Behaviors & Attitudes, Pakistan, اخلاقیات

Question

14th August, 2018

Today, my 6yr old daughter was going to her school for the #Independence_Day Celebrations. She was very excited. However, nobody knew how she was thinking about The Day.

On her way, she kept watching outside through the car’s window. Suddenly, she raised a question:

“Mumma! Aaj #Independence_Day hy… Lekin kisi nay Pakistan ko saaf he nahi kiya…
(Mumma! It’s Pakistan’s #Independence_Day today; yet nobody cleaned the country!)

 

#HeartMelt

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, JIHAD, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Sahaba kay Waqiat, جہاد

مجاہد

اسلام اور مسلمانوں کی حربی تاریخ شجاعت و بہادری کی لا زوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔

دور نبوی ﷺ کو لے لیجئے تو خود رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ جری۔۔۔ سب سے زیادہ نڈر ۔۔۔ سب سے زیادہ  بہادر۔

پھر آپ ﷺ کے جانثار صحابہ کرام ؓ ۔۔۔ آپ ﷺ کے ایک اشارے پر  مر مٹنے کو ہر دم تیار۔

بدر میں بے سر و سامانی کے باوجود اپنے سے تین گنا بڑے دشمن سے ٹکرا گئے اور سرفروشی کا ایک درخشاں باب رقم کیا۔

احد میں بھی وہی بے سروسامانی۔۔۔  معرکہ میں مسلمانوں کی ابتدائی کامیابی کے بعد صورتحال کی تبدیلی، رسول اللہ ﷺ کا کفار کے نرغے میں آ جانا۔۔۔ ایسے میں سات انصاری اور دو قریشی کل نو جانثار آپ ﷺ کی حفاظت پر کمربستہ، ساتوں انصاری صحابہ ؓ کٹ کٹ کر گرتے رہے اور داخل جنت ہوتے رہے۔۔۔

سعد بن ابی وقاصؓ جن کے لئے فرمایا: تیر چلاؤ میرے ماں باپ تم پر قربان۔۔۔

طلحہ بن عبید اللہ ؓ جن کے بارے میں ارشاد ہوا: جو شخص کسی شہید کو روئے زمین پر چلتا ہوا دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو دیکھ لے۔۔۔

سید الشہدا حمزہ بن عبد المطلب، عبد اللہ بن رواحہ ، جعفر بن ابی طالب ، علی ابن ابی طالب ، ابو عبیدہ بن الجراح ، عمرو بن العاص ، سعد بن معاذ ، ابو دجانہ، اسامہ بن زید، اور بعد ازاں خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اجمعین ۔کیسے کیسے شجاعت کے مینار۔۔۔

صحابہؓ کے بعد کے ادوار میں قتیبہ بن مسلم باہلی، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر، محمد بن قاسم سے لے کر یوسف بن تاشفین، جلال الدین خوارزم شاہ، سلطان صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی، ٹیپو سلطان، سراج الدولہ، شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید رحمہم اللہ ایسی نابغہ روزگار ہستیاں۔ اور ان کے علاوہ بے شمار ایسے سپاہی جو محض رضائے الٰہی اور شوق شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر داد شجاعت دیتے ہوئے رزق خاک ہو گئے اور دنیا ان کا نام تک نہیں جانتی ۔۔۔۔۔ اللہ اکبر!

نشان حیدر پانے والے شہدا سے لے کر ایم ایم عالم جیسے شاہین تک۔۔۔ خراسان سے لے کر ہندوستان تک، ہسپانیہ سے لے کر بوسنیا چیچنیا تک، کشمیر سے لے کر کارگل تک اور سیالکوٹ سے لے کر سیاچن تک سرفروشی کی ان گنت داستانوں کی داستان۔۔۔

یہ داستان ختم نہیں ہوئی۔

یہ داستان قیامت تک جاری رہے گی۔

آج ایک طرف اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔۔۔ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔۔۔ مٹی پاؤ۔۔۔ سانوں کی۔۔۔ کی عملی تفسیر، قحط الرجال کا شکار امت مسلمہ کے خاکستر میں ایسی چنگاریاں ہنوز موجود ہیں جن کی دہشت سے عالم کفر لرزہ بر اندام ہے ، جن کی سرفروشی و جانبازی، جرات و بہادری دیکھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔۔۔

کیا ہوا جو آج پرائے تو کیا اپنے بھی ان کے لئے دو حرف تحسین کے ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔۔۔

لیکن
تاریخ تو رقم ہو رہی ہے۔

بلکہ تاریخ تو رقم ہو چکی ہے!

کہ سارا عالم کفر اپنے مسلمان اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ آور ہوا تھا، واقعتاً اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، ہر قسم کا اسلحہ آزما لیا گیا ۔۔۔ سنگلاخ پہاڑوں کو مٹی کے تودوں میں تبدیل کر دیا گیا۔۔۔

ایسے میں وہی مٹھی بھر مجاہدین اسلام عالم کفر کے خلاف نبرد آزما، گویا زبان حال سے کہہ رہے تھے

؎ ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

تاریخ نے مادی قوت و اسباب کے مابین ایسا تفاوت شاید ہی کبھی دیکھا ہو گا!

فیصلہ شاید آج نہ ہو سکے ۔۔۔ ہو بھی نہیں سکتا کہ

؎ جنوں کا نام خرد رکھ دیا، خرد کا جنوں

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

لیکن مستقبل کا مورخ جب اِس دور کی تاریخ لکھے گا تو بعید نہیں کہ اس سپہ سالار کا نام انہی مجاہدین کی فہرست میں درج کر دے جن کے اسمائے گرامی اوپر پیش کئے گئے۔

خبر آئی ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہ، امیر المجاہدین ملا محمد عمر انتقال فرما چکے ہیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون!

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

 

وضاحت: یہ مضمون 2015 میں ملا عمر رحمہ اللہ کے انتقال کی اطلاع پر تحریر کیا تھا۔ بوجوہ تاخیر سے یہاں اب شایع کیا جا رہا ہے۔

Behaviors & Attitudes, Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

TABDILI

یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ اس مضمون میں ان امور کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے خیال میں کراچی کی سیاست میں واضح تبدیلی کا باعث بنے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔

یہ جو ووٹ کا رجحان ہے

اس کے پیچھے کپتان ہے

حالیہ انتخابات میں ایم کیو ایم جس ہزیمت کا شکار ہوئی ہےوہ ایم کیو ایم کی قیادت اور اس کے سپورٹرز کے لئے انتہائی غیر متوقع اور نا قابل قبول ہے۔ہماری دانست میں وجوہات بہت سادہ ہیں جن کے سبب کراچی کی مقبول ترین سیاسی جماعت اس قدر عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی، اور پی ٹی آئی نے فقید المثال کامیابی حاصل کی۔

اسّی کی دہائی میں ایم کیو ایم کراچی اور شہری سندھ کے متوسط طبقہ کی جماعت بن کر ابھری۔ شہری اور دیہی سندھ میں تفریق، کوٹہ سسٹم، اردو بولنے والوں سے امتیازی سلوک، ان کے جائز حقوق کی پامالی یہ سب وہ عوامل تھے ، ایم کیو ایم جن کے خلاف احتجاج کے طور پر وجود میں آئی۔ چنانچہ ابتدا ہی سے اسے شاندار پزیرائی حاصل ہوئی۔ الطاف حسین ایک نمایاں لیڈر کے طور پر ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ الطاف حسین خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سپورٹرز کے سامنے ایک انقلابی منشور پیش کیا کہ ایم کیو ایم ان کے حقوق کے لئے کس طرح پارلیمانی جد و جہد کرے گی اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوں گے۔ لوگوں کو ان کا پروگرام قابل عمل نظر آیا۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے جمہوری راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایم کیو ایم نے متعدد انتخابات میں ریکارڈ توڑ کامیابیاں حاصل کیں۔

لیکن ۔۔۔ پچیس برس گزرنے کے بعد بھی خواب خواب ہی رہا۔ پچھلی نسل کے بزرگ خواب کی تعبیر کے انتظار میں قبر کے کنارے تک، اور جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے۔ خواب دکھانے والا پردیس سدھارا۔ پیچھے کارکنان کا جبر شروع ہوا۔ گن پوائنٹ پر چندے فطرے بھتے قربانی کی کھالوں کی وصولی اور جبری ہڑتالیں۔ کاروبار دوکانیں ٹھپ، تعلیمی ادارے بند۔ ظلم و جبر کے خلاف بننے والی جماعت آج خود ظلم و جبر کی علم بردار بن چکی تھی۔ سو پچھلی نسل میں سے بہت سے لوگ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو ئے۔

پھر یہ بھی کہ پردیس سے پارٹی بھلا کب تک چلائی جا سکتی تھی، کب تک متحد و منظم رکھی جا سکتی تھی۔ چنانچہ گزشتہ الیکشن کے بعد سے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو چلی۔ قائد کو مائنس کر دیا گیا۔ پارٹی کے اندر سے ہی کئی دھڑے وجود میں آگئے۔ جب سرکردہ رہنماؤں نے ہی اپنے لیڈر کو خیر باد کہہ دیا تو بھلا ووٹرز کو کیا پڑی تھی تعلق نبھانے کی۔

دوسری طرف ہماری نئی نسل خاموشی سے جوانی کی طرف گامزن تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ کل کے بچے آج شناختی کارڈ ہولڈر ہو چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم نکتہ تھا، کراچی کی دیگر سیاسی جماعتیں جسے مِس کر گئیں۔ دو بچوں کو دیکھ کر تو ہمیں خود حیرت ہوئی کہ اچھا یہ بھی ما شآء اللہ ووٹ ڈالنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس نئی پود کو ایم کیو ایم کا منفی تعارف تھا۔ ادھر عمران خان کی صورت میں ملک کے سیاسی افق پر ایک نیا لیڈر نمودار ہوا جو کہ نئی نسل کو نئے پاکستان کا رومانوی خواب دکھا رہا تھا۔ ادھر تیس برس سے ملکی سیاست پر چند معروف چہرے ہی قابض تھے جنہوں نے قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہ دیا۔ تقریباْ اسی طرح کا ویکیوم اسی طرح کے زمینی حالات موجود تھے جن کے نتیجے میں ایم کیو ایم وجود میں آئی.

کپتان کی سیاست سے ضرور اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہو گی کہ اس نے نئی نسل کو سیاست کی جانب متوجہ کیا، ووٹ کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا. عمران خان نے قومی سطح پر تبدیلی کے خواہشمند افراد کو اپنی جماعت کے ذریعے ایک راہ دکھائی۔ کپتان کا پیش کردہ نئے پاکستان کا خواب اس قدر حسین و دلکش تھا کہ نئی پود ساری کی ساری اس کی جھولی میں جا گری۔ ساتھ ہی پچھلی نسل کے مایوس و بیزار لوگوں نے بھی اپنا وزن ڈالا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سو حیرت کیسی؟

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Uncategorized, نماز, اسلام, علم دین

Prayer on Chair

کرسی پر نماز

کرسی پر نماز کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔

بہت سے لوگ معمولی عذر یا تکلیف کی صورت میں بھی کرسی پکڑ لیتے ہیں۔

ہر فرد کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ اپنے عذر کی نوعیت کو کسی عالم دین سے ڈسکس کر کے ان سے معلوم کرے کہ آیا اس کے لئے کرسی پر نماز ادا کرنا درست ہے یا نہیں۔

عمل دیکھ کر نہیں سیکھ کر کرنا چاہئے۔

یہ نماز کا مسئلہ ہے۔

فرض عبادت کا مسئلہ ہے۔

روزانہ اور پانچ وقت کا مسئلہ ہے۔

اورقیامت کے روز پہلے سوال کا مسئلہ ہے۔

Behaviors & Attitudes, Islam, Social, اخلاقیات

Watch, then Wash

گھر کی دہلیز ایسے اوقات میں دھوئیے جن اوقات میں گلی میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوتی ہو۔۔۔

اور اگر آپ کا گھر مسجد کے راستے یا اطراف میں ہے تو پھر دھلائی سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ نماز کا وقت تو قریب نہیں۔۔۔

گلی میں کیچڑ پانی کے باعث نمازیوں کو مسجد جاتے آتے دشواری ہوتی ہے۔

#خودکلامی

Behaviors & Attitudes, Social, پاکستان, اخلاقیات, سیاست

Bara Hosla Chahiye

بڑا حوصلہ چاہئے

بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
بڑا جگرا چاہئے۔۔۔
قصور کی بے قصور زینب کے اغوا کی سی سی ٹی وی ویڈیو دیکھنے کے لئے۔۔۔
ایک معصوم سی جیتی جاگتی گڑیا۔۔۔
اور ایک بھیڑیا۔۔۔
بھیڑیے کے ہاتھ میں۔۔۔
گڑیا کی انگلی۔۔۔
گڑیا کی بے فکری کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے بھیڑیا اس کا کوئی واقف ہے۔۔۔
سی سی ٹی وی نے بس اتنا ہی دکھایا۔۔۔

اس کے بعد ایک تصویر ہے۔۔۔
جسے دیکھنے کے لئے بھی۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
بڑا جگرا چاہئے۔۔۔۔
کچرے کے ڈھیر پر پڑی معصوم سی گڑیا کی روندی ہوئی لاش۔۔۔

اور اس سب کے بیچ۔۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
اس سب کے بیچ گزرے۔۔۔۔
ان دیکھے مناظر کو چشم تصور سے دیکھنے کے لئے۔۔۔

گڑیا بھیڑیے کے ساتھ بڑے اطمینان سے چلی گئی۔۔۔
اور پھر بھیڑیے نے گڑیا کے ساتھ بڑے اطمینان سے۔۔۔۔

پورے چار دن گڑیا لاپتہ رہی۔۔۔
بھیڑیا چار دن تک بھنبھوڑتا رہا ہو گا۔۔۔

بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔۔
وہ آوازیں سننے کے لئے۔۔۔
جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نہ ریکارڈ ہو سکیں۔۔۔
ویسے بھی سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ میں آواز کہاں ہوتی ہے۔۔۔
کتنا چیخی ہو گی۔۔۔
کتنا تڑپی ہو گی۔۔۔۔
کتنا مچلی ہو گی۔۔۔۔
کتنا روئی ہو گی۔۔۔۔
کتنا سسکی ہو گی۔۔۔۔
کتنا چلائی ہو گی۔۔۔۔
امی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔
ابوووووووووووووو۔۔۔۔
کتنا درد۔۔۔۔
کتنا کرب۔۔۔
سہا ہو گا۔۔۔
کرب اور درد جیسے الفاظ اس قابل کہاں۔۔۔
کہ وہ بوجھ اٹھا سکیں۔۔۔
جو گڑیا نے سہا ہو گا۔۔۔
پورے چار دن۔۔۔۔

جن کی اولاد نہیں، وہ بھی لرز گئے۔۔۔
اور جو صاحب اولاد ہیں۔۔۔۔
خاص کر جو بیٹیوں والے ہیں۔۔۔
ان کی حالت نہ پوچھئے۔۔۔

کہ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔

اور۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
اس طرح کے بیانات جاری کرنے کے لئے۔۔۔
جو ارباب اختیار نے جاری کئے۔۔۔
کسی کو مسلے ہوئے پھول سے بد بو آ رہی ہے۔۔۔
تو کوئی مشورہ دے رہا ہے کہ بچوں کو گھروں میں رکھنا چاہئے۔۔۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ لاش پر سیاست نہ کیجئے۔۔۔

لیکن اے صاحبان اقتدار!
جان لیجئے۔۔۔
عوام کا حوصلہ اب جواب دیتا جا رہا ہے۔۔۔
عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔۔۔

زبانی جمع خرچ کے بجائے عملاً کچھ کر دکھائیے۔۔۔
اور بہت جلد کر دکھائیے۔۔۔
بھیڑئیے کو پکڑ کے دکھائیے۔۔۔
انصاف کے تقاضے فی الفور پورے کیجئے۔۔۔
اور سر عام کسی چوک پہ ٹانگ دیجئے۔۔۔

لیکن۔۔۔
اس کو یکدم پھانسی نہ دے دیجئے گا۔۔۔
پھانسی سے پہلے۔۔۔
اس کی چیخیں سنوا دیجئے۔۔۔
اس کا تڑپنا دکھا دیجئے۔۔۔۔
اس کا مچلنا دکھا دیجئے۔۔۔۔
اس کی سسکیاں سنوا دیجئے۔۔۔
اس کا چلانا دکھا دیجئے۔۔۔
اس کو اسی درد سے گزار دیجئے۔۔۔
اس کو اسی کرب سے گزار دیجئے۔۔۔۔

پلیز۔۔۔
جلدی سے وہ وقت وہ گھڑی وہ لمحہ لے آئیے۔۔۔
یقین جانئے۔۔۔
اس وقت کا انتظار کرنے کے لئے بھی۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔۔

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

Politician’s Marriages

سیاست دانوں کی شادیاں

جنگ جیو اور نونیوں کے مزے آ گئے ہیں۔
خوب چٹخارے لئے جا رہے ہیں کہ عمران خان نے ایک اور شادی کر لی۔
عمران خان شادی کرے یا طلاق دے ہر دو صورتوں میں مخالفین کی مراد بر آتی ہے۔ سب اپنی زبانوں کو دھار لگا کے میدان میں کود پڑتے ہیں۔
خیر۔۔۔
اپنی اپنی زبان ہے پیارے۔۔۔!

جنگ جیو اور نونیوں کے تبصروں کے حساب سے شادی ایک نہایت قبیح عمل اور غلیظ فعل معلوم ہوتی ہے۔ تو بھائی اگر یہ اتنا ہی گھناؤنا عمل ہے تو پھر ذرا اپنا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون اٹھائیے اور گوگل پر اپنے ہر دلعزیز لیڈر شہباز شریف کا پروفائل چیک کیجئے۔۔۔ چلئے اور شارٹ کر کے بتا دیتا ہوں، سرچ بار میں شہباز شریف اسپاؤسز  لکھ کے سرچ کر لیجئے۔ کر لیا آپ نے قارئین!؟

آپ کے سامنے ایک پیج اوپن ہوا ہو گا جس پر شہباز شریف کی بیگمات کے نام آ رہے ہوں گے۔

ذرا گنتی کیجئے گا کتنی بیگمات ہیں؟

ایک، دو ، تین ، چار ، پانچ۔

یس س س س!

شہباز شریف ابھی تک پانچ شادیاں کر چکے ہیں۔

پانچوں بیگمات کے نام یہ ہیں:

نصرت شہباز ، عالیہ ہنی، نرگس کھوسہ، تہمینہ درانی اور کلثوم حئی۔

-قارئین! اسی پیج پر کے عنوان سے ایک اور لنک بھی نظر آئے گا آپ کو۔
shahbaz sharif 5 wives story and reality
http://www.awamipolitics.com/shahbaz-sharif-5-wives-story-a
اس لنک پر کلک کیجئے تو شہباز میاں کی شادیوں کی مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔

-قارئین! ان تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کون کون سی شادیاں خفیہ طور پر کی گئیں۔ اور جنگ جیو اورنونیوں کے حساب سے خفیہ شادی ایک اور جرم ہے۔

-اچھا اب ذرا شہبازمیاں کی عمر اور شادیوں کی تاریخ بھی دیکھ لیجئے۔

وکیپیڈیا کے مطابق شہباز شریف 23 ستمبر 1951 کو پیدا ہوئے۔

ان کی پہلی شادی بیگم نصرت شہباز سے ہوئی، سال ہے 1973۔ اس وقت ان کی عمر تھی 22 برس۔

دوسری شادی انہوں نے عالیہ ہنی سے کی، سال ہے 1993۔ گویا اس وقت ان کی عمر تھی 42 برس۔

تیسرا نکاح انہوں نے اسی سال یعنی1993 میں فرمایا نرگس کھوسہ سے ، عمر وہی 42 برس۔

ایک عشرے کے بعد انہیں ایک اور شادی کا خیال آیا اور یوں 2003 میں انہوں نے تہمینہ درانی سے شادی کی، 52 برس کی عمر میں۔ واضح رہے کہ تہمینہ درانی کی بھی یہ تیسری شادی تھی اور شہباز میاں کی اہلیہ بننے سے قبل وہ غلام مصطفیٰ کھر کی اہلیہ ہونے کے باعث تہمینہ کھر کہلاتی تھیں۔

مزید کوئی ایک عشرے کے بعد شہباز میاں کا ایک اور شادی کا جی چاہا۔۔۔ اور یوں انہوں نے 2012 میں کلثوم حئی سے پانچویں شادی رچائی، اس وقت ان کی عمر 61 برس کے لگ بھگ تھی۔ کلثوم حئی کی بھی یہ دوسری شادی تھی۔

اوہوہوہوہوہوہوہو!

بڑھاپے میں شادی تو ایک اور جرم ہے۔

ہے ناں؟

-اچھا اب ذرا ان کی کلثوم حئی سے شادی کی تفصیل بھی گوگل پر سرچ کر لیجئے ۔ کلثوم حئی شہباز میاں کے نکاح (قبضے؟) میں آنے سے قبل سابق ڈی سی او اکاڑہ طارق قریشی کی بیوی تھیں۔ مذکورہ بالا لنک کے مطابق شہباز میاں نے کلثوم حئی سے درخواست (؟) کی تھی کہ اپنے موجودہ شوہر سے طلاق لے لو ۔ انہوں نے رضامندی (؟) ظاہر کی اور طلاق لے لی۔ یوں شہباز میاں نے ان سے شادی کر لی۔

قارئین!
اگر آپ کو لگتا ہے کہ کہانی ختم ہو گئی تو آپ غلطی پر ہیں۔ شہباز کی اب تک کی “پرواز” کے حساب سے ان کی اگلی شادی 2022 میں ہونے کا قوی امکان بنتا ہے، اگر ان کی عمر نے وفا کی۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بیگم نصرت شہباز کا انتقال ہو چکا جبکہ عالیہ ہنی کو انہوں نے طلاق دے دی تھی۔ بقیہ تین بیگمات ان کے نکاح میں ہیں۔
گویا شہباز میاں کے پاس۔۔۔
ایک لائف لائن۔۔۔
ابھی باقی ہے۔

قارئین!
اگر آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ کہانی ختم ہو گئی تو آپ ابھی بھی غلطی پر ہیں۔

-ذرا شہباز میاں کے فرزند ارجمند حمزہ شہباز شریف کو بھی گوگل کر لیجئےگا۔

آگے کیا ہوا؟
وہ میں بعد میں بتاؤں گا۔
ابھی اس بک میں …
بہت سارے پیجز باقی ہیں۔۔۔