Behaviors & Attitudes

Ujrat

اجرت

از ۔۔۔ ابو شہیر

پنکچر والے نے بڑی محنت سے پنکچر لگایا ۔ گاڑی والے صاحب نے معاوضہ دریافت کیا تو پنکچر والے نے کہا کہ صاحب ایک سو پچاس روپے ہو گئے ۔

“کیوں بھئی ایک سو پچاس روپے کیسے ہو گئے ؟ ” صاحب نے جارحانہ لہجے میں پوچھا ۔

“صاحب دو پنکچر تھے اور والو بھی دوسرا ڈالا ہے ۔ “

“ابے تو وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ ایک سو پچاس روپے کیسے ہوگئے ؟ “

“صاحب پہلا پنکچر پچاس روپے کا ، دوسرا چالیس کا اور والو ساٹھ روپے ۔ آپ خود جوڑ لو کتنے ہو گئے !”

“ابے ۔۔۔ چالیس روپے کا پنکچر چل رہا ہے ۔ ۔۔۔۔تو کوئی آسمان سے اترا ہے جو پچاس کا پنکچر لگا رہا ہے ۔ ” صاحب کا میٹر شارٹ ہوگیا اور چنگاریاں نکلنی شروع ہو گئیں ۔

” صاحب اور جگہ تو ساٹھ روپے کا ریٹ چل رہا ہے ۔ میں تو پرانے ریٹ سے ہی لگا رہا ہوں ۔”

“چل تیری ۔۔۔۔ میں بھی اسی شہر میں رہتا ہوں ۔ ۔۔۔۔پنڈ سے نہیں آیا ہوں ۔۔۔۔ دماغ خراب ہو گیا ہے تیرا کیا ۔۔۔۔۔ ”  صاحب کے منہ سے ناقابل اشاعت الفاظ کی برسات شروع ہو چکی تھی ۔

“صاحب آرام سے بات کرو ۔ آپ بتاوَ کیا دو گے ؟ “

“یہ پکڑ ایک سو بیس روپے “

” صاحب یہ تو بہت کم ہیں ۔ آپ ایک سو چالیس دے دو”

“چل چل یہ پکڑ ۔ بس یہ  بہت ہیں “

کچھ دیر کی تکرار  کےبعد پنکچر والے نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا :” چھوڑو صاحب آپ یہ بھی مت دو “

بس یہ سننا تھا کہ صاحب آپے سے باہر ہو گئے :

“سالے تیری ۔۔۔۔ میں کوئی ۔۔۔۔تیرے ساتھ ناجائز کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ” مغلظات کا ایک اور سیلاب ان کے منہ سے برآمد ہوا ۔

پنکچر والے نے غصہ سے ان کی طرف دیکھا اور  ایک سو بیس روپے لیتے ہوئے کہا :

” صاحب آپ آئندہ کہیں اور سے پنکچر لگوا لینا۔ میری دوکان پر مت آنا “

یہ کہہ کر وہ کان بند کر کے میری بائیک کا ٹائر کھولنے میں مشغول ہو گیا ۔ صاحب بکتے جھکتے وہاں سے رخصت ہو گئے ۔

عجیب رویے ہو گئے ہیں ہمارے ۔ بات بے با ت آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ تلملا جاتے ہیں ۔ بھڑک اٹھتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کی عزت اتار کر رکھ دیتے ہیں ۔ گالم گلوچ یہاں تک کہ ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں۔ مذکورہ واقعہ ہی کو دیکھ لیں ۔ بظاہر کوئی بڑی بات تو نہ تھی ۔ اور رقم بھی کتنی  واجبی سی تھی ۔ پنکچر والا اپنی مزدوری طلب کر رہا تھا جو کہ اس کا حق تھا ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ زیادہ معاوضہ طلب کر رہا ہو لیکن یہ معاملہ افہام و تفہیم کے ساتھ بھی حل کیا جا سکتا تھا ۔ اول تو پہلے ہی معاوضہ طے کر لینا چاہئے تھا ۔ تاہم بعد میں بھی اگر نرمی سے بات کر لی جاتی تو بھی یقیناً وہ کچھ نہ کچھ رعایت کر ہی دیتا ۔ معاملہ سہولت سے طے پا جاتا اور دو مسلمان ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے رخصت ہو جاتے !

لیکن “صاحب ” جو کہ اپنے چہرے مہرے سے تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے کے فرد معلوم ہو رہے تھے ، لباس بھی خاصا قیمتی پہنے ہوئے تھے اور گاڑی بھی لشکارے مار رہی تھی ۔۔۔ بارہ پندرہ لاکھ کی تو ہو گی ۔۔۔۔ لیزنگ پر بھی نکلوائی ہو گی تو چالیس پچاس ہزار روپے ماہانہ قسط تو جاتی ہی ہو گی ۔۔۔ ایسے رئیس زادے کا دس بیس روپے پہ لڑنا اور ایسی معمولی سی بات پر اپنی تعلیم و تربیت اور خاندانی شرافت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فحش کلامی کا مظاہرہ کرنا۔۔۔ کیا کہا جائے اس رویے کو ؟

