو ایک طرف رکھئے کہ اس کی رائے کو کوئی درخور اعتنا نہیں سمجھتا ۔ جامعۃ الرشید پاکستان کا ایک معروف دینی ادارہ ہے ۔ ادارے کے شبعہ فلکیات کے رئیس مفتی محمد سلطان عالم کے مطابق “پاکستان سمیت اکثر آباد دنیا میں چاند نظر آنے کا امکان اتوار 19 اگست 2012 کو ہے ، اس سے پہلے نہیں ۔ لہٰذا ان ممالک میں عید الفطر پیر 20 اگست کو ہونی چاہئے ، اس سے پہلے نہیں ۔ “

انہوں نے فرمایا کہ “امکانِ رویت ہلال کے تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد قدیم و جدید معیارات کے مطابق جمعہ 17 اگست کو پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش، ایران ، افغانستان تو کجا پوری آباد دنیا میں کہیں بھی برہنہ آنکھ سے یا عام ٹیلی اسکوپ وغیرہ سے چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر کسی نے جمعہ 17 اگست کو دنیا کے کسی بھی خطے میں برہنہ آنکھ تو کجا ، عام ٹیلی اسکوپ سے بھی چاند دیکھنے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کو قبول کر لیا گیا تو یہ ایک انتہائی تعجب خیز فیصلہ ہو گا ۔ ” تو اب شمالی وزیرستان میں چاند نظر آنے کی شہادت کو علم فلکیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ دعویٰ بجا طور پر ناقابل قبول اور باطل تصور کیا جانا چاہئے ۔

اسی طرح ہفتہ 18 اگست 2012  ( پاکستان 29 رمضان ) کے احوال پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی محمد سلطان عالم نے فرمایا کہ “امکانِ رویت ہلال کے تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد قدیم و جدید معیارات کے مطابق 60 عرضِ شمالی و جنوبی کے مابین جن علاقوں میں غروب آفتاب کے بعد افق پر موجود ہونے کے باوجود چاند برہنہ آنکھ سے نظر آنے کے قابل نہیں ہوگا وہ یہ ہیں: پورا ایشیا ؛ پورا یورپ ؛بالائی شمالی افریقہ ؛ شمالی USA اور پورا کینیڈا ۔” (تفصیل کے لئے دیکھئے ۔۔۔ http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2012/august/08-08-2012/frontpage/10.html)

تو اب اگر مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی خود ساختہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے رویت ہلال کے اعلان کو علم فلکیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ان کا دعویٰ بھی باطل ہے۔ واضح رہے کہ مسجد قاسم علی خان کے کرتا دھرتاؤں نے گزشتہ کئی برس سے رویت ہلال کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔   ذاتی طور پر ان کے مسلک سے ذہنی مطابقت رکھنے کے با وجود ان کے ان اعمال سے برأت کا اعلان کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے خیال میں اتحاد بین المسلمین کی اہمیت اتحاد بین المسلک سے زیادہ ہے۔  اس دفعہ یہ معاملہ اور زیادہ سنگینی اختیار کر گیا ہےکہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی شخصیت نے    ایک علاقے میں نہیں بلکہ پورے  صوبے میں  ایک دن پہلے عید منا کر نہ صرف یہ کہ رویت ہلال کمیٹی کے خلاف  باقاعدہ طبل جنگ بجا دیا ہےبلکہ اپنے ہی مسلک سے وابستہ افراد کے درمیان بھی اختلاف و انتشار پیدا کر دیا ہے  ۔ بجا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کافی عرصے سے اس عہدے پر فائز ہیں لیکن ان کی کارکردگی کسی بھی لحاظ سے ایسی نہیں ہے  کہ ان کی تبدیلی  کی ضرورت محسوس ہو۔ محض طویل عرصے تک کسی عہدے پر بیٹھے رہنا   کوئی نا اہلیت نہیں ہے ۔  حکومت نے ایک ادارہ بنا دیا ہے ۔ تو اس کی مان لینے میں کیا حرج ہے ؟ غلطی کی صورت میں سارا گناہ ثواب اسی پر ہو گا ۔ عوام اس سے بری الذمہ ہیں ۔ سعودی عرب میں تو ماضی میں ذی الحج کے چاند پر اختلاف ہو چکا ہے ، تو لاکھوں حجاج کرام نے جو حج ادا کیا وہ باطل ہو گیا ؟ ہرگز نہیں ۔ قاضی اگر صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے لیکن اگر فیصلہ کرنے میں اس سے خطا ہو جائے تو بھی وہ ایک اجر کا مستحق ہے ۔ حالیہ رویت ہلال کے معاملے کو سیاسی  اور مسلکی رنگ دے کر اس سے اپنا الو  سیدھا کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے  وہ کچھ ایسی عریاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ  اس کو شرعی مسئلہ بنانے کے لیے بہت پاپڑ  بیلنے پڑیں گے۔

Inaam ki raat

انعام کی رات

ابو شہیر

آج رمضان المبارک کا آخری روزہ تھا ۔ افطار کر لینے اور نماز مغرب کی ادائیگی کے فوراً بعد ہر طرف مبارک سلامت کا شور مچ گیا ۔ بالآخر وہ ساعتِ سعید آن پہنچی تھی کہ جس کا اک عالَم کو انتظار تھا ، یعنی چاند رات۔۔۔ معتکفین اپنا بوریا بستر لپیٹنے میں مشغول ہو گئے۔ عشاء کی نماز کے بعد آن کی آن میں مسجد سونی ہو گئی۔ آخر کو سب کو اپنے گھروں کو جانے کی جلدی تھی کہ عید الفطر کے استقبال کی تیاریاں بھی تو مکمل کرنی تھیں۔

لیکن مسجد کے ایک نسبتاً اندھیرے گوشے میں ایک بندہ اب بھی اپنے رب سے سرگوشیوں میں مشغول تھا:

یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں رمضان المبارک عطا کیا ۔ یا اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں آج عید کا چاند بھی دکھا دیا۔ یا اللہ ! میں نے تیرے قرآن میں تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا پڑھی:

اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی ۔ ہمارے پروردگار ! ( یہ میں نے اس لئے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں ، لہٰذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے کشش پیدا کر دیجئے ، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا کر دیجئے ، تاکہ وہ شکر گزار بنیں ۔ (سورۃ ابراہیم ۔۔۔ 37 )

یا اللہ ! تیرے حبیب ﷺ کی ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے جس کا مفہوم ہے کہ “جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات سے لیا جاتا ہے۔ “اے ہمارے پروردگار ! آج وہی عیدکی رات ہے ۔ آج وہی لیلۃ الجائزہ ہے ۔ آج وہی انعام کی رات ہے ۔ آج تیرا یہ بندہ تجھ سے تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے انداز میں کچھ مانگنا چاہتا ہے ۔۔۔

پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ماہ رجب کے آغاز سے ہی میں رمضان المبارک کے انتظار میں بے قرار ہو گیا تھا بلکہ اس کے لئے دعائیں کرنے لگ گیا تھا ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ وَ شَعْبَان ، وَ بَلِّغْنَا رَمَضَان۔۔۔ کہ یا اللہ ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا کر اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے ۔ اے پروردگار ! یہ میں نے اس لئے کیا کہ ایک روایت مجھ تک پہنچی کہ تیرے حبیب ﷺ کا یہی طریقہ تھا ۔

پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ماہ صیام کے آغاز سے پہلے ہی سے میں نے عزم کیا تھا  کہ میں پورے روزے رکھوں گا ، میں نے عزم کیا تھا کہ پوری تراویح پڑھوں گا، میں نے عزم کیا تھا کہ متعدد بار قرآن پاک کی تکمیل کروں گا ، میں نے عزم کیا تھا کہ حفظ قرآن پر بھی توجہ دوں گا ، جو یا د ہے اس کو دوہرا کر پختہ کروں گا ، اور جو یاد نہیں ہے اس کو یاد کرنے کی کوشش کروں گا ۔ میں نے عزم کیا تھا کہ آخری عشرے کا سنت اعتکاف کروں گا ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے نبی ﷺ کا فرمان پہنچا تھا کہ “اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ ۔ اللہ اس ماہ مبارک میں تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتا ہے۔ خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور دعاؤں کو قبول کرتا ہے ۔ تمہاری نیکیوں کی حرص کو دیکھتا ہے اور ملائکہ سے فخر فرماتا ہے ۔ “

میرے رب ! تو جانتا ہے کہ روزے رکھنا میرے لئے کس قدر دشوار تھا ۔ میرے رب ! تیرے حکم پر تیری حلال نعمتوں کو چھوڑ دیا ۔ بھوک لگی لیکن کھانا نہ کھایا ۔ میرے اللہ ! تو جانتا ہے کہ موسم کس قدر گرم تھا ۔ پیاس لگی لیکن پانی نہ پیا ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ میں بیمار بھی تھا ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ خالی پیٹ رہنا میرے لئے کس قدر مشکل تھا۔ اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ پورا دن میں کس قدر تکلیف میں مبتلا رہا کرتا تھا ۔ لیکن میں صبر کرتا رہا ۔ پروردگار ! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے نبی صادق ﷺ کا فرمان پہنچا تھا کہ “تو کہتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا ۔ “

یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں اپنے روزے کی کس قدر حفاظت کیا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! حتی المقدور کوشش کیا کرتا تھا کہ کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو نے پائے کہ جس سے روزے کی صحت یا روحانیت متاثر ہو ۔ پروردگار ! تو جانتا ہے کہ میں زبان کی ، کانوں کی ، نظروں کی حفاظت کرتا رہا ۔ پروردگار! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کا یہ فرمان پہنچا تھا کہ “جو شخص روزہ رکھنے کے بعد بھی بد اعمالیاں نہ چھوڑے تو تجھے اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ “

یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ افطار کے وقت تیرے ہی فضل سے انواع و اقسام کی نعمتیں میرے دستر خوان پر موجود ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن جب افطار کا وقت ہوتا تھا تو میں پوری طرح ان نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا تھا ۔ بس جلدی جلدی تھوڑا بہت کھا پی کر مسجد کو بھاگا کرتا تھا کہ مغرب کی نماز با جماعت ادا کر سکوں۔ پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا بہترین وقت اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ افطار کا ہی وقت ہے لیکن میں نے اس لذت پر نماز کو فوقیت دی ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ تیری رضا حاصل کر سکوں ۔

اے میرے رب ! پھر کچھ ہی دیر میں نماز عشاء اور تراویح کا وقت ہو جاتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ افطار کے بعد میرا جسم نڈھال ہوا پڑا ہوتا تھا ۔ لیکن میں اپنے اس شکستہ وجود کو گھسیٹ کر مسجد تک لے جایا کرتا تھا اور نماز میں کھڑا ہو جایا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے ۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تراویح میں میری کیا حالت ہوا کرتی تھی ؟ طویل قیام سے میری ٹانگیں شل ہو جایا کرتی تھیں ۔ کمر چٹخنے لگ جایا کرتی تھی ۔ پیر دکھنے لگ جایا کرتے تھے ۔ تلوے جلنے لگ جایا کرتے تھے ۔ میں تھک جایا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ بسا اوقات نیند کا بھی اس قدر شدید غلبہ ہوتا تھا کہ آنکھیں کھولنا محال ہو جایا کرتا تھا ۔ دل کرتا تھا کہ گھر جا کر بستر پر لیٹ جاؤں لیکن ایسے میں ، میں اگلی صفوں میں کھڑے سفید ریش بزرگ دکھا کر اپنے دل کو ، اپنے نفس کو غیرت دلایا کرتا تھا ۔  یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں حتی المقدور کان لگا کر تراویح میں پڑھا جانے والا تیرا قرآن سنا کرتا تھا ۔ تیرے قرآن کی آیات میں غور و تدبر کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا ۔ پروردگار ! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی حدیث پہنچی کہ “جو شخص رمضان المبارک میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرتا ہے ، اللہ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے ۔ “

یا اللہ ! تو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے تلاوت کلام پاک کو بھی اپنا معمول بنائے رکھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اور راہ چلتے قرآن پڑھا۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا تھا کہ تجوید و ترتیل و ترنم کے ساتھ قرآن کی تلاوت کروں ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے حتی الوسع تیرے قرآن کو حفظ کرنے کی بھی کوشش جاری رکھی ۔ یا اللہ! تو جانتا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے بسا اوقات میری زبان لڑکھڑانے لگ جاتی تھی ۔ میرے حلق میں خراش ہو جانے لگتی تھی۔ گلا دکھنے لگ جاتا تھا۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ “قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کے لئے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔”

یا اللہ ! پھر رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوا تو میں اک آس ، اک امید لے کر تیری چوکھٹ پر بیٹھ گیا۔ گھر بار ، ملازمت کاروبار چھوڑ کر ، بیوی بچوں سے ناتا توڑ کر اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آن بیٹھا ۔ لیلۃ القدر کے حصول میں لگا رہا ۔ پروردگار ! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ “جو شخص ایک دن کا اعتکا ف بھی اللہ کے واسطے کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے ۔”

میرے رب ! تو نے کرم کیا اور ہمیں ایک بار پھر ماہ رمضان المبارک عطا کیا ۔ میرے رب ! پھر تو نے ہی توفیق دی تو میں نے روزے رکھے ۔ تیری ہی عطا کردہ توفیق سے میں نے تراویح پڑھی۔ تو نے توفیق دی تو میں نے اعتکاف کیا۔ غرض جو بھی کوئی نیک عمل میں نے کیا ، تیری ہی توفیق اور تیرے ہی فضل سے ممکن ہوا۔

اے اللہ! اے میرے رب! اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کی مغفرت فرما ۔ ۔۔اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت پر رحم فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کی نصرت و مدد فرما ۔۔۔ اے محمدﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کو غالب فرما اور عالم کفر کو مغلوب فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مظلوموں کی داد رسی فرما۔۔۔اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے بیماروں کو شفا عطا فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب! محمد ﷺ کی امت کے پریشان حالوں کی پریشانی کو دور فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے بے اولادوں کو نیک فرمانبردار اولاد عطا فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے جوان بچوں اور بچیوں کے لئے اچھے رشتے عطا فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مرحومین کو ، بالخصوص ہمارے والدین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مجاہدین کی ، مبلغین کی مدداور رہنمائی فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ سے وابستہ شہروں یعنی بلاد حرمین شریفین کی حفاظت فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ نے جو خیر اپنے لئے اپنی امت کے لئے مانگی وہ ہمیں بھی عطا فرما اور جن شرور سے پناہ مانگی ان سے پناہ عطا فرما۔

اے محمد ﷺ کے رب ! آج لیلۃ الجائزہ ہے ۔ آج انعام کی رات ہے ۔ میرے رب ! تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں کی ایک بہت بڑی تعداد بازاروں میں پہنچ چکی ہے۔ ایک افراتفری کا عالم ہے ۔ ہر طرف ایک ہاؤ ہو ہے ۔ ایک شور ہنگامہ ہے ۔ گانوں باجوں کی گونج ہے ۔ بازاروں میں خوب رونق ہے ۔ مرد اپنی نظروں کی پیاس بجھانے کے لئے بازاروں میں گھوم رہے ہیں اور ان کی تسکین طبع کا سامان بھی وافر مقدار میں بازاروں میں پہنچ چکا ہے ۔ عورتیں اور لڑکیاں خوب بن ٹھن کر بازاروں میں پہنچی ہوئی ہیں ۔۔۔ اور ساری شرم و حیا کو بالائے طاق ر رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ چوڑیاں پہنانے کے لئے ، مہندی لگوانے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں دئیے بیٹھی ہیں۔ اور ان کے ساتھ موجود مردوں کو بھی کوئی ہوش نہیں ہے، کوئی احساس نہیں ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ یا اللہ ! لوگ آج کی رات کی اہمیت سے بے خبر اپنے اشغال میں مصروف ہیں۔ان کو احساس ہی نہیں ہے کہ پورے مہینے نیکیوں کے جس پودے کو شب و روز محنت سے سینچا، اب جب اس کے ثمربار ہونے کا وقت آیا ہے تو اپنے ہی ہاتھوں میں کلہاڑا لے کر اس کو کاٹنے کے درپے ہیں ۔ پروردگار! تو سب کو ہدایت و شعورعطا فرما۔

پروردگار! لیکن تیرا یہ بندہ اس وقت بھی تیرا در پکڑے بیٹھا ہے ۔ تیرے آگے جھولی پھیلائے بیٹھا ہے ۔ ہاتھ اٹھائے بیٹھا ہے ۔ بڑی امید لگائے بیٹھا ہے ۔ مزدوری ملنے کی آس لگائے بیٹھا ہے ۔ پروردگار! اس عاجز و عاصی کا ہرگز کوئی استحقاق نہیں ہے ۔۔۔ بس تیرے فضل سے ، تیرے کرم سے ، تیری رحمت سے ، تیری عطا سے بڑی بلند و بالا امیدیں ہیں ، بڑی بلند و بالا توقعات ہیں۔ پروردگار! تو غنی ہے ۔ تو صمد ہے ۔ تجھے میری عبادات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ میرے صیام و قیام کو قبول فرما لے۔ پروردگار! دیگر تمام عبادات کو قبول فرما لے ۔

پروردگار ! مجھے اعتراف ہے کہ تیری شان کے مطابق کوئی عمل میں کر بھی نہ سکا ۔ رمضان المبارک کی صحیح معنوں میں قدر نہ کر سکا ۔ اس ماہ مبارک کا حق ادا نہ کر سکا ۔ روزے کی صحیح معنوں میں حفاظت نہ کر سکا ۔ بڑی کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ پروردگار! تو معاف کرنے والا ہے ۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے  ۔ پس مجھے معاف فرما دے ۔

پروردگار! تیرے جبریل امین کے الفاظ مجھ تک پہنچے جس پر تیرے صادق و امین ﷺ نے آمین کہا تھا کہ “ہلاک ہو جائے وہ شخص جو ماہ رمضان کریم کو پائے اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکے ۔ “پروردگار! آج اس وعید سے بچا لے ۔ پروردگار! آج بڑی امید سے ہاتھ اٹھائے ہیں۔پروردگار! آج تیرے عفو و کرم سے بڑی آس اور توقع ہے ۔ پروردگار! آج  ان اٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! روزے کی حالت میں برداشت کی جانے والی بھوک پیاس کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! حلال نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کر لینے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! روزے کی حالت میں کھنچنے والے کلیجے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار!تراویح میں اٹھائی جانے والی مشقت کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! ٹانگوں کے شل ہو جانے کی لاج رکھ لے۔ پروردگار! پیروں کی دکھن کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تلووں کی جلن کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! کمر کے چٹخنے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ بارہا ایسا ہوا کہ کوئی آیت سنی اور اس کے مفہوم پر غور کرنے پر آنکھیں نم ہو گئیں۔پروردگار ! ان آنسوؤں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تلاوت کی کثرت سے حلق میں پڑنے والی خراشوں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار!آج کی رات بھی اپنے اس بندے کے اپنے گھر میں موجود ہونے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار ! کیا میری شامت اعمال کے سبب روزوں کے بدلے میں صرف بھوک پیاس ہی ہاتھ آئے گی؟ کیا راتوں کے قیام کے عیوض صرف بے آرامی ہی ہاتھ آئے گی ؟ نہیں یا اللہ نہیں ! آج تو محروم نہ فرما۔پروردگار ! آج مزدور کو مزدوری عطا فرما دے۔ آج مغفرت کے فیصلے فرما دے ۔

پروردگار! تیرے محبوب ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی کہ “روزہ دار کے لئے دو فرحتیں ہیں ۔ ایک افطار کے وقت یعنی روزہ کھولنے کی فرحت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی فرحت  ۔ “پروردگار ! ایک فرحت تو نے عطا کی ، بار بار عطا کی ، روزانہ افطار کے وقت عطا کی ۔۔۔ پروردگار! دوسری فرحت کا انتظار ہے ۔۔۔ دوسری فرحت کا انتظار ہے ۔۔۔ دوسری فرحت کا انتطار ہے ۔ ۔۔!