Behaviors & Attitudes, Social, معاشرت, اخلاقیات

Encroachment

و ما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ان دنوں شہر کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف حالیہ مہم کا آغاز شہر کے قلب صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف موجود ناجائز دوکانوں کے انہدام سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں دوکانوں کے باہر نکلے شیڈز اور فٹ پاتھوں پر بڑھائے گئے دوکانوں کے حصوں کو مسمار کر دیا گیا ، یا کیا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ اور آرام باغ ایسے مرکزی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے۔ اس مہم پر جہاں شہریوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا  ہے وہیں جن لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا ہے وہ اس مہم کے خلاف مبغوض و مغموم نظر آ رہے ہیں۔  ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب متاثرین کا نقصان پورا کرے اور ان کی روزی کا پہلے سے بہتر انتظام فرما دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں  کئی مرتبہ  ان پتھاروں اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن بھی ہوئے لیکن بات نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھی ۔ دو چار دن بعد سب پہلے جیسا ہو جاتا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان قابضین کو حکومت اور انتطامیہ کی جانب سے مختلف جگہوں اور دوکانوں کی پیشکش کی گئی کہ اپنا کاروبار وہاں سیٹ کر لیں۔ اسی طرح کی پیشکشیں کچی آبادیوں میں مقیم  افراد کی بھی کی گئیں۔ زمینیں بھی الا ٹ کی گئیں اور پیسے بھی دیئے گئے۔ لیکن  انہوں نے ان دوکانوں زمینوں ہی کو بیچ ڈالا ، یا کرائے پر چڑھا دیا اور خود واپس وہیں آن موجود ہوئے۔ اس طرح کے “کامیاب تجربات “کے بعد شاید ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا سخت ایکشن ہو جائے گا اور ایک روز وہ فی الواقعی فٹ پاتھ پر آ جائیں گے۔

دیکھا جائے تو اس میں سب سے بڑا قصور خود ان ہی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے مفت کی جگہوں پر بیٹھ کے خوب پیسے بنائے۔ جم کے کاروبار کیا۔ کیا اتنا نہ کما لیا تھا کہ چاہتے تو کسی مناسب جگہ دوکان لے کر کاروبار سیٹ کر لیتے ؟ بھلے سے پتھارہ بھی ساتھ ساتھ چلاتے رہتے۔  لیکن لاکھوں کمانے کے باوجوداپنا طرز عمل بدلا نہ ٹھکانہ۔ اب چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، رو رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، جھولیاں پھیلا پھیلا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے! نادانی  بھلا کس نے دکھائی ۔ عارضی ٹھکانے پر بیٹھے کاروبار کرتے رہے۔ سو وہ ٹھکانہ عارضی ہی ثابت ہوا۔ایسے جو دوکاندار ابھی بچ رہے ہیں، وہ اس سب سے سبق سیکھیں     ؎ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا۔

یہ مہم ہمیں ایک اور امر کی جانب بھی متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ عارضی ٹھکانہ ایک دن چھننے والا ہے۔ سب کاروبار جائیدادیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عارضی پتھارے کے بجائے آخرت کی پکی دوکان کو سیٹ کیا جائے۔ دنیا کی اس کچی آبادی کے بجائے آخرت کے پکے گھر کی تعمیر پر محنت کی جائے۔ نماز روزے حج عمرے کی فکر کر لی جائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی فکر کر لی جائے۔ نیکیوں  کے قمقموں سے اس گھر کو مزین کر لیا جائے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مالک الملک کے حکم پر یہ عارضی ٹھکانہ مسمار کر دیا جائے گا۔ پھر تہی دامانی کے پچھتاووں کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحديد: ٢٠﴾

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد  میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) سخت عذاب اور (مومنوں کے لئے) اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔

 

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Pakistan, Social, Uncategorized, پاکستان, حسن معاشرت

IDEAS

 

Do they know…There exists the “Civic Center?” Do they know… How many offices are situated there? #KDA! #HBFC! #KBCA! #ExciseAndTaxationDept! #KElectric! #PostOffice! #Banks! #SSGC offices! #DCoffice!

Do they know… How many employees work at these offices? Do they know… how many citizens daily visit these offices?

Do they know… there exist two of the largest medical institutions of Pakistan? #LNH! #AKU!

Do they know… how many #Doctors and paramedical staff work there?
Do they see… hear… The #Ambulances… and the #hooters… and the #patients…?

Do they know… the disturbance created cuz of this mess?
And that too for 4 whole working days!
:@
#Ideas2016

 

Behaviors & Attitudes, Social, Uncategorized, حسن معاشرت

Whatsapp Bombardment

واٹس ایپ بمباری

۔  دیکھئے! یہ جو واٹس ایپ ہے ناں… یہ پیغام رسانی کا ایک بہت اچھا اور نافع ذریعہ ہے… لیکن اس کا استعمال ایسے کرنا چاہیے کہ موصول کنندہ آپ کے بے وقت پیغامات سے عاجز نہ آ جائے…

 

۔  دیکھئے! “صبح بخیر” کا ایک میسج ایک صبح کے لیے پوری کفایت کر دیتا ہے… سو صبح بخیر کے میسیجز کی دس بیس گولیاں چلانے کی چنداں ضرورت نہیں… وہ بھی صبح صادق کے وقت۔۔۔

 

۔  دیکھئے! جمعہ کی مبارکباد دینا شریعت سے ثابت نہیں… تاہم اگر آپ پھر بھی مبارکباد دینے پر مصر ہیں تو فی جمعہ ایک میسج کافی ہے… کیا ضرورت ہے جمعہ کے دن مبارکبادوں کا پورا برسٹ مارنے کی۔۔۔

 

۔  دیکھئے! اگر کسی وجہ سے آپ کو رات بھر نیند نہیں آتی… یا اللہ کے فضل و کرم سے آپ منہ اندھیرے تہجد کے لیے جاگ جاتے ہیں… تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی دنیا بھی آپ کے ساتھ ساتھ جاگ جاتی ہے یا دنیا کو آپ کے ساتھ ساتھ جاگ جانا چاہئے… نہ ہی یہ مطلوب ہے کہ واٹس ایپ کو کلاشنکوف کی طرح استعمال کر کے سارے عالم کو تہجد کے لیے جگایا جائے… جن کو تہجد یا فجر کی نماز کی فکر ہوتی ہے وہ اپنے جاگنے کا خود اہتمام کر لیتے ہیں… موبائل فون میں الارم بھی ہوتا ہے ناں؟

۔  دیکھئے! احادیث کی کتابوں میں یہ روایت ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کیلئے بیدار ہوتے تو بستر سے آہستہ اٹھتے اور نہایت آہستہ سے دروازہ کھولتے تھے ایسا اس لئے کرتے کہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نیند میں خلل نہ آئے،

(مسلم:۲/۳۱۳)

 

دیکھئے! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ کے آرام کا کس درجہ خیال رکھ رہے ہیں جو کہ اسی حجرہ مبارک بلکہ اسی بستر مبارک میں محو استراحت ہیں… اور آپ… اپنے سے میلوں دور بیٹھے احباب پر واٹس ایپ کی بمباری کر رہے ہوتے ہیں… آپ کو کچھ خبر بھی ہے کون کس وقت سویا رات کو۔۔۔

 

دیکھئے! یہ جو موبائل فون ہے ناں… یہ آپس کے رابطوں کا بہترین ذریعہ ہے… اور اکثر لوگ اپنا موبائل فون چوبیس گھنٹے آن رکھتے ہیں… اب آپ کی میسج بمباری کے باعث نیند خراب ہونے کے خوف سے کوئی اپنا فون رات سوتے وقت آف یا سائلنٹ کر لیتا ہے… اور صبح کو اسے پتہ چلتا ہے کہ رات انتہائی ایمرجنسی میں کسی نے اسے کال کی… لیکن موبائل آف یا سائلنٹ ہونے کے سبب وہ کال ریسیو نہیں کر سکا… بروقت مدد کو نہیں پہنچ سکا… تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔۔۔ 
آپ… صرف آپ۔۔۔

 

کچھ تو خیال کیجیے محترم۔۔۔

Behaviors & Attitudes, Sahaba kay Waqiat, Social, Uncategorized, پاکستان, اخلاقیات, اسلام, حسن سلوک

Qatra Qatra Darya

قطرہ قطرہ دریا

“دس روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ?”

“ہرگز نہیں…”

“مرضی ہے آپ کی… ورنہ اس سے زیادہ ہی پھینک دیتا ہے ہر کوئی… کبھی ہفتے میں… کبھی مہینے میں… وہ بھی جانتے بوجھتے…”

“کوئی نہیں… جانتے بوجھتے کون پھینکے گا بھلا?”

“پھینکتے ہیں جناب… آپ بھی پھینکتے ہیں… آپ نے بھی بارہا پھینکے ہیں…”

“کب پھینکے میں نے?”

“تین روپے تو ابھی چند منٹ پہلے پھینک کے آ رہے ہیں آپ!”

“ہیں! کہاں?”

“سی این جی بھروائی تھی ناں ابھی آپ نے اپنی گاڑی میں? چار سو سینتیس روپے کی سی این جی آئی تھی… سی این جی پمپ والے نے چار سو چالیس روپے لیے… آپ نے بھی اعتراض کیا نہ تین روپے واپسی کا تقاضا… تین روپے پھینکے آپ نے جانتے بوجھتے کہ نہیں?”

“اوہ… اچھا… ہاں…”

“اور ایسا آپ ہر دوسرے دن کر رہے ہوتے ہیں… کبھی روپیہ کبھی دو روپے کبھی تین روپے… ہفتے دو ہفتے میں دس بیس روپے صرف سی این جی اسٹیشن پر  پھینک دیئے…”

“ہاں یار یہ تو کبھی خیال ہی نہیں کیا میں نے… “

“جی بھائی صاحب! کوئی خیال نہیں کرتا…
اور یاد دلائوں! وہ پرسوں پلے روز جو آپ کے ماموں نے ریمیٹنس بھیجی تھی امریکہ سے 23 ہزار بتیس روپے… کیشئر نے آپ کو کتنے دیئے?”

“23 ہزار تیس روپے…”

“دو روپے وہاں بینک میں پھینک آئے آپ…”

“ٹھیک کہہ رہے ہو بھائی!”

“جی جناب ہم لوگ خیال نہیں کرتے ورنہ جوتا لینے جائیے تو قیمت 2499 روپے… دیئے کتنے? 2500… چپل 799 کی, دیئے 800… موبائل کارڈ 599 کا, دوکاندار نے وصول لیے 600…”

“اوہ بھائی یہ کیا گورکھ دھندہ لے بیٹھے… واقعی کتنے پیسے پھینک دیتے ہیں ہم… کبھی غور ہی نہیں کیا!”

“جی ی ی ی! اب بتائیے دس  روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ? جانتے بوجھتے?”

“مگر کہاں?”

“چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں!”

“دس روپے سے کیا ہو گا?”

“کیوں نہیں ہو گا… ایک چھٹانک لوہا تو آ ہی جائے گا… یا دس بیس گرام سیمنٹ… یا ایک مٹھی بجری… یا ڈیم پر کام کرنے والے مزدور کی ایک روٹی… کچھ نہ کچھ تو ہو رہے گا… قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے… دیکھئے ۲۲ کروڑ کی آبادی ہے پاکستان کی۔۔۔ اگر ہر فرد دس روپے  روز بھی دے ناں ڈیم فنڈ میں ۔۔۔ تو ایک دن میں دو سو بیس کروڑ روپے جمع ہو سکتے ہیں، یعنی دو ارب بیس کروڑ روپے۔۔۔ دس دن میں بائیس ارب، اور سو دن میں دو سو بیس ارب روپے۔۔۔ یوں ہم سب پاکستانی مل کے  سال بھر میں آٹھ سو ارب روپے جمع کر سکتے ہیں  “

“مگر ان لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں… لے کے ڈکار جائیں…”

“تو آپ کی کون سی قرقی ہو جانی ہے دس روپے سے… آپ نیک نیتی سے دے دیجئے… سوچئیے اگر واقعی ڈیم بن گیا تو… نسلیں دعائیں دیں گی ان شآء اللہ… صدقہ جاریہ ہے صدقہ جاریہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق موٴمن کے عمل اور اس کی نیکیوں میں سے جس کا ثواب موٴمن کو اس کے مرنے کے بعد پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک ہے نہر جاری کرنا… اسی طرح ایک مرتبہ ایک صحابیؓ کے دریافت کرنے پر کہ کون سا صدقہ افضل ہے… اپؐ نے فرمایا: پانی پلانا.”

