Behaviors & Attitudes, Intaqal, Islam, میراث, انتقال

تقسیم میراث میں تاخیر

تقسیم میراث میں تاخیر

کسی اللہ والے کا قول ہے کہ موت سے انسان کی آنکھ بند نہیں ہوتی، کھل جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں ہمارے متعلقین میں یکے بعد دیگرے سات آٹھ اموات ہوئیں۔ اللہ رب العزت سب کی مغفرت فرمائے اور سلامتی کے ساتھ جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ آمین۔

مرنے والوں پہ تو جو گزرنی تھی گزر گئی۔۔۔

اتنی پے در پے اموات تو زندوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔

سو یہی امر گزشتہ دو مضامین کا باعث بنا۔

جن میں سے ایک مضمون میت کو سرد خانے میں رکھوانے کے موضوع پہ تھا

https://abushaheer.wordpress.com/2020/06/26/تدفین-میں-تاخیر/

اور دوسرا مضمون ایصال ثواب کی رسموں پہ۔

https://abushaheer.wordpress.com/2020/06/26/ایصال-ثواب-کی-رسمیں/

اب اس تیسرے مضمون میں ایک اور اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانی ہے۔

میراث یا ترکہ کی تقسیم کے معاملہ میں معاشرہ شدید لاپرواہی کا شکار ہے۔ تقسیم میراث کی اہمیت کس قدر اہم معاملہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قرآن پاک کی سورة النسآء میں میراث کی تقسیم کے بارے میں تفصیلی احکامات وارد ہوئے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے :
بندہ کہتا رہتا ہے میرا مال، میرا مال
جبکہ اُس کا مال تو صرف وہ ہے
جو کھا کر ہضم کر لیا،
جو پہن کر بوسیدہ کر دیا
جو صدقہ کر کے محفوظ کر لیا
اس کے علاوہ سب کچھ لوگوں (ورثاء) کے لیے چھوڑ کر چلا جائے گا۔
صحیح مسلم

معلوم ہوا کہ بندہ کے مرتے ہی اس کا حق ملکیت ختم۔ اب اس کا سب مال اسباب زمین جائیداد نقدی زیور اس کے ورثاء کا ہو گیا۔ چنانچہ ورثاء کو چاہیے کہ پہلی فرصت میں اس جانب توجہ دیں اور میت کے قرض کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ مال اسباب کو شرعی احکامات کے تحت تقسیم کر لیں۔ تاکہ جس کا جو حق بنتا ہے اس کو پہنچ جائے۔

تاہم عمومی رجحان یہی ہے کہ ترکہ کی تقسیم میں خاصی غفلت اور غیر ضروری و غیر معمولی تاخیر کی جاتی ہے۔ والد کے انتقال کے بعد کہیں والدہ رکاوٹ بن جاتی ہیں تو کہیں بڑے بہن بھائی۔ علی ھذا القیاس۔

اس تاخیر کے نتیجے میں ورثاء تقسیم ہو جاتے ہیں۔ سگے بہن بھائیوں میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ خون کے رشتوں میں دراڑیں آ جاتی ہیں۔ قتل و غارت کی افسوسناک خبریں بھی آئے روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

اکثر مرتبہ یہ بھی دیکھا کہ مرنے والا اچھا خاصا مال اسباب چھوڑ کے مرا جس کی بروقت تقسیم سارے ورثاء کے لیے خوشحالی و سہولت کا باعث بن سکتی تھی لیکن کہیں ایک ساتھ رہنے کی چاہت کہیں موروثی گھر سے محبت کہیں ہٹ دھرمی کہیں غفلت تقسیم میں مانع رہی۔ اس کا نقصان یہ دیکھنے میں آیا کہ پوری پوری فیملی مرغیوں کی طرح ایک ایک کمرے میں زندگی گزار رہی۔ جس جائیداد کو بروقت تقسیم یا فروخت کر کے ساری اولاد اپنا اپنا گھر کر سکتی تھی وہ نہ کر سکی۔ کتنی بڑی حق تلفی ہو گئی۔

یہاں تک تو تاخیر پر بات ہو گئی۔ اگلا مسئلہ یہ ہے کہ شرعی ورثا کا حصہ مختلف حیلوں بہانوں یا زور زبردستی سے دبانے کی بھی خوب کوشش کی جاتی ہے۔ اور اس میں بھی دیگر ورثاء پر داؤ چلے نہ چلے، بہنوں کا حصہ دبانا تو گویا اپنا حق سمجھا جاتا ہے اور معمولی نقد رقم دیکر غریب بہنوں سے اپنی مرضی کے مطابق بیان دلوا لئے جاتے ہیں۔

اور ایک ظلم یہ بھی ہے کہ بعض صاحب جائیداد مرنے سے پہلے ایسی وصیتیں کرجاتے ہیں جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اپنی وصیت سے کسی حقیقی وارث کو محروم کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا اپنا مال ہے سو اپنی مرضی سے اس میں تصرف کر سکتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔

ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ایک آدمی ستر برس تک بدکاروں جیسے اعمال کرتا رہتا ہے جب اس کی موت کا وقت آتا ہے تو خدا کے ڈر سے ایسی وصیت کرتا ہے جس سے وارثوں کو پورا پورا حق مل جائے اس عمل کی وجہ سے وہ مرتے ہی جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر
اسی طرح ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک آدمی ساٹھ ستر برس کی عمر تک برابر نیکی کرتا رہتا ہے جب اس کی موت کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے اختیار سے غلط وصیت کرکے کسی وارث کو نقصان پہنچادیتا ہے اس پر اس جرم کی پاداش میں جہنم کا داخلہ واجب ہو جاتا ہے۔ ابو داود

یہ سب شرعی تقاضوں کے خلاف ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان معاملات کی سمجھ عطا فرمائے۔ ایک دوسرے کے حقوق بروقت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ظالموں غاصبوں خائنوں میں شامل ہونے سے بچائے۔ آمین۔

مرنا ہم سب نے ہی ہے۔ کیوں نہ موت سے پہلے اپنے متعلقین کو اس مسئلے کی اہمیت سمجھا جائیں۔۔۔ اس بارے میں علم و آگاہی دے جائیں۔۔۔ اور وصیت و تاکید بھی کر جائیں۔۔۔ تاکہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارے ورثاء کے درمیان محبتیں قائم رہیں۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کافی آسانی ہو جائے گی۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, معاشرت, اخلاقیات, اسلام

کرنل رانی

کرنل رانی

کرنل رانی کی غرور و تکبر اور نخوت و رعونت سے بھرہور، ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی ویڈیو آپ نے دیکھ ہی لی ہو گی۔ دیکھئے متعلقہ حکام اس پر کیا ایکشن لیتے ہیں۔۔۔ لیتے بھی ہیں کہ نہیں۔

خیر! ویڈیو تو وائرل ہو ہی گئی۔ محفوظ بھی ہو گئی۔  جانے کب تک کے لئے۔۔۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ بار بار دیکھی گئی۔ بار بار دیکھی جا رہی ہے۔ جانے کب تک بار بار دیکھی جائے گی۔ صرف یوٹیوب پر کئی لنکس پر موجود ہے۔ کسی لنک پر ویو کاؤنٹ 86 ہزار کہیں 35 ہزار کہیں 8 ہزار کہیں 12 ہزار۔ باقی فیس بک ٹوئیٹر کا ویو کاؤنٹ علیحدہ۔ واٹس ایپ پر شیئرنگ کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ لطیفے چٹکلے الگ بن رہے ہیں تھوک کے حساب سے اور تنقید و تبرا الگ۔ کیا کمائی کی ہے بیگم صاب نے، وہ بھی ماہ مبارک میں۔

کاش کرنل رانی کو احساس ہو کہ اس وقت وہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکی ہیں۔ گوگل فیس بک یو ٹیوب پر فقط لفظ “کرنل” ٹائپ کریں تو آگے آٹومیٹیکلی “کرنل کی بیوی” لکھا ہوا آ جاتا ہے۔ یوٹیوب فیس بک ٹوئیٹر انسٹا گرام کی وساطت سے ان کی برہنگیٔ فکر اور آوارگیٔ لسان کے ڈنکے چہار دانگ عالم میں بج رہے ہیں۔ ایک جم غفیر کو وہ خود پر گواہ بنا چکی ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

خوش نصیبی اس امت کی کہ اس کے گناہوں پر ستاری کی چادر ڈالی گئی۔ یہاں تک کہ حساب کتاب بھی چھپا کر لیا جائے گا۔ بد بختی ان کی جن کے اوپر سے یہ چادر کھینچ لی جائے۔۔۔  جن کے گناہ ایک خلقت پہ آشکار ہو جائیں۔ جن کے خبث باطن سے اپنے پرائے سب آگاہ ہو جائیں۔ جن کی عزت کا فالودہ بن جائے۔ جو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ الامان الحفیظ۔ تکبر تو ویسے ہی بدترین گناہ ہے۔۔۔ وہ کہ جس کے سبب شیطان راندہ درگاہ ہوا۔

یہ واقعہ بڑا سبق آموز ہے۔ پناہ مانگنی چاہئے اللہ تبارک و تعالی سے کہ وہ اپنی ستاری کی چادر ہمارے اوپر سے کھینچ لے۔ اس ستاری کی چادر میں دبکے رہنے ہی میں عافیت ہے چہ جائیکہ اسے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر سے نوچ لیا جائے۔ آج انٹرنیٹ اور موبائل کیمرے کے دور میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ذرا سی لغزش سارے عالم میں رسوائی کا سبب بن جاتی ہے یا بن سکتی ہے۔ جیسا کہ اے ٹی ایم مشینوں کے پاس لگائے گئے ہینڈ سینیٹائزرز کے چرانے والوں والیوں کی ویڈیوز، جیسا کہ جیب کاٹنے والی خاتون کی ویڈیو، جیسا کہ کپڑے زیور چرانے والی خواتین کی ویڈیوز۔۔۔ جیسا کہ حالیہ واقعہ۔ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا۔
اللھم استر عیوبنا۔
اللھم انا نسئلک العفو و العافیة فی الدنیا و الآخرة۔

 

Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اسلام, علم دین

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

دین عبادت کا نہیں اطاعت کا نام ہے۔
اللہ کے ہاں کوانٹٹی نہیں کوالٹی دیکھی جاتی ہے۔
اللہ کے ہاں مقدار نہیں، اخلاص کی اہمیت ہے۔
شریعت میں عام قاعدہ ہے، مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔

ایمان والوں کو کہا گیا اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ اولوا الامر کون ہیں؟ حکومت، علمائے دین، متعلقہ شعبہ کے ماہرین۔ مثلا مریض کے لیے معالج، طالبعلم کے لیے استاد۔۔۔ علی ھذا القیاس۔

ہم کتنے نمازی ہیں یہ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اس کی گواہ ہماری مساجد بھی ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مسجد کے ہال صحن دالان حتی کہ چھتیں تک بھری ہوئی ہوتی ہیں جبکہ باقی چونتیس نمازوں میں مسجد کا ہال ہی پر ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اور فجر کا تو ذکر ہی رہنے دیجئے۔

اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی! ہفتہ بھر نمازوں سے غافل… جمعہ کا اہتمام۔ سال بھر نمازوں میں غفلت… رمضان میں مسجد کو دوڑیں۔ عید کے بعد پھر سال بھر کے لیے غائب۔ الا ما شآء اللہ۔

عذر کی صورت میں معذور کو خاصی آسانی عطا کی گئی۔ لیکن رعایت کے معاملہ میں بھی ہم افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ مثلا بیٹھ کر نماز۔ معذور کو رعایت حاصل ہے کہ اپنی تکلیف و مرض کی شدت کے مطابق بیٹھ کے نماز پڑھے۔ بیٹھنے کا مطلب زمین پہ بیٹھ کے نماز پڑھی جائے۔ لیکن چونکہ فی زمانہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کو کرسی پر بیٹھنا ہی فرض کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ادھر کوئی معمولی سا عارضہ لاحق ہوا ادھر کرسی پکڑی۔ اب دفتر بازار واک سے لے کر مسجد آنے تک سارے کام پیدل ہو رہے لیکن نماز کرسی پر! ایسے ہی رمضان کے روزوں کا معاملہ ہے۔ بعضے محض زکام یا کسی معمولی بیماری پر روزہ چھوڑنے کو تیار۔

دوسری جانب نماز قصر کا مسئلہ ہے۔ شریعت نے چودہ سو برس پہلے بتا دیا کہ مسافر قصر نماز ادا کرے۔ مسافر کی تعریف بھی بیان کر دی۔ لیکن بعض انٹیلیکچوئلز شرعی حکم کے برخلاف پوری نماز پڑھنے پر مصر۔ تاویل یہ کہ اب سفر پہلے جیسا پر صعوبت کہاں رہا؟ یعنی شریعت آسانی دے رہی ہے لیکن چونکہ یہ آسانی اپنی سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔ سو یہاں بھی اپنی ہی کرنی ہے۔

اب اتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جو آج کل درپیش ہے۔ کورونا وائرس کے سبب مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی۔ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء سے مشاورت کے بعد جمعہ کے اجتماعات کو تین تا پانچ افراد تک محدود کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ بڑے بڑے علماء نے فتاوی جاری کئے کہ باقی مسلمان حکومتی اقدام کی روشنی میں معذور ہو گئے۔ لہذا اب شرعی عذر کے سبب یہ مسلمان گھروں پر ہی نماز ظہر ادا کریں۔ لیکن صاحب… میں نہیں مانتا!

اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ مغربی ممالک سے لے کر مشرق وسطی تک اور سعودی عرب سے لے کر پاکستان تک اکثر مساجد بند ہیں یا نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں ڈاکٹر علمائے دین اور حکمران سب ایک صفحہ پر ہیں۔ گویا امت کا سواد اعظم ایک نکتے پر متفق ہے کہ وباء کے پھیلاؤ اور نقصانات کے باعث ماہرین طب کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور موجودہ غیر معمولی صورتحال کے سبب مذہبی اجتماعات کو جہاں تک ممکن ہو سکے مختصر و محدود کر دیا جائے۔ لیکن….میں نہ مانوں۔۔۔

مسجدیں بند ہونے یا جمعہ پر حکومتی پابندی سے یقینا کوئی مسلمان خوش نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے مسجد جانے پر اسے مطعون کر سکتا ہے۔ دکھ اور افسوس لیکن اس بات کا ہے کہ نہ حکومتی احکامات کی پابندی کی جا رہی نہ علماء کی ہدایات پر کان دھرے جا رہے نہ ڈاکٹر صاحبان کی التجاؤں کو سنجیدہ لیا جا رہا، اور نہ ہی امریکہ اسپین اٹلی سے آنے والی آہ و بکا سے عبرت پکڑی جا رہی ہے، الا ما شآء اللہ۔

بعض دین سے محبت رکھنے والے حکومتی اقدام پر معترض ہیں کہ سپر اسٹورز اور بازار کھلے ہیں لیکن مساجد پر پابندی پے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ محترم آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ سارے اسکول کالج یونیورسٹیز تمام مدارس سارے ہوائی اڈے ریلوے سروس بس سروس کریم اوبر سروس ہوٹل ریستوران ٹورزم سارے چائے کے ہوٹل تمام شاپنگ مال سارے شادی ہال تمام سنیما گھر مکینک کپڑے جوتے کی دوکانیں بے شمار فیکٹریز اور جانے کیا کیا بند ہوا پڑا ہے۔ حتی کہ اسپتالوں میں او پی ڈیز بھی بند ہیں۔ فقط چند گنے چنے شعبے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ بھی دن میں محدود وقت کے لیے۔

