Eman Ki Hifazat

ایمان کی حفاظت

صاحبو!

کوئی تو وجہ ہو گی جو ایمان والوں کو کہا جا رہا ہے کہ مرنا تو مسلمان ہی مرنا؟

کوئی تو سبب ہو گا جو ایمان والوں کو ایمان کی حفاظت کی دعا سکھائی جا رہی ہے؟

صاحبو! حقیقت یہ ہے ایمان اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے جو کہ ہمیں بن مانگے مل گئی۔ ہم نے نہ تو اس کے لئے کوئی فارم بھرا نہ کوئی درخواست جمع کروائی۔ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں مسلمان بنا دیا ۔ اتنی بڑی نعمت کی قدر نہ کرنا بڑی نادانی ہے۔

صاحبو! ایمان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ بلال ؓ سے پوچھئے کہ چلچلاتی دھوپ میں تپتی ریت پر لٹا دیئے جانے اور پیٹھ جھلس جانے کے باوجود ، اور گلے میں رسی ڈال کر گلیوں میں کھینچے جانے کے باوجود بھی ایمان سے دستبرداری قبول نہ کی۔ ایمان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ خبابؓ سے پوچھئے کہ جنہیں کبھی شدید گرمی میں لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹا دیا جاتا تو کبھی لوہے کی سلاخیں آگ میں دہکا کر پیٹھ کو داغا جاتا اور کبھی انگاروں پر ہی لٹا کر گھسیٹا جاتا یہاں تک کہ ان کے خون اور چربی سے وہ آگ ٹھنڈی ہو جاتی ، لیکن اتنی سخت تکالیف کے باوجود بھی ایمان سے دستبرداری گوارا نہ کی۔ ایمان کی قدر و قیمت جاننی ہے تو فرعون کی کنیز سے جانئے کہ جس کی دو بیٹیاں تھیں ۔ ایک شیرخوار اور ایک تھوڑی بڑی۔ فرعون نے اسے ایمان سے تائب ہونے کو کہا تو اس نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ فرعون نے بر سر دربار کڑھاؤ میں تیل کھولانے کا حکم دیا۔ پھر پہلے بڑی بچی کو کھولتے تیل میں ڈلوا دیا، اس کے بعد شیر خوار بچی کو اور آخر میں ماں کو بھی تیل میں پکوا دیا۔ اس عورت نے اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے تیل میں پکتا دیکھنا گوارا کر لیا اور پھر خود بھی جل مری لیکن ایمان سے دستبرداری قبول نہ کی ۔ ایمان کی قدر و قیمت جاننی ہے تو فرعون کی ملکہ سے پوچھئے ۔ وہ مسلمان ہو گئی تو فرعون نے اسے بھی سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ ملکہ نے جان دے دی لیکن ایمان سے دستبرداری گوارا نہ کی۔

ہاں صاحبو ! ایمان والوں کے راہ ہدایت سے ڈگمگا جانے کا امکان موجود ہے ، اور نتیجتاً خاتمہ ایمان پر نہ ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ شیطان اور شیطانی قوتیں مسلسل تاک میں ہیں۔ ابھی پڑوسی ملک کے اخبار کی دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک مسلمان شخص جس نے ایک ہندو خاتون کو مسلمان کر کے اس سے شادی کی، پانچ چھ برس گزر جانے کے بعد خود بمعہ اہل و عیال ہندو مذہب اختیار  کر لیا۔ اسی طرح ایک مسلمان لڑکی ایک ہندو لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو گئی ۔ لیکن لڑکے کے گھر والے شادی میں رکاوٹ بن گئے۔ لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ صرف دو واقعات ہیں۔ ایسے نجانے کتنے واقعات روزانہ دنیا بھر میں پیش آتے ہوں گے۔

تو صاحبو! اپنے صاحب ایمان ہونے پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جانا چاہئے بلکہ ایک تو اس کی حفاظت کی ہر دم کوشش کرتے رہنا چاہئے ، دوسرے یہ کہ اللہ سے ایمان کی حفاظت کی، استقامت کی ، خاتمہ بالخیر کی خوب اور مسلسل دعا بھی کرتے رہنا چاہئے ۔ یہ سب اسی صورت میں ہوگا جبکہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دل میں پیدا ہو گی۔

تو  کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دلوں سے نکل گئی ہے خدانخواستہ؟ جی ہاں صاحبو!  ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو داڑھی، مردوں کی ٹخنوں سے اونچی شلواراور عورتوں کے پردے وغیرہ پر جملے کستے نظر آتے ہیں، یا نماز روزے کی توہین کرتے پھرتے ہیں ۔۔۔ ” کچھ نہیں ہوتا ان نمازوں سے” … ” روزہ تو وہ رکھے جس کے گھر کھانے کو نہ ہو”…  اس نوعیت کے جملے یقیناً آپ نے بھی سنے ہوں۔ استغفراللہ۔ داڑھی ، شرعی حلیہ، پردہ ، نماز ، روزہ وغیرہ یہ سب دینی شعائر میں سے ہیں۔  اور علمائے دین کے مطابق دینی شعائر کی تضحیک و توہین سے ایمان کے دائرے سے خارج ہو جانے کا اندیشہ ہے۔خود ہی سوچئے کہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دلوں میں ہوتی تو اسلاف کے طریقوں پر عمل کرنے میں شرمندگی محسوس کر رہے ہوتے نہ غیروں کے طریقوں پر عمل کرنے پہ فخر ۔ سوچنا چاہئے کہ کہیں ہم ایمانی تقاضوں کے بالکل بر خلاف تو نہیں چل رہے ؟

صاحبو!ایمان قائم رہے گا تو آخرت میں کسی نہ کسی درجہ میں نجات ہو ہی جائے گی اور خدانخواستہ اگر ایمان نہ رہا تو نجات کی کوئی صورت نہ ہو گی۔

صاحبو! کوئی تو وجہ ہو گی جو حدیث مبارکہ میں خبردار کیا جا رہا ہے ۔

انما الاعمال بالخواتیم (متفق علیہ)

اعمال کا دار ومدار تو خاتمہ پر ہے۔

صاحبو! کوئی تو وجہ ہو گی جو ایمان والوں کو کہا جا رہا ہے کہ مرنا تو مسلمان ہی مرنا؟

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (اٰل عمران ۔ ۱۰۲)

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

صاحبو! کوئی تو سبب ہو گا جو ایمان والوں کو ایمان کی حفاظت کی دعا سکھائی جا رہی ہے ؟ سو آئیے ایمان کی حفاظت کی فکر ، کوشش اور دعا کریں:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ (اٰل عمران ۔ ۸)

اے ہمارے رب! تو نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما  ۔ بے شک تیری ، اور صرف تیری ذات ہی وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Sa’d Bin Ma’az

sbmi

ابو شہیر

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عبارت یا تصویر آپ کی نظروں سے گزرتی ہے اور آپ ایک لمحہ کو ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں …  کہ وہ عبارت یا وہ تصویر آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور آپ پہلے سوچنے … اور پھر کھوجنے پر مجبور ہو جاتے  ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر (پوسٹ) گزشتہ دنوں فیس بک پر نظر سے گزری جس نے راقم کو ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا ۔ ملاحظہ کیجئے۔
sbm

مفہوم : اسلام لائے تو عمر تیس برس تھی …. اور مرے تو عمر چھتیس ۳۶ برس تھی…. اے سعد بن معاذ! چھ برس میں آپ نے ایسا کیا عمل کیا …

کہ آپ کی موت پر رحمان کا عرش جھوم اٹھا!

انتہائی پر اثر اور دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اس پوسٹ کو پڑھ کر خیال آیا کہ نبی کریم ﷺ کے اس جانثار صحابی ؓ  کی زندگی کے بارے میں ذرا تاریخ کے اوراق کو کھنگالا جائے اور دیکھا جائے کہ صرف چھ برس کی اسلامی زندگی کے دوران اس نوجوان ؓ نے ایسا کیا عمل کیا کہ ان کی وفات پر عرش الٰہی خوشی سے جھوم اٹھا ۔

