Behaviors & Attitudes, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے

Suragh-e-Zindagi

سراغِ زندگی

از۔۔۔ ابو شہیر

پیش لفظ

ابتدا اور انتہا … یہ دو حدیں ہیں جن کے درمیان دنیا اور اس کی ہر چیز مقید ہے ۔ زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ، آسمان اپنی تمام بلندیوں کے باوجود ، سمندر اپنی تمام گہرائیوں کے باوجود ، پہاڑ اپنی تمام ہیبتوں کے باوجود ….. درختوں کے پتے ، ریت کے ذرے ، پانی کے قطرے ، آسمان کے ستارے ،ان گنت ہونے کے باوجود …. نہ تو لا محدود ہیں نہ ہی ابتدا و انتہا کی قید سے آزاد ہیں ۔ ایک دن آئے گا کہ یہ جہان رنگ و بو اپنی میعاد پوری کر کے ختم ہو جائے گا۔
صرف ایک ذات ہے جس کی نہ کوئی ابتدا ہے ، نہ کوئی انتہا … جو لا محدود ذات ہے …. جس کی وسعتیں لا محدود ، جس کی عقل و فہم لا محدود ، جس کے خزانے لا محدود ، جس کی حکومت لا محدود ، جس کی حکمت ، جس کی عظمت ، جس کی قدرت …. غرض تمام صفات لا محدود ہیں ۔ تو جب ہم اس عظیم اور لا محدود ذات کو اپنی انتہائی محدود عقل و فہم کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ہماری بے بسی و لاچاری دیدنی ہوتی ہے…. ہماری عقل وسمجھ ہمارا ساتھ چھوڑ جاتی ہے ….. ہماری فراست و ذکاوت ہانپنے لگ جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ کی ذات میں غور کرنے کی بجائے اس کی مخلوقات میں غور کیا جائے ۔

دنیا کے انسانوں نے جب جہاں مخلوقات الٰہی پر غور کیا …. اسرار و رموز کے نئے نئے در ان کے لئے وا ہو گئے ۔ طوالت سے بچنے کے لئے صرف ایک مثال نیوٹن کی لے لیتے ہیں ۔ نیوٹن سیب کے درخت کے نیچے بیٹھا ہے ۔ اچانک ایک سیب درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گر جاتا ہے ۔ بظاہر معمول کا عمل ہے ۔ کوئی نئی بات تو نہیں ہے ۔ لیکن نیوٹن جب اس عمل کے بارے میں سوچنا شروع کرتا ہے ، غور و فکر کرنا شروع کرتا ہے…. کہ یہ سیب نیچے زمین ہی پر کیوں گرا ؟ اوپر کی جانب کیوں نہیں چلا گیا؟ … تو علم و آگہی کا ایک نیا باب رقم ہوتا ہے ۔ اور پھر نیوٹن نیوٹن بن جاتا ہے … !
سوال یہ ہے کہ کیا نیوٹن اس عمل کے پیچھے موجود عامل کو تلاش کر پایا …. ؟ جواب ہو گا کہ ہاں ۔ اچھا تو وہ عامل کیا ہے بھلا؟ جواب ہو گا کہ جی کشش ثقل ۔ لیکن …. کیا بات صرف اتنی ہی ہے ؟ اگر بات صر ف یہیں تک محدود کر دی جائے تو مادہ پرستی کا در کھلتا ہے جو کہ اس دنیا کا سب سے بڑا دجل و فریب ہے…. وہی مادہ پرستی …. جسے دجال اور اس کے چیلوں کا سب سے خوفناک ہتھیار بتایا جاتا ہے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

یہی غور و خوض ، تدبر و تفکر ایک قدم آگے بڑھ کر جذبۂ ایمانی کے تابع ہو جاتا ہے تو آگہی کا ایک نیا جہان کھل جاتا ہے جو کہ دیکھنے والوں کو متحیر کر کے رکھ دیتا ہے ۔ باطن کی آنکھ کھول کر دیکھا جائے تو ہمارے اطراف میں بکھری چھوٹی چھوٹی چیزیں ، ہماری روزمرہ زندگی کی غیر اہم اور معمولی باتیں…. ہمیں بڑے بڑے اسرار و رموز سے آگاہ کرتی چلی جاتی ہیں …. بتاتی چلی جاتی ہیں کہ ہر چیز کے پیچھے ، ہر ذرے کے اندر ایک نادیدہ طاقت متحرک ہے… جو کہ سب کچھ ہے…. اور پھر غور و فکر کی اسی پگڈنڈی پر چلتے جائیں تو منزل اپنا نشان دینے لگتی ہے … زندگی کا سراغ ملنے لگتا ہے…. اقبال نے بھی تو یہی کہا تھا….

 اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا ، نہ بن …. اپنا تو بن

ابو شہیر

۱۲ ربیع الاول ۱۴۳۱ ہجری

بمطابق ۲۷ فروری ۲۰۱۰

suraghezindagi@yahoo.com

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

سراغ زندگی

دروازے کی گھنٹی بجی تو عروسہ احمد نے دروازہ کھولا ۔

احمد صاحب دفتر سے واپس آ چکے تھے ۔

عروسہ احمد کو دیکھتے ہی ان کا چہرہ کھل اٹھا ۔

عروسہ احمد معمول کے مطابق اپنے شوہر کے استقبال کے لئے تیار تھیں ۔ صاف ستھر ا لباس، بال سلیقے سے سنورے ہوئے، ہلکا سا میک اپ…. احمد صاحب کے لئے تو یہ سب کافی سے کچھ زیادہ ہی تھا ۔

“السلام علیکم۔”عروسہ احمد نے خوشدلی سے کہا ۔

“وعلیکم السلام ۔ کیا حال ہیں ؟ ” اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہوئے احمد صاحب نے اپنے بیٹے عبداللہ کو ان کی گود سے اپنی گود میں لے لیا اور اس کے گال پر پیار کیا ۔

“الحمد للہ ۔ ” کہتے ہوئے انہوں نے اپنے شوہر کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی اور لیپ ٹاپ لے لیا اور اسی دوران عبداللہ سے مخاطب ہو کر بولیں ۔

 “عبداللہ ! بابا کو چھام (سلام ) کریں …. “

ننھے عبد اللہ نے اپنے مخصوص انداز میں سر پر ہاتھ رکھ کر گویا سلام کیا اور اپنے بابا کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔
” وعلیکم السلام ۔ میرا بیٹا کتنا پیارا ہے … ” کہتے ہوئے احمد صاحب نے اس کو بھینچ کر اس کے گال پر پیار کیا ۔

“کیسا گزرا آپ کادن ؟ ” معمول کے مطابق عروسہ احمد نے پوچھا ۔

“ہوں ! کافی مصروفیت رہی آج تو۔ ایک لمحہ کو فرصت نہ ملی ۔ ” احمد صاحب نے جواب دیا ۔

” اوہ ! پھر تو بہت تھکن ہو ر ہی ہو گی ۔ چائے بناؤں آپ کے لئے یا کھانا کھائیں گے پہلے ؟ “

عروسہ احمد نے فکرمند انداز سے پوچھا ۔

“چائے بنا دیں ۔ کھانا میں نماز کے بعد کھاؤں گا ۔ ” مغرب کی نماز میں پندرہ بیس منٹ ہی باقی تھے ۔

“ٹھیک ہے ۔میں چائے بنا رہی ہوں ۔ آپ اس دوران فریش ہو جائیں ۔”عروسہ احمد یہ کہتے ہوئے باورچی خانے کی جانب چل دیں۔ اور پھر جتنی دیر میں احمد صاحب وضو وغیر ہ سے فارغ ہو کے واپس آئے ، وہ چائے تیار کر چکی تھیں۔

“آپ سنائیں ۔ آپ کا دن کیسا گزرا ؟ کوئی نئی تازی ؟ ” احمد صاحب نے چائے کی پیالی ان کے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا ۔

” کچھ خاص نہیں ۔ معمول کے مطابق ہی گزرا ۔ گھر کی صفائی کی ۔ کچھ کپڑے دھوئے ۔ اور پھر کھانا پکانا۔ ساتھ میں عبداللہ بھی نخرے اٹھواتے رہے ۔ ” عروسہ احمد نے جواب دیا ۔

عبد اللہ کے ذکر پر احمد صاحب مسکرا دئیے ۔

پھر چائے کے دوران دونوں میاں بیوی اسی طرح کی ہلکی پھلکی باتیں کرتے رہے ۔
چائے پی کر احمد صاحب مسجد کو چل دئیے جبکہ عروسہ احمد چائے کے برتن بڑھانے میں مصروف ہو گئیں ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“سنیں ! امی کا فون آیا تھا ” عروسہ احمد میز پر کھانے کے برتن رکھتے ہوئے بولیں ۔

“اچھا ! کیا کہہ رہی تھیں ؟” احمد صاحب نے گاجر کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا ۔

“وہ دراصل طیب بھی اب بر سر روزگار ہو گیا ہے ناں ۔ تو اس خوشی میں وہ ایک تقریب کرنا چاہ رہی تھیں ۔ “

عروسہ احمد نے سالن کا ڈونگا آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔

“اچھا ! کب ہے تقریب ؟ “

“انشاء اللہ جلد ہی ۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ تقریب میں کچھ دینی درس کا بھی انتظام ہو جائے ۔ اور انہوں نے اس سلسلے میں عفت باجی کو بھی کہہ دیا ہے …. ان کے جاننے والوں میں کوئی خاتون میلاد وغیرہ میں درس دیا کرتی ہیں ۔ “

“بھئی واہ ۱ بہت ہی نیک ارادہ معلوم ہوتا ہے ۔ “

“جی ارادہ تو یقیناًنیک ہے لیکن میری خواہش ہے کہ اس محفل میں درس آپ دیں ۔ “

“جی ! میں…..؟ “احمد صاحب اس اچانک حملے کے لئے گویا بالکل تیار نہ تھے ۔

“جی آپ ۔ پتہ نہیں آنے والی خاتون کیسی ہوں ؟ یہ میلاد پڑھنے والیاں بھی بس ایسی ہی ہوتی ہیں ۔ علم تو کم ہی ہوتا ہے ، زیادہ تر تو قصے کہانیاں ہی ہوتی ہیں ان کے پاس ۔ ” عروسہ احمد ناقدانہ انداز میں بولیں ۔

“وہ تو ٹھیک ہے مگر…. ! “

“مگر وگر کچھ نہیں ۔ بس میں چاہتی ہوں کہ یہ ذمہ داری آ پ ہی سنبھالیں ۔ “

“بھئی یہ بڑا ذمہ داری کا کام ہوتا ہے ۔ اب میں نہ کوئی مقرر ہوں نہ عالم دین۔ “

احمد صاحب نے پھر دامن بچانا چاہا ۔

” تو میں کب کہہ رہی ہوں کہ قرآن پاک کی تفسیر یا حدیث کی تشریح کرنے بیٹھ جائیں ۔ مجھے تو وقت بے وقت لیکچر دیتے رہتے ہیں ۔ اب جب لیکچر دینے کا وقت آیا ہے تو پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ ” عروسہ احمد تو گویا پیچھے ہی پڑ گئی تھیں ۔

” ارے ے ے! لیکچر کون دیتا ہے ؟ حد ہو گئی بیگم ۔ بھئی علماء کی صحبت میں بیٹھ کر کچھ سیکھنے کو مل جاتا ہے تووہ آپ کو بھی بتا دیتے ہیں ہم ۔ آخر کو آپ ہماری عروسہ ہیں ۔ اور ہمیں آپ سے محبت ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم جنت میں جائیں تو آپ وہاں بھی ہمارے ساتھ ہوں۔” احمد صاحب بڑی محبت سے بولے ۔

” تو اگر وہی باتیں سن کر کچھ اور لوگ بھی ہمارے ساتھ جنت میں چلے جائیں تو کوئی حرج ہے کیا ؟ لوگ تو مایوں مہندی کی تقریبات میں راگ الاپنے بیٹھ جاتے ہیں ، حالانکہ نہ سُر کا پتہ ہوتا ہے نہ تال کا …. وہ برائی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، آپ نیکی کے کام میں پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ ” عروسہ احمد کی دلیل میں خاصا وزن تھا ۔

“بھئی رشتہ کی نزاکت کا تو احساس کرو ۔ سسرال کا معاملہ ہے ۔ دیکھ بھال کے چلنا پڑتا ہے ۔ ” احمد صاحب نے آخری عذر آزمایا ۔

” پلیز نا! “

عروسہ احمد نے لجاجت سے اصرار کیا تو احمد صاحب بھی سوچ میں پڑ گئے ۔

” اچھا ! میں حسن صاحب سے مشورہ کرتا ہوں کہ کیا کرنا چاہئے ۔ ” احمد صاحب نے اپنے ایک دوست کا نام لیتے ہوئے کہا جن سے وہ اکثر مشاورت کیا کرتے تھے ۔

” کر لیں مشورہ ۔ دیکھ لیجئے گا وہ بھی یہی کہیں گے ۔ ” عروسہ احمد یہ کہہ کر کھانے کے برتن بڑھانے لگیں ۔

اسی اثنا ء میں عشاء کی اذان ہونے لگی تو احمد صاحب وضو کے لئے چل دئیے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حسن بھائی ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے ۔ “احمد صاحب عشاء کی نماز کے بعد اپنے دوست حسن صاحب سے ملنے چلے آئے تھے ۔

” جی فرمائیے !”حسن صاحب نے چائے کی پیالی ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔

احمد صاحب نے اپنی اہلیہ سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے پوچھا ۔

“اب آ پ بتائیے کیا ایسا کرنا مناسب رہے گاْ ؟ “

حسن صاحب نے پوری بات توجہ سے سنی اور جواب دیا :

” بھئی میں تو بھابھی کی تائید کروں گا ۔ باہر سے مقرر اور وہ بھی خاتون کو بلانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آپ ہی بات کریں ۔ “

“لیکن میں کیا بات کر سکتا ہوں بھلا ؟…. ! ” احمد صاحب نے دامن بچانا چاہا ۔

حسن صاحب مسکرا دئیے ۔

“یہ تو آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں ۔ ورنہ آ پ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ اور پھر یہ کہ کام تو اللہ تعالیٰ نے ہی کرانا ہے ۔ آپ نے تو بس ایک نیک کام میں استعمال ہوناہے …. تو ہو جائیے استعمال ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی کام کرانا ہے تو آپ کو فکرمند ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ ہاں دو کام کئے جا سکتے ہیں …. بلکہ کرنے چاہئیں ۔ نمبر ایک… اللہ سے مدد مانگی جائے ۔ اور نمبر دو … کچھ تیاری کر لی جائے ۔ تیاری بھی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو دکھانا ہے کہ دیکھ لیں …. میں تیاری کر رہا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں ۔ ”
حسن صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں گویا ان کی حوصلہ افزائی کی۔
“لیکن میں رشتہ کی نزاکت کے پیش نظر بھی کچھ محتاط ہوں۔ “

احمد صاحب گویا ابھی بھی آمادہ نہ تھے ۔

” میرے خیال میں تو ایسا کرنے میں کچھ قباحت نہیں ۔ بلکہ میں تو اصرار کروں گا کہ آپ ہی کو با ت کرنی چاہئے۔”
حسن صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

“اچھا ….! چلیں پھر یہ بھی بتا دیں کہ موضوع کیا ہونا چاہئے ؟ میرا خیال ہے کہ موقع کی مناسبت سے کسب حلال کا موضوع مناسب رہے گا۔ ” احمد صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔

” بھئی موجودہ دور کے حساب سے تو صرف ایک ہی موضوع پر بات ہونی چاہئے ۔ اللہ کی محبت ۔ لوگوں کو اللہ سے محبت کرنے پر مائل کیا جائے ۔ جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ رسول اکرم ﷺ کے لائے ہوئے انقلاب کا مرکزی نقطہ ہی یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا سکھایا ۔ اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پورے معاشرے کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ لوگ اللہ سے محبت کرنے لگے تو بس اللہ ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ ساری برائیاں ختم ۔ سارے جھگڑے ختم ۔ جب اللہ سے محبت ہو جاتی ہے تو پھر ہر طرف محبت کی برسات ہونے لگتی ہے ۔ آپ اللہ کی محبت پر بات شروع کریں … لوگوں کو اللہ کی محبت کی طرف بلائیں …. آخر میں کسب حلال پر بھی کچھ بات کر لیں۔”

حسن صاحب نے بڑے مدلل انداز میں کہا ۔

“ٹھیک ہے ۔ میں سوچتا ہوں اس بارے میں ۔ “

احمد صاحب نے چائے کی آخری چسکی لے کر پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“عبد اللہ سو گیا ؟ ” احمد صاحب واپس لوٹے تو اپنے ڈیڑھ سالہ بیٹے کے بارے میں سوال کیا ۔

“جی سو گیا ۔ ” عروسہ احمد نے جواب دیا ۔

“اچھا ! میں ذرا دیکھ لوں برخوردار کو ۔ “احمد صاحب نے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا ۔

”کہاں چلے گئے تھے آپ ؟ ” احمد صاحب عبد اللہ کو پیار کر کے واپس آئے تو عروسہ احمد نے پوچھا۔

” میں حسن صاحب کی طرف چلا گیا تھا ۔”احمد صاحب نے جواب دیا ۔

“پھر ؟ مشورہ کر لیا آپ نے ؟ کیا کہا انہوں نے؟ “عروسہ احمد نے دلچسپی سے پوچھا ۔

” جی ! وہ جو شاعر نے کہا ہے ناں کہ …. خیر چھوڑیں شاعر کو ۔ یوں سمجھیں کہ وہ بھی آپ ہی کے ہم خیال نکلے ۔ “

احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

“دیکھا ! میں نے کہا تھا نا کہ وہ بھی یہی جواب دیں گے ۔ ” عروسہ احمد نے فاتحانہ انداز میں کہا ۔

احمد صاحب بس مسکرا کر رہ گئے ۔

“اور کیا کہا انہوں نے ؟”

“کہنے لگے کہ آپ ہی کو بات کرنی چاہئے ۔ اور موضوع بھی بتا دیا کہ اللہ کی محبت پر بات ہونی چاہئے ۔ “

“پھر… اب کیا فیصلہ کیا ہے آپ نے ؟ “

“بھئی فیصلہ تو ہو گیا۔ ظاہر ہے اب تو ہمیں ہی بات کرنی پڑے گی ۔”

“باہر والوں کی بات فوراً سمجھ آ گئی آپ کو ۔ میری با ت کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے تھے آپ ۔”

عروسہ احمد گویا بجھ سی گئیں ۔

“ارے ! کیا کہہ رہی ہیں آپ ….. ؟ آپ کی بات کی اہمیت تھی ۔ جبھی تو مشورہ کیا ہم نے حسن صاحب سے ؟ “

احمد صاحب شوخی سے بولے ۔ عروسہ احمد بھی مسکرا دیں۔

“پھر میں امی سے کہہ دوں کہ آپ درس دیں گے ۔ “عروسہ احمد نے سوالیہ اندا ز سے پوچھا ۔

“جی کہہ دیجئے۔ لیکن مجھے تیاری کے لئے کچھ وقت درکار ہو گا ۔ ” احمد صاحب نے حامی بھری۔

“جی جی ! ابھی ہفتہ دس دن سے پہلے تو نہیں ہو گی تقریب ۔ اتنا وقت کافی رہے گا نا ں؟”

” جی جی ۔ انشاء اللہ “۔

“چلیں پھر آپ تیاری شروع کریں ۔ میں امی کو بتا دیتی ہوں ۔ ” عروسہ احمد نے موبائل فون کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔

احمد صاحب نے اخبار ہاتھ میں اٹھا لیا ۔ پھر کچھ دیر بعد اٹھے اور کمپیوٹر پرا پنی ای میل دیکھنے میں مصروف ہو گئے ۔

رات کو بستر پر لیٹتے وقت بھی ان کے دماغ پر یہی سوچ حاوی رہی …..

” اللہ کی محبت ….. اللہ سے محبت ….. کیسے بات شروع کی جائے؟ …… کیا بات کی جائے ؟ ….. “

یہی سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادی میں ڈوب گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“الصلوٰۃ خیر من النوم ” ….

قریبی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔

انہوں نے موبائل فون ہاتھ میں لے کر وقت دیکھا ۔

کچھ دیر کسمسانے کے بعد وہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے سنتیں ادا کیں۔ پھر عروسہ احمد کو نماز کے لئے جگایا اور خود مسجد کو چل دئیے ۔

نماز پڑھ کے وہ واپس آئے تو عبد اللہ اٹھ چکا تھا جبکہ عروسہ احمد بھی نماز سے فارغ ہو چکی تھیں ۔

“عبداللہ بیٹا ! جلدی سے بابا کو چھام (سلام ) کرو ۔ شاباش ۔ “

عروسہ احمد ان کو دیکھتے ہی عبد اللہ سے مخاطب ہوئیں ۔

لیکن عبد اللہ تو گویا اپنی ہی دھن میں مگن تھا ۔

عروسہ احمد نے پھر کہا :

” دیکھو بابا آگئے ۔ کیسے سلام کرتا ہے عبداللہ ! جلدی سے بتاؤ ۔ “

اب کی بار عبد اللہ نے اپنا ننھا سا ہاتھ سر پر رکھا اور پھر اپنے بابا کی طرف بڑھا دیا ۔

احمد صاحب نے ” میرا بیٹا ” کہتے ہوئے پہلے تو عبد اللہ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما اور پھر اسے گود میں لے کر دونوں گالوں پر بوسہ دیا ۔

پھر عبد اللہ سے مخاطب ہو کر بولے : ” بابا کو صبح کا پیار تو کردیں ۔”

عبد اللہ نے اپنے ہونٹ آہستہ سے ان کے دائیں رخسار پر رکھ دئیے ۔

” اونہہ! ایسے نہیں ۔ صحیح سے ۔ “

اب کی بار عبد اللہ نے چٹاخ سے اپنے بابا کے گال پر پیار کیا ۔

“ہوں ! یہ بات ۔ اِدھر بھی ۔ “

احمد صاحب مسرور لہجے میں بولے اور ساتھ ہی دوسرا گال بھی آگے کر دیا ۔

عبدا للہ نے پھر چٹاخ سے دوسرے گال پر پیار کیا ۔

“اِدھر بھی ۔ ” انہوں نے پھر دایاں گال آگے کر دیا ۔

“شاباش ۔ ایک اور ۔ “

احمد صاحب کی نیت نہیں بھری تھی ابھی ۔

عبد اللہ نے ایک بار پھر پیار کیا ۔

جواباً احمد صاحب نے بھی عبد اللہ کو زور سے بھینچ کر اس کے دونوں گالوں اور پیشانی پر پیار کیا ۔

دفعتاً ایک خیال بجلی کی طرح ان کے دماغ میں کوندا ۔

انہوں نے سوچنا شروع کر دیا اور دماغ کی گرہیں گویا کھلنا شروع ہو گئیں ۔

وہ تھوڑی دیر تک اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتے رہے ۔

پھر دفتر جانے کا وقت ہو گیا تو وہ تیاری کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

تیار ہو کر وہ کمرے سے باہر آئے تو عروسہ احمد عبد اللہ کو بھی تیار کر کے باہر لاؤنج میں لا چکی تھیں جہاں وہ اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا ۔ ساتھ ہی اپنی زبان میں جانے کیا کیا ہانک رہا تھا جسے شاید وہ خود ہی سمجھ سکتا تھا …. یا شاید نہیں ۔

اسی اثنا ء میں دروازے کی گھنٹی بجی ۔

“دودھ والا ہو گا۔ ” عروسہ احمد نے کہا ۔

احمد صاحب بلند آواز سے بولے : ” اچھا ! “

ننھا عبدا للہ سہم کے اپنے بابا کی ٹانگوں سے آ کر لپٹ گیا ۔

“ارے میرا بیٹا ڈر گیا….؟ “کہتے ہوئے احمد صاحب نے جلدی سے عبداللہ کو گود میں لیا اور پیار کیا ۔

پھر کسی سوچ میں گم ہو گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“جلدی جائیں نا ۔ کیا سوچنے لگے آ پ ؟ “

عروسہ احمد پھر بولیں تو وہ چونکے اور عبد اللہ کو گود سے اتار کر دروازے کی طرف بڑھ گئے ۔

پیچھے عبد اللہ نے رونا شروع کر دیا ۔ وہ سمجھا کہ بابا گھر سے باہر جا رہے ہیں ۔

جب تک احمد صاحب دودھ لے کر واپس لوٹے ، وہ چیخ چیخ کر رونے لگا تھا ۔

“عبد اللہ…. ! ” دودھ فرج میں رکھ کے انہوں نے عبداللہ کو ڈانٹا ۔

عبداللہ ایک لمحے کو چپ ہوا اور پھر ترنم بھرے لہجے میں بولا ۔

“بابااااا!”

اس قدر پیار سے اس نے بابا کہا تھا کہ انہوں نے بے اختیار ہو کر اسے گود میں اٹھا یا اور لگے پیار کرنے ۔

“ناشتہ کر لیجئے ۔ ” عروسہ احمد نے آواز لگائی ۔

انہوں نے عبد اللہ کو گود سے اتارا اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

ناشتے سے فراغت کے بعد وہ ہاتھ دھو کر واپس آئے تو عبد اللہ زمین سے کوئی چیز اٹھا رہا تھا ۔ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ منہ کی طرف بڑھ چکا تھا۔

احمد صاحب نے جلدی سے ٹوکا :

“ہوووووں ! گندی بات …. زمین سے چیز اٹھا کر نہیں کھاتے …. “

عبد اللہ سہم گیا اور فوراً وہ چیز پھینک دی ۔

احمد صاحب نے دیکھا تو روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا تھا جو یقیناً عبد اللہ ہی نے کسی وقت زمین پر گرا یا ہو گا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

دفتر جانے کا وقت ہو چکا تھا ۔ انہوں نے چابی اور لیپ ٹاپ اٹھایا اور عروسہ احمد کو خدا حافظ کہتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے ۔

دفتر کے راستے پر گاڑی چلاتے ہوئے وہ مسلسل ایک خاص نکتے پر غور کرتے رہے اور خود کلامی کرتے رہے …

“یہی بات ہے ۔ بالکل یہی بات ہے ۔ یقیناًیہی بات ہے۔ اوہ…. کتنی سامنے کی بات تھی ۔ کتنی آسان سی بات تھی ۔ پہلے کیوں نہیں خیال آیا مجھے ….. !!؟؟ “

آج کا دن کچھ اور ہی انداز سے طلوع ہوا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

احمد صاحب دفتر سے گھر واپس لوٹے تو عروسہ احمد نے حسب عادت مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور عبد اللہ کو ان کی گود میں دیتے ہوئے ان کے ہاتھ سے چابی اور لیپ ٹاپ لے لیا ۔

“سنیں ! امی کا فون آیا تھا۔”

عروسہ احمد نے بتایا ۔

“یہ امی کا فون روز ہی نہیں آنے لگا ؟”

احمد صاحب نے انہیں چھیڑا ۔

تو اوووو؟ آخر امی ہیں میری ۔ “

عروسہ احمد جانتی تھیں کہ احمد صاحب انہیں چھیڑ رہے ہیں پھر بھی وہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی چڑ گئیں ۔

“اچھا کیا کہہ رہی تھیں ؟ “

احمد صاحب نے دریافت کیا ۔

“تقریب کا دن طے ہو گیا ہے ۔ آئندہ جمعہ ۔ آپ کے پاس پورے سات دن ہیں ۔ تیاری کر لیں اچھی طرح ۔ “

عروسہ احمد نے بتایا ۔

” تیاری …… تیاری تو ہو گئی بیگم ۔ “

احمد صاحب نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں کہا ۔

“ہیں ؟ ہو گئی تیاری ؟ کل تک تو آپ کو بہت وقت چاہئے تھا تیاری کا ……… آج کہہ رہے ہیں تیاری ہو گئی ؟ “

عروسہ احمد حیرت زدہ لہجے میں بولیں ۔

“ہاں نا ! ہو گئی تیاری۔ “

“کیا تیاری کی آپ نے ؟ میں بھی تو ذرا دیکھوں ۔ “

عروسہ احمد نے بے یقینی سے کہا ۔

“بھئی ابھی تو مغرب کی نماز کا وقت ہو رہا ہے اور بھوک بھی لگ رہی ہے۔ ایسا ہے کہ میں نماز پڑھ کر آتا ہوں ۔ آپ بھی نماز پڑھ لیں ۔ کھانے کی میز پر بات کریں گے ۔ ” کہتے ہوئے احمد صاحب مسجد کو چل دئیے ۔

پیچھے عبد اللہ نے بابا … بابا کی گردان شروع کر دی ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

نماز پڑھ کے وہ واپس آئے تو اخبار لے کر بیٹھ گئے۔

سامنے عبد اللہ قالین پر بیٹھا اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا ۔

“آ جائیں کھانا کھا لیں ۔ “

عروسہ احمد نے آواز لگائی ۔

“آتا ہوں ! ” کہہ کر احمد صاحب نے اخبار چھوڑ ا اور کھانے کی میز کی طرف چل دئیے ۔
“اب جلدی سے بتائیں کیا تیاری کی آپ نے ؟ “

عروسہ احمد نے بریانی احمد صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے بے تابی  سے پوچھا ۔

“بتاتا ہوں ۔” کہہ کر احمد صاحب نے دھیمے لہجے میں عروسہ احمد کو اپنی تیاری کے بارے میں بتانا شروع کیا تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئیں ۔ اور سحر زدہ سے اندازمیں سنتی رہیں ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

جمعۃ المبارک کا دن آن پہنچا تھا ۔

ہاشمی صاحب کے گھر بڑی گہما گہمی تھی۔ کافی لوگ مدعو تھے ۔ خواتین کے لئے پردے کا باقاعدہ انتظام کیا گیا تھا۔

عشاء کی نماز پڑھ کے سب لو گ گھر پہنچے تو ہاشمی صاحب مہمانوں سے مخاطب ہوئے:

“محترم مہمانانِ گرامی ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

میں آپ سب کی آمد کا بے حد مشکور ہوں ۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ میرا بیٹا طیب اب برسر روزگار ہو گیا ہے جو کہ ظاہر ہے میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے ۔ اسی خوشی میں آج کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے ۔ ہماری خواہش پر ہمارے داماد جناب احمد صاحب ہماری اور آپ کی خیر خواہی میں کچھ باتیں کریں گے ۔ آئیے احمد بیٹا ۔ “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

احمد صاحب پر وقار اندا ز میں چلتے ہوئے سامنے رکھی ہوئی نشست پر بیٹھے اور حاضرین سے مخاطب ہوئے…………

“السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

حاضرین کرام !

تمام تعریفیں اور تمام شکر اس اللہ رب العزت کے لئے …. جو تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کا بنانے اور پالنے والا ہے ۔ اور درود و سلام ہو ہمارے پیارے آقا جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم  پر کہ جن کی بدولت آج ہم اپنے خالق و رازق کو جاننے اور پہچاننے کے قابل ہوئے۔ یہ میرے لئے بڑی سعادت کی بات ہے کہ مجھے اس تقریب میں کچھ گزارشات آپ سب کے سامنے پیش کرنے کا موقع عنایت کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے میں آپ سب کا اور خصوصاً اپنے والد نسبتی کا بے حد شکر گزار ہوں ۔ میں انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ آپ لوگوں کا زیادہ وقت نہ لوں۔ یہ وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بندہ نہ کوئی عالم دین ہے نہ مقرر ۔ نیز تقریر کرنا نہ مقصود ہے نہ مطلوب ۔ بس ایمان کے مذاکرے کے طور پر کچھ باتیں آپ کے گو ش گزار کرنی ہیں کہ ایمان کا مذاکرہ ایمان والوں کو نفع دیتا ہے۔ سو آپ سب سے درخواست ہے کہ توجہ سے بات سنیں۔ انشاء اللہ مجھے بھی نفع ہو گا اور آپ کو بھی ۔ “

اس تمہید کے بعد احمد صاحب نے کہنا شروع کیا …………

” حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے ۔ اور ہم بلا مبالغہ ہزاروں مرتبہ یہ بات سن اور پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے یا ایک ماں سے ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو سمجھنے کی کوشش کی ؟ کبھی غور کیا کہ ہمارے رب کو ہم سے کتنی محبت ، کس قدر پیار ہے ………. ؟”

” اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعد میں دنیا میں بھیجا ، پہلے دنیا کو ہمارے لئے تیار کیا ۔ ہمارے استقبال کے لئے سجایا ۔ زمین غلے اگل رہی ہے . … ہوائیں ٹھنڈی ہو کے چل رہی ہیں …. سورج اپنی کرنوں کو بکھیر رہا ہے …. چاند اپنی چاندنی لٹا رہا ہے …. ستارے آسمان میں جھلملا رہے ہیں…. چشمے ابل رہے ہیں …. آبشار پہاڑوں سے گر رہے ہیں …. دریا بہہ رہے ہیں…. سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں …. پہاڑ معدنیات ، سونا، چاندی، زمرد، یاقوت، مرجان اور دیگر قیمتی پتھر اگل رہے ہیں …. درخت، بیل بوٹے، گھاس سبزہ، پھول پودے زمین کے سینے پر بچھے ہوئے ہیں…. پوری کائنات گردش کر رہی ہے ….. یہ سب چیزیں پکار پکار کے بتار ہی ہیں کہ اللہ کو ہم سے کس قدر محبت ہے ۔

پیار بھرا  ہر  ایک  اشارہ                   پیا را  اس کا  ہر   نظارہ

جس نے زمیں پر پیار اتارا                 وہ خود ہو گا کتنا پیارا ؟

پیار کا اس کے نہیں شمار

اللہ ہے بس پیار ہی پیار

پھر جب ہم پیدا ہو ئے تو کس قدر بے بس و لاچار تھے ۔ منہ میں دانت نہیں تھا کاٹنے کے لئے …. ہاتھوں میں طاقت نہیں تھی پکڑنے کے لئے …. پیروں میں طاقت نہیں تھی چلنے کے لئے …. زبان میں طاقت نہیں تھی بولنے کے لئے …. ضرورت بتا نہیں سکتے تھے …. حاجت بتا نہیں سکتے تھے …. کسی کی سن سکتے تھے نہ اپنی سنا سکتے تھے …. ایسی بے بسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کی نعمت عطا فرمائی اور یوں ہماری پرورش کا انتظام فرمایا۔ “

” اپنی تخلیق پر تو ذرا غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کن گندگیوں سے نکال کر یہ شکل دی ، یہ دولت دی ، یہ رزق دیا ، یہ جوانی دی ، یہ قوت دی ، یہ طاقت دی ،ہمارے اس مختصر سے جسم کے اندر کتنے بڑے بڑے کارخانے چلا دئیے۔ دیکھنے کا نظام عطا کیا ، سننے کا نظام عطا کیا ، بولنے کا نظام عطا کیا ، پکڑنے کا نظام عطا کیا، چلنے پھرنے کا نظام عطا کیا ، کھانے کا نظام عطا کیا ، اس کھانے کو ہضم کرنے کا نظام عطا کیا، سانس لینے کا نظام عطا کیا ، ایک ناک ہے، اس سے ہم سانس بھی لیتے ہیں ، خوشبو و بدبو کو بھی محسوس کرتے ہیں ، سوچنے سمجھنے کا نظام عطا کیا ، جسم سے فاضل مادوں اور نجاستوں کے نکلنے کا نظام عطا کیا ، جسم کو دماغ کے تابع کیا ، پورے جسم میں دماغ سے چلنے والے پیغامات کوپہنچانے کا نظام عطا کیا ، تولید کا نظام عطا کیا …… اتنی ساری نعمتیں بن مانگے ہی عطا کر دیں ….. “

“پھر ہماری ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنے مقرب بندوں یعنی انبیائے کرا م علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا ۔ ہمارے ہی لئے انبیائے کرام علیہم السلام پر آزمائشیں آئیں ۔ اللہ کے مقرب ترین بندے ہونے کے باوجود ان کو مار کھانی پڑی ۔ دھکے کھانے پڑے ۔ لوگوں کی جلی کٹی سننے کو ملی ۔ جلا وطنی سہنی پڑی ۔ یہاں تک کہ کئی انبیاء علیہم السلام کو قتل بھی کیا گیا ۔ کس لئے ؟ آخر یہ سب کس لئے ہوا ؟ اس لئے کہ ہم اپنے رب کو پہچان سکیں ۔ یہ سب اللہ کی محبت کی کھلی نشانیاں ہی تو ہیں ۔ ہیں کہ نہیں ؟ “

حاضرین نے اثبات میں سر ہلا یا ۔ احمد صاحب نے بات جاری رکھی ۔

وہ بخشتا ہے گناہِ عظیم بھی ، لیکن

ہماری چھوٹی سی نیکی سنبھال رکھتا ہے

ہم اسے بھول جاتے ہیں روشنی میں

وہ تاریکی میں بھی ہمارا خیال رکھتا ہے

گھروں میں جن کے دیا بھی نہیں، ان کے لئے

فضا میں چاند ستارے اچھال رکھتا ہے

محبت اپنے بندوں سے کمال رکھتا ہے

وہ اک خدا ، جو ہمارا خیال رکھتا ہے

“کیا کمال کی محبت ہے ہمارے رب کو ہم سے ۔ کس کس طرح ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سب کے بدلے میں اللہ تعالیٰ… ہمارا رب … ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا … تقویٰ اختیار کرو…. یعنی اللہ سے ڈرو ۔ پرہیز گاری اختیار کرو۔ اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ وغیرہ ۔ یہ بار بار فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔ تو جواب ملا کہ اللہ سے ڈرا جائے ۔ اللہ کا ڈر اور خوف بہت اچھی بات ہے۔ بہت بڑی نعمت ہے ۔ جس کے دل میں اپنے رب کا ڈر اور خوف پیدا ہو جائے ، وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ “

“لیکن …. حاضرین کرام ! کچھ اور بھی ہے ….جو اس سے بھی سوا ہے …. اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ایک اور نعمت ہے … جو اس سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔ جس کو یہ نعمت مل گئی اس کو ایمان کی حلاوت نصیب ہو گئی ۔ وہ کیا ہے ؟ ایک جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں…

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ ….

جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایمان والے اللہ سے بہت شدید محبت کرتے ہیں ۔ جی حاضرین کرام ! جیسے اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرتے ہیں ، اسی طرح ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے رب سے محبت کریں… شدید محبت کریں ۔عشق مجازی میں مبتلا ہونے کے بجائے عشق حقیقی میں ڈوب جائیں ۔ اللہ کی محبت میں وہ سب کچھ چھوڑ دینے کا جذبہ ہمارے اندر پیدا ہوجائے جو ہمارے اللہ کو ناپسند ہے ۔ اور وہ سب اختیار کرنے کا شوق اور دھن ہمارے اندر پیدا ہو جائے جو ہمارے اللہ کو پسند ہے ۔ یہ ایمان والوں کی صفت بتائی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ اسی بات کو شاعر نے کیا خوبصورت اندا ز میں بیان کیا ہے …. دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے ….

محبت کیا ہے ؟ دل کا درد سے معمور ہو جانا

متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا

جی حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ کی محبت سے دل لبریز ہو جائے ۔ دل معمور ہوجائے ۔روشن ہو جائے ۔ اللہ سے ایسی محبت ، ایسا عشق ہوجائے کہ پھر بندہ خود کو اپنے رب کی مرضی کے سپرد کر دے ، تابع کر دے ۔ ہر عمل سے پہلے وہ دل میں ایک مرتبہ یہ ضرور سوچ لے کہ میں جو عمل کرنے جا رہا ہوں ، کیا وہ میرے اللہ کو پسند ہے؟ اللہ رب العزت سے ایسا عشق ہو جائے ، ایسی محبت ہو جائے …. کہ پھر بندہ کو اس محبت پر بھی پیار آنے لگے اور وہ بے ساختہ کہہ اٹھے :

MY GOD!I LOVE YOU….I LOVE TO LOVE YOU!

یا اللہ ! مجھے آپ سے محبت ہے ……….. مجھے آپ سے محبت کرنے کا عمل بھی بہت محبوب ہے ۔ “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

یہاں تک کہہ کر احمد صاحب نے کچھ توقف کیا ۔ پھر طیب سے مخاطب ہو کر بولے :

” ذرا عبد اللہ کو تو لے کے آئیے ۔”

طیب میاں عبد اللہ کو لے کے آئے تو وہ دوبارہ گویا ہوئے :

“حاضرین کرام ! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بچے اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں ۔ لیکن گزشتہ ہفتے اس خاکسار پر ایک عجیب حقیقت کا انکشاف ہوا ۔ بڑے بھی بچوں سے سیکھتے ہیں …. یا سیکھ سکتے ہیں ، اگر وہ چاہیں تو ۔ کس طرح ؟ میں آپ کے سامنے ایک عملی نمونہ پیش کرتا ہوں ۔ شاید بات واضح ہو سکے۔ ”
یہ کہہ کر احمد صاحب نے عبد اللہ کو گود میں لیا اور اس سے مخاطب ہو کر بولے :

” بابا کو چھام (سلام ) کریں ۔ شاباش ۔ “

لیکن عبد اللہ کی توجہ اپنے بابا کی جیب پر لگے قلم کی جانب تھی ۔

احمد صاحب نے پھر کہا : ” کیسے سلام کرتا ہے عبداللہ ؟ جلدی سے بتائیں … “

اب کی بار عبد اللہ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا ننھا سا ہاتھ سر پر رکھا اور پھر اپنے بابا کی طرف بڑھا دیا ۔
احمد صاحب نے ” شاباش ” کہتے ہوئے پہلے تو عبد اللہ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما اور پھر اس کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔

حاضرین حیرت و دلچسپی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔

احمد صاحب پھر بولے :

“اچھا ! بابا کو رات کا پیار تو کردیں ۔”

عبد اللہ نے اپنے ہونٹ آہستہ سے ان کے دائیں رخسار پر رکھ دئیے ۔

حاضرین کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔

” اونہہ! ایسے نہیں ۔ صحیح سے ۔ صحیح سے ۔ “

اب کی بار عبد اللہ نے چٹاخ سے اپنے بابا کے گال پر پیار کیا ۔

“ہوں ! یہ بات ۔ اِدھر بھی ۔ “

احمد صاحب مسرور لہجے میں بولے اور ساتھ ہی دوسرا گال بھی آگے کر دیا ۔

عبدا للہ نے پھر چٹاخ سے دوسرے گال پر پیار کیا ۔

“اِدھر بھی ۔ ” انہوں نے پھر دایاں گال آگے کر دیا ۔

“شاباش ۔ ایک اور ۔ “

عبد اللہ نے ایک بار پھر پیار کیا ۔

جواباً احمد صاحب نے بھی عبد اللہ کے دونوں گالوں اور پیشانی پر پیار کیا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

پھر عبد اللہ کو واپس طیب کی گود میں دے کر بولے :

” حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ سے محبت کے اظہار کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں ۔ جو احکامات اور فرائض اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کئے ہیں ، ان پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ان عبادات کے ذریعے اس سے محبت کا اظہار کیا جائے ۔ ان فرائض میں سب سے بہترین ، اعلیٰ و ارفع اوربلند درجہ نماز کا ہے ۔ نماز کا تحفہ کہاں ملا ؟ جب محبوب خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے معراج پر بلایا۔ معراج کیا ہے ؟ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قریب ترین مقام تک پہنچ گئے …

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی o پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے … کتنا قریب ہوئے ؟

فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی o …. … دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم ۔

ایک حدیث مبارکہ کا بھی مفہوم ہے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے ۔ اب ذرا اس بات پر غور کریں کہ نماز مومن کی معراج ہے ….. تو سمجھ آیا کہ بندہ جب نماز کے لئے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو و ہ اپنے رب سے قربت کی گویا انتہاؤں تک پہنچ جاتا ہے۔ “

“حاضرین کرام ! اب آتے ہیں اس عمل کی طرف جو ابھی آپ کے سامنے میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیا ۔ اس عمل کے ذریعے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ کی محبت کو سمجھنا ہو تو اولاد اور والدین کی آپس کی محبت پر غور کریں ۔ آئیے اس عمل کی جزئیات کا مرحلہ وار جائزہ لیں اور اس تعلق کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے …. اور جو تعلق ہونا چاہئے ۔ میں نے آپ کے سامنے اپنے بیٹے عبد اللہ کو گود میں لیا اور سلام کرنے کے لئے کہا۔ لیکن عبد اللہ اپنے شغل میں مگن تھا ۔ سنی ان سنی کر دی ۔ اگر عبد اللہ میرے کہنے پر پہلی مرتبہ میں ہی سلام کر لیتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی ۔ لیکن اس نے دوسری بار کہنے پر سلام کیا ۔ تو مجھے اس عمل پر بھی پیار آیا اور جواب میں میں نے کیا کیا ؟ اس کو متعد د بار بوسہ دیا۔ “

” اسی طرح آپ نے دیکھا کہ میں نے عبد اللہ سے کہا کہ رات کا پیار تو کر دیں ۔ یہ عمل ہم دن میں کئی مرتبہ کرتے ہیں عبد اللہ کے ساتھ ۔ عبداللہ! صبح کا پیار تو کر دیں ۔ دوپہر والا پیار تو کیا ہی نہیں؟ شام والا پیار کیا تھا ؟ وغیرہ ۔ پھر جب عبد اللہ نے پیار کیا تو صحیح سے نہیں کیا …. میری پسندکے مطابق نہیں کیا …. تو میں نے کہا کہ صحیح سے پیار کریں ۔ پھر اس نے میری منشاء کے مطابق پیار کر کے دکھایا ۔ پھر میں نے اس سے بار بار پیار کر نے کو کہا تو اس نے بار بار پیار کیا۔ جب تک میری نیت نہیں بھری میں نے اس سے بار بار پیار کروایا …. “

احمد صاحب کے لہجے سے مٹھاس ٹپک رہی تھی ۔

“حاضرین کرام ! آمدم بر سر مطلب ۔ ابھی میں نے آپ کے سامنے عرض کیا کہ گزشتہ ہفتے مجھ پر ایک عجیب و غریب انکشاف ہوا ۔ اور میں نے جتنا اس پر غور کیا اتنا ہی یہ سوچ دل و دماغ میں راسخ ہوتی چلی گئی ۔ میں صبح فجر کی نماز پڑھ کے گھر آیا تو بیگم نے معمول کے مطابق عبد اللہ سے کہا کہ بابا کو سلام کرو ۔ اور پھر کم و بیش وہی صورتحال پیش آئی جس کا ابھی آپ نے مشاہدہ کیا …… “

“دفعتاً میرے ذہن میں خیال آیا کہ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ جب میں اپنے بندے سے پیار مانگوں تو میرا بندہ فوراً مجھے پیار کرے ۔ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ جب نماز کے لئے بلایا جائے تو میں اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر ، ساری مصروفیات کو ترک کر کے فوراً اس کے دربار میں پہنچ جاؤں۔ میرا اللہ مجھ سے کہے کہ میرے بندے ! صبح کا پیار کر دو تو میں اپنا آرام ترک کر کے …. نرم گرم بستر کو خیر باد کہہ کے …. فجر کی نماز کے لئے کھڑا ہو جاؤں ۔ میرا اللہ مجھ سے کہے کہ دوپہر کا پیار کیا ؟ تو میں گرمی دھوپ سے بے نیاز ہو کر فوراً ظہر کی نماز کے لئے اس کی بارگاہ میں سر جھکا دوں ۔ میر ا اللہ مجھ سے شام کا پیار طلب کرے تو میں اس کی خدمت میں دست بستہ حاضر ہو جاؤں ۔ میرا اللہ مجھ سے کہے کہ رات کا پیار تو کر دو تو میں اسکی محبت میں سرشار ہو کر سجدے میں گر جاؤں اور اس کے قدموں کو بوسہ دوں …… “

احمد صاحب اب ایک جذب کی کیفیت میں بول رہے تھے اور مجمع سانس روکے انہیں سن رہا تھا ۔

” اور حاضرین کرام ! جب میرا اللہ مجھ سے کہے کہ صحیح سے پیار کرو تو میں صحیح سے پیار کروں ۔ اور اس کے لئے نماز اور دیگر فرائض کا علم حاصل کر وں تاکہ میں ان فرائض کی ادائیگی منشائے الٰہی کے مطابق کر سکوں۔ یہ نہیں کہ اسی بے تکے طریقے سے نماز پڑھتا رہوں جیسا کہ بچپن میں سیکھی تھی ، یا دوران نماز گائے بھینسوں کی مانند ڈکاریں لیتا رہوں ، کپڑے درست کرتا رہوں ، کھجلی کھجاتا رہوں ، جھولے جھولتا رہوں ، اپنے ایک دو منٹ بچانے کے چکر میں جلدی جلدی نماز پڑھوں ، نہیں نہیں نہیں …. بلکہ مجھے تو کسی مستند عالم سے نماز کی ادائیگی کا مسنون طریقہ سیکھنا چاہئے … مجھے تو نماز کے فرائض و واجبات کا ، مکروہات و مفسدات کا پتہ ہونا چاہئے …. قیام ، رکوع و سجود ، قومہ و جلسہ کی اہمیت کا علم ہونا چاہئے …. قرات و تجوید کی اہمیت کا علم ہونا چاہئے…. اور اس سے پہلے طہارت و پاکیزگی کا علم حاصل کرنا چاہئے …. وضو اور غسل کے فرائض پتہ ہونے چاہئیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری نمازیں برباد ہو جائیں ….. “

” حاضرین کرام ! آپ نے دیکھا کہ میں نے اپنے بیٹے سے کبھی ایک گال پر پیار کرنے کو کہا ، کبھی دوسرے گال پر ۔ کیا اس سے عبد اللہ کو تھکانا یا چڑانا مقصود تھا ؟ ہرگز نہیں ۔ بس میرا جی چاہتا ہے کہ عبد اللہ مجھے پیار کرے۔ بار بار پیار کرے ۔ کیوں ؟ کیونکہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ اور پھر اس کے اس طرح پیار کرنے پر مجھے اور پیار آتا ہے ۔ اور محبت بڑھتی ہے ۔ میرے اللہ کو بھلا کیا ضرورت ہے کہ میں اس کی عبادت کروں؟ مجھے نمازوں میں تھکا کر اس رب کائنات کے ملک میں کوئی اضافہ ہو گا نہ میرے نماز نہ پڑھنے سے اس کا ملک کم ہو جائے گا ، گھٹ جائے گا ۔ تو پھر یہ نماز کا حکم کیوں…..؟کس لئے؟….. “

” اوہ ہ ہ ! کیا میرا اللہ بھی مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ میں اسے بار بار پیار کروں ؟ ؟؟ ہاں …. شاید یہی با ت ہے ۔بلکہ یقیناًیہی با ت ہے ۔ مجھے لگا کہ فجر کی نماز کی دو رکعات فرض ہونے کا مطلب ہے کہ میرا اللہ مجھ سے چاہتا ہے کہ دو مرتبہ پیار کروں۔ ظہر ، عصر کی نمازوں کے چار چار فرضوں کا مطلب مجھے یہی سمجھ آیا کہ میرا اللہ مجھ سے چار چار مرتبہ پیار کروانا چاہتا ہے ۔ مغرب کی تین رکعات سے ایسا معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ میں تین مرتبہ بوسہ دوں ۔ عشاء کی چار رکعات فرض اور تین واجب وتروں سے یو ں محسوس ہوا گویا اللہ تعالیٰ نے سات مرتبہ کبھی اپنا ایک رخسار اور کبھی دوسرا رخسار میرے آگے کیا ہے کہ میں بار بار بوسہ دئیے جاؤں ….اور حاضرین کرام! جب میں اپنے اللہ کو اس کی منشاء کے مطابق بوسے دے دیتا ہوں تو …. ” احمد صاحب کی آواز گھٹنے لگی اور آنکھوں میں نمی آ گئی …..

ایک لمحہ توقف کے بعد وہ رندھی ہوئی آواز میں رک رک کر بولے :

” تو …. پھر جس طرح میں ….. عبداللہ سے بار بار پیار کروانے کے بعد اسے …. بے اختیار ہو کر بھینچ لیتا ہوں …. اسے چومنے لگتا ہوں…. مجھے لگتا ہے کہ جیسے …. میرا اللہ بھی …. جواباً …. مجھے اسی طرح …. محبت سے بھینچ کر …. متعدد مرتبہ بوسہ دیتا ہو گا …. کبھی میرے اس گال پر ۔ کبھی میرے اس گال پر ۔ کبھی میری پیشانی پر …. مجھے تو اپنی محبت محدود ہونے کے باوجود عبد اللہ پر اس قدر پیار آتا ہے….. میرے اللہ کو …. میرے رب کو …. مجھ پر کس قدر پیار آتا ہو گا…. “

اور پھر جیسے ہی ان کا جملہ مکمل ہو ا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختیار روپڑے ۔
حاضرین میں سے بھی کچھ سسکیاں بلند ہونے لگیں ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

کچھ دیر بعد جب ان کی طبیعت کو قرار آیا تو انہوں نے پھر بولنا شروع کیا ….
“حاضرین کرام ! والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی معصوم سی حرکتیں ، پیاری پیاری حرکتیں اپنے احباب کو بتائیں ۔ میرا بیٹا یوں کرتا ہے۔ میرا بیٹا یوں کرتا ہے ۔ اور اکثر والدین اس بات کی دانستہ اور شعوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کا بچہ مہمانوں کے سامنے بھی وہ معصوم سی ، پیاری پیاری حرکتیں کر کے دکھائے جو وہ تنہائی میں اپنے والدین کے ساتھ کرتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح ابھی آپ کے سامنے میں نے اپنے بیٹے کی کچھ معصوم سی ادائیں دکھائیں ….. ”
“میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے ۔ اور جب میں کوئی نیکی کا کام کرتا ہوں ، نماز پڑھتا ہوں ، روزہ رکھتا ہوں … تو وہ فرشتوں کو بڑے فخر سے دکھاتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھ سے کس قدر پیار کرتا ہے ۔ میں نے کہا تھا نا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ تم تو کہتے تھے کہ یہ دنیا میں فساد کرے گا، کشت و خون کرتا پھرے گا ۔ دیکھو ! اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی مجھ سے اندھی محبت کرتا ہے۔ مجھ ہی پر ایمان رکھتا ہے ۔ مجھ ہی سے دعائیں مانگتا ہے ۔ میرے ہی آگے سر جھکاتا ہے …. “

” کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں باہر سے گھر میں آؤں تو عبد اللہ مجھے دیکھتے ہی خود سے سلام کر تا ہے ۔ یا کبھی کسی وقت موڈ میں ہوتا ہے تو آ کے خود سے میرے گال پر پیار کر دیتا ہے ۔ اس وقت مجھے اس پر کس قدر پیار آتا ہے …. یقیناً محتاجِ بیان نہیں ۔ میرا اللہ بھی تو یہی چاہتا ہے کہ میرا بندہ کبھی خود سے بھی میری طرف آئے اور مجھے پیار کرے ۔ کبھی آدھی رات کو میری محبت میں بے قرار ہو کر اٹھے اور آ کر میری قدم بوسی کرے۔ کبھی نفلی روزے رکھے۔ کبھی صدقہ خیرات کرے ۔ یا ایسی ہی کوئی اور عبادت کرے جو کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے … ہائے ! اس وقت میرے ر ب کی محبت کا عالم کیا ہوتا ہو گا ….. ؟ “

“کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عبداللہ کے سامنے بلند آواز سے بات کی جائے تو وہ اسے ڈانٹ سمجھ کر ڈر جاتا ہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کی بات ہے کہ دروازے پر دودھ والا آیا ۔ میں نے گھر کے اندر ہی سے بلند آواز سے کہا …. اچھا ! …. تو عبداللہ ڈر گیا اور آکر میری ٹانگوں سے لپٹ گیا ۔ میرا اللہ بھی تو یہی چاہتا ہے کہ دنیا میں کہیں کوئی قدرتی آفت آئے … دنیا کے کسی گوشے میں اللہ کے عذاب کی کوئی شکل نظر آئے…. ہیٹی میں زلزلہ آئے یا پاکستان کے شمالی علاقوں میں …. امریکا میں سمندری طوفان آئے یا سونامی …. تو میں اپنے رب کے غصے سے ڈر کر اس کی طرف متوجہ ہو جاؤں ۔ اس سے جا کے لپٹ جاؤں …. ! “

“کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں عبد اللہ کو کسی غلط عمل پر ڈانٹ دیتا ہوں تو وہ بڑی محبت ، بڑے ترنم سے پکارتا ہے …. باباااا! یقین جانئے اس کے اس طرح بابا کہنے پر سارا غصہ کافور ہو جاتا ہے ۔ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ مجھ سے اگر کوئی لغزش ہو جائے …. کوئی گناہ سر زد ہو جائے …. تو میں فوراً اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤں اور محبت سے اس کو پکاروں …. اور جب میں اس کو پیار سے پکاروں…. ربنا…. ربنا…. تو یقیناًمیرے رب کی ناراضگی بھی دور ہو جاتی ہو گی ۔ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہو گا ۔ “

احمد صاحب کا چہرہ جذبات کی شد ت سے تمتما نے لگا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حاضرین کرام ! میرے رب کا مجھ پر بے پایاں فضل اور انعام ہے کہ اس نے میرے ڈیڑھ سالہ بچے کی وساطت سے مجھے وہ سبق دیا ہے…. وہ درس دیا ہے …. وہ بات سمجھائی ہے جس سے میں اب تک ناآشنا تھا ۔ بے شک میرا رب جسے چاہے ہدایت دے دے …. جیسے چاہے ہدایت عطا کر دے …. جب چاہے ہدایت دے دے …. وہ چاہے تو ایک بے زبان بچے کے صرف ایک معصوم سے عمل کے ذریعے اپنی محبت ، اپنی معرفت کا سراغ عطا کر دے ۔ ورنہ تو بڑے بڑے مقررین کی تقاریر ، بڑے بڑے مصنفین کی کتابیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک ٹن وزن کے برابر باتوں کے مقابلے میں عمل کی صرف ایک چھٹانک کا وزن زیادہ ہوتا ہے ۔ “

” حاضرین کرام ! گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میری تو کیفیت ہی بدل گئی ہے ۔ اب تک تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرے ذہن میں ایک ڈر او ر خوف کا تصور تھا ۔ گویا اللہ تعالیٰ ہاتھ میں کوڑا پکڑے کھڑے ہیں کہ ادھر میں نے کوئی خطا کی ، ادھر ایک کوڑا آ کے پڑے گا … شڑاپ ۔ ہائے…. میرا اللہ …. میرا رب کریم … جو رحمٰن و رحیم ہے ، جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے … میں اپنے اس مہربان ، محبت کرنے والے رب کے بارے میں یہ کیسا تصور قائم کئے بیٹھا تھا ! میں نے تو اپنے رب کی محبت کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا ۔ مجھے تو نماز ایک ناگوار سا عمل لگتی تھی جسے میں اب تک بس ایک معمول کا فرض سمجھ کر ادا کر رہا تھا ۔ میں تو زکوٰۃ بھی بڑی بے دلی سے دیتا تھا ۔ اور روزے بھی مجھے مصیبت ہی لگتے تھے ۔ اور حج تو میں نے آخر عمر کے لئے چھوڑ رکھا تھا کہ ابھی سے گناہ تو نہیں چھوڑے جا سکتے تھے نا۔ میں نے تو کبھی اس حدیث پر غور ہی نہیں کیا کہ جس کا مفہوم ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے …. نہ ہی میں نے کبھی اس حدیث پر غور کیا جس کا مفہوم ہے کہ نماز اس طرح پڑھو گویا کہ تم اپنے رب کو دیکھ رہے ہو ۔ اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تو تمہیں دیکھتا ہی ہے ۔ “

احمد صاحب کے لہجے میں کرب اور احساس ندامت نمایاں تھا ۔

“ہائے …. میں ان لوگوں سے کیا گلہ کروں جو نماز نہیں پڑھ رہے ۔ پہلے تو میں اپنا جائزہ لوں کہ میں کیسی نمازیں پڑھ رہا تھا ۔ میں نے تو سجدے میں گر کر بھی کبھی اپنے رب کی موجودگی کو ، اس کی قربت کو محسوس ہی نہیں کیا ۔ میں دبیز مصلوں کی نرماہٹ کو تو محسوس کر لیا کرتا تھا لیکن میں نے کبھی اپنے رب کی محبت کی نرماہٹ کو …. اس کے لطیف وجود کی لطافت کو …. اس کے پاکیزہ وجود کی پاکیزگی کو …. محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ہائے …. میں کس قدر غفلت کا شکار تھا ….. اے میرے رب ذو الجلال ! مجھ سے تیرا گلہ بالکل بجا ہے ….

وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہ …. میرے بندے ! تو نے میری قدر ہی نہیں کی …. “

احمد صاحب ایک مرتبہ پھر رو پڑے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ مجھے بلکہ ہم سب کو خود نمائی سے بچائے ۔ غرور و تکبر سے بچائے ۔ اب میری کیا کیفیت ہے ، تحدیث بالنعمۃ یعنی نعمت کے اظہار کے طور پر یہ بھی سن لیں ۔

تمہیں کچھ خبر ہے کہ کیا پا رہا ہوں ؟                         محبت کا ان کی مزہ پا رہا ہوں

گزشتہ ایک ہفتہ سے نمازوں میں ایک عجیب لطف آنے لگا ہے ۔ اب میں نماز کے لئے جاتا ہوں تو دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ میرے رب نے مجھ سے اس وقت پیار مانگا ہے اور میں اپنے رب کو پیار کرنے جا رہا ہوں۔ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو یہ تصور قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوا ہوں …. میں اپنے رب کو دیکھ رہا ہوں …. میرا رب محبت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا ہے …. میرا رب میری طرف متوجہ ہے …. میرا رب فرشتوں کے سامنے مجھ پر فخر کر رہا ہے ۔ جب سجدے میں جھکتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ اپنے رب کی موجودگی کو محسوس کروں کہ وہ تو میری شہہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے ۔ اسکی محبت کی نرماہٹ کو ، اسکے وجود کی پاکیزگی و لطافت کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اور پھر …نماز کے اختتام پر …. جب میں دائیں طرف سلام پھیرتا ہوں… تو یوں لگتا ہے گویا میرا رب مجھ سے کہہ رہا ہو کہ میرے بندے ! ذرا اپنا بایاں رخسار تو آگے لا کہ اب میں تجھے پیار کروں …. اور جب میں بائیں طرف سلام پھیرتا ہوں …تو گویا میرا رب مجھ سے کہہ رہا ہوکہ لا اب میں تیرے دائیں گال کو چوم لوں … اور اسی دوران … دائیں بائیں موجود کراماً کاتبین بھی … موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میرے گالوں کو چوم لیتے ہیں …. ! “

احمد صاحب گلوگیر لہجے میں بول رہے تھے اور سامنے بیٹھا مجمع مبہوت انداز میں ان کی باتیں سن رہا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

کچھ دیر توقف کے بعد وہ پھر بولے ۔

“حاضرین کرام ! اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عبد اللہ نا سمجھی میں زمین سے کوئی بھی چیز اٹھا کر منہ میں رکھ لیتا ہے ۔ تو ہم اسے روکتے ہیں ، منع کرتے ہیں کہ زمین سے کوئی چیز اٹھا کر منہ میں نہیں رکھتے ۔ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی ویسی چیز نہ کھاؤں ۔ ہر اس چیز سے بچوں جو اس نے میرے لئے حرام کی ہے ۔ یہاں تک کہ اس راستے سے بھی بچوں جو کہ اس نے میرے لئے ممنوع قرار دیا ہے ….. “

“اوہ ! میں نے اس بات کو کتنا غیر اہم جانا ؟ میں نے رزق حرام سے بچنے کی اتنی شدت سے کوشش ہی نہیں کی جیسا کہ بچنے کا حکم تھا ؟ مجھے تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا تھا ۔ مجھے چاہئے تھا کہ میں نہ صرف یہ کہ خود رزق حرام سے بچنے کی کوشش کرتا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تلقین کرتا ۔ نیز ایسے احباب کو بھی سمجھاتا ، روکتا جو مال کی دوڑ میں ایسے مگن ہیں کہ حلال حرام کی تمیز ہی کھو بیٹھے ہیں ۔ مجھے تو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ برائی کے کاموں میں تعاون نہ کرو … تو کم از کم درجہ میں میں یہی کہہ دیتا کہ مجھے آپ کے ہاں کھانا پینا قبول نہیں …. لیکن میں …. میں تو ان لوگوں کی دعوتوں میں بھی بڑے شوق سے شرکت کرتا تھا ، جن کے بارے میں مجھے واضح طور پر علم تھا کہ ان کا ذریعہ آمدنی حرام ہے ۔ میرا بچہ زمین سے کوئی چیز اٹھا کر کھانے لگے تو میں اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے روکتا ہوں ۔ کہ کوئی ایسی ویسی چیز کھا لی تو کہیں اس کی طبیعت خراب نہ ہو جائے ۔ اس کی طبیعت خراب ہو گی یا نہیں ؟ ہو گی تو کس قدر ہو گی ؟… اس بارے میں مجھے حتمی طور پر علم نہیں ہوتا ۔ صرف ایک اندیشے کی بنا پر میں اپنے بچے کو روکتا ہوں ۔ تو میرا اللہ …. میرا رب … جو علیم و خبیر ذات ہے ، ہر بات کا کامل اور یقینی علم رکھنے والی ذات ہے …. جو میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے …. جو مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے … اس نے جو مجھے روکا ہے رزق حرام سے …. تو میری محبت میں ہی تو روکا ہے …. کہ وہ جانتا ہے کہ ایسے آلودہ رزق سے مجھے سخت نقصان پہنچے گا۔”

احمد صاحب کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے تھے ۔

” حاضرین کرام ! آج ہم دین سے دور ہو کر دنیا میں مشغو ل ہو چکے ہیں ۔ اللہ کی محبت کو فراموش کر کے …. اللہ کے نبی ﷺ کی محبت سے بیگانہ ہو کر… . دنیا اور اس کی رنگینیوں کی محبت میں ڈوب چکے ہیں ۔ آج ہماری تمام محنتوں کا محور پانچ چیزیں ہیں جن کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز راستہ اپنا رہے ہیں …. میرا گھر اچھا ہو جائے… میرا لباس اچھا ہو جائے …. میری غذا اچھی ہو جائے …. میری سواری اچھی ہو جائے …. میری شادی اچھی جگہ ہو جائے ۔ غور کیجئے اور بتائیے … کیا ہم انہی پانچ چیزوں کے گرد گھوم رہے ہیں یا نہیں …. ؟ “

“حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ رازق بھی ہے ، رزاق بھی ہے ۔ اس نے ہمارا رزق پہلے سے طے کر دیا ہے ۔ لکھ دیا ہے ۔ جو کہ ہمیں مل کر رہے گا ۔ بس ہماری کوشش اور دعا رزق حلال کی ہی ہونی چاہئے ۔ ابھی جن پانچ چیزوں کا میں نے آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، بتائیے یہ تمام چیزیں رزق ہی میں شامل ہیں کہ نہیں ؟ یہ چیزیں ہمیں مل کر رہیں گی ۔ اللہ سب کو رزق دے گا، یہ اس کا وعدہ ہے …. لیکن وہ سب کو بخش دے گا ، یہ اس نے وعدہ نہیں کیا ۔ پھر لوگ کیوں رزق کے لئے پریشان ہیں اور مغفرت سے بے پرواہ…. ؟!”

پھر احمد صاحب نے سامنے رکھا قرآن پاک کا نسخہ کھولا اور بولے ….

” حاضرین کرام ! سورہ کہف کی آیات ۳۲ تا ۴۵کا ترجمہ ہے …. فرمایا رب ذو الجلال نے ….

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت )کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگادئیے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کر دی تھی ۔ دونوں باغ (کثرت سے )پھل لاتے اور اس ( کی پیداوار ) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ اور (اس طرح ) اس ( شخص ) کو (ان کی ) پیداوار (ملتی رہتی ) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے ( اور جماعت ) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں ۔ اور (ایسی شیخیوں )سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا ۔ کہنے لگا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو ۔ اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو ۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو ( وہاں ) اس سے اچھی جگہ پاؤں گا ۔ تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس ( خدا ) سے کفر کرتے ہو جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا ۔ مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔ اور (بھلا ) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ما شا ء اللہ لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا ۔ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس ( تمہارے باغ ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے۔ یا اس ( کی نہر ) کا پانی گہرا ہو جائے تو پھر تم اسے نہ لا سکو ۔ اور اس کے میووں کو عذاب نے آ گھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا ۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر ( حسرت سے ) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ۔ ( اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا ۔ یہاں ( سے یہ ثابت ہوا کہ ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے ۔ اسی کا صلہ بہتر اور ( اسی کا ) بدلہ اچھا ہے ۔ اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر دو (وہ ایسی ہے ) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا ۔تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی ۔ پھر وہ چورا چورا ہو گئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں ۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے …. “

احمد صاحب نے قرآن پاک کو بند کر کے چوما اور سامنے رکھتے ہوئے بولے :

” غور فرمائیے حاضرین کرام ! اللہ پاک گویا ہماری ہی حالت بیان کر رہے ہیں ۔ کہ ہم دنیا اور اس کی چیزوں میں ڈوب چکے ہیں اور اپنے رب کو …. آخرت کو یکسر فراموش کئے بیٹھے ہیں ۔ مادہ پرستی کا اس شدت سے شکار ہیں کہ ہم ہر چیز کے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ میرے کرنے سے یہ ہوا ہے ۔ اور اس پر خوب شیخیاں بھی بگھارتے ہیں کہ ارے میں نے یہ یہ کیا تب جا کے یہاں تک پہنچا ہوں…. فلاں فلاں تو بے وقوف ہے…. اسے تو کچھ آتا جاتا ہی نہیں ہے …. مجھے سب کچھ آتا ہے …. مجھے سب پتہ ہے …. میں چاہوں تو یہ کرلوں اور وہ کرلوں …. میں نے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا لیا ہے …. اگر میں ایسا نہیں کرتا تو کیا ایسا ہوتا ؟ مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا…. میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا …. وغیرہ وغیرہ ۔ شاذ و نادر ہی کوئی یہ کہتا ہے کہ بھائی یہ سب تو میرے اللہ کا فضل ہے … ورنہ مجھے تو کچھ نہیں آتا جاتا … میں تو کسی قابل نہیں ہوں ۔ “

” جی حاضرین کرام! میری صلاحیتیں ، میری منصوبہ بندی ، میری حکمت عملی ، میری تجزیہ کاری ، میری دولت ، میرا منصب ، میری تدبیر ، میرا تدبر ، میرا علم ، میرا فن ، میری ڈگریاں …. یہ سب کسی کام کی نہیں جب تک میرا اللہ نہ چاہے ۔ آج مارکیٹنگ marketing کی کتابوں کی بدولت ، ہم یہ سمجھنے لگے ہیں بلکہ تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے حصول کے کچھ مخصوص فارمولے ہیں …جن پر عمل پیرا ہو کر کامیابیاں قدم چومتی ہیں ۔ مسلمان ہونے کے باوجود ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدرت ، اس کی حکمت کو فراموش یا نظر انداز کر دیا ہے … دوسرے لفظوں میں گویا انکار کر دیا ہے ۔ ہمارا ایمان یہی بن چکا ہے کہ ہماری کیلکولیشنز calculations ، ہماری پلاننگ planning، ہماری اسٹریٹجی strategy اور ہماری اینالیسسanalysis کی بدولت ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں ۔ اور جب ہمیں اس سب کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر ہم اپنی ہی خامیاں تلاش کرتے رہ جاتے ہیں ۔ “

“حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشہور و معروف قول ہے جس کا مفہوم ہے کہ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا ہے ۔ ہم تو ایک لمحہ کو بھی یہ نہیں سوچتے کہ ایسا اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہی ہوا ہے …اور ہو سکتا ہے کہ یہ چیز ہمارے حق میں بہتر نہ ہو ۔ یہ مادہ پرستی ہے حاضرین کرام… اور یہی دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ اور دجالی طاقتوں کا سب سے خوفناک ہتھیار ہے۔ سوچئے … آخر کیوں حضور ﷺ نے آخر زمانے والوں کو جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی خاص طور پر تلقین فرمائی ؟ کیونکہ سورہ کہف میں خصوصیت کے ساتھ مادہ پرستی کی نشانیاں وضاحت سے بیان کی گئی ہیں ۔ چنانچہ یہ تلقین ہمیں چوکنا کرنے کے لئے کی گئی کہ جب ایسا ہوتا ہوا دیکھیں تو سمجھ لیں کہ دجالی فتنہ ہمارے خلاف متحرک ہو چکا ہے اور ہم فوراً سورہ کہف کی تلاوت کی طرف متوجہ ہو جائیں تاکہ اس فتنے سے محفوظ رہیں ۔ “

” اس دھوکے سے بچئے حاضرین کرام …. اس دھوکے سے بچئے ۔ آیات مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی شیخیاں بگھارنے کو ، اپنے آپ پر ، اپنی سمجھ پر زعم اور گھمنڈ کرنے کو کفر سے تعبیر کیا ہے اور ڈرایا بھی ہے کہ کسی بھی وقت اللہ کا عذاب ہمیں گھیر سکتا ہے۔ پھر دنیا کی حقیقت بھی بیان کر دی کہ دنیا کی زندگی تو بس ایسے ہی ہے جیسے آسمان سے پانی گرا ، زمین سے کچھ اگ گیا ، پھر وہ سوکھ گیا، پھر سوکھ کر چورا چورا ہو گیا یہاں تک کہ ہواؤں نے اسے اڑا دیا اور زمین واپس ویسے ہی صاف ہو گئی کہ جیسے کبھی کچھ اگا ہی نہ تھا …. ! “

” حاضرین کرام ! انسان بھی کتنا عجیب ہے ! مال بنانے کے چکر میں پہلے تو صحت گنوا بیٹھتا ہے … پھر اپنی صحت کی بحالی کے چکر میں مال گنوا بیٹھتا ہے ۔ مستقبل کی فکر میں حال کو بھلا بیٹھتا ہے یہاں تک کہ اسی فکر میں حال اور مستقبل دونوں کو کھو بیٹھتا ہے ۔ یوں جیتا ہے گویا اس نے مرنا نہیں ہے ، اور پھر ایک دن ایسے مر جاتا ہے جیسے کبھی زندہ ہی نہ تھا ۔ ایسے فراموش کر دیا جاتا ہے جیسے کبھی اس دنیا میں آیا ہی نہ تھا …. “

احمد صاحب بڑی دقیق گتھیاں سہولت کے ساتھ سلجھاتے چلے جا رہے تھے ۔

“حاضرین کرام ! آج دنیابنانے کے چکر میں ہم آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز ایک دن فنا ہو جائے گی ۔ ہم بھی فنا ہو جائیں گے ۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اس جہان کے بعد بھی ایک دوسرا جہان ہے ۔ جو جزا سزا کا جہان ہے ۔ جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے ۔ کبھی نہ ختم ہونے والی جگہ ہے ۔ یہ دنیا دار العمل ہے ، دارالحساب نہیں ہے ۔ آخرت دار الحساب ہے ، دار العمل نہیں ۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔ یہاں ہم جو بوئیں گے ، وہی آخرت میں کاٹیں گے ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا … اللہ کے حکم ، اس کی چاہت ، اس کے ارادے سے ہی سب کچھ ہوتا ہے ۔ وہ جسے چاہے عطا کرے ، جیسے چاہے عطا کرے ، جہاں سے چاہے عطا کرے ، جو چاہے عطا کرے ، جس سے چاہے چھین لے ، جب چاہے چھین لے ، کوئی اس کو روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے ، نہ ہی وہ کسی کو جوابدہ ہے ۔ “

“حاضرین کرام ! ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ قیامت میں انسان کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتے جب تک اس سے یہ سوالات نہ کر لئے جائیں …. زندگی کہاں گزاری ؟ جوانی کہاں گزاری؟ مال کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا ؟ اپنے علم پر کیا عمل کیا ؟ …. غور کیجئے اس حدیث پر …. مال کے بارے میں دو سوال کئے جا ئیں گے …. کیسے کمایا ؟ …. کیسے خرچ کیا ؟ کہاں خرچ کیا ؟ گویا آمدن اور خرچ دونوں کا جواب دینا ہو گا۔ “

” حاضرین کرام ! ہمارا رزق لکھا جا چکا ہے ۔ متعین کیا جا چکا ہے ۔ ملے گا تو وہی جو مقدر میں لکھ دیا گیا ہے ۔ اب یہ ہماری نیتوں پر ہے کہ ہم اپنے نصیب کے رزق کے حصو ل کے لئے جائز طریقہ اختیار کرتے ہیں یا ناجائز ۔ ہمارا مذہب اس بات کی بہت سختی سے تاکید کرتا ہے کہ ہم حصول رزق کے لئے جائز اور حلال طریقے استعمال کریں ۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ محنت سے حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست بن جاتا ہے ۔ ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو بندہ اللہ کے دئیے ہوئے تھوڑے رزق پر راضی ہو جاتا ہے ، اللہ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتا ہے ۔ “

” تو سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ حصول رزق کا جو بھی ذریعہ ہم اپنائیں ، وہ جائز اور حلال ہو ۔ آج بہت سے ایسے ادارے وجود میں آ چکے ہیں ، بہت سے ایسے کاروبار وجود میں آ چکے ہیں، جو سود ، جوئے ، سٹہ بازی وغیرہ پر مشتمل یا ان کے مماثل ہیں ۔ علماء کی تحقیق و فتاویٰ کے مطابق ایسے اداروں میں کام کرنا اور وہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی حرا م اور ناجائز ہے ۔ بد قسمتی سے ہم مسلمان ہونے کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے اداروں سے منسلک ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی روزی حرام کر بیٹھتے ہیں ۔ نہایت ضروری ہے کہ کسی بھی ادارے میں ملازمت اختیار کرنے سے قبل …. کسی بھی کاروبار سے منسلک ہونے سے قبل علمائے دین کی رہنمائی حاصل کی جائے کہ فلاں ادارے میں ملازمت کرنا جائز ہے ؟ فلاں کاروبار کرنا جائز ہے؟…. اور اگر کوئی نا دانستگی میں ایسے کسی ادارے سے منسلک ہو گیا ہے تو اسے چاہئے کہ فوری طور پر اس کا جائز اور حلال متبادل تلاش کرے …. اور ایسے ادارے کو فی الفور خیر باد کہہ دے …. چاہے کتنی ہی پرکشش تنخواہ و مراعات مل رہی ہوں ۔ ایسا کرنا ہرگز مشکل نہیں …. اگر اس بات پر ایمان ہو کہ ملے گا تو اتنا ہی جتنا مقدر میں لکھا ہے ۔ “

” حضور اکرم ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک رات بہت بے چین رہے ۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمانے لگے کہ رات ایک کھجور کھا لی تھی ۔ اب خیال آ رہا ہے کہ کہیں صدقہ کی نہ ہو ۔ ہائیں …. کھجور حرام تو نہیں ہے ۔ پھر اس بے قراری کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ صدقہ کا مال کھانا آپ ﷺ کے لئے جائز نہ تھا ۔ دیکھیں صرف ایک اندیشہ نے کس قدر بے چین کر رکھا ہے اللہ کے محبوب ﷺ کو …. ! “

” آج اسی محبوب ﷺ کے امتی کھلے عام حرام کھا بھی رہے ہیں ، اور اس پر ندامت کے بجائے فخر کرنے لگے ہیں ۔ اسی پیسے سے ہر سال حج عمرہ کو بھی چلے جاتے ہیں …. کیا ایسے لوگوں نے کبھی یہ سوچا کہ کفار مکہ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر نو کے وقت نہ صرف اس بات کا عہد کیا بلکہ اس عہد کو نبھایا بھی کہ بیت اللہ کی تعمیر میں حرام آمدنی کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کریں گے ۔آج لوگ حرام آمدنی سے بڑی بڑی دعوتیں کر رہے ہیں…. اور اگر کوئی جرأت کر کے ان کی دی گئی دعوت کو رد کر دے … صرف اس سبب سے کہ آپ کا ذریعہ آمدنی جائز نہیں …. تو پھر بجائے اس کے کہ یہ اپنے ذریعہ آمدنی کا جائزہ لیں …. الٹا اس شخص ہی سے ناراض ہو جاتے ہیں ! نیز دیگر احباب بھی ایسی جرات ایمانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ آج الٹا ایسے لوگوں کو طعنے دئیے جا نے لگے ہیں جو رزق حلال کما نے کھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس تگ و دو میں ضروریات زندگی بھی بمشکل ہی پوری کر پارہے ہیں ۔ “

دکھ احمد صاحب کے چہرے سے عیاں تھا ۔

“حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ایک دن بہت بھوکے تھے ۔ غلام نے کھانا آگے کیا تو بغیر تحقیق کئے کھا لیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ جو کھانا پیش کیا گیا وہ غلام نے حرام طریقے سے حاصل کیا تھا تو حلق میں انگلی ڈال ڈا ل کر قے کرتے رہے یہاں تک کہ شکم خالی ہونے کا اطمینان ہو گیا ۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے ۔ شہر میں ایک بکری چوری ہونے کی خبر ملی ۔ تو یہ تحقیق کرنے لگے کہ بکری کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہوتی ہے ؟ پتہ چلا کہ آٹھ سال ۔ تو آٹھ سال تک بکری کا گوشت بازار سے خرید کر نہ کھایا کہ کہیں اس چوری کی بکری کا گوشت بازار میں بک رہا ہو اور میں حرام کھا بیٹھوں ….. سوال یہ ہے کہ رزق حرام سے اس قدر نفرت کیوں؟ اس قدر احتیاط کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ کے اس فرمان عالیشان پر غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے جس میں لقمہ حرام پر پلنے والے جسم کے لئے جہنم کی اور لقمہ حرام سے نہ بچنے والے شخص کے لئے عبادات اور دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وعید سنائی گئی ہے ۔ ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ….؟ اپنے اطراف کے لوگوں پر غور کریں …. موازنہ کریں حلال و حرام روزی کمانے والوں کے درمیان …. اور خود ہی فیصلہ کریں کہ بیماریاں، پریشانیاں ، ریشہ دوانیاں ، معذوریاں ، ڈکیتیاں ، اولاد کی نافرمانیاں کن کے گھروں کا رخ زیادہ کرتی ہیں ! “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

پانی کا ایک گھونٹ لے کر وہ پھر بولے :

“حاضرین کرام ! سورہ النساء آیت 147 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے …. اللہ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لے آؤ اور اللہ قدر دان جاننے والا ہے ۔ شکر گزاری یہ ہے کہ ہر معاملے میں اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ ہم کمائیں بھی حلال طریقے سے اور خرچ بھی جائز کاموں میں اور جائز طریقے سے کریں ۔ واضح رہے کہ مال و دولت فی نفسہ بری چیز نہیں ۔ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ لیکن اس کے حصول کے لئے ناجائز راستے اختیار کرنا یا مالدار ہو جانے پر گھمنڈ کرنا، یا اس کو فضولیات میں اڑانا …. یہ نا پسندیدہ اور قابل گرفت عمل ہے ۔ اگر کسی کو اللہ نے اپنے فضل سے مال و دولت کی کثرت عطا کی ہے تو اس پر شکر ادا کرے ۔ اسے اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرے۔ جائز کاموں میں خرچ کرے ۔ جیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن ابن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ یہ دونوں صحابہ انتہائی مال دار تھے۔ اس زمانے کے کروڑ پتی لوگ تھے ۔ لیکن مال خرچ کہاں ہو رہا ہے ؟ اللہ کی راہ میں ۔ مسلمانوں کے لئے کنواں خریدنے کی ضرورت پڑی تو اپنا مال حاضر کر دیا ۔ جہاد کے لئے ساز و سامان کی ضرورت پڑی تو اپنا مال لے کر پہنچ گئے ۔ اونٹ ، گھوڑے اور دیگر سامان جہاد خرید کر دے دیا ۔ ہم بھی خرچ کریں تو دیکھ بھال کر ۔ جائز اور حلال صورتوں میں ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو تم نے کھا لیا وہ تمہارا ہے… جو پہن لیا وہ تمہارا ہے …. جو اللہ کی راہ میں دے دیا ، وہ تمہارا ہے….. باقی سب پرایا ہے …. ورثاء کا ہے ۔ “

“اس محفل میں خواتین بھی موجود ہیں ۔ تو ان سے متعلق بھی ایک بات یاد دہانی کے طور پر عرض کر دوں ۔ خواتین کو شاپنگ کا ، بننے سنورنے کا بڑا شوق ہوتا ہے ۔ بننا سنورنا ان کا فطری حق ہے ۔ لیکن ان کا اس طرح بن ٹھن کے بازاروں میں یا غیر محرم مردوں کے سامنے بے پردہ جانا اللہ کو ناپسند ہے ۔ اسی اللہ کو جو ہم سے بے حد محبت کرتا ہے ۔ اگر یہی خواتین بناؤ سنگھار اس نیت سے کریں … فیشن ایبل لباس اس نیت سے بنوائیں…. کہ مجھے بنا سنورا دیکھ کر میرے خاوند کو راحت ہو گی …. تو یہ عمل نہ صرف خاوند کی خوشنودی کا سبب بنے گا بلکہ یقیناًاللہ کی رضا کا بھی سبب بنے گا ۔ “

” حاضرین کرام ! اللہ سے محبت کریں ۔ ہر ضرورت میں صرف اللہ کو پکاریں ۔اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیں ۔ میں پھر بچوں کی مثال دوں گا کہ بچوں کو دیکھیں ، جب بھوک لگتی ہے ، پیاس لگتی ہے، یا کوئی بھی ضرورت ہوتی ہے ، تو وہ اپنے والدین کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اس یقین کے ساتھ کہ یہی میری ضرورت پوری کرتے ہیں ، یہی میری ضرورت پوری کریں گے ۔ “

“اللہ ہی ہمارا پیدا کرنے والا ہے ۔ پالنے والا ہے ۔ ہم بھی اپنے بچوں کی طرح رز ق کے معاملے میں بے فکر ہو جائیں ۔ اسی طرح بچوں میں ایک اور اچھی عادت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ مل گیا صبر شکر سے کھا لیا …. اور جو مل گیا ، اسی وقت کھا لیا …. اگلے وقت کے لئے بچا کر نہیں رکھتے۔ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے ۔ فضا میں اڑنے والے پرندے بھی یہی سبق دے رہے ہیں اشرف المخلوقات کو ….

