Emaan, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, Uncategorized, اسلام

کورونا اور ماسک

کورونا اور ماسک

دو چار دن گھنٹہ دو گھنٹے کے لیے ماسک لگانا پڑا۔ سخت گھٹن محسوس ہوئی۔ سانس لینا مشکل۔ ماسک کے اندر ایک طرف پچھلے سانس کی گرمی و نمی، دوسری جانب ناک کے اطراف کے مساموں سے جاری ہونے والا پسینہ۔ عینک لگانے والوں کے لئے ہر سانس کے ساتھ شیشوں پر نمی کی پریشانی الگ۔ تو مختصراً یہ کہ انتہائی مشکل کام ہے۔ پردہ دار بیبیوں کی مشقت کا اندازہ ہوا۔ اور یہ تو صرف چہرے کی کیفیت ہے۔ انہوں نے تو بدن پر عبایا بھی پہنا ہوا ہوتا ہے۔ سر تا پا مستور و محصور۔

یہ حجاب و نقاب کا اہتمام معمولی عمل نہیں ہے۔ اول اللہ کی فرمانبرداری کا جذبہ، دوم اللہ کی نافرمانی کا خوف، سوم یہ گھٹن کی مشقت، چہارم معاشرے کے طنز و طعنے۔۔۔

قابل احترام مسلم خواتین۔۔۔

یقیناً اللہ بڑا قدردان ہے۔

یقیناً مشقت ختم ہو جائے گی۔

یقیناً اجر ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا۔

ڈٹی رہئے۔

اللہ تعالی طاعات پر آسانی و استقامت عطا فرمائے۔

آمین۔

#کورونا_ڈائریز

Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اسلام, علم دین

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

دین عبادت کا نہیں اطاعت کا نام ہے۔
اللہ کے ہاں کوانٹٹی نہیں کوالٹی دیکھی جاتی ہے۔
اللہ کے ہاں مقدار نہیں، اخلاص کی اہمیت ہے۔
شریعت میں عام قاعدہ ہے، مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔

ایمان والوں کو کہا گیا اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ اولوا الامر کون ہیں؟ حکومت، علمائے دین، متعلقہ شعبہ کے ماہرین۔ مثلا مریض کے لیے معالج، طالبعلم کے لیے استاد۔۔۔ علی ھذا القیاس۔

ہم کتنے نمازی ہیں یہ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اس کی گواہ ہماری مساجد بھی ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مسجد کے ہال صحن دالان حتی کہ چھتیں تک بھری ہوئی ہوتی ہیں جبکہ باقی چونتیس نمازوں میں مسجد کا ہال ہی پر ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اور فجر کا تو ذکر ہی رہنے دیجئے۔

اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی! ہفتہ بھر نمازوں سے غافل… جمعہ کا اہتمام۔ سال بھر نمازوں میں غفلت… رمضان میں مسجد کو دوڑیں۔ عید کے بعد پھر سال بھر کے لیے غائب۔ الا ما شآء اللہ۔

عذر کی صورت میں معذور کو خاصی آسانی عطا کی گئی۔ لیکن رعایت کے معاملہ میں بھی ہم افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ مثلا بیٹھ کر نماز۔ معذور کو رعایت حاصل ہے کہ اپنی تکلیف و مرض کی شدت کے مطابق بیٹھ کے نماز پڑھے۔ بیٹھنے کا مطلب زمین پہ بیٹھ کے نماز پڑھی جائے۔ لیکن چونکہ فی زمانہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کو کرسی پر بیٹھنا ہی فرض کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ادھر کوئی معمولی سا عارضہ لاحق ہوا ادھر کرسی پکڑی۔ اب دفتر بازار واک سے لے کر مسجد آنے تک سارے کام پیدل ہو رہے لیکن نماز کرسی پر! ایسے ہی رمضان کے روزوں کا معاملہ ہے۔ بعضے محض زکام یا کسی معمولی بیماری پر روزہ چھوڑنے کو تیار۔

دوسری جانب نماز قصر کا مسئلہ ہے۔ شریعت نے چودہ سو برس پہلے بتا دیا کہ مسافر قصر نماز ادا کرے۔ مسافر کی تعریف بھی بیان کر دی۔ لیکن بعض انٹیلیکچوئلز شرعی حکم کے برخلاف پوری نماز پڑھنے پر مصر۔ تاویل یہ کہ اب سفر پہلے جیسا پر صعوبت کہاں رہا؟ یعنی شریعت آسانی دے رہی ہے لیکن چونکہ یہ آسانی اپنی سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔ سو یہاں بھی اپنی ہی کرنی ہے۔

اب اتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جو آج کل درپیش ہے۔ کورونا وائرس کے سبب مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی۔ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء سے مشاورت کے بعد جمعہ کے اجتماعات کو تین تا پانچ افراد تک محدود کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ بڑے بڑے علماء نے فتاوی جاری کئے کہ باقی مسلمان حکومتی اقدام کی روشنی میں معذور ہو گئے۔ لہذا اب شرعی عذر کے سبب یہ مسلمان گھروں پر ہی نماز ظہر ادا کریں۔ لیکن صاحب… میں نہیں مانتا!

اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ مغربی ممالک سے لے کر مشرق وسطی تک اور سعودی عرب سے لے کر پاکستان تک اکثر مساجد بند ہیں یا نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں ڈاکٹر علمائے دین اور حکمران سب ایک صفحہ پر ہیں۔ گویا امت کا سواد اعظم ایک نکتے پر متفق ہے کہ وباء کے پھیلاؤ اور نقصانات کے باعث ماہرین طب کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور موجودہ غیر معمولی صورتحال کے سبب مذہبی اجتماعات کو جہاں تک ممکن ہو سکے مختصر و محدود کر دیا جائے۔ لیکن….میں نہ مانوں۔۔۔

مسجدیں بند ہونے یا جمعہ پر حکومتی پابندی سے یقینا کوئی مسلمان خوش نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے مسجد جانے پر اسے مطعون کر سکتا ہے۔ دکھ اور افسوس لیکن اس بات کا ہے کہ نہ حکومتی احکامات کی پابندی کی جا رہی نہ علماء کی ہدایات پر کان دھرے جا رہے نہ ڈاکٹر صاحبان کی التجاؤں کو سنجیدہ لیا جا رہا، اور نہ ہی امریکہ اسپین اٹلی سے آنے والی آہ و بکا سے عبرت پکڑی جا رہی ہے، الا ما شآء اللہ۔

بعض دین سے محبت رکھنے والے حکومتی اقدام پر معترض ہیں کہ سپر اسٹورز اور بازار کھلے ہیں لیکن مساجد پر پابندی پے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ محترم آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ سارے اسکول کالج یونیورسٹیز تمام مدارس سارے ہوائی اڈے ریلوے سروس بس سروس کریم اوبر سروس ہوٹل ریستوران ٹورزم سارے چائے کے ہوٹل تمام شاپنگ مال سارے شادی ہال تمام سنیما گھر مکینک کپڑے جوتے کی دوکانیں بے شمار فیکٹریز اور جانے کیا کیا بند ہوا پڑا ہے۔ حتی کہ اسپتالوں میں او پی ڈیز بھی بند ہیں۔ فقط چند گنے چنے شعبے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ بھی دن میں محدود وقت کے لیے۔

پھر تقریبا تمام ہی سپر اسٹورز نے چار حفاظتی تدابیر دروازے پر ہی لازمی اختیار کی ہوئی ہیں۔ اول ماسک کے بغیر کوئی گاہک اندر نہیں جا سکتا۔ دوم ہر فرد کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔ سوم ہر فرد کے ہاتھ سینیٹائز کئے جاتے ہیں۔ چہارم ٹرالی کے دستے کو جراثیم کش کیمیکل سے صاف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ ہجوم پر اعتراضات کے بعد بعض اسٹورز سیل بھی کئے گئے جس کے بعد ان سپر اسٹورز نے پانچویں تدبیر یہ اختیار کی کہ گاہکوں کو باہر ہی مناسب فاصلے سے قطار میں کھڑا کر کے انتظار کرایا کیا جا رہا ہے اور اندر بھی کراؤڈ مینیجمنٹ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

اب آئیے مساجد پر۔ علماء نے جمعہ پر حکومتی پابندی پر عوام کو معذور قرار دیتے ہوئے گھروں میں ظہر ادا کرنے ہدایت کی۔ لیکن عوام نے اس شرعی رعایت کو رد کر دیا۔ اور ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت کا ادراک نہ کرتے ہوئے مسجدوں کو گئے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اولین جمعہ میں مساجد میں خطبہ سے قبل اردو بیان بھی ہوا۔ اس کے بعد اگلے جمعہ حکومت نے زیادہ سختی کی اور 12 سے 3 بجے کرفیو اور مساجد کو تالے لگانے جیسے انتہائی اقدامات کئے۔ اس تدبیر کا توڑ یہ کیا گیا کہ بعض نمازی 12 بجے سے قبل ہی مساجد پہنچ گئے یا کرفیو کے اوقات میں چور دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ جمعہ کے بعد جب بڑی تعداد میں نمازی مساجد سے باہر نکلتے دیکھے گئے تو عوام اور پولیس کے درمیان نوک جھونک یا لاٹھی چارج و پتھراؤ سے لے کر امام مسجد کی گرفتاری ایسے ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے۔ ہماری دانست میں ان سب واقعات کا بنیادی سبب حکومتی احکامات سے ہماری سرتابی ہے۔

اولوا الامر کی ہدایات یہ بھی تھیں اور ہیں کہ کم عمر بچے مسجد نہ جائیں۔ اسی طرح بزرگ افراد جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس کے سبب زیادہ خطرے میں ہیں مسجد نہ جائیں۔ نزلہ زکام بخار یا کسی اور بیماری میں مبتلا افراد بھی مسجد نہ جائیں۔ لیکن افسوس عمر رسیدہ افراد ایک مرتبہ پھر ہمارے برادر خورد کے اس قول کی تائید کرتے نظر ائے کہ ہمارے ہاں عمر رسیدہ افراد تو کمی نہیں، بزرگ لیکن شاذ ہی کوئی ملتا ہے۔ علماء نے کہا ماسک اور دیگر تمام حفاظتی تدابیر اختیار کر کے مسجد آئیں۔ لیکن خال خال ہی کوئی ماسک پہنے مسجد جاتا دکھائی دیا۔ ایمان ہمارا ایسا نحیف و لاغر کہ جمعہ کے جمعہ مسجد لاتا ہے لیکن توکل میں ہم شاید خود کو سیدنا عمر فاروق سے بھی آگے سمجھتے ہیں۔ ہماری ایسی لاپرواہیوں کے باعث دین دینی مراکز اور علماء و ائمہ مساجد کس قدر رسوا و بدنام ہو رہے ہیں اس کا ہمیں نہ احساس ہے نہ فکر۔ جون ایلیا کا یہ قطعہ نہایت موزوں و بر محل معلوم ہوتا ہے۔۔۔
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی

قرآن ایمان والوں کو کہتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔ انما الاعمال بالنیات کی روشنی میں امیر اور اولو الامر کی اطاعت کی نیت سے گھر پر نماز ادا کر لی جائے، یا رعایت و رخصت پر یہ سوچ کر عمل کر لیا جائے کہ یہ بھی اللہ کو پسند ہے تو ان شآء اللہ اس پر بھی بڑا اجر و ثواب متوقع ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی!