Behaviors & Attitudes, Pakistan, Social

Accidents on Seaside Picnics

پکنک اور حادثات

آہ!

پھر ایک پکنک ایک سانحہ بن گئی!

بارہ افراد ڈوب گئے… ایک ہی خاندان کے۔۔۔۔

انا للہ و انا الیہ راجعون.

کس قدر اندوہناک سانحہ ہے!

لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔۔۔ ایسے کتنے ہی المیے رونما ہو چکے۔۔۔

یہ سانحات، یہ المیے کیوں رونما ہوتے ہیں؟

وجہ ایک ہی ہے ۔۔۔ کہ ہم گزشتہ واقعات سے سبق نہیں لیتے۔

پھر وہی ہوا کرتا ہے ۔۔۔ جو ہوتا آیا ہے۔۔۔

جب گزشتہ سانحات سے نصیحت حاصل نہیں کی جائے گی تو پھر مزید عبرت ناک کہانیاں ہی جنم لیں گی۔ لے رہی ہیں۔۔۔!

حالیہ سانحے سے حاصل کی جانے والی نصیحت کیا ہو سکتی ہے؟

پکنک کے لئے سمندر پر جائیں تو حد درجہ محتاط رہا جائے… ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھا جائے… اور وہ خاص حد بہت پیچھے ہونی چاہئے۔۔۔ سمندر کا پانی دن کے مختلف اوقات میں غیر محسوس طور پہ آگے آتا ہے۔۔۔ لہریں اونچی ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ بندے کو پتہ بھی نہیں چلتا اور وہ خطرات میں گھر جاتا ہے۔ آپ کو لگے کہ پانی اونچا ہو رہا ہے تو تھوڑا پیچھے آ جائیے، سمندر کے پانی کے پیچھے ہونے کا انتظار نہ کیجئے!

ایسے ہی مزاق مزاق میں ایک دوسرے کو پانی میں دھکیلنا یا اچھالنا… ان سب حماقتوں سے گریز کیجئے…

ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جن کو سوئمنگ پول میں بھی تیرنا نہیں آتا اور سمندر پہ جا کے اسمارٹ بنتے ہیں… نری نادانی ہے… ہے کہ نہیں؟

سمندر پر جاتے ہوئے جہاں اور بہت کچھ لے جاتے ہیں وہیں سامان میں سوئمنگ ٹیوبز بھی رکھ لیجئے۔ اب اگر آپ کو تیرنا نہیں آتا تو ٹیوب پہن کے چلے جائیے پانی میں ۔۔۔ لیکن اس میں انسلٹ فیل ہوتی ہے ۔۔۔ ہیں ناں؟ تو ہونے دیجئے۔ سمندر میں غوطے کھانے سے تو بہتر ہے ۔۔۔

اور ہاں ایک لمبی اور مضبوط رسی بھی ضرور ساتھ لے جائیے… اگر احتیاط کے باوجود بھی کوئی پرابلم ہو جائے تو مدد کے لئے جانے والے کو کمر میں رسی باندھ کر بھیجئے ۔۔۔ تاکہ اگر خدانخواستہ وہ ڈوبنے لگے تو ساحل پہ کھڑے لوگ اسے کھینچ کر باہر نکال لیں… ورنہ ایک کے پیچھے دوسرا جاتا ہے اور لاشوں کی لائن لگ جاتی ہے…

اللہ سب پر رحم فرمائے اور اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔

Advertisements
Election, Pakistan, Politics

Muqaddar Ka Sikandar

مقدر کا سکندر

وہ 1949 ء میں ایک متمول کشمیری گھرانے میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ ایک تاجر اور صنعتکار تھا ۔ 70 کی دہائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا تو اس کے باپ کے کارخانے کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں اس نے سیاست میں کودنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اپنی سیاست کا آغاز کیا ۔ قسمت اور بڑے صوبے کے اس وقت کے گورنر جنرل غلام جیلانی خان کی مہربانی سے وہ 1980 ء میں اسی صوبے کا وزیر خزانہ بن گیا ۔ جبکہ اگلے پانچ برسوں میں وہ اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اسی دوران وہ اپنا خاندانی کارخانہ بھی دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ آج اس کا خاندان فولاد کی ایک عظیم الشان انڈسٹری کا مالک ہے ۔ نیز اس خاندان نے زراعت ، ٹرانسپورٹ اور شوگر ملز میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

