Ramadhan, رمضان المبارک

Mubarak Alaikum Ash-shahr

مبارک علیکم الشھر

ابو شہیر

السلام علیکم

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

کیا حال ہیں ساتھیو! سیلز sales کی کیا پروگریس progressہے؟

الحمد للہ باس!کافی بہتر پوزیشن ہے۔اسائنمنٹس کو ڈیلی بیسز پر اچیو achieveکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منتھلی اسائنمنٹس monthly assignmentsپر بھی فوکس focusکئے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ ٹارگٹس اچیو achieve  ہو جائیں گے۔

او۔کے۔ اگلے ماہ سیزن اسٹارٹ ہو رہا ہے ۔ اس کے حوالے سے کیا اسٹریٹجی strategyہے، کیا پلاننگ planning ہے؟

ہیں؟ کون سا سیزن باس؟

ہاہاہاہا۔۔۔ گھبراؤ نہیں بھائیو! بھئی رمضان المبارک شروع ہوا چاہتا ہے ۔ اس کی بات کر رہا ہوں۔

اوہ باس! آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا ۔ جی ہاں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ اس بار بھی پورے روزے رکھیں گے انشاء اللہ۔

میرے دوستو! سارا سال ہم لوگ بزنس کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ گروتھ growth کے لئے اسٹریٹیجیز strategies  ڈیویلپ کر رہے ہوتے ہیں۔ ٹارگٹس مارک کرتے ہیں۔ ان ٹارگٹس کو اچیو کرنے کے لئے اسائنمنٹس تیار کرتے ہیں ۔ ڈیلی اور منتھلی بیسز پر ان اسائنٹمنٹس کو ورک آؤٹ کرتے ہیں۔ بالکل لیزر فوکسڈ laser focusedہو کر چلتے ہیں۔ بہت زیادہ اسٹریچ stretch کرتے ہیں۔ تاکہ ٹارگٹس کو اچیو کرسکیں ، منیجمنٹ management کی ڈیمانڈز demands اور ایکسپیکٹیشنز expectations کو میٹ meet کر سکیں ۔ اس پر ہمیں انسینٹوز incentives ملتے ہیں، سیلری incrementsملتی ہے، ہماری اپ گریڈیشن ہوتی ہے۔ یہی سب کچھ کر رہے ہوتے ہیں ناں ہم سارا سال؟

جی باس! لیکن ۔۔۔؟

مجھے اندازہ ہے کہ آپ لوگ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ان تمام باتوں کا بھلا رمضان المبارک سے کیا واسطہ؟ دیکھیں جس طرح ہمارا بزنس کا سیزن ہوتا ہے ، رمضان المبارک بھی ایک بزنس سیزن ہے ۔ اس مہینے میں نیکیوں کی سیلز salesعروج پر ہوتی ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی پرائس price میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے گویا “پر یونٹ ویلیو”  per unit value انکریز increase ہو جاتی ہے ۔ احادیث مبارکہ کے مطابق اس ماہ مبارک کے آغاز پر جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور آسمان کے ، رحمت کے ، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ اور سرکش شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں۔

تو اس مختصر جائزے کے بعد اب آپ لوگ یہ بتائیے کہ اس ماہ کے لئے آپ کے ٹارگٹس کیا ہیں؟

باس! انشاء اللہ پورے روزے رکھنے ہیں۔

ماشاء  اللہ دوستو! ماہ مبارک کی اہم ترین عبادت تو روزہ ہی ہے ۔ اور روزہ کی فضیلت کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے کہ وہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا ۔” مزید فرمایا کہ “روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔ “اور فرمایا کہ “روزہ دار کے لئے فرحت کے دو مواقع ہیں ۔ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو اپنے روزہ افطار کرنے پر فرحت محسوس کرتا ہے، اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے (کے اجر کو دیکھ کر ) خوش ہو گا ۔” (بخاری، مسلم)اور ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ “جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔”(بخاری)

تو دوستو! روزے تو پورے رکھنے ہی ہیں۔ اس سے آگے ؟

اس سے آگے کیا باس؟ اس ماہ کی اصل ڈیمانڈ تو روزہ ہی ہے ۔

اچھا ! دیکھیں ہم اپنی ڈیوٹی کے دوران سارا سال جو بھی ایفرٹس کر رہے ہوتے ہیں تو اس کا فوکس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ٹارگٹس کسی صورت اچیو achieveہو جائیں جن پر ہمیں انسینٹوز incentives کا لالچ بھی ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہے ناں؟

جی باس!

ٹھیک۔ یعنی یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہماری ساری محنت انسینٹوز incentives کے حصول کے لئے ہوتی ہے ۔ تو ہمیں سب سے پہلے تو اس ماہ مبارک کے انسینٹوز incentives پتہ ہونے چاہئیں ۔ پھر ہم اسی حساب سے ایفرٹ effort  بھی کریں گے۔ تو دوستو! سب سے پہلے تو ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں جس میں رمضان المبارک کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن وعظ فرمایا کہ :

اے لوگو! تمہارےاوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے ۔ بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ۔ جو شخص اس ماہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے ۔ یہ مہینہ صبر  کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔ اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے ۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہو گا مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کھلانے پر موقوف نہیں ) یہ ثواب تو اللہ جل شانہ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے ، اور درمیانی حصہ مغفرت ہے ، اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔ جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کر دے اپنے غلام (خادم، ملازم) کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اور چار چیزوں کی اس ماہ میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے ہیں اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ لا الٰہ الا اللہ (کلمہ طیبہ )اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو ۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ ( روز قیامت) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی ۔ (البیہقی)

دوستو! غور کیجئے کہ اس حدیث مبارکہ میں کتنے سارے انسینٹوز incentives بیان کئے گئے ہیں۔ رمضان المبارک میں نیکیوں کا بھاؤ بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا کہ per unit value میں بہت اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ نفل اعمال کا ثواب فرض اعمال کے برابر کر دیا جاتا ہے ۔ ایک فرض کی ادائیگی پر ستر فرائض کی ادائیگی کے برابر اجر و ثواب  عطا کیا جاتا ہے ۔ یہاں یہ بھی سمجھ لیجئے کہ قرآن و حدیث میں دس، ستر ، ستائیس، سات سو، ہزار، ستر ہزار وغیرہ یہ سب ہندسے تو ہمیں سمجھانے کے لئے علامت کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں کہ ہم لوگ کیلکولیٹ calculate  کر کے تھوڑا خوش ہو جائیں، ورنہ ملے گا تو بے حساب ۔

تو میرے دوستو! اتنا بڑا انسینٹو incentive ملنے کی امید ہے جس کا کوئی حساب نہیں۔ اب بتائیے کہ اس کو اچیو achieve کرنے کے لئے اسٹریٹیجی strategy اور ایفرٹس efforts درکار ہیں کہ نہیں؟

جی باس! یقیناً ۔

اچھا چلیں یہ بتائیں کہ بحیثیت مسلمان ہمارے ڈیلی اسائنمنٹس daily assignmentsکیا ہیں؟

باس! پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ۔ رزق حلال کی تگ و دو کرنا ۔ نیک کام کرنا ۔ گناہوں سے بچنا ۔

رائٹ ! اچھا یہ تو عام دنوں کی ایکٹیویٹی activity ہو گئی ۔ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اوور لاسٹ منتھ over last month کیا گروتھ دیں گے تو؟

ہم سمجھے نہیں باس؟

دیکھیں ! نماز تو ہم روزانہ ہی پڑھتے ہیں۔ الحمد للہ ! اسی طرح آپ نے بتایا کہ رزق حلال کی فکر اور کوشش کرنا ، گناہوں سے بچنا یہ تو ہماری روزمرہ کی ایکٹیویٹیز activities ہیں۔ اسی میں کچھ گروتھ دینی ہے ۔ مثال کے طور پر تراویح اس ماہ کی منفرد اور اضافی عبادت ہے جس کا بے پناہ اجر و ثواب ہے ۔ تو تراویح کا اہتمام کریں ۔ تراویح کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری) مزید یہ کہ نفل نمازوں کا اہتمام کریں۔ کوشش کریں کہ کم از کم اس ماہ مبارک میں تہجد ، اشراق ، چاشت اور اوابین کا خوب اہتمام کریں ۔ یہ نماز کی گروتھ ہو گئی ۔

