Behaviors & Attitudes, Emaan, Hajj Umrah, Social, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔3

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے* 3

کھجور آب زم زم اور شاپنگ کے باعث حج سے واپسی پر اکثر حاجیوں کا بیگیج (سوٹ کیس) کا وزن مقررہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چنانچہ جدہ ایئر پورٹ پر کسی حاجی کے سامان کا وزن 5 کلو کسی کا 10 کلو اور کسی کا 20 کلو زائد ہو جاتا ہے۔ بعضوں کا اس سے بھی زیادہ۔

اضافی وزن کے چارجز اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سن کے حاجیوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہیں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ حاجی کو شارٹ کٹ کی سجھاتا ہے۔ دو نمبری پر اکساتا ہے۔

حاجی ایئرلائن افسر سے مک مکا کی کوشش کرتے ہیں۔ شیطان تو افسر پر بھی محنت کر رہا ہوتا ہے۔ سو کہیں نہ کہیں معاملہ “طے” ہو جاتا ہے۔ تھوڑے سے پیسوں میں۔۔۔

یاد رکھئے۔۔۔

یہ رشوت ہے۔ رشوت کے اس لین دین سے بچئے۔

کئی طریقے ہیں۔۔۔

اول: اپنا سامان مقررہ حد کے اندر رکھئے۔ زیادہ شاپنگ نہ کیجیے۔ پانچ سات کلو کھجور بہت کافی ہو جاتی ہے تقسیم کرنے کے لیے۔ اور اب تو پاکستان میں بھی ملنے لگی ہے۔ کھجور مدینہ منورہ ہی سے خریدیں۔۔۔ اس نیت سے کہ وہاں بسنے والوں کا کاروبار چلتا رہے۔ انہیں نفع ہو۔ یہ نیت بھی باعث اجر و ثواب ہے۔ کم پڑ جائے تو یہیں پاکستان سے خرید لیجیے۔ امتیاز سپر مارکیٹ پہ بھی سارا سال وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ عجوہ۔ عنبر۔ خضری۔ سکری۔ صقعی۔ صفاوی۔ مبروم۔ سب مل جاتی ہیں۔

دوم: سامان زیادہ ہو جانے کی صورت میں اپنے گروپ کے حاجیوں میں جن کے سامان کا وزن مقررہ حد سے کم ہو ان کے ساتھ اپنے سامان کا اجتماعی وزن کرا لیجیے۔ اگر آپ کا سامان دس کلو زیادہ ہے اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک دو ساتھی کا سامان مقررہ حد سے دس کلو کم ہے تو آپ کا کام بن گیا۔ آپ ان کے ساتھ اپنے سامان کا مشترکہ وزن کرائیے۔ بغیر کسی اضافی رقم کے آپ کا سامان نکل جائے گا۔

سوم: اگر یہ بھی ممکن نہ ہو سکے تو پھر بلا چوں چرا اضافی چارجز ادا کر دیجیے۔

یاد رکھئے۔۔۔

رشوت حرام ہے۔ گناہ کبیرہ ہے۔ حدیث کے مطابق رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

یاد رکھئے۔۔۔

آپ ابھی حج کر کے آ رہے ہیں۔ سارے گناہ معاف کرا کے آ رہے ہیں۔ شیطان کو کنکریاں مار کر آ رہے ہیں۔ لاکھوں روپے داؤ پر لگائے تھے آپ نے اس مغفرت و بخشش کے حصول کے لیے۔ کیا ابھی سے سب برباد کر دیں گے۔ ابھی تو سر پہ بال بھی واپس نہیں آئے۔

محتاط رہیے۔۔۔

اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Social, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔1

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے*

  اللہ رب العزت نے ۲۰۰۲ میں حج کی سعادت عطا فرمائی۔

 اس وقت دو حج اسکیمز ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ اور اسپانسر شپ۔

ہم نے اسپانسرشپ اسکیم کے تحت نیشنل بینک میں درخواست جمع کرائی۔ بینک کے ایک ملازم نے عبد الغنی نامی ایک صاحب  کا پتہ دیا جو حجاج کے لیے رہائش کا انتظام کرتے تھے۔

ان سے ملے۔ وہ مکہ کی رہائش کے 1600 ریال مانگ رہے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ 1500 ریال میں معاملہ نمٹ جائے۔ ( بینک اکاؤنٹ بالکل خالی ہو چکا تھا)۔ خاصی بحث و تکرار کے بعد طے پایا کہ 1500 ریال ابھی جمع کرا دیں۔۔۔ بقیہ 100 ریال مکہ مکرمہ پہنچ کر ادا کر دیجیے گا۔ ہم نے 1500 ریال ادا کر دیئے۔

