Chaand ki Eid

چاند کی عید

از ابو شہیر

“پاکستان کے کروڑوں عوام کی نسبت مسجد قاسم علی خان میں بیٹھنے والی رویت ہلال کمیٹی روایتی طور پر خاصی تیز نگاہ اور دور بین ثابت ہوئی ہے لہٰذا جو چاند بلوچستان سندھ پنجاب اور خود صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں نظر نہیں آتا وہ گھونگھٹ نکال کر پشاور اور مردان کے آس پاس گردش کرنے لگتا ہے اور کسی نہ کسی کے حلقہٴ بصارت میں سماجاتا ہے جو فی الفور مسجد قاسم علی خان پہنچتا اور حلفیہ گواہی پیش کردیتا ہے۔ برس ہابرس سے یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔ماہرین علم فلکیات کو سراغ لگانا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کوئی تو وجہ ہوگی کہ جو چاند ملک بھر کے کسی حلقے میں دکھائی نہیں دیتا مطلع صاف ہونے کے باوجود کسی افق پر جلوہ گر نہیں ہوتا وہ چاند پشاور  مردان اور چارسدہ کی فضاؤں میں کیوں مسکراہٹیں بکھیرنے لگتا ہے؟ ” معروف کالم نگار عرفان صدیقی  کے قلم سے ماضی میں نکلی یہ سطور آج بھی بالکل تر و تازہ معلوم ہوتی ہیں۔

وطن عزیز میں گزشتہ چند برسوں سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے چاند کے حوالے سے افسوسناک بلکہ شرمناک صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ اس سال تو حد ہی ہو گئی یعنی تین دن میں تین چاند دیکھے گئے اور تین عیدیں منائی گئیں ۔ گویا “عید کا چاند “ہونے کے بجائے چاند کی “عید ہو گئی”۔  سرکاری رویت ہلال کمیٹی محض تماشائی بن کر رہ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی اس افسوس ناک صورتحال پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصروں کی بھرمار شروع ہو گئی ۔اور پھر “جتنے منہ اتنی باتیں” کے مصداق ہر خاص و عام اپنی اپنی رائے دینے لگا ۔

رویت ہلال سے متعلق دو احادیث مبارکہ ہیں:

1۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ” مہینہ 29 رات کا ہوتا ہے ، پس روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو 30 دن پورے کر و۔ “(متفق علیہ )

2۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تو افطار کرو ، پھر اگر تم پر بادل ہو جائیں تو تیس روزے پورے کرو ۔” (صحیح مسلم)

جامعۃ العلوم الاسلامیہ ، علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر ان احادیث کی وضاحت اس طرح درج ہے : “یعنی 29 تاریخ کی شام کو مطلع ابر آلود ہونے کے باعث چاند نظر نہ آئے تو مہینے کے تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔ حدیث کے الفاظ میں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ روزے رکھنے والے خود اپنی آنکھوں سے ضروری طور پر چاند دیکھیں ، بلکہ اس کا مفہوم ہے کہ … جب چاند دکھائی دے جائے … بادل کا لفظ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ اسلامی احکامات میں نئے چاند کا مطلب آنکھوں سے دکھائی دینا ہے ، کیونکہ بادل چاند دکھائی دینےکی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں۔ ” (مکمل مضمون کے لئے دیکھئے : http://www.banuri.edu.pk/en/node/166)

دیکھا جائے تو کلیہ بہت سادہ ہے ۔ ایک چیز ہے چاند کا افق پر موجود ہونا ، اور دوسری چیز ہے چاند کا نظر آنا ۔ درج بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ چاند افق پر دکھائی دے یا نظر آئے ۔ سو وہ طبقہ جو اس بات پر مصر ہے کہ علم فلکیات کی روشنی میں حساب کتاب لگا کر ایک قمری کیلنڈر بنا لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ، اس کی یہ رائے شریعت سے متصادم ہے کیونکہ چاند کا افق پر نظر آنا شرعی شرط ہے۔ اب علم فلکیات کی مدد سے بنائے جانے والے کیلنڈر کے مطابق 29 تاریخ کو چاند افق پر موجود ہے لیکن مطلع ابر آلود ہونے یا کسی اور وجہ سے چاند دیکھنا ممکن نہیں ،تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ مہینہ 30 کا شمار کیا  جائے گا اور اس کے بعد اگلا مہینہ شروع کیا جائے گا ۔  لوگ کہتے ہیں کہ مولوی اکیسویں صدی میں ساتویں صدی کے طریقے سے چاند دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ جہاں شریعت کا حکم آجائے وہاں ہر مسلمان کے لیے ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عہدہ دار کیوں نہ ہو،  سر تسلیم خم کر دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اسلام کے معنی ہی ہیں سر تسلیم خم کردینا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ  ان بادلوں کے  پیچھے چاند موجود ہے یا یہ کہ اس وقت چاند پیدا ہو چکا ہے، علماء کا تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ فیصلہ کہ کل روزہ  ہوگا  یا عید ہوگی  ،اسلام کی بڑی خوبصورت تصویر ہے جس کے لیے علماء تنقید و تحقیر کے نہیں ، تعریف و تحسین کے مستحق ہیں ۔

دوسرے طبقے کی رائے یہ ہے کہ چاند نظر آ جانے کی شہادت مل جانے کے بعد رویت ہلال کا اعلان کر دینا چاہئے ۔ تو اگرچہ شریعت کا حکم تو یہی ہے لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کیونکہ شریعت نے قاضی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ شہادت کو پہلے پرکھے ، پھر چاہے قبول کرے یا رد کردے۔ موجودہ دور کے مطابق اس کی شکل یہ بنتی ہے کہ چاند کی شہادت کو علم فلکیات کی روشنی میں بھی پرکھ لیا جائے ۔ جیسا کہ حالیہ عید الفطر کا چاند متنازعہ بنا دیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ” مورخہ 18 اگست 2012 کو پاکستان میں عید کاچاندنظر آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔چاند نظرآنے کے لئے اسکی عمر بتیس گھنٹے درکار ہے مگرشام کوچاند کی عمر صرف بائیس گھنٹے سترہ منٹ ہوگی۔ سورج شام کو چھ بجکر پنتالیس منٹ پر غروب ہوگا جبکہ سورج کی شفق سات بجکر گیارہ منٹ پر ختم ہوگی اورشفق ختم ہونے سے پہلے ہی چھ بجکر پچپن منٹ پر چاند غروب ہوچکاہوگا اس لئے چاند نظرکاکوئی امکان نہیں ہے۔ “

چلئے محکمہ موسمیات کو تو ایک طرف رکھئے کہ اس کی رائے کو کوئی درخور اعتنا نہیں سمجھتا ۔ جامعۃ الرشید پاکستان کا ایک معروف دینی ادارہ ہے ۔ ادارے کے شبعہ فلکیات کے رئیس مفتی محمد سلطان عالم کے مطابق “پاکستان سمیت اکثر آباد دنیا میں چاند نظر آنے کا امکان اتوار 19 اگست 2012 کو ہے ، اس سے پہلے نہیں ۔ لہٰذا ان ممالک میں عید الفطر پیر 20 اگست کو ہونی چاہئے ، اس سے پہلے نہیں ۔ “

انہوں نے فرمایا کہ “امکانِ رویت ہلال کے تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد قدیم و جدید معیارات کے مطابق جمعہ 17 اگست کو پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش، ایران ، افغانستان تو کجا پوری آباد دنیا میں کہیں بھی برہنہ آنکھ سے یا عام ٹیلی اسکوپ وغیرہ سے چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر کسی نے جمعہ 17 اگست کو دنیا کے کسی بھی خطے میں برہنہ آنکھ تو کجا ، عام ٹیلی اسکوپ سے بھی چاند دیکھنے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کو قبول کر لیا گیا تو یہ ایک انتہائی تعجب خیز فیصلہ ہو گا ۔ ” تو اب شمالی وزیرستان میں چاند نظر آنے کی شہادت کو علم فلکیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ دعویٰ بجا طور پر ناقابل قبول اور باطل تصور کیا جانا چاہئے ۔

اسی طرح ہفتہ 18 اگست 2012  ( پاکستان 29 رمضان ) کے احوال پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی محمد سلطان عالم نے فرمایا کہ “امکانِ رویت ہلال کے تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد قدیم و جدید معیارات کے مطابق 60 عرضِ شمالی و جنوبی کے مابین جن علاقوں میں غروب آفتاب کے بعد افق پر موجود ہونے کے باوجود چاند برہنہ آنکھ سے نظر آنے کے قابل نہیں ہوگا وہ یہ ہیں: پورا ایشیا ؛ پورا یورپ ؛بالائی شمالی افریقہ ؛ شمالی USA اور پورا کینیڈا ۔” (تفصیل کے لئے دیکھئے ۔۔۔ http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2012/august/08-08-2012/frontpage/10.html)

تو اب اگر مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی خود ساختہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے رویت ہلال کے اعلان کو علم فلکیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ان کا دعویٰ بھی باطل ہے۔ واضح رہے کہ مسجد قاسم علی خان کے کرتا دھرتاؤں نے گزشتہ کئی برس سے رویت ہلال کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔   ذاتی طور پر ان کے مسلک سے ذہنی مطابقت رکھنے کے با وجود ان کے ان اعمال سے برأت کا اعلان کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے خیال میں اتحاد بین المسلمین کی اہمیت اتحاد بین المسلک سے زیادہ ہے۔  اس دفعہ یہ معاملہ اور زیادہ سنگینی اختیار کر گیا ہےکہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی شخصیت نے    ایک علاقے میں نہیں بلکہ پورے  صوبے میں  ایک دن پہلے عید منا کر نہ صرف یہ کہ رویت ہلال کمیٹی کے خلاف  باقاعدہ طبل جنگ بجا دیا ہےبلکہ اپنے ہی مسلک سے وابستہ افراد کے درمیان بھی اختلاف و انتشار پیدا کر دیا ہے  ۔ بجا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کافی عرصے سے اس عہدے پر فائز ہیں لیکن ان کی کارکردگی کسی بھی لحاظ سے ایسی نہیں ہے  کہ ان کی تبدیلی  کی ضرورت محسوس ہو۔ محض طویل عرصے تک کسی عہدے پر بیٹھے رہنا   کوئی نا اہلیت نہیں ہے ۔  حکومت نے ایک ادارہ بنا دیا ہے ۔ تو اس کی مان لینے میں کیا حرج ہے ؟ غلطی کی صورت میں سارا گناہ ثواب اسی پر ہو گا ۔ عوام اس سے بری الذمہ ہیں ۔ سعودی عرب میں تو ماضی میں ذی الحج کے چاند پر اختلاف ہو چکا ہے ، تو لاکھوں حجاج کرام نے جو حج ادا کیا وہ باطل ہو گیا ؟ ہرگز نہیں ۔ قاضی اگر صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے لیکن اگر فیصلہ کرنے میں اس سے خطا ہو جائے تو بھی وہ ایک اجر کا مستحق ہے ۔ حالیہ رویت ہلال کے معاملے کو سیاسی  اور مسلکی رنگ دے کر اس سے اپنا الو  سیدھا کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے  وہ کچھ ایسی عریاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ  اس کو شرعی مسئلہ بنانے کے لیے بہت پاپڑ  بیلنے پڑیں گے۔