Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, Social, معاشرت, اسلام

طوفان آتا کیسے ہے

طوفان آتا کیسے ہے

ان دنوں ‘کیار’ نامی سمندری طوفان نے بحیرہ عرب کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ‘کیار’ بحیرہ عرب کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا اور سال 2019 میں دنیا بھر میں آنے والا سب سے شدید سمندری طوفان ہے۔

گزشتہ شب ایک ٹی وی رپورٹ میں کراچی کے ساحلی علاقے ہاکس بے کا منظر دکھایا گیا کہ کیسے سمندر کا پانی سڑک تک آ رہا ہے۔ دوسری طرف بہت سے منچلے بھی وہاں موجود تھے۔ رپورٹر نے پوچھا آپ لوگ یہاں کیوں جمع ہیں؟ جواب آیا: ہم یہ دیکھنے آئے ہیں کہ طوفان آتا کیسے ہے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سیرت النبی ﷺ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تو ہوا بھی تیز چلتی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔ اس حدیث کی تشریح یہ بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد پرآندھی کا عذاب آیا تھا۔ اس لیے آندھی آنے پر آپ ﷺ عذاب الٰہی کا تصور فرما کر گھبرا جاتے۔

ایک اور واقعہ حجة الوداع کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد 10 ذی الحجة کی صبح واپس منیٰ کو روانہ ہوئے۔ منٰی کی راہ میں جب وادی محسر کے دامن میں پہنچے تو اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی۔ واضح رہے کہ وادی محسر وہ مقام ہے جہاں رب کعبہ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعہ کنکریاں برسا کر نیست و نابود کر دیا۔

ایسے ہی قرآن پاک میں سورة الاحقاف آیت 22 تا 25 میں حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا قصہ بیان ہوا۔ قوم عاد نے ہود علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان دھرنے کی بجائے الٹا اپنے نبی کو چیلنج کر دیا۔۔۔

(اے ہودؑ) اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا تم وعده کرتے ہو اسے ہم پر لے آؤ(22) (حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو (23) پھر جب انہوں (قوم عاد) نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (ہود علیہ السلام نے کہا: نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے (24) جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔

زلزلے سیلاب آندھی طوفان یہ سب قدرتی آفات کی مختلف شکلیں ہیں جن سے بعض قوموں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ 2004 میں انڈونیشیاء میں سونامی آیا تھا۔ بحر ہند میں 80 تا 100 فٹ بلند لہریں بنیں۔ یعنی 8 تا 10 منزلہ عمارت جتنی بلند لہریں۔ جو لہر بند آچے نامی شہر کے ساحل سے ٹکرائی وہ تیس فٹ بلند بتائی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی تھا گویا سمندر ساحل پر امڈ آیا۔ سوا دو لاکھ انسان لقمہ اجل بنے۔ بعض منچلے اس وقت بھی تصویر کشی میں مشغول تھے۔

اللہ نہ کرے کہ یہ طوفان عذاب الہی ہو۔۔۔ قدرتی آفت بہرحال ہے۔ یہ وقت اٹھکھیلیاں کرنے کا نہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے۔ ہر چیز مذاق نہیں ہوتی۔ خاص کر سمندری طوفان تو بالکل بھی مذاق نہیں۔

#Kyaar

Behaviors & Attitudes, Emaan, Hajj Umrah, Social, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔3

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے* 3

کھجور آب زم زم اور شاپنگ کے باعث حج سے واپسی پر اکثر حاجیوں کا بیگیج (سوٹ کیس) کا وزن مقررہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چنانچہ جدہ ایئر پورٹ پر کسی حاجی کے سامان کا وزن 5 کلو کسی کا 10 کلو اور کسی کا 20 کلو زائد ہو جاتا ہے۔ بعضوں کا اس سے بھی زیادہ۔

اضافی وزن کے چارجز اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سن کے حاجیوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہیں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ حاجی کو شارٹ کٹ کی سجھاتا ہے۔ دو نمبری پر اکساتا ہے۔

حاجی ایئرلائن افسر سے مک مکا کی کوشش کرتے ہیں۔ شیطان تو افسر پر بھی محنت کر رہا ہوتا ہے۔ سو کہیں نہ کہیں معاملہ “طے” ہو جاتا ہے۔ تھوڑے سے پیسوں میں۔۔۔

