Emaan, Islam, JIHAD, مجاہدین اسلام, مسلم کمانڈرز, اسلام, جہاد

ہمارے ہیروز

ہمارے ہیروز

ترکی ڈرامہ ارتغرل کی پاکستان میں نمائش کے بعد ایک نئی بحث یہ چھڑ گئی ہے کہ ہمیں غیر ملکی ہیروز کی بجائے اپنے مقامی ہیروز پر ڈرامے اور فلمیں بنانی چاہئیں۔

جبکہ اپنا قومی ہیرو اقبال کہتا ہے۔۔۔

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے، وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

اور اپنے اسی قومی ہیرو کا یہ بھی کہنا ہے

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم، وطن ہے، سارا جہاں ہمارا

مسئلہ یہ ہے کہ صرف اقبال ہی نہیں اپنے ہیرو حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام ہو یا حالی کی مسدس مد و جزر اسلام۔۔۔ سب کی تان ترکی سے براستہ فارس، روم، اندلس و بغداد ہوتی ہوئی سرزمین حجاز پر ہی آ کر ٹوٹتی ہے ۔ بیچ میں مراکش اور افغانستان کے پڑاؤ بھی ملتے ہیں۔

مسلمانوں کی اپنی ایک الگ شناخت تہذیب اور تاریخ ہے۔ جس پر ہمیں بجا طور پر فخر ہے۔ ہماری تاریخ عہد نبوی ﷺ سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے ابتدائی ہیروز میں خلفائے راشدین و مھدیین کے علاوہ سید الشھداء حمزہ بن عبد المطلب سعد بن ابی وقاص خالد بن ولید ابوعبیدة ابن الجراح عمرو بن العاص رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے جلیل القدر نام آتے ہیں۔

اگلی نسل میں ہمیں فاتح ترکستان قتیبہ بن مسلم باہلیؒ ایسا جرنیل نظر آتا ہے جس نے سمرقند بخارا خوارزم بلخ کاشغر اور کابل ایسے شہر فتح کر کے اسلامی سلطنت کی جھولی میں ڈال دیئے۔

اس سے آگے ہمیں فاتح افریقہ موسی بن نُصیرؒ ، فاتح اندلس طارق بن زیادؒ اور فاتح سندھ محمد بن قاسمؒ ایسے زبردست کمانڈرز نظر آتے ہیں جن کی فتوحات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔

تین براعظم پر مشتمل وسیع اسلامی سلطنت کے فرمانروا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو بھی ہم اپنا ہی ہیرو گردانتے ہیں اور سلطنت عباسیہ کے ہارون الرشید کو بھی۔ اور ہسپانیہ میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے والے عبدالرحمان الداخل کو بھی۔

زلاقہ کے میدان میں الفانسو ششم کے لشکر کو شکست دے کر لڑکھڑاتی لرزتی سلطنت ہسپانیہ کو مزید تین سو سالہ زندگی دینے والا مرابطین کا بربر کمانڈر یوسف بن تاشفینؒ بھی ہمارا ہیرو ہے۔ اور صلیبیوں سے لڑنے والا عماد الدین زنگیؒ بھی۔

آگے عماد الدین زنگی کا خوش نصیب بیٹا۔۔۔ روضہ رسول و جسد اطہر رسول ﷺ کا محافظ۔۔۔ نور الدین زنگیؒ بھی تو ہمارا ہی ہیرو ہے۔۔۔

اور نور الدین زنگیؒ سے آگے ان کا ایک مشہور کمانڈر۔۔۔ فاتح بیت المقدس۔۔۔ صلاح الدین ایوبی۔ نام ہی کافی ہے۔۔۔ ہے ناں؟

اور وہ ہندوستان پر 17 حملے کرنے والا اور سومنات پر حملہ کر کے تاریخ میں خود کو بطور بت شکن امر کرنے والا محمود غزنوی بھی تو ہمارا ہی ہیرو ہے۔ اور پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو کچلنے والا احمد شاہ ابدالی بھی۔ اور شہاب الدین غوری بھی۔ (ہمارے دو میزائل بھی موخر الذکر دو ہیروز کے ناموں سے موسوم ہیں)

اور تاتاریوں سے ٹکرانے والا سلطان جلال الدین خوارزم شاہ جس کی شجاعت و دلیری و بہادری سے بیگانے کیا اپنے بھی خائف رہے اور اپنی حکومتوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کی نصرت سے گریزاں رہے۔ آہ ایسا نادر ہیرا بلکہ ہیرو اپنوں کی جفا سے دلبرداشتہ ہو کر گوشہ گمنامی میں چلا گیا۔

اور وہ مملوک کمانڈر رکن الدین بیبرس ؒ (جو کبھی غلام کی حیثیت سے فروخت ہوا تھا) جس نے عین جالوت کے مقام پر اس وقت منگولوں کے سیلاب کے آگے بند باندھا جب وہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے اور مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنا رہے تھے۔ عین جالوت کی اس لڑائی میں نہ صرف یہ تصور ٹوٹا کہ منگول ناقابل شکست ہیں بلکہ مسلمان بھی اپنی سیاسی حیثیت دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ رکن الدین بیبرس بھی تو ہمارا ہی ہیرو ہے۔

سمرقند و بخارا اور اندلس افریقا مراکش اور ہند سے اور تاتاریوں اور صلیبیوں سب کی بات سن لی آپ نے۔۔۔

اب آئیے قسطنطنیہ تک۔

آج کا ترکی۔۔۔ ماضی کا قسطنطنیہ

constantinople

 مسلمان سات سو سال جسے فتح کرنے کا خواب دیکھتے رہے۔ مسلمانوں کے سات سو سالہ خواب کو تعبیر بخشنے والا، اور اس شہر کی تسخیر کا محیر العقل کارنامہ سر انجام دینے والا فاتح۔۔۔ سلطان محمد فاتح۔ یہ بھی تو ہمارا ہیرو ہے۔

غیر منقسم ہندوستان سے ہمارے پاس سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید ایسے ابطال جلیل ہیں۔ ان کے علاوہ ٹیپو سلطان شہید ایسا عظیم سپاہی جس نے انگریز افواج کو ناکوں چنے چبوا دیئے، جس نے اپنا ہی قول ثابت کر دکھایا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے، جس کے ساتھ غداری نہ ہوتی تو برصغیر کا نقشہ جانے کیا ہوتا۔

مقامی ہیروز میں نشان حیدر پانے والے فوجیوں پر تو ڈرامے پہلے ہی بنائے جا چکے۔ سو اب اگر درج بالا تمام ہیروز کو غیر ملکی کی فہرست میں ڈال دیا جائے تو مقامی ہیرو فقط ایک ہی بچتا ہے ہمارے پاس۔۔۔ دانش۔

Emaan, Islam, Ramadhan, اسلام, رمضان المبارک

دوسری خوشی

دوسری خوشی

پروردگار۔۔۔
تیرے محبوب ﷺ کی حدیث ہم تک پہنچی کہ

للصائم فرحتان ۔ فرحة عند فطرہ ، و فرحة عند لقاء ربه

روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۔
ایک افطار کے وقت یعنی روزہ کھولنے کی خوشی اور
دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی خوشی۔

پروردگار ۔۔۔
ایک خوشی تو نے عطا کی۔۔۔
بار بار عطا کی۔۔۔
روزانہ افطار کے وقت عطا کی ۔۔۔

پروردگار۔۔۔
دوسری خوشی کا انتظار ہے ۔۔۔
دوسری خوشی کا انتظار ہے ۔۔۔
دوسری خوشی کا انتظار ہے ۔۔۔

