Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, نماز, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, علم دین

Ujlat

عجلت

ہم من حیث القوم ایک عجیب افراتفری کا شکار ہیں۔۔۔ جلد بازی ہماری فطرت بنتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹریفک سگنل ہو یا ریلوے کراسنگ۔۔۔ رکنا ٹھہرنا انتظار کرنا ہمارے لئے سخت محال ہوا کرتا ہے۔۔۔ سڑک بلاک ہو گئی ٹریفک جام ہو گیا تو ڈھٹائی کے ساتھ رانگ سائیڈ پہ چل دیئے۔۔۔ بلکہ فٹ پاتھوں پہ گاڑیاں دوڑا دیں۔۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔

ہماری یہ عجلت پسندی مسجدوں میں بھی چلی آئی ہے۔۔۔ چنانچہ با جماعت نمازوں میں بھی ہم سے صبر و قرار سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔۔۔ ایک شدید اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔۔۔ اور اس کے باعث نمازوں کے دوران ایک عجیب ناگوار صورت حال نظر آتی ہے۔۔۔

امام صاحب نے جہری قرات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھی اور رکوع میں جانے سے قبل آخری آیت ذرا زیادہ کھینچ دی۔۔۔ اب سورت یاد نہیں تو آیت کی کھینچ سے پہلے ہی الرٹ ہو گئے کہ امام صاحب رکوع میں جانے والے ہیں، اور اگر سورت یاد ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر سے قبل ہی ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔۔ حتیٰ کہ بعضوں نے رکوع کے لئے جھکنے کا بھی آغاز کر دیا۔۔۔

امام صاحب رکوع سے اٹھے اور قومہ میں ذرا توقف کیا تو یہ لمحہ دو لمحہ کا قیام طبع نازک پہ سخت گراں گزرا۔۔۔ ٹھہر بھی گئے تو سخت اضطراب میں۔۔۔ ورنہ امام صاحب سے پہلے ہی سجدے کے لئے جھکنا شروع کر دیا۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر میں مزید تاخیر ہوئی تو بعض نمازی جھکتے جھکتے رکوع کی حالت میں پہنچ چکے۔۔۔ اب وہاں رکے رکے امام صاحب کی تکبیر کا انتظار کر رہے۔۔۔ یعنی رکوع کے بعد ایک اور رکوع۔۔۔ سبحان اللہ

اسی طرح امام صاحب سجدے سے اٹھے اور جلسے کی حالت میں ذرا توقف کیا۔۔۔ لیکن اب یہ کوئی سیاسی جلسہ تھوڑی ہے کہ بیٹھا جائے۔۔۔ امام صاحب سے پہلے ہی اگلے سجدے کے لئے جھکنا شروع۔۔۔ یہاں بھی اگر امام صاحب کی تکبیر میں تاخیر ہوئی تو عجیب مضحکہ خیز کیفیت۔۔۔ گویا مرغا بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔

ایسے نمازیوں کے لئے تین حل پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔

۔ یا تو تنہا نماز پڑھ لیجئے۔۔۔

۔ یا پھر تحمل سے امام کے پیچھے پیچھے چلئے۔۔۔

۔ اور اگر امام سے آگے ہی بڑھنا ہے تو پھر امام کو پیچھے کیجئے اور خود مصلیٰ سنبھالئے۔۔۔

وگرنہ کم از کم پتہ تو کر لیجئے کہ اس طرح سے نماز ادا ہو بھی جاتی ہے یا نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ پھٹی بوری میں نمازیں جمع کی جا رہی ہیں؟

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Social

Performance

کارکردگی

کل یوٹیلیٹی اسٹور کے پاس سے گزر ہوا۔

حالت زار پہ سخت افسوس ہوا۔

کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔

ایک طرف نجی شعبے کے تحت چلنے والی امتیاز سپر مارکیٹ ہے۔۔۔

جس کے شیلف بلامبالغہ ہزاروں ملکی و غیر ملکی اشیاء سے لدے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔

  جہاں تقریباً تمام اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔

جہاں خریداروں کی اتنی بھرمار نظر آتی ہے کہ اکثر اوقات تو ٹرالی چلانے کو بھی جگہ نہیں ملتی۔۔۔

بلکہ کبھی کبھی تو ٹرالی ہی  دستیاب نہیں ہوتی۔۔۔

نجی ادارہ ہونے کے باوجود خریداری پر صارفین کو اچھی خاصی رعایت دی جاتی ہے۔۔۔

صرف امتیاز ہی کیا۔۔۔

چیز اپ کو دیکھ لیں۔۔۔

بلکہ ناہید، اور ہائپر اسٹار اور میٹرو۔۔۔

کیا کیا گِنوایا جائے۔۔۔؟

اور دوسری جانب حکومت کے تحت چلنے والے یوٹیلیٹی اسٹور۔۔۔

یاسیت کا شکار۔۔۔!

اسٹور گاہکوں سے خالی ۔۔۔

اور اسٹور کے شیلف اشیائے صرف سے خالی۔۔۔

یہاں ہجوم صرف اسی وقت نظر آتا ہے جب چینی یا کوکنگ آئل وغیرہ کی قلت ہو جائے۔۔۔

(جن کی قلت کی ذمہ دار بھی خود حکومت ہی ہوتی ہے)

ورنہ کوئی قریب نہیں پھٹکتا۔۔۔

سمجھ نہیں آتا کہ حکومتی انتظام و انصرام کے تحت چلنے والے ادارے کیوں زبوں حالی کا شکار ہیں۔

حکومت… جس کے پاس قانون سازی سے لے کر وسائل تک ہر چیز کی بھرمار ہوا کرتی ہے۔۔۔

جبکہ ان کے مقابل پرائیویٹ ادارے خوب چل رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔۔۔۔

آپ اسٹیل مل کو دیکھ لیجئے کہاں سے کہاں پہنچ گئی جبکہ نجی اسٹیل ملیں کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔۔۔

پوسٹ آفس کا موازنہ نجی کوریئر سروس ٹی سی ایس سے کر لیجئے۔۔۔

ریلوے میں ساری ٹرینیں ایک طرف اور پٹے پر دی جانے والی گرین لائنز اور بزنس ٹرین دوسری طرف۔۔۔

پی آئی اے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔۔

سی ڈی اے اور کے ڈی اے بمقابلہ بحریہ ٹاؤن و ڈی ایچ اے۔۔۔۔

علیٰ ھذا القیاس۔۔۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے

Behaviors & Attitudes, Social

Elevator

لفٹ

اگلے روز دفتری امور کی انجام دہی کے لئے ایک کثیر المنزلہ عمارت میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کوئی بارہ چودہ منزلہ عمارت تھی۔ مرکزی دروازے پر جلی حروف میں ہدایات درج تھیں۔۔۔

مہمان حضرات اپنی گاڑیاں باہر پارک کریں۔

چنانچہ گاڑی باہر ہی کھڑی کرنی پڑی ۔

اندر داخل ہوا تو سیکیورٹی عملے کے استفسار پر بتایا کہ پارکنگ فلور ٹو پر جانا ہے۔

انہوں نے ایک جانب اشارہ کیا۔۔۔

  سر ادھر لفٹ لگی ہوئی ہے اس سے چلے جائیے۔

اتفاق سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر ہی موجود تھی۔ چنانچہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا۔

لیکن۔۔۔

قسمت کی خوبی دیکھئے چل دی وہ اس لمحے

دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا

چنانچہ بٹن دبا کے لفٹ کا انتظار شروع کر دیا۔

وہ نیک بخت بھی خیبر میل کی طرح ہر اسٹیشن پر رکتی رکاتی جا رہی تھی۔ ایک دو تین چار۔۔۔ پوری بارہ منزل تک گئی۔ پھر واپسی میں بھی کئی اسٹاپ پر رکتی رکاتی پسنجر اٹھاتی خراماں خراماں گراؤنڈ فلور پر پہنچی۔

مجھے چونکہ ذرا جلدی بھی تھی اس لئے ایک ایک لمحہ گراں گزر رہا تھا۔ سخت کوفت ہو رہی تھی کہ اتنی دیر کا تو کام بھی نہیں تھا جتنا وقت انتظار میں صرف ہو گیا۔

انتظار کے انہی لمحات کے دوران اس تکلیف دہ حقیقت کا ادراک ہوا کہ کثیر المنزلہ عمارات میں رہنے والوں کے جہاں اور بہت سے مسائل ہیں وہیں ایک اضافی مسئلہ لفٹ کا انتظار بھی ہے۔ لفٹ اگرچہ ایک سہولت ہے لیکن اس کا انتظار بہر حال اپنی جگہ ایک اذیت سے کم نہیں۔

بڑا رحم آیا بلند و بالا عمارات کے مکینوں پر۔

بے چاروں کی کتنی زندگی تو لفٹ کے انتظار میں ہی بیت رہی ہے۔

Behaviors & Attitudes, Social, اخلاقیات, حسن سلوک

TAASSUR

تاثر

دفتری زندگی کے بھی عجب مشاہدات و تجربات ہوتے ہیں۔ باہر کی تو بات چھوڑئیے ، محض دفتر کے اندر ہی ان گنت افراد سے واسطہ پڑتا  رہتا ہے۔ کئی لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ کوئی فوت ہو گیا۔کسی کا تبادلہ ہو گیا۔کوئی از خود چھوڑ گیا توکوئی ریٹائر ہو گیا ۔

پھر ان میں افسر و ماتحت  کی قید بھی ضروری نہیں کہ رویے تو سب ہی ایک دوسرے کے محسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔  افسر کا ماتحت کے ساتھ رویہ کیسا ہے یا ماتحت کا اپنے افسر کے ساتھ، یا افسران بالا کا ماتحت افسران کے ساتھ  ۔۔۔ غرض ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ برتاؤ دلوں پر نقش ہو رہا ہوتا ہے اور یہی برتاؤ پھر آگے چل کر تعلق کی بنیاد بنتا ہے ۔ اسی رویہ پر منحصر ہوتا ہے کہ منظر سے ہٹ جانے یا ریٹائر ، ٹرانسفر یا فوت ہو جانے کے بعد پیچھے رہ جانے والے افراد مذکورہ فرد کو کس طرح یاد کرتے ہیں۔ اور یہی برتاؤ اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ جانے والے سے مزید تعلق رکھنا ہے یا نہیں۔

  مجھے اپنے ادارے سے وابستہ ہوئے دو عشرے سے زائد ہو چلے ہیں۔ اس دوران بے شمار لوگ آئے اور گئے ۔  اکثر لوگ اپنے پیچھے خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ جب کبھی انہوں نے دفتر کا چکر لگایا تو ان کی آمد پرآنکھیں چمک اٹھیں،  چہرے کھل اٹھے اور بازو وا ہو گئے۔ ان کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔سر راہ کہیں مل گئے تو لوگوں کو ان کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ پیش آتے دیکھا۔ یہ تو ان کی آمد پر معاملہ دیکھا۔ اور ان کے پیچھے کبھی ان کا ذکر چھڑ گیا تو معلوم ہوا فضا معطر ہو گئی۔ گویا یاد کرنے والوں کے لبوں سے پھول جھڑ رہے ہوں۔

اس کے برعکس چند ایسے افراد سے بھی واسطہ پڑا جو اپنے ساتھیوں کے لئے باعث آزار بنے۔ یہ بدنصیب اپنے پیچھے تلخ یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ ان میں سے کبھی کوئی پلٹ کے دفتر آیا تو لوگوں کے منہ بن گئے اور ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔ کچھ کو منہ چھپاتے دیکھا تو کچھ کو بحالت مجبوری ہاتھ ملاتے اور اپنی راہ لیتے دیکھا۔ کچھ کو تو بعد ازاں ہاتھ دھوتے بھی دیکھا گویا نجاست لگ گئی ہو۔ استغفراللہ۔اور اگر کبھی بھولے سے ان کا ذکر چھڑ گیا تو ایسے ایسے ملفوظات و القابات سننے کو ملے ان کی شان میں کہ الامان الحفیظ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آپ جس بھی شعبے سے وابستہ ہیں، اپنا جائزہ لیجئے۔ اگر اللہ رب العزت نے  آپ کو کوئی بلند مقام مرتبہ یا منصب عطا کیا ہے تو اسے محض اللہ کا فضل جانئے۔ اپنی گردن میں سریا نہ آنے دیجئے۔ اپنے ساتھیوں خاص کر ماتحتوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیجئے۔ ان کی پریشانیوں میں کمی نہ کر سکتے ہوں تو ان میں اضافے کا باعث تو ہرگز نہ بنئے۔

 بادشاہی چاہئے؟ قرب الٰہی چاہئے؟

دل میں رہئے اور ہونٹوں کی دعا بن جائیے

پیاس دھرتی کی بجھے، خود سے تعلق بھی رہے

جب بلندی پر پہنچئےتو گھٹا بن جائیے

پھول بھی کھلتے رہیں غنچے گلے ملتے رہیں

باغ ہستی کے لئے موج صبا بن جائیے

یاد رکھئے

آپ جہاں بھی جا رہے ہیں۔۔۔

جس سے بھی مل رہے ہیں ۔۔۔

آپ کا ایک امیج ایک تاثر سامنے والے کے ذہن و دل پر نقش ہو رہا ہے۔

کوشش کیجئے کہ بھلا تاثر قائم ہو۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد ازاں کبھی آپ کا ذکر بھی آئے۔۔۔

تو لوگ ناک پر رومال رکھتے پھریں۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Seerat-un-Nabi, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Jannay wala

جاننے والا

کوئی پانچ سات برس قبل کی بات ہے ۔  میرے آفس کے ایک صاحب حج کو جا رہے تھے۔ ساتھ میں کچھ محرم خواتین بھی تھیں۔ روانگی سے قبل اتنے ہی فکرمند و پریشان  تھے جتنا کہ ایک حاجی ہوا کرتا ہے۔

میری ملاقات ہوئی تو کہنے لگے: بھائی مکہ میں تو ایک دوست رہتا ہے ۔اس سے بات ہو گئی ہے۔ اور بھی ایک دو جاننے والے ہیں۔ وہاں کی تو ساری سیٹنگ ہو گئی ہے ۔ بس مدینہ کی ٹینشن ہے۔وہاں اپنا کوئی جاننے والا نہیں ہے۔

میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: ہمارا تو ہے اک جاننے والامدینہ میں۔۔۔

آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

 ہاں۔۔۔
ہے تو ایک جاننے والا۔۔۔

جس نے ہماری فکر میں اپنی نیندیں قربان کیں اور رات رات بھر قیام کر کے اپنے پیر سُجائے۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جس کے طائف میں کھائے گئے پتھروں سے لہولہان بدن کا صدقہ محمد بن قاسم ؒ کی صورت میں اس خطے کو ایمان کی روشنی سے منور کر گیا۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جب میں اس پر درود بھیجتا ہوں تو درود پہنچانے پر مامور فرشتہ میرا اور میرے والد کا نام لے کر کہتا ہے کہ یا رسول اللہ! آپ کے امتی فلاں بن فلاں نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا نذرانہ بھیجا ہے۔

ہاں! ہم پہچانیں نہ پہچانیں۔ وہ ہمیں خوب پہچانتا ہے۔

ہمارے ماں باپ مال آل اولاد اس پر قربان۔۔۔

صلی اللہ علیہ و آلہٖ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا دائما ابدا ابدا

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam

Taufeeq

توفیق

بچے جب کم عمر اور نا سمجھ ہوتے ہیں

تو ماں باپ پینسل ان کے ہاتھ میں پکڑا تے ہیں

اور پھر اپنے ہاتھ سے ان کا ہاتھ پکڑ کر کاغذ پر چیزیں بناتے ہیں

اور پھر خود ہی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں کہ

“بے بی نے کنا پالا بنایا ہے۔۔۔”

(بے بی نے کتنا پیارا بنایا ہے)

اللہ تعالیٰ بھی ہمارے ہاتھوں چند نیک اعمال کرا دیتا ہے

جو کہ اس نے پہلے ہی ہماری تقدیر میں لکھ دیئے ہوتے ہیں،

پھر ان کے لئے درکار اسباب بھی عطا فرما دیتا ہے

اور پھر خود ہی توفیق بھی دیتا ہے نیک کام سرانجام دینے کی۔۔۔

گویا ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہم سے نیکیاں کرا دیتا ہے۔۔۔

اور پھر خود ہی خوش ہوتا ہے

اور

فرشتوں کے سامنے ہمارے اوپر فخر فرماتا ہے۔۔۔

!مثلاً حج