یاد رکھئے۔۔۔

یہ رشوت ہے۔ رشوت کے اس لین دین سے بچئے۔

کئی طریقے ہیں۔۔۔

اول: اپنا سامان مقررہ حد کے اندر رکھئے۔ زیادہ شاپنگ نہ کیجیے۔ پانچ سات کلو کھجور بہت کافی ہو جاتی ہے تقسیم کرنے کے لیے۔ اور اب تو پاکستان میں بھی ملنے لگی ہے۔ کھجور مدینہ منورہ ہی سے خریدیں۔۔۔ اس نیت سے کہ وہاں بسنے والوں کا کاروبار چلتا رہے۔ انہیں نفع ہو۔ یہ نیت بھی باعث اجر و ثواب ہے۔ کم پڑ جائے تو یہیں پاکستان سے خرید لیجیے۔ امتیاز سپر مارکیٹ پہ بھی سارا سال وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ عجوہ۔ عنبر۔ خضری۔ سکری۔ صقعی۔ صفاوی۔ مبروم۔ سب مل جاتی ہیں۔

دوم: سامان زیادہ ہو جانے کی صورت میں اپنے گروپ کے حاجیوں میں جن کے سامان کا وزن مقررہ حد سے کم ہو ان کے ساتھ اپنے سامان کا اجتماعی وزن کرا لیجیے۔ اگر آپ کا سامان دس کلو زیادہ ہے اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک دو ساتھی کا سامان مقررہ حد سے دس کلو کم ہے تو آپ کا کام بن گیا۔ آپ ان کے ساتھ اپنے سامان کا مشترکہ وزن کرائیے۔ بغیر کسی اضافی رقم کے آپ کا سامان نکل جائے گا۔

سوم: اگر یہ بھی ممکن نہ ہو سکے تو پھر بلا چوں چرا اضافی چارجز ادا کر دیجیے۔

یاد رکھئے۔۔۔

رشوت حرام ہے۔ گناہ کبیرہ ہے۔ حدیث کے مطابق رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

یاد رکھئے۔۔۔

آپ ابھی حج کر کے آ رہے ہیں۔ سارے گناہ معاف کرا کے آ رہے ہیں۔ شیطان کو کنکریاں مار کر آ رہے ہیں۔ لاکھوں روپے داؤ پر لگائے تھے آپ نے اس مغفرت و بخشش کے حصول کے لیے۔ کیا ابھی سے سب برباد کر دیں گے۔ ابھی تو سر پہ بال بھی واپس نہیں آئے۔

محتاط رہیے۔۔۔

اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔2

*اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے* 2

بعض حاجیوں کو دیکھا کہ اگر حرم شریف میں چپل گم ہو گئی تو باہر پڑی کوئی بھی چپل پہن کر چل دیئے۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ بعضے تو دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو ایسا کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ ایک تو یہ چپل چوری میں شمار ہو گا، دوم کسی مسلمان کی دل آزاری کا سبب ہو گا۔ اور بھی کئی قباحتیں ہیں۔

چپل غائب ہونے پر یقیناً رنج تو بہت ہوتا ہے لیکن ایک تو چپل اٹھانے والے کو اللہ کی رضا کے لیے فوراً معاف کر دینا چاہیے ۔ دوسرا یہ کہ باہر کا فرش بہت زیادہ گرم نہ ہو تو ننگے پیر جا کے ورنہ بصورت دیگر کسی ساتھی سے چپل مستعار لے کے یا ساتھی کو بھیج کے قریبی دوکان سے چپل خرید لینی چاہیے۔

یقیناً یہ بھی خاصا تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ پانچ دس ریال بھی خرچ ہو سکتے ہیں لیکن بہرحال کسی اور کی چپل اٹھانے کی صورت میں خدانخواستہ  آخرت میں پھنسنے سے کہیں بہتر ہے۔حج الگ خراب ہو گا۔

محتاط رہئے۔ اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Social, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔1

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے*

  اللہ رب العزت نے ۲۰۰۲ میں حج کی سعادت عطا فرمائی۔

 اس وقت دو حج اسکیمز ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ اور اسپانسر شپ۔

