Behaviors & Attitudes, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

The EARTH-GODS!

زمینی خدا

از۔۔۔ ابو شہیر

گید ڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کا رخ کیا جہاں کئی مقدمات ان کے انتظار میں تھے ۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی معزز عدالت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کی ضمانت قبل از گرفتاری کا حکم منسوخ کر کے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر سابق سپہ سالار افواج پاکستان کمرہ عدالت سے فرار ہو گئے ، بالکل اسی طرح جیسے ایک فون کال پر متوقع میدان جنگ سے فرار ہو گئے تھے اور نتیجتاً قوم و ملک پتھر کے دور میں پہنچ گئے۔یاد رہے  کہ  “حضرت ڈرتے ورتے کسی سے نہیں۔  “

مذکورہ عدالتی فیصلے کے اگلے روز ہم دفتر پہنچے تو یہی ہاٹ ٹاپک تھا ۔ بحث کے دوران ایک صاحب نے نہایت حیران کن قسم کا تبصرہ کیا:

“دیکھو یار ! عدالت نے پوری دنیا میں ہمیں تماشہ بنا دیا ۔ فیصلہ دینے سے پہلے یہ تو دیکھ لینا چاہئے تھا کہ وہ ملک کا سابق صدر ہے ۔ “

ہم نے انہیں یاد دلایا کہ بھائی ہمارے نبی ﷺ کا تو فرمان ہے کہ فاطمہ بنت محمد بھی اگر چوری کرے گی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں گا۔ لیکن موصوف نے جس انداز سے یہ بات سنی اس سے ہمیں یہی محسوس ہوا ….  گویا ہم نے کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا واقعہ سنا دیا ہو ۔

دفتر سے باہر نکلنے پر ایک جگہ سے گزر ہوا تو وہاں ایک پچپن ساٹھ سالہ بڑے میاں فٹ پاتھ پر جمی چوپال میں بیٹھے چیخ چیخ کر دعوے کر رہے تھے :

” میاں! میں بھی یہیں ہوں اور تم بھی یہیں ہو ۔ اگر مشرف کو سزا ہو گئی تو میرے منہ پر تھوک دینا ۔ “

ہاہ ! اللہ تعالیٰ نے زبان کے آگے بتیس چھوٹے چھوٹے دروازے لگائے ہیں اور پھر ان دروازوں کے آگے ہونٹوں کا مین گیٹ بھی نصب کیا ہے لیکن صاحب! کیا کیجئے کہ جب یہ زبان بے قابو ہوتی ہے … تو اتنی ساری رکاوٹوں کو بھی عبور کر کے لپک کر باہر آ جاتی ہے ۔ اللہ سب کو اس بات کا شعور عطا فرمائے ۔ لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں لیکن یہی نہیں سیکھ پاتے کہ زبان سے کب کیا کہنا ہے ۔ اللہ سے ہمیشہ خیر طلب کرنی چاہئے… کیا خبر کون سا لمحہ قبولیت کا ہو!

پرویز مشرف پر ان گنت الزامات ہیں۔  اقتدار پر جبری قبضہ ۔ نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنی مرضی کے احکامات جاری کرنا  اور ان کو پوری قوم پر مسلط کرنا۔ صلیبی جنگ میں طاغوت کی قوتوں کا ساتھ دینا۔ بیرونی جنگ کو ملک کے اندر لے آنا ۔ یہ جو اس نے نعرہ لگایا تھا نا کہ سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔ اس بارے میں ہماری رائے تو یہی ہے  کہ ابھی امریکہ اس شش و پنج میں تھا کہ ٹوئن ٹاورز کی تباہی کی آڑ میں کس ملک کو نشانہ بنایا جائے کہ پرویز مشرف نے ایک دم سے ہاتھ کھڑا کر کے کہا : سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔ جیسے بچے کھیل کے دوران کہتے ہیں : پہل میری ۔

خیر بات چل رہی تھی مشرف کے جرائم کی ۔ تو اکبر بگٹی کے قتل کا الزام بھی انہی پر ہے کہ ایک دفعہ بڑی رعونت سے حضرت نے بڑھک ماری تھی جو کہ آن ریکارڈ ہے : ہم تمہیں وہاں سے ہِٹ کریں گے کہ تم کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے ہِٹ کیا ہے ۔ بے نظیر بھٹو کا قتل بھی انہی کے دور میں ہوا ۔ سو اس بارے میں بھی وہ مسئول ہیں کہ محترمہ انہیں پیشگی “نامزد ” کر گئی تھیں۔ لال مسجد کی تباہی ، جامعہ حفصہ کی طالبات کا قتل عام بھی حضرت کے سیاہ کارناموں میں سے ایک ہے ۔ لیکن شاید سب سے بڑھ کر مجاہدین کو پکڑ پکڑ کر دشمنوں کے حوالے کرنا، انٹیلی جنس شیئرنگ کے نام پر ان کی مخبریاں کرنا ، ان کا خون بہانا یا اس میں مدد کرنا ، اس سب کے عیوض دام کھرے کرنا ۔ حد تو یہ کہ پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر کو بھی پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا ، حالانکہ سفیر کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا ۔ لیکن نہ بیچنے والے نے یہ سب کچھ سوچا نہ خریدنے والے نے ۔  کسی کہنے والے نے خوب کہا کہ “اس شخص نے تو صدر پاکستان کو   ایک بردہ فروش کی سطح پر پہنچا دیا۔”

پرویز مشرف کے خلاف کچھ مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں ۔ اور شاید ابھی مزید بہت سے قائم ہونے ہیں ۔ ان مقدمات کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ….مشرف کو سزا ہوتی ہے یا بری کر دیا جاتا ہے … غداری کے جرم میں سزائے موت سنائی جاتی ہے یا کوئی اور …. آرمی اپنے سابق سپہ سالارکو نشان عبرت بنتے دیکھ پائے گی یا نہیں …. مشرف عدالت کے ہاتھ آتا ہے یااس کے اندرون و بیرون ملک دوست اسے یہاں سےریمنڈ ڈیوس کی طرح چپکے سے فرار کرا دیتے ہیں …. یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے…  البتہ حالات و واقعات سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی رسی کھنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

ممکن ہے کہ مشرف سزا سے بچ جائے …. کہ نہ ہمارے اعمال ایسے کہ ہم اللہ سے رحم کی بھیک مانگ سکیں اور نہ ہی ہماری دعاؤں میں اتنی شدت و طاقت کہ اللہ کی بارگاہ سے اپنی خواہش کے مطابق احکامات اور فیصلے جاری کر وا سکیں …. ہو سکتا ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل کا جرم اس پر ثابت نہ ہو سکے …. ہو سکتا ہے کہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے معصوم بچوں کا خون بھی رنگ نہ لا سکے …. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لال مسجد بوریہ نشینوں اور جامعہ حفصہ کی پردہ نشینوں کا خون بھی رنگ نہ لا سکے …. البتہ ایک امید ہے جو کہ بہت قوی ہے …. کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مجاہدین اسلام کا خون یقیناً اتنی وقعت ، اتنی قدر و قیمت ضرور رکھتا ہے کہ وہ مالک کون و مکاں اپنے اولیاء یعنی شہدا کے دشمن کو نشان عبرت بنا کر ہی چھوڑے گا ۔ ہم کتنی ہی دفعہ دیکھ چکے ہیں کہ ظالم حکمران کا جب برا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل اس کا ساتھ چھوڑتی ہے اور  اس کو مشورہ دینے والے اس کو ایک بند گلی میں پہنچا دیتے ہیں۔