ویکھ اسمان تے اُڑدے پنچھی !
نہ او کر دے رزق ذخیرہ
نہ او بُکھے مرَ دے نے !
بندے ای کردے رزق ذخیرہ
بندے ای بُکھے مرَ دے نے !

( آسمان پر اڑنے والے پرندو کو دیکھو ۔ وہ رزق جمع نہیں کرتے ، پھر بھی بھوکے نہیں مرتے ۔ بندے ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ، پھر بھی بھوکے مرتے ہیں ۔ )

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حاضرین کرام ! اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے نبی ﷺ سے بھی محبت کی جائے ۔ بحیثیت مسلمان ہم پر ہمارے نبی ﷺ کا بہت حق ہے ۔ آپﷺ کے ہم پر بے پناہ احسانات ہیں ۔ ہمارے والدین سے کہیں زیادہ حق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر ۔ ہمارے نبیﷺ رات رات بھر جاگتے اور رو رو کر ہمارے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ اس محبت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنے نبی ﷺ کی محبت کا جواب محبت سے دیں ۔ اس محبت کا اظہار کس طرح سے ہو گا ؟ آپ ﷺ کی مبارک سنتوں کو اپنا کر ۔آپ ﷺ کے نورانی طریقوں پر عمل پیرا ہو کر ۔ “

” لیکن حاضرین کرام ! سنتوں پر عمل تو بعدکی بات ہے ۔ آج ہم اپنے نبی ﷺ سے اس قدر بیگانہ ہو چکے ہیں کہ …. ہم تو درود بھیجنے کو بھی تیار نہیں۔ یا دکیجئے اپنے نبی ﷺ کا وہ فرمان جس پر جبریل امین علیہ السلام جیسے جلیل القدر فرشتے نے آمین کہا ۔ جس کا مفہوم ہے کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ۔ آج بہت سوں کو تو یہ بات ہی معلوم نہیں۔ کچھ کو پتہ ہے تو بھی وہ اس کا اہتمام نہیں کرتے ۔ اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے …. “

” لیکن میرا گلہ ایسے لوگوں سے ہے …. جو اس بات کا تو اہتمام کرتے ہیں کہ جب ذکر نبی ﷺ آئے تو زبان پر درود شریف آ جائے …لیکن جب درود پڑھتے ہیں تو ….بخل سے کام لیتے ہیں ۔ کس طرح….. ؟ صلَّ سلَّم…. صلَّ سلَّم …. ادھر حضور پاک ﷺ کا ذکر خیر آیا… ادھر ان کی زبان سے نکلا …. صلَّ سلَّم ۔ بدقسمتی سے بہت سے دین دار لوگوں کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا …. یہاں تک کہ کچھ علمائے کرام کو بھی ….. “

احمد صاحب بڑے دکھ بھرے لہجے میں بولے تھے ۔

“حاضرین کرام ! کسی کی برائی مقصود نہیں ۔ بس ایک کوتاہی کی نشاندہی اور اصلاح کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ سے در خواست ہے …. التجا ہے…. فریاد ہے …. کہ آج اس بات کو ذہن نشین کر کے اٹھیں کہ جب نبی پاک ﷺ کا نام مبارک کانوں میں پڑے ، تو ادب کے ساتھ ، محبت کے ساتھ ،عشق کے ساتھ ، اہتمام کے ساتھ اپنے نبی ﷺ کی ذات پاک کی خدمت میں درود پاک کا نذرانہ بھیجیں ۔ صرف جلدی سے صلَّ سلَّم کہہہ کر جان چھڑانے کے بجائے …. رک رک کر ، ٹھہر ٹھہر کر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہیں ۔ “

“جی حاضرین کرام ! جب ہمارے سامنے ہمارے نبی پاک ﷺ کا ذکر خیر آئے تو ہمیں وہ محبت یاد آ جائے جو ہمارے نبی ﷺ نے ہم سے کی … وہ مشقت ، وہ تھکن محسوس ہو نے لگے جو ہمارے نبی ﷺ نے راتوں کو جاگ جاگ کر …. پاؤں سُجا سُجا کر …. آنسو بہا بہا کر … ہماری مغفرت کی دعائیں کرنے میں اٹھائی ۔ اور پھر ایک جذب کے ساتھ…. محبت کے ساتھ…. اخلاص کے ساتھ …. سرشاری کے ساتھ ہماری زبانوں پر …. صلی اللّٰہ علیہ وسلم …. صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ورد جاری ہو جائے ۔ “

احمد صاحب کا لہجہ ایک بار پھر گلوگیر ہو چکا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

احمد صاحب نے ایک لمبا سانس لیا اور پھر بولے ۔

” حاضرین کرام ! بات کچھ لمبی ہو گئی ۔ بات چلی تھی اللہ کی محبت سے ۔ تو اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے آخر میں پھر یاد دہانی کرتا چلوں کہ اللہ ہم سے بے حد محبت کرتا ہے ۔ جبھی تو اس نے ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلمﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب بھی ہیں اور حبیب بھی ۔ آپ ﷺصلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے خود بھی محبت کی اور لوگوں پر ایسی محنت کی کہ وہ اپنے اللہ سے محبت کرنا سیکھ گئے ۔ آپ ﷺصلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین کی محنت کی ، اس محنت کا لب لباب ، اس کا مرکزی نقطہ ، اس کا خلاصہ یہی ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ سے محبت کرنا سکھا دیا ۔ “

“پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلمﷺ نے جو پیاری پیاری دعائیں بتائیں ، ان میں سے ایک دعا ہے …
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْءَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَ الْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ….
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مِنَ الْمآءِ الْبَارِد … (حصن حصین )

اس دعا کا مفہوم ہے کہ اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی محبت کا ، اور آپ سے محبت کرنے والے کی محبت کا ، اور ایسے عمل کا جو مجھ کو پہنچادے آپ کی محبت تک۔ اے اللہ ! اپنی محبت کو میرے لئے میری جان سے ، اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے ۔ “

” تو معلوم ہوا کہ لوگوں کو اللہ سے محبت کرنے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور اس کے لئے دعا بھی بتا ئی جا رہی ہے ۔ سو جب لوگ اللہ سے محبت میں گرفتار ہوئے تو پورے معاشرے کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ لوگ اللہ سے محبت کرنا سیکھ گئے تو بس اللہ ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ ساری برائیاں ختم ۔ سارے جھگڑے ختم ۔ اللہ کے لئے لڑنے مرنے پر آمادہ ۔ جان دینے پر آمادہ ۔ جی حاضرین کرام۱ جب اللہ سے محبت ہو جاتی ہے تو پھر ہر طرف محبت کی برسات ہونے لگتی ہے ۔ “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

ذکر خدا ہے دل کا قرار                   پیارے بندے ! رب کو پکار
رب کو پکار ، اب رب کو پکار            ہو جا نثار ! اب ہو جا نثار
پیار کا اس کے نہیں شمار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

“حاضرین کرام ! آئیے اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت کا سوال کریں …. اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں بھی اپنی محبت کا کوئی ذرہ عنایت فرما دے…. اے اللہ ! ہم آپ سے سوال کرتے ہیں آپ کی محبت کا ، اور آپ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا ، اور ایسے عمل کا جو ہم کو پہنچادے آپ کی محبت تک۔ اے اللہ ! اپنی محبت کو ہمارے لئے ہماری جان سے ، مال سے ، اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے ۔ آئیے دعا کریں ….

اپنی محبت ہم کو سکھا دے ، راہ نبی ﷺ پر ہم کو چلا دے
اے پیارے مولا ! انگلی پکڑ کر ، اللہ اکبر اللہ اکبر

آئیے دعا کریں کہ اے اللہ ! اے میرے رب ! ….

۱؂ اپنی “رحمت” کے سمندر میں اتر جانے دے
تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مر جانے دے

” آئیے حاضرین کرام ! اپنے رب سے محبت کرنا سیکھ جائیں …. اس سے ویسی ہی محبت کرنے لگیں جیسی کہ اس کے نیک بندوں نے اس سے کی …. یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آج ہمیں بھی معاشرتی استحکام حاصل ہو جائے گا ۔ ہم بھی باہم اسی طرح شیر و شکر ہو جائیں گے جس طرح عرب کے خونخوار انسان صحابہ کرام بن جانے کے بعد باہم شیر و شکر ہو گئے تھے ۔ ہمارے درمیان بھی اسی طرح مواخات قائم ہو جائے گی جو مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے مابین قائم ہو گئی تھی ۔ آئیے اللہ سے محبت کرنے کا عہد کر کے یہاں سے اٹھیں …… اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے …. اپنی صلاحیتوں کی نفی کرتے ہوئے …. متاع جاں کو اپنے رب کے سپرد کر دیں ….. تاکہ ہم پر بھی محبتوں کی برسات ہونے لگے ۔ “

احمد صاحب نے اپنی بات مکمل کی ہی تھی کہ ہوا کے ایک تیز جھونکے کے ساتھ بارش کے کچھ قطرے آئے اور ان کے چہرے کو بھگو گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

دفعتاً ان کی آنکھ کھل گئی ۔

دیکھا تو عبد اللہ اپنی دودھ کی بوتل کو زور زور سے ہلا رہے تھے اور اس میں موجود دودھ کے چھینٹے نکل نکل کر ادھر ادھر جا رہے تھے ۔ چہرے پر پڑنے والے انہی چھینٹوں کی نمی سے احمد صاحب کی آنکھ کھل گئی تھی ۔

” اوہ ! کتنا طویل خواب دیکھا ہے میں نے ….. ” خود کلامی کے انداز میں انہوں سے کہا ۔

اسی وقت قریبی مسجد سے آواز آئی ….

“الصلوٰۃ خیر من النوم ” ….

احمد صاحب بستر سے اٹھے اور وضو کر کے مسجد کی طرف چل پڑے……… اپنے رب کو پیار کرنے کے لئے ……. !!!

صبح نو کا آغاز ہو چکا تھا ۔

سراغ زندگی مل چکا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

۱؂  شاعر سے معذرت کے ساتھ

Advertisements
Hajj Umrah, Uncategorized

Pani bhara matka

پانی بھرا مٹکا

از ابو شہیر

گئے وقتوں کی بات ہے ۔ کسی ملک پر ایک بادشاہ کی حکومت تھی ۔ بادشاہ نہایت رحمدل اور سخی تھا ۔ تحفہ تحائف لانے والوں کی بڑی قدر کیا کرتا تھا اور ان کو بدلے میں بڑھ چڑھ کر عطا کیا کرتا تھا ۔ سال کے سال بادشاہ کی طرف سے اعلان ہوتا کہ ہے کوئی جو بادشاہ کے لئے اپنے علاقے سے عمدہ تحفہ لائے ؟ چنانچہ اس کی سلطنت کے لوگ اس موقع کے انتظار میں رہا کرتے تھے کہ اس موقع پر بادشاہ کی خدمت میں کوئی ہدیہ لے کر جائیں ۔

اس ملک کے ایک دور دراز گوشے میں ایک شخص اپنے کنبے کے ساتھ رہا کرتا تھا ۔ ایک سال بادشاہ کی طرف سے جب تحفہ لانے کا اعلان ہوا تو اس شخص نے سوچا کہ اس مرتبہ میں بھی بادشاہ کی خدمت میں کوئی تحفہ لے کر جاوَں ۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا قطعہ اراضی تھا جو کہ اس کے کنبے کی گزر اوقات کا واحد ذریعہ تھا ۔ لیکن اس سال ان کے علاقے میں پانی کی اتنی شدید قلت رہی کہ پینے کے پانی کے لالے پڑ گئے ۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد مٹکا دو مٹکا پانی حاصل ہو پاتا ۔ زراعت تو ممکن ہی نہ رہی تھی ۔ تو اب سوال یہ تھا کہ کیا تحفہ لے کر جایا جائے ؟

بہت غور کیا تو یہی سمجھ آیا کہ پانی سے بھرا ایک مٹکا ہی لے جاتا ہوں ۔ چنانچہ اس نے اپنے گھر میں موجود سب سے عمدہ اور خوبصورت مٹکا اٹھایا اور پانی کی تلاش میں نکل پڑا ۔ خاصی تگ و دو کے بعد وہ ایک مٹکا بھرپانی حاصل کر پایا ۔ اس نے مٹکا سر پر رکھا اور اپنے اہل و عیال کو خداحافظ کہہ کر بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا ۔ راستے میں اور لوگ بھی ملتے رہے ۔ سب ہی کچھ نہ کچھ لے کر جا رہے تھے ۔ میلوں کا سفر تھا ۔ راستے کی مشکلات اپنی جگہ ۔ لیکن وہ شخص اپنی دھن میں مگن چلتا رہا ۔ بالآخر وہ شخص بادشاہ کے محل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔

اگلے دن ایک وسیع و عریض میدان میں بادشاہ  نے دربار عام لگایا ۔ لوگ اپنے اپنے تحفے بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتے رہے اور بادشاہ خوش ہو کر سب کو انعام و اکرام سے نوازتا رہا ۔ اس شخص کی جب باری آئی تو بادشاہ نے پوچھا کہ تو کیا لایا ہے ؟ اس نے تھکے تھکے لہجے میں عرض کی کہ حضور کی خدمت میں پانی سے بھرا مٹکا لایا ہوں ۔ شرف قبولیت عطا فرمایئے ۔ درباری حیرت زدہ رہ گئے کہ یہ شخص بھلا کیا تحفہ لایا !

لیکن بادشاہ  بڑا ہی جہاندیدہ تھا ۔ اس نے درباریوں سے کہا : دیکھو میرا خیال ہے کہ یہ شخص کسی ایسے علاقے سے آیا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ پانی بھرا مٹکا لایا ہے حالانکہ پانی اس کی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ سوچو!کیا  ہی عمدہ تحفہ لایا ہے ! اور دوسری بات یہ کہ کتنی عمدگی سے لایا ہے کہ میلوں کی مسافت طے کرنے کے دوران بھی اس نے مٹکے کو گرنے نہ دیا ۔ اب بتاوَ اس شخص کو کیا بدلہ دیا جائے ؟درباری بادشاہ کا تجزیہ دیکھ کر حیرت بھرے انداز سے بولے : جہاں پناہ ! کیا خوب پہچانا آپ نے ! ہم تو یہی کہیں گے کہ اس کو تو وہ سب کچھ عطا کیا جائے جو یہ مانگے۔

بادشاہ نے کہا : ہمیں تیرا تحفہ بہت پسند آیا ۔ مانگ کیا مانگتا ہے ؟

اس نے کہا : جہاں پناہ کا اقبال بلند ہو ۔ حضور کی خوشنودی کے بعد سائل کو کسی شے کی کوئی حاجت نہیں !

بادشاہ نے کاغذ قلم منگوایا اور اپنے ہاتھ سے ایک شاہی فرمان تحریر کرایاجس میں لکھوایا کہ حامل رقعہ ہٰذا کو دریا کنارے وسیع جاگیر عطا کی جائے ۔پھر رقعہ اس شخص کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ : جاوَ فلاں علاقے کے گورنر کے پاس یہ فرمان لے جاوَ ۔

ساتھ ہی تاکید کی : دیکھو ! راستے میں ایک سرنگ آئے گی ۔ سرنگ سے پہلے کا راستہ بہت خطرناک ہے ۔ چور اچکے بہت ہیں ۔ اگر تم سرنگ تک بحفاظت پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے کا راستہ زیادہ دشوار نہیں ہے ۔ سرنگ تک اس فرمان شاہی کی خاص حفاظت کرنا ، کہیں یہ راستے میں ضائع نہ ہو جائے ، کوئی چور ڈاکو نہ اچک کے لے جائے !

محترم عازمین  حج !

تمام عالموں کے بادشاہ کی طرف سے ہر سال حج کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اور لاکھوں خوش نصیب ہر سال یہ سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ دور دراز کے علاقوں سے مکہ مکرمہ کا سفر اختیار کرتے ہیں جن میں اس بار آپ بھی شامل ہیں ۔ احکم الحاکمین جانتے ہیں کہ مال آپ کی کتنی بڑی ضرورت ہے اور آپ کو مال سے کس قدر محبت ہے ۔ پھر بھی آپ رب العالمین کی خوشنودی کی خاطر لاکھوں روپے خرچ کر کے اور اپنا گھر بار بیوی بچے چھوڑ کراس کے محل یعنی بیت اللہ تک پہنچنے پر کمر بستہ ہیں ۔

مذکورہ حکایت کے مطابق حج بیت اللہ آپ کا پانی کا مٹکا ہے جو آپ بادشاہ کی خدمت میں بطور تحفہ لے کر جا رہے ہیں ۔ اپنی نیت کو خالص رکھئے گا ۔ راستے کی مشقت ، مصائب و حوادث آپ کی توجہ مٹکے سے نہ ہٹا دیں ورنہ مٹکا ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔ دیکھئے ! مٹکا ٹوٹنا تو بہت دور کی بات ہے، اتنے محتاط رہئے کہ پانی بھی نہ چھلکنے پائے ۔ اخلاص نیت اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بادشاہ کے دربار عام یعنی میدان عرفات تک پہنچ جانا آپ کی بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔ یقین جانئے بادشاہ بہت قدر دان ، بہت مہربان ، بہت سخی ، بڑا جہاندیدہ ، سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ۔ جانتا ہے کہ آپ نے اس سب کچھ کے لئے کس قدر تگ و دو کی ہے ، کتنی مشقت و زحمت اٹھائی ہے ۔ محض رب العالمین کی خوشنودی کا حصول آپ کا مقصد ہونا چاہئے ۔ جب آپ اس جذبے کے ساتھ میدان عرفات میں پہنچ جائیں گے تو پھر حدیث مبارکہ کے مطابق بادشاہ اپنے درباریوں یعنی فرشتوں کے سامنے آپ کے جذبے کی تحسین فرمائے گا ۔ درباری حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے

یہ کون سر سے کفن لپیٹے  چلا ہے  الفت کے راستے پر

فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں ،یہ کون ذی احترام آیا

حدیث مبارکہ کے مطابق بادشاہ اپنے درباریوں سےکہے گا کہ اس شخص کی جزا کیا ہے ؟ درباری کہیں گے کہ جو مانگے عطا کر دیا جائے ۔

بادشاہ ایک پروانہ عطا فرمائے گا جس میں اپنی خوشنودی کےساتھ جنت میں دریا کنارے عظیم الشان محلات اور پھلوں سے لدے باغات پر مشتمل وسیع و عریض جاگیر کی بشارت بھی تحریر ہو گی ۔

بادشاہ کی طرف سے عطا کردہ پروانے کو لے کر سرنگ یعنی قبر تک بحفاظت پہنچ جانا اب آپ کی اگلی ذمہ داری ہے ۔دیکھیں چوکنا رہئے گا ۔ کہیں راستے میں چور ڈاکو یعنی شیطان اور اس کے چیلے یہ پروانہ آپ کے ہاتھ سے نہ لے اڑیں ۔

سرنگ سے آگے پھر انشاءاللہ کامیابی ہی کامیابی ہے ۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین !

Hajj Umrah, Uncategorized

Hajj Guidance… Step by Step

O The Honorable Guest of ALLAH!

Assalamoalaikum

Hope you will be in the best states of Iman and health; and anxiously waiting for the day of your departure to the Holy Cities which is now very near. May Allah Almighty accept this struggle from you and from all the HAJIs in flying colors and bless you with whatever HE Almighty has promised; both in this world and hereafter. Aameen.

I wish to share some tips regarding HAJJ as per my experiences. I hope you may find these tips very useful regarding your HOLY trip.

INTENTIONS & PREPARATIONS 

  • Check your intentions first. Your intentions must be pure and for seeking Allah’s happiness.
  • According to the FATAWA of numerous renowned Muslim Scholars (ULAMA) there are certain organizations such as banks, insurance companies, etc, working with which earns you false money. Hajj must be done with pure (HALAL) funds, for Hajj done with forbidden (HARAAM) funds is haraam and is not permitted. Some of the scholars said that HAJJ is not valid in this case, and one of them even said:

“If you have done Hajj with money whose source is HARAAM, you have not done Hajj but your camel has.” May Allah guide us the right path.

  • Remember! Performing HAJJ is another thing and taking it to your grave is another thing. We know in the light of the teachings of the Holy Prophet Sallallah-o-Alaih-e-Wasallam that Hajj-e-Mabroor (Accepted Hajj) means all your Sins have been forgiven by Almighty Allah, and thus you surely become eligible for JANNAH. Ulama say that if a person looks changed (noble) after Hajj, it means his Hajj is accepted. So, be desperate to change yourself before going to HAJJ. Start staying away from the SINS, EVILS and bad habits. After Hajj, it would be difficult for any person to change himself altogether.
  • Try your best to learn and seek knowledge about Manasik-e-Hajj & Umrah. Remember! You are going to spend a huge capital (more or less 3 lac rupees) on HAJJ trip. It’s a sort of investment. So your target must be to earn maximum profits/rewards from this investment. Think! If you have to invest this capital in a business, how much will you stretch to seek knowledge about that particular business? Or simply imagine if you have to buy a car for 3,00,000/- rupees, how much will you ask the people before buying that particular car?

Hajj is the journey of a lifetime. It has become very expensive as well. Don’t take it lightly/casually or else you will simply spoil a huge capital as well as your dream trip. (May you not!) Remember the Hadith of the Prophet Muhammad Sallallaho Alaih-e-Wasallam which means that there are so many people who earn nothing but hunger and thirst while keeping a fast; and there are so many people who earn nothing but fatigue while praying through the whole night. So brother! Are you going to earn only fatigue and dust? I am sure you are not. So learn the Manasik and FAQ’s of Hajj as much as you can. Learn like a student, and try to gather as much knowledge as you can, remember it, so that you may deliver it like a teacher in future.

Pray as much as you can before going to Hajj. See the following prayers.

O Allah! Please forgive me

O Allah! Please help and guide me in learning the Manasik-e-Hajj.

O Allah! Please accept this effort from me.

O Allah! Please make things easier for me.

O Allah! Please bless me with noble companions/room-mates during the whole journey.

 THINGS REQUIRED DURING HAJJ TRIP

-Ihram (2 pairs)

-Ihram Belt

-Slippers/Chappal (2 pairs)

-Hajj/Umrah Guide Book

-Dresses (5 pairs)

-Belt

-Cotton/Leather socks

-Shoes/Sandals

-Under garments

-Spectacles (2 pieces)

-Sunglasses

-Medicines (That you may use regularly)

-Other General Medicines you may need during the Holy trip. For example, medicines for pain, fever, stomach problems, cough and throat problems, etc.)

 

TRAVEL DOCUMENTS

-Passport/Visa

-Air Ticket

-Photocopies of Passport/Ticket/National ID Card etc. (2 sets)

-Extra attested Photographs

 

UTENSILS

-Steel/Plastic Plate

-Steel Spoon/Fork

-Knife

-Ceramic/Plastic Cup or Mug

 

STATIONARY

-Ball Point

-Note Book

-Carton Packing Tape

-Permanent Bold Marker

-Telephone Directory (note your family’s/relatives’/other important contact numbers)

 

SANITATION

-Soap (Both normal and fragrance free)

-Sanitizer

-Shampoo

-Tooth Brush

-Tooth Paste

-Miswak

-Towel

-Perfume/Itr

-Nail cutter

-Scissors

-Mirror

-Razors

-Comb/Hair Brush

-Jhanwa (Foot File)

-Wet Tissues/Wipes

 

OTHERS

-Suitcase

-Shoulder bag (It will be used as a hand carry in the aircraft and during Hajj 5 days.)

-Small Shoulder bag/Hand bag (To put things like Passport, Ticket, Pocket Quran, Mobile Phone, Spectacles, medicines and things that you may have to keep anytime with you.)

-Water Bottle (Like the one that school going children use)

-Bed Sheet

-Rope (10 Meters)

-Rope clips

-Large Safety Pins

-Tissue Paper Roll (2 Pieces)

-Jaey Namaz (Velveteen)

-Topi (Cap for Namaz)

-Tasbih (Beads)

-Pocket Quran

-Umbrella

-Thread and needle

-Petroleum jelly (fragrance free)

-Cold Cream

-Anklets

-Sweater/Warm Shawl for cold weather

-Water Spray Bottle (It may be used to stay fresh in extreme heat. It may also be used for making wudu).

TEA MAKING KIT

-Electric Kettle

-Tea bags

-Sugar or Sweetener

-Everyday Tea Whitener/Dry Milk

(Yes! You may buy tea from a tea shop, but it may cost a lot of time and fatigue).

 

GADGETS

-Mobile Phone

-Charger

-Extra Battery or Power Bank

-Iron (Istri)

-Extension Wire (10 Meters. It will be helpful in charging up your mobile phones and other purposes)

-Multi Socket Plug

 

MONEY: In my opinion, you must have 1500-2000 Saudi Riyals. (You will need around 500 SR for Qurbani/slaughter, 100-200 SR may be consumed in phone calls, at least 20 SR for daily expenses/meals… 40 day stay means 800 SR, and money for other unknown/unexpected/accidental expenses).

EXTRAS FOR FEMALES

Sanitary Napkins

Menses stopping pills as per doctor’s advice

Canvas shoes

Black Abaya/Coat (Saudi govt. has made it compulsory for every female pilgrim)

Where to buy these things?

(In Karachi, one of the best places from where you can get all/most of the things listed above is the shop situated in front of Alamgir Masjid, Bahadurabad, Karachi.­­ Rates are also economical. Haji camp, near PIDC House is the other place.)

  • You must have purchased AHRAM. If not, purchase it as soon as possible. Towel Ahram is better. Take care while purchasing the Ahram. The material should be THICK enough through which your body should not be seen in bright light. Similarly females SHOULD NOT WEAR such dresses (thin fabric or body-fitted dresses) through which their body parts become exposed.

Try to learn HOW TO WEAR AHRAM and must do some practice of wearing AHRAM before leaving. One or two days before your departure, try to spend sometime while wearing AHRAM in order to get used to of it.

  • Remember! You have to walk a lot during the HOLY TRIP. You have to offer TAWAF and SA’EE while performing UMRAH. One Umrah means you have to walk nearly 10 kilometers (from your residence to HARAM, inside HARAM, Offering TAWAF & SA’EE and then back to your residence). Besides UMRAH, you would surely like to offer Daily 5 times PRAYERS (SALAT) and NAFL TAWAF(s). Similarly in MADINA MUNAWARAH, you will have to walk a lot to offer Daily PRAYERS inside MASJID-e-NABWI.  Therefore, try to develop the habit of walking, as much as you can, before going for HAJJ.
  • Old HAJIs are highly advised to go for HAJJ with some younger attendants. HAJJ involves a lot of fatigue and aged people are almost unable to perform the MANASIK properly and/or timely.
  • It is better to take your Mobile phone (with charger and an extra battery) with you and purchase a SIM there. That will be very beneficial for you as well as your HAJJ companions and families to contact each other. Call charges are cheaper from Pakistan than those from Saudi Arabia. So it is better that your family contact you from here rather than you contact them. SMS is even cheaper. Nowadays some mobile services are offering very competitive call rates from Saudia to Pakistan. Similarly, some Mobile Phone Services in Pakistan also offer some competitive call packages and very economical SMS Bucket packages.

Caution: You may find difficulty while forwarding SMS.

  • Make at least two extra Photo copies of your passport, tickets and all documents and place one of them in your hand bag and the other in your luggage. In case you miss the original documents, you must have photocopies of your traveling documents in order to avoid any problems.

LEAVING YOUR HOME

  • Check your things and make sure you have taken all the items which you may require during a 40-day stay in Saudi Arabia. (See the list of items above).
  • Pay some charity (Sadqa) and pray Allah for make things easier for you.
  • Remember! Things like scissors, blades, knife, fork, nail cutter, and such other things should not be kept in your hand carry. The airport authorities will not allow anybody to take things like mentioned above with him inside the aircraft. However, you may keep these things in your luggage/suitcase.
  • It is advised to wear AHRAM from your home. But, do not make the INTENTION (NIYAT) of HAJJ/UMRAH before the take-off of the air-craft in case there would be a delay/cancellation of your flight and you have to wait for long before getting another flight. Once you have made the INTENTION (NIYAT) of HAJJ/UMRAH while wearing AHRAM, you bound yourself to obey the restrictions of AHRAM, and you can/will not come out of the STATE OF AHRAM before offering UMRAH/HAJJ and HAIRCUT after that, otherwise you have to pay the penalty (DAM).

However, make your INTENTION as soon as your aircraft takes off; in case you may sleep and cross the MEEQAT without being in the state of AHRAM; for which you have to pay the panelty (DAM). Once you make the INTENTION of HAJJ/UMRAH, start reciting TALBIYAH (Labbaik Allahumma Labbaik….). Now you are in STATE OF AHRAM. Remember the restrictions of AHRAM (written in Hajj/Umrah books) and follow them.

  • You must know that after leaving your home in Pakistan, you will reach your destination in MAKKAH MUKARRAMAH in more or less 15 hours. See the details below:

-The airline advices you to reach the airport at least 4 hours before your flight time.

-Flight duration for PIA or Saudi Airlines is aprox. 4 hours. (In case of a connected flight, it will take some more time.)

-Immigration process at Jeddah Hajj Terminal may take 3 to 4 hours.

-You will be sent to the Pakistan Camp at Jeddah Hajj Terminal after immigration where it may take an hour or two before you get the bus for MAKKAH MUKARRAMAH.

-Travel time from Jeddah to MAKKAH is aprox. 2 hours.

You are wise enough to understand how tiring the whole process would be; and if you have a late night or early morning flight, you may have to compromise on your night sleep which will add the sufferings. Moreover, majority of your relatives come on the last day (the day of your departure) to meet you. The whole day is also tiring due to a lot of hospitality.

In short, you would be extremely tired and exhausted when you reach your destination in MAKKAH MUKARRAMAH.

  • Remember and keep in mind the lesson of the Battle of UHAD! Follow your Master. Saudi Hajj Authorities are your master. Always follow their instructions. Never violate them otherwise you will definitely suffer; you will create problems not only for yourself but also for others; you may be the culprit for disturbing the whole HAJJ MOVEMENT.

AT JEDDAH AIRPORT 

  • As it is mentioned above that it will take a lot of time for immigration process. So be patient and try to enjoy the proceedings. Must follow the instructions given by the immigration/airport authorities at JEDDAH AIRPORT.
  • After immigration, you will be sent to the Pakistan Camp at Jeddah Airport. From there, you will be sent to Makkah Mukarramah by bus. Before sitting inside the bus, make sure that your luggage is loaded on the same bus on which you are going to travel. Be extremely careful and never compromise on this; otherwise you may lose your things and will definitely suffer.
  • In the washrooms at Jeddah Airport, rubber pipes are attached with the taps for washing. The pressure of water is very high. ALWAYS TURN ON THE TAP VERY SLOWLY AND ADJUST THE PRESSURE OF WATER OTHERWISE YOU AND YOUR DRESS MAY GET WET/IMPURE. It is also better to wash the floor of the washroom before using it.

 AT MAKKAH MUKARRAMAH

  • After reaching your residence in MAKKAH MUKARRAMAH, stay there for a while in your room and let the things settled down.
  • It is highly advised to take some rest before going to MASJID-ul-HARAAM for UMRAH. However, the reality is that the HOLY KAABAH has attracted the HAJIS from thousands of miles; and when the HAJIS reach MAKKAH, the magnetism increases such a great deal that one could hardly stay in his room even for a single minute. Still I recommend some rest before you leave for UMRAH. (You must know and consider that you have to walk a lot during the UMRAH exercise and that too barefoot; and you would be already tired. The whole walk includes from your residence, during Umrah, and way back to your residence may be equivalent to 8-10 kilometers).
  • Before getting out of your residence for the first time, must obtain the address of your residence (or visiting card) from the reception. When you come out of your building, have a look around and mark the key places near/around your building. Remember! You are not a native of this city; all the things are new for you and you may lose your path while returning from the HOLY HARAM after UMRAH.

 AT MASJID-ul-HARAAM

  • While entering the MASJID-ul-HARAAM, note down or memorize the gate number.
  • Pick your shoes and put them in one of the shoe racks inside the MASJID-ul-HARAAM. Note down or memorize the shoe-rack’s number.
  • Plz Plz Plz MAKE SURE THAT YOU HAVE SWITCHED OFF YOUR MOBILE OR TURNED IT TO THE SILENT MODE WHEN YOU ARE INSIDE THE MASJID-ul-HARAAM. May you not hear the melodious ring tones (and even the songs) of the mobiles and may you not see people talking on their mobiles inside the MASJID-ul-HARAAM even during TAWAF, which is unfortunately a very common sight these days.
  • Once again think about and revise your supplications in mind before having the first sight at BAITULLAH SHARIF.

AT FIRST SIGHT

  • Say Takbeer, Tahleel, Tahmeed and Tasbih or simply recite 3rd or 4th KALMAH. Then recite DURUD SHARIF. Then start your supplications. Ask for this world and the life hereafter. Especially, seek ALLAH’s help for offering your MANASIK-e-HAJJ timely and easily. Also pray for ALLAH’s help and guidance for the KHUDDAM-ul-HUJJAJ (authorities, workers and volunteers of the Saudi Ministry of HAJJ) in organizing a successful HAJJ MOVEMENT.
  • Before starting UMRAH, hold the hand-out “UMRAH step-by-step” in your hands and follow the steps.
  • Remember! You may miss your companion(s) during TAWAF either because of big crowd, or because of the starting of the congregation prayers during which women are being sent back inside the MASJID, or any other reason(s).

Keeping in mind these possible situations, it is better to have a talk with your wife/family/companions before starting the TAWAF. Mark a key place inside the MATAF and tell everyone, “In case we miss each other during TAWAF, we will meet at this place after completing the TAWAF.”

  • Similarly, before starting SAEE, have a talk with your wife/family/companions. Mark a key place inside the path of SAEE and tell everyone, “In case we miss each other during SAEE, we will meet at this place after completing the SAEE.”

Remember! Men have to run between the two green pillars on the path of SAEE. If you are doing SAEE with a female companion, choose the extreme right or left side of the track and slow down after completing the run between the two green pillars so that your companion may re-join you.

  • After completing the SAEE, go back to the same gate from which you had entered the MASJID-ul-HARAAM. It will help you to find your shoes as well as the exact path towards your residence.
  • Hairdressing saloons exist everywhere around the HOLY HARAM. You may go to a hairdresser near your residence and have a haircut.
  • It is also reported that many HAJIS contact their relatives from the MASJID-ul-HARAAM and say: “I am standing in front of KAABAH. Ask Allah whatever you want.” This is a very silly act and BID’At. MAY ALLAH ALMIGHTY GUIDE US ALL.
  • Try as much as you can to facilitate the other Hajis regardless of nationality or relation. THE BEST ACT BESIDES PERFORMING MANASIK-E-HAJJ IS TO FACILITATE/HELP THE HAJIs. Your companions (even if that is your wife) are also HAJIS. Take care of them and try your best to facilitate them and earn lots of SAWAB.
  • You will be provided ZAMZAM water at your residence there. But in the crowded days, you may get lesser or even no ZAMZAM water at your residence. Try to fetch ZAMZAM water for your roommates as much as you can. You will need a CAN to take ZAMZAM water to Pakistan. So it is better to purchase it earlier and use it for KHIDMAT.

VERY IMPORTANT

  • Remember! You are going for Hajj. So, take extra care of your health; especially before HAJJ. People used to do lots of TAWAF and UMRAHS; and in the end, get exhausted or sick; and then find immense difficulties to perform Manasik-e-Hajj properly and timely. (Also keep in mind that one should not compromise quality on quantity while offering any sort of prayers e.g. Tawaf, Umrah, Nafl Salat, etc).
  • Remember! Despite all the facilities and ease, the exercise of HAJJ still involves a lot of fatigue. You have to walk a lot to offer the Manasik-e-Hajj. The weather is hot. The Places are over crowded, so you need a lot of stamina to move either. Therefore, it is highly advised to stop all undue activities at least three days before Hajj. If your residence in Makkah is far distant from the HOLY HARAM, it would be better for you to offer SALAT in a nearby MASJID. Anywhere INSIDE the boundaries of HARAM, every good deed is equivalent to 1,00,000 good deeds.

A TOTALLY DIFFERENT ADVICE…

(NOTE: It’s totally my personal opinion. You may disagree with this.)

  • All the Ulama and Books advise Hajis to do as many TAWAF as possible. Spiritually, it seems a very good and true advice. But my dear Muslim Brother! Nowadays, the MASJID-ul-HARAAM in MAKKAH is over crowded. You may know, more than 25 lac people come to offer Hajj. And in the last week before Hajj, almost all the Hajis are there in Makkah.

Now try to understand a very critical situation (I hope u will.) The Hajis who have arrived in Makkah Mukarramah 30 or 20 days back, or the Hajis who first went to Madina Munawarah, all have come back to Makkah Mukarramah. They have had enough opportunity to do number of Nafli Tawafs and Nafli Umrahs… and they did so. But they still want more. On the other hand, thousands of Hajis who are arriving in the last days from Madina or rest of the world, have to perform their obligatory Umrah. They will find immense difficulties to perform the Manasik-e-Umrah especially Tawaf because of those who have already done enough but are still greedy.

The situation is quite similar after Hajj. You know, before leaving from Makkah Mukarramah, Tawaf-e-Wida is obligatory (WAJIB) for all Hajis. Now a large number of Hajis who had arrived earlier to Saudi Arabia, or who had come for a shorter Hajj trip (15-20 days haj trip) have to depart for Madina Munawwarah or to their homelands immediately (may be on the very next day) after Hajj. They have to perform their obligatory Tawaf-e-Wida.

Now again comes a critical situation. The Hajis, who will still have enough days to stay (more or less 20 days) in Makkah are greedy to perform Nafli Tawafs and Nafli Umrahs. Therefore, the Hajis who are going to depart earlier find a great deal of difficulty in offering the Tawaf-e-Wida.

SO I WOULD LIKE TO ADVISE YOU TO BE PATIENT IN THE WEEKS BEFORE AND AFTER HAJJ. FACILITATE OTHER HAJIS. AFTER DOING YOUR OBLIGATIONS, SACRIFICE FOR OTHER HAJIS. ALLAH ALMIGHTY KNOWS WHATEVER IS INSIDE YOUR HEART. A MOMIN’s INTENTION IS SUPERIOR TO HIS ACTIONS. ALSO PRAY FOR MULTIPLE VISITS TO THE HOLY PLACES IN FUTURE. INSHALLAH YOU WILL GET MORE OPPORTUNITIES WHEN YOU WILL COME ON UMRAH TRIP IN THE OFF-SEASON.

An alternative is to go on the first floor or the roof of the Haram for Nafli TAWAF and leave MATAF for the other Muslims in order to facilitate them in their remaining obligations.

Note: As per my knowledge, the natives of MAKKAH used to avoid going to MASJID-ul-HARAAM during the HAJJ season in order to leave space for the GUESTS of ALLAH ALMIGHTY. It is simply a clear guideline for the HAJIS as well.

KISSING the Black Stone (Hajr-e-Aswad)

  • It is extremely difficult to kiss Hajr-e-Aswad (the black-stone) because of a huge crowd around it. If you want to kiss it easily, go to MASJID-ul-HARAAM far before ASR Prayers. Soon after the ASR AZAN, the guards move the crowd away from the Hajr-e-Aswad. Then a queue is formed from the corner or Hajr-e-Aswad alongside the wall of HOLY KAABAH. The persons standing in that queue are allowed to kiss the Hajr-e-Aswad one by one. The queue is quite long but the turn comes quite quickly. In this way, one can kiss the Hajr-e-Aswad very easily without any fatigue or difficulty.

Remember! Kissing the Hajr-e-Aswad is Sunnah, while bother a HAJI is forbidden (Haraam.)

  • Always keep your Hajj ID or Passport with you. Never go outside without it otherwise you may find problems. (May you not find any.) Many HAJIS used to go to Jeddah. From Muallim, an approval called Tasreeh is required to go there. But many HAJIS go without getting a tasreeh as well. It is better to get the Tasreeh if you wish to go to Jeddah, and Make Sure That You Have Your Hajj ID or Passport.

GOING FOR HAJJ

Once again check your intentions and make them pure. Again read the restrictions of AHRAM.

  • Pay some charity (Sadqa) and pray Allah to make things easier for you.
  • See the list of things you may need during 5 days of HAJJ. Don’t take any extra luggage/burdon. Most important things are an extra AHRAM, an extra pair of slippers, Miswak, HAJJ BOOK, general medicines, extra spectacles, sunglasses, a dress to wear after HAJJ, Mobile phone with charger/extra battery, odorless petroleum jelly, fragrance free soap, (warm shawl in winter season).
  • Nowadays, many HAJIS used to smoke (cigarette) while in the state of AHRAM. This is strictly prohibited. Remember! ALLAH ALMIGHTY likes HIS believers to wear perfumes and fragrances in their normal life. Yet HE has banned these for the people who are in the state of AHRAM. If the perfumes are banned or simply HARAAM (which give pleasant smell), how could be the smoking cigarette become HALAL that gives a very unpleasant smell and its smell and smoke disturbs the people around? So the people who are addicted of smoking should avoid it whilst in the state of AHRAM. In fact, if they try, they could easily get rid of this habit during the HOLY TRIP.

AT MINA

  • Mina is a place of Tents. There are around 100 MAKTABS in MINA. “MAKTAB” is a term used for a group of tents which may possess more or less 500 tents. All the tents are similar/identical and all the MAKTABs are similar as well. It is usually very difficult to identify your tent because of thousands of similar/identical tents. And therefore, many Hajis lose their way or their companions as well.
  • When you reach your tent in Mina, first of all memorize/note your tent number inside the MAKTAB. Then come out of your tent (preferably with one or two wise companions) and try to find/locate the washrooms and kitchen inside your MAKTAB. Remember the direction in which you are going after coming out of your tent. Once you locate the washroom and kitchen, guide your companions; especially the females.
  • Remember! Cooking or making any sort of fire is STRICTLY prohibited inside the tents in MINA. Some years back, hundreds of HAJIS were burnt when a huge fire blown out in the tents of MINA. So please never violate these instructions. You may get food/tea from the said kitchen located inside your MAKTAB.
  • While coming out of the MAKTAB, you must know the Road Number (in Arabic “Tareeq Raqam”) on which your MAKTAB is located and note/memorize it. Several bridges (in Arabic “Kubri”) are also passing across over/near the tents like Kubri Khalid, Kubri Abdul Aziz etc. If there is one near your MAKTAB, try to know the name of it and keep it in your mind.
  • If you are familiar with the maps, it is better to get a map of Mina. You can get it from your Maktab/ Muallim’s office free of cost. Try to know where the Muallim’s office is and get the map from there before Hajj.
  • Another useful tip is to make some prominent banners of your HAJJ GROUP’s name (in Pakistan), take them with you in MINA and hang them around your MAKTAB.
  • You will reach Mina on the night of 7th Zil-Hajj (it doesn’t make any issue) or on the morning of 8th zil hajj. Now before going to Arafat, you have to do nothing but offering the daily compulsory prayers. So, when you reach in Mina, try, at your convenience, to locate the way to JAMRAAT (the place where you have to do Rami on the 10th, 11th and 12th zil hajj.) It is better to visit JAMRAAT today, i.e. on 8thzil hajj, in order to have an idea of where to go and how to do RAMI.

Note: JAMRAAT is the key place in Mina. If you lose your way, the location of JAMRAAT may help you in finding your way towards your MAKTAB.

  • HAJJ has been falling in winter season during the last few years. Take some warm clothing and odorless petroleum jelly with you as well. In the state of AHRAM, if you feel cold, you may wear more than one sheets, or a warm shawl. For dryness of skin or lips, you may use odorless petroleum jelly.

·         In the washrooms of the HOLY MASJIDS and Mahsa’ir, rubber pipes are used for cleaning instead of pots (LOTA.) [You will not find any pot (LOTA) anywhere in the washrooms except your residences.] The pressure of water is very high. ALWAYS TURN ON THE TAP VERY SLOWLY AND ADJUST THE PRESSURE OF WATER OTHERWISE YOU AND YOUR DRESS MAY GET WET/IMPURE. It is also better to wash the floor of the washroom before using it. Showers are also installed. Warm water is also supplied accordingly. Great!

AT ARAFAT

  • The day of HAJJ i.e. 9th of Zil-Hajj has arrived. After Fajr Salat, recite Takbir-e-Tashriq which is obligatory for every Muslim (man and woman) after every Farz Salat till the ASR Salat on the 13th of Zil-Hajj.

Now you have to reach ARAFAT where you have to stay from afternoon till sunset. At this time, remember that this is that particular day and time for which you have spent that huge capital i.e. 3 lac rupees.

·         Remember! Today is the day of acceptance of supplications! Today is the day of forgiveness! Today is the most worried day for the DEVIL (SHAITAN) for his whole effort to misguide you from the right path is surely going to spoil! Today is the day of pride and honor for you.

·         Remember! Only the HAJIs who are offering SALAT inside MASJID-e-NIMRA and that too behind the IMAM of MASJID-e-NIMRA can offer ZOHR and ASR SALATs jointly. So, if you are staying away from MASJID-e-NIMRA, offer ZOHR SALAT and ASR SALAT separately at their respective times.

  • Recite 3rd KALMA, 4th KALMA, DURUD SHARIF and ASTAGHFAR 100 times each. Then start your supplications.

·         While doing prayers at ARAFAT (or anywhere else; especially while offering daily SALAT), one must remember that…

  • I am seeing ALLAH!
  • ALLAH is observing me!
  • I am the center of attention of ALLAH!
  • ALLAH is listening to me!
  • ALLAH is smiling with happiness for my struggle and effort for performing HAJJ!
  • ALLAH is praising me in front of MALAIKAH (angels.)
  • You have to try your best to get ALLAH’s approval and acceptance regarding your HAJJ. Especially the time before sunset; it would be better to repeat these words …
    • O’ ALLAH! Please accept this effort from me/us…
    • O’ ALLAH! Please approve this effort from me/us…
    • O’ ALLAH! If you do not accept this from me/our; my/our huge capital, my/our 3 lac rupees would be spoiled… All of my/our efforts would be spoiled… I/we would earn nothing but fatigue and dust!
    • O’ ALLAH! Do not reject this effort from me/us please… please… please!

·         Leave ARAFAT after the sunset without offering MAGHRIB SALAT in ARAFAT. The ruling is that you have to offer MAGHRIB SALAT in MUZDALFA and that too when the time of ISHA SALAT starts. (Nowhere before entering MUZDALFA, and not before the time of ISHA SALAT).

·         After spending the daytime in ARAFAT, you have to go to MUZDALIFA to spend the night.  It is approximately six kilometers from ARAFAT to MINA (where your tents are), and MUZDALIFA is about half way there.  One should leave ARAFAT right after Maghrib and walk this trip. In our experience it is actually a lot faster and easier to walk rather than taking the buses (traffic jam is a very common problem) unless you have a physical difficulty for which you are unable to walk that long.

AT MUZDALIFA

  • It is also said that walking has another advantage i.e. the experience of walking on the same route through which the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam walked.  You will see nothing on the right or the left of you but other Muslims going towards the same place you are going to.

·         When you walk from ARAFAT, do not stop as soon as you see the signboards of “MUZDALIFA BEGINS”.  Continue walking for a while and you will find that the areas ahead are far less crowded and the bathrooms are in a much better state.  People used to stop as soon as they reach MUZDALIFA and thus make/find it quite crowded.  So if you continue walking for another 10-15 minutes you would have your pick of spots and with a better bathroom situation.

  • You have to spend the whole night under the sky. It would be better to get closer to MINA in a walk-and-stay manner. (Walk some distance towards MINA, stay and take some rest and food, then start walking again).

·         If you reach MUZDALFA early, wait for the start of the time of ISHA SALAT. After that, offer MAGHRIB SALAT first, and then ISHA SALAT.

  • After offering FAJR SALAT, stay for a while to perform the WUQUF-e-MUZDALFA which is obligatory (WAJIB). It is better to leave MUZDALFA after sunrise (ISHRAQ).
  • Pick the stones for RAMI (Pick approx. 100 stones), wash them and collect them in a small empty water bottle which would be readily available around you.

BACK TO MINA

  • On reaching MINA, you have to perform RAMI.
  • Saudi Hajj Authorities have made several changes in the architecture of JAMRAAT as well as in the process of RAMI. They have constructed several wide multi-storey bridges at the JAMRAAT and construct wide concrete screens at the top of the Devils. Moreover, they now give a particular time for performing RAMI to the HAJIS of a certain MAKTAB. Go for RAMI at the given time in order to assist the Hajj authorities and the HAJIS. Don’t take any luggage, bag or umbrella with you; these things are strictly prohibited to be taken there. These small acts of obedience from your side will INSHALLAH definitely result in a successful HAJJ MOVEMENT with no casualties or losses, like they were occurred almost every year during the last two decades.
  • According to some recent researches and FATAWAs, HAJIs are allowed to do RAMI in the night as well (till the SUBH SADIQ i.e. the time before FAJR AZAN).
  • Women should throw stones for themselves unless there is a physical disability. So take your female companions with you to JAMARAT. Upon reaching, guide them to stay aside near/under a visible place e.g. a sign-board. Then first do your own RAMI and after that, facilitate them in doing their RAMI.
  • According to FIQAH HANAFI, the sequence must be followed in RAMI, QURBANI and HALAQ (haircut) otherwise you have to pay DAM (penalty). Therefore, on the 10th Zil-Hajj, after coming from MUZDALFA, first perform RAMI (throw stones to Devil) at the time given by the Hajj authorities, then slaughter the animal and finally have a haircut. Don’t see what the other HAJIS are doing. Follow your own FIQAH.
  • Remember! You are in the state of AHRAM and on a HOLY JOURNEY. Because of plenty of spare time in MINA, people start discussions on unnecessary topics, start cursing people or even start sharing vulgar jokes. You must try to avoid these sorts of discussions as these are useless as well as HARAAM. Concentrate only on HAJJ matters and try to teach each other.
  • As per my experience, there is a lot of cheating in Sacrifice/Slaughter (Qurbani/Zabiha). Try to go yourself to the slaughter house and do the sacrifice (Qurbani/Zabiha) in front of you, or send a reliable person as AMEEN. Don’t trust on any unknown person or banks for Qurbani/Zabiha.
  • After the confirmation of Slaughter, have a haircut and break your AHRAM. Now you can wear your normal dress.
  • Now you have to offer Tawaf-e-Ziarah and Saee of Hajj. You must do Tawaf-e-Ziarah before the sunset of the 12th Zil-Hajj. Other obligations are the Rami of three Devils (shaitan) on the 11th and 12th Zilhajj.
  • Leave MINA before sunset on the 12th of Zil-Hajj. You may leave after that as well. But if you stay in MINA till the Subh-e-Sadiq of the 13th Zil-Hajj, the Rami of the 3 Devils on the 13th of Zil-Hajj will become obligatory, and if you will not do it, you have to pay the penalty (DAM).
  • Last obligation of Hajj is the Tawaf-e-Wida or the Farewell Tawaf. You have to do it before your departure from Makkah Mukarramah. If one departs from Makkah without offering Tawaf-e-Wida, he has to pay the penalty (DAM). But if one has offered a Nafil Tawaf after Tawaf-e-Ziarah and then he could not offer Tawaf-e-Wida, then that Nafil Tawaf will compensate the Tawaf-e-Wida. In this case, he does not have to pay any penalty.

 Congratulations on achieving a successful (and, INSHALLAH, approved) HAJJ…

HAJJ MUBARAK

—–======——======—–=====—–=====—–

MADINA MUNAWARAH

  • Another most respectable ritual of the HAJJ/UMRAH trip is to go to MADINA MUNAWARRAH and pay SALAM to the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam.
  • On the way to MADINA, recite Durud Sharif as much as you can.
  • When you reach MADINA MUNAWARRAH, try to offer all the prayers inside the MASJID-e-NABWI, preferably in the area closer to the ROZA MUBARAK as per your convenience.
  • To offer nawafil inside RIYAZ-UL-JANNAH, it is better to go inside the MASJID-e-NABWI 1 or 2 hours after Isha prayers. Now the MASJID-e-NABWI is opened 24 hours. Several timings are fixed for women. Women are usually sent in groups according to their nationality. The workers show the national flags in order to call the women pilgrims of that country. Teach your females to show discipline and respect being inside MASJID-e-NABWI; and especially while going towards the PROPHET’s Grave. (Sallallaho Alaihe Wasallam).

EXTREMELY IMPORTANT

  • You should be extremely careful at the time of visit to ROZA MUBARAK. Your voice should not get loud in any case. See Surah HUJURAT, Verses no. 1 & 2. (I am sure you did). Don’t turn your back to the ROZA-e-MUBARAK accept offering congregation prayers.
  • On my recent trip (2010) I have noticed many people who were capturing snapshots and videos with mobile phone’s/digital cameras while on the way towards and in front of the Grave of The Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam. These things are completely ridiculous and totally against the teachings of the above said verses of Surah HUJURAT. May Allah Almighty guide us all.
  • It is also reported that many HAJIs contact their relatives while standing in front of the HOLY PROPHET and say: “I am standing in front of the HOLY PROPHET, pay your Salam to The Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam.” This is a very silly act and BID’At. MAY ALLAH ALMIGHTY GUIDE US ALL.
  • With high respect, say SALAM in a medium and gentle voice. Keep in mind the meanings of the sayings of Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam which mean that whoever comes to my grave is like one who met me in my life. Keep in mind that the Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam is listening my SALAM.
  • Don’t make any supplications there. When you have finished, go away from the ROZA-e-MUBARAK, turn towards KAABAH, raise your hands and make your supplications.
  • When you come out after saying SALAM to the HOLY PROPHET (Sallallaho Alaihe Wasallam), don’t drop your shoes from height as they make a loud noise. Lean down and put your shoes on the ground gently.
  • You may know that MASJID-e-QUBA is the first MASJID of Islam. And according to the meaning of a Hadith Mubarka, if one offers nafil SALAT there with pure intentions, he will get reward of an Accepted/approved (MAQBOOL) UMRAH. So take advantage of this opportunity and offer as many nawafil as you can and earn the reward of maqbool umrah. But remember one thing! When you go with the group for the ZIARAAT trip, offer 2 or 4 nafl. There is an alternate plan! After offering FAJR Prayers in Masjid-e-Nabwi, go to Masjid-e-Quba via taxi and offer ISHRAQ prayers there, then offer as many nawafil as you wish. Our beloved HOLY PROPHET (Sallallaho Alaihe Wasallam) used to go to Masjid-e-Quba on Saturday’s.
  • Arab people, especially the natives of MADINA MUNAWARRAH, used to keep a FAST on Mondays and Thursdays as this is a Noble Sunnah of the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam. They break their FAST (IFTAR) in MASJID-e-NABWI and for this, they bring dates and other eatables with them in big quantities. You may find hundreds of very long plastic sheets, laid down inside the MASJID-e-NABWI, decorated with dates, ZAMZAM water and other eatables. Try to keep a FAST and attend/enjoy the IFTAR there… (anybody can).
  • There are only two things to be brought from HARAMAIN SHARIFAIN; ZAMZAM water from MAKKAH MUKARRAMAH and dates from MADINA MUNAWARRAH. So try to purchase dates from MADINA MUNAWARRAH. The wholesale market of dates is very near from MASJID-e-NABWI. Stand in front of MASJID-e-NABWI while facing KAABAH. Now see/go straight in the RIGHT DIAGONAL DIRECTION, cross the outer courts of MASJID-e-NABWI and then carefully cross the road (carefully). Now you are about to reach the dates market. Dates naming MABROOM, KHUDHRI, KALMA (QALMI), AJWA, and AMBER are very special. AMBER and AJWA are quite expensive while the others are relatively cheaper.

A Comprehensive Dua for all Sacred Places

  • O Allah! Please grant me whatever had been asked by the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam, His companions (Sahaba Kiram) and other noble MUSLIMS, at this particular place. Aameen!

MISCELLANEOUS ADVICES

  • Whenever you face any difficulty, pay some charity (Sadqa) and pray Allah to make things easier for you. It is better to give charity to the workers of the two HOLY HARAMS.
  • Usually after every FARZ SALAT, dead bodies (JANAZAHs) come in both the HOLY HARAMS and the SALAT-ul-MAYYIT (Namaz-e-Janazah) is offered. So, be prepared for that, and if required, learn the Dua of SALAT-ul-MAYYIT. Stay for a couple of minutes after every FARZ SALAT before offering sunnah or nawafil SALAT, in case there is a JANAZAH prayer to be held.
  • O Brother! Remember! Like you, every Muslim wishes to offer SALAT in HATEEM, in RIYAZ-ul-JANNAH, at the place of ASHAAB-e-SUFFAH and other such sacred places. But when a Muslim gets a place there, he unfortunately holds that place as if it is only his right to sit there and offer SALAT. You may see people who would be offering continuous prayers or reciting the HOLY QURAN in RIYAZ-ul-JANNAH while hundreds of other Muslims are dying to find a place to offer SALAH inside the RIYAZ-ul-JANNAH. You are requested not to show attitude like this (I use the term QABZA GROUP for the people showing this attitude). Offer SALAT and leave the place for another Muslim.
  • Try to reach HARAM (both) at least 30 minutes before AZAN in order to offer SALAT comfortably. And on FRIDAYs, you must reach the HARAM as late as 11.00 A.M otherwise you will hardly find any place inside HARAM.
  • Never sit in the passages and stairs of the HARAMAIN SHARIFAIN. You may see people sitting in the passages and stairs waiting for SALAT while there is an ample space left vacant inside the MASJID and thus, people who get late to reach HARAM couldn’t even find a place to enter the MASJID.
  • You may find plenty of spare time during your visit to the HOLY HARAMAIN. Spend this time in learning the religious affairs. For example, if there is any HAFIZ-e-QURAN or QARI in your group, try to learn TAJWEED in order to recite the HOLY QURAN and offer SALAT properly. This is an excellent opportunity for you.
  • There is an office of Wheel Chairs at the extreme end of the court outside Safa/Marwa near the birth place of Rasulullah Sallallaho Alaihe Wasallam. From there, after submitting an ID, any Haji can get a wheel chair (if required) free of cost and use it. The color copy of the Pakistani CNIC is also acceptable.
  • Similarly, there is an office of Wheel Chairs at the gate no. 8 naming “Saud Gate” at the right side of the MASJID-e-NABWI (keeping the QIBLA direction in front of you). From there, after submitting an ID, any Haji can get a wheel chair (if required) free of cost and use it.

Caution: Never submit your passport there to get a wheel chair as your passport may get lost. You may submit the color copy of your CNIC to get a wheelchair. They accept color copy of CNIC.

  • For filling the 10-liter can of ZAMZAM water, there is a place at the extreme end of the court outside Safa/Marwa near the birth place of Rasulullah Sallallaho Alaihe Wasallam. You have to walk a lot and also wait for quite a while for your turn. Therefore, it is better to go there after ISHA SALAT, in order to avoid scorching afternoons. And if you have your own wheelchair or a trolley, you may use it to carry the can(s) easily.

Caution: Never use the borrowed wheelchair for carrying your luggage or heavy cans of water as it may result in the damage of wheelchair. Remember! These wheelchairs are being provided to facilitate the handicapped HAJIS. You may purchase a folding trolley which is a very handy thing and easily available at the shops around HARAMAIN for about 30 Saudi Riyals.

  • In the crowded days you may find serious difficulties while purchasing the meals right after ZOHR or ISHA SALAT because of the presence of hundreds of customers. Therefore it would be better to buy your meals from the nearby restaurant before going for SALAT; or go to the restaurant at least 30 minutes after SALAT to get the meals easily.
  • On my recent trip (2010) I have noticed many people were capturing snapshots and videos with mobile phone’s/digital cameras, or making phone calls while performing TAWAF. These acts are simply ridiculous and totally against the teachings of the SHARIAH. May Allah Almighty guide us all.
  • HAJR-e-ASWAD (The Black Stone) is the only place allowed for kissing. Therefore, avoid kissing any other sacred place or thing e.g. Maqam-e-Ibrahim, etc.
  • It is highly advised that the female pilgrims should consult a lady doctor and ask her to prescribe some medicines for avoiding menstruation during the HOLY TRIP. Take these medicines as per your doctor’s advice.

Caution: Women should not enter any MASJID whilst in the state of impurity as it is forbidden according to SHARIAH.

  • Women must wear a black coat (abaya).
  • Men should teach women how to offer SALAT in congregation.
  • Women should offer SALAT at their residence. However, being present in the HOLY MASJID at the time of congregation SALAT, they can offer SALAT in congregation; however they should offer SALAT in the areas which are particularly marked for women. You may find women offering SALAT with their male companions.

Remember! If a woman offers congregation SALAT while standing amongst males, she would be the culprit of spoiling SALAT of 3 men; one on her right, one on her left and one behind her.

  • Women should NEVER go to the densely crowded places; especially the HAJR-e-ASWAD (Black Stone) or MULTAZAM. Allah surely knows your intentions and wishes; HE Almighty will reward you for the same, Inshallah.
  • Always be careful while crossing the roads.
  • Have you ever checked your SALAT? Have you ever tried to learn the SUNNAH way of offering SALAT or you are still offering the SALAT in the same way you had learned during your childhood?

Caution: Majority of people is found offering SALAT in a very casual manner. Even they do not know the compulsions and obligations of the SALAT. So it is highly advised to learn the SUNNAH method of offering SALAT as it has to be offered 5 times a day.

  • Daily, after MAGHRIB SALAT, Molana Makki Sahab used to give a speech in URDU language in MASJID-ul-HARAAM. Try to attend that particular speech. After ISHA SALAT, a Question/Answer session also takes place. If you wish to ask a question, write that on a piece of paper and send it to Molana Sahab. You will get the answer at your turn, inshallah.
  • If you are facing difficulties in finding a particular place inside/around the HOLY MASJIDS, ask any worker (khadim). All the workers (khuddam) can speak/understand certain languages; especially URDU.
  • Pocket-pickers are also present there. Therefore, when you are there, don’t carry all of your money (currency) in a single pocket; especially when you are going to perform TAWAF, or going to MULTAZAM or HATEEM or HAJR-e-ASWAD, or any other similar densely crowded place. Only put money that is sufficient/enough for daily use. Approximately 50 Saudi Riyals are more than enough for a day. Put rest of your money in a safe place which could be a pocket on the inner garment. However, when you are leaving from Pakistan, carry all your money either in your AHRAM’s belt or in your Hand Bag. Don’t leave it in your luggage/suitcase.
  • At the time of your departure from JEDDAH AIRPORT, don’t forget to send your flight number to your family/relatives. Tell them to confirm the flight’s exact arrival time from the Airline’s flight enquiry, before coming to the airport to receive you.

Caution: Hajj flights usually get late.

The Basic Key

The more you are prepared, the easier is the Hajj for you.

Back Home

After reaching home, first of all thank Allah Almighty for giving you this valuable opportunity. Try to stay away from the Sins and evils for the remaining life. I repeat! Performing Hajj is another thing… and taking it to the grave is another thing. May Allah protect you… Aameen.

Share your memories with your relatives and friends. Share the blessings, but avoid sharing the problems/difficulties. I know a person of my family, who had got multiple chances to visit the HOLY HARAMAINs, and every time when she came back, unfortunately, she only discussed the problems she had faced there. Don’t forget! You were the guest of Allah Almighty. And discussing only the problems means an allegation the hospitality of our beloved Allah.

In future, if you find anybody going to perform Hajj/Umrah, try to teach him/her the Manasik. This act will become a Sadqa-e-Jariya for you, Inshallah.