ہم نے اسپانسرشپ اسکیم کے تحت نیشنل بینک میں درخواست جمع کرائی۔ بینک کے ایک ملازم نے عبد الغنی نامی ایک صاحب  کا پتہ دیا جو حجاج کے لیے رہائش کا انتظام کرتے تھے۔

ان سے ملے۔ وہ مکہ کی رہائش کے 1600 ریال مانگ رہے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ 1500 ریال میں معاملہ نمٹ جائے۔ ( بینک اکاؤنٹ بالکل خالی ہو چکا تھا)۔ خاصی بحث و تکرار کے بعد طے پایا کہ 1500 ریال ابھی جمع کرا دیں۔۔۔ بقیہ 100 ریال مکہ مکرمہ پہنچ کر ادا کر دیجیے گا۔ ہم نے 1500 ریال ادا کر دیئے۔

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عبد الغنی صاحب ہاتھ ہی نہ آئے۔ یہاں تک کہ حج بھی گزر گیا۔ حج کے بعد عبد الغنی صاحب نے حجاج کرام کی ضیافت کی۔ اس دن وہ موجود تھے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کو یاد دلایا کہ بھائی ان کے 100 ریال ادا کر دیتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا کہ چھوڑو کیا ضرورت ہے یاد دلانے کی۔ میں نے کہا: بھائی ہمیں 100 ریال کے پیچھے اپنا حج برباد نہیں کرنا چاہیے۔ بات اس کے بھی دل کو لگی۔

جا کے عبد الغنی صاحب سے ملے اور یاد دلایا کہ آپ کے 100 ریال باقی تھے۔

اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا۔

بولے: ارے چھوڑیئے۔۔۔ خیر ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔ بس۔۔۔ ہو گیا سب۔
اللہ اکبر۔۔۔

اللہ رب العزت نے ہمارا حج بھی خراب نہیں ہونے دیا اور ہمارے 100 ریال بھی بچا لیے۔ فللہ الحمد۔

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کی عطا کردہ توفیق سے یہ ممکن ہوا۔ ہمارا کوئی کمال نہیں۔

معزز عازمین حج

ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حج پہ شیطان بہت چوکس ہوتا ہے۔ مقابلے میں حاجی کو بھی بہت چوکس اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چند برس قبل ایک صاحب گورنمنٹ پیکج پہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے میں ہر حاجی کے لیے دہی کا ایک پیکٹ یا ایک کیلا یا ایک سیب مختص ہوتا ہے۔ بعض حاجی ایک کے بجائے دو دو اٹھا لیتے۔۔۔ پیچھے کئی حاجی محروم رہ جاتے۔

ایسے ہی بند کمروں میں سگریٹ پینا ساتھی حاجیوں کے لیے سخت آزار کا باعث ہوتا ہے۔ محتاط رہیے! اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, عمرہ

Expectations of Hajis

حجاج کرام کی بلند و بالا توقعات

محترم عازمین حج

اپنی توقعات کو پست رکھئے۔

بہت زیادہ توقعات وابستہ نہ کیجیے۔

خانوادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مشقت یاد کیجیے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ بی بی ہاجرہ اور اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ایک ویران جگہ لا کے چھوڑ دیا۔

ذرا اس ویرانی کا تصور تو کر کے دیکھئے۔ ذرا اس گرمی کا تصور تو کیجئے۔

کیا بی بی ہاجرہ نے کوئی شکوہ کیا۔

انہوں نے جب یہ جانا کہ معاملہ اللہ کے حوالے ہے تو پھر توکلت علی اللہ کا پیکر بن گئیں۔

بی بی ہاجرہ کی صبر و شکر کی ساری ادائیں آج حج کا حصہ ہیں۔

حج انتظامات بہت شاندار ہوتے ہیں۔

دوبارہ پڑھئے *بہت شاندار۔*

ماضی میں پتھریلی زمین پر بیٹھنا پڑتا تھا۔

اب جگہ جگہ ماربل ٹائل قالین ایئر کنڈیشنرز لگے ہیں۔

عرفات میں گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے پانی کی پھوار کا بندوبست کیا گیا ہے۔ واش روم کچن اسپتال سمیت سارے انتظامات موجود۔

پہلے سہولیات کم تھیں لیکن مجمع بھی کم تھا۔

آج کا اصل چیلنج حجاج کرام کا ازدحام ہے۔

بیس پچیس لاکھ حجاج کرام کو مقررہ اوقات میں مقررہ مقام تک پہنچانا اصل چیلنج ہے۔ دنیا کے بہت سے شہروں کی آبادی اس سے کہیں کم ہے۔

آٹھ ذی الحج کو منیٰ میں بیس پچیس لاکھ آبادی کا شہر آباد ہوتا ہے۔

اگلے 24 گھنٹے میں یہ بیس پچیس لاکھ کا مجمع پہلے مرحلہ میں منیٰ سے عرفات پہنچایا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں عرفات سے مزدلفہ اور اس سے اگلے مرحلے میں واپس منیٰ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ معاملہ کس قدر دشوار گزار اور نازک ہے۔ کھانے اور ٹرانسپورٹ میں اونچ نیچ عین ممکن ہے۔

ایک صاحب کہا کرتے تھے کہ حاجی کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حاجی کو حرم میں بھی ٹھہرا دو تو شکایت کرے گا کہ واش روم کے لیے بہت دور جانا پڑتا ہے۔

شیطان کے حملوں سے محتاط رہیے۔ ہر دم چوکنا رہیے۔

لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید

شکرگزاری کے بدلے مزید نعمتوں کی بشارت ہے۔ جبکہ ناشکری کی صورت میں سخت عذاب کی وعید۔

اللھم اجعلنا من الصابرین و اجعلنا من الشاکرین

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Namaz, Social, Uncategorized, معاشرت, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک, عمرہ

عربوں کی چند خوبیاں

عربوں کی چند خوبیاں

بعض حجاج کرام عرب باشندوں کے درشت رویہ کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ میں نے عربوں میں اس کے بر خلاف چند خوبیاں بھی دیکھیں۔ ان خوبیوں کو اپنانے کی کوشش بھی کی۔

 خوبی نمبر 1: نمازوں کی پابندی

 خوبی نمبر 2 : نماز کے وقت دوکان کاروبار بند

 خوبی نمر 3 : مسواک

خوبی نمبر 4: دو رکعت نماز تحیة المسجد کا التزام

 خوبی نمبر 5: قرآن کی تلاوت

 خوبی نمبر 6: پیر جمعرات کے روزہ کا اہتمام

 خوبی نمبر 7: افطار کے وقت دسترخوان پر مہمان نوازی

 خوبی نمبر 8: حاجیوں کا اکرام

خوبی نمبر 9: منیٰ مزدلفہ عرفات میں حاجیوں کے لیے اشیائے خورد و نوش کا نچھاور کرنا

 خوبی نمبر 10: حاجیوں کو روڈ کراس کرتے دیکھ کر گاڑی روک دینا

آپ بھی چاہیں تو ان خوبیوں کو اپنا سکتے ہیں۔ اپنی خامیوں پر نظر رکھئے اور دوسروں کی خوبیوں پر۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Hajj kay baad

حج کے بعد

حج کرنا آسان ہے۔۔۔ لیکن اس کو صحیح سلامت اپنی قبر تک لے کر جانا کہیں مشکل!

حج کے بعد اپنی بقیہ زندگی شریعت اسلامیہ کے مطابق گزارنے کی کوشش کیجیے۔ علماء کے مطابق بعض امور ایسے ہیں کہ بندہ چاہے سو رہا ہو یا جاگ رہا ہو حتی کہ نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو یا بیت اللہ کا طواف ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔۔۔ بندہ حالت گناہ میں ہے۔۔۔ چوبیس گھنٹے۔۔۔ دن رات۔

یہ گناہ کون سے ہیں۔

مردوں کے لیے داڑھی مونڈھنا یا ازار یعنی شلوار پاجامہ وغیرہ سے ٹخنوں کو ڈھانپنا۔

خواتین کا پردہ نہ کرنا۔۔۔ یا غیر ساتر یعنی باریک و مختصر یا نامکمل لباس۔۔۔ آدھی یا بغیر آستین کا لباس۔۔۔ ایسی ساڑھی جس میں پیٹ ننگا ہو۔۔۔ چست لباس جس میں بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوتے ہوں مثلا ٹائٹس پہننا۔۔۔ اس طرح کے لباس میں ملبوس خواتین مسلسل حالت گناہ میں کہلائیں گی۔ اب تو مرد بھی چڈے نیکر میں باہر گھومتے نظر آتے ہیں۔ یا خالی پاجامہ پہن کے باہر آ گئے جو ناف سے نیچے گر رہا ہے۔ آجکل جو پتلونیں آ رہی ہیں ان میں بندہ اکڑوں بیٹھے یا سجدے میں جائے تو آدھی آدھی تشریف عریاں ہوتی ہے۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ ستر پوشی کا خیال نہ کرنا محض خواتین ہی کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی خلاف شرم و حیا اور باعث گناہ ہے۔

اچھا یہ تو حالت گناہ کا بیان ہو گیا۔

اس سے اگلی حالت معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حالت کفر ہے۔

*دین کے کسی حکم پر عمل نہ کرنا باعث گناہ ہے لیکن دین کے کسی حکم کا انکار یا شعائر اسلام کا مذاق اڑانا کفر ہے۔*

نماز نہ پڑھنا روزہ نہ رکھنا داڑھی صاف کرنا یا پردہ کا اہتمام نہ کرنا یہ سب گناہ میں شمار ہو گا۔۔۔

لیکن

ان میں سے کسی کے انکار یا مذاق اڑانے یا کسی اور کلمہ کفر کی ادائیگی کے باعث بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

*خدانخواستہ ایسے کسی عمل کے ارتکاب سے ایمان ختم۔*

*شادی شدہ ہے تو نکاح بھی ختم۔*

*اور اگر حج کر چکا تھا تو وہ بھی باطل ہو گیا۔*

اب درج ذیل امور لازم ہوں گے۔

سچی توبہ

تجدید ایمان

اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔

*اگر صاحب استطاعت ہے تو حج بھی دوبارہ فرض ہے۔*

حج کے بعد گناہوں سے بچیں۔ خاص کر چوبیس گھنٹے کے گناہ!

مرد داڑھی اور ٹخنے کھلے رکھنے کا اہتمام کریں۔ خواتین پردہ اور ستر پوشی کا اہتمام کریں۔ کم از کم درجہ میں روڈ کا پردہ تو لازم کر ہی لیں یعنی گھر سے باہر نکلیں تو اس وقت پردہ لازمی کریں۔ بازار یا دفتر جانا ہو یا کسی تقریب میں یا کسی رشتہ دار کے گھر یا بچہ کو اسکول سے لینے کے لیے۔۔۔ جب تک راستہ میں ہیں کم از کم اتنی دیر ہی عبایا نقاب کا اہتمام کر لیں۔ کیا ضرورت ہے سب کو سب کچھ دکھانے کی!

مرد گھر کا سربراہ ہے اور بیوی بچے اس کے ماتحت۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں ہر کوئی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔
چنانچہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی یا بچیوں کے لباس کا خیال رکھے۔ انہیں بے پردہ یا غیر ساتر لباس میں گھر سے باہر جانے سے روکے۔ ورنہ آخرت میں اللہ رب العزت کے حضور جوابدہ ہو گا۔

گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ فرائض و واجبات کی ادائیگی کا بھی خوب اہتمام کریں۔ بعض لوگوں کو دیکھا کہ حج سے آنے کے بعد نمازیں بھی چھوڑ دیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دینے کو کفر کہا گیا ہے۔

پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کا بھرپور اہتمام کریں۔

 رمضان المبارک کے روزے رکھیں۔

دیگر فرض عبادات کا بھی خوب اہتمام کریں۔

اللہ سے لو لگائے رکھیں۔

اپنے ایمان کے حوالے سے حد درجہ چوکنا اور محتاط رہیں۔ شعائر اسلام کا مذاق اڑانے یا  فرائض دینیہ کے انکار سے گریز کریں۔ اللہ سے خوب ڈرتے رہیں۔ پناہ مانگتے رہیں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو ہدایت عقل سمجھ شعور عطا فرمائے اور شریعت مطہرہ کو مکمل طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ حج عمرہ کی سعادت بار بار عطا فرمائے۔

آمین

وما علینا الا البلاغ