اسی طرح قرآن پاک کی تلاوت کے روٹین routine میں گروتھ growth دیں گے یعنی اگر عام دنوں میں چوتھائی پارہ تلاوت کرتے ہیں تو رمضان میں روزانہ دو پارے تلاوت کریں ۔ بہت آسان ہے ۔ فجر کی نماز کے بعد کافی وقت ہوتا ہے تو اس وقت ایک مکمل پارہ تلاوت کر لیا باقی چار نمازوں میں چوتھائی چوتھائی پارہ۔ اسی طرح  چلتے پھرتے کلمہ طیبہ ، استغفار اور درود شریف کی کثرت رکھی جائے۔ جنت طلب کی جائے اور جہنم سے پناہ مانگی جائے ۔ ایک بہت آسان سی دعا ہے جس میں یہ تمام اذکار شامل ہو جائیں گے۔

لَا اِلٰہ الا اللہُ اَسْتغْفِرُ اللہ ۔ اَسْئَلُکَ الجَنَّۃَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّار۔

اسی طرح روزہ دار کو افطار کرانا کس قدر آسان کر دیا شریعت نے کہ ایک کھجور کھلا دو، سمجھو روزہ افطار کرا دیا ۔ اس ٹارگٹ کو اچیو achieve  کرنے کا نہایت آسان طریقہ یہ ہے کہ کھجور خرید کر رشتہ داروں، دوستوں، پڑوسیوں کو ہدیہ کر دیں ۔ بھئی وہ بھی تو مسلمان ہیں، وہ بھی تو روزے رکھتے ہیں۔ تو جب وہ آپ کی ہدیہ کی ہوئی کھجور سے روزہ افطار کریں گے، آپ کو اس کا بینیفٹ ملے گا۔

رمضان المبارک کے تین عشرے ہیں ۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت، تیسرا جہنم سے آزادی کا عشرہ ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ کی ایک بہت بڑی عبادت اعتکاف ہے ۔ اعتکاف کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کے واسطے کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے ۔ “

تو دوستو! جو مسلمان سنت اعتکاف کی نیت سے دس دن مسجد میں جا بیٹھتا ہے ، اس کے لئے کتنا بڑاانعام ہے ۔اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس کو یقینی طور پر شب قدر بھی حاصل ہو جاتی ہے جو قرآن کریم کے مطابق ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے ۔

اچھا دوستو! اب یہ بتاؤ کہ ماہ رمضان المبارک کی باٹم لائن bottom line کیا ہے ؟

باس ! باٹم لائن؟

نہیں سمجھے ! دیکھیں ماہ مبارک کی اولین ڈیمانڈ demand تو یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے روزے رکھے جائیں۔ یعنی ایک تو نیت محض یہ ہو کہ ہمارا سپریم باس Supreme Boss یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہو جائے۔ پھر روزے کی پابندیوں کا خیال رکھا جائے۔ روزہ کے دوران جھوٹ ، فحش گوئی، غیبت، لڑائی جھگڑے ، غصے سے بچا جائے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر بھی برے کام نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا پیاسا رہے ۔ اور دوسری حدیث مبارکہ میں فرمایا کہ بہت سے روزے دار ایسے ہیں جن کو سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں جنہیں رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہ ملا۔ تو پیٹ کے ساتھ ساتھ جسم کے ہر عضو کا روزہ ہو ۔ آنکھ سے غلط نہ دیکھے ۔ زبان سے غلط نہ بولے ۔ ہاتھ سے غلط نہ کرے ۔ یہ نہیں کہ فلمیں دیکھ کر روزہ گزارا جائے یا روزے کے باوجود موسیقی سے پرہیز نہ کیا جائے۔ غرض یہ کہ اپنے روزے کی حفاظت کرے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اتنی محنت کے بعد بھی صرف بھوک پیاس ہی ہاتھ آئے ۔ نیز یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اس ماہ مبارک میں تمام نمازیں مسجد میں با جماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا ہوں ۔ تراویح کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے ۔ صدقہ فطر ادا کیا جائے ۔ یہ اس ماہ مبارک کی باٹم لائن ہے ۔

اچھا دوستو! اب یہ بتائیے کہ OLY (اوور لاسٹ ایئر over last year )گروتھ کیا دیں گے آپ لوگ؟

جی باس ! گروتھ اوور لاسٹ ایئر ؟

بھئی ! مطلب یہ کہ پچھلے رمضان میں آپ لوگوں نے جو ٹارگٹس اچیو کئے تھے نیکیوں اور عبادات کے ، اسی پر بس کرنا ہے یا اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے ؟

باس! انشاء اللہ آگے بڑھنا ہے ۔

ہاں دوستو! دیکھو۔ ہم دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عامر کے پاس i-phone ہے تو میری بھی خواہش ہوتی ہے کہ میرے پاس اس سے بہتر موبائل فون ہونا چاہئے ۔ راشد کے پاس cultus کار ہے تو مجھے city کی خواہش ہوتی ہے۔ احمددو سو گز کے مکان میں رہتا ہے تو میری تمنا چار سو گز کے بنگلے کی ہوتی ہے ۔ اسی طرح اپنی جاب میں بھی ہم یہی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنے ساتھیوں زیادہ ٹارگٹس اچیو کریں، اپنے ساتھیوں سے زیادہ گروتھ دیں ۔ تو رمضان المبارک میں یہی کیفیت  نیکیوں کے حصول کی خاطر اپنے اوپر طاری کر لیں۔ کہ عامر اگر دو قرآن پاک کی تلاوت مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میں تین کی تلاوت کروں ۔ راشد اگر اعتکاف کا ارادہ رکھتا ہے تو میں بھی پیچھے نہ رہ جاؤں ۔ لاکھوں مسلمان رمضان المبارک میں عمرہ کی ادائیگی کو جاتے ہیں کہ حدیث مبارکہ میں رمضان المبارک میں عمرہ  ادا کرنے کی بڑی فضیلت ہے ۔ مکہ مکرمہ میں کی جانے والی ایک نیکی کا اجر ایک لاکھ کے برابر ہے  جبکہ مدینہ منورہ میں ایک نیکی کا اجر و ثواب ایک قول کے مطابق ایک  ہزار کے برابر ہے ۔ اب کر لو کیلکولیشنز۔۔۔ تو بھائی جو رمضان المبارک میں عمرہ کی ادائیگی کو جا سکتا ہے وہ حرمین شریفین میں جا کر نیکیوں کے خزانے جمع کر لے ۔

دوستو! رسول اکرم ﷺ کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ “رمضان کا مہینہ آ گیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ۔ خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں، دعا کو قبول کرتے ہیں ۔ تمہارے تنافس (ایک دوسرے کی حرص میں اس سے بڑھ چڑھ کر کام کرنا ) کو دیکھتے ہیں ۔ اور ملائکہ سے فخر فرماتے ہیں ۔ پس اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ ۔ بدنصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔ “(الطبرانی)

ہاں دوستو! اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ۔ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو ۔ ایک دوسرے سے مسابقت کرو ۔ دیکھو! ہم سب کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ بڑا سا بنگلہ ، لگژری کار ، قیمتی موبائل فون ،وغیرہ خرید سکیں لیکن یہ نیکیاں حاصل کرنے کے لئے تو ہمیں کوئی وسائل درکار نہیں ۔ صرف اپنے اندر فکر اور شوق پیدا کرنے کی اور ذرا سی محنت کی ضرورت ہے۔

باس! آج تو آپ کوئی علامہ معلوم ہو رہے ہیں ۔ کتنا آسان لگ رہا ہے رمضان المبارک کے فضائل اور اس میں کئے جانے والے اعمال کی قدر و قیمت کو سمجھنا !

ارے نہیں یار! میں کوئی علامہ ولامہ نہیں ہوں ۔ بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں تو ہم بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں ۔ کم و بیش تمام مساجد میں علمائے کرام ہر سال رمضان المبارک کے بارے میں یہی ساری باتیں بتا رہے ہوتے ہیں ۔ تو ہم سب یہ تمام باتیں متعدد بار سن چکے ہیں۔ آج آپ کی روزمرہ کی سیلز میٹنگ کے انداز میں ہم نے یہ سب کچھ ڈسکس کیا تو اللہ کے فضل سے آپ کو آسانی سے سمجھ آگیا ۔  نکتے کی بات یہ ہے کہ کون سی بات کس کے کہنے سے یا کس طرح کہنے سے سمجھ میں آ جائے ۔ کہنے سننے کی توفیق بھی اللہ ہی دیتا ہے اور سمجھ بھی اسی کے حکم سے آتی ہے ۔ بحیثیت مسلمان نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ آج کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ میں نے علمائے کرام ہی کی بارہا بتائی ہوئی باتیں آپ کو بتائیں اور آپ کے دل پر اثر کر گئیں۔ الحمد للہ !

ساتھیو!اب رمضان المبارک میں چونکہ بہت بڑا بینیفٹ ، بہت بڑا بونس ، بہت بڑا ریٹرن ملنے والا ہے تو پھر ایفرٹ بھی اسی حساب سے ہونی چاہئے ۔ دیکھو اس ماہ مبارک کا کوئی لمحہ ضایع نہ ہونے پائے ۔ بازاروں میں گھوم کر اپنا وقت اور توانائی برباد نہ کرنا۔ عید کی تیاریاں رمضان سے پہلے ہی مکمل کر لو۔ باس ہونے کی حیثیت سے میں آپ کو ماہ رمضان المبارک میں یہ رعایت دیتا ہوں کہ آپ روزانہ دس کے بجائے چھ کلائنٹسclients کو وزٹ visitکریں ۔ اس طرح آپ کا وقت اور انرجی energy بچےگی ۔ اس بچ جانے والے وقت اور توانائی کو اللہ کی عبادت اور نیکیاں جمع کرنے میں صرف کیجئے گا ۔ اگر بالفرض نیکی پر قادر نہ ہوں تو کم از کم اتنا تو ضرور کریں کہ برائی یا گناہ کا کام ہرگز سرزد نہ ہونے پائے ۔ بستر پر پڑ کر سو جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ روزہ کی حالت میں گناہ کا ارتکاب کرے۔ اس ماہ مبارک کی قدر کیجئے گا۔ آخرت کے لئے نیکیوں کا خوب ذخیرہ جمع کر لیجئے گا ۔ حدیث کے مطابق جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جو رمضان المبارک کو پائے اور اپنی مغفرت نہ کرائے، جس پر رسول اکرم  نے آمین کہا۔ اس وعید سے بچنا میرے دوستو! اپنی مغفرت کروا کے ہی دم لینا۔

جی باس! انشاء اللہ ضرور ۔

اچھا دوستو! عید کیا ہوتی ہے ؟

عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ۔

درست! اس دن مسلمان خوشی مناتے ہیں۔ مسلمان یہ خوشی کیوں مناتے ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں ( اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا ) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ یا رب! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے۔ تو ارشاد ہوتاہے کہ فرشتو! میرے غلاموں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا ، پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے ( عیدگاہ کی طرف ) نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم ! میرے علو شان کی قسم ! میرے بلندیٔ مرتبہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا ۔ پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ! تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے ۔ پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ)

آہا دوستو! عید گاہ جاؤ تو ذرا تصور کرنا کہ آسمانوں میں اللہ رب العزت کا دربار لگا ہوا ہے ۔ اللہ رب العزت اپنے عرش پر جلوہ افروز ہیں ۔ فرشتے دست بست کھڑے ہوئے ہیں۔ اور سوال جواب کا ایک سیشن session منعقد ہو رہا ہے ۔ تصور کرنا کہ اللہ رب العزت میری تمہاری طرف اشارہ کر کے ، میرا تمہارا نام لے کر کہے : ارے فرشتو! تم تو کہتے تھے یہ زمین میں فساد کرے گا۔ آؤ دیکھو۔ یہ میرا عامر ہے ۔۔۔یہ میرا راشد ہے ۔۔۔ یہ میرا فلاں ہے ۔ دیکھو اس نے اپنی ذمہ داری پوری ادا کر دی ۔ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں لیکن پھر بھی میں نے اس سے جو کہا ، اس نے کر کے دکھا دیا ۔ یہ میری محبت میں ، میری اطاعت میں کھانا پینا چھوڑ بیٹھا تھا۔ نماز ، تلاوت ، صدقہ سے مجھے خوش اور راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔ اس دھن میں مگن رہا کہ مجھے ۔۔۔ اپنے رب کو دوسروں سے زیادہ نیکیوں میں بڑھ کر دکھا دے ۔ میری جنت کو نہیں دیکھا لیکن مجھ سے جنت طلب کرتا رہا ۔ میری جہنم کو نہیں دیکھا لیکن اس کے پناہ مانگتا رہا ۔ بتاؤ اب میں اس کو کیا بدلہ دوں؟ فرشتوں کا جواب ہو گا کہ الٰہی طریقہ تو یہی ہے کہ مزدور جب اپنی خدمت پوری کر دے تو اس کی مزدوری عطا کر دی جائے ۔

اوہو دوستو! ذرا تصور کرنا اس لمحے کا کہ جب اللہ رب العزت ۔۔۔ میرے لئے ۔۔۔ تمہارے لئے ۔۔۔ اپنی عزت کی ، اپنے جاہ و جلال کی ، اپنی رفعت شان کی ، اپنے مرتبہ کی قسمیں کھا کر ۔۔۔ چار قسمیں کھا کر کہہ رہے ہوں گے : میرے بندے ! میں تمہاری دعا ضرور قبول کروں گا ۔ اے میرے بندے عامر ! اے میرے بندے راشد ! اے فلاں بن فلاں! آج عید کا دن ہے ۔ آج خوشیوں کا دن ہے ۔ آج تو خوش ہو جا ۔۔۔ آج میں  تیری مغفرت کا اعلان کرتا ہوں ۔ جا تیرے تمام گناہ معاف کر دئیے ۔۔۔ یہی نہیں بلکہ تیرے گناہوں کی جگہ بھی نیکیاں لکھ دیں۔

ہاں میرے دوستو! ذرا کان لگا کر ان سوال و جواب کو ، اللہ کی کھائی جانے والی قسموں کو ، مغفرت کے اعلانات کو سننے کی کوشش کرنا۔۔۔ سنائی تو ہمیں کچھ نہیں دے گا ۔۔۔ البتہ پرواز تخیل سے ہم یہ سارا منظر اپنے تصور میں تو لا سکتے ہیں ۔۔۔ اس سارے منظر کو اپنے تصور میں لا کر جب تم عیدگاہ سے لوٹو گے تو پھر تمہیں عید کی حقیقت سمجھ آئے گی۔۔۔ پھر تمہیں عید کا مزہ آئے گا۔۔۔ پھر تمہیں عید کی لذت محسوس ہو گی ۔۔۔ پھر تمہیں عید کی سچی خوشی محسوس ہو گی۔ پھر تمہیں سمجھ آئے گا کہ عید کیا ہے ۔

تھینک یو باس! آج رمضان المبارک کی ایکچوئل ورتھ actual worth ہمارے سامنے آ گئی ۔ آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اس ماہ مبارک کی ڈیمانڈز demands  پورے کرنے کے لئے خوب اسٹریچ stretch کریں گے ۔ اپنے کمفرٹ زون comfort zone سے باہر نکل کر اس ماہ کے انسینٹوز incentives کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ آج ہم نے  جو ٹارگٹس targets سیٹ کئے ہیں ان کو  اچیو achieve کرنے کے لئے اپنی کمٹمنٹ شو کریں گے ۔

جزاک اللہ دوستو! اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نچھاور فرمائے ۔ ایک آخری بات ! روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ ایمان والے متقی بن جائیں۔ تو دوستو! جس طرح روزے میں حلال چیزوں کو بھی اللہ کی خاطر چھوڑ دیتے ہو ، اسی طرح روزے کے بعد اگر آپ کا نفس گناہ کی طرف مائل ہو تو اپنے نفس سے کہنا کہ اے نفس ! تو نے تو اپنے رب کی خاطر حلال چیزیں بھی چھوڑ  دی تھیں ، تو پھر آج حرام پر کیوں آمادہ ہے ؟

اللہ تعالیٰ گناہوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ اپنی رضا عطا فرمائے ۔ اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھئے گا۔

مبارک علیکم الشہر  ۔۔۔ والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

Advertisements