Wish you all the best, O the HONORABLE GUEST of ALLAH!

May HE Almighty makes this Holy Journey and all the MANASIK easier for you, and May He Almighty accept/approve this effort from you and from all the HAJIs, and May He Almighty grant and bless all of you with whatever He Almighty has promised. Aameen.

One last statement…….!!!

May be you are thinking that you are “dying” to go there…

But believe me! You are not dying to go there; in fact you are “willing” to go there!

You will surely understand the difference once you would have returned…!

(Abhi aap ko lag raha ho ga k aap Haramain Sharifain ki ziyarat k liye tarap rahay hen…

Lekin yaqeen janiye… ye tarap nahi, talab hy…. Tarap kya hoti hy, ye wahan say aanay k baad pata chalay ga).

My eyes are getting wet now.

The Hajj season makes my eyes wet every year… as I always wish… I could be there….!

{Yeh HAJJ ka mosam bhi ajeeb hy… Her saal sogwar kr deta hy…}

Fi Amanillah

Aspirant for Prayers

Abu Shaheer

P.S: If you feel this document is worthy, please give me a favor by forwarding it to the other people who are going for Hajj/Umrah.

Jazakallah!

Some small acts of generosity!
  • Say Salam to strangers
  • Help a new-comer in performing UMRAH.
  • Buy tea for someone
  • Fetch ZAMZAM water for others; especially for your roommates
  • Offer to carry someone’s groceries
  • Carry someone’s bags for them
  • Guide someone ill to the infirmary
  • Recite TALBIYAH loudly, encouraging others
  • On the days of Eid, walk through the tents reciting Takbir-e-Tashriq loudly reminding others
  • Gather stones for people
  • Offer to throw on behalf of disable Hajjis
  • Guide people to the Jamarat
  • Lower your gaze
  • Remind people of the lives of the Sahaabah
  • Give major attention to shy people in your group
  • Remind people of patience, and why they came here
  • Explain the importance of purifying ones actions for the sake of Allah
  • Make dua for forgotten friends (and the author of this list)
  • Don’t allow Muslims to fight during Hajj
  • Give charity to the workers (Khuddam) of the two HOLY MASJIDs
  • Offer a free haircut to the HAJIs if you know how to do it
  • Remind people to go home as better Muslims
  • Compliment someone sincerely
  • Take young Muslims and invite them to sit with the elders. Make them the center of attention
  • Give a tafseer class after Salah / ask someone knowledgeable
  • (For men) Offer perfume to those around you inside the HOLY MASJIDs
  • Focus hard on helping those immediately near you
  • Take people to the slaughter house and help them / Or assist them in purchasing their slaughter coupons
  • Fill your pockets with candies and give to the children that you meet
  • Always intend reward from Allah for everything you go through during Hajj
Uncategorized

Huzur ka Khutba e Tabuk

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبۂ   تبوک

حمد و ثناء کے بعد ۔۔۔

سب سے زیادہ سچی بات ، کتاب اللہ ہے ۔ سب سے بڑا سہارا ، تقویٰ ہے ۔ سب سے اچھی ملت ، ملت ابراہیمی  ہے ۔ سب سے اچھی سنت ، سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے ۔ سب سے اچھی بات ، ذکر الٰہی ہے ۔ سب سے عمدہ داستان ، قرآن ہے ۔ سب سے اچھے کام ، عزیمت کے کام ہیں  ۔ سب سے برے کام ، بدعت کے کام ہیں ۔ سب سے بہتر راستہ ، انبیاءعلیہم السلام  کا راستہ ہے ۔ سب سے زیادہ معزز موت ، شہادت کی موت ہے ۔ بد ترین اندھا پن ،  ہدایت کے بعد گمراہی ہے ۔ سب سے اچھا کام وہ ہے ، جو نفع پہنچائے۔ سب سے اچھی راہ وہ ہے ، جس کی پیروی کی جائے ۔ بد ترین تاریکی ، دل کی تاریکی ہے ۔ اوپر  {دینے}  والا ہاتھ ، نیچے {لینے}  والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ جو چیز کم مگر ضرورت بھر کی ہو  ، اس سے کہیں بہتر ہے جو زیادہ ہو مگر غفلت میں ڈالے۔ بد ترین توبہ ، موت کے وقت کی توبہ ہے ۔ بد ترین ندامت ، قیامت کے دن کی ندامت ہے ۔ بہت لوگ ہیں ، جو پشت پھیر کر جمعہ کا استقبال کرتے ہیں ۔ بہت لوگ ہیں ، جو خدا کو کبھی دل سے یاد نہیں کرتے ۔ سب سے بڑی خطا ، جھوٹی زبا ن ہے ۔ سب سے بڑی دولت ، دل کی دولت ہے ۔ سب سے بہتر توشہ ، تقویٰ ہے ۔ سب سے بڑی دانائی  ، مخافت الٰہی { خوف خدا } ہے ۔ دل میں راسخ ہونے والی سب سے اچھی چیز یقین ہے ، شک کفر کی ایک شاخ ہے ۔ میت پر نوحہ ، جاہلیت کی خصلت ہے ۔ مسلمانوں کے مال میں خیانت ، جہنم کی گرمی ہے ۔ شراب ، گناہ کا سر چشمہ ہے ۔ بد ترین ذریعہَ معاش ، یتیم کا مال کھانا ہے ۔ خوش نصیب وہ ہے ، جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے ۔ عمل کا مدار ، اس کے خاتمے پر ہے ۔ بد ترین خواب ، جھوٹا خواب ہے ۔ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے ۔ مسلمان کا قتل کفر ہے ۔ غیبت کر کے مسلمان کا گوشت کھانا ، معصیت ہے ۔ مسلمان کے مال کی حرمت ، اس کی جان کی حرمت کے برابر ہے ۔ جو معاف کرتا ہے ، خدا اسے معاف کرے گا ۔ جو غصہ پی جاتا ہے ، خدا سے اجر پائے گا  ۔ جو نافرمانی کرتا ہے ، خدا اسے عذاب میں ڈالے گا ۔

اس کے بعد تین مرتبہ استغفراللہ کہا اور خطبہ ختم کر دیا ۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Amr Bil Ma’roof Wa Nahi ‘Anil Munkar

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

از ۔۔۔ ابو شہیر

شاعر نے کہا تھا ۔۔۔

مجھ کو تو  کوئی  ٹوکتا  بھی نہیں

یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا ؟

شاعر کا شکوہ اپنی جگہ لیکن آج آ پ ذرا کسی کو ٹوک کے تو دیکھئے ! دانتوں پسینہ نہ آ جائے تو بات ہے !

جی ہاں ! ہمارا معاشرہ دہرے معیار یا تضادات کا شکار و شاہکار ہے ۔ مثلاًآپ کسی موٹر سائیکل سوار کو بتائیں کہ وہ سائیڈ اسٹینڈ اوپر کرنا بھول گیا ہے یا یہ کہ اس کے پیچھے بیٹھی خاتون کا دوپٹہ لٹک کر پہئے میں آ رہا ہے تو وہ آپ کے بڑے احسان مند ہو ں گے کہ آپ نے انہیں خطرے سے آگاہ کر دیا ۔ لیکن اگر اسی یا کسی  موٹر سائیکل سوار کو آپ کہیں یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ بھائی آپ نے جو  “چڈا “پہن رکھا ہے وہ ستر پوشی کے شرعی تقاضوں کے خلاف ہے کہ آپ کی رانیں اور گھٹنے برہنہ نظر آرہے ہیں ۔۔۔ یا یہ کہ اپنی خاتون کو پردہ کرائیے  ۔۔۔ تو “جاوَ میاں جاوَ اپنا کام کرو”سے لے کر “شٹ اپ “تک کچھ بھی سننے کو مل سکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ آپ کو “طالبان “کا خطاب بھی مل جائے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے ۔ یقین جانئے ایسی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ عجیب رویے ہیں ہمارے معاشرے کے ۔ کہ دنیا کے نقصان سے آگاہ کر دو تو “تھینک یو “اور آخرت کے نقصان سے آگاہ کر دو تو “شٹ اپ “۔

یہ تو غیروں یا اجنبیوں کا تذکرہ ہو گیا ۔ اب آئیے اپنوں کی طرف ۔۔۔ خاندان کی طرف ۔۔۔ ہماری دانست میں رشتہ داری ایک دوسرے کی دلجوئی و غمگساری کا نام ہے ۔ لیکن آج خاندانی رشتوں پر نظر ڈالیں تو  دو حقائق بڑے واضح طور پر سامنے آتے ہیں ۔ ایک یہ کہ رشتہ داری تقریبات میں شرکت کا نام ہے مثلاً آپ کو مہندی کی تقریب میں بلایا جائے اور آپ اس کا بائیکاٹ کر دیں کہ جی یہ غیر اسلامی رسم ہے ، میں اس میں شریک نہیں ہو سکتا کہ مجھے اپنی اور  اپنے اہل خانہ کی عاقبت عزیز ہے ، تو بس پھر آپ خود بائیکاٹ کے  لئے تیار ہو جائیے ۔ دوسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ رشتہ داری ایک دوسرے کے ہاں کھانے پینے کا نام ہے ۔ مثلاً آپ کو دعوت میں بلایا جائے اور آپ یہ کہہ کے معذرت کر لیں کہ بھائی آپ کا ذریعہ آمدنی حلال نہیں لہٰذا میں آپ کے ہاں کھانا نہیں کھا سکتا تو بس پھر۔۔۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ کون سی رشتہ داری اور کہاں کی قرابت داری! اور سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس کو کہا جائے صرف اسی کی طر ف سے دندان شکن رویہ سہنے کو نہیں ملے گا بلکہ الا ما شاء اللہ متعلقین کی توپوں کا رخ بھی آپ ہی کی طرف ہو گا ۔ آزمائش شرط ہے ۔

یہ تمام حقائق اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پھر ان معاشرتی رویوں کے خوف سے کلمہ خیر چھوڑ دیا جائے ؟ ہرگز نہیں جناب ! اس طرح تو معاشرہ اور خراب ہوتا چلا جائے گا ۔ بگاڑ بڑھتا ہی چلا جائے گا ۔ دیکھئے ! معاشرے کو برباد کرنے میں شر پسند عناصر سے کہیں زیادہ ان اچھے لوگوں کا ہاتھ ہے جو ان کے سامنے ڈٹنے کے بجائے خاموشی اور پسپائی اختیار کر گئے ۔ ذرا سوچئے ! “مٹی پاوَ” اور “سانوں کی ” جیسے رویوں کے سبب آج ہمارا معاشرہ کس نہج کو پہنچ چکا ہے؟ جبکہ بحیثیت مسلمان امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا ہماری بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔  قرآن پاک میں جگہ جگہ اس بات کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔

سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 104 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور تمہارے درمیان ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کے افراد {لوگوں کو } بھلائی کی طرف بلائیں ، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں ۔

اسی سورۃ کی آیت نمبر 109میں کہا جا رہا ہے : {مسلمانو !} تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے ۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو ، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔

یہاں اول تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہئے کہ اگر ہم نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے والا کام نہیں کر رہے تو کیا ہم بہترین امت کہلانے کے حقدار ہیں ؟ دوسری بات یہ کہ نیکی کی تلقین تو پھر بھی بہت سے لوگ کر رہے ہیں ۔۔۔اور شاید یہ نسبتاً آسان بھی ہے ۔۔۔لیکن برائی سے روکنے والا عمل آج کل ناپید ہوتا جا رہا ہے ۔ ذرا اپنے اطراف کا جائزہ تو لیجئے !کس قدر برائیاں پھیلی ہوئی ہیں جن پر ہم اور ہمارا معاشرہ سمجھوتہ کر چکے ہیں ۔۔۔ چلئے قتل و غارت ، چوری ڈکیتی اور دیگر جرائم کو روکنا تو حکومت وقت یا اس کے نمائندہ اداروں مثلاً پولیس وغیرہ کا کام ہے لیکن جھوٹ ، بے پردگی ، رشوت و سود خوری ، بد نظری ، بے حیائی ، ناشکری ، ناچ گانے کی محفلیں ، ناجائز ذرائع آمدنی ، غیبت ، تکبر ، شعائر اسلام کی تضحیک و توہین و تمسخر ، وغیرہ ایسے گناہوں سے تو ہم اپنے اطراف والوں کو روک سکتے ہیں  یا کم از کم بچنے کا تو کہہ سکتے ہیں۔۔۔ کیا اتنی بھی ایمانی جرات و طاقت نہیں رہی آج ہم میں ؟

آئیے یہاں قرآن پاک سے ایک قصہ کا جائزہ لیتے ہیں ۔  ترجمہ :اور آپ ان لوگوں (یہود ) سے اس گاوَں کا حال پوچھیں جو کہ لب دریا آباد تھا جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی )اس وقت کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں ۔ اسی طرح ہم لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے ۔ اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہاکہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس لئے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کر سکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیز گاری اختیار کر لیں ۔ جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کر دیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے ۔ غرض جن اعمال (بد ) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان پر (اصرار اور ہمارے حکم سے ) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ  ذلیل بندر ہو جاوَ ۔  (الاعراف 163-166)

ایک بڑی مشہور حدیث زبان زد عام ہے ۔ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  ۔۔۔

“جو شخص تم میں سے کسی منکریعنی خلافِ شرع کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو اور یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے “۔  (صحیح مسلم )

معاشرے کی اکثریت اس بات پر خاصی مطمئن ہے کہ بھائی میں دل میں تو برا سمجھ رہا ہوں ناں ! بے شک حدیث بالا کی روشنی میں آپ بھی اچھا عمل کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ ایمان کے کم ترین درجہ پر مطمئن ہیں ؟اور کیا آپ کو بس اسی پر اکتفا کر لینا چاہئے ؟ مزید برآں کیا آپ کو یہ پتہ ہے کہ کسی قول یا فعل کو دل سے برا جاننے کا کیا مطلب ہے ؟ دیکھئے کسی بات یا چیز کو دل سے برا جاننے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کا ذکر ہو تو اس سے شدید نفرت محسوس ہو۔ مثلاً کوئی شخص کسی کے ماں باپ کو گالی دے تو پہلی صورت تو یہ ہے کہ اس کا منہ توڑ دے۔۔۔دوسرا یہ کہ زبان سے اس کی ایسی تیسی کر کے رکھ دے ۔۔۔تیسرا یہ کہ کم از کم اس کمرے سے تو واک آوَٹ کر جائے جہاں وہ شخص موجود ہو ۔۔۔ کجا یہ کہ اس کے گھر کھانا کھائے اور اس سے ہنسی مذاق کرے اوراپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے دے ۔

تو معلوم یہ ہوا کہ اگر کسی برائی کو روکنا ایک شخص کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس کے پاس مطلوبہ طاقت بھی ہے تو وہ اسے طاقت سے روکنے کا مکلف ہے ۔ جیسا کہ ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر کوئی حاکم ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں سے متعلق سوال ہو گا ۔ تو باپ کو اپنے دائرہ اختیار میں روکنا چاہئے ، ادارے کے سربراہ کو اپنے دائرہ اختیار میں ، او ر پھر حکومت کو اپنے دائرہ اختیار میں ۔ اگلی بات یہ کہ دیگر احادیث مبارکہ کی تعلیمات پر بھی تو ایک نگاہ ڈال لیجئے کہ ان میں کیا کہا جا رہا ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ “تم ضرور اچھائی کا حکم کرتے رہو اور بُرائی سے روکو ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔ پھر تم اس کو پکارو گے (لیکن) وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔(صحیح مسلم )

ایک اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے کہ “یقیناً اللہ تعالی خاص لوگوں کے عمل (گناہوں) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا، یہاں تک کہ جب عام لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی اپنے درمیان ہوتے دیکھیں اور وہ اس پر نکیر کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ اس سے نہ روکیں، جب ایسا ہونے لگے تو اللہ کا عذاب عام اور خاص سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے”۔( مسند الامام احمد )

اور قربان جائیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت و بلاغت کے کہ کس قدر عام فہم انداز میں ایک تمثیل کے ذریعے امت کو بتایا کہ امر بالمعروف و  نہی عن المنکر معاشرے کی بقا کے لئے کتنا ضروری عمل ہے ۔ فرمایا : “اللہ کی حدوں میں مداہنت ( نرمی و درگزر ) کرنے والوں اور حدوں کے توڑنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جنہوں نے ایک (دو منزلہ )کشتی میں سفر کرنے کے لئے قرعہ اندازی کی ، بعض کے حصے میں بالائی منزل اور بعض کے حصے میں نچلی منزل آئی، نچلی منزل والے پانی لینے کیلئے بالائی منزل پر آتے اور بالا نشینوں کے پاس سے گزرتے تو وہ تکلیف محسوس کرتے، چنانچہ نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑ کر کشتی میں سوراخ کرنا شروع کردیا تاکہ نیچے سے ہی پانی لے لیں اور اوپر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ سوراخ کرنے کی آواز سن کر اوپر والے آئے اور پوچھا: “تم یہ کیا کررہے ہو؟” انہوں نے کہا “ہم پانی لینے اوپر جاتے ہیں تو تم ناگواری محسوس کرتے ہو، چنانچہ ہم نیچے ہی سوراخ کرنے لگے ہیں، کیونکہ پانی کے بغیر تو چارہ نہیں” (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اگر وہ (اوپر کی منزل والے) اسی وقت ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور سوراخ سے روک دیں تو وہ سوراخ کرنے والوں کو بھی بچالیں گے اور خود کو بھی بچالیں گے اور اگر وہ ان کو اپنے حال ہی پر چھوڑ دیں گے تو ان کو بھی ہلاک کردیں گے اور خود کو بھی ہلاک کرلیں گے”۔  (صحیح البخاری )
یہ بات بھی تجربہ سے ثابت ہے کہ جب معاشرہ برائیوں کا عادی ہو جائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر چھوڑ دیا جائے تو اچھائیاں مٹتی چلی جاتی ہیں اور برائیاں عام ہوتی چلی جاتی ہیں یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ برائی نہ صرف یہ کہ برائی محسوس نہیں ہوتی بلکہ انسانی فکر اس حد تک مسخ ہو جاتی ہے کہ برائی کو اچھائی سمجھا جانے لگتا ہے جیسا کہ آج کل مغربی معاشرے کا حال ہے  کہ مرد کی مرد سے شادی کو آئینی و قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے اور جسم فروشی جیسا قبیح دھندہ کرنے والی عورتوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کئے جاتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ایسی حیا باختہ عورتوں کو جنہیں ان کے ہاں پہلے prostitute یعنی طوائف کہا جاتا تھا ، اب sex workers کا نام دے دیا گیا ہے ۔ استغفراللہ!

تو جناب حاصل کلام یہ ہے کہ نیکی کی تلقین کے ساتھ ساتھ برائی سے روکنے والا عمل بھی حکمت بصیرت کے ساتھ جاری رکھئے خواہ کسی کو کتنا ہی ناگوار گزرے ۔ دیکھئے اول تو یہ بات ذہن میں رہنی  چاہئے کہ سورۃ تحریم آیت نمبر6 میں بڑی واضح ہدایت موجود ہے کہ (ترجمہ )”مومنو  ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم ) سے بچاوَ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔۔۔الخ  “۔ تو سب سے پہلے اپنی ذات اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی نگہبانی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ پھر یہ حلقہ بڑھتے بڑھتے خاندان ، دوست احباب ، پڑوسی ، اور پھر پورا معاشرہ یہاں تک کہ پھر پوری دنیا کو محیط ہے ۔ سب کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ لوگو مرنے کے بعد حساب کتاب بھی ہونا ہے جس کے بعد یا جنت ہے یا جہنم ہے ۔ “جس نے ذرہ بھر بھی نیکی کی ہو گی تو وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہو گی تو وہ اس کو دیکھ لے گا ” ۔ (سورۃ الزلزلہ ۔ آیۃ 7-8)

ثانیاً یہ کہ بڑی پرانی مثال ہے کہ کوئلے کی دوکان پر نہ چاہتے ہوئے بھی کالک لگ سکتی ہے اور عطر کی دوکان پر نہ چاہتے ہوئے بھی خوشبو آ جاتی ہے  ۔ تو وہ لوگ جو یا تو اپنا اچھا برا نہیں سمجھتے ، یا سمجھنا نہیں چاہتے ، سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کے ساتھ جڑے رہنے سے اپنے اندر بھی کمزوری آتی ہے ۔ کہنے سننے کا حوصلہ کمزور پڑتا ہے ۔ اس لئے بہتر ہے کہ صالحین یعنی نیک لوگوں کو تلاش کر کے ان کے ساتھ جڑا جائے کہ ان کے ساتھ رہ کر ڈھارس بندھتی ہے، اپنا عمل اور ہمت و حوصلہ مضبوط ہوتا ہے ، جرات و اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، ایک دوسرے سے نیکی کی ترغیب بھی ملتی ہے اور  تحریک میں بھی زور پکڑتی ہے ۔

اور آخری بات یہ کہ لوگوں کی لعنت ملامت ، دشنام طرازی اور ناگوار رویہ وغیرہ کی پرواہ چھوڑئیے جناب !جب انبیائے کرام علیہم السلام کو برا بھلا کہا گیا ،گالیاں دی گئیں ، جھڑکیاں سننے کو ملیں ، پاگل دیوانہ جادوگر وغیرہ کہا گیا (العیاذ باللہ)، تو ہم کس گنتی میں ہیں ؟ اپنے نفس کو یہ کہہ کر اطمینان دلائیے ، پھر دیکھئے اس کام میں کیسی لذت،کیسا سرور ملتا ہے ۔