اللهم أرزقنا لذة النظر إلى وجهك الكريم و الشوق إلى لقائك

ایک پرانی پوسٹ (انعام کی رات) سے اقتباس ذرا سی ترمیم کے ساتھ*

Behaviors & Attitudes, Emaan, معاشرت, اخلاقیات, اسلام

کرنل رانی

کرنل رانی

کرنل رانی کی غرور و تکبر اور نخوت و رعونت سے بھرہور، ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی ویڈیو آپ نے دیکھ ہی لی ہو گی۔ دیکھئے متعلقہ حکام اس پر کیا ایکشن لیتے ہیں۔۔۔ لیتے بھی ہیں کہ نہیں۔

خیر! ویڈیو تو وائرل ہو ہی گئی۔ محفوظ بھی ہو گئی۔  جانے کب تک کے لئے۔۔۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ بار بار دیکھی گئی۔ بار بار دیکھی جا رہی ہے۔ جانے کب تک بار بار دیکھی جائے گی۔ صرف یوٹیوب پر کئی لنکس پر موجود ہے۔ کسی لنک پر ویو کاؤنٹ 86 ہزار کہیں 35 ہزار کہیں 8 ہزار کہیں 12 ہزار۔ باقی فیس بک ٹوئیٹر کا ویو کاؤنٹ علیحدہ۔ واٹس ایپ پر شیئرنگ کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ لطیفے چٹکلے الگ بن رہے ہیں تھوک کے حساب سے اور تنقید و تبرا الگ۔ کیا کمائی کی ہے بیگم صاب نے، وہ بھی ماہ مبارک میں۔

کاش کرنل رانی کو احساس ہو کہ اس وقت وہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکی ہیں۔ گوگل فیس بک یو ٹیوب پر فقط لفظ “کرنل” ٹائپ کریں تو آگے آٹومیٹیکلی “کرنل کی بیوی” لکھا ہوا آ جاتا ہے۔ یوٹیوب فیس بک ٹوئیٹر انسٹا گرام کی وساطت سے ان کی برہنگیٔ فکر اور آوارگیٔ لسان کے ڈنکے چہار دانگ عالم میں بج رہے ہیں۔ ایک جم غفیر کو وہ خود پر گواہ بنا چکی ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

خوش نصیبی اس امت کی کہ اس کے گناہوں پر ستاری کی چادر ڈالی گئی۔ یہاں تک کہ حساب کتاب بھی چھپا کر لیا جائے گا۔ بد بختی ان کی جن کے اوپر سے یہ چادر کھینچ لی جائے۔۔۔  جن کے گناہ ایک خلقت پہ آشکار ہو جائیں۔ جن کے خبث باطن سے اپنے پرائے سب آگاہ ہو جائیں۔ جن کی عزت کا فالودہ بن جائے۔ جو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ الامان الحفیظ۔ تکبر تو ویسے ہی بدترین گناہ ہے۔۔۔ وہ کہ جس کے سبب شیطان راندہ درگاہ ہوا۔

یہ واقعہ بڑا سبق آموز ہے۔ پناہ مانگنی چاہئے اللہ تبارک و تعالی سے کہ وہ اپنی ستاری کی چادر ہمارے اوپر سے کھینچ لے۔ اس ستاری کی چادر میں دبکے رہنے ہی میں عافیت ہے چہ جائیکہ اسے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر سے نوچ لیا جائے۔ آج انٹرنیٹ اور موبائل کیمرے کے دور میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ذرا سی لغزش سارے عالم میں رسوائی کا سبب بن جاتی ہے یا بن سکتی ہے۔ جیسا کہ اے ٹی ایم مشینوں کے پاس لگائے گئے ہینڈ سینیٹائزرز کے چرانے والوں والیوں کی ویڈیوز، جیسا کہ جیب کاٹنے والی خاتون کی ویڈیو، جیسا کہ کپڑے زیور چرانے والی خواتین کی ویڈیوز۔۔۔ جیسا کہ حالیہ واقعہ۔ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا۔
اللھم استر عیوبنا۔
اللھم انا نسئلک العفو و العافیة فی الدنیا و الآخرة۔

 

Emaan, Islam, Social, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, علم دین

سائیڈ اسٹینڈ اٹھا لیں

سائیڈ اسٹینڈ اٹھا لیں

دو تین روز قبل ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک صاحب نے ازدواجیات پر مبنی ایک لطیفہ شیئر کیا۔

