Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Pakistan, اسلام

B L E S S E D – F R I D A Y

بلیسڈ فرائیڈے

وجہ چاہے عالمگیریت ہو یا مرعوبیت ، روشن خیالی ہو یا میڈیا کی ڈھٹائی، غیر اسلامی معاشروں کا گند غلاظت رفتہ رفتہ اسلامی معاشرت کو آلودہ کرتا جا رہا ہے۔ صحیح غلط کی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ کفار ہم سے کچھ سیکھیں نہ سیکھیں، ہم ان سے بہت کچھ امپورٹ کر رہے ہیں۔
پہلے ویلنٹائن ڈے جیسا فحش اور قبیح تہوار مسلم ممالک میں داخل ہوا اور اب بلیک فرائیڈے کا ڈنکا بج رہا ہےیا بجایا جا رہا ہے۔ مختلف اداروں کی جانب سے بھرپور رعایتی سیل کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ویب سائٹس ، ایس ایم اسی مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے خوب تشہیر کی جا رہی ہے۔ معروف پاکستانی آن لائن اسٹور دراز ڈاٹ پی کے نے اس موقع پر قیمتوں میں ۸۶ فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے۔ اس رعایتی سیل کی تشہیر کے لئے لگائے گئے بینرز پوسٹرز شہر میں مختلف مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح معروف کورئیر سروس ٹی سی ایس کے آن لائن اسٹور یہ وہ ڈاٹ کام نے بھی اس موقع پر ۸۰ فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ شعائر اسلام میں سے ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ بڑا اہم اور فضیلت والا دن ہے ۔ اس کی شان میں رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث مبارکہ بھی روایت ہوئی ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ نے جمعہ کو سید الایام کہا یعنی ہفتہ کے دنوں کا سردار ۔ اسی طرح ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ سورج کے طلوع و غروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں۔ اسلام کے متوالوں کے لئے یہ رحمتوں اور برکتوں والا دن ہے، ایک روشن اور منور دن ہے۔

لیکن ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اس دن کوسیاہ دن کا نام دیا جا رہا ہے اور اب اس کی اس قدر منظم انداز میں تشہیر کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی زبانوں پر بھی یہی الفاظ چڑھتے جا رہے ہیں۔ عالم اسلام کو اس قسم کی چالبازیوں سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم کفار کو تو نہیں روک سکتے البتہ ان کی تقلید سے بچنا بہرحال ضروری ہے۔

ہم ان سطور کے ذریعے پاکستان کے تمام اسٹورز اور برانڈز کو متنبہ کرتے ہیں کہ خدارا اسلامی شعائر کی اہانت سے باز رہئے۔ کیا ضروری ہے کہ مسلمان بھی اسی دن سیل کے اعلانات کرتے پھریں ؟ اسلام نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دو تہوار دے رکھے ہیں۔ اگر سیل لگانی ہے تو ان مواقع پر لگائیے تاکہ آپ کے دینی بھائیوں کو فائدہ ہو۔ اور آخری بات یہ کہ اگر آپ نے اسی دن سیل لگانی ہے تو کم از کم اس مکروہ نام سے تو نہ لگائیے ، کیوں نہ ایک نیا نام متعارف کرا دیا جائے۔۔۔ بلیسڈ فرائیڈے یا برائٹ فرائیڈے۔۔۔
#Blessed_Friday
#Bright_Friday

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Seerat-un-Nabi, Social, اسلام, علم دین

Wazifa

وظیفہ

ہم میں سے اکثر لوگ پریشان ہیں۔ کوئی روزگار کے سلسلے میں پریشان ہے تو کوئی رشتوں کے سلسلے میں ۔ کوئی صحت کو ترس رہا ہے تو کوئی اولاد کو۔ کہیں میاں بیوی میں نہیں بن رہی تو کہیں اولاد نافرمان ہے۔ کسی کو رزق کی تنگی کی پریشانی ہے تو کوئی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ الغرض ہم ہر طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

اب ان مسائل کے حل کے لئے ہم کیا کرتے ہیں۔ کہیں پیروں فقیروں سے تعویذ مانگے جا رہے ہیں تو کہیں علمائے کرام سے وظیفہ۔ علمائے کرام مسائل  کی نوعیت کے حساب سے ہر ایک کو وظیفہ بتا دیا کرتے ہیں کہ ہر نماز کے بعد فلاں وظیفہ اتنی مرتبہ پڑھ لیجئےاور اتنے اتنے دن یہ عمل کر لیجئے۔ لیکن مدت پوری ہونے کے بعد اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ حضرت کام نہیں بنا کوئی اور وظیفہ بتائیے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نماز کے بجائے وظائف کو اصل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنے آئے، جلدی جلدی نماز ادا کی اور پھر نہایت اہتمام کے ساتھ وظائف و تسبیحات میں مشغول ہو گئے۔ بھول گئے کہ اصل گیان دھیان تو نمازوں میں درکار تھا ۔ لیکن وہاں تو نہ فرائض کا خیال رکھا جا رہا ہے نہ واجبات کا۔ تو جب نماز ہی آداب کی رعایت کے ساتھ ادا نہ کی تو پھر وظیفہ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے پر حیرت کیسی؟ شکایت کیسی؟

اللہ رب العزت  نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا  جس کا مفہوم ہے۔۔۔

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔

اور سیرت نبوی ﷺ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی دشوار امر پیش آتا تو آپ ﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ آندھی چلتی تو نماز ، سورج چاند گرہن ہوتا تو نماز، جنگ ہوئی تو نماز، بارش نہ ہوئی تو نماز۔ اور جب آپ ﷺدار الفنا سے دار البقا کی جانب رحلت فرما رہے تھے توآخری سانسوں میں بھی امت کو نماز کی تلقین فرمائی۔

چلئے  فقط یہی یاد کر لیجئے کہ نماز کہاں عطا کی گئی؟ معراج پر۔ آسمانوں سے اوپر بلا کر رسول اللہ ﷺ کو یہ تحفہ عنایت کیا گیا۔ اللہ اکبر۔۔۔ کیا شان ہے ، کیا عالی مقام ہے نماز کا ۔۔۔ کہیں اسے آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو کہیں اسے ایمان و کفر کے درمیان فرق  کرنے والا عمل بتایا جا رہا ہے۔ کہیں بتایا جا رہا ہے کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے سجدہ میں زیادہ دعا کیا کرو۔

 خلاصہ  یہ کہ مومن کا اصل وظیفہ نماز ہی ہے۔

بہت ہلکا لے لیا ہے ہم نے ان نمازوں کو۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, نماز, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, علم دین

Ujlat

عجلت

ہم من حیث القوم ایک عجیب افراتفری کا شکار ہیں۔۔۔ جلد بازی ہماری فطرت بنتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹریفک سگنل ہو یا ریلوے کراسنگ۔۔۔ رکنا ٹھہرنا انتظار کرنا ہمارے لئے سخت محال ہوا کرتا ہے۔۔۔ سڑک بلاک ہو گئی ٹریفک جام ہو گیا تو ڈھٹائی کے ساتھ رانگ سائیڈ پہ چل دیئے۔۔۔ بلکہ فٹ پاتھوں پہ گاڑیاں دوڑا دیں۔۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔

ہماری یہ عجلت پسندی مسجدوں میں بھی چلی آئی ہے۔۔۔ چنانچہ با جماعت نمازوں میں بھی ہم سے صبر و قرار سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔۔۔ ایک شدید اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔۔۔ اور اس کے باعث نمازوں کے دوران ایک عجیب ناگوار صورت حال نظر آتی ہے۔۔۔

امام صاحب نے جہری قرات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھی اور رکوع میں جانے سے قبل آخری آیت ذرا زیادہ کھینچ دی۔۔۔ اب سورت یاد نہیں تو آیت کی کھینچ سے پہلے ہی الرٹ ہو گئے کہ امام صاحب رکوع میں جانے والے ہیں، اور اگر سورت یاد ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر سے قبل ہی ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔۔ حتیٰ کہ بعضوں نے رکوع کے لئے جھکنے کا بھی آغاز کر دیا۔۔۔

امام صاحب رکوع سے اٹھے اور قومہ میں ذرا توقف کیا تو یہ لمحہ دو لمحہ کا قیام طبع نازک پہ سخت گراں گزرا۔۔۔ ٹھہر بھی گئے تو سخت اضطراب میں۔۔۔ ورنہ امام صاحب سے پہلے ہی سجدے کے لئے جھکنا شروع کر دیا۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر میں مزید تاخیر ہوئی تو بعض نمازی جھکتے جھکتے رکوع کی حالت میں پہنچ چکے۔۔۔ اب وہاں رکے رکے امام صاحب کی تکبیر کا انتظار کر رہے۔۔۔ یعنی رکوع کے بعد ایک اور رکوع۔۔۔ سبحان اللہ

اسی طرح امام صاحب سجدے سے اٹھے اور جلسے کی حالت میں ذرا توقف کیا۔۔۔ لیکن اب یہ کوئی سیاسی جلسہ تھوڑی ہے کہ بیٹھا جائے۔۔۔ امام صاحب سے پہلے ہی اگلے سجدے کے لئے جھکنا شروع۔۔۔ یہاں بھی اگر امام صاحب کی تکبیر میں تاخیر ہوئی تو عجیب مضحکہ خیز کیفیت۔۔۔ گویا مرغا بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔

ایسے نمازیوں کے لئے تین حل پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔

۔ یا تو تنہا نماز پڑھ لیجئے۔۔۔

۔ یا پھر تحمل سے امام کے پیچھے پیچھے چلئے۔۔۔

۔ اور اگر امام سے آگے ہی بڑھنا ہے تو پھر امام کو پیچھے کیجئے اور خود مصلیٰ سنبھالئے۔۔۔

وگرنہ کم از کم پتہ تو کر لیجئے کہ اس طرح سے نماز ادا ہو بھی جاتی ہے یا نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ پھٹی بوری میں نمازیں جمع کی جا رہی ہیں؟

Behaviors & Attitudes, Social

Performance

کارکردگی

کل یوٹیلیٹی اسٹور کے پاس سے گزر ہوا۔

حالت زار پہ سخت افسوس ہوا۔

کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔

ایک طرف نجی شعبے کے تحت چلنے والی امتیاز سپر مارکیٹ ہے۔۔۔

جس کے شیلف بلامبالغہ ہزاروں ملکی و غیر ملکی اشیاء سے لدے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔

  جہاں تقریباً تمام اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔

جہاں خریداروں کی اتنی بھرمار نظر آتی ہے کہ اکثر اوقات تو ٹرالی چلانے کو بھی جگہ نہیں ملتی۔۔۔

بلکہ کبھی کبھی تو ٹرالی ہی  دستیاب نہیں ہوتی۔۔۔

نجی ادارہ ہونے کے باوجود خریداری پر صارفین کو اچھی خاصی رعایت دی جاتی ہے۔۔۔

صرف امتیاز ہی کیا۔۔۔

چیز اپ کو دیکھ لیں۔۔۔

بلکہ ناہید، اور ہائپر اسٹار اور میٹرو۔۔۔

کیا کیا گِنوایا جائے۔۔۔؟

اور دوسری جانب حکومت کے تحت چلنے والے یوٹیلیٹی اسٹور۔۔۔

یاسیت کا شکار۔۔۔!

اسٹور گاہکوں سے خالی ۔۔۔

اور اسٹور کے شیلف اشیائے صرف سے خالی۔۔۔

یہاں ہجوم صرف اسی وقت نظر آتا ہے جب چینی یا کوکنگ آئل وغیرہ کی قلت ہو جائے۔۔۔

(جن کی قلت کی ذمہ دار بھی خود حکومت ہی ہوتی ہے)

ورنہ کوئی قریب نہیں پھٹکتا۔۔۔

سمجھ نہیں آتا کہ حکومتی انتظام و انصرام کے تحت چلنے والے ادارے کیوں زبوں حالی کا شکار ہیں۔

حکومت… جس کے پاس قانون سازی سے لے کر وسائل تک ہر چیز کی بھرمار ہوا کرتی ہے۔۔۔

جبکہ ان کے مقابل پرائیویٹ ادارے خوب چل رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔۔۔۔

آپ اسٹیل مل کو دیکھ لیجئے کہاں سے کہاں پہنچ گئی جبکہ نجی اسٹیل ملیں کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔۔۔

پوسٹ آفس کا موازنہ نجی کوریئر سروس ٹی سی ایس سے کر لیجئے۔۔۔

ریلوے میں ساری ٹرینیں ایک طرف اور پٹے پر دی جانے والی گرین لائنز اور بزنس ٹرین دوسری طرف۔۔۔

پی آئی اے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔۔

سی ڈی اے اور کے ڈی اے بمقابلہ بحریہ ٹاؤن و ڈی ایچ اے۔۔۔۔

علیٰ ھذا القیاس۔۔۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے

Behaviors & Attitudes, Social

Elevator

لفٹ

اگلے روز دفتری امور کی انجام دہی کے لئے ایک کثیر المنزلہ عمارت میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کوئی بارہ چودہ منزلہ عمارت تھی۔ مرکزی دروازے پر جلی حروف میں ہدایات درج تھیں۔۔۔

مہمان حضرات اپنی گاڑیاں باہر پارک کریں۔

چنانچہ گاڑی باہر ہی کھڑی کرنی پڑی ۔

اندر داخل ہوا تو سیکیورٹی عملے کے استفسار پر بتایا کہ پارکنگ فلور ٹو پر جانا ہے۔

انہوں نے ایک جانب اشارہ کیا۔۔۔

  سر ادھر لفٹ لگی ہوئی ہے اس سے چلے جائیے۔

اتفاق سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر ہی موجود تھی۔ چنانچہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا۔

لیکن۔۔۔

قسمت کی خوبی دیکھئے چل دی وہ اس لمحے

دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا

چنانچہ بٹن دبا کے لفٹ کا انتظار شروع کر دیا۔

وہ نیک بخت بھی خیبر میل کی طرح ہر اسٹیشن پر رکتی رکاتی جا رہی تھی۔ ایک دو تین چار۔۔۔ پوری بارہ منزل تک گئی۔ پھر واپسی میں بھی کئی اسٹاپ پر رکتی رکاتی پسنجر اٹھاتی خراماں خراماں گراؤنڈ فلور پر پہنچی۔

مجھے چونکہ ذرا جلدی بھی تھی اس لئے ایک ایک لمحہ گراں گزر رہا تھا۔ سخت کوفت ہو رہی تھی کہ اتنی دیر کا تو کام بھی نہیں تھا جتنا وقت انتظار میں صرف ہو گیا۔

انتظار کے انہی لمحات کے دوران اس تکلیف دہ حقیقت کا ادراک ہوا کہ کثیر المنزلہ عمارات میں رہنے والوں کے جہاں اور بہت سے مسائل ہیں وہیں ایک اضافی مسئلہ لفٹ کا انتظار بھی ہے۔ لفٹ اگرچہ ایک سہولت ہے لیکن اس کا انتظار بہر حال اپنی جگہ ایک اذیت سے کم نہیں۔

بڑا رحم آیا بلند و بالا عمارات کے مکینوں پر۔

بے چاروں کی کتنی زندگی تو لفٹ کے انتظار میں ہی بیت رہی ہے۔

Behaviors & Attitudes, Social, اخلاقیات, حسن سلوک

TAASSUR

تاثر

دفتری زندگی کے بھی عجب مشاہدات و تجربات ہوتے ہیں۔ باہر کی تو بات چھوڑئیے ، محض دفتر کے اندر ہی ان گنت افراد سے واسطہ پڑتا  رہتا ہے۔ کئی لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ کوئی فوت ہو گیا۔کسی کا تبادلہ ہو گیا۔کوئی از خود چھوڑ گیا توکوئی ریٹائر ہو گیا ۔

پھر ان میں افسر و ماتحت  کی قید بھی ضروری نہیں کہ رویے تو سب ہی ایک دوسرے کے محسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔  افسر کا ماتحت کے ساتھ رویہ کیسا ہے یا ماتحت کا اپنے افسر کے ساتھ، یا افسران بالا کا ماتحت افسران کے ساتھ  ۔۔۔ غرض ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ برتاؤ دلوں پر نقش ہو رہا ہوتا ہے اور یہی برتاؤ پھر آگے چل کر تعلق کی بنیاد بنتا ہے ۔ اسی رویہ پر منحصر ہوتا ہے کہ منظر سے ہٹ جانے یا ریٹائر ، ٹرانسفر یا فوت ہو جانے کے بعد پیچھے رہ جانے والے افراد مذکورہ فرد کو کس طرح یاد کرتے ہیں۔ اور یہی برتاؤ اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ جانے والے سے مزید تعلق رکھنا ہے یا نہیں۔

  مجھے اپنے ادارے سے وابستہ ہوئے دو عشرے سے زائد ہو چلے ہیں۔ اس دوران بے شمار لوگ آئے اور گئے ۔  اکثر لوگ اپنے پیچھے خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ جب کبھی انہوں نے دفتر کا چکر لگایا تو ان کی آمد پرآنکھیں چمک اٹھیں،  چہرے کھل اٹھے اور بازو وا ہو گئے۔ ان کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔سر راہ کہیں مل گئے تو لوگوں کو ان کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ پیش آتے دیکھا۔ یہ تو ان کی آمد پر معاملہ دیکھا۔ اور ان کے پیچھے کبھی ان کا ذکر چھڑ گیا تو معلوم ہوا فضا معطر ہو گئی۔ گویا یاد کرنے والوں کے لبوں سے پھول جھڑ رہے ہوں۔

اس کے برعکس چند ایسے افراد سے بھی واسطہ پڑا جو اپنے ساتھیوں کے لئے باعث آزار بنے۔ یہ بدنصیب اپنے پیچھے تلخ یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ ان میں سے کبھی کوئی پلٹ کے دفتر آیا تو لوگوں کے منہ بن گئے اور ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔ کچھ کو منہ چھپاتے دیکھا تو کچھ کو بحالت مجبوری ہاتھ ملاتے اور اپنی راہ لیتے دیکھا۔ کچھ کو تو بعد ازاں ہاتھ دھوتے بھی دیکھا گویا نجاست لگ گئی ہو۔ استغفراللہ۔اور اگر کبھی بھولے سے ان کا ذکر چھڑ گیا تو ایسے ایسے ملفوظات و القابات سننے کو ملے ان کی شان میں کہ الامان الحفیظ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آپ جس بھی شعبے سے وابستہ ہیں، اپنا جائزہ لیجئے۔ اگر اللہ رب العزت نے  آپ کو کوئی بلند مقام مرتبہ یا منصب عطا کیا ہے تو اسے محض اللہ کا فضل جانئے۔ اپنی گردن میں سریا نہ آنے دیجئے۔ اپنے ساتھیوں خاص کر ماتحتوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیجئے۔ ان کی پریشانیوں میں کمی نہ کر سکتے ہوں تو ان میں اضافے کا باعث تو ہرگز نہ بنئے۔

 بادشاہی چاہئے؟ قرب الٰہی چاہئے؟

دل میں رہئے اور ہونٹوں کی دعا بن جائیے

پیاس دھرتی کی بجھے، خود سے تعلق بھی رہے

جب بلندی پر پہنچئےتو گھٹا بن جائیے

پھول بھی کھلتے رہیں غنچے گلے ملتے رہیں

باغ ہستی کے لئے موج صبا بن جائیے

یاد رکھئے

آپ جہاں بھی جا رہے ہیں۔۔۔

جس سے بھی مل رہے ہیں ۔۔۔

آپ کا ایک امیج ایک تاثر سامنے والے کے ذہن و دل پر نقش ہو رہا ہے۔

کوشش کیجئے کہ بھلا تاثر قائم ہو۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد ازاں کبھی آپ کا ذکر بھی آئے۔۔۔

تو لوگ ناک پر رومال رکھتے پھریں۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Seerat-un-Nabi, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Jannay wala

جاننے والا

کوئی پانچ سات برس قبل کی بات ہے ۔  میرے آفس کے ایک صاحب حج کو جا رہے تھے۔ ساتھ میں کچھ محرم خواتین بھی تھیں۔ روانگی سے قبل اتنے ہی فکرمند و پریشان  تھے جتنا کہ ایک حاجی ہوا کرتا ہے۔

میری ملاقات ہوئی تو کہنے لگے: بھائی مکہ میں تو ایک دوست رہتا ہے ۔اس سے بات ہو گئی ہے۔ اور بھی ایک دو جاننے والے ہیں۔ وہاں کی تو ساری سیٹنگ ہو گئی ہے ۔ بس مدینہ کی ٹینشن ہے۔وہاں اپنا کوئی جاننے والا نہیں ہے۔

میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: ہمارا تو ہے اک جاننے والامدینہ میں۔۔۔

آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

 ہاں۔۔۔
ہے تو ایک جاننے والا۔۔۔

جس نے ہماری فکر میں اپنی نیندیں قربان کیں اور رات رات بھر قیام کر کے اپنے پیر سُجائے۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جس کے طائف میں کھائے گئے پتھروں سے لہولہان بدن کا صدقہ محمد بن قاسم ؒ کی صورت میں اس خطے کو ایمان کی روشنی سے منور کر گیا۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جب میں اس پر درود بھیجتا ہوں تو درود پہنچانے پر مامور فرشتہ میرا اور میرے والد کا نام لے کر کہتا ہے کہ یا رسول اللہ! آپ کے امتی فلاں بن فلاں نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا نذرانہ بھیجا ہے۔

ہاں! ہم پہچانیں نہ پہچانیں۔ وہ ہمیں خوب پہچانتا ہے۔

ہمارے ماں باپ مال آل اولاد اس پر قربان۔۔۔

صلی اللہ علیہ و آلہٖ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا دائما ابدا ابدا