سیدنا سعد بن معاذ  رضی اللہ عنہ کا شمار رسول اللہ ﷺ کے انتہائی جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے ۔ تعلق مدینہ منورہ (سابقہ یثرب) کے مشہور قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل سے تھا ۔بعد ازاں  قبیلہ اوس کے رئیس بنے۔ ہجرت نبوی ﷺ سے ۳۲ برس قبل یثرب میں پیدا ہوئے۔ہجرت نبوی ﷺ سے ایک برس قبل اسلام قبول کیا جبکہ ہجرت کے پانچویں سال مدینۃ النبی ﷺ میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اور دیار نبی ﷺ ہی آپ کا مدفن بنا ۔ اسلام پیش کیا گیا تو سعد بن معاذ ؓ نے نہ صرف یہ کہ فوراً ہی اسلام قبول کر لیا بلکہ اپنے قبیلے والوں سےشرط باندھ لی کہ  میرا تم سب مرد و عورت سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم مسلمان نہ ہو جاؤ۔ اس پر ان کے قبیلے کے سب مرد و زن مسلمان ہو گئے۔

حضرت سعد بن معاذ ؓ کی مختصر سی اسلامی زندگی کے اوراق پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بخوبی عیاں نظر آتی ہے کہ حضرت سعدؓ  کو جب جب موقع ملا ، انہوں نے بے مثال عزیمت و شجاعت کا مظاہر ہ کیا۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ بنی قریظہ دو ایسے مواقع ہیں جب ان کی فہم و فراست ، دینی حمیت اور اولو العزمی حد درجہ کمال کو پہنچی نظر آتی ہے۔

سعد ؓاور معرکہ بدر

میدان بدر میں رسول اللہ ﷺ نے  ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ میں درپیش صورتحال کی سنگینی کا تذکرہ فرماتے ہوئے کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پہلے حضرت ابو بکر ؓ ، پھر حضرت عمر بن الخطاب ؓ اور پھر حضرت مقداد بن عمروؓ نے پر عزیمت کلام کیا۔ تاہم یہ تینوں کمانڈر مہاجرین میں سے تھے جن کی تعداد لشکر میں کم تھی۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کی خواہش تھی کہ انصار کی رائے معلوم کریں کہ وہ لشکر میں اکثریت میں تھے اور معرکے کا اصل بوجھ انہی کے شانوں پر پڑنے والا تھا۔ یہ بات حضرت سعد بن معاذ ؓ ، جو کہ انصار کے کمانڈر اور علمبردار تھے ، بھانپ گئے۔ چنانچہ انہوں نے عرض کی : بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے اے اللہ کے رسول ﷺ کہ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ ﷺ نے اثبات میں جواب دیا ۔ جس پر حضرت سعد ؓ یوں گویا ہوئے:

“ہم تو آپ ﷺپر ایمان لائے ہیں۔ آپ ﷺ کی تصدیق کی ہے ۔ اور یہ گواہی دی ہے کہ آپ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب برحق ہے اور اس پر ہم نے آپ ﷺ کو اپنی سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے ۔ چنانچہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کے لئے پیش قدمی فرمائیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں بھی کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے ۔ ہمارا ایک بھی آدمی پیچھے نہ رہے گا ۔ ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ آپ ﷺ کل ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جواں مرد ہیں۔ اور ممکن ہے اللہ آپ ﷺ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ پس آپ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں ۔ اللہ برکت دے ۔” حضرت سعد ؓ کی یہ بات سن کر حضورﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ ﷺ پر نشاط طاری ہو گیا ۔

معرکہ بدر برپا ہوا اور مسلمان فتحیاب رہے ۔ فتح کے بعد جس وقت مسلمانوں نے مشرکین کی گرفتاری شروع کی، رسول اللہ ﷺ چھپر میں تشریف فرما تھے اور حضرت سعد بن معاذ ؓ تلوار حمائل کئے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعد ؓ کے چہرے پر لوگوں کی اس حرکت کا ناگوار اثر پڑ رہا ہے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اے سعد! بخدا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم کو مسلمانوں کا یہ کام ناگوار ہے ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ اہلِ شرک کے ساتھ پہلا معرکہ ہے جس کا موقع اللہ نے ہمیں فراہم کیا ہے ۔ اس لئے اہل شرک کو باقی چھوڑنے کے بجائے مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے اور اچھی طرح کچل دیا جائے۔

سعد ؓاور غزوہ احزب

غزوہ احد کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ایک سال سے زائد عرصہ پر مشتمل پیہم فوجی مہمات اور کارروائیوں کے نتیجے میں جزیرۃ العرب پر ایک گونہ سکون چھا گیا تھا ۔ یہود نے جب دیکھا کہ تائید الٰہی سے حالات مسلمانوں کے حق میں سازگار ہوتے چلے جا رہے ہیں تو انہیں سخت جلن ہوئی۔ انہوں نے نئے سرے سے سازش شروع کی اور مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ لیکن چونکہ انہیں مسلمانوں سے براہ راست ٹکرانے کی جرات نہ تھی اس لئے انہوں نے ایک خوفناک منصوبہ ترتیب دیا۔

چنانچہ قبیلہ یہود بنو نضیر جنہیں ان کی دسیسہ کاریوں کے سبب حضور ﷺ نے مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا ، ان کا ایک وفد قریش مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا ۔ قریش راضی ہو گئے ۔ پھر یہ وفد بنو غَطفان کے پاس پہنچا اور انہیں بھی جنگ پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ۔ اسی طرح اس وفد نے دیگر قبائل عرب میں گھوم پھر کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب دی اور ان قبائل کے بھی بہت سے افراد تیار ہو گئے ۔ یہ سارے لشکر طے شدہ پروگرام کے مطابق مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ کتب تاریخ کے مطابق ان سپاہ کی تعداد دس ہزار تھی ۔ حضور اقدس ﷺ کفار کی اس لشکر کشی کی اطلاع پاتے ہی مجلس شوریٰ منعقد فرمائی جس میں دفاعی منصوبہ پر صلاح مشورہ کیا۔ اہل شوریٰ نے غور و خوض کے بعد حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورہ پر مدینہ کے گرد خندق کھود کر مقابلہ کرنے کے مشورے کی منظوری دے دی۔ اور اہل ایمان نے نہایت مستعدی کے ساتھ چند ہی رو ز میں مطلوبہ معیار کے مطابق خندق کھود ڈالی۔

بنو قریظہ کی عہد شکنی

ایک طرف مسلمان محاذ جنگ پر سنگین مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری جانب یہود کے سازشی عناصر اپنی سازشوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ بنو نضیر کا مجرم اکبر حُیی بن اخطب بنو قریظہ کے پاس آیا جو کہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور جنہوں نے حضور ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کے مواقع پر آپ ﷺ کی مدد کریں گے ۔ حُیی نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو بھی عہد شکنی پر اکسایا۔ کعب نے لاکھ دامن بچانا چاہا لیکن حُیی نے اسے رام کر ہی لیا  جس کے بعد بنو قریظہ کے یہود حضور ﷺ سے کئے ہوئے معاہدے کے بر خلاف عملی طور پر جنگی کاروائیوں میں مصروف ہو گئے ۔ حضور ﷺ کو جب بنو قریظہ کی عہد شکنی کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے تصدیق کے لئے اپنے نمائندے روانہ کئے جنہوں نے واپس آ کر بتایا کہ بنو قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع درست ہے۔

اُدھر مشرکین حملے کی نیت سے مدینہ کی طرف بڑھے تو خندق سے واسطہ پڑا جو ان کے اور مدینہ کے درمیان حائل تھی ۔ چنانچہ انہیں مجبوراً محاصرہ کرنا پڑا ۔ ان کا اس قسم کے دفاع سے کبھی واسطہ ہی  نہ پڑا تھا چنانچہ خندق کے گرد غیض و غضب سے چکر کاٹتے رہتے ۔ نیز فریقین کی جانب سے تیر اندازی بھی جاری رہی ۔ اسی تیر اندازی میں فریقین کے چند آدمی مارے گئے جبکہ ایک تیر حضرت سعد بن معاذ ؓ کے بھی لگا جس سے ان کے بازو کی بڑی رگ کٹ گئی ۔ سعد ؓ نے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے بنی قریظہ کے فیصلہ سے قبل موت نصیب نہ کر۔ (بنی قریظہ سعد کے حلیف تھے)۔ چنانچہ سعد ؓ  کا زخم مندمل ہونے لگا۔ ادھر کفار کا لشکر منتشر ہو کر لوٹ گیا جبکہ بنی قریظہ آکر اپنے قلعوں میں محفوظ ہو گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ واپس مدینہ چلے آئے ۔ سعد رضی اللہ عنہ کے لئے چرمی خیمہ مسجد کے اندر نصب کر دیا گیا۔

سعد ؓاور بنو قریظہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام آئے، اور پوچھا : یا رسول اللہﷺ آپ نے لباس جنگ اتار دیا ہے ؟ واللہ فرشتوں نے تو ابھی تک نہیں اتارا۔ آپ ﷺ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے جنگ کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے زرہ پہن لی اور لوگوں کو حکم فرما دیا کہ وہ بھی بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے بنی قریظہ کا محاصرہ کر لیا جو کہ ۲۵ روز تک جاری رہا ۔

جب محاصرہ سخت ہو گیا اور مصیبت بڑھ گئی تو ان کو پیغام بھیجا کہ تم رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے نیچے اتر آؤ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہم سعد بن معاذؓ کے فیصلے کو قبول کریں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا مطالبہ منظور کر لیا ۔ چنانچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ   کو ان کی بیماری کے باعث گدھے پر سوار کرا کے لایا گیا ۔ ان کے گرد و پیش قوم کا ہجوم تھا جو سفارش کر رہے تھے : اے ابو عمرو! وہ آپ کے دوست اور حلیف ہیں اور سخت مصیبت زدہ اور ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ حضرت سعدؓ سن رہے تھے اور ان کی بات کو کچھ اہمیت نہ دے رہے تھے ۔ چلتے چلتے اپنے محلے میں آئے تو ان سے مخاطب ہوئے :

اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور سرزنش کی پرواہ نہ کروں۔

(یہ ان امور میں سے ایک ہے جن پر انصار نے حضور ﷺ سے عقبہ کی دوسری بیعت کے وقت بیعت کی تھی ۔)

پھر حضرت سعد ؓنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا : میرا ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ ۔۔۔

۔۔۔ ان کے جنگجو مرد قتل کر دیئے جائیں

۔۔۔ اور بال بچوں کو قید کر لیا جائے

۔۔۔ اور مال و متاع تقسیم کر دیا جائے۔

یہ فیصلہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ کا سات آسمان کے اوپر سے جو فیصلہ تھا، تم نے اس کے مطابق فیصلہ کیا۔  چنانچہ بنی قریظہ کے سارے جنگجو مرد قتل کر دیئے گئے جن کی تعداد مختلف روایات میں سات سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

پھر سعد ؓنے دعا کی : یا اللہ ! اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہے تو مجھے اس کے لئے باقی رکھ اور اگر تو نے ان کی لڑائی ختم کر دی ہے تو  مجھے اپنے پاس بلا لے ۔ اس کے بعد وہ مسجد نبوی میں اپنے خیمے میں واپس چلے گئے۔ وہیں رات میں زخم پھر پھوٹ پڑا یہاں تک کہ وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے۔ ان کی وفات پر حضرت جبرئیل علیہ السلام ریشمی عمامہ پہنے ہوئے آئے اور پوچھا کہ اے محمد ﷺ یہ کون سی میت ہے کہ جس کےلئے آسمان کے سب دروازے کھل گئے ہیں اور اللہ کا عرش خوشی سے جھوم رہا ہے۔ حضور ﷺ کو اندازہ ہو گیا کہ وفات پانے والے حضرت سعدؓ ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ ان کے گھر کی جانب چلے۔ اور اتنا تیز چلے کہ ساتھ چلنے والے صحابہؓ  کو دقت پیش آنے لگی اور تیزی کی وجہ سے ان کے جوتوں کے تسمے ٹوٹنے لگے ۔
janaza

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے ( بنی قریظہ کے فیصلہ کی بنا پر ) کہا کہ جنازہ کس قدر ہلکا پھلکا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہلکا اور بے وقار نہیں ، اس کو فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے ۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد ؓ کے جنازے میں شریک ہوئے ہیں ، اور ان فرشتوں نے آج سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا۔

حضور ﷺ کا اپنے صحابہ ؓ کے بارے میں ارشاد گرامی ہے:

sahaba

اصحابی کا لنجوم، بایھم اقتدیتم اھتدیتم

مفہوم: میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ، ہدایت پا جاؤ گے۔

حضور ﷺ کے اس جلیل القدر صحابی ؓ  کی زندگی میں جانثاری و وفا شعاری کے جو درخشندہ ابواب نظر آتے ہیں وہ تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کو جس طرح اپنایا، وہ ان کی زندگی میں جا بجا نظر آتا ہے ۔ بالخصوص بنی قریظہ کا فیصلہ سناتے وقت ان کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات ۔۔۔

اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور سرزنش کی پرواہ نہ کروں۔

بحیثیت مسلمان اگر صرف اسی ایک نکتے کو زندگی کا نصب العین بنا لیا جائے تو انشا ء اللہ اخروی نجات کے لئے کافی ہو گا … یعنی دین کے ہر ہر حکم اور تقاضے پر عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت یا سرزنش کی پرواہ نہ کی جائےچاہے وہ دوست ہوں یا رشتہ دار ، افسر ہوں یا حکمراں، اپنے ہوں یا پرائے۔اللہ رب العزت ہمارے قلوب کو بھی ہدایت کے نور سے اسی طرح روشن فرمائے جس طرح سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل کو منور فرمایا۔آمین !

 

Main Akela Kya Kar Sakta Hun?

میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟ 

غزوہ احزاب کا شمار اسلامی تاریخ کی خطرناک ترین اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے ۔ جس میں سارا عالم کفر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم لئے مدینہ پر حملہ آور ہوا ۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ قبیلہ یہود بنو نضیر جنہیں ان کی دسیسہ کاریوں کے سبب حضور ﷺ نے مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا ، ان کا ایک وفد قریش مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا ۔ قریش راضی ہو گئے ۔ پھر یہ وفد بنو غَطفان کے پاس پہنچا اور انہیں بھی جنگ پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ۔ اسی طرح اس وفد نے دیگر قبائل عرب میں گھوم پھر کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب دی اور ان قبائل کے بھی بہت سے افراد تیار ہو گئے ۔ یہ سارے لشکر طے شدہ پروگرام کے مطابق مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ کتب تاریخ کے مطابق ان سپاہ کی تعداد دس ہزار تھی ۔

ایک طرف مسلمان محاذ جنگ پر سنگین مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری جانب یہود کے سازشی عناصر اپنی سازشوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ بنو نضیر کا مجرم اکبر حُیی بن اخطب بنو قریظہ کے پاس آیا جو کہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور جنہوں نے حضور ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کے مواقع پر آپ ﷺ کی مدد کریں گے ۔ حُیی نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد بھی عہد شکنی پر اکسایا ۔ کعب نے لاکھ دامن بچانا چاہا لیکن حُیی نے اسے رام کر ہی لیا جس کے بعد بنو قریظہ کے یہود حضور ﷺ سے کئے ہوئے معاہدے کے بر خلاف عملی طور پر جنگی کاروائیوں میں مصروف ہو گئے ۔
اسی دوران بنو غطفان کا ایک آدمی جس کا نام نُعَیم بن مسعود تھا ، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں لیکن میری قوم کومیرے اسلام لانے کا علم نہیں۔ آپ ﷺ حکم فرمائیے کہ میں کیاخدمت بجا لاؤں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: تم فقط ایک آدمی ہو لہٰذا کوئی فوجی اقدام تو کر نہیں سکتے ۔ البتہ جس قدر ممکن ہو ان کی حوصلہ شکنی کرو ۔ کیونکہ جنگ تو حکمت عملی کا نام ہے ۔

اس پر حضرت نُعَیم ؓ فوراً ہی یہودی قبیلے بنو قریظہ کے پاس پہنچے ۔ جاہلیت میں ان سے ان کا بڑا میل جول تھا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے کہا:آپ لوگ جانتے ہیں کہ مجھے آپ لوگوں سے خصوصی محبت اور تعلق ہے ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں!نعیم نے کہا: اچھا تو سنئے کہ قریش کا معاملہ آپ لوگوں سے مختلف ہے ۔ یہ علاقہ آپ لوگوں کا اپنا علاقہ ہے ۔ یہاں آپ کا گھر بار ہے ، مال و دولت ، بیوی بچے ہیں۔ آپ انہیں چھوڑ کر کہیں اور نہیں جا سکتے ، اس کے باوجود جب قریش اور بنو غطفان محمد ﷺ سے جنگ کرنے آئے تو آپ نے محمد ﷺ کے خلاف ان کا ساتھ دیا ۔ ظاہر ہے ان کا یہاں نہ گھر بار ہے نہ مال و دولت نہ بال بچے ۔ اس لئے اگر انہیں موقع ملا تو ہی وہ کوئی قدم اٹھائیں گے ورنہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے ۔ پھر آپ لوگ ہوں گے اور محمد ﷺ ۔ پھر وہ جیسے چاہیں گے آپ سے انتقام لیں گے ۔ اس پر بنو قریظہ چونکے ۔ اور بولے : نعیم تم ہی بتاؤ اب کیا کیا جا سکتا ہے ؟نعیم بولے: دیکھئے قریش جب تک آپ لوگوں کو اپنے کچھ آدمی یرغمال کے طور پر نہ دیں ، آپ ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوں۔ بنو قریظہ بولے : آپ نے بہت مناسب رائے دی ہے۔

اس کے بعد حضرت نعیم ؓسیدھے قریش کے پاس پہنچے اور بولے: آپ لوگوں سے مجھے جو محبت اور جذبہ خیر خواہی ہے اسے تو آپ جانتے ہی ہیں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔حضرت نعیم ؓنے کہا: تو پھر سنئے کہ یہود نے محمد ﷺ اور ان کے رفقا سے جو عہد شکنی کی ہے ، اس پر وہ نادم اور شرمندہ ہیں۔ اور اب ان میں یہ مراسلت ہوئی ہے کہ یہود آپ لوگوں میں سے کچھ یرغمال حاصل کر کے محمد ﷺ کے حوالے کر دیں گے اور پھر آپ لوگوں کے خلاف محمد ﷺ سے اپنا معاملہ استوار کر لیں گے ۔ لہٰذا اگر وہ یرغمال طلب کریں تو آپ ہرگز نہ دیں۔ اس کے بعد بنو غطفان کے پاس جا کر بھی یہی بات دہرائی (اور ان کے بھی کان کھڑے ہو گئے ۔)

بعد ازاں قریش نے یہود کو پیغام بھیجا کہ حالات سخت نا موزوں ہیں۔ تو آپ ادھر سے حملہ کیجئے اور ہم ادھر سے حملہ کرتے ہیں۔ یہود نے کہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے کچھ بندے ہمارے پاس یرغمال نہ رکھوائیں گے ہم جنگ میں شریک نہ ہوں گے۔ یہ جواب پا کر قریش اور بنو غطفان بولے کہ نعیم نے سچ ہی کہا تھا ۔ انہوں نے آدمی دینے سے انکار کیا تو یہودی بولے کہ نعیم نے سچ کہا تھا ۔ یوں فریقین کا اعتماد پارہ پارہ ہو گیا ، آپس میں پھوٹ پڑ گئی اور حوصلے ٹوٹ گئے ۔ مشرکین کی صفوں میں پھوٹ پڑ جانے اور بد دلی و پست ہمتی سرایت کر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر تند ہواؤں کا طوفان بھیج دیا جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے ، ہانڈیاں الٹ گئیں ۔ اور بالآخر مشرکین کے لشکر واپس لوٹ گئے ۔ حضرت نعیم بن مسعود ؓ کی شاطرانہ کاروائی کے نتیجے میں دشمنان اسلام میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ ناکام و نامراد واپس لوٹے۔

قارئین!

ایک فرد کا فرق ملاحظہ کیا آپ نے؟

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297