بیوی: میں نے سنا ہے کہ جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا ملے گا؟

شوہر: کچھ نہیں۔ یہ پیکیج صرف مظلوم طبقے کے لیے ہے۔

اس خیال سے کہ موصوف لطیفے کے متن سے صرف نظر کر گئے ہوں گے، میں نے توجہ دلائی کہ۔۔۔ اس طرح کے لطیفے نہ بنانے چاہئیں نہ شیئر کرنے چاہئیں۔ ایمانیات کے خلاف ہیں۔ “عورتوں کو جنت میں کیا ملے گا” کے جواب میں “کچھ نہیں” کہہ کر قرآن میں ایمان والی عورتوں کے لیے درج جنت کے انعامات کی نفی کر دی گئی۔۔۔ گویا مذاق مذاق میں قرآن کا انکار ہو گیا۔ سورة الاحزاب کی آیت 35 بھی مثال کے طور پر شیئر کی۔

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا۔

بے شک اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں اور ایمان دار مردوں اور ایماندار عورتوں اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردار عورتوں اور سچے مردوں اور سچی عورتوں اور صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں اور عاجزی کرنے والے مردوں اور عاجزی کرنے والی عورتوں اور خیرات کرنے والے مردوں اور خیرات کرنے والی عورتوں اور روزہ دار مردوں اور روزہ دار عورتوں اور پاک دامن مردوں اور پاک دامن عورتوں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور بہت یاد کرنے والی عورتوں کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کیا ہے۔

اور بھی بہت ساری آیات ہیں جن میں ایمان والی عورتوں کے لیے انعامات کا ذکر ہے۔

بولے: ڈیئر۔۔۔

یہ واٹس ایپ گروپ تبلیغ کے لیے نہیں ہے۔

اگر ہم ایک لمحے کے لیے ہنس مسکرا لیں تو ہمیں ایسا کرنے دو۔

میں نے جواب دیا: تبلیغ کون کر رہا ہے بھائی۔۔۔

میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ اپنی بائیک کا سائیڈ اسٹینڈ اٹھا لیں۔

تدبّروا

Emaan, Islam, Seerat-un-Nabi, Uncategorized, یوم آخرت, اسلام, علم دین

درود شریف کی کثرت

درود شریف کی کثرت

💚 صلی اللہ علیہ وسلم 💚
مختصر ترین درود شریف ہے۔ دو منٹ میں ایک تسبیح پورے سو دانوں کی پڑھی جا سکتی ہے۔ توجہ اور اہتمام سے پڑھیں تو بھی ڈھائی سے تین منٹ لگیں گے۔

ہر نماز کے ساتھ ایک تسبیح پڑھ لیں تو روزانہ پانچ سو اور اگر ہر نماز کے آگے پیچھے ایک ایک تسبیح پڑھ لی جائے تو روزانہ ایک ہزار درود پاک کا ہدیہ سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ صرف نمازوں کے ساتھ ہی نہیں، روزمرہ امور کے دوران مثلاً کپڑے دھوتے، استری کرتے، کھانا پکاتے، برتن دھوتے، دفتر بازار مسجد آتے جاتے، اسپتال سرکاری دفتر سپر اسٹور یا بینک کے باہر قطار و انتظار کے دوران سینکڑوں بار پڑھا جا سکتا ہے۔

 جو شخص ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اس پر دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں دس گناہ معاف ہوتے ہیں دس درجات بلند ہوتے ہیں اور اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔  درود شریف وہ عبادت ہے کہ اللہ بھی خوش اللہ کا حبیب ﷺ بھی خوش۔

 درود شریف وہ عبادت ہے جس کی قبولیت میں کوئی شک نہیں اور جس کے رد ہونے کا کوئی احتمال نہیں۔

قیامت میں وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ نزدیک ہو گا جو کثرت سے درود شریف پڑھنے والا ہو گا۔

جو آدمی صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے ، اسے قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی۔

دعاسے قبل اور بعد درود شریف پڑھنے سے دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ درود شریف کے چند مزید مختصر صیغے درج ذیل ہیں۔
صلی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ محمد

صلی اللہ عَلَی النَّبِیِّ الاُمِّیّٖ

صلی اللہ عَلَی النَّبِیِّ الکریم

اللھم صَلِّ وَ سلِّم علیٰ نَبِیِّنَا محمد

Emaan, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, Uncategorized, اسلام

کورونا اور ماسک

کورونا اور ماسک

دو چار دن گھنٹہ دو گھنٹے کے لیے ماسک لگانا پڑا۔ سخت گھٹن محسوس ہوئی۔ سانس لینا مشکل۔ ماسک کے اندر ایک طرف پچھلے سانس کی گرمی و نمی، دوسری جانب ناک کے اطراف کے مساموں سے جاری ہونے والا پسینہ۔ عینک لگانے والوں کے لئے ہر سانس کے ساتھ شیشوں پر نمی کی پریشانی الگ۔ تو مختصراً یہ کہ انتہائی مشکل کام ہے۔ پردہ دار بیبیوں کی مشقت کا اندازہ ہوا۔ اور یہ تو صرف چہرے کی کیفیت ہے۔ انہوں نے تو بدن پر عبایا بھی پہنا ہوا ہوتا ہے۔ سر تا پا مستور و محصور۔

یہ حجاب و نقاب کا اہتمام معمولی عمل نہیں ہے۔ اول اللہ کی فرمانبرداری کا جذبہ، دوم اللہ کی نافرمانی کا خوف، سوم یہ گھٹن کی مشقت، چہارم معاشرے کے طنز و طعنے۔۔۔

قابل احترام مسلم خواتین۔۔۔

یقیناً اللہ بڑا قدردان ہے۔

یقیناً مشقت ختم ہو جائے گی۔

یقیناً اجر ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا۔

ڈٹی رہئے۔

اللہ تعالی طاعات پر آسانی و استقامت عطا فرمائے۔

آمین۔

#کورونا_ڈائریز

Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اسلام, علم دین

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

دین عبادت کا نہیں اطاعت کا نام ہے۔
اللہ کے ہاں کوانٹٹی نہیں کوالٹی دیکھی جاتی ہے۔
اللہ کے ہاں مقدار نہیں، اخلاص کی اہمیت ہے۔
شریعت میں عام قاعدہ ہے، مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔

ایمان والوں کو کہا گیا اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ اولوا الامر کون ہیں؟ حکومت، علمائے دین، متعلقہ شعبہ کے ماہرین۔ مثلا مریض کے لیے معالج، طالبعلم کے لیے استاد۔۔۔ علی ھذا القیاس۔

ہم کتنے نمازی ہیں یہ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اس کی گواہ ہماری مساجد بھی ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مسجد کے ہال صحن دالان حتی کہ چھتیں تک بھری ہوئی ہوتی ہیں جبکہ باقی چونتیس نمازوں میں مسجد کا ہال ہی پر ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اور فجر کا تو ذکر ہی رہنے دیجئے۔

اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی! ہفتہ بھر نمازوں سے غافل… جمعہ کا اہتمام۔ سال بھر نمازوں میں غفلت… رمضان میں مسجد کو دوڑیں۔ عید کے بعد پھر سال بھر کے لیے غائب۔ الا ما شآء اللہ۔

عذر کی صورت میں معذور کو خاصی آسانی عطا کی گئی۔ لیکن رعایت کے معاملہ میں بھی ہم افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ مثلا بیٹھ کر نماز۔ معذور کو رعایت حاصل ہے کہ اپنی تکلیف و مرض کی شدت کے مطابق بیٹھ کے نماز پڑھے۔ بیٹھنے کا مطلب زمین پہ بیٹھ کے نماز پڑھی جائے۔ لیکن چونکہ فی زمانہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کو کرسی پر بیٹھنا ہی فرض کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ادھر کوئی معمولی سا عارضہ لاحق ہوا ادھر کرسی پکڑی۔ اب دفتر بازار واک سے لے کر مسجد آنے تک سارے کام پیدل ہو رہے لیکن نماز کرسی پر! ایسے ہی رمضان کے روزوں کا معاملہ ہے۔ بعضے محض زکام یا کسی معمولی بیماری پر روزہ چھوڑنے کو تیار۔

دوسری جانب نماز قصر کا مسئلہ ہے۔ شریعت نے چودہ سو برس پہلے بتا دیا کہ مسافر قصر نماز ادا کرے۔ مسافر کی تعریف بھی بیان کر دی۔ لیکن بعض انٹیلیکچوئلز شرعی حکم کے برخلاف پوری نماز پڑھنے پر مصر۔ تاویل یہ کہ اب سفر پہلے جیسا پر صعوبت کہاں رہا؟ یعنی شریعت آسانی دے رہی ہے لیکن چونکہ یہ آسانی اپنی سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔ سو یہاں بھی اپنی ہی کرنی ہے۔

اب اتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جو آج کل درپیش ہے۔ کورونا وائرس کے سبب مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی۔ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء سے مشاورت کے بعد جمعہ کے اجتماعات کو تین تا پانچ افراد تک محدود کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ بڑے بڑے علماء نے فتاوی جاری کئے کہ باقی مسلمان حکومتی اقدام کی روشنی میں معذور ہو گئے۔ لہذا اب شرعی عذر کے سبب یہ مسلمان گھروں پر ہی نماز ظہر ادا کریں۔ لیکن صاحب… میں نہیں مانتا!

اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ مغربی ممالک سے لے کر مشرق وسطی تک اور سعودی عرب سے لے کر پاکستان تک اکثر مساجد بند ہیں یا نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں ڈاکٹر علمائے دین اور حکمران سب ایک صفحہ پر ہیں۔ گویا امت کا سواد اعظم ایک نکتے پر متفق ہے کہ وباء کے پھیلاؤ اور نقصانات کے باعث ماہرین طب کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور موجودہ غیر معمولی صورتحال کے سبب مذہبی اجتماعات کو جہاں تک ممکن ہو سکے مختصر و محدود کر دیا جائے۔ لیکن….میں نہ مانوں۔۔۔

مسجدیں بند ہونے یا جمعہ پر حکومتی پابندی سے یقینا کوئی مسلمان خوش نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے مسجد جانے پر اسے مطعون کر سکتا ہے۔ دکھ اور افسوس لیکن اس بات کا ہے کہ نہ حکومتی احکامات کی پابندی کی جا رہی نہ علماء کی ہدایات پر کان دھرے جا رہے نہ ڈاکٹر صاحبان کی التجاؤں کو سنجیدہ لیا جا رہا، اور نہ ہی امریکہ اسپین اٹلی سے آنے والی آہ و بکا سے عبرت پکڑی جا رہی ہے، الا ما شآء اللہ۔

بعض دین سے محبت رکھنے والے حکومتی اقدام پر معترض ہیں کہ سپر اسٹورز اور بازار کھلے ہیں لیکن مساجد پر پابندی پے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ محترم آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ سارے اسکول کالج یونیورسٹیز تمام مدارس سارے ہوائی اڈے ریلوے سروس بس سروس کریم اوبر سروس ہوٹل ریستوران ٹورزم سارے چائے کے ہوٹل تمام شاپنگ مال سارے شادی ہال تمام سنیما گھر مکینک کپڑے جوتے کی دوکانیں بے شمار فیکٹریز اور جانے کیا کیا بند ہوا پڑا ہے۔ حتی کہ اسپتالوں میں او پی ڈیز بھی بند ہیں۔ فقط چند گنے چنے شعبے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ بھی دن میں محدود وقت کے لیے۔