“سبحان اللہ!”

“دیکھئے اللہ تعالی نے ہمیں فقط کوشش کرنے کو کہا ہے… نتائج نہیں مانگے… آپ اخلاص کے ساتھ دے دیجئے… اپنے حصے کا ثواب جھپٹ لیجئے… آپ کی قبر میں ان شآء اللہ سیلاب آ جائے گا اجر و ثواب کا, سیلاب… بڑا نادر موقع ہے اور بہت معمولی رقم… چلیں اپنا موبائل نکالئے اور DAM لکھ کر 8000 پر میسج بھیج دیجئے… اور اپنے احباب کو بھی اس نیکی پر اکسائیے… جزاک اللہ خیراً کثیراً

Behaviors & Attitudes, media, Pakistan, Politics, Social, Uncategorized, پاکستان, اخلاقیات

Media ki Makhi

میڈیا کی مٙکھی

اشفاق احمد لکھتے ہیں…
میں نے تائے سے کہا: تایا سن میں تمہیں ایک کام کی بات بتاتا ہوں – وہ بڑے تجسس سے میری طرف دیکھنے لگا – میں نے اسے بتایا کہ یہ جو مکھی ہوتی ہے اور جسے معمولی اور بہت حقیر خیال کیا جاتا ہے یہ دیکھنے اور بینائی کے معاملے مین تمام کیڑوں سے تیز ہوتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں میں تین ہزار محدب شیشے یا لینز لگے ہوتے ہیں اور یہ ہر زاویے سے دیکھ سکتی ہے – اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بھی اور جس طریقے سے بھی اس پر حملہ آور ہوں ، یہ اڑ جاتی ہے – اور اللہ نے اسے یہ بہت بڑی اور نمایاں خصوصیت دی ہے –

اب میں سمجھ رہا تھا کہ اس بات کا تائے پر بہت رعب پڑے گا کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے کمال کی بات تھی لیکن تایا کہنے لگا:

” لکھ لعنت ایسی مکھی تے جندیان تن ہزار اکھاں ہوون او جدوں وی بہندی ائے گندگی تے بہندی ائے “

(ایسی مکھی پر لعنت بیشمار ہو جس کی تین ہزار آنکھیں ہوں اور وہ جب بھی بیٹھے گندگی پر ہی بیٹھے)

آج کل میڈیا جس رویہ کا مظاہرہ کر رہا ہے یہ مثال اس پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے… تین ہزار محدب عدسوں کی مانند ایچ ڈی کیمرے… لیکن اصل ایشوز کے بجائے نان ایشوز پر گھنٹوں کے مباحثے اور ٹاک شوز…
تف ہے ایسے میڈیا پر…

Behaviors & Attitudes, Pakistan, اخلاقیات

Question

14th August, 2018

Today, my 6yr old daughter was going to her school for the #Independence_Day Celebrations. She was very excited. However, nobody knew how she was thinking about The Day.

On her way, she kept watching outside through the car’s window. Suddenly, she raised a question:

“Mumma! Aaj #Independence_Day hy… Lekin kisi nay Pakistan ko saaf he nahi kiya…
(Mumma! It’s Pakistan’s #Independence_Day today; yet nobody cleaned the country!)

 

#HeartMelt

Behaviors & Attitudes, Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

TABDILI

یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ اس مضمون میں ان امور کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے خیال میں کراچی کی سیاست میں واضح تبدیلی کا باعث بنے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔

یہ جو ووٹ کا رجحان ہے

اس کے پیچھے کپتان ہے

حالیہ انتخابات میں ایم کیو ایم جس ہزیمت کا شکار ہوئی ہےوہ ایم کیو ایم کی قیادت اور اس کے سپورٹرز کے لئے انتہائی غیر متوقع اور نا قابل قبول ہے۔ہماری دانست میں وجوہات بہت سادہ ہیں جن کے سبب کراچی کی مقبول ترین سیاسی جماعت اس قدر عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی، اور پی ٹی آئی نے فقید المثال کامیابی حاصل کی۔

اسّی کی دہائی میں ایم کیو ایم کراچی اور شہری سندھ کے متوسط طبقہ کی جماعت بن کر ابھری۔ شہری اور دیہی سندھ میں تفریق، کوٹہ سسٹم، اردو بولنے والوں سے امتیازی سلوک، ان کے جائز حقوق کی پامالی یہ سب وہ عوامل تھے ، ایم کیو ایم جن کے خلاف احتجاج کے طور پر وجود میں آئی۔ چنانچہ ابتدا ہی سے اسے شاندار پزیرائی حاصل ہوئی۔ الطاف حسین ایک نمایاں لیڈر کے طور پر ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ الطاف حسین خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سپورٹرز کے سامنے ایک انقلابی منشور پیش کیا کہ ایم کیو ایم ان کے حقوق کے لئے کس طرح پارلیمانی جد و جہد کرے گی اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوں گے۔ لوگوں کو ان کا پروگرام قابل عمل نظر آیا۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے جمہوری راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایم کیو ایم نے متعدد انتخابات میں ریکارڈ توڑ کامیابیاں حاصل کیں۔

لیکن ۔۔۔ پچیس برس گزرنے کے بعد بھی خواب خواب ہی رہا۔ پچھلی نسل کے بزرگ خواب کی تعبیر کے انتظار میں قبر کے کنارے تک، اور جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے۔ خواب دکھانے والا پردیس سدھارا۔ پیچھے کارکنان کا جبر شروع ہوا۔ گن پوائنٹ پر چندے فطرے بھتے قربانی کی کھالوں کی وصولی اور جبری ہڑتالیں۔ کاروبار دوکانیں ٹھپ، تعلیمی ادارے بند۔ ظلم و جبر کے خلاف بننے والی جماعت آج خود ظلم و جبر کی علم بردار بن چکی تھی۔ سو پچھلی نسل میں سے بہت سے لوگ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو ئے۔

پھر یہ بھی کہ پردیس سے پارٹی بھلا کب تک چلائی جا سکتی تھی، کب تک متحد و منظم رکھی جا سکتی تھی۔ چنانچہ گزشتہ الیکشن کے بعد سے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو چلی۔ قائد کو مائنس کر دیا گیا۔ پارٹی کے اندر سے ہی کئی دھڑے وجود میں آگئے۔ جب سرکردہ رہنماؤں نے ہی اپنے لیڈر کو خیر باد کہہ دیا تو بھلا ووٹرز کو کیا پڑی تھی تعلق نبھانے کی۔

دوسری طرف ہماری نئی نسل خاموشی سے جوانی کی طرف گامزن تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ کل کے بچے آج شناختی کارڈ ہولڈر ہو چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم نکتہ تھا، کراچی کی دیگر سیاسی جماعتیں جسے مِس کر گئیں۔ دو بچوں کو دیکھ کر تو ہمیں خود حیرت ہوئی کہ اچھا یہ بھی ما شآء اللہ ووٹ ڈالنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس نئی پود کو ایم کیو ایم کا منفی تعارف تھا۔ ادھر عمران خان کی صورت میں ملک کے سیاسی افق پر ایک نیا لیڈر نمودار ہوا جو کہ نئی نسل کو نئے پاکستان کا رومانوی خواب دکھا رہا تھا۔ ادھر تیس برس سے ملکی سیاست پر چند معروف چہرے ہی قابض تھے جنہوں نے قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہ دیا۔ تقریباْ اسی طرح کا ویکیوم اسی طرح کے زمینی حالات موجود تھے جن کے نتیجے میں ایم کیو ایم وجود میں آئی.

کپتان کی سیاست سے ضرور اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہو گی کہ اس نے نئی نسل کو سیاست کی جانب متوجہ کیا، ووٹ کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا. عمران خان نے قومی سطح پر تبدیلی کے خواہشمند افراد کو اپنی جماعت کے ذریعے ایک راہ دکھائی۔ کپتان کا پیش کردہ نئے پاکستان کا خواب اس قدر حسین و دلکش تھا کہ نئی پود ساری کی ساری اس کی جھولی میں جا گری۔ ساتھ ہی پچھلی نسل کے مایوس و بیزار لوگوں نے بھی اپنا وزن ڈالا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سو حیرت کیسی؟