پھر تقریبا تمام ہی سپر اسٹورز نے چار حفاظتی تدابیر دروازے پر ہی لازمی اختیار کی ہوئی ہیں۔ اول ماسک کے بغیر کوئی گاہک اندر نہیں جا سکتا۔ دوم ہر فرد کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔ سوم ہر فرد کے ہاتھ سینیٹائز کئے جاتے ہیں۔ چہارم ٹرالی کے دستے کو جراثیم کش کیمیکل سے صاف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ ہجوم پر اعتراضات کے بعد بعض اسٹورز سیل بھی کئے گئے جس کے بعد ان سپر اسٹورز نے پانچویں تدبیر یہ اختیار کی کہ گاہکوں کو باہر ہی مناسب فاصلے سے قطار میں کھڑا کر کے انتظار کرایا کیا جا رہا ہے اور اندر بھی کراؤڈ مینیجمنٹ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

اب آئیے مساجد پر۔ علماء نے جمعہ پر حکومتی پابندی پر عوام کو معذور قرار دیتے ہوئے گھروں میں ظہر ادا کرنے ہدایت کی۔ لیکن عوام نے اس شرعی رعایت کو رد کر دیا۔ اور ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت کا ادراک نہ کرتے ہوئے مسجدوں کو گئے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اولین جمعہ میں مساجد میں خطبہ سے قبل اردو بیان بھی ہوا۔ اس کے بعد اگلے جمعہ حکومت نے زیادہ سختی کی اور 12 سے 3 بجے کرفیو اور مساجد کو تالے لگانے جیسے انتہائی اقدامات کئے۔ اس تدبیر کا توڑ یہ کیا گیا کہ بعض نمازی 12 بجے سے قبل ہی مساجد پہنچ گئے یا کرفیو کے اوقات میں چور دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ جمعہ کے بعد جب بڑی تعداد میں نمازی مساجد سے باہر نکلتے دیکھے گئے تو عوام اور پولیس کے درمیان نوک جھونک یا لاٹھی چارج و پتھراؤ سے لے کر امام مسجد کی گرفتاری ایسے ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے۔ ہماری دانست میں ان سب واقعات کا بنیادی سبب حکومتی احکامات سے ہماری سرتابی ہے۔

اولوا الامر کی ہدایات یہ بھی تھیں اور ہیں کہ کم عمر بچے مسجد نہ جائیں۔ اسی طرح بزرگ افراد جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس کے سبب زیادہ خطرے میں ہیں مسجد نہ جائیں۔ نزلہ زکام بخار یا کسی اور بیماری میں مبتلا افراد بھی مسجد نہ جائیں۔ لیکن افسوس عمر رسیدہ افراد ایک مرتبہ پھر ہمارے برادر خورد کے اس قول کی تائید کرتے نظر ائے کہ ہمارے ہاں عمر رسیدہ افراد تو کمی نہیں، بزرگ لیکن شاذ ہی کوئی ملتا ہے۔ علماء نے کہا ماسک اور دیگر تمام حفاظتی تدابیر اختیار کر کے مسجد آئیں۔ لیکن خال خال ہی کوئی ماسک پہنے مسجد جاتا دکھائی دیا۔ ایمان ہمارا ایسا نحیف و لاغر کہ جمعہ کے جمعہ مسجد لاتا ہے لیکن توکل میں ہم شاید خود کو سیدنا عمر فاروق سے بھی آگے سمجھتے ہیں۔ ہماری ایسی لاپرواہیوں کے باعث دین دینی مراکز اور علماء و ائمہ مساجد کس قدر رسوا و بدنام ہو رہے ہیں اس کا ہمیں نہ احساس ہے نہ فکر۔ جون ایلیا کا یہ قطعہ نہایت موزوں و بر محل معلوم ہوتا ہے۔۔۔
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی

قرآن ایمان والوں کو کہتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔ انما الاعمال بالنیات کی روشنی میں امیر اور اولو الامر کی اطاعت کی نیت سے گھر پر نماز ادا کر لی جائے، یا رعایت و رخصت پر یہ سوچ کر عمل کر لیا جائے کہ یہ بھی اللہ کو پسند ہے تو ان شآء اللہ اس پر بھی بڑا اجر و ثواب متوقع ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی!