#TIGHTS_ٹائٹس

۔۔۔۔ ٹائٹس ۔۔۔۔

عام ہوئے ہیں تنگ پجامے

اونچے اور بے ڈھنگ پجامے

اخلاقی اقدار کے باغی

اک اعلان جنگ پجامے

کیسا ہے ملبوس نرالا

برقع بھی، اور تنگ پجامے

سر ڈھانپا اسکارف سے، بہتر

لیکن اس کے سنگ پجامے؟

دیکھو، خود کو بائک پہ، گر

کر دیں تم کو دنگ پجامے

لاکھ چھپاؤ، کر دیتے ہیں

ظاہر اک اک انگ پجامے

چبھتی نظروں کو مت کوسو

دکھلاتے ہیں رنگ پجامے

بتلاتا ہے قول نبیؐ کا

ہیں یہ مثلِ ننگ پجامے

دیکھو! تم کو مروا نہ دیں

روز محشر تنگ پجامے

دینی تعلیمات سے، بہنو

کر لو ہم آہنگ پجامے

مومن کی آنکھوں میں کھٹکیں

مانؔ مثال سنگ پجامے

Is he dead?

لیجیے صاحب
لوگوں کو خبر ہو ہی گئی کہ جنید جمشید مر گیا ! حالان کہ اسے مرے ہوئے کوئی دو عشرے ہو چلے
حد ہے لوگوں کی لا علمی کی بھی

جس جنید کی موت کی خبر اب بریکنگ نیوز کے طور پر چل رہی ہے ، وہ تو کب کا مر چکا ! دِل دِل پاکستان سے عروج پانے والا جنید جمشید ایک قلیل عرصے میں شہرت کی بلند ترین چھوٹی پر جا پہنچا . . . لیکن وہاں چھوٹی پر ایک اور جنید اس کے انتظار میں موجود تھا . . . اس جنید نے اِس جنید کو ایک زوردار لات ماری . . . اور یوں جنید ہزاروں فٹ گہری کھائی میں گر کر مر گیا

جنید کو مارنے کے بعد جنید پہاڑ سے نیچے اترا . . . اور ایک ثناء خواں کے روپ میں دنیا کے سامنے آیا . . . اور اپنی پہلی ہی نعت ” محمد کا روزہ قریب آ رہا ہے ” سے نصیب کی بلندیوں کی سمت سفر کا آغاز کیا

پِھر جس وقت اس نے ” الہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں ” پڑھی تھی تو بتانے والے بتاتے ہیں کہ وہ واقعی فقر و فاقہ کا شکار تھا

اِس کے با وجود جنید نے اپنے رب کے آگے ” میرا دل بدل دے ” کی رٹ جاری رکھی اور منوا کے ہی دم لیا
اس نے بلندیوں کی سمت اپنا سفر جاری رکھا . . . اور تبلیغ کے سلسلے میں چترال جا پہنچا . . . وہاں سے واپسی پر اس کا جہاز کریش ہو گیا . . . لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ جنید مر گیا

جس جنید کو ہم اور آپ جانتے ہیں . . . وہ اللہ کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا . . . اور اللہ کہتا ہے

” جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں اُنہیں مردہ نا کہو . . . وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اِس کا شعور نہیں ہے

جنید بھلا کیسے مر سکتا ہے ؟

نا ممكن !

Bhikari

بھکاری

 ایندھن ڈلوانے کے لئے پمپ پر گاڑی روکی۔

…ابھی ایندھن بھرا جا رہا تھا کہ ایک عورت گود میں بچہ تھامے ہماری جانب لپکی

بھائی اللہ کے نام پہ کچھ امداد کر دو۔۔۔۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔

ایندھن ڈلوا کے آگے بڑھے۔ راستے میں سرخ بتی کے باعث سگنل پر گاڑی روکی۔

…دائیں جانب سے ایک صاحب لنگڑاتے ہوئے چلے آئے

بیٹا اللہ کے نام پہ کچھ دیتا جا۔۔۔ اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔

گاڑیوں کے اژدھام سے گزر کے بازار پہنچے۔ پارکنگ میں گاڑی لگائی۔

…ادھر سے ایک نو عمر لڑکا بڑے پروفیشنل انداز میں ہماری جانب لپکا

صاحب اللہ کے نام پہ آٹا دلا دو۔۔۔۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔

بازار سے واپسی پر رات ہو گئی۔ روٹی لینے کے لئے تندور پر گاڑی روکی۔

…ادھر سے پھر ایک مائی لپکی

اللہ کے نام پہ بیوہ کی کچھ مدد کر دو۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔۔

آگے بیکری پہ گاڑی روکی ڈبل روٹی لینے کے لئے۔

…ادھر سے ایک اور خاتون حملہ آور ہوئیں

اللہ کے نام پہ اپنے بچے کا صدقہ دے جا۔۔۔۔ اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔

…آگے دودھ لینے رکے تو وہاں ایک اور صاحب نے ہاتھ پھیلا دیا

بیٹا دس بیس روپے سے میری مدد کر دو۔۔۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔

گھر پہنچتے پہنچتے عشاء ہو گئی۔ نماز پڑھنے کے لئے مسجد پہنچے۔

….سلام پھیرتے ہی مسجد میں ایک گلوگیر آواز بلند ہوئی

معذرت کے ساتھ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ آگے ایک دکھ بھری داستان۔۔۔

…باہر مسجد کے دروازے پر ایک اور مائی لجاجت بھرے انداز میں صدا لگا رہی تھی

نمازی بھائیو! میری مدد کرتے جاؤ۔۔۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔

…قارئین

یہ کوئی خیالی کہانی نہیں ہے۔۔۔

یہ آج کے دن کی روداد ہے۔۔۔۔

سمجھ نہیں آتا حکومت نام کی کوئی چیز ہے اس ملک میں کہ نہیں؟

گوگل پہ سرچ کیا۔۔۔

پاکستان کی حکومت کہاں ہے؟

اس بد بخت نے جواب میں ایک ویڈیو کلپ کا لنک دے دیا۔

لنک پہ کلک کیا تو عجب منظر دیکھا۔۔۔

واشنگٹن میں ورلڈ بینک کی عمارت کے سامنے بیش قیمت تھری پیس سوٹ ٹائی میں ملبوس ایک شخص کھڑا ہے جو ہر آنے جانے والے کے آگے بڑی لجاجت سے ہاتھ جوڑ جوڑ کے کہہ رہا ہے۔۔۔

اے سخی بابو۔۔۔

اللہ کے نام پہ غریب کی دس بیس ملین ڈالر سے امداد کرتا جا۔۔۔

اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے۔۔۔۔