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عبد الغنی صاحب ہاتھ ہی نہ آئے۔ یہاں تک کہ حج بھی گزر گیا۔ حج کے بعد عبد الغنی صاحب نے حجاج کرام کی ضیافت کی۔ اس دن وہ موجود تھے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کو یاد دلایا کہ بھائی ان کے 100 ریال ادا کر دیتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا کہ چھوڑو کیا ضرورت ہے یاد دلانے کی۔ میں نے کہا: بھائی ہمیں 100 ریال کے پیچھے اپنا حج برباد نہیں کرنا چاہیے۔ بات اس کے بھی دل کو لگی۔

جا کے عبد الغنی صاحب سے ملے اور یاد دلایا کہ آپ کے 100 ریال باقی تھے۔

اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا۔

بولے: ارے چھوڑیئے۔۔۔ خیر ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔ بس۔۔۔ ہو گیا سب۔
اللہ اکبر۔۔۔

اللہ رب العزت نے ہمارا حج بھی خراب نہیں ہونے دیا اور ہمارے 100 ریال بھی بچا لیے۔ فللہ الحمد۔

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کی عطا کردہ توفیق سے یہ ممکن ہوا۔ ہمارا کوئی کمال نہیں۔

معزز عازمین حج

ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حج پہ شیطان بہت چوکس ہوتا ہے۔ مقابلے میں حاجی کو بھی بہت چوکس اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چند برس قبل ایک صاحب گورنمنٹ پیکج پہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے میں ہر حاجی کے لیے دہی کا ایک پیکٹ یا ایک کیلا یا ایک سیب مختص ہوتا ہے۔ بعض حاجی ایک کے بجائے دو دو اٹھا لیتے۔۔۔ پیچھے کئی حاجی محروم رہ جاتے۔

ایسے ہی بند کمروں میں سگریٹ پینا ساتھی حاجیوں کے لیے سخت آزار کا باعث ہوتا ہے۔ محتاط رہیے! اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, عمرہ

Expectations of Hajis

حجاج کرام کی بلند و بالا توقعات

محترم عازمین حج

اپنی توقعات کو پست رکھئے۔

بہت زیادہ توقعات وابستہ نہ کیجیے۔

خانوادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مشقت یاد کیجیے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ بی بی ہاجرہ اور اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ایک ویران جگہ لا کے چھوڑ دیا۔

ذرا اس ویرانی کا تصور تو کر کے دیکھئے۔ ذرا اس گرمی کا تصور تو کیجئے۔

کیا بی بی ہاجرہ نے کوئی شکوہ کیا۔

انہوں نے جب یہ جانا کہ معاملہ اللہ کے حوالے ہے تو پھر توکلت علی اللہ کا پیکر بن گئیں۔

بی بی ہاجرہ کی صبر و شکر کی ساری ادائیں آج حج کا حصہ ہیں۔

حج انتظامات بہت شاندار ہوتے ہیں۔

دوبارہ پڑھئے *بہت شاندار۔*

ماضی میں پتھریلی زمین پر بیٹھنا پڑتا تھا۔

اب جگہ جگہ ماربل ٹائل قالین ایئر کنڈیشنرز لگے ہیں۔

عرفات میں گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے پانی کی پھوار کا بندوبست کیا گیا ہے۔ واش روم کچن اسپتال سمیت سارے انتظامات موجود۔

پہلے سہولیات کم تھیں لیکن مجمع بھی کم تھا۔

آج کا اصل چیلنج حجاج کرام کا ازدحام ہے۔

بیس پچیس لاکھ حجاج کرام کو مقررہ اوقات میں مقررہ مقام تک پہنچانا اصل چیلنج ہے۔ دنیا کے بہت سے شہروں کی آبادی اس سے کہیں کم ہے۔

آٹھ ذی الحج کو منیٰ میں بیس پچیس لاکھ آبادی کا شہر آباد ہوتا ہے۔

اگلے 24 گھنٹے میں یہ بیس پچیس لاکھ کا مجمع پہلے مرحلہ میں منیٰ سے عرفات پہنچایا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں عرفات سے مزدلفہ اور اس سے اگلے مرحلے میں واپس منیٰ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ معاملہ کس قدر دشوار گزار اور نازک ہے۔ کھانے اور ٹرانسپورٹ میں اونچ نیچ عین ممکن ہے۔

ایک صاحب کہا کرتے تھے کہ حاجی کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حاجی کو حرم میں بھی ٹھہرا دو تو شکایت کرے گا کہ واش روم کے لیے بہت دور جانا پڑتا ہے۔

شیطان کے حملوں سے محتاط رہیے۔ ہر دم چوکنا رہیے۔

لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید

شکرگزاری کے بدلے مزید نعمتوں کی بشارت ہے۔ جبکہ ناشکری کی صورت میں سخت عذاب کی وعید۔

اللھم اجعلنا من الصابرین و اجعلنا من الشاکرین

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Namaz, Social, Uncategorized, معاشرت, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک, عمرہ

عربوں کی چند خوبیاں

عربوں کی چند خوبیاں

بعض حجاج کرام عرب باشندوں کے درشت رویہ کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ میں نے عربوں میں اس کے بر خلاف چند خوبیاں بھی دیکھیں۔ ان خوبیوں کو اپنانے کی کوشش بھی کی۔

 خوبی نمبر 1: نمازوں کی پابندی

 خوبی نمبر 2 : نماز کے وقت دوکان کاروبار بند

 خوبی نمر 3 : مسواک

خوبی نمبر 4: دو رکعت نماز تحیة المسجد کا التزام

 خوبی نمبر 5: قرآن کی تلاوت

 خوبی نمبر 6: پیر جمعرات کے روزہ کا اہتمام

 خوبی نمبر 7: افطار کے وقت دسترخوان پر مہمان نوازی

 خوبی نمبر 8: حاجیوں کا اکرام

خوبی نمبر 9: منیٰ مزدلفہ عرفات میں حاجیوں کے لیے اشیائے خورد و نوش کا نچھاور کرنا

 خوبی نمبر 10: حاجیوں کو روڈ کراس کرتے دیکھ کر گاڑی روک دینا

آپ بھی چاہیں تو ان خوبیوں کو اپنا سکتے ہیں۔ اپنی خامیوں پر نظر رکھئے اور دوسروں کی خوبیوں پر۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Social, معاشرت, اخلاقیات, اسلام, علم دین

سرفراز کی جماہی

قرآنی آیات احادیث مبارکہ اور اسلامی تعلیمات کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے معانی و مفاہیم اپنے اندر نہایت وسعت لیے ہوئے ہیں۔ مختلف اوقات اور حالات کے حساب سے ان کی نت نئی حکمتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مثلاً جماہی لینے کے بارے میں اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ جماہی آئے تو اس کو حتی الامکان روکنا چاہیے، یا منہ پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے گزشتہ روز بھارت کے خلاف میچ کے دوران جماہی لی جو گراؤنڈ میں لگے ٹی وی کیمروں نے براہ راست پوری دنیا میں نشر کر دی۔ میچ میں شکست کے بعد سرفراز احمد کی اس جماہی پر سوشل میڈیا صارفین نے خوب ہاتھ صاف کیا۔۔۔ بعضوں نے جماہی کی تصویر کے ساتھ بڑے ذو معنی جملے تحریر کئے اور بعضوں نے سرفراز کو خوب تمسخر کا نشانہ بنایا۔

کہا جا سکتا ہےاگر سرفراز احمد جماہی روک لیتے یا کم از کم منہ پہ ہاتھ رکھ لیتے تو شاید مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن ان کے منہ پھاڑ کے جماہی لینے کا منظر ساری دنیا نے دیکھا۔ بہر حال سرفراز احمد نے جو کیا سو کیا۔۔۔ اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کا ایک اور پہلو عیاں ہوا۔ ایک اور حکمت سامنے آئی۔ کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے۔

اگلی بات سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے۔

سرفراز احمد سے قبل ایک پاکستانی سپورٹر کی تصویر وائرل ہوئی تھی جو آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر افسردگی و مایوسی کے عالم میں دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے کھڑے تھے۔ پھر سرفراز احمد کی جماہی والی تصویر سوشل میڈیا والوں کے ہاتھ لگ گئی۔ دونوں کی تصاویر لے کر جو سلوک کیا گیا اسے تضحیک و تمسخر کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ایک لمحہ کو سوچئے کہ یہ خود یا ان کے گھر والے اور رشتہ دار جب ایسی تضحیک آمیز پوسٹس دیکھتے ہوں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی۔۔۔ قرآن کریم میں سورة الحجرات میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے ہدایت کی گئی کہ لا یسخر قوم من قوم کہ ایک دوسرے کا تمسخر مت اڑاؤ۔۔۔ حکم اتنا اہم و تاکیدی ہے کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ مخاطب کر کے حکم دیا گیا۔۔۔ آگے اسی آیت میں مومن بھائی کو عیب لگانے اور برے نام سے پکارنے سے بھی روکا گیا۔۔۔

عرض اتنی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت بے احتیاطی و لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ جانے انجانے میں ہم کبائر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔۔۔ اور پھر یہ سلسلہ صرف ایک فرد واحد تک محدود نہیں رہ جاتا بلکہ آگے شیئر در شیئر کا ایک لا متناہی سلسلہ۔۔۔

اس پر ایک اور آیت ذہن میں آ گئی۔۔۔ سورة العنکبوت آیت 13 میں ارشاد ہوا۔۔۔ ولیحملن اثقالھم و اثقالا مع اثقالھم۔۔۔ اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔

ایمان والوں کو مذاق سے قبل یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بات مذاق نہیں ہوتی۔۔۔ اور سوشل میڈیا کا استعمال تو ہرگز مذاق نہیں ہے۔ کچھ اندازہ بھی ہے کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے؟

Behaviors & Attitudes, Social, معاشرت, اخلاقیات

Encroachment

و ما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ان دنوں شہر کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف حالیہ مہم کا آغاز شہر کے قلب صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف موجود ناجائز دوکانوں کے انہدام سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں دوکانوں کے باہر نکلے شیڈز اور فٹ پاتھوں پر بڑھائے گئے دوکانوں کے حصوں کو مسمار کر دیا گیا ، یا کیا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ اور آرام باغ ایسے مرکزی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے۔ اس مہم پر جہاں شہریوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا  ہے وہیں جن لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا ہے وہ اس مہم کے خلاف مبغوض و مغموم نظر آ رہے ہیں۔  ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب متاثرین کا نقصان پورا کرے اور ان کی روزی کا پہلے سے بہتر انتظام فرما دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں  کئی مرتبہ  ان پتھاروں اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن بھی ہوئے لیکن بات نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھی ۔ دو چار دن بعد سب پہلے جیسا ہو جاتا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان قابضین کو حکومت اور انتطامیہ کی جانب سے مختلف جگہوں اور دوکانوں کی پیشکش کی گئی کہ اپنا کاروبار وہاں سیٹ کر لیں۔ اسی طرح کی پیشکشیں کچی آبادیوں میں مقیم  افراد کی بھی کی گئیں۔ زمینیں بھی الا ٹ کی گئیں اور پیسے بھی دیئے گئے۔ لیکن  انہوں نے ان دوکانوں زمینوں ہی کو بیچ ڈالا ، یا کرائے پر چڑھا دیا اور خود واپس وہیں آن موجود ہوئے۔ اس طرح کے “کامیاب تجربات “کے بعد شاید ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا سخت ایکشن ہو جائے گا اور ایک روز وہ فی الواقعی فٹ پاتھ پر آ جائیں گے۔

دیکھا جائے تو اس میں سب سے بڑا قصور خود ان ہی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے مفت کی جگہوں پر بیٹھ کے خوب پیسے بنائے۔ جم کے کاروبار کیا۔ کیا اتنا نہ کما لیا تھا کہ چاہتے تو کسی مناسب جگہ دوکان لے کر کاروبار سیٹ کر لیتے ؟ بھلے سے پتھارہ بھی ساتھ ساتھ چلاتے رہتے۔  لیکن لاکھوں کمانے کے باوجوداپنا طرز عمل بدلا نہ ٹھکانہ۔ اب چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، رو رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، جھولیاں پھیلا پھیلا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے! نادانی  بھلا کس نے دکھائی ۔ عارضی ٹھکانے پر بیٹھے کاروبار کرتے رہے۔ سو وہ ٹھکانہ عارضی ہی ثابت ہوا۔ایسے جو دوکاندار ابھی بچ رہے ہیں، وہ اس سب سے سبق سیکھیں     ؎ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا۔

یہ مہم ہمیں ایک اور امر کی جانب بھی متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ عارضی ٹھکانہ ایک دن چھننے والا ہے۔ سب کاروبار جائیدادیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عارضی پتھارے کے بجائے آخرت کی پکی دوکان کو سیٹ کیا جائے۔ دنیا کی اس کچی آبادی کے بجائے آخرت کے پکے گھر کی تعمیر پر محنت کی جائے۔ نماز روزے حج عمرے کی فکر کر لی جائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی فکر کر لی جائے۔ نیکیوں  کے قمقموں سے اس گھر کو مزین کر لیا جائے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مالک الملک کے حکم پر یہ عارضی ٹھکانہ مسمار کر دیا جائے گا۔ پھر تہی دامانی کے پچھتاووں کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحديد: ٢٠﴾

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد  میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) سخت عذاب اور (مومنوں کے لئے) اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔

 

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Social, Uncategorized, پاکستان, حسن معاشرت

IDEAS

 

Do they know…There exists the “Civic Center?” Do they know… How many offices are situated there? #KDA! #HBFC! #KBCA! #ExciseAndTaxationDept! #KElectric! #PostOffice! #Banks! #SSGC offices! #DCoffice!

Do they know… How many employees work at these offices? Do they know… how many citizens daily visit these offices?

Do they know… there exist two of the largest medical institutions of Pakistan? #LNH! #AKU!

Do they know… how many #Doctors and paramedical staff work there?
Do they see… hear… The #Ambulances… and the #hooters… and the #patients…?

Do they know… the disturbance created cuz of this mess?
And that too for 4 whole working days!
:@
#Ideas2016