Eid, Islam, moon sighting, Ramadhan, Roza, اسلام, رمضان المبارک, رویت ہلال, روزہ, عید

سوال ہونا چاہئے

سوال ہونا چاہئے۔۔۔

*مفتی پوپلزئی سے*
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ جب حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کا پورا ادارہ بنایا ہوا ہے جس کی صوبائی اور ذیلی کمیٹیاں بھی ہیں، جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماء شامل ہیں، اور جس پر کسی مکتبہ فکر کے علماء کو اعتراض ہے نہ اس سے اختلاف، پھر آپ کیوں اس ادارے کی رویت سے انحراف کرتے ہیں؟ آپ کیوں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں؟ آپ کس حیثیت میں رویت ہلال کا اعلان کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ سعودی عرب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو وضاحت کر دیجئے ہم اس کو قبول کر لیں گے۔۔۔ لیکن آپ جھوٹی رویت کا اعلان کیوں کرتے ہیں؟کیوں کذب بیانی کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ ماہرین فلکیات کی تحقیقات بتا رہی ہوتی ہیں کہ چاند افق پر موجود ہی نہ ہو گا، یا غروب آفتاب سے قبل یا ساتھ یا فوری بعد غروب ہو جائے گا، پھر یہ چاند آپ کو کہاں اور کیسے نظر آ جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ پھر آپ کیوں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے ہیں؟ کیوں قومی و ملی یکجہتی کو پارہ پارہ کرتے ہیں؟ کیوں امت میں انتشار پیدا کر رہے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔ کیا آپ کا یہ طرز عمل آپ کو اس فہرست میں لاکھڑا نہیں کر رہا؟ آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ کو سعودی عرب بھیج دیا جائے یا آپ وہاں کے شہری ہوتے یا آپ کو آج وہاں کی شہریت عطا کر دی جائے تو کیا آپ وہاں ایسی کسی جرات کا تصور بھی کر پائیں گے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ کہ آپ کے عزائم کیا ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ سال میں صرف دو چاند کی رویت پر کیوں اس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اور باقی دس ماہ کہاں غائب ہوجاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ محرم الحرام کی رویت کے وقت آپ کا احساس ذمہ داری کہاں سو جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ کیا آپ محرم الحرام کا چاند ادھر ادھر کرنے کی جرات ہمت کر سکتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کے صرف دو چاند میں مسئلہ آتا ہے ، اختلاف آتا ہے ۔۔۔ باقی دس ماہ سیدھے کیسے ہو جاتے ہیں؟ باقی دس ماہ کی قمری تاریخیں کیوں بقیہ ملک سے آگے پیچھے نہیں ہوتیں؟ اور اگر ہوتی ہیں تو اب تک تو دس بارہ پندرہ دن کا فرق کیوں نہیں آ گیا آپ کے اور حکومت کے چاندوں کی رویت میں؟ کیا آپ بقیہ دس ماہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ہی چلتے ہیں؟

*مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے*
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ ایک شخص آپ کے خلاف برس ہا برس سے مسلسل علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے، آپ نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔ کہ اس فتنے کی سرکوبی کے لئے آپ کے پاس کیا کوئی اختیارات ہیں؟ اور اگر اختیارات نہیں ہیں تو اب تک اختیارات حاصل کرنے کی کیا کوئی کوشش کی گئی؟ اور اگر نہیں کی گئی تو کیوں نہیں کی جاتی؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ آپ نے اب تک اس فتنے کے خلاف عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا؟

*حکومت سے*
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ جس وقت مسجد قاسم خان کا مفتی کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے اس وقت حکومت کی رٹ کہاں ہوتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے ریاست کے اندر ریاست بنائے بیٹھا ہے، حکومت کب جاگے گی ؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ حکومت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرتی؟ کیوں ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایسے مواقع پر کیوں اس فتنے کو ڈھیل دی جاتی ہے؟ کیوں اس فتنے سے آنکھ چرائی جاتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ اگر قانونی کاروائی ممکن نہیں تو کم از کم ایسے مواقع پر اس فتنے کو دو تین دن کے لئے نظربند کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کیوں اس کا موبائل نہیں چھین لیا جاتا؟ کیوں اس کو ملک سے باہر نہیں بھیج دیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ کیوں ایسے مواقع پر دفعہ ۱۴۴ کا استعمال نہیں کیا جاتا؟ کیوں اس کے گرد جمع ہونے والے جمگھٹے کو منتشر نہیں کر دیا جاتا؟

*میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے*
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ ایک غیر اہم شخص کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کیوں اتنی کوریج دیتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں بھول جاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں پکڑتے کہ آؤ ناں مفتی صاب اب چاند دکھاؤ ۔ محرم کا چاند دکھاؤ۔ ربیع الاول کا چاند دکھاؤ۔ ذی الحج کا چاند دکھاؤ؟

*پیمرا سے*
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ ایک شخص کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے، تو اس کے گرد جمع ہونے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کی پالیسی کیا ہے؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ ایسے فتنے کو خواہ مخواہ اہمیت دینے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کے قوانین کیا کہتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ اس بارے میں پیمرا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے؟ اور اگر کوئی نہیں ہے تو ضابطہ اخلاق کیوں نہیں تیار کر لیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ جس طرح گزشتہ برسوں میں رمضان المبارک میں فضول گیم شوز پر پابندی کا حکم جاری کیا، ، کیوں اس فتنے کی رپورٹنگ پر پابندی کا حکم جاری نہیں کیا جاتا؟

*معاصر علمائے کرام سے*
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ وہ امت میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات اس فتنے کے خلاف کیوں آواز بلند نہیں کرتے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔ کہ آپ حضرات نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات کئے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات نے اب تک مسجد قاسم خان کے مفتی کا گریبان کیوں نہیں پکڑا؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات کیوں اس فتنے کی مذمت نہیں کرتے؟ کیوں اس کے خلاف واشگاف الفاظ میں ہم آواز ہو کر برات کا اعلان نہیں کرتے؟

*عدلیہ سے*
سوال ہونا چاہئے عدلیہ سے۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے پورے ملک میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ برس ہا برس سے مسلسل حکومت اور اداروں کے خلاف چل رہا ہے ۔۔۔ برس ہا برس سے عوام الناس کو حکومتی اداروں کے خلاف بلا وجہ بھڑکا رہا ہے۔۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے روزے اور عیدیں برس ہا برس سے خراب کرا رہا ہے ۔۔۔ معزز عدالت کیوں اس فتنے کے خلاف سوموٹو ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کو عدالت میں طلب نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کے خلاف احکامات جاری نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پابند سلاسل نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پھانسی کی سزا نہیں سناتی؟

*عوام الناس سے*
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ اے مسلمانو! تم کیوں اس شخص کی پیروی کرتے ہو جس نے امت کو تفرقہ میں ڈال رکھا ہے؟

سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ جب حکومت نے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے جو درست کام کر رہا ہے ، اور جس پر بڑے بڑے علمائے وقت کو اعتماد ہے ، مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی ایسے اکابرین وقت جس کی رویت کے مطابق روزے عید کرتے ہیں ، اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام! تم کیوں اس ادارے سے انحراف کرتے ہو؟ کیوں اپنے روزے عید برباد کرتے ہو؟
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ سعودی عرب میں بھی رویت ہلال میں خطا یا غلطی ہو جاتی ہے، یا ہو چکی ہے، ذی الحج کی رویت میں خطا ہو چکی ہے، تو ایسا ہو جانے کے باوجودوہاں کے علمائے کرام نے کبھی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا۔۔۔ بلکہ حج بھی درست قرار پایا اور روزے کی قضا بھی کر لی۔۔۔ اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام ! حکومت نے ادارہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔ اگر وہ کوئی غفلت کرتے ہیں تو گناہ ثواب ان کے ذمہ ۔۔۔ اور اللہ کے فضل سے آج تک کوئی غفلت ثابت بھی نہیں ہوئی ، پھر کیوں اس ادارے پر اعتماد نہیں کرتے؟

*اللہ رب العزت کی بارگاہ میں۔۔۔*
اے اللہ! مفتی پوپلزئی نے تیری امت میں تفرقہ ڈال رکھا ہے۔ ۔۔تیری امت میں اختلاف و انتشار کا سبب بنا ہوا ہے ۔۔۔ تیرے مسلمان بندوں کے روزے عیدیں خراب کرا رہا ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف خروج کئے ہوئے ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے۔۔۔
اے اللہ ! تو قرآن میں کہتا ہے الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ کہ فتنہ و فساد قتل و غارت گری سے بھی زیادہ برا ہے۔۔۔
اے اللہ! تو قرآن میں کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔
اے اللہ! یہ شخص خود کو مفتی کہلواتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی اصلاح کے نام پر فتنہ فساد کا سبب بنا ہوا ہے۔۔۔
اے اللہ ! اس کو ہدایت عطا فرما۔۔۔ اور اگر اس کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو پھر پاکستان کے مسلمانوں کو اس فتنے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادے۔۔۔
اے اللہ ! تو اس کو مفسدین میں شمار کرتے ہوئے اس کے انجام تک پہنچا دے۔
آمین

moon sighting, رویت ہلال

Chaand ki Eid

چاند کی عید

از ابو شہیر

“پاکستان کے کروڑوں عوام کی نسبت مسجد قاسم علی خان میں بیٹھنے والی رویت ہلال کمیٹی روایتی طور پر خاصی تیز نگاہ اور دور بین ثابت ہوئی ہے لہٰذا جو چاند بلوچستان سندھ پنجاب اور خود صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں نظر نہیں آتا وہ گھونگھٹ نکال کر پشاور اور مردان کے آس پاس گردش کرنے لگتا ہے اور کسی نہ کسی کے حلقہٴ بصارت میں سماجاتا ہے جو فی الفور مسجد قاسم علی خان پہنچتا اور حلفیہ گواہی پیش کردیتا ہے۔ برس ہابرس سے یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔ماہرین علم فلکیات کو سراغ لگانا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کوئی تو وجہ ہوگی کہ جو چاند ملک بھر کے کسی حلقے میں دکھائی نہیں دیتا مطلع صاف ہونے کے باوجود کسی افق پر جلوہ گر نہیں ہوتا وہ چاند پشاور  مردان اور چارسدہ کی فضاؤں میں کیوں مسکراہٹیں بکھیرنے لگتا ہے؟ ” معروف کالم نگار عرفان صدیقی  کے قلم سے ماضی میں نکلی یہ سطور آج بھی بالکل تر و تازہ معلوم ہوتی ہیں۔

وطن عزیز میں گزشتہ چند برسوں سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے چاند کے حوالے سے افسوسناک بلکہ شرمناک صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ اس سال تو حد ہی ہو گئی یعنی تین دن میں تین چاند دیکھے گئے اور تین عیدیں منائی گئیں ۔ گویا “عید کا چاند “ہونے کے بجائے چاند کی “عید ہو گئی”۔  سرکاری رویت ہلال کمیٹی محض تماشائی بن کر رہ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی اس افسوس ناک صورتحال پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصروں کی بھرمار شروع ہو گئی ۔اور پھر “جتنے منہ اتنی باتیں” کے مصداق ہر خاص و عام اپنی اپنی رائے دینے لگا ۔

رویت ہلال سے متعلق دو احادیث مبارکہ ہیں:

1۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ” مہینہ 29 رات کا ہوتا ہے ، پس روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو 30 دن پورے کر و۔ “(متفق علیہ )

2۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو تو افطار کرو ، پھر اگر تم پر بادل ہو جائیں تو تیس روزے پورے کرو ۔” (صحیح مسلم)

جامعۃ العلوم الاسلامیہ ، علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر ان احادیث کی وضاحت اس طرح درج ہے : “یعنی 29 تاریخ کی شام کو مطلع ابر آلود ہونے کے باعث چاند نظر نہ آئے تو مہینے کے تیس دنوں کی گنتی پوری کرو۔ حدیث کے الفاظ میں چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ روزے رکھنے والے خود اپنی آنکھوں سے ضروری طور پر چاند دیکھیں ، بلکہ اس کا مفہوم ہے کہ … جب چاند دکھائی دے جائے … بادل کا لفظ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ اسلامی احکامات میں نئے چاند کا مطلب آنکھوں سے دکھائی دینا ہے ، کیونکہ بادل چاند دکھائی دینےکی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں۔ ” (مکمل مضمون کے لئے دیکھئے : http://www.banuri.edu.pk/en/node/166)

دیکھا جائے تو کلیہ بہت سادہ ہے ۔ ایک چیز ہے چاند کا افق پر موجود ہونا ، اور دوسری چیز ہے چاند کا نظر آنا ۔ درج بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ چاند افق پر دکھائی دے یا نظر آئے ۔ سو وہ طبقہ جو اس بات پر مصر ہے کہ علم فلکیات کی روشنی میں حساب کتاب لگا کر ایک قمری کیلنڈر بنا لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ، اس کی یہ رائے شریعت سے متصادم ہے کیونکہ چاند کا افق پر نظر آنا شرعی شرط ہے۔ اب علم فلکیات کی مدد سے بنائے جانے والے کیلنڈر کے مطابق 29 تاریخ کو چاند افق پر موجود ہے لیکن مطلع ابر آلود ہونے یا کسی اور وجہ سے چاند دیکھنا ممکن نہیں ،تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ مہینہ 30 کا شمار کیا  جائے گا اور اس کے بعد اگلا مہینہ شروع کیا جائے گا ۔  لوگ کہتے ہیں کہ مولوی اکیسویں صدی میں ساتویں صدی کے طریقے سے چاند دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ جہاں شریعت کا حکم آجائے وہاں ہر مسلمان کے لیے ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عہدہ دار کیوں نہ ہو،  سر تسلیم خم کر دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اسلام کے معنی ہی ہیں سر تسلیم خم کردینا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ  ان بادلوں کے  پیچھے چاند موجود ہے یا یہ کہ اس وقت چاند پیدا ہو چکا ہے، علماء کا تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ فیصلہ کہ کل روزہ  ہوگا  یا عید ہوگی  ،اسلام کی بڑی خوبصورت تصویر ہے جس کے لیے علماء تنقید و تحقیر کے نہیں ، تعریف و تحسین کے مستحق ہیں ۔

دوسرے طبقے کی رائے یہ ہے کہ چاند نظر آ جانے کی شہادت مل جانے کے بعد رویت ہلال کا اعلان کر دینا چاہئے ۔ تو اگرچہ شریعت کا حکم تو یہی ہے لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کیونکہ شریعت نے قاضی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ شہادت کو پہلے پرکھے ، پھر چاہے قبول کرے یا رد کردے۔ موجودہ دور کے مطابق اس کی شکل یہ بنتی ہے کہ چاند کی شہادت کو علم فلکیات کی روشنی میں بھی پرکھ لیا جائے ۔ جیسا کہ حالیہ عید الفطر کا چاند متنازعہ بنا دیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ” مورخہ 18 اگست 2012 کو پاکستان میں عید کاچاندنظر آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔چاند نظرآنے کے لئے اسکی عمر بتیس گھنٹے درکار ہے مگرشام کوچاند کی عمر صرف بائیس گھنٹے سترہ منٹ ہوگی۔ سورج شام کو چھ بجکر پنتالیس منٹ پر غروب ہوگا جبکہ سورج کی شفق سات بجکر گیارہ منٹ پر ختم ہوگی اورشفق ختم ہونے سے پہلے ہی چھ بجکر پچپن منٹ پر چاند غروب ہوچکاہوگا اس لئے چاند نظرکاکوئی امکان نہیں ہے۔ “

چلئے محکمہ موسمیات کو تو ایک طرف رکھئے کہ اس کی رائے کو کوئی درخور اعتنا نہیں سمجھتا ۔ جامعۃ الرشید پاکستان کا ایک معروف دینی ادارہ ہے ۔ ادارے کے شبعہ فلکیات کے رئیس مفتی محمد سلطان عالم کے مطابق “پاکستان سمیت اکثر آباد دنیا میں چاند نظر آنے کا امکان اتوار 19 اگست 2012 کو ہے ، اس سے پہلے نہیں ۔ لہٰذا ان ممالک میں عید الفطر پیر 20 اگست کو ہونی چاہئے ، اس سے پہلے نہیں ۔ “

انہوں نے فرمایا کہ “امکانِ رویت ہلال کے تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد قدیم و جدید معیارات کے مطابق جمعہ 17 اگست کو پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش، ایران ، افغانستان تو کجا پوری آباد دنیا میں کہیں بھی برہنہ آنکھ سے یا عام ٹیلی اسکوپ وغیرہ سے چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اگر کسی نے جمعہ 17 اگست کو دنیا کے کسی بھی خطے میں برہنہ آنکھ تو کجا ، عام ٹیلی اسکوپ سے بھی چاند دیکھنے کا دعویٰ کیا اور اس دعویٰ کو قبول کر لیا گیا تو یہ ایک انتہائی تعجب خیز فیصلہ ہو گا ۔ ” تو اب شمالی وزیرستان میں چاند نظر آنے کی شہادت کو علم فلکیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ دعویٰ بجا طور پر ناقابل قبول اور باطل تصور کیا جانا چاہئے ۔

اسی طرح ہفتہ 18 اگست 2012  ( پاکستان 29 رمضان ) کے احوال پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی محمد سلطان عالم نے فرمایا کہ “امکانِ رویت ہلال کے تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد قدیم و جدید معیارات کے مطابق 60 عرضِ شمالی و جنوبی کے مابین جن علاقوں میں غروب آفتاب کے بعد افق پر موجود ہونے کے باوجود چاند برہنہ آنکھ سے نظر آنے کے قابل نہیں ہوگا وہ یہ ہیں: پورا ایشیا ؛ پورا یورپ ؛بالائی شمالی افریقہ ؛ شمالی USA اور پورا کینیڈا ۔” (تفصیل کے لئے دیکھئے ۔۔۔ http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2012/august/08-08-2012/frontpage/10.html)

تو اب اگر مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی خود ساختہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے رویت ہلال کے اعلان کو علم فلکیات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ان کا دعویٰ بھی باطل ہے۔ واضح رہے کہ مسجد قاسم علی خان کے کرتا دھرتاؤں نے گزشتہ کئی برس سے رویت ہلال کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔   ذاتی طور پر ان کے مسلک سے ذہنی مطابقت رکھنے کے با وجود ان کے ان اعمال سے برأت کا اعلان کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے خیال میں اتحاد بین المسلمین کی اہمیت اتحاد بین المسلک سے زیادہ ہے۔  اس دفعہ یہ معاملہ اور زیادہ سنگینی اختیار کر گیا ہےکہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی شخصیت نے    ایک علاقے میں نہیں بلکہ پورے  صوبے میں  ایک دن پہلے عید منا کر نہ صرف یہ کہ رویت ہلال کمیٹی کے خلاف  باقاعدہ طبل جنگ بجا دیا ہےبلکہ اپنے ہی مسلک سے وابستہ افراد کے درمیان بھی اختلاف و انتشار پیدا کر دیا ہے  ۔ بجا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کافی عرصے سے اس عہدے پر فائز ہیں لیکن ان کی کارکردگی کسی بھی لحاظ سے ایسی نہیں ہے  کہ ان کی تبدیلی  کی ضرورت محسوس ہو۔ محض طویل عرصے تک کسی عہدے پر بیٹھے رہنا   کوئی نا اہلیت نہیں ہے ۔  حکومت نے ایک ادارہ بنا دیا ہے ۔ تو اس کی مان لینے میں کیا حرج ہے ؟ غلطی کی صورت میں سارا گناہ ثواب اسی پر ہو گا ۔ عوام اس سے بری الذمہ ہیں ۔ سعودی عرب میں تو ماضی میں ذی الحج کے چاند پر اختلاف ہو چکا ہے ، تو لاکھوں حجاج کرام نے جو حج ادا کیا وہ باطل ہو گیا ؟ ہرگز نہیں ۔ قاضی اگر صحیح فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے لیکن اگر فیصلہ کرنے میں اس سے خطا ہو جائے تو بھی وہ ایک اجر کا مستحق ہے ۔ حالیہ رویت ہلال کے معاملے کو سیاسی  اور مسلکی رنگ دے کر اس سے اپنا الو  سیدھا کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے  وہ کچھ ایسی عریاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ  اس کو شرعی مسئلہ بنانے کے لیے بہت پاپڑ  بیلنے پڑیں گے۔