تاریخ کی کتابوں کو کھنگالا جائے تو شاید ہی کوئی ایسی دوسری مثال ملے کہ قسمت کسی پر اس درجہ مہربان ہوئی ہو جتنی اس پر مہربان ہوئی ۔ اس کے کاروبار پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آج اس کی صنعتی ایمپائر دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ اس کے سیاسی کیریر جائزہ لیں تو تعجب ہوتا ہے کہ وہ محض31 برس کی عمر میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر خزانہ، پھر 33 برس کی عمر میں اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ، اور پھر صرف 41 برس کی عمر میں ملک کا وزیر اعظم بن چکا تھا۔ اتنی کم عمری میں کسی کو ترقی کی اتنی منازل طے کرتے ہوئے اس زمین آسمان نے کم کم ہی دیکھا ہو گا ۔ اس وقت کے صدر نے اس کی حکومت کو برطرف کی تو عدالتی حکم اس کے حق میں آ گیا ۔ یہ اور بات کہ جلد یا بدیر اسے بہرحال وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا ہی پڑا۔

ایک مختصر وقفے کے بعد قسمت نےپھر انگڑائی لی اور اس شان سے کہ اس کی جماعت نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ اس مرتبہ پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی سادہ اکثریت کے باعث وہ ایک طاقتور وزیر اعظم تھا۔ وہ چاہتا تو کیا کچھ نہیں کر سکتا تھا! وہ چاہتا تو ملکی تاریخ کا دھارا موڑ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کا مقدر سنوار سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنا کر عوام کے دلوں پر حکومت کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو ملکی دولت لوٹنے والوں کو عبرت کا نشان بنا سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں اسلامی شریعت نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں عدل و انصاف کا اسلامی نظام نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو یہ سب کر کے اپنا حشر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کروا سکتا تھا۔۔۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

تاہم اس کی خوش قسمتی کے قصے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ مقدر نے اسے ایک اور سنہرا موقع فراہم کیا ۔ ہمسایہ ملک بھارت نے 1998 ء میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا تو مئی 1998 ء کو اس کی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کے ہاتھوں پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اور کرہ ارض کی ساتویں جوہری قوت بن گیا۔ قومی تاریخ کا یہ وہ یادگار ترین لمحہ تھا کہ جب نہ صرف یہ کہ پوری پاکستانی قوم ایک سرشاری کے عالم میں اس کی پشت پر کھڑی تھی بلکہ پورا عالم اسلام بھی اس پر فخر کر رہا تھا ۔ لیکن پھر اچانک ایک احمقانہ فیصلے کے ذریعے فارن کرنسی اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی گئی جس کے نتیجے میں قومی یک جہتی کی ساری فضا سبو تاژ ہو گئی ۔ اس فیصلے کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی بھی کہا جاتا ہے۔ صرف عوام کی دولت ہی نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھی لوٹ لئے گئے ۔

لیکن وہ اس سب سے بے پروا محض اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آیا۔ اس جد و جہد میں وہ ان آہنی دیواروں سے ٹکرا بیٹھا جن سے ٹکرانے کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوتا ۔سو اس کی حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی اور ملک ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں پھنس گیا۔ جیل کی کال کوٹھری اس کا مقدر بنی ۔ وہ عر ش سے گر کر پاتال میں پہنچ چکا تھا۔ اس کے سر پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے۔لیکن قسمت نے ابھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ سو یہ خطرہ بھی کسی نہ کسی طور ٹلا اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں آمر وقت نے اسے جلا وطن کرنے کا حکم دیا ۔ وہ سرزمین حجاز مقدس جا پہنچا جہاں وہ شاہی مہمان کی حیثیت سے جدہ کے ایک عالیشان محل میں قیام پزیر رہا ۔

پھر کسی نہ کسی طرح وہ وطن واپس آنے میں کامیاب ہوا ۔ اور آج وہ ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بن چکا ہے۔ آج پھر پارلیمنٹ میں اسے عددی اکثریت حاصل ہے۔ آج ایک بار پھر اس کے پاس موقع ہے کہ وہ چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اسے کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے کسی دوسری پارٹی کی حمایت درکار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی سیاسی حریف ماری جا چکی ہے جبکہ اس کی حریف سیاسی جماعت آخری ہچکیاں لیتی نظر آ رہی ہے۔ وہ الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کر رہا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر یہ کریں گے ، اور وہ کریں گے۔ اسے ملک کی سسکتی بلکتی عوام نے نجات دہندہ سمجھ کر بھاری اکثریت سے منتخب کیا لیکن آج اس کی حکومت کے ابتدائی فیصلے دیکھ کر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ماضی کے نشیب و فراز سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اس نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے سابقہ ادوار حکومت کی طرح سرکاری ملازمتوں پر پابندی کا حکم صادر کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی خارج از امکان قرار دیا جا چکا ہے۔ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے لٹیروں کا بے لاگ احتساب کر کے لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کے بجائے آئی ایم ایف سے مزید سودی قرضے لینے کو ناگزیر قرار دیا جا چکا ہے ۔ بے چہرہ جنگ اور ڈرون حملوں سے متعلق حکومتی پالیسیز بھی کمزوری اور بودہ پن کا شکار نظر آ رہی ہیں۔

