Behaviors & Attitudes, Islam, Social, اخلاقیات

Watch, then Wash

گھر کی دہلیز ایسے اوقات میں دھوئیے جن اوقات میں گلی میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوتی ہو۔۔۔

اور اگر آپ کا گھر مسجد کے راستے یا اطراف میں ہے تو پھر دھلائی سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ نماز کا وقت تو قریب نہیں۔۔۔

گلی میں کیچڑ پانی کے باعث نمازیوں کو مسجد جاتے آتے دشواری ہوتی ہے۔

#خودکلامی

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Social, پاکستان, اخلاقیات, سیاست

Bara Hosla Chahiye

بڑا حوصلہ چاہئے

بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
بڑا جگرا چاہئے۔۔۔
قصور کی بے قصور زینب کے اغوا کی سی سی ٹی وی ویڈیو دیکھنے کے لئے۔۔۔
ایک معصوم سی جیتی جاگتی گڑیا۔۔۔
اور ایک بھیڑیا۔۔۔
بھیڑیے کے ہاتھ میں۔۔۔
گڑیا کی انگلی۔۔۔
گڑیا کی بے فکری کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے بھیڑیا اس کا کوئی واقف ہے۔۔۔
سی سی ٹی وی نے بس اتنا ہی دکھایا۔۔۔

اس کے بعد ایک تصویر ہے۔۔۔
جسے دیکھنے کے لئے بھی۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
بڑا جگرا چاہئے۔۔۔۔
کچرے کے ڈھیر پر پڑی معصوم سی گڑیا کی روندی ہوئی لاش۔۔۔

اور اس سب کے بیچ۔۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
اس سب کے بیچ گزرے۔۔۔۔
ان دیکھے مناظر کو چشم تصور سے دیکھنے کے لئے۔۔۔

گڑیا بھیڑیے کے ساتھ بڑے اطمینان سے چلی گئی۔۔۔
اور پھر بھیڑیے نے گڑیا کے ساتھ بڑے اطمینان سے۔۔۔۔

پورے چار دن گڑیا لاپتہ رہی۔۔۔
بھیڑیا چار دن تک بھنبھوڑتا رہا ہو گا۔۔۔

بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔۔
وہ آوازیں سننے کے لئے۔۔۔
جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نہ ریکارڈ ہو سکیں۔۔۔
ویسے بھی سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ میں آواز کہاں ہوتی ہے۔۔۔
کتنا چیخی ہو گی۔۔۔
کتنا تڑپی ہو گی۔۔۔۔
کتنا مچلی ہو گی۔۔۔۔
کتنا روئی ہو گی۔۔۔۔
کتنا سسکی ہو گی۔۔۔۔
کتنا چلائی ہو گی۔۔۔۔
امی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔
ابوووووووووووووو۔۔۔۔
کتنا درد۔۔۔۔
کتنا کرب۔۔۔
سہا ہو گا۔۔۔
کرب اور درد جیسے الفاظ اس قابل کہاں۔۔۔
کہ وہ بوجھ اٹھا سکیں۔۔۔
جو گڑیا نے سہا ہو گا۔۔۔
پورے چار دن۔۔۔۔

جن کی اولاد نہیں، وہ بھی لرز گئے۔۔۔
اور جو صاحب اولاد ہیں۔۔۔۔
خاص کر جو بیٹیوں والے ہیں۔۔۔
ان کی حالت نہ پوچھئے۔۔۔

کہ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔

اور۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
اس طرح کے بیانات جاری کرنے کے لئے۔۔۔
جو ارباب اختیار نے جاری کئے۔۔۔
کسی کو مسلے ہوئے پھول سے بد بو آ رہی ہے۔۔۔
تو کوئی مشورہ دے رہا ہے کہ بچوں کو گھروں میں رکھنا چاہئے۔۔۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ لاش پر سیاست نہ کیجئے۔۔۔

لیکن اے صاحبان اقتدار!
جان لیجئے۔۔۔
عوام کا حوصلہ اب جواب دیتا جا رہا ہے۔۔۔
عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔۔۔

زبانی جمع خرچ کے بجائے عملاً کچھ کر دکھائیے۔۔۔
اور بہت جلد کر دکھائیے۔۔۔
بھیڑئیے کو پکڑ کے دکھائیے۔۔۔
انصاف کے تقاضے فی الفور پورے کیجئے۔۔۔
اور سر عام کسی چوک پہ ٹانگ دیجئے۔۔۔

لیکن۔۔۔
اس کو یکدم پھانسی نہ دے دیجئے گا۔۔۔
پھانسی سے پہلے۔۔۔
اس کی چیخیں سنوا دیجئے۔۔۔
اس کا تڑپنا دکھا دیجئے۔۔۔۔
اس کا مچلنا دکھا دیجئے۔۔۔۔
اس کی سسکیاں سنوا دیجئے۔۔۔
اس کا چلانا دکھا دیجئے۔۔۔
اس کو اسی درد سے گزار دیجئے۔۔۔
اس کو اسی کرب سے گزار دیجئے۔۔۔۔

پلیز۔۔۔
جلدی سے وہ وقت وہ گھڑی وہ لمحہ لے آئیے۔۔۔
یقین جانئے۔۔۔
اس وقت کا انتظار کرنے کے لئے بھی۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔۔

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

Politician’s Marriages

سیاست دانوں کی شادیاں

جنگ جیو اور نونیوں کے مزے آ گئے ہیں۔
خوب چٹخارے لئے جا رہے ہیں کہ عمران خان نے ایک اور شادی کر لی۔
عمران خان شادی کرے یا طلاق دے ہر دو صورتوں میں مخالفین کی مراد بر آتی ہے۔ سب اپنی زبانوں کو دھار لگا کے میدان میں کود پڑتے ہیں۔
خیر۔۔۔
اپنی اپنی زبان ہے پیارے۔۔۔!

جنگ جیو اور نونیوں کے تبصروں کے حساب سے شادی ایک نہایت قبیح عمل اور غلیظ فعل معلوم ہوتی ہے۔ تو بھائی اگر یہ اتنا ہی گھناؤنا عمل ہے تو پھر ذرا اپنا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون اٹھائیے اور گوگل پر اپنے ہر دلعزیز لیڈر شہباز شریف کا پروفائل چیک کیجئے۔۔۔ چلئے اور شارٹ کر کے بتا دیتا ہوں، سرچ بار میں شہباز شریف اسپاؤسز  لکھ کے سرچ کر لیجئے۔ کر لیا آپ نے قارئین!؟

آپ کے سامنے ایک پیج اوپن ہوا ہو گا جس پر شہباز شریف کی بیگمات کے نام آ رہے ہوں گے۔

ذرا گنتی کیجئے گا کتنی بیگمات ہیں؟

ایک، دو ، تین ، چار ، پانچ۔

یس س س س!

شہباز شریف ابھی تک پانچ شادیاں کر چکے ہیں۔

پانچوں بیگمات کے نام یہ ہیں:

نصرت شہباز ، عالیہ ہنی، نرگس کھوسہ، تہمینہ درانی اور کلثوم حئی۔

-قارئین! اسی پیج پر کے عنوان سے ایک اور لنک بھی نظر آئے گا آپ کو۔
shahbaz sharif 5 wives story and reality
http://www.awamipolitics.com/shahbaz-sharif-5-wives-story-a
اس لنک پر کلک کیجئے تو شہباز میاں کی شادیوں کی مزید تفصیلات معلوم ہوں گی۔

-قارئین! ان تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کون کون سی شادیاں خفیہ طور پر کی گئیں۔ اور جنگ جیو اورنونیوں کے حساب سے خفیہ شادی ایک اور جرم ہے۔

-اچھا اب ذرا شہبازمیاں کی عمر اور شادیوں کی تاریخ بھی دیکھ لیجئے۔

وکیپیڈیا کے مطابق شہباز شریف 23 ستمبر 1951 کو پیدا ہوئے۔

ان کی پہلی شادی بیگم نصرت شہباز سے ہوئی، سال ہے 1973۔ اس وقت ان کی عمر تھی 22 برس۔

دوسری شادی انہوں نے عالیہ ہنی سے کی، سال ہے 1993۔ گویا اس وقت ان کی عمر تھی 42 برس۔

تیسرا نکاح انہوں نے اسی سال یعنی1993 میں فرمایا نرگس کھوسہ سے ، عمر وہی 42 برس۔

ایک عشرے کے بعد انہیں ایک اور شادی کا خیال آیا اور یوں 2003 میں انہوں نے تہمینہ درانی سے شادی کی، 52 برس کی عمر میں۔ واضح رہے کہ تہمینہ درانی کی بھی یہ تیسری شادی تھی اور شہباز میاں کی اہلیہ بننے سے قبل وہ غلام مصطفیٰ کھر کی اہلیہ ہونے کے باعث تہمینہ کھر کہلاتی تھیں۔

مزید کوئی ایک عشرے کے بعد شہباز میاں کا ایک اور شادی کا جی چاہا۔۔۔ اور یوں انہوں نے 2012 میں کلثوم حئی سے پانچویں شادی رچائی، اس وقت ان کی عمر 61 برس کے لگ بھگ تھی۔ کلثوم حئی کی بھی یہ دوسری شادی تھی۔

اوہوہوہوہوہوہوہو!

بڑھاپے میں شادی تو ایک اور جرم ہے۔

ہے ناں؟

-اچھا اب ذرا ان کی کلثوم حئی سے شادی کی تفصیل بھی گوگل پر سرچ کر لیجئے ۔ کلثوم حئی شہباز میاں کے نکاح (قبضے؟) میں آنے سے قبل سابق ڈی سی او اکاڑہ طارق قریشی کی بیوی تھیں۔ مذکورہ بالا لنک کے مطابق شہباز میاں نے کلثوم حئی سے درخواست (؟) کی تھی کہ اپنے موجودہ شوہر سے طلاق لے لو ۔ انہوں نے رضامندی (؟) ظاہر کی اور طلاق لے لی۔ یوں شہباز میاں نے ان سے شادی کر لی۔

قارئین!
اگر آپ کو لگتا ہے کہ کہانی ختم ہو گئی تو آپ غلطی پر ہیں۔ شہباز کی اب تک کی “پرواز” کے حساب سے ان کی اگلی شادی 2022 میں ہونے کا قوی امکان بنتا ہے، اگر ان کی عمر نے وفا کی۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بیگم نصرت شہباز کا انتقال ہو چکا جبکہ عالیہ ہنی کو انہوں نے طلاق دے دی تھی۔ بقیہ تین بیگمات ان کے نکاح میں ہیں۔
گویا شہباز میاں کے پاس۔۔۔
ایک لائف لائن۔۔۔
ابھی باقی ہے۔

قارئین!
اگر آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ کہانی ختم ہو گئی تو آپ ابھی بھی غلطی پر ہیں۔

-ذرا شہباز میاں کے فرزند ارجمند حمزہ شہباز شریف کو بھی گوگل کر لیجئےگا۔

آگے کیا ہوا؟
وہ میں بعد میں بتاؤں گا۔
ابھی اس بک میں …
بہت سارے پیجز باقی ہیں۔۔۔ 

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Social

Panama Leaks-Poetry

۔۔۔۔ پانامہ لیکس ۔۔۔۔

خارش پاگل کر دیتی ہے

پیچش پاگل کر دیتی ہے

مکھن ہوش بھلا دیتا ہے

پالش پاگل کر دیتی ہے

ڈالر پونڈ ریال دِرَم کی

بارش پاگل کر دیتی ہے

کرسی پہ قابض رہنے کی

خواہش پاگل کر دیتی ہے

ہر عہدہ ہو میرے تابع

نازش پاگل کر دیتی ہے

جج صاحب اور جرنیلوں سے

رنجش پاگل کر دیتی ہے

قسمت والو! قسمت ہی کی

گردش پاگل کر دیتی ہے

پاؤں تلے، یا  کرسی تلے ہو

جنبش پاگل کر دیتی ہے

کھاتے وقت یہ ہوش کہاں تھا

بندش پاگل کر دیتی ہے

مجرم کو اقبال ہی بہتر

مالش پاگل کر دیتی ہے

کس نے پہنائے یہ جھمکے

پرسش پاگل کر دیتی ہے

لے آئے خط اک، قطری کا

پوزش پاگل کر دیتی ہے

کیلیبری یہ بتلاتا ہے

دانش پاگل کر دیتی ہے

قصر وزارت کیوں چھڑوایا

آتش پاگل کر دیتی ہے

پاجامہ کہ پانامہ ہو

لغزش پاگل کر دیتی ہے

افسانے کا حاصل یہ ہے

پیچش پاگل کر دیتی ہے

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Seerat-un-Nabi, Social, اسلام, علم دین

Wazifa

وظیفہ

ہم میں سے اکثر لوگ پریشان ہیں۔ کوئی روزگار کے سلسلے میں پریشان ہے تو کوئی رشتوں کے سلسلے میں ۔ کوئی صحت کو ترس رہا ہے تو کوئی اولاد کو۔ کہیں میاں بیوی میں نہیں بن رہی تو کہیں اولاد نافرمان ہے۔ کسی کو رزق کی تنگی کی پریشانی ہے تو کوئی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ الغرض ہم ہر طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

اب ان مسائل کے حل کے لئے ہم کیا کرتے ہیں۔ کہیں پیروں فقیروں سے تعویذ مانگے جا رہے ہیں تو کہیں علمائے کرام سے وظیفہ۔ علمائے کرام مسائل  کی نوعیت کے حساب سے ہر ایک کو وظیفہ بتا دیا کرتے ہیں کہ ہر نماز کے بعد فلاں وظیفہ اتنی مرتبہ پڑھ لیجئےاور اتنے اتنے دن یہ عمل کر لیجئے۔ لیکن مدت پوری ہونے کے بعد اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ حضرت کام نہیں بنا کوئی اور وظیفہ بتائیے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نماز کے بجائے وظائف کو اصل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنے آئے، جلدی جلدی نماز ادا کی اور پھر نہایت اہتمام کے ساتھ وظائف و تسبیحات میں مشغول ہو گئے۔ بھول گئے کہ اصل گیان دھیان تو نمازوں میں درکار تھا ۔ لیکن وہاں تو نہ فرائض کا خیال رکھا جا رہا ہے نہ واجبات کا۔ تو جب نماز ہی آداب کی رعایت کے ساتھ ادا نہ کی تو پھر وظیفہ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے پر حیرت کیسی؟ شکایت کیسی؟

اللہ رب العزت  نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا  جس کا مفہوم ہے۔۔۔

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔

اور سیرت نبوی ﷺ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی دشوار امر پیش آتا تو آپ ﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ آندھی چلتی تو نماز ، سورج چاند گرہن ہوتا تو نماز، جنگ ہوئی تو نماز، بارش نہ ہوئی تو نماز۔ اور جب آپ ﷺدار الفنا سے دار البقا کی جانب رحلت فرما رہے تھے توآخری سانسوں میں بھی امت کو نماز کی تلقین فرمائی۔

چلئے  فقط یہی یاد کر لیجئے کہ نماز کہاں عطا کی گئی؟ معراج پر۔ آسمانوں سے اوپر بلا کر رسول اللہ ﷺ کو یہ تحفہ عنایت کیا گیا۔ اللہ اکبر۔۔۔ کیا شان ہے ، کیا عالی مقام ہے نماز کا ۔۔۔ کہیں اسے آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو کہیں اسے ایمان و کفر کے درمیان فرق  کرنے والا عمل بتایا جا رہا ہے۔ کہیں بتایا جا رہا ہے کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے سجدہ میں زیادہ دعا کیا کرو۔

 خلاصہ  یہ کہ مومن کا اصل وظیفہ نماز ہی ہے۔

بہت ہلکا لے لیا ہے ہم نے ان نمازوں کو۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, نماز, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, علم دین

Ujlat

عجلت

ہم من حیث القوم ایک عجیب افراتفری کا شکار ہیں۔۔۔ جلد بازی ہماری فطرت بنتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹریفک سگنل ہو یا ریلوے کراسنگ۔۔۔ رکنا ٹھہرنا انتظار کرنا ہمارے لئے سخت محال ہوا کرتا ہے۔۔۔ سڑک بلاک ہو گئی ٹریفک جام ہو گیا تو ڈھٹائی کے ساتھ رانگ سائیڈ پہ چل دیئے۔۔۔ بلکہ فٹ پاتھوں پہ گاڑیاں دوڑا دیں۔۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔

ہماری یہ عجلت پسندی مسجدوں میں بھی چلی آئی ہے۔۔۔ چنانچہ با جماعت نمازوں میں بھی ہم سے صبر و قرار سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔۔۔ ایک شدید اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔۔۔ اور اس کے باعث نمازوں کے دوران ایک عجیب ناگوار صورت حال نظر آتی ہے۔۔۔

امام صاحب نے جہری قرات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھی اور رکوع میں جانے سے قبل آخری آیت ذرا زیادہ کھینچ دی۔۔۔ اب سورت یاد نہیں تو آیت کی کھینچ سے پہلے ہی الرٹ ہو گئے کہ امام صاحب رکوع میں جانے والے ہیں، اور اگر سورت یاد ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر سے قبل ہی ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔۔ حتیٰ کہ بعضوں نے رکوع کے لئے جھکنے کا بھی آغاز کر دیا۔۔۔

امام صاحب رکوع سے اٹھے اور قومہ میں ذرا توقف کیا تو یہ لمحہ دو لمحہ کا قیام طبع نازک پہ سخت گراں گزرا۔۔۔ ٹھہر بھی گئے تو سخت اضطراب میں۔۔۔ ورنہ امام صاحب سے پہلے ہی سجدے کے لئے جھکنا شروع کر دیا۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر میں مزید تاخیر ہوئی تو بعض نمازی جھکتے جھکتے رکوع کی حالت میں پہنچ چکے۔۔۔ اب وہاں رکے رکے امام صاحب کی تکبیر کا انتظار کر رہے۔۔۔ یعنی رکوع کے بعد ایک اور رکوع۔۔۔ سبحان اللہ

اسی طرح امام صاحب سجدے سے اٹھے اور جلسے کی حالت میں ذرا توقف کیا۔۔۔ لیکن اب یہ کوئی سیاسی جلسہ تھوڑی ہے کہ بیٹھا جائے۔۔۔ امام صاحب سے پہلے ہی اگلے سجدے کے لئے جھکنا شروع۔۔۔ یہاں بھی اگر امام صاحب کی تکبیر میں تاخیر ہوئی تو عجیب مضحکہ خیز کیفیت۔۔۔ گویا مرغا بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔

ایسے نمازیوں کے لئے تین حل پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔

۔ یا تو تنہا نماز پڑھ لیجئے۔۔۔

۔ یا پھر تحمل سے امام کے پیچھے پیچھے چلئے۔۔۔

۔ اور اگر امام سے آگے ہی بڑھنا ہے تو پھر امام کو پیچھے کیجئے اور خود مصلیٰ سنبھالئے۔۔۔

وگرنہ کم از کم پتہ تو کر لیجئے کہ اس طرح سے نماز ادا ہو بھی جاتی ہے یا نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ پھٹی بوری میں نمازیں جمع کی جا رہی ہیں؟

Behaviors & Attitudes, Social

Performance

کارکردگی

کل یوٹیلیٹی اسٹور کے پاس سے گزر ہوا۔

حالت زار پہ سخت افسوس ہوا۔

کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔

ایک طرف نجی شعبے کے تحت چلنے والی امتیاز سپر مارکیٹ ہے۔۔۔

جس کے شیلف بلامبالغہ ہزاروں ملکی و غیر ملکی اشیاء سے لدے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔

  جہاں تقریباً تمام اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔

جہاں خریداروں کی اتنی بھرمار نظر آتی ہے کہ اکثر اوقات تو ٹرالی چلانے کو بھی جگہ نہیں ملتی۔۔۔

بلکہ کبھی کبھی تو ٹرالی ہی  دستیاب نہیں ہوتی۔۔۔

نجی ادارہ ہونے کے باوجود خریداری پر صارفین کو اچھی خاصی رعایت دی جاتی ہے۔۔۔

صرف امتیاز ہی کیا۔۔۔

چیز اپ کو دیکھ لیں۔۔۔

بلکہ ناہید، اور ہائپر اسٹار اور میٹرو۔۔۔

کیا کیا گِنوایا جائے۔۔۔؟

اور دوسری جانب حکومت کے تحت چلنے والے یوٹیلیٹی اسٹور۔۔۔

یاسیت کا شکار۔۔۔!

اسٹور گاہکوں سے خالی ۔۔۔

اور اسٹور کے شیلف اشیائے صرف سے خالی۔۔۔

یہاں ہجوم صرف اسی وقت نظر آتا ہے جب چینی یا کوکنگ آئل وغیرہ کی قلت ہو جائے۔۔۔

(جن کی قلت کی ذمہ دار بھی خود حکومت ہی ہوتی ہے)

ورنہ کوئی قریب نہیں پھٹکتا۔۔۔

سمجھ نہیں آتا کہ حکومتی انتظام و انصرام کے تحت چلنے والے ادارے کیوں زبوں حالی کا شکار ہیں۔

حکومت… جس کے پاس قانون سازی سے لے کر وسائل تک ہر چیز کی بھرمار ہوا کرتی ہے۔۔۔

جبکہ ان کے مقابل پرائیویٹ ادارے خوب چل رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔۔۔۔

آپ اسٹیل مل کو دیکھ لیجئے کہاں سے کہاں پہنچ گئی جبکہ نجی اسٹیل ملیں کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔۔۔

پوسٹ آفس کا موازنہ نجی کوریئر سروس ٹی سی ایس سے کر لیجئے۔۔۔

ریلوے میں ساری ٹرینیں ایک طرف اور پٹے پر دی جانے والی گرین لائنز اور بزنس ٹرین دوسری طرف۔۔۔

پی آئی اے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔۔

سی ڈی اے اور کے ڈی اے بمقابلہ بحریہ ٹاؤن و ڈی ایچ اے۔۔۔۔

علیٰ ھذا القیاس۔۔۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے