Salam Pakistan!

سلام پاکستان

از۔۔۔ ابو شہیر

بالآخر الیکشن منعقد ہو گئے۔پانچ سال سے مہنگائی، بد امنی ، لا قانونیت ، بھتہ خوری، ظلم ، جبر ، تشدد، کرپشن، بھوک، افلاس ، لوڈ شیڈنگ، سی این جی کی بندش، ہڑتالوں اور یوم سوگ کی ماری قوم کو آخر کار وہ موقع ہاتھ آیا کہ جب وہ اپنے حق رائے دہی کو استعمال کرتے ہوئے حبیب جالب کے قالب میں ڈھل کر بتا دیتی:
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر، میں تمہیں، کس طرح سے کہوں؟
تم نہیں چارہ گر
کوئی مانے ، مگر
میں نہیں مانتا
میں نہیں جانتا
اور قوم کی اکثریت نے اپنے عمل سے بتا دیا ، مہر شہادت ثبت کر دی ۔ سلام پاکستان!
اہلیہ نے صبح ہی صبح ووٹ ڈالنے کی فرمائش کر دی۔ سو نہار منہ پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا۔ جس کے باہر گمان اور سابقہ تجربات کے بر خلاف عورتوں مردوں کی طویل قطار موجود تھی۔ ہم بھی جا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک طرف پولنگ کا عمل نہایت سست روی سے آگے بڑھ رہا تھا تو دوسری جانب سورج نصف النہار کی جانب تیزی سے گامزن تھا، لیکن عوام کی ثابت قدمی دیدنی تھی۔ سلام پاکستان!
یہ قطاریں دیکھ کر ملک کے دیگر حصوں کے” جاگیرداروں” کی طرح کراچی کے جاگیرداروں کی صفوں میں بھی کھلبلی مچی ہوئی تھی ۔ وہ حیران و پریشان تھے کہ یہ اتنے لوگ کہاں سے نکل آئے، اور اتنی استقامت سے کیسے کھڑے ہوئے ہیں قطاروں میں۔ ارے گزشتہ پانچ برسوں میں سی این جی کی قطاروں میں کھڑا کر کے تم نے ہی تو تربیت دی تھی ہمیں ۔ چودہ چودہ گھنٹے بجلی بند کر کے تم نے ہی تو گرمی برداشت کرنے کی ٹریننگ دی تھی ہمیں۔ اس وقت اگر تمہیں حیرت نہیں ہوئی تو پھر آج ہماری برداشت پر حیرت زدہ کیوں ہو؟سلام پاکستان!
قطار میں کھڑے لوگوں کی غالب اکثریت نامعلوم افراد سے نجات کی خواہاں تھی۔ بیس بائیس برس کے نوجوان ہی کیا، کئی ادھیڑ عمر کے افراد بھی زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے آئے ہوئے تھے۔ آج کراچی کے یہ سب پاکستانی ، پاکستان کے لئے گھروں سے نکل آئے تھے۔ اور آج اس الیکشن کے دن کو بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کے خلاف یوم یکجہتی کے طور پر منا رہے تھے ۔ سلام پاکستان!
تین چار گھنٹے کی صبر آزما جد و جہد کے بعد قطار میں کھڑے لوگ بالآخر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ کسی کے سر میں درد ہو رہا تھا تو کوئی پسینے میں شرابور تھا۔ تاہم سب کے چہروں پر یک گونہ اطمینان تھا کہ “نامعلوم افراد “کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے ۔ سب شاداں تھے کہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف نہی عن المنکر کے طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کر دیا ہے۔ پیچھے ایک طویل قطار ہنوز موجود تھی ، سلام پاکستان!
سورج زوال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا جبکہ کراچی کی جاگیردار جماعت اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ زوال کی جانب گامزن تھی ۔ دن ڈھلے نامعلوم کارکنوں کا حوصلہ جواب دے گیا ۔ ادھر جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے پولنگ ایجنٹس بھی پولنگ اسٹیشنز سے اٹھ کھڑے ہوئے جن کے چلے جانے کے بعد تو نامعلوم افراد کو کھلی چھٹی مل گئی ۔ اب ووٹرز کی شامت آ گئی ۔ دھونس دھمکی کے عادی نا معلوم بدمعاش ، ووٹرز کو گالیاں دینے لگے کہ تم سب ہمارے بجائے دوسروں کو کیوں ووٹ ڈال رہے ہو؟ سلام پاکستان !
ایک پاکستانی نے بتایا کہ وہ جب بیلٹ پیپر پر مہر لگانے لگا تو ایک نامعلوم فرد نے بیلٹ پیپر اس کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی لیکن اس پاکستانی نے کمال جرات و بہادری سے اس کی یہ جسارت ناکام بنا دی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر ڈالا جو کہ ظاہر ہے “نامعلوم افراد “کے خلاف ہی تھا۔ ایک اور پاکستانی نے بتایا کہ اسے بھی ایک نامعلوم فرد نے بیلٹ پیپر پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے الٹا اس نامعلوم فرد پر ہی چڑھائی کر ڈالی کہ تمہارے اس عمل سے پیچھے کھڑے سو افراد کا ذہن بھی تبدیل ہو چکا ہے ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اندر پہنچی تو بیلٹ پیپر ہی ختم ہو چکے تھے لیکن خواتین انتظار کرتی رہیں۔ اللہ اللہ کر کے بیلٹ پیپر آئے تو انہوں نے جب بیلٹ پیپر پر نامعلوم افراد کے خلاف مہر لگائی تو وہاں موجود ایک نامعلوم خاتون نے کہا کہ آپ نے انتخابی نشان پر مہر نہیں لگائی ، دوبارہ مہر لگائیں انتخابی نشان کے اوپر ، ورنہ آپ کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔ جس پر انہوں نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ چلو ضائع ہوتا ہے تو ہونے دو، دوبارہ مہر تو میں ہرگز نہیں لگاؤں گی ۔ سلام پاکستان !
شہر کے بہت سے پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عملہ “نامعلوم ” وجوہات کی بنا پر خاصی تاخیر سے پہنچا ۔ لیکن ووٹرز بہر حال ڈٹے رہےاور صبر و استقلال کے ساتھ انتظار کرتے رہے۔ ان مقامات پر پولنگ خاصی تاخیر سے شروع ہوئی ۔ شام میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا لیکن ووٹرز کی قطاریں ختم نہ ہو پائیں۔ جس کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانا پڑا ۔ سلام پاکستان !
لیکن پھر اس ساری جد و جہد پر شب خون مار دیا گیا ۔ مقررہ وقت پر پولنگ اسٹیشنز کے بند ہو جانے والے دروازے نامعلوم افراد کے لئے کھلے رہے جنہوں نے رضاکارانہ ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ پولنگ اسٹیشنز پر تعینات عملہ ، پولیس اہلکار ، رینجرز …. کہیں یہ بے بس تھے اور کہیں اس کارخیر میں شامل ۔ سو ریکارڈ ووٹ کاسٹ ہوئے۔ اور ایسے اندھا دھند کہ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ووٹ کاسٹ ہو گئے۔
ہمارے بھی کچھ متعلقین پولنگ اسٹیشنز پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے ۔ انہوں نے صورتحال یہ بتائی کہ جب ڈبے کھلے تو نامعلوم افراد بھاری مارجن سے شکست کھا چکے تھے ۔ لیکن پھر نامعلوم رضاکاروں نے چھپائی شروع کی ، ٹھپا ٹھپ ، ٹھپا ٹھپ ، ٹھپا ٹھپ ۔۔۔ اور صرف اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ مخالف ووٹ پھاڑے گئے یا دوہری مہریں لگا کر ضائع کئے گئے۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے ۔
پھر نتائج آنے شروع ہوئے تو کراچی کا پہلا نتیجہ رات ایک بجے سنایا گیا جس کے مطابق شہر کے ایک حصہ سے مسترد شدہ نمائندہ ، نامعلوم افراد کے قلب سے تقریباً پونے دو لاکھ ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حلقے میں فی گھنٹہ 1800 ووٹ، فی منٹ 300 ووٹ اور فی سیکنڈ 5 ووٹ کاسٹ ہوئے ۔ کچھ حلقے اسے ورلڈ ریکارڈ بھی قرار دے رہے ہیں ، واللہ اعلم۔ بہرحال اس واحد نتیجے کے بعد کراچی کے مزید کسی حلقے کے نتیجے کے لئے اہل کراچی کو اگلے دن کا انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران ہونے والی نامعلوم ووٹنگ سب کے علم میں ہے ۔ اور پھر اگلے روز میڈیا پر نا معلوم افراد کی “فقید المثال کامیابی ” کے تذکروں کی بھرمار تھی۔ نجانے کیوں اس “تاریخی” کامیابی کے باوجود نا معلوم افراد نے ماضی کی طرح جشن کامیابی نہیں منایا ۔ شاید کھسیاہٹ بہت شدید تھی ۔
کراچی کی باشعور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا ۔ نامعلوم افراد کے گھروں میں صف ماتم بچھ چکی تھی ۔ اگلے روز “مجلس شام غریباں “سے خطاب کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے “ڈی پورٹڈ سرغنہ ” نے دھمکی دی کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کے عوام کا فیصلہ منظور نہیں تو کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کیوں نہیں کر دیتے ، نیز یہ بھی فرمایا کہ ابھی اپنے ساتھیوں کو حکم دوں تو تین تلواروں کو اصلی تلواروں میں تبدیل کر دیں گے… جس کی تشریح نامعلوم افراد کے “راضی برضا ” ترجمان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ کی کہ وہ اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کو اصلی شکل میں بدل دیں گے۔ اب اس اتنی اچھی بات کو اتنے غصے میں کرنے کی کیا ضرورت تھی چیف صاب کو، یہ تو نامعلوم افراد ہی بہتر بتا سکیں گے۔
ان دھمکیوں پر تعلیم یافتہ اور با شعور شہریوں نے لندن میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ میں فون کر کے شکایات درج کرانی شروع کر دیں کہ برطانیہ کا ایک شہری پاکستان کے عوام کے خلاف دہشت گردی کی کھلی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان شکایات کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یقیناً لندن انتظامیہ کی جانب سے چیف صاب کی کھنچائی ہوئی ہو گی کہ حضرت کو اگلے ہی دن اپنے بیان کی تردید کرنی پڑی ۔ سلام پاکستان !
آخری خبریں آنے تک چیف صاب نا سازیٔ طبع کے باعث اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں ۔ یقیناً اس وقت وہ جس ٹینشن سے گزر رہے ہیں اس میں ڈائیریا میں مبتلا ہو جانا عین ممکن ہے ۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ چیف صاب کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں ۔ اور یہ تو عوام جانتے ہی ہیں کہ دعا کیا مانگنی ہے ۔ سلام پاکستان !

Facing the Music

Facing the music

By Abu Shaheer

The arena was looking as special as the event!

Very well decorated venue, neat and clean atmosphere, pleasant weather, bright lights, wonderful outfits, glittering eyes, smiles on the faces, gossips and cheers, sharing of gifts and wishes, delicious meal along with scrumptious dessert; almost everything was present that could be required for the first celebration of the first child…! Could have been a wonderful event… Could have been!

Everything was going fine until a group of monkeys had jumped into the fair! They were only five or six, including a female, yet they were enough to spoil the whole impression. The group was so-called a “musical band” or “singers”; though they were the antonyms.

The “clowns” ruined the peace of the environment by making a hell of a noise.  They had no idea about what to sing and how to sing? They were so stupid that they didn’t even know that they were performing in a party; and not in a “live concert”. They had to perform like play back singers; however they behaved like anchors. They became the captors while the guests, their hostages. They were enjoying their activities as they were behind the echo chambers while the guests (at least six of them) were “unjoying” as they were in front of the echo chambers. They were “rented” for entertaining the guests and they were literally “abusing” them.

No way to escape… The guests had to “face the music!”

Moral: Adding a little more spice/salt could spoil the whole recipe.