Behaviors & Attitudes, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

The EARTH-GODS!

زمینی خدا

از۔۔۔ ابو شہیر

گید ڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کا رخ کیا جہاں کئی مقدمات ان کے انتظار میں تھے ۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی معزز عدالت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کی ضمانت قبل از گرفتاری کا حکم منسوخ کر کے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر سابق سپہ سالار افواج پاکستان کمرہ عدالت سے فرار ہو گئے ، بالکل اسی طرح جیسے ایک فون کال پر متوقع میدان جنگ سے فرار ہو گئے تھے اور نتیجتاً قوم و ملک پتھر کے دور میں پہنچ گئے۔یاد رہے  کہ  “حضرت ڈرتے ورتے کسی سے نہیں۔  “

مذکورہ عدالتی فیصلے کے اگلے روز ہم دفتر پہنچے تو یہی ہاٹ ٹاپک تھا ۔ بحث کے دوران ایک صاحب نے نہایت حیران کن قسم کا تبصرہ کیا:

“دیکھو یار ! عدالت نے پوری دنیا میں ہمیں تماشہ بنا دیا ۔ فیصلہ دینے سے پہلے یہ تو دیکھ لینا چاہئے تھا کہ وہ ملک کا سابق صدر ہے ۔ “

ہم نے انہیں یاد دلایا کہ بھائی ہمارے نبی ﷺ کا تو فرمان ہے کہ فاطمہ بنت محمد بھی اگر چوری کرے گی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں گا۔ لیکن موصوف نے جس انداز سے یہ بات سنی اس سے ہمیں یہی محسوس ہوا ….  گویا ہم نے کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا واقعہ سنا دیا ہو ۔

دفتر سے باہر نکلنے پر ایک جگہ سے گزر ہوا تو وہاں ایک پچپن ساٹھ سالہ بڑے میاں فٹ پاتھ پر جمی چوپال میں بیٹھے چیخ چیخ کر دعوے کر رہے تھے :

” میاں! میں بھی یہیں ہوں اور تم بھی یہیں ہو ۔ اگر مشرف کو سزا ہو گئی تو میرے منہ پر تھوک دینا ۔ “

ہاہ ! اللہ تعالیٰ نے زبان کے آگے بتیس چھوٹے چھوٹے دروازے لگائے ہیں اور پھر ان دروازوں کے آگے ہونٹوں کا مین گیٹ بھی نصب کیا ہے لیکن صاحب! کیا کیجئے کہ جب یہ زبان بے قابو ہوتی ہے … تو اتنی ساری رکاوٹوں کو بھی عبور کر کے لپک کر باہر آ جاتی ہے ۔ اللہ سب کو اس بات کا شعور عطا فرمائے ۔ لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں لیکن یہی نہیں سیکھ پاتے کہ زبان سے کب کیا کہنا ہے ۔ اللہ سے ہمیشہ خیر طلب کرنی چاہئے… کیا خبر کون سا لمحہ قبولیت کا ہو!

پرویز مشرف پر ان گنت الزامات ہیں۔  اقتدار پر جبری قبضہ ۔ نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنی مرضی کے احکامات جاری کرنا  اور ان کو پوری قوم پر مسلط کرنا۔ صلیبی جنگ میں طاغوت کی قوتوں کا ساتھ دینا۔ بیرونی جنگ کو ملک کے اندر لے آنا ۔ یہ جو اس نے نعرہ لگایا تھا نا کہ سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔ اس بارے میں ہماری رائے تو یہی ہے  کہ ابھی امریکہ اس شش و پنج میں تھا کہ ٹوئن ٹاورز کی تباہی کی آڑ میں کس ملک کو نشانہ بنایا جائے کہ پرویز مشرف نے ایک دم سے ہاتھ کھڑا کر کے کہا : سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔ جیسے بچے کھیل کے دوران کہتے ہیں : پہل میری ۔

خیر بات چل رہی تھی مشرف کے جرائم کی ۔ تو اکبر بگٹی کے قتل کا الزام بھی انہی پر ہے کہ ایک دفعہ بڑی رعونت سے حضرت نے بڑھک ماری تھی جو کہ آن ریکارڈ ہے : ہم تمہیں وہاں سے ہِٹ کریں گے کہ تم کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے ہِٹ کیا ہے ۔ بے نظیر بھٹو کا قتل بھی انہی کے دور میں ہوا ۔ سو اس بارے میں بھی وہ مسئول ہیں کہ محترمہ انہیں پیشگی “نامزد ” کر گئی تھیں۔ لال مسجد کی تباہی ، جامعہ حفصہ کی طالبات کا قتل عام بھی حضرت کے سیاہ کارناموں میں سے ایک ہے ۔ لیکن شاید سب سے بڑھ کر مجاہدین کو پکڑ پکڑ کر دشمنوں کے حوالے کرنا، انٹیلی جنس شیئرنگ کے نام پر ان کی مخبریاں کرنا ، ان کا خون بہانا یا اس میں مدد کرنا ، اس سب کے عیوض دام کھرے کرنا ۔ حد تو یہ کہ پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر کو بھی پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا ، حالانکہ سفیر کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا ۔ لیکن نہ بیچنے والے نے یہ سب کچھ سوچا نہ خریدنے والے نے ۔  کسی کہنے والے نے خوب کہا کہ “اس شخص نے تو صدر پاکستان کو   ایک بردہ فروش کی سطح پر پہنچا دیا۔”

پرویز مشرف کے خلاف کچھ مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں ۔ اور شاید ابھی مزید بہت سے قائم ہونے ہیں ۔ ان مقدمات کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ….مشرف کو سزا ہوتی ہے یا بری کر دیا جاتا ہے … غداری کے جرم میں سزائے موت سنائی جاتی ہے یا کوئی اور …. آرمی اپنے سابق سپہ سالارکو نشان عبرت بنتے دیکھ پائے گی یا نہیں …. مشرف عدالت کے ہاتھ آتا ہے یااس کے اندرون و بیرون ملک دوست اسے یہاں سےریمنڈ ڈیوس کی طرح چپکے سے فرار کرا دیتے ہیں …. یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے…  البتہ حالات و واقعات سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی رسی کھنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

ممکن ہے کہ مشرف سزا سے بچ جائے …. کہ نہ ہمارے اعمال ایسے کہ ہم اللہ سے رحم کی بھیک مانگ سکیں اور نہ ہی ہماری دعاؤں میں اتنی شدت و طاقت کہ اللہ کی بارگاہ سے اپنی خواہش کے مطابق احکامات اور فیصلے جاری کر وا سکیں …. ہو سکتا ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل کا جرم اس پر ثابت نہ ہو سکے …. ہو سکتا ہے کہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے معصوم بچوں کا خون بھی رنگ نہ لا سکے …. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لال مسجد بوریہ نشینوں اور جامعہ حفصہ کی پردہ نشینوں کا خون بھی رنگ نہ لا سکے …. البتہ ایک امید ہے جو کہ بہت قوی ہے …. کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مجاہدین اسلام کا خون یقیناً اتنی وقعت ، اتنی قدر و قیمت ضرور رکھتا ہے کہ وہ مالک کون و مکاں اپنے اولیاء یعنی شہدا کے دشمن کو نشان عبرت بنا کر ہی چھوڑے گا ۔ ہم کتنی ہی دفعہ دیکھ چکے ہیں کہ ظالم حکمران کا جب برا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل اس کا ساتھ چھوڑتی ہے اور  اس کو مشورہ دینے والے اس کو ایک بند گلی میں پہنچا دیتے ہیں۔

مشرف یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں حالات ان کے لئے انتہائی ناسازگار ہیں ، اور بےشمار مقدمات منہ کھولے کھڑے ہیں ، پاکستان آن پہنچے ۔ حالانکہ وہ زندگی کے بقیہ ایام ” عزت” سے بیرون ملک بھی گزار سکتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد چند ہی دنوں میں انہیں اپنی “مقبولیت ” کا بھی اندازہ ہو چکا ہے ۔ وہ سیاسی طور پر شدید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جا چکے ہیں۔ ان کے خلاف بے شمار مقدمات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کی جا چکی ہے ۔ اور گرفتاری کا حکم جاری کیا جا چکا ہے ۔ جس کے بعد وہ فرار اور بعد ازاں گرفتار ہونے کے بعد پہلے ایک روز کے لئے پولیس لائن اور پھر اپنے ہی فارم ہاؤس میں مقید کئے جا چکے ہیں۔ انہیں اپنے ہی گھر میں دو کمروں کے علاوہ کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہیں ناشتے میں جیل مینوئل کے مطابق چائے ، جوس اور ڈبل روٹی پر ہی گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دشمن بھی کم نہیں بنائے …. سو عدالت سے سزائے موت کے خوف کے علاوہ بھی ان کی جان کو بہت سے خطرات ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنجہانی سلمان تاثیر کی طرح ان کے اپنے محافظین میں سے ہی کوئی ان پر گولیوں کی بوچھار نہ کر دے۔ نظر تو یہی آرہا ہے کہ اس کی رسی تنگ ہورہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے  ہوتا ہے کیا ۔

اس زمین اور اس آسمان نے  اپنے سامنے  ان گنت ایسے ہی انسانوں کو بزعم خود خدائی کے دعوے کرتے دیکھا ہو گا۔  کبھی فرعون نے کہا تھا کہ ‘ کیا مصر کا ملک میرا نہیں’ اور یہ کہ ‘ میں تو اپنے علاوہ تمہارے کسی رب کو نہیں جانتا’۔ کبھی نمرود نے کہا تھا ‘جسے میں چاہوں مار دوں جسے چاہوں  زندہ رکھوں’۔ کبھی سکندر بھی آیا تھا، اور کبھی چنگیز اور ہلاکو بھی تھے۔ روس کا اسٹالن ہو یا  ویت نام میں فوجیں بھیجنے والا امریکہ کا جانسن۔ وہ چلی کا پنوشے ہو یا پاکستان کا جنرل یحییٰ ،  سب زمین کا  حصہ  ہو گئے۔ سب مٹی میں مل گئے۔ موت کسی کو نہیں بخشتی،  کسی کو نہیں چھوڑتی۔  پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان میں بہت ترقیاتی کام کرائے ہونگے، لیکن جو آہیں اور بددعائیں انہوں نے کمائی ہیں  وہ اس سے  یقیناًکہیں زیادہ ہیں۔ وہ آج کل بڑے چاؤ سے اپنی ورزش کی تصویریں کھنچوا رہے ہیں  …جن میں وہ وزن اٹھاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔  لیکن سوچنے والے یہی سوچ رہے ہیں کہ  کفار کے ساتھ مل کر اسلام کی جڑیں کاٹنے، اور دیگر کئی گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے ان کے تاثرات کیا ہونگے۔ وہ کہتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرتے!نہیں ڈرتے  ہونگے….  لیکن  ہمارا تو ایمان اس بات پر ہے کہ اللہ کا عذاب ہرگز ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے نہ ڈرا جائے۔

مقام حیرت ہے کہ لوگ اتنی ساری نشانیاں دیکھ کر بھی ایسے دعوے کر رہے ہیں کہ ” اگر مشرف کو سزا ہو گئی تو میرے منہ پر تھوک دینا” ۔ اور اگر مشرف فی الواقعی سزا سے بچ جاتے ہیں تو پھر اگلے مرحلے میں اس طرح کے دعوے بھی سننے کو مل سکتے ہیں: ” میاں ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا”۔

اس نوعیت کے “خدائی دعووں ” سے کیا ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ زمینی خدا صرف مطلق العنان حکمرانوں کی صف تک ہی محدود نہیں …. بلکہ عوام الناس میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اقتدار و تکبر کے نشے میں چور ایک  شخص کا حال آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے … اور زمین کے نیچے ایسے کتنے ہی لوگ  ہوں گے جو کبھی یہی کہتے ہونگے کہ’ جو میں نے کہہ دیا نا ویسا ہی ہوگا’…

اے کاش ! کہ ہم  بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں، اپنے الفاظ کو تول لیا کریں۔

اللہ ہمیں  ہماری زبانوں کے شر سے محفوظ فرمائے ۔ آمین۔

Advertisements
امر بالمعروف و نہی عن المنکر

The Moment!

اَلسَّاعَۃ

صبح کا اخبار اٹھایا تو شہ سرخی میں گزشتہ روز پیش آنے والے ہیبت ناک واقعے ہی کا ذکر تھا ۔ اور ہونا بھی چاہئے تھا ۔ کچھ دیگر خبریں بھی اسی واقعے سے متعلق تھیں ، یعنی واقعے کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے خاصی تفصیلی رپورٹنگ کی گئی تھی ۔

تاہم باقی خبریں معمول کے مطابق تھیں۔ یعنی وہی بم دھماکے  ، وہی قتل و غارت ، وہی چوری ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں ، وہی الیکشن کا دنگل اور وہی سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازیاں۔ اخبار کے دیگر صفحات بھی معمول کے مطابق ہی تھے ۔ وہی ہالی وڈ ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی خبریں ۔ وہی فلموں ڈراموں پر عمیق تبصرے۔ وہی نئی فلموں کے پوسٹرز اور وہی فلمی اداکاراؤں کی نیم برہنہ تصاویر ۔ میگزین کھولا تو وہی فیشن اور ڈریس ڈیزائننگ کے نام پر عریانی کے مناظر ۔

اسی اثنا میں گلی میں بچوں کی اسکول وین آنی شروع ہو گئی تھیں ۔ جن میں سے کسی میں نعتوں کے نام پر دھمال ڈالی جا رہی تھی تو کہیں فلمی گانے بآواز بلند بج رہے تھے ۔ دفتر جانے کے لئے سڑک پر آئے تو وہی روزانہ کی ہنگامہ آرائی ۔ آگے نکل جانے کی دوڑ میں ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی اور جھگڑے ۔ گالی گلوچ ۔ ہاتھا پائی  کے مناظر ۔ قریب سے ایک بس گزری تو اس میں بھی اونچی آواز میں گانے بج رہے تھے ۔ پیچھے ایک بائیک پر ایک صاحب ایک خاتون کے ہمراہ رواں دواں تھے جو لباس پہنے ہوئے ہونے کے باوجود بے لباسی کی تصویر بنی ہوئی تھیں۔ بس اسٹاپ پر بھی دفتر اور اسکول جانے والی خواتین کی بے پردگی اور فیشن زدگی حسب معمول تھی ۔ اور اس “دعوت نظارہ “پر لبیک کہنے والے راہ چلتے ہر عمر کے مردوں کی رال بھی روزانہ کی طرح ٹپک رہی تھی ۔ سڑک کے کنارے لگے دیو ہیکل سائن بورڈز اور ہورڈنگز پر  حیا باختگی کے مناظر بھی جوں کے توں تھے ۔

دفتر پہنچے تو وہاں بھی وہی بے تکے اور بے ہودہ تبصرے ، تکیہ کلام کے طور پر گالیوں کا بے محابہ استعمال ۔ اسی دوران ایک انشورنس کمپنی کا ایجنٹ اپنی کمپنی کی دنیا بنانے یعنی سودی بزنس بڑھانے کے لئے گاہک گھیرنے آن پہنچا اور یوں اپنے ساتھ ساتھ گاہکوں کی بھی عاقبت خراب کرنے کی تگ و دو کرنے لگا۔ چائے پینے کے لئے کوئٹہ ہوٹل پر بیٹھے تو وہاں بھی ہوٹل کے مالک نے اپنے لئے “صدقہ جاریہ ” کا اہتمام کیا ہوا تھا یعنی جہازی سائز کے ٹی وی پر ہندوستانی فلم چل رہی تھی جس میں ناچ گانے کے علاوہ “بولڈ ” مناظر بھی رواں دواں تھے ۔ اطراف میں بیٹھے لوگوں کا بھی موضوع گفتگو وہی سیاست اور اس بحث کے دوران سیاستدانوں کے بارے میں وہی بد کلامیاں ، گھٹیا تبصرے …. مذاق کے نام پر بے ہودہ لطیفے اور فحش اشارے ۔

ڈیوٹی کے دوران ایک اسکول کا وزٹ کیا  تواسکول کے پلے ایریا میں ایک میراثی یعنی میوزک ٹیچر معصوم بچوں کو سُر سنگیت کے رموز و اوقاف سکھانے میں مصروف تھا۔ اور وہاں موجود استانیوں کی فیشن زدگی اور میک اپ کو دیکھ کر لگا کہ گویا ٹیچنگ نہیں ماڈلنگ کے لئے آئی ہوئی ہیں ۔ ایک اسپتال کا وزٹ کیا تو وہاں استقبالیہ کاؤنٹر پر بھی ایسی ہی مخلوق سے پالا پڑا …بلکہ وہاں تو خواتین کا ساتھ کام کرنے والے مردوں سے ہنسی مذاق دیکھ کر یہی محسوس ہوا کہ یہ بھی معمول کی بات ہے۔ قریب ہی بہت سارے بینک تھے جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ روزانہ کی طرح پوری شدت سے جاری تھی۔ ایک دوکان پر کچھ خریدنے کے لئے پہنچے تو دیکھا کہ حضرت نے موبائل فون کو کمپیوٹر کے اسپیکرز سے کنکٹ کر کے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کی “جگاڑ “کر رکھی تھی ۔ اس کو ہم نے گزشتہ کل کا واقعہ یاد دلایا تو سنتے وقت اس کے چہرے کی ناگواری و بیزاری دیدنی تھی ۔

ظہر کا وقت ہوا تو مسجد میں نماز پڑھنے گئے ۔ وہاں نمازیوں کی وہی مختصر سی تعداد ۔ پھر حسب معمول دوران نماز موبائل فون پر بجتی ہوئی موسیقی کی دھنیں اور نغمے ۔ نماز کے بعد مسجد سے آگے بڑھے تو گلی میں گول گپے والا احمد رشدی کی روح کو ” ایصال ثواب”  پہنچاتا اور اہل محلہ کی “دعائیں” لیتا ہوا جا رہا تھا ۔ پیچھے پیچھے والز آئس کریم والا اپنی سائیکل نما ریڑھی پر مخصوص دھن بجاتا ہوا اس “کار خیر “میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا ۔ قریبی اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی  اور وہاں بھی اسی نوعیت کے مناظر تھے ۔

شام کو پارک میں جانا ہوا تو وہ بھی حسب معمول “ڈیٹ پوائنٹ “بنا ہوا تھا۔ پارک کے مختلف گوشوں میں لڑکے لڑکیاں دنیا و مافیہا سے بے نیاز عہد و پیمان میں مصروف تھے بلکہ کہیں کہیں تو بات “کافی آگے “بڑھ چکی تھی ۔ جاگنگ ٹریک پر دوڑتے ہوئے مردوں نے کانوں پر حسب معمول ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے ۔ کچھ خواتین بھی وزن کم کرنے یا خود کو فٹ رکھنے کی جستجو میں واک کر رہی تھیں  اور روزانہ کی طرح اطراف میں بیٹھے حضرات کا سانس پھلائے دے  رہی تھیں۔ رات کو پڑوس میں “مہندی “کی تقریب تھی ۔ وہاں بھی اس نوعیت کی تقریبات کی طرح گویا “پریاں “اتری ہوئی تھیں ۔  محفل حسب معمول مخلوط تھی جس میں رقص و موسیقی کا انتظام “بصد اہتمام” نظر آیا ۔

 قارئین ! آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی کیا اوٹ پٹانگ ہانکے جا رہے ہو۔ صاف صاف کہو کیا کہنا ہے ؟

 تو جناب !عرض یہ کرنا تھا کہ

“ایک دن قبل  ہمارے شہر میں زلزلہ آیا تھا ۔ “

اللہ نے فضل فرمایا کہ اتنی بڑی آفت بغیر کوئی نقصان پہنچائے ٹال دی گئی …. لیکن اگلے دن سب کچھ ویسے کا ویسے ہی تھا … سب کے معمولات جوں کے توں تھے… جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ یہ زلزلہ بتا کر نہیں آیا تھا …. اور ملک الموت بھی آنے سے پہلے کال یا ایس ایم ایس نہیں کرے گا….  نہ  ہی قیامت اطلاع دے کر آئے  گی ۔ اور یہ  بھی یاد رہے کہ

مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَت قَیَامَتُہ‘

ترجمہ: جو مر گیا اس کی قیامت آ گئی ۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہماری آخری گھڑی آئے …. تو ہم اس وقت کوئی ایسا کام کر رہے ہوں کہ …. خدانخواستہ ہمارا ایمان پہ خاتمہ بھی شک میں پڑ جائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ(اٰل عمران۔ 102 )

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

Behaviors & Attitudes, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Just for a few days…

چند ہی دن کی تو بات ہے

از۔۔۔ ابو شہیر

ہمارے ایک دوست شیر دل کا تعلق صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں سے ہے ۔ گزشتہ دنوں ہم سب دوستوں نے پروگرام بنایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ  شیر دل کے گاؤں میں کچھ وقت گزارا جائے۔ چنانچہ بروز ہفتہ صبح چھ بجے شالیمار ایکسپریس سے روانہ ہوئے ۔ اور شام چار بجے دو گھنٹہ تاخیر سے رحیم یار خان ریلوے اسٹیشن پر اترے ۔ جہاں سے گاؤں جانے کے لئے شیر دل نے فون پر رابطہ کر کے پہلے ہی سے ایک ٹویوٹا ہائی ایس کا انتظام کروا لیا تھا ۔ جس وقت شیر دل کے گھر پہنچے تو شام کے کوئی ساڑھ پانچ چھ بج رہے تھے ۔ شیر دل کے گھر والوں نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا ۔ مردوں کے قیام کے لئے گھر کے بیرونی حصے میں انتظام کیا گیاتھا جبکہ خواتین کو پہلے تو گھر کے اندرونی حصے میں لے جایا گیا اور بعد ازاں قریب ہی ایک دوسرے گھر میں ان کے قیام کا انتظام کر دیا گیا۔

گاؤں کے دوسرے گھروں کی طرح شیر دل کا گھر بھی کچا پکا سا بنا ہوا تھا ۔ لال اینٹوں سے تعمیر شدہ چند کمرے تھے جبکہ چہار دیواری خالص دیہاتی طرز پر مٹی گارے اور بھوسے کی لپائی سے تعمیر کی گئی تھی ۔ ہم مردوں کو گھر کے بیرونی حصہ میں ٹھہرایا گیا تھا جس میں ایک درمیانے سائز کا کمرہ بنا ہوا تھا جبکہ بقیہ حصہ صحن تھا ۔ صحن کے ایک کونے میں ایک عدد بیت الخلا تھا جس کی چھت ندارد تھی اور دروازے کے نام پر بھی محض ایک ٹاٹ کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ لیکن بقول شیر دل یہ بھی ہماری ہی سہولت کی خاطر تعمیر کیا گیا تھا ۔ بیت الخلا کے باہر ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا ۔ دوسرے کونے میں ایندھن جمع کیا ہوا تھا جس میں اپلے ، گھاس پھونس اور لکڑی شامل تھی ۔ ایک کونے میں چھپر ڈال کر “کچن “نما ایک چیز بنی تھی جس میں مٹی کی لپائی سے چولہا بنایا گیا تھا ۔ چند پلنگ تھے جو دن کے وقت کمرے کے اندر کر دیئے جاتے اور شام میں باہر صحن میں بچھا لئے جاتے۔ پھر یہی ڈرائنگ روم بن جاتا اور بعد ازاں بیڈ روم۔ اوپن ایئر ڈرائنگ روم اور بیڈ روم۔

موسم گرما کا آغاز ہو چکا تھا ۔ دن میں خاصی گرمی ہوتی تھی ۔ لیکن رات کے وقت موسم کافی خوشگوار بلکہ درحقیقت خنک ہو جاتا تھا ۔ موٹی چادر اوڑھنی پڑ جاتی تھی ۔ واپڈا والوں کی مہربانی سے بجلی چوبیس گھنٹوں میں سے بمشکل چند گھنٹے ہی میسر ہوا کرتی تھی یعنی   ؎ “آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ “والا معاملہ تھا۔ رات میں بجلی کی غیر موجودگی میں گاؤں میں تو بالکل گھپ اندھیرا ہو جاتا تھا ۔ ایسے میں جب چارپائی پر لیٹتے تو تاروں بھرا آسمان نہایت دل کش منظر پیش کر رہا ہوتا تھاجسے دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتے کہ کراچی میں تو اگر مطلع صاف بھی ہو ، تب بھی آسمان پر اتنے تارے کہاں نظر آتے ہیں ۔  آہ! شہر کی روشنیوں نے تو آسمان کا حسن ہی دھندلا کر رکھ دیا ہے ۔

شہر کے تکلفات کو چھوڑ کر گاؤں میں زندگی کا کچھ وقت بسر کرنے کا تجربہ سب کے لئے نیا لیکن خوشگوار اور یادگار رہا ۔ شہر میں ہمیں جو آسائشیں اور سہولیات میسر ہیں ، گاؤں میں ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ سو اب جو کچھ میسر تھا ، اسی میں گزارا کرنا تھا ۔کچی زمین ، بغیر پلستر کا کمرہ ۔ نہ کرسی نہ صوفہ نہ بیڈ نہ میٹرس ، سو چارپائی ہی کرسی صوفہ تھی اور چارپائی ہی بیڈ ۔ میٹرس کے بجائے موٹی چادر بچھی ہوتی تھی لیکن نیند تو اس پر بھی آ ہی جاتی تھی، اور وہ بھی پرسکون نیند۔ بجلی کی موجودگی میں مدھم روشنی اور عدم موجودگی میں گھپ اندھیرا۔ کون سا یو پی ایس اور کہاں کا جنریٹر ۔ تو اندھیرے سے بھی دوستی ہو گئی ۔ بہت ضرورت پڑتی تو موبائل فون کی ٹارچ سے کام چل جاتا تھا ۔ نہ ٹی وی ، نہ کمپیوٹر ، نہ انٹر نیٹ نہ فیس بک ۔ ٹیکنالوجی کے نام پر لے دے کے فقط ایک موبائل فون ہی تھا ۔

صبح فجر کی نماز کے بعد ہم سب تیار ہو کر باہر سیر کو نکل جاتے ۔ اطراف میں گندم اور گنے کے کھیت بھی تھے اور آم کے باغات بھی ۔ تو کبھی ادھر کو نکل جاتے کبھی ادھر کو ۔ اور جس وقت سورج کی سنہری کرنیں گندم کی سنہری بالیوں پرپڑتیں تو یہ “طلائی منظر “قابل دید ہوتا تھا ۔ آم کے باغ میں جاتے تو وہاں ماحول پر طاری گھمبیرتا ایک الگ ہی تاثر دے رہی ہوتی ۔ درختوں پر چڑھ کر بچپن کی یادیں تازہ کرتے ۔ بہت دیر او ر بہت دور تک سیر کرنے کے بعد جب گھر واپس پہنچتے تو یوں لگ رہا ہوتا تھا کہ جیسے دن کے بارہ ایک بج چکے ہوں گے …. لیکن گھڑی پر نگاہ پڑتی تو حیرت ہوتی کہ ہائیں …. ابھی تو صرف نو ساڑھے نو ہی بجے ہیں! کچھ ہی دیر میں شیر دل کے بھائی بھی آ کر بیٹھ جاتے۔ پتہ چلتا کہ صبح منہ اندھیرے کھیتوں میں جا کر اپنے روزمرہ کام کر آئے ہیں اور اب پورا دن فراغت ہی فراغت ہے ۔ لو جی ! ہم شہر والوں کے تو کام ہی ختم نہیں ہوتے کہ دن ختم ہو جاتا ہے ۔ معاملات و معمولات میں اک ذرا سی تبدیلی سے وقت میں کتنی برکت آ جاتی ہے۔

پورے گھر میں نہ نلکا تھا نہ شاور نہ ٹونٹی نہ بیسن نہ کموڈ ۔ بیت الخلاء جانا ہوتا تھا تو ہینڈ پمپ سے لوٹے میں پانی بھر لیا جاتا ۔ نہانے کا “فطری “طریقہ یہ تھا کہ پاجامہ یا لنگی باندھ کر ہینڈ پمپ کے نیچے ہی بیٹھ جاتے ۔ پھر پہلے ایک ساتھی ہینڈ پمپ چلاتا اور دوسرا نہا لیتا ۔ بعد میں دوسرا پہلے کی مدد کرتا ۔ خواتین گھر کے اندرونی حصے میں بنے بیت الخلاء میں ہی اپنی ضروریات پوری کر لیا کرتی تھیں ، خوش قسمتی سے جس کی چھت بھی تھی اور دروازہ بھی۔ پینے کے لئے بھی یہی ہینڈ پمپ کا پانی استعمال ہوتا تھاکہ منرل واٹر کہاں سے لاتے اور کتنا لاتے ! بچوں نے بھی یہی پانی پیا اور اللہ کے فضل سے سب صحتمند ہی رہے ۔

گھرمیں چولہا تھا نہ علاقے میں گیس دستیاب تھی ۔ سو کھانا مٹی یا اینٹوں سے بنے چولہے پر پکایا جاتا اور ایندھن کے طور پر اپلے اور لکڑی کا استعمال کیا جاتا۔ کھانا مقامی خواتین ہی بناتی تھیں تاہم ہماری خواتین نے بھی ایک وقت کا کھانا ان ہی حالات میں بنایا ۔ اور ما شا اللہ خوب بنایا ۔ اور یہ بتانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ کھانے پکانے اور برتن دھونے کے لئے بھی ہینڈ پمپ کا پانی ہی استعمال ہوتا ۔ سواری بھی کوئی پاس نہ تھی …. لیکن جانا بھی تو کہیں نہیں ہوتا تھا ۔ بس گاؤں کی حدود تک ہی محدود تھے ۔ تاہم یہ حدود اتنی محدود بھی نہ تھیں ۔ اور “گیارہ نمبر ” کی سواری یعنی دو ٹانگوں پر کہاں کہاں نہ پھرے ۔

واپس آ کر خیال آیا کہ بجلی ، گیس ، منرل واٹر ، ٹی وی ، کمپیوٹر ، انٹر نیٹ ، وائی فائی ، فیس بک ، ای میل ،اسکائپ،  صوفہ ، کرسی ، ٹیبل ، بیڈ ، میٹرس ، اے سی، مائیکرو ویو، استری، پانی کی موٹر، گیزر ، کار ، موٹر سائیکل ، نلکے ، شاور ، کموڈ ، امریکن کچن …  غرض بے شمار سہولیات کے بغیر بھی وقت گزر ہی گیا …اور خوب گزرا ۔

سوچنا شروع کیا کہ کیسے ؟ آخر کیسے گزر بسر ہو گئی ؟ بہت سوچا ۔ بہت سوچا ۔ بالآخر وجہ سمجھ آئی …. کہ چونکہ دل کو یہ اطمینان تھا …. یہ ڈھارس تھی … یہ یقین تھا کہ بس دو ہی دن کی تو بات ہے ، پھر گھر جا کر سارے مزے کریں گے…. تو بس گزارا ہو گیا ۔

قرآن بھی تو یہی یاد دہانی کرا رہا ہے :

قَـٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ O قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ۬ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ O قَـٰلَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلاً۬‌ۖ لَّوۡ أَنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ O

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیئے ۔ (خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔ کاش تم جانتے ہوتے ۔ ( سورۃ المؤمنون ۔ ۱۱۲۔۱۱۴ )

آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کتنی مختصر ہے !قرآن تو گویا ایسے بتا رہا ہے جیسے کوئی شخص صبح دفتر یا دوکان جانے کے لئے نکلتا ہے … اور شام کو گھر واپس آ جاتا ہے۔ کیوں نہ یہ مختصر سا وقت اللہ رب العزت کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزار لیا جائے ….  خواہشات کی تکمیل اور سہولیات کی تگ و دو میں حرام کاریاں کرنے کی بجائے دل کو یہ تسلی اور نفس کو یہ تھپکی دے دی جائے کہ بس چند گھنٹوں ہی کی تو بات ہے…. پھر ان شآء اللہ جنت میں جا کر مزے کریں گے۔

آپ چاہیں تو ہماری یہ گاؤں کے سفر کی روداد ایک بار پھر پڑھ لیجئے … یا اپنا کوئی ایسا سفر یاد کر لیجئے ۔ خلاصہ یہی نکلے گا کہ  ….

“جو کچھ ہمیں دستیاب ہے ، زندگی اس سے بہت کم میں بھی بسر ہو سکتی ہے ….

اگر یہ یقین ہو جائے کہ ….

فقط چند ہی دن کی تو  بات ہے ۔ “

Behaviors & Attitudes

Saadi

“سادی”

از ابو شہیر

نبیل ان دنوں بہت خوش تھا۔ اللہ اللہ کر کے وہ وقت آ گیا تھا کہ جب اس کی بہن ، مامون کی دلہن بن کر رخصت ہونے جا  رہی تھی ۔ اللہ کے فضل سے گھر میں کسی چیز کی کمی تھی نہ کوئی مالی پریشانی ۔ پھر بھی نبیل کی خواہش تھی کہ اس موقع پر سنت نبوی ﷺ کی پیروی میں سادگی کو حتی الامکان فوقیت دی جائے ۔ کوئی اور ہوتا تو نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے! لیکن مامون چونکہ اس کا دوست تھا ، چنانچہ بہت آسانی ہو گئی تھی ۔ دونوں نے چونکہ “اسلام قبول کیا ہوا تھا “، چنانچہ کسی مہندی ، مایوں ، یا گانے باجے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔

چند ماہ قبل نکاح بھی اس طرح ہوا تھا کہ نہایت قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو مدعو کر لیا گیا اور سنت کے مطابق مسجد میں نکاح منعقد ہوا ۔ اب رخصتی کا وقت آیا تو طے پایا کہ لڑکے کے گھر سے چند افراد آئیں گے ۔ تواضع کے نام پر سب کو محض چائے کی ایک پیالی پیش کی جائے گی۔ جس کے بعد لڑکی کو رخصت کر دیا جائے گا ۔ نبیل کے خاندان والوں کو پتہ چلا کہ شادی اتنی “سادی ” ہو گی تو کسی نے تبصرہ کیا : “آئے ہائے ! ان بیچاروں کو تو خوشیاں منانی بھی نہیں آتیں ۔ “

نبیل انہی خیالات میں گم آفس جا رہا تھا ۔ گاڑی میں سی ڈی پلیئر پر ایک معروف عالم دین کا اصلاحی بیان چل رہا تھا۔ دفعتاً مولانا کی آواز گونجی:

“فاطمہ ؓ  کی ڈولی کیسے اٹھی ۔۔۔؟ جنت کی عورتوں کی سردار ، شہزادی فاطمہ ؓ ، اللہ کے محبوب ﷺ کی محبوب ، جگر کا ٹکڑا ۔۔۔ دیکھو ! کیسے اس کی شادی ہوئی ؟ مسجد میں نکاح ہوا حضرت علی ؓاور حضرت فاطمہ ؓ کا ، ایک سادہ سی تقریب میں ۔ دو مہینے بعد رخصتی ہوئی ۔ رخصتی کیسے ہوئی ؟ حضرت علی ؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ! رخصتی ہو جائے ؟ مطلب یہ تھا کہ آپ کوئی وقت بتا دیں تو میں آ کے لے جاؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بہت اچھا ! انشاء اللہ کر دیں گے ۔ یہ ظہر یا عصر کی بات ہے ۔ بہرحال جس دن یہ بات ہوئی اس دن مغرب کی نماز پڑھ کے آپ ﷺ گھر تشریف لائے اور کسی کو بھیجا کہ جاؤ ، ام ایمن ؓ     کو  بلا کے لاؤ ۔ ام ایمن کو آدمی بلانے چلا گیا ۔ حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں گھر کا کام کر رہی تھی ، میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ابھی کیا ہونے والا ہے ۔ اتنے میں ام ایمن آ گئیں ۔ حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حیران رہ گئی جب اچانک میرے کان میں آواز پڑی کہ ام ایمن ! فاطمہ کو علی کے گھر چھوڑ کے آ جاؤ ۔

یہ دو جہاں کے سردار ﷺ کی بیٹی رخصت ہو رہی ہے ۔ یہ اس کی بارات جا رہی ہے ۔ نہ باجا نہ گاجا ، نہ میلہ نہ ٹھیلا ، نہ بھانڈ نہ مراثی ، نہ ناچنے والے نہ ناچنے والیاں ، کچھ بھی تو نہیں ۔ نہ کوئی مہندی ہوئی ۔۔۔ نہ کوئی ڈھول بجے۔۔۔ نہ کوئی ڈولی  ۔۔۔ گاڑیاں نہیں تھیں اس وقت تو چلو کوئی ڈولی ہی آ جاتی! نہ کوئی ڈولی نہ بارات ۔۔۔ نہ کوئی آگے نہ پیچھے ۔۔۔۔ دو جہان کے سردار کی بیٹی ۔۔۔ جنت کی عورتوں کی سردار بیٹی ۔۔۔ اپنے پاؤں پہ چل کے رخصت ہو کے جا رہی ہے ۔ کسی کو نہیں بلایا اللہ کے نبی ﷺ نے ۔ ایسا کیوں کیا ؟ بنی ہاشم کو لے کے نہیں جا سکتے تھے ؟ بنی ہاشم چھوڑو ، سارے صحابہ ؓ اکٹھے کر لئے جاتے کہ بھائی سب آ جاؤ! میری بیٹی رخصت ہونے والی ہے ۔ یہ سب نہیں ہو سکتا تھا ؟ کیوں نہیں کیا یہ سب ؟ تاکہ امت کی غریب بچیاں آسانی سے بیاہی جا سکیں ۔  “

” یہ دیکھو! عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ۔ ہاں ! یہ وہی عبدالرحمان بن عوف ؓ ہیں جن کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ انہیں حضور ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت سنا دی ۔ یہ وہی عبد الرحمٰن بن عوف ہیں جن جیسا تاجر دنیا نے نہیں دیکھا۔ دولت ان پر برستی تھی ۔ یہ اپنی زندگی میں چالیس چالیس ہزار ایک ایک وقت میں اللہ کی راہ میں لٹا دیتے تھے ۔ سامان جہاد کے لئے آواز لگائی جاتی تو پانچ پانچ سو گھوڑے اور اونٹ ہدیہ کر دیتے ۔ زندگی میں ہزاروں غلام اور کنیزیں آزاد کیں۔ جب فوت ہوئے تو پیچھے کثیر جائیداد کے علاوہ ١ ہزار اونٹ،٣ ہزار بکرياںاور سو گھوڑے چھوڑے۔ سونا اتنا تھا کہ اسے کلہاڑی سے کاٹا گيا اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں ميں چھالے پڑ گئے۔ ان کی ٤ بيواؤں تھیں ، ہر ايک کو ٨٠ ہزار دينار ملے۔ ٥٠ ہزار ديناران کی وصيت کے مطابق مسافروں کو ديے گئے۔ جنگ بدر ميں حصہ لینے والے ہر صحابی کے ليے انھوں نے ٤٠٠ دينار کی وصيت کی تھی، جن کی تعداد ١٠٠ تھی۔ امہات المومنين کے ليے ایک باغ کی وصیت کی ، جو ٤ لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔

یہ دیکھو میرے دوستو! یہ اس کروڑ پتی رئیس کی شادی ہو رہی ہے ۔ جس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا … تو اتنی سادگی سے  … کہ وقت کے نبی رسول اکرم ﷺ تک کو بھی مدعو نہیں کیا ۔ نکاح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان دیکھ کر آپ ﷺ نے پوچھا : کیا نکاح کر لیا ہے ؟ کہا: جی ہاں ۔ دریافت فرمایا: کس سے ؟ جواب دیا: ایک انصاری عورت سے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : اسے مہر کتنا دیاہے ؟ انہوں نے کہا :ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔

دیکھو بھائیو! کتنا آسان کر دیا تھا میرے نبی ﷺ نے شادی کو … آج ہم نے اس کو مشکل ترین چیز بنا دیا ہے ۔ سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ کرو تو پتہ چلے کہ اس دور میں شادی کرنا کیسی عام سی بات تھی …. جیسے دفتر یا دوکان کو جانا ، گھریلو کام کاج کرنا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو زندگی میں ایک ہی بار ہو بلکہ معمول کے کاموں میں سے ایک کام تھا ۔ ولیمہ کے مشورے سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ اچھا شادی کر لی ، تو اب ولیمہ بھی کرو … یعنی یہ  فارمیلٹی پوری کر دو اور بس۔ میرے نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنایا اور زنا کو مشکل … آج ہماری فضول رسومات کے باعث نکاح دنیا کا مشکل ترین کام بن گیا ہے ۔

بتاؤ تو میرے بھائیو! کوئی کمی تھی کیا عبد الرحمٰن بن عوف ؓ  کو! کوئی تنگی تھی کیا عبد الرحمٰن بن عوف ؓ  کو! ایک ایک وقت میں چالیس چالیس ہزار دینار لٹانے والا… کیا چند لوگوں کو کھانا نہیں کھلا سکتا تھا وہ ؟ چند لوگ کیا … پورے مدینہ کو کھانا نہیں کھلا سکتا تھا کیا وہ ؟ کیا پورے مدینہ کو قمقموں اور جھنڈیوں سے نہیں سجا سکتا تھاوہ؟ کیا پورے مدینہ کو شادی کا پنڈال نہیں بنا سکتا تھا وہ ؟ آج ہے کوئی رئیس زادہ جو دولت میں اس کا مقابلہ کر سکے ؟ اتنی دولت کے بعد اس کی “سادی ” ہو رہی ہے ۔ غور کرو میرے بھائیو!  شادی نہیں سادی ہو رہی ہے ۔ کہ شریعت مصطفوی ﷺ میں یہی مقصود و مطلوب و محبوب ہے ۔ ہاں ! آج امراء کی شاہ خرچیوں نے غریب بچیوں کی شادیاں بھی مشکل بنا دی ہیں ۔  “

نبیل یہ سی ڈی بارہا سن چکا تھا ۔ لیکن آج ایک بار پھر یہ سب کچھ سنا تو ایک سوال اس کے ذہن میں ابھرا۔۔۔

“جانے کسی نے اللہ کے رسول ﷺ کو یا ان کے صحابہ ؓ   کو یوں کہا ہو گا :

آئے ہائے ! ان بیچاروں کو تو خوشیاں منانی بھی نہیں آتیں ۔”

Behaviors & Attitudes, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

O believers, believe!

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا ۔۔۔

از ابو شہیر

آج سے چودہ سو برس قبل سرزمین عرب کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی ۔ پورا معاشرہ زبوں حالی کا شکار تھا ۔ دین ابراہیمی کی جگہ شرک و بت پرستی نے لے لی تھی ۔ ہر ہر قبیلے اور ہر ہر گھر میں ایک ایک بت تھا ۔ فتح مکہ کے وقت خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے۔ دور جاہلیت میں مشرکین بتوں کے پاس مجاور بن کر بیٹھتے تھے ، انہیں حاجت روا و مشکل کشا اور اللہ کے آگے سفارشی سمجھتے تھے ۔ بتوں کے آگے سجدہ و طواف کرتے ، نذرانے اور قربانیاں پیش کرتے ۔ فال گیری اور نجومیوں و کاہنوں کی خبروں پر یقین رکھتےتھے ۔ بعض اوقات و ایام اور مقامات کو منحوس سمجھتے تھے ۔ قبائلی عصبیت و نسلی تفاخر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلواریں نکل آتیں اور پھر سالہا سال لڑائیاں جاری رہتیں۔ انتقام لینا زندگی کا مقصد بن جاتا تھا۔ جھوٹ ، چوری، دھوکہ فریب ، زنا، قمار بازی، فحاشی، عریانی عام تھی ۔ شادیوں کی کوئی حد نہ تھی ۔ بیک وقت دو سگی بہنوں یہاں تک کہ سوتیلی ماں سے بھی نکاح جائز تھا۔ شراب اور جوا عام تھا ۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے  تھے ۔

جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو کفار نے آپ ﷺ کا مذاق اڑایا، آپ ﷺکو برا بھلا کہا، آپ ﷺ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ ڈالے، آپ ﷺ کو ستایا ، ڈرایا ، دھمکایا …. لیکن پھر انہی میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائے ۔  اور پھر اسلام قبول کرنے والے ان لوگوں  نے …. بت پرستی کو چھوڑ دیا ….  بتوں کے پاس مجاور بن کر بیٹھنا چھوڑ دیا …. ان کی پناہ ڈھونڈنا چھوڑ دیا … انہیں زور زور سے پکارنا اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ان سے فریاد اور التجائیں کرنا چھوڑ دیا …. ان کو اللہ کے آگے سفارشی سمجھنا چھوڑ دیا …. بتوں کا حج و طواف کرنا چھوڑ دیا …. ان کے سامنے عجز و نیاز سے پیش آنا اور انہیں سجدہ کرنا چھوڑ دیا …. بتوں کے لئے نذرانے اور قربانیاں پیش کرنا چھوڑ دیا …. بتوں کے نام پر جانور ذبح کرنا چھوڑ دیا …. بتوں کے نام کی نذر ماننا چھوڑ دیا … ازلام یعنی فال گیری کے لئے استعمال ہونے والے تیروں کو چھوڑ دیا …. نجومیوں اور کاہنوں کی باتوں پر ایمان لانا یقین کرنا چھوڑ دیا …. کاہنوں کو عالم الغیب سمجھنا چھوڑ دیا …. مختلف حالات و واقعات سے اچھا برا شگون لینا چھوڑ دیا … بعض دنوں ، مہینوں ، جانوروں ، گھروں اور عورتوں کو منحوس سمجھنا چھوڑ دیا … بیت اللہ کا برہنہ طواف چھوڑ دیا …. آپس کی سالہا سال سے جاری لڑائیوں کو چھوڑ دیا ….  قبائلی عصبیتوں کو چھوڑ دیا … غرور و تکبر اور نسلی تفاخر کو چھوڑ دیا …. جھوٹ کو چھوڑ دیا … غیبت کو چھوڑ دیا … چوری کو چھوڑ دیا … دھوکہ دہی کو چھوڑ دیا… مکر و فریب کو چھوڑ دیا …. منافقت کو چھوڑ دیا …. بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا چھوڑ دیا ….  بچوں کو فقر و فاقہ کے ڈر سے قتل کرنا چھوڑ دیا …. قبروں پر نوحہ اور بین کرنا چھوڑ دیا …. سود لینا دینا کھانا چھوڑ دیا … مردار کھانا چھوڑ دیا …. حرام کھانا چھوڑ دیا …. شراب پینا پلانا چھوڑ دیا … جوا کھیلنا چھوڑ دیا …. قمار بازی چھوڑ دی … بد کاری و بے حیائی کو چھوڑ دیا … فحش کاری و زنا کاری کو چھوڑ دیا …. ان گنت عورتوں کو بیویاں بنانا چھوڑ دیا …. لہو و لعب کو چھوڑ دیا …. گانے بجانے کو چھوڑ دیا…. غرض یہ کہ زمانہ جاہلیت کی تمام برائیوں اور ساری رسومات کو چھوڑ دیا ….

پھر نہ صرف یہ کہ برائیوں کو چھوڑا بلکہ اچھائیوں کو بھی اپنا لیا …. ایک اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے …. اسی کو حاجت روا و مشکل کشا مان لیا….  اسی کو حافظ و ناصر سمجھ لیا…. اللہ کے حکم پر اس کے گھر کا حج و طواف اختیار کیا …. اللہ کے آگے عاجزی اختیار کی …. اپنے سجدے اللہ ہی کے لئے مخصوص کر دیئے …  اپنی نذر اور قربانی اللہ ہی کے لئے مخصوص کر دی …. ایک اکیلے اللہ کو عالم الغیب مان لیا… اللہ کی ذات اور اس کی تمام صفات پر ایمان لے آئے … اللہ کے فرشتوں پر ایمان لائے …. اللہ کی کتابوں پر ایمان لائے …. اللہ کے رسولوں پر ایمان لائے …. یوم آخرت پر ایمان لائے …. ہر نفع نقصان کو کاتب تقدیر کی منشاء سمجھ لیا … موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور خالق کائنات کے سامنے جوابدہی پر ایمان لائے … یوم جزا ، جزا و سزا ، جنت ، جہنم، پل صراط، عرش ، کرسی ، لوح محفوظ سب پر ایمان لائے …. آپس کی رنجشوں کو بھلا کر باہم شیر و شکر ہو گئے …. سچائی اختیار کی …. پاک دامنی اختیار کی … انکساری اختیار کی …. ایثار و تواضع اختیار کی …. بیٹیوں کو اللہ کی رحمت سمجھا …. عورتوں کی عزت کرنا شروع کی …. وراثت میں عورتوں کے حق کو حق جانا… عورتوں کی عصمت کے محافظ بنے … رزق حلال کے لئے تگ و دو کو عبادت سمجھ لیا …. شریعت نے تعدد ازواج کو محدود کیا تو چار بیویوں تک محدود ہو گئے …. نماز کی اہمیت کو سمجھا… نماز کے وقت کاروبار بند کئے …. خشوع و خضوع کے ساتھ نماز قائم کی …. رمضان المبارک کے روزے رکھے …. زکوٰۃ سے تزکیہ نفس کیا …. تقویٰ کو فضیلت کا معیار سمجھ لیا … دولت جمع کرنے کی بجائے نیکیاں جمع کرنے میں ایک دوسرے سے ریس لگائی… صدقات وخیرات میں آگے نکل جانے کی جستجو کی …. جہاد میں سر فروشی کے ریکارڈ قائم کئے …. دنیا کو دھوکے کا گھر جان لیا …. معاشرے میں عدل و انصاف قائم کیا …  مساوات قائم کی … اقامتِ دین کی خاطر جدو جہد کی … امر بالمعروف کے ساتھ ساتھ نہی عن المنکر کو بھی لازم سمجھ لیا … اللہ سے محبت کی …. اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کی…. شریعت کے ہر ہر حکم کو لبیک کہا … سنت کے ہر ہر عمل کو اختیار کیا …. داڑھیاں رکھیں …. شلواریں، پاجامے ٹخنوں سے اونچے کر لئے …. اپنی خلوت و جلوت کو اللہ کے ذکر سے معمور کیا ….  ذکر اللہ کو روح کی غذا سمجھ لیا …. اللہ کی بارگاہ سے رضی اللہ عنہ کی ڈگری مل جانے کے باوجود قرآن کی تلاوت کے دوران رونا معمول بنا لیا…   نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ جنت کا طالب اور جہنم سے خائف رات کو سوتا نہیں تو اللہ کی پکڑ اور جہنم کے خوف سے راتوں کو اٹھ کر نمازوں میں رونا معمول بنا لیا …  اللہ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کی تو عورتوں نے مان لیا…. پردے کو اختیار کیا …. گھروں میں مستور ہو جانے کو پسند کر لیا …. زیب و زینت کو فقط اپنے شوہروں کے لئے محدود کر لیا …. اپنے شوہروں کو اپنے سر کا تاج اور مجازی خدا سمجھ لیا …. غرض یہ کہ صحابہ کرام ؓ نے اللہ ، رسول ﷺ ، قرآن و سنت یعنی شریعت کے ہر ہر حکم کو حق جانا ….

اللہ نے کہا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿النسآء۔136﴾

اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنی پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روزقیامت سے انکار کرے وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا ۔

انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ۔

اللہ نے کہا :

قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ ….. (اٰل عمران۔ 31)

(اے پیغمبر ! لوگوں سے ) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ۔

انہوں نے پیروی اختیار کر لی ۔

اللہ نے کہا:

وَمَآ ءَاتَٮٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَہَٮٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْ‌ۚ (الحشر۔7)

جو چیز تم کو پیغمبر ﷺ عطا کریں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔

بس انہیں جس بات کا حکم دیا گیا ، وہ اس پر جم گئے … اور جس سے روکا گیا ، اسے چھوڑ دیا ۔

اللہ نے کہا:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱدۡخُلُواْ فِى ٱلسِّلۡمِ ڪَآفَّةً۬ وَلَا تَتَّبِعُواْ خُطُوَٲتِ ٱلشَّيۡطَـٰنِ‌ۚ  ….. (البقرۃ ۔۔ 208)

اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو۔

وہ اسلام میں پورے پورے داخل ہو گئے ۔

 ذرا ہم بھی دیکھ لیں کہ کہیں ہم بھی تو وہی سب کچھ نہیں کر رہے جو مکہ کے مشرکین کی روش تھی؟ …. کہیں ہم بھی تو توہم پرست نہیں ہو گئے ؟ …. چیزوں اور دنوں کو منحوس تو نہیں سمجھنے لگے؟ …. اللہ کے سوا دوسروں کی چوکھٹوں پر تو سجدہ ریز نہیں ہو رہے ؟ …. اللہ کی صفات غیر اللہ میں تو تلاش نہیں کرنے لگ گئے ؟ … یا غیر اللہ کو تو اللہ کی صفات کا حامل نہیں سمجھنے لگ گئے؟ … باس یا افسر کو اللہ سے بڑھ کر تو نہیں ماننے لگے؟ …. اللہ کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا مذاق تو نہیں اڑانے لگ گئے ؟ …. برائی سے روکنے والوں کو برا بھلا تو نہیں کہنے لگ گئے ؟ …

تو دنیا میں اگر وہ کامیابی چاہئے جو عرب کے لوگوں کو قبول اسلام کے بعد ملی …. اور آخرت میں وہ مقام چاہئے جس کی رسول اللہ ﷺ نے بشارت دی تو چلو ہم بھی ایک بار پھر پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں …. جب اتنے سخت مشرکین کے لئے یہ ممکن تھا تو انشاء اللہ ہمارے لئے بھی اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائیں گے اور ثابت قدمی عطا فرمائیں گے….

اے آج کے مسلمانو!

آؤ ہم بھی ایک مرتبہ پھر سے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا ۔۔۔

Behaviors & Attitudes, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Daur Aaya Hy Be-Hijabi Ka

دَور آیا ہے بے حجابی کا

از ابو شہیر

لفظ “اشتہار “بھی عجیب ہے ! ماخذ اس کا شہرت اور مقصد اس کا تشہیر ہے ، لیکن اگر اس کا آخری حرف حذف کر دیا جائے ، تو اس کی فی زمانہ مقصدیت واضح ہو جاتی ہے ۔ سو آجکل یہ اشتہارات ہر قسم کی “اشتہا ” کو بڑھانے کے لئے محرک یا انگریزی اصطلاح کے مطابق appetizer کا کام دے رہے ہیں۔ اب چاہے وہ مصالحہ جات ہوں یا مربہ جات ، ماکولات و مشروبات ہوں یا ملبوسات …… یہ تمام اشتہارات بنتے ہیں باعثِ خللِ احساسات و محسوسات… پھر تمام اشتہارات میں مستورات ہی مستورات … اور اس کی پھر نت نئی تاویلات ….اور ہم جیسی سوچ رکھنے والے دخل در نا معقولات ۔ فی الحال تو اتنے ہی قافیوں پر اکتفا کیجئے ۔ (لفظ مستورات کو یہاں خواتین کے معنوں میں پڑھا جائے ۔ )

گرمی کیا آئی کہ لان بنانے والوں نے کارپٹ بمباری carpet bombing کی مانند اپنی مصنوعات کی تشہیری مہم کا آغاز کرتے ہوئے اشتہارات کی بھرمار کر دی ہے ۔ ٹی وی اور اخبارات پر ہی بس نہیں ، بلکہ ساتھ ساتھ پورے شہر میں جہازی سائز کے سائن بورڈز بھی آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔ جن  پر اس قسم کے جملے دیکھے جا سکتے ہیں۔

Spring Summer Collection… Available from 5th March at all leading stores

Fresh Arrivals … Launching on 22nd March, exclusively at THE MALL, CLIFTON

اور پھر جس طرح جیسے گھڑ دوڑ یا کار ریلی میں فائر کے ہوتے ہی گھوڑے بگٹٹ دوڑتے ہیں اور گاڑیاں زووووں کرتی آگے بڑھتی ہیں، اسی طرح خواتین مقررہ تاریخ پر شاپنگ سینٹرز ، کپڑے کی دوکانوں اور فیکٹری آؤٹ لیٹس outlets  کی جانب دوڑتی نظر آتی ہیں ۔ ایک دوست جو ابھی حال ہی میں لاہور سے ہو کر آئے ہیں، وہاں کے بازار کا حال بتانے لگے کہ “ایک اوسط درجہ کی کپڑے کی دوکان پر بھی تقریباً سارے ہی معروف برانڈز کی لان کا نیا اسٹاک دستیاب تھا جن کے حصول کے لئے خواتین باؤلی ہوئی جا رہی تھیں ۔ دوکان میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔ اور چار چار پانچ پانچ ہزار کے سوٹ دھڑا دھڑ بک رہے تھے ۔ “

صرف لاہور ہی کا کیا ذکر ، ہمارا شہر کون سا پیچھے ہے ۔  بتائیے !چار پانچ ہزار روپے کا سوٹ ، وہ بھی لان کا ؟ اور ابھی پانچ سات سو روپے سلائی  بھی جائے گی۔ کیا ہو گیا ہے ان خواتین کی عقلوں کو؟ اس سے کم میں یا اتنے میں تو پیور شیفون کے کڑھائی والے سوٹ یا بنارسی جوڑے مل جاتے ہیں جو کہ اچھے خاصے زرق برق ، دیدہ زیب اور پارٹی ویئر ٹائپ ہوتے ہیں۔ مانا کہ تقریبات کے ملبوسات کی نوعیت مختلف ہوا کرتی ہے لیکن کیا  اب casual wearing پر بھی اس قدر پیسہ صرف کیا جائے گا ؟ ایک تھری پیس لیڈیز سوٹ میں ساڑھے سات گز کپڑے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اب چار پانچ ہزار کو ساڑھے سات سے تقسیم کر کے ذرا حساب تو لگائیے کہ کیا بھاؤ پڑ گیا ایک گز کپڑا ؟

آجکل تو ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ جیسے پاکستان میں زندگی کا مقصد یا تو لان بنانا ہو گیا ہے یا لان پہننا ، باقی لوگ تو ملک میں فالتو ہیں۔ یہ سب کمال ہے اس مارکیٹنگ مہم کا ، جس کا اخلاقیات سے عاری نصب العین ہے …..  “جو دِکھتا ہے ، وہ بکتا ہے ” ۔ سو اس مہم کے شاہکار آپ کو ہر چھوٹی بڑی شاہراہ ، اخبارات اور رسائل ، الیکٹرانک میڈیا ، فیشن میگزین ، دوکانوں، بازاروں …..  غرض یہ کہ ہر گلی ہر نکڑ ہر قدم پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بالخصوص شارع فیصل تو ہورڈنگز کی بھرمار سے اس وقت “شارع فیشن ” کا منظر پیش کر رہی ہے ۔

لیکن جناب ! یہ بھی حقیقت ہے کہ تالی تو دونوں ہاتھ سے بجتی ہے ۔ تو ذرا ان خواتین کا طرز عمل بھی ملاحظہ ہو…  جو تشہیری مہم کا حصہ ہیں۔ جی ہاں ! ہم ماڈل گرلز ہی کی بات کر رہے ہیں ۔ اوہ سوری! برانڈ ایمبیسیڈرز brand ambassadors  … ماڈل گرل تو گھٹیا ، فرسودہ اور بازاری قسم کا لفظ ہے ۔ ایک جانب جولاہوں …  سوری … ٹیکسٹائل مل والوں کی کوشش ہے کہ لان کی فروخت کے ریکارڈ قائم کر لئے جائیں ، تو دوسری طرف بڑی بڑی ہورڈنگز پر حوا کی یہ بیٹیاں  … المعروف بہ برانڈ ایمبیسیڈرز …  بے حیائی کے ریکارڈ قائم کرتی نظر آ رہی ہیں۔کپڑا بنانے اور پہننے کا مقصد ہے ستر پوشی …  لیکن یہاں ماڈلنگ کے نام پر ستر فروشی کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ واہ صاحب واہ ! ساڑھے سات گز کپڑے کا سوٹ زیب تن کرنے کے باوجود ماڈل خاتون برہنہ نظر آ رہی ہے۔

حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ ان ماڈل خواتین کو کسی مجبوری کے تحت پیسہ کمانے کے لئے گھر سے نکلنا پڑا ہو گا تو پھر پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ انسان پیسہ کماتا کیوں ہے؟ انسان کو پیٹ بھرنے کے لئے روٹی ، تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا ، سر چھپانے کے لئے مکان ، سفر  کے لئے سواری اور بیماری میں دوا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انسان کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے کمانے کے لئے وہ کوئی نہ کوئی پیشہ یا شعبہ اختیار کرتا ہے ۔ کونسا پیشہ ؟ یہ فرد کی اپنی صوابدید پر ہے ۔

بہت سی با حیا خواتین ، باوجود شدید مجبوری کے بھی ، گھر سے باہر نکلنے کے بجائے گھر ہی میں رہتے ہوئے سلائی کڑھائی کے ذریعے اپنی گزر اوقات کا انتظام کر لیتی ہیں … بہت سی خواتین گھر سے باہر نکلتی بھی ہیں تو وقار کے ساتھ ، حدود کا پاس رکھتے ہوئے … تاہم فی زمانہ ایسی خواتین کی بھی کمی نہیں ، جو ماڈلنگ کا پیشہ اپنا کر شمع محفل اور زینت بازار بننے کا انتخاب کرتی ہیں ۔ کتنا عجیب ہے ناں ان ماڈل خواتین کا یہ فلسفہ …. ستر پوشی کے لئے ستر فروشی ۔ اللہ بچائے عقل کے خبط ہونے سے ۔

یہ معاملہ صرف لان کے اشتہارات تک ہی محدود نہیں ہے ، بلکہ بال صفا کریموں ، سینیٹری نیپکنز اور زنانہ انڈر گارمنٹس جیسی اشیاء کی بھی دیو ہیکل سائن بورڈز پر  (نیز اخبارات و رسائل میں بھی )برملا اور بھرپور تشہیر کی جا رہی ہے ۔ ایک ٹیم ورک کے ساتھ پورے شہر کو بے حیائی کے مناظر سے سجا دیا گیا ہے ۔ اس ٹیم کے تمام کھلاڑی بشمول مصنوعات بنانے والے ، مارکیٹنگ کرنے والے ، بے حیائی کے پوز دیتی ماڈل گرلز اور ان کی منظر کشی کرنے والے فوٹو گرافرز ، پینافلیکس پرنٹرز ، ان پینافلیکس کو ہورڈنگز پر نصب کرنے والے مزدور قرآن پاک کی یہ وارننگ یاد رکھیں ۔۔۔

  إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ

یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کےلئے دنیا اورآخرت میں دردناک عذاب  ہے ۔ (سورۃ النور ۔ ۱۹)

آخر میں ہم ماڈل خواتین کی توجہ اس امر کی جانب دلاتے چلیں کہ ذرا سوچئے ! مصنوعات کی آڑ میں کہیں آپ کی نسوانیت کو تو نہیں بیچا جا رہا ؟ ساتھ ہی ان ماڈل خواتین کے گھر کے مردوں …. اور ان کو زینت بازار بنانے والے مردوں سے یہ گزارش ہے کہ اللہ کے بندو!  اشتہار کو اپنی مصنوعات کی شہرت تک ہی محدود رکھو، کم از کم شہوت کا ذریعہ تو نہ بناؤ ۔تم لوگ جس طرح بے حیائی کے مناظر کو ہورڈنگز پر سجا کر ہماری مذہبی و معاشرتی اقدار کو پامال کرنے ، معاشرے کو ایک خاص سمت میں ہانکنے یعنی ممنوعات کو ممکنات میں تبدیل کرنے کی ابلیسی کوشش میں ایک دوسر ے کی معاونت کر رہے ہو، تو اس قوم کے با حیا افراد اس کھلی فحاشی سے تنگ آکر وہی سوال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جو حضرت لوط علیہ السلام  نے اپنی قوم کے بے حیا مردوں سے  کیا تھا۔…

کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ہے؟…

اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل‘’ رَّشِیْد‘’؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (سورۃ ھود۔ 78)

Behaviors & Attitudes, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Ajnabi Shanasa

اجنبی شناسا

از ابو شہیر

وہ کون ہے ؟ کیا نام ہے ؟ کیا کرتاہے ؟ کہاں رہتا ہے ؟ کہاں سے آتا ہے ؟ کہاں جاتا ہے ؟ یہ سب میں نہیں جانتا ، نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔۔۔ البتہ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب کبھی اپنے کسی مرحوم عزیز کی تدفین میں شرکت کے لئے قبرستان جانا ہوا ، تو کم و بیش ہر مرتبہ ہی اسے وہاں موجود پایا ۔ آپ نے بھی اسے یقیناً دیکھا ہو گا ۔ میں تو اکثر اسے دیکھتا ہوں ۔ کبھی سخی حسن قبرستان میں ، کبھی محمد شاہ قبرستان  میں ، کبھی پاپوش نگر قبرستان میں۔۔۔۔

ابھی میت کو قبر میں اتارا جا رہا ہوتا ہے کہ اچانک وہ اپنی موٹر سائیکل پر سوار آن پہنچتا ہے ۔۔۔ مٹیالی سی سفید داڑھی ، سر پر ٹوپی ، کاندھے پر رومال ، پرانی سی موٹرسائیکل ۔ ۔۔ وہ آ کر خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہو جاتاہے ۔ پھر جونہی قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے تو یہ “اجنبی شناسا ” ایک جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور اپنی پاٹ دار آواز میں میت کے لواحقین کو مخاطب کر کے کہتا ہے :

“السلام علیکم ۔

بھائیو! دو منٹ کے لئے ذرا میری بات سن لیں۔ پورے ملک میں لوگ قبرستانوں میں اللہ کا نام ، نبی ﷺ کا کلمہ ، درود شریف اور قرآنی آیات پتھروں پر لکھ لکھ کر قبروں پر لگا رہے ہیں۔ لوگ ان قبروں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان پر چل کر آتے ہیں ۔ قبریں ٹوٹ جاتی ہیں تو پھر یہ قرآنی آیات کہاں پڑی ہوتی ہیں؟ کوڑے کے ڈھیر میں ۔ (پھر وہ پاس کی کسی قبر یا وہاں پڑی کوئی بوسیدہ سی سل ہاتھ میں اٹھا کر لوگوں سے کہتا ہے ) یہ دیکھیں یہ ساتھ والی قبر کا کیا حال ہے ۔ وہ دیکھیں آپ ۔۔۔ اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔۔۔ وہ کتبہ پڑا ہے جس پر قرآنی آیات لکھی ہیں ۔۔۔ کیسی بے حرمتی ہو رہی ہے۔۔۔ قبرستانوں میں کتے آتے ہیں ۔ کتا کہاں پیشاب کرتا ہے ؟ اونچی جگہ پر ۔ کتا ہمیشہ قبر کے کتبے پر پیشاب کرتا ہے ۔ اور وہاں ہم نے قرآنی آیات لکھوا رکھی ہوتی ہیں۔ آج پورے ملک میں اللہ کے نام ، نبی کے کلمہ اور درود شریف و قرآنی آیات کی بے حرمتی ہو رہی ہے ۔۔۔ گھروں کی دیواروں پر ، چوراہوں پہ اللہ کے ناموں کی تختیاں لگا رکھی ہیں اور پانی کہاں جا رہا ہے ۔۔۔ ؟گندے گٹروں میں۔۔۔ یہ گہوارے میں چاد رپڑی ہے ۔۔۔ اس پر کیا لکھا ہے؟ کلمہ ، آیت الکرسی ، قل شریف ، درود شریف ۔۔۔ لوگ میت کے اوپر ڈال کر لاتے ہیں اور میت کو دفناتے وقت یہ چادر لپیٹ کر گہوارے میں پھینک دیتے ہیں ۔۔۔ آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ یہ چادر کیسے پڑی ہے ۔۔۔ خدارا ! اللہ رسول کے نام اور قرآنی آیات کا احترام کریں۔۔۔ انہیں نہ قبروں پر لکھوائیں ، نہ دیواروں پہ نہ اخباروں میں ۔۔۔ کل ہم نے بھی یہیں انہی قبروں میں آنا ہے ۔۔۔ وہاں اللہ کو جواب دینا ہے ۔۔۔ اپنے پیاروں کو وصیت کریں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہماری قبر پر یہ سب کچھ نہ لکھوایا جائے۔۔۔ ورنہ کل کہیں ہمیں عذاب نہ بھگتنا پڑے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ اس کے درجات بلند فرمائے ۔ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ۔ جزاک اللہ ۔ السلام علیکم “

ایک مشینی انداز میں وہ بمشکل دو منٹ میں اپنی یہ تقریر ، جو اسے یقیناً ازبر ہو چکی ہے (اور راقم کو بھی تقریباً یاد ہو گئی ہے) ، مکمل کرتا ہے ۔۔۔ جا کر دوبارہ موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہے، رومال کاندھے پر ڈالتا ہے ، موٹر سائیکل کو کِک مارتا ہے اور پھر اپنی اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتا ہے ۔۔۔ جہاں کچھ اور لوگ اپنے کسی پیارے کی تدفین میں مصروف ہوتے ہیں ۔۔۔ اور وہاں جا کر ان کو بھی یہی پیغام دیتا ہے ۔۔۔ ایک اکیلا شخص ، لیکن درحقیقت اپنی ذات میں ایک پورا ادارہ ۔۔۔ کتنا عظیم آدمی ہے ۔۔۔ کیسا عظیم کام کر رہا ہے۔۔۔ !

وہ کون ہے ؟ کیا نام ہے ؟ کیا کرتاہے ؟ کہاں رہتا ہے ؟ کہاں سے آتا ہے ؟ کہاں جاتا ہے ؟ یہ سب میں نہیں جانتا ، نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔۔۔ البتہ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب کبھی اپنے کسی مرحوم عزیز کی تدفین میں شرکت کے لئے قبرستان جانا ہوا ، تو کم و بیش ہر مرتبہ ہی اسے وہاں موجود پایا ۔ آپ نے بھی اسے یقیناً دیکھا ہو گا ۔ میں تو اکثر اسے دیکھتا ہوں ۔ کبھی سخی حسن قبرستان میں ، کبھی محمد شاہ قبرستان  میں ، کبھی پاپوش نگر قبرستان میں۔۔۔۔

کل ایک تدفین میں شرکت کے دوران اسے ایک مرتبہ پھر دیکھا تو سوچا کہ اس کی اس کاوش پر اسے تحریری صورت میں خراج تحسین پیش کر دیا جائے۔۔۔ لیکن وہ تو ستائش بے پرواہ معلوم ہوتا ہے ۔۔۔ پھر خیال آیا کہ چلو اس کا پیغام آگے پہنچا دیا جائے ۔۔۔ کہ یہی اس کی تڑپ ہے ، یہی اس کی تمنا ہے ۔

اے “اجنبی شناسا !” اللہ تم سے راضی ہو جائے ۔ اور  ہمیں قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کی بے حرمتی سے بچائے ۔

آمین ۔