مہنگائی اور افراط زر کی ماری عوام بجا طور پر کسی ریلیف کی آس لئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی لیکن اس کے وزیر خزانہ کے پیش کردہ بجٹ کے نتیجے میں غریب آدمی کے تن پر موجود آخری چیتھڑہ اور منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی ۔ 82 ارب روپے کا کلیم تو اکیلے توقیر صادق پر ہی نکلتا ہے۔ ایسے کتنے ہی توقیر صادق ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرتے رہے ۔ لیکن انہیں پکڑ کر ان سے غبن کردہ ملکی دولت وصول کرنے کی بجائے وہ ایک بار پھر عوام ہی سے قربانی کا طلبگار ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس سولہ فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے ۔ موبائل فون پر ٹیکسز میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ آج موبائل فون صارفین کو 100 روپے کے کارڈ پر 41.50 روپے ٹیکس دینا ہو گا گویا 41.50 فیصد ٹیکس۔ دنیا میں شاید ہی کسی ملک میں اس شرح سے ٹیکس نافذ کیا گیا ہو۔ سی این جی کی قیمتوں میں بھی رمضان المبارک کے بعد ہوشربا اضافہ کی شنید ہے جو کہ ذرائع کے مطابق 80 فیصد تک ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی یقیناً ایک عالمی ریکارڈ ہی ہو گا ۔ حد تو یہ ہے کہ عازمین حج پر بھی فی کس پانچ ہزار روپے ٹیکس لگا دیا ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ ٹیکس حجاج کرام پر نہیں بلکہ حج ٹور آپریٹر پر لگایا گیا ہے ، لیکن ظاہر ہے ٹور آپریٹر وصول تو حاجیوں سے ہی کرے گا ، اپنے پاس سے تو دینے سے رہا۔ کاش کبھی کوئی غیر جانبدار ادارہ اس بات کا جائزہ لے اور بتائے کہ پاکستان کی عوام بالخصوص ملازمت پیشہ طبقہ (جن کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس پیشگی ہی وصول کر لیا جاتا ہے) انکم ٹیکس، جی ایس ٹی ، ایکسائز ڈیوٹی ، پراپرٹی ٹیکس ، موٹر وہیکل ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کی مدات میں اپنی آمدنی کا کل کتنا فیصد حصہ بطور ٹیکس ادا کر رہا ہے؟

ملک کی اسلام پسند عوام اور دینی حلقے اس سے بجا طور پر توقع کر رہے ہیں کہ وہ ملکی معیشت کو سودی نظام سے پاک کرنے کے لئے اقدامات کرے… ملک میں اسلامی نظام عدل رائج کرے … اسلامی شریعت کے نفاذ کی عملی کوشش کرے … ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سعی کرے… لیکن ایسی “خرافات ” اس کی ترجیحات میں شامل کہاں؟

اتنے مواقع جس شخص کو ملیں اسے مقدر کا سکندر کہا جاتا ہے ۔۔۔  معلوم نہیں کہ اتنے مواقع ملنے کے بعد بھی ملک و قوم کے لئے کچھ نہ کر پانے والے شخص کو کیا کہا جائے گا؟90 کی دہائی میں جب وہ پاکستان کا وزیر اعظم تھا تو ملائیشیا میں مہاتیر محمد اس کا ہم عصر تھا۔ آج ترکی کا رجب طیب اردگان اس کے معاصرین میں شامل ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے وطن کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ دونوں نے ملکی و عالمی سطح پر کتنی نیک نامی کمائی ۔

آہ ارضِ وطن …. تیرا مقدر !

واہ سکندر… تیرا مقدر!

Election, Pakistan, Politics, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Aik Jasarat

ایک جسارت

از۔۔۔ ابو شہیر

الیکشن سے دو دن قبل یعنی 9 مئی 2013 ؁ کو ہمارے ایک بزرگ ہمارے گھر تشریف لائے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ دوران گفتگو والدہ نے سوال کیا کہ

ووٹ کس کو دیں گے؟”

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا : “ایم کیو ایم۔ ۔۔بقا کا معاملہ ہے۔ “

ان کا جواب سن کر سخت حیرت ہوئی۔ جی میں تو آئی کہ ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں ، ان کو احساس دلائیں کہ آپ کا یہ عمل آپ کی آخرت کے اعتبار سے کس قدر خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ، لیکن پھر ساتھ ہی وہ تلخ رویے یاد آئے ،  ماضی میں اس قسم کی جسارتوں پر جن کا سامنا کرنا پڑا ۔ سو فوری طور پر کوئی جواب نہ بن پڑا۔

