Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Sahaba kay Waqiat, یوم آخرت, اسلام

Eman Ki Hifazat

ایمان کی حفاظت

صاحبو!

کوئی تو وجہ ہو گی جو ایمان والوں کو کہا جا رہا ہے کہ مرنا تو مسلمان ہی مرنا؟

کوئی تو سبب ہو گا جو ایمان والوں کو ایمان کی حفاظت کی دعا سکھائی جا رہی ہے؟

صاحبو! حقیقت یہ ہے ایمان اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے جو کہ ہمیں بن مانگے مل گئی۔ ہم نے نہ تو اس کے لئے کوئی فارم بھرا نہ کوئی درخواست جمع کروائی۔ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں مسلمان بنا دیا ۔ اتنی بڑی نعمت کی قدر نہ کرنا بڑی نادانی ہے۔

صاحبو! ایمان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ بلال ؓ سے پوچھئے کہ چلچلاتی دھوپ میں تپتی ریت پر لٹا دیئے جانے اور پیٹھ جھلس جانے کے باوجود ، اور گلے میں رسی ڈال کر گلیوں میں کھینچے جانے کے باوجود بھی ایمان سے دستبرداری قبول نہ کی۔ ایمان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ خبابؓ سے پوچھئے کہ جنہیں کبھی شدید گرمی میں لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹا دیا جاتا تو کبھی لوہے کی سلاخیں آگ میں دہکا کر پیٹھ کو داغا جاتا اور کبھی انگاروں پر ہی لٹا کر گھسیٹا جاتا یہاں تک کہ ان کے خون اور چربی سے وہ آگ ٹھنڈی ہو جاتی ، لیکن اتنی سخت تکالیف کے باوجود بھی ایمان سے دستبرداری گوارا نہ کی۔ ایمان کی قدر و قیمت جاننی ہے تو فرعون کی کنیز سے جانئے کہ جس کی دو بیٹیاں تھیں ۔ ایک شیرخوار اور ایک تھوڑی بڑی۔ فرعون نے اسے ایمان سے تائب ہونے کو کہا تو اس نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ فرعون نے بر سر دربار کڑھاؤ میں تیل کھولانے کا حکم دیا۔ پھر پہلے بڑی بچی کو کھولتے تیل میں ڈلوا دیا، اس کے بعد شیر خوار بچی کو اور آخر میں ماں کو بھی تیل میں پکوا دیا۔ اس عورت نے اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے تیل میں پکتا دیکھنا گوارا کر لیا اور پھر خود بھی جل مری لیکن ایمان سے دستبرداری قبول نہ کی ۔ ایمان کی قدر و قیمت جاننی ہے تو فرعون کی ملکہ سے پوچھئے ۔ وہ مسلمان ہو گئی تو فرعون نے اسے بھی سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ ملکہ نے جان دے دی لیکن ایمان سے دستبرداری گوارا نہ کی۔

ہاں صاحبو ! ایمان والوں کے راہ ہدایت سے ڈگمگا جانے کا امکان موجود ہے ، اور نتیجتاً خاتمہ ایمان پر نہ ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ شیطان اور شیطانی قوتیں مسلسل تاک میں ہیں۔ ابھی پڑوسی ملک کے اخبار کی دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک مسلمان شخص جس نے ایک ہندو خاتون کو مسلمان کر کے اس سے شادی کی، پانچ چھ برس گزر جانے کے بعد خود بمعہ اہل و عیال ہندو مذہب اختیار  کر لیا۔ اسی طرح ایک مسلمان لڑکی ایک ہندو لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو گئی ۔ لیکن لڑکے کے گھر والے شادی میں رکاوٹ بن گئے۔ لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ صرف دو واقعات ہیں۔ ایسے نجانے کتنے واقعات روزانہ دنیا بھر میں پیش آتے ہوں گے۔

تو صاحبو! اپنے صاحب ایمان ہونے پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جانا چاہئے بلکہ ایک تو اس کی حفاظت کی ہر دم کوشش کرتے رہنا چاہئے ، دوسرے یہ کہ اللہ سے ایمان کی حفاظت کی، استقامت کی ، خاتمہ بالخیر کی خوب اور مسلسل دعا بھی کرتے رہنا چاہئے ۔ یہ سب اسی صورت میں ہوگا جبکہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دل میں پیدا ہو گی۔

تو  کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دلوں سے نکل گئی ہے خدانخواستہ؟ جی ہاں صاحبو!  ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو داڑھی، مردوں کی ٹخنوں سے اونچی شلواراور عورتوں کے پردے وغیرہ پر جملے کستے نظر آتے ہیں، یا نماز روزے کی توہین کرتے پھرتے ہیں ۔۔۔ ” کچھ نہیں ہوتا ان نمازوں سے” … ” روزہ تو وہ رکھے جس کے گھر کھانے کو نہ ہو”…  اس نوعیت کے جملے یقیناً آپ نے بھی سنے ہوں۔ استغفراللہ۔ داڑھی ، شرعی حلیہ، پردہ ، نماز ، روزہ وغیرہ یہ سب دینی شعائر میں سے ہیں۔  اور علمائے دین کے مطابق دینی شعائر کی تضحیک و توہین سے ایمان کے دائرے سے خارج ہو جانے کا اندیشہ ہے۔خود ہی سوچئے کہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دلوں میں ہوتی تو اسلاف کے طریقوں پر عمل کرنے میں شرمندگی محسوس کر رہے ہوتے نہ غیروں کے طریقوں پر عمل کرنے پہ فخر ۔ سوچنا چاہئے کہ کہیں ہم ایمانی تقاضوں کے بالکل بر خلاف تو نہیں چل رہے ؟

صاحبو!ایمان قائم رہے گا تو آخرت میں کسی نہ کسی درجہ میں نجات ہو ہی جائے گی اور خدانخواستہ اگر ایمان نہ رہا تو نجات کی کوئی صورت نہ ہو گی۔

صاحبو! کوئی تو وجہ ہو گی جو حدیث مبارکہ میں خبردار کیا جا رہا ہے ۔

انما الاعمال بالخواتیم (متفق علیہ)

اعمال کا دار ومدار تو خاتمہ پر ہے۔

صاحبو! کوئی تو وجہ ہو گی جو ایمان والوں کو کہا جا رہا ہے کہ مرنا تو مسلمان ہی مرنا؟

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (اٰل عمران ۔ ۱۰۲)

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

صاحبو! کوئی تو سبب ہو گا جو ایمان والوں کو ایمان کی حفاظت کی دعا سکھائی جا رہی ہے ؟ سو آئیے ایمان کی حفاظت کی فکر ، کوشش اور دعا کریں:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ (اٰل عمران ۔ ۸)

اے ہمارے رب! تو نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما  ۔ بے شک تیری ، اور صرف تیری ذات ہی وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Advertisements