پھر تقریبا تمام ہی سپر اسٹورز نے چار حفاظتی تدابیر دروازے پر ہی لازمی اختیار کی ہوئی ہیں۔ اول ماسک کے بغیر کوئی گاہک اندر نہیں جا سکتا۔ دوم ہر فرد کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔ سوم ہر فرد کے ہاتھ سینیٹائز کئے جاتے ہیں۔ چہارم ٹرالی کے دستے کو جراثیم کش کیمیکل سے صاف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ ہجوم پر اعتراضات کے بعد بعض اسٹورز سیل بھی کئے گئے جس کے بعد ان سپر اسٹورز نے پانچویں تدبیر یہ اختیار کی کہ گاہکوں کو باہر ہی مناسب فاصلے سے قطار میں کھڑا کر کے انتظار کرایا کیا جا رہا ہے اور اندر بھی کراؤڈ مینیجمنٹ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

اب آئیے مساجد پر۔ علماء نے جمعہ پر حکومتی پابندی پر عوام کو معذور قرار دیتے ہوئے گھروں میں ظہر ادا کرنے ہدایت کی۔ لیکن عوام نے اس شرعی رعایت کو رد کر دیا۔ اور ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت کا ادراک نہ کرتے ہوئے مسجدوں کو گئے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اولین جمعہ میں مساجد میں خطبہ سے قبل اردو بیان بھی ہوا۔ اس کے بعد اگلے جمعہ حکومت نے زیادہ سختی کی اور 12 سے 3 بجے کرفیو اور مساجد کو تالے لگانے جیسے انتہائی اقدامات کئے۔ اس تدبیر کا توڑ یہ کیا گیا کہ بعض نمازی 12 بجے سے قبل ہی مساجد پہنچ گئے یا کرفیو کے اوقات میں چور دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ جمعہ کے بعد جب بڑی تعداد میں نمازی مساجد سے باہر نکلتے دیکھے گئے تو عوام اور پولیس کے درمیان نوک جھونک یا لاٹھی چارج و پتھراؤ سے لے کر امام مسجد کی گرفتاری ایسے ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے۔ ہماری دانست میں ان سب واقعات کا بنیادی سبب حکومتی احکامات سے ہماری سرتابی ہے۔

اولوا الامر کی ہدایات یہ بھی تھیں اور ہیں کہ کم عمر بچے مسجد نہ جائیں۔ اسی طرح بزرگ افراد جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس کے سبب زیادہ خطرے میں ہیں مسجد نہ جائیں۔ نزلہ زکام بخار یا کسی اور بیماری میں مبتلا افراد بھی مسجد نہ جائیں۔ لیکن افسوس عمر رسیدہ افراد ایک مرتبہ پھر ہمارے برادر خورد کے اس قول کی تائید کرتے نظر ائے کہ ہمارے ہاں عمر رسیدہ افراد تو کمی نہیں، بزرگ لیکن شاذ ہی کوئی ملتا ہے۔ علماء نے کہا ماسک اور دیگر تمام حفاظتی تدابیر اختیار کر کے مسجد آئیں۔ لیکن خال خال ہی کوئی ماسک پہنے مسجد جاتا دکھائی دیا۔ ایمان ہمارا ایسا نحیف و لاغر کہ جمعہ کے جمعہ مسجد لاتا ہے لیکن توکل میں ہم شاید خود کو سیدنا عمر فاروق سے بھی آگے سمجھتے ہیں۔ ہماری ایسی لاپرواہیوں کے باعث دین دینی مراکز اور علماء و ائمہ مساجد کس قدر رسوا و بدنام ہو رہے ہیں اس کا ہمیں نہ احساس ہے نہ فکر۔ جون ایلیا کا یہ قطعہ نہایت موزوں و بر محل معلوم ہوتا ہے۔۔۔
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی

قرآن ایمان والوں کو کہتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔ انما الاعمال بالنیات کی روشنی میں امیر اور اولو الامر کی اطاعت کی نیت سے گھر پر نماز ادا کر لی جائے، یا رعایت و رخصت پر یہ سوچ کر عمل کر لیا جائے کہ یہ بھی اللہ کو پسند ہے تو ان شآء اللہ اس پر بھی بڑا اجر و ثواب متوقع ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی!