Main Akela Kya Kar Sakta Hun?

میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں؟ 

غزوہ احزاب کا شمار اسلامی تاریخ کی خطرناک ترین اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے ۔ جس میں سارا عالم کفر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم لئے مدینہ پر حملہ آور ہوا ۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ قبیلہ یہود بنو نضیر جنہیں ان کی دسیسہ کاریوں کے سبب حضور ﷺ نے مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا ، ان کا ایک وفد قریش مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا ۔ قریش راضی ہو گئے ۔ پھر یہ وفد بنو غَطفان کے پاس پہنچا اور انہیں بھی جنگ پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ۔ اسی طرح اس وفد نے دیگر قبائل عرب میں گھوم پھر کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب دی اور ان قبائل کے بھی بہت سے افراد تیار ہو گئے ۔ یہ سارے لشکر طے شدہ پروگرام کے مطابق مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ کتب تاریخ کے مطابق ان سپاہ کی تعداد دس ہزار تھی ۔

ایک طرف مسلمان محاذ جنگ پر سنگین مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری جانب یہود کے سازشی عناصر اپنی سازشوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ بنو نضیر کا مجرم اکبر حُیی بن اخطب بنو قریظہ کے پاس آیا جو کہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور جنہوں نے حضور ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کے مواقع پر آپ ﷺ کی مدد کریں گے ۔ حُیی نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد بھی عہد شکنی پر اکسایا ۔ کعب نے لاکھ دامن بچانا چاہا لیکن حُیی نے اسے رام کر ہی لیا جس کے بعد بنو قریظہ کے یہود حضور ﷺ سے کئے ہوئے معاہدے کے بر خلاف عملی طور پر جنگی کاروائیوں میں مصروف ہو گئے ۔
اسی دوران بنو غطفان کا ایک آدمی جس کا نام نُعَیم بن مسعود تھا ، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں لیکن میری قوم کومیرے اسلام لانے کا علم نہیں۔ آپ ﷺ حکم فرمائیے کہ میں کیاخدمت بجا لاؤں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: تم فقط ایک آدمی ہو لہٰذا کوئی فوجی اقدام تو کر نہیں سکتے ۔ البتہ جس قدر ممکن ہو ان کی حوصلہ شکنی کرو ۔ کیونکہ جنگ تو حکمت عملی کا نام ہے ۔

اس پر حضرت نُعَیم ؓ فوراً ہی یہودی قبیلے بنو قریظہ کے پاس پہنچے ۔ جاہلیت میں ان سے ان کا بڑا میل جول تھا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے کہا:آپ لوگ جانتے ہیں کہ مجھے آپ لوگوں سے خصوصی محبت اور تعلق ہے ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں!نعیم نے کہا: اچھا تو سنئے کہ قریش کا معاملہ آپ لوگوں سے مختلف ہے ۔ یہ علاقہ آپ لوگوں کا اپنا علاقہ ہے ۔ یہاں آپ کا گھر بار ہے ، مال و دولت ، بیوی بچے ہیں۔ آپ انہیں چھوڑ کر کہیں اور نہیں جا سکتے ، اس کے باوجود جب قریش اور بنو غطفان محمد ﷺ سے جنگ کرنے آئے تو آپ نے محمد ﷺ کے خلاف ان کا ساتھ دیا ۔ ظاہر ہے ان کا یہاں نہ گھر بار ہے نہ مال و دولت نہ بال بچے ۔ اس لئے اگر انہیں موقع ملا تو ہی وہ کوئی قدم اٹھائیں گے ورنہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے ۔ پھر آپ لوگ ہوں گے اور محمد ﷺ ۔ پھر وہ جیسے چاہیں گے آپ سے انتقام لیں گے ۔ اس پر بنو قریظہ چونکے ۔ اور بولے : نعیم تم ہی بتاؤ اب کیا کیا جا سکتا ہے ؟نعیم بولے: دیکھئے قریش جب تک آپ لوگوں کو اپنے کچھ آدمی یرغمال کے طور پر نہ دیں ، آپ ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوں۔ بنو قریظہ بولے : آپ نے بہت مناسب رائے دی ہے۔

اس کے بعد حضرت نعیم ؓسیدھے قریش کے پاس پہنچے اور بولے: آپ لوگوں سے مجھے جو محبت اور جذبہ خیر خواہی ہے اسے تو آپ جانتے ہی ہیں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔حضرت نعیم ؓنے کہا: تو پھر سنئے کہ یہود نے محمد ﷺ اور ان کے رفقا سے جو عہد شکنی کی ہے ، اس پر وہ نادم اور شرمندہ ہیں۔ اور اب ان میں یہ مراسلت ہوئی ہے کہ یہود آپ لوگوں میں سے کچھ یرغمال حاصل کر کے محمد ﷺ کے حوالے کر دیں گے اور پھر آپ لوگوں کے خلاف محمد ﷺ سے اپنا معاملہ استوار کر لیں گے ۔ لہٰذا اگر وہ یرغمال طلب کریں تو آپ ہرگز نہ دیں۔ اس کے بعد بنو غطفان کے پاس جا کر بھی یہی بات دہرائی (اور ان کے بھی کان کھڑے ہو گئے ۔)

بعد ازاں قریش نے یہود کو پیغام بھیجا کہ حالات سخت نا موزوں ہیں۔ تو آپ ادھر سے حملہ کیجئے اور ہم ادھر سے حملہ کرتے ہیں۔ یہود نے کہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے کچھ بندے ہمارے پاس یرغمال نہ رکھوائیں گے ہم جنگ میں شریک نہ ہوں گے۔ یہ جواب پا کر قریش اور بنو غطفان بولے کہ نعیم نے سچ ہی کہا تھا ۔ انہوں نے آدمی دینے سے انکار کیا تو یہودی بولے کہ نعیم نے سچ کہا تھا ۔ یوں فریقین کا اعتماد پارہ پارہ ہو گیا ، آپس میں پھوٹ پڑ گئی اور حوصلے ٹوٹ گئے ۔ مشرکین کی صفوں میں پھوٹ پڑ جانے اور بد دلی و پست ہمتی سرایت کر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر تند ہواؤں کا طوفان بھیج دیا جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے ، ہانڈیاں الٹ گئیں ۔ اور بالآخر مشرکین کے لشکر واپس لوٹ گئے ۔ حضرت نعیم بن مسعود ؓ کی شاطرانہ کاروائی کے نتیجے میں دشمنان اسلام میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ ناکام و نامراد واپس لوٹے۔

قارئین!

ایک فرد کا فرق ملاحظہ کیا آپ نے؟

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297