ابھی کل ہی کے اخبار میں کراچی کے ایک مشہور و معروف ریستوران کا اشتہار دیکھا : ” بوفے ڈنر صرف ساڑھے نو سو روپے فی کس “۔ پھر پڑھئے ۔۔۔ صرف ساڑھے نو سو روپے فی کس ! جو کہ ٹیکس ملانے کے بعد ایک ہزار سے اوپر بن جاتے ہیں ۔ تو یہی “صاحب ” جب ایسے کسی ریستوران میں ڈنر کرنے جاتے ہیں (اوران کا اسٹیٹس بتا رہا تھا  کہ جاتے ہی ہوں گے )تو بغیر کوئی چوں چرا کئے ساڑھے نو سو روپے فی کس علاوہ ٹیکس کے حساب سے ادائیگی کردیتے ہیں اور اس وقت نہ ان کے ماتھے پر شکن نمودار ہوتی ہے اور نہ ہی وہاں ان کی یہ والی حس بیدار ہوتی ہے کہ کاوَنٹر پر پوچھ سکیں کہ “ابے میں نے ایسا کیا کھایا ہے جو تو اتنے پیسے مانگ رہا ہے ؟ “ستم بالائے ستم سو دوسو روپے ٹپ بھی دے دی بیرے کو ۔ راستے میں کسی سگنل پر فقیر نے ہاتھ پھیلا دیا تو دس بیس روپے اس کو تھما دیئے ۔ کوئی سرکاری کام نکلوانا ہوا تو دس بیس ہزار روپے رشوت کی مد میں کسی سرکاری اہل کار کے ہاتھ پر رکھ دیئے ۔ دوکان پر “پرچی”آ گئی تو ہزاروں روپے دفع شر کی غرض سے دے ڈالے ۔ ڈاکٹر کو چار سو روپے فیس چپ چاپ دے دی جبکہ و ہ مریض کو چار سو روپے کے عوض چار منٹ بھی دینے کا روادار نہیں۔ واضح رہے کہ یہاں ہم ایک مجموعی رویے کی بات کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ مذکورہ “صاحب “یہ سب کچھ نہ کر رہے ہوں لیکن ایسا بہت کچھ یا کچھ نہ کچھ تو کر تے ہی ہوں گے ۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ محنت سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے ۔ دوبارہ پڑھئے : اللہ کا دوست ! ۔۔۔ ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ غریب، فقیر مسلمان جس کی کوئی سفارش بھی قبول نہ کرے ایسے مسلمان سے بہتر ہے جو غنی ہو چاہے ایسے غنی مسلمانوں سے دنیا بھری ہو۔ ایسے لوگ جن کو اللہ بھی دوست رکھتا ہو اور اس کا رسول ﷺ بھی ، ہم ان سے حقارت سے بات کریں تو بھلا ہم کس کا نقصان کر رہے ہیں؟

اور ایک اور حدیث مبارکہ میں تاکید کی گئی ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہو جانے سے پہلے ادا کر دو ۔ کتنی عام فہم اور واضح بات ہے ! یہ پنکچر والے ! یہ بہت بڑی نعمت ہیں اللہ تعالیٰ کی ۔ معاوضہ لینے کے باوجود یقین جانئے کہ یہ سروس پرووائیڈر ہوتے ہیں ، ہماری خدمت ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ورنہ ہم میں سے کتنے ہیں جو خود ٹائر کھول کر پنکچر لگا سکتے ہیں ؟ سوچئے تو سہی گاڑی پنکچر ہو جائے تو  اسٹپنی  لگانے میں کتنی مشقت ہوتی ہے ۔ تو پنکچر والا بھی تو کم و بیش اتنی ہی یا ویسی ہی مشقت کر رہا ہے ۔ اور ایک پنکچر بنانے پر اچھا خاصا وقت اور محنت بھی صرف کر رہا ہے ۔ اگر معاوضہ دس بیس روپے زیادہ بھی لگے تو فقیر وں اور بھکاریوں کو دینے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ اس کو دے دیئے جائیں ؟ یہی سوچ لیا جائے کہ یہ بندہ محنت مزدوری کر رہا ہے ۔ بھیک تو نہیں مانگ رہا ناں !

پنکچر والے ! سارا دن گندے غلیظ ٹائر کھولنا اور ان کی مرمت کرنا ان کا کام ہے ۔ آٹو مکینک ہماری بیش قیمت گاڑیوں کی مرمت کرتے ہیں ۔ ان کو دوبارہ چلنے کے قابل بناتے ہیں ۔ ہماری گاڑیوں کے نیچے لیٹ جاتے ہیں ۔ اپنے ہاتھ اور لباس کالے کر لیتے ہیں ۔ انجن کی گرمی سے بعض اوقات ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں ۔ یہ محنت کش لوگ ! یہ پنکچر والے ! یہ آٹو مکینک! یہ سبزی پھل فروش ! یہ نائی ! یہ موچی  وغیرہ۔۔۔۔ یہ بڑے نرم دل لوگ ہوتے ہیں ۔ ان سے ذرا ہنس کے بات کر لیں ، ذرا سی ان کو عزت دے دیں، تو یہ بہت خوش ہو جاتے ہیں ۔ آپ کے آگے بچھ جاتے ہیں ۔ آپ کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں ۔ بھاگ بھاگ کے آپ کی خدمت کرتے ہیں ۔ ان کی عزت کیجئے ۔ ان سے محبت اور احترام سے پیش آئیے ۔ ان کو جھڑکئے نہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ کا نازیبا رویہ ان کو بھی بدکلامی پر مجبور کر دے۔ اور یہ بھی آپ کی ماں بہن تک پہنچ جائیں ۔ مزدوری کام کرانے سے پہلے طے کر لیجئے تاکہ بعد میں بد مزگی نہ ہو۔ ان کی مزدوری نہ روکئے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی محنت مزدوری چھوڑ کر بھیک مانگنے لگ جائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی چور ڈاکو بن جائیں ۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی دہشت گرد بن جائیں ۔ ۔۔اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی خودکش بمبار بن جائیں ۔ ۔۔کہ جب لوگوں کو ان کا جائز حق نہیں دیا جاتا تو پھر وہ اپنا حق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔چاہے اس کوشش میں کسی اور کا استحصال کر بیٹھیں ۔ ۔۔تنگ آمد بجنگ آمد !

Advertisements