بزرگوار تو یہ کہہ کر کچھ دیر میں چلے گئے لیکن ہمیں ایک اضطراب ، ایک کرب میں مبتلا کر گئے۔ یقیناً آپ یہ جاننا چاہ رہے ہوں گے کہ بزرگوار کے جواب پر ہمارے اس درجہ مضطرب ہوجانے کی وجہ کیا تھی ؟ تو چلئے پہلے اس کا جواب دیئے دیتے ہیں۔

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری اصل شناخت ، اصل پہچان اسلام ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں ، دیگر جو کچھ بھی ہیں اس کے بعد ہیں ۔ اس مسلمانی کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں ، جن سے انحراف و روگردانی کرنے کی صورت میں خدانخواستہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً عصبیت کے بارے میں حدیث رسول ﷺ ہے:

“لیس منا من دعا الی عصبیة ، ولیس منا من قاتل عصبیة ، ولیس منا من مات علی عصبیة”۔ (رواہ ابوداؤد‘ مشکوٰة:۴۱۸)

مفہوم: جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو عصبیت کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔یعنی عصیبت کی طرف بلانے والے سے نبی اکرم نے اعلان بریت کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر کئی سیاسی جماعتوں کی طرح ایم کیو ایم  بھی لسانیت کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ، اور لسانیت عصبیت ہی کی ایک شکل ہے۔

لسانیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ایم کیو ایم کے ابتدائی دور کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ اس کا آغاز بہت عمدہ تھا اور واقعتاً یہ ایک تحریک بن کر ابھری۔ جماعت کی تنظیم کی اگر بات کی جائے تو وہ بھی مثالی تھی اور آج بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ اس جماعت نے نوجوان طبقے کو بہت زیادہ متاثر کیا اور نوجوان قیادت کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا ۔ عظیم احمد طارق جیسے جواں سال لیڈر کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ نوجوان کارکن جس طرح اپنے قائد کے جانثار بنے ، جلسوں میں جو شاندار نظم و ضبط کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، جس طرح قائد کی ایک آواز پر جلسہ گاہ میں خاموشی طاری ہو جایا کرتی ہے ، وہ درحقیقت اس جماعت کا ایک امتیازی وصف ہے ۔ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسا نوجوان میئر نصیب ہوا جس نے اپنی انتھک محنت اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محض چار برسوں میں اس شہر کی کایا پلٹ دی ۔ قائد تحریک الطاف حسین کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی ۔ جن کے ایک اشارے پر تنظیم کے کارکن کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ الطاف حسین ہی کی بصیرت تھی جس نے مصطفیٰ کمال میں چھپی صلاحیتوں کو پہچانا ورنہ مصطفیٰ کمال کو کون جانتا تھا ؟

جس جماعت کو ایسے جانثار اور مخلص کارکن میسر ہوں وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی تھی !لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ یہ جماعت ان تاریک راہوں کی جانب چل نکلی جن پر سفر نے اسے آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اپنے بھی خفا ہیں اور بیگانے بھی ناخوش ۔ ایم کیو ایم جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم لے کر کھڑی ہوئی تھی لیکن بد قسمتی سے آج خود ایک جاگیردار جماعت کا روپ دھار چکی ہے۔ فیوڈل ازم سے نفرت کرنے والی اس جماعت کے اطوار و افکار میں آج خود فیوڈل ازم واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ بات بے بات ہڑتالیں کرنے میں یہ جماعت اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اردو بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار اس جماعت کے مختلف اقدامات سے آج اردو بولنے والوں ہی کا شدید استحصال ہو رہا ہے ۔ شہر کراچی کی آبادی کا بیشتر حصہ اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور شہر کے بیشتر علاقے اردو بولنے والوں کا مسکن ہیں۔ ہم خود بھی اردو بولنے والے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ہڑتالوں کے سبب کاروبار زندگی معطل ہوجانے سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے یقیناً کوئی راکٹ سائنس درکار نہیں۔صرف الیکشن سے قبل ماہ مئی کے ابتدائی ہفتے کا جائزہ لیں تو اس دوران تین مرتبہ شہر کراچی بند ہوا اور الیکشن کے بعد سے اب تک متعدد بار شہر بند کرایا جا چکا ہے ۔تاہم طریقہ واردات میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ لندن یا رابطہ کمیٹی کی جانب سے ایک یوم سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر دوکانیں اور کاروبار بند رکھیں۔ اور اس رضاکارانہ یوم سوگ ، اور عوام کا ایم کیو ایم سے اظہار یک جہتی وغیرہ کی حقیقت بھی اب سب پر پوری طرح عیاں ہو چکی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں کے باعث ان پر اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے ۔ کاروباری طبقے سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں سے ان کو کہاں کہاں کتنا کتنا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

اختلاف رائے اس جماعت کو برداشت نہیں ہے ۔ آپ اس کے قائد کی جانب انگلی اٹھا کے دیکھیں ، یہ آپ کا بازو کیا ، گردن مروڑنے پر اتر آئے گی ۔ ایم کیو ایم کی قیادت دینی طبقے سے بھی شدید بیزار معلوم ہوتی ہے ۔ خود اس جماعت کے کارندے کلاشنکوفیں لے کر دندناتے اور شہر بند کراتے پھرتے ہیں ، لیکن اگر کوئی اسلام پسند فحاشی کے اڈے بند کرانے کے لئے ڈنڈہ اٹھالے تو یہ پورے شہر میں “ڈنڈہ بردار کلاشنکوفی شریعت نامنظور “کے بینرز کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اس کھلی غنڈہ گردی کے باوجود بھی میڈیا ان کی طرف براہ راست نشاندہی کرنے سے عاجز ہے اور ساری فرد جرم “نا معلوم افراد “پر عائد کر دی جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا! قربانی کی کھالوں کی چھینا جھپٹی اور زور زبردستی سے شروع ہونے والا سلسلہ آج یہاں تک دراز ہو چکا ہے کہ ووٹ بھی گن پوائنٹ پر لئے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کے ثبوت کے طور پر حالیہ الیکشن کے بعد کی چند ویڈیوز ہی دیکھ لیجئے ۔ الیکشن میں دھاندلی اور جعلی ووٹنگ کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جب یہ جماعت ایک بار پھر کراچی کی بیشتر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو اگلے روز لندن سے ویڈیو خطاب میں جماعت کے قائد الطاف حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں فرمایا کہ “اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کی عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو پھر کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کر دیجئے “۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان جب اس دھاندلی کے خلاف مظاہرے کے لئے تین تلوار چورنگی پر اکٹھے ہوئے تو ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ تین تلوار پر جو لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں، بہت شو بازی کر رہے ہیں ، میں لڑائی جھگڑا چاہتا نہیں ہوں ورنہ تو ابھی اپنے کارکنوں کو حکم دوں تو وہ تین تلواروں کو اصلی تلواروں کی شکل دے دیں گے” ۔ اسی طرح سے میڈیا کے مختلف اینکر پرسنز کو ٹھونک دینے والا بیان بھی سب کو یاد ہی ہو گا۔ اس شر انگیزی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے مختلف ترجمان مثلا ً رضا ہارون وغیرہ اپنے قائد کے ان فرامین کی عجیب و غریب تاویلیں اور توجیہات بھی پیش کر رہے تھے ۔

درج بالا تمام عوامل کو بالفرض نظر انداز کر بھی دیا جائے تو ایک نہایت سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت کے قائد الطاف حسین قادیانیوں کے بارے میں بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کبھی وہ مرزا طاہر کی موت پر افسردہ و رنجیدہ نظر آتے ہیں تو کبھی مرزا مسرور کی ماں کی موت پر تعزیتی پیغام جاری فرماتے اور دعائے مغفرت فرماتے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں انہوں نے مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے جن خیالا ت کا اظہار فرمایا ، وہ آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایسی جماعت کو ووٹ دینا ، اس کو سپورٹ کرنا ، اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا ، مظلوموں کی آہیں لینے کا ساتھ ساتھ ہماری دانست میں ایمان کے بنیادی تقاضوں کی بھی خلاف ورزی ہے جو اخروی خسارے کا بھی باعث بن سکتی ہے ۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے تفصیل سے بحث کی ہے جس کے آخر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں :

“خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے ۔ ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت ۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے ، اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نا اہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی ، اور اس کے تباہ کن ثمرا ت بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ “

تو قارئین ! یہ تھیں ہمارے کرب و اضطراب کی وجوہات۔ ہمارے وہ بزرگ ہم سے اور ہم ان سے محبت کے دعوے دار ہیں، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص سے محبت کا حقیقی اظہار یہ ہے کہ اسے نقصان سے بچایا جائے ، اور سب سے بڑا اور حقیقی نقصان تو آخرت کا ہے ۔ انہیں شاید اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ایم کیو ایم کو ووٹ دے کر وہ درحقیقت ایم کیو ایم کے متوقع جرائم میں شریک ہو جائیں گے جس پر آخرت میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ دماغ مسلسل اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا کہ ان تک پیغام کس طرح اور کن الفاظ میں پہنچایا جائے ۔ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ہماری اس جسارت کو گستاخی پر محمول نہ کر لیں، کہیں وہ برا نہ مان جائیں، کہیں ناراض نہ ہو جائیں ۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ صرف بزرگوار ہی پر کیا موقوف، اور بھی نجانے کتنے لوگ اپنا اپنا ووٹ ایسی ہی کسی جماعت کو دینے کا سوچے بیٹھے ہوں ۔ تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دینی فریضے کو مد نظر رکھتے ہوئے کافی غور و خوض کے بعد موبائل فون پر ایک پیغام ترتیب دیا اور بزرگوار کے ساتھ ساتھ فون کونٹیکٹس میں محفوظ دیگر نمبرز پر بھی ارسال کر دیا ۔  

ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھئے گا کہ …

-شرعی طور پر ووٹ کی حیثیت شہادت یعنی گواہی کی ہے …. تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ کا ووٹ کسی فاسق و فاجر شخص / جماعت کے حق میں گواہی تو نہیں بن رہا ؟

پاکستان ایک وعدے کے تحت حاصل کیا گیا تھا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام … تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ جس کو ووٹ دے رہے ہیں وہ شخص / جماعت اس عہد کے برخلاف نظریات کی حامل تو نہیں ۔

-یہ مت بھولئے گا کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں آخرت کا ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے اس ووٹ کا کیا جواز پیش کریں گے؟

اگلے روز ان کا جواب موصول ہوا کہ … تمہارا پیغام بہت پر اثر تھا ، جس نے مجھے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔

اللہ اکبر ! ہمیں ایک قلبی سکون و طمانیت محسوس ہوئی کہ ہمارے ان بزرگ نے ہمارے پیغام کو اہمیت دی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائی ۔ درحقیقت یہ ان کا بڑا پن ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ ناراض ہوئے نہ برہم ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہمارے دل میں ان کی عزت و تکریم مزید بڑھ گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کار خیر کی توفیق ، فہم ، جرات اور حوصلہ عطا فرمایا ۔

جو افراد بھی ایم کیو ایم (یا ایسی ہی کسی اور جماعت )سے وابستگی یا اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ وہ بھی ہماری درج بالا گزارشات پر غور فرمائیں اور ایک بار مسلمان بن کر ضرور سوچیں ۔۔۔ یا تو تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے باطل نظریات پر نظر ثانی کرے یا پھر اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے ۔

کراچی کی عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک اس جماعت کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی، کب تک ہڑتالوں اور یوم سوگ کے نام پر کاروبار اور دوکانیں بند کرتی رہے گی؟ کراچی کی عوام کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ آیا وہ مظلوم ہے ظالم ؟ کہ ظالم کو ظلم سے نہ روکنے والا یا ظلم میں ہاتھ بٹانے والا بھی ظالم ہے۔

آخر میں ہم یہ کہتے چلیں کہ ہمیں اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ ہم نے یہاں اصلاح احوال کی جو کوشش کی ہے ، اس کو غلط معنوں میں لئے جانے یعنی ہماری اس جسارت کو گستاخی سمجھے جانے کا خاصا امکان ہے ، جس کے بعد ہمیں بھی کڑے رد عمل اور تنقید کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ٹھونک دینے پر اتر آئے … لیکن کیا کیجئے …. مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ !

اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ ، و ارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

حوالہ جات:

کراچی کو الگ کر دیجئے  ، اور پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=1nHwERmyTrM

اینکر پرسنز کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=9mSENwP4EMo

ووٹ کی شرعی حیثیت

http://urdulook.info/forum/showthread.php?6986-%D9%88%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA!

Election, Pakistan, Politics

Salam Pakistan!

سلام پاکستان

از۔۔۔ ابو شہیر

بالآخر الیکشن منعقد ہو گئے۔پانچ سال سے مہنگائی، بد امنی ، لا قانونیت ، بھتہ خوری، ظلم ، جبر ، تشدد، کرپشن، بھوک، افلاس ، لوڈ شیڈنگ، سی این جی کی بندش، ہڑتالوں اور یوم سوگ کی ماری قوم کو آخر کار وہ موقع ہاتھ آیا کہ جب وہ اپنے حق رائے دہی کو استعمال کرتے ہوئے حبیب جالب کے قالب میں ڈھل کر بتا دیتی:
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر، میں تمہیں، کس طرح سے کہوں؟
تم نہیں چارہ گر
کوئی مانے ، مگر
میں نہیں مانتا
میں نہیں جانتا
اور قوم کی اکثریت نے اپنے عمل سے بتا دیا ، مہر شہادت ثبت کر دی ۔ سلام پاکستان!
اہلیہ نے صبح ہی صبح ووٹ ڈالنے کی فرمائش کر دی۔ سو نہار منہ پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا۔ جس کے باہر گمان اور سابقہ تجربات کے بر خلاف عورتوں مردوں کی طویل قطار موجود تھی۔ ہم بھی جا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک طرف پولنگ کا عمل نہایت سست روی سے آگے بڑھ رہا تھا تو دوسری جانب سورج نصف النہار کی جانب تیزی سے گامزن تھا، لیکن عوام کی ثابت قدمی دیدنی تھی۔ سلام پاکستان!
یہ قطاریں دیکھ کر ملک کے دیگر حصوں کے” جاگیرداروں” کی طرح کراچی کے جاگیرداروں کی صفوں میں بھی کھلبلی مچی ہوئی تھی ۔ وہ حیران و پریشان تھے کہ یہ اتنے لوگ کہاں سے نکل آئے، اور اتنی استقامت سے کیسے کھڑے ہوئے ہیں قطاروں میں۔ ارے گزشتہ پانچ برسوں میں سی این جی کی قطاروں میں کھڑا کر کے تم نے ہی تو تربیت دی تھی ہمیں ۔ چودہ چودہ گھنٹے بجلی بند کر کے تم نے ہی تو گرمی برداشت کرنے کی ٹریننگ دی تھی ہمیں۔ اس وقت اگر تمہیں حیرت نہیں ہوئی تو پھر آج ہماری برداشت پر حیرت زدہ کیوں ہو؟سلام پاکستان!
قطار میں کھڑے لوگوں کی غالب اکثریت نامعلوم افراد سے نجات کی خواہاں تھی۔ بیس بائیس برس کے نوجوان ہی کیا، کئی ادھیڑ عمر کے افراد بھی زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے آئے ہوئے تھے۔ آج کراچی کے یہ سب پاکستانی ، پاکستان کے لئے گھروں سے نکل آئے تھے۔ اور آج اس الیکشن کے دن کو بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کے خلاف یوم یکجہتی کے طور پر منا رہے تھے ۔ سلام پاکستان!
تین چار گھنٹے کی صبر آزما جد و جہد کے بعد قطار میں کھڑے لوگ بالآخر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ کسی کے سر میں درد ہو رہا تھا تو کوئی پسینے میں شرابور تھا۔ تاہم سب کے چہروں پر یک گونہ اطمینان تھا کہ “نامعلوم افراد “کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے ۔ سب شاداں تھے کہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف نہی عن المنکر کے طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کر دیا ہے۔ پیچھے ایک طویل قطار ہنوز موجود تھی ، سلام پاکستان!
سورج زوال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا جبکہ کراچی کی جاگیردار جماعت اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ زوال کی جانب گامزن تھی ۔ دن ڈھلے نامعلوم کارکنوں کا حوصلہ جواب دے گیا ۔ ادھر جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے پولنگ ایجنٹس بھی پولنگ اسٹیشنز سے اٹھ کھڑے ہوئے جن کے چلے جانے کے بعد تو نامعلوم افراد کو کھلی چھٹی مل گئی ۔ اب ووٹرز کی شامت آ گئی ۔ دھونس دھمکی کے عادی نا معلوم بدمعاش ، ووٹرز کو گالیاں دینے لگے کہ تم سب ہمارے بجائے دوسروں کو کیوں ووٹ ڈال رہے ہو؟ سلام پاکستان !
ایک پاکستانی نے بتایا کہ وہ جب بیلٹ پیپر پر مہر لگانے لگا تو ایک نامعلوم فرد نے بیلٹ پیپر اس کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی لیکن اس پاکستانی نے کمال جرات و بہادری سے اس کی یہ جسارت ناکام بنا دی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر ڈالا جو کہ ظاہر ہے “نامعلوم افراد “کے خلاف ہی تھا۔ ایک اور پاکستانی نے بتایا کہ اسے بھی ایک نامعلوم فرد نے بیلٹ پیپر پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے الٹا اس نامعلوم فرد پر ہی چڑھائی کر ڈالی کہ تمہارے اس عمل سے پیچھے کھڑے سو افراد کا ذہن بھی تبدیل ہو چکا ہے ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اندر پہنچی تو بیلٹ پیپر ہی ختم ہو چکے تھے لیکن خواتین انتظار کرتی رہیں۔ اللہ اللہ کر کے بیلٹ پیپر آئے تو انہوں نے جب بیلٹ پیپر پر نامعلوم افراد کے خلاف مہر لگائی تو وہاں موجود ایک نامعلوم خاتون نے کہا کہ آپ نے انتخابی نشان پر مہر نہیں لگائی ، دوبارہ مہر لگائیں انتخابی نشان کے اوپر ، ورنہ آپ کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔ جس پر انہوں نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ چلو ضائع ہوتا ہے تو ہونے دو، دوبارہ مہر تو میں ہرگز نہیں لگاؤں گی ۔ سلام پاکستان !
شہر کے بہت سے پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عملہ “نامعلوم ” وجوہات کی بنا پر خاصی تاخیر سے پہنچا ۔ لیکن ووٹرز بہر حال ڈٹے رہےاور صبر و استقلال کے ساتھ انتظار کرتے رہے۔ ان مقامات پر پولنگ خاصی تاخیر سے شروع ہوئی ۔ شام میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا لیکن ووٹرز کی قطاریں ختم نہ ہو پائیں۔ جس کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانا پڑا ۔ سلام پاکستان !
لیکن پھر اس ساری جد و جہد پر شب خون مار دیا گیا ۔ مقررہ وقت پر پولنگ اسٹیشنز کے بند ہو جانے والے دروازے نامعلوم افراد کے لئے کھلے رہے جنہوں نے رضاکارانہ ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ پولنگ اسٹیشنز پر تعینات عملہ ، پولیس اہلکار ، رینجرز …. کہیں یہ بے بس تھے اور کہیں اس کارخیر میں شامل ۔ سو ریکارڈ ووٹ کاسٹ ہوئے۔ اور ایسے اندھا دھند کہ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ووٹ کاسٹ ہو گئے۔
ہمارے بھی کچھ متعلقین پولنگ اسٹیشنز پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے ۔ انہوں نے صورتحال یہ بتائی کہ جب ڈبے کھلے تو نامعلوم افراد بھاری مارجن سے شکست کھا چکے تھے ۔ لیکن پھر نامعلوم رضاکاروں نے چھپائی شروع کی ، ٹھپا ٹھپ ، ٹھپا ٹھپ ، ٹھپا ٹھپ ۔۔۔ اور صرف اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ مخالف ووٹ پھاڑے گئے یا دوہری مہریں لگا کر ضائع کئے گئے۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے ۔
پھر نتائج آنے شروع ہوئے تو کراچی کا پہلا نتیجہ رات ایک بجے سنایا گیا جس کے مطابق شہر کے ایک حصہ سے مسترد شدہ نمائندہ ، نامعلوم افراد کے قلب سے تقریباً پونے دو لاکھ ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حلقے میں فی گھنٹہ 1800 ووٹ، فی منٹ 300 ووٹ اور فی سیکنڈ 5 ووٹ کاسٹ ہوئے ۔ کچھ حلقے اسے ورلڈ ریکارڈ بھی قرار دے رہے ہیں ، واللہ اعلم۔ بہرحال اس واحد نتیجے کے بعد کراچی کے مزید کسی حلقے کے نتیجے کے لئے اہل کراچی کو اگلے دن کا انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران ہونے والی نامعلوم ووٹنگ سب کے علم میں ہے ۔ اور پھر اگلے روز میڈیا پر نا معلوم افراد کی “فقید المثال کامیابی ” کے تذکروں کی بھرمار تھی۔ نجانے کیوں اس “تاریخی” کامیابی کے باوجود نا معلوم افراد نے ماضی کی طرح جشن کامیابی نہیں منایا ۔ شاید کھسیاہٹ بہت شدید تھی ۔
کراچی کی باشعور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا ۔ نامعلوم افراد کے گھروں میں صف ماتم بچھ چکی تھی ۔ اگلے روز “مجلس شام غریباں “سے خطاب کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے “ڈی پورٹڈ سرغنہ ” نے دھمکی دی کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کے عوام کا فیصلہ منظور نہیں تو کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کیوں نہیں کر دیتے ، نیز یہ بھی فرمایا کہ ابھی اپنے ساتھیوں کو حکم دوں تو تین تلواروں کو اصلی تلواروں میں تبدیل کر دیں گے… جس کی تشریح نامعلوم افراد کے “راضی برضا ” ترجمان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ کی کہ وہ اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کو اصلی شکل میں بدل دیں گے۔ اب اس اتنی اچھی بات کو اتنے غصے میں کرنے کی کیا ضرورت تھی چیف صاب کو، یہ تو نامعلوم افراد ہی بہتر بتا سکیں گے۔
ان دھمکیوں پر تعلیم یافتہ اور با شعور شہریوں نے لندن میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ میں فون کر کے شکایات درج کرانی شروع کر دیں کہ برطانیہ کا ایک شہری پاکستان کے عوام کے خلاف دہشت گردی کی کھلی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان شکایات کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یقیناً لندن انتظامیہ کی جانب سے چیف صاب کی کھنچائی ہوئی ہو گی کہ حضرت کو اگلے ہی دن اپنے بیان کی تردید کرنی پڑی ۔ سلام پاکستان !
آخری خبریں آنے تک چیف صاب نا سازیٔ طبع کے باعث اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں ۔ یقیناً اس وقت وہ جس ٹینشن سے گزر رہے ہیں اس میں ڈائیریا میں مبتلا ہو جانا عین ممکن ہے ۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ چیف صاب کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں ۔ اور یہ تو عوام جانتے ہی ہیں کہ دعا کیا مانگنی ہے ۔ سلام پاکستان !