مشرف یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں حالات ان کے لئے انتہائی ناسازگار ہیں ، اور بےشمار مقدمات منہ کھولے کھڑے ہیں ، پاکستان آن پہنچے ۔ حالانکہ وہ زندگی کے بقیہ ایام ” عزت” سے بیرون ملک بھی گزار سکتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد چند ہی دنوں میں انہیں اپنی “مقبولیت ” کا بھی اندازہ ہو چکا ہے ۔ وہ سیاسی طور پر شدید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جا چکے ہیں۔ ان کے خلاف بے شمار مقدمات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کی جا چکی ہے ۔ اور گرفتاری کا حکم جاری کیا جا چکا ہے ۔ جس کے بعد وہ فرار اور بعد ازاں گرفتار ہونے کے بعد پہلے ایک روز کے لئے پولیس لائن اور پھر اپنے ہی فارم ہاؤس میں مقید کئے جا چکے ہیں۔ انہیں اپنے ہی گھر میں دو کمروں کے علاوہ کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہیں ناشتے میں جیل مینوئل کے مطابق چائے ، جوس اور ڈبل روٹی پر ہی گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دشمن بھی کم نہیں بنائے …. سو عدالت سے سزائے موت کے خوف کے علاوہ بھی ان کی جان کو بہت سے خطرات ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنجہانی سلمان تاثیر کی طرح ان کے اپنے محافظین میں سے ہی کوئی ان پر گولیوں کی بوچھار نہ کر دے۔ نظر تو یہی آرہا ہے کہ اس کی رسی تنگ ہورہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے  ہوتا ہے کیا ۔

اس زمین اور اس آسمان نے  اپنے سامنے  ان گنت ایسے ہی انسانوں کو بزعم خود خدائی کے دعوے کرتے دیکھا ہو گا۔  کبھی فرعون نے کہا تھا کہ ‘ کیا مصر کا ملک میرا نہیں’ اور یہ کہ ‘ میں تو اپنے علاوہ تمہارے کسی رب کو نہیں جانتا’۔ کبھی نمرود نے کہا تھا ‘جسے میں چاہوں مار دوں جسے چاہوں  زندہ رکھوں’۔ کبھی سکندر بھی آیا تھا، اور کبھی چنگیز اور ہلاکو بھی تھے۔ روس کا اسٹالن ہو یا  ویت نام میں فوجیں بھیجنے والا امریکہ کا جانسن۔ وہ چلی کا پنوشے ہو یا پاکستان کا جنرل یحییٰ ،  سب زمین کا  حصہ  ہو گئے۔ سب مٹی میں مل گئے۔ موت کسی کو نہیں بخشتی،  کسی کو نہیں چھوڑتی۔  پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان میں بہت ترقیاتی کام کرائے ہونگے، لیکن جو آہیں اور بددعائیں انہوں نے کمائی ہیں  وہ اس سے  یقیناًکہیں زیادہ ہیں۔ وہ آج کل بڑے چاؤ سے اپنی ورزش کی تصویریں کھنچوا رہے ہیں  …جن میں وہ وزن اٹھاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔  لیکن سوچنے والے یہی سوچ رہے ہیں کہ  کفار کے ساتھ مل کر اسلام کی جڑیں کاٹنے، اور دیگر کئی گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے ان کے تاثرات کیا ہونگے۔ وہ کہتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرتے!نہیں ڈرتے  ہونگے….  لیکن  ہمارا تو ایمان اس بات پر ہے کہ اللہ کا عذاب ہرگز ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے نہ ڈرا جائے۔

مقام حیرت ہے کہ لوگ اتنی ساری نشانیاں دیکھ کر بھی ایسے دعوے کر رہے ہیں کہ ” اگر مشرف کو سزا ہو گئی تو میرے منہ پر تھوک دینا” ۔ اور اگر مشرف فی الواقعی سزا سے بچ جاتے ہیں تو پھر اگلے مرحلے میں اس طرح کے دعوے بھی سننے کو مل سکتے ہیں: ” میاں ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا”۔

اس نوعیت کے “خدائی دعووں ” سے کیا ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ زمینی خدا صرف مطلق العنان حکمرانوں کی صف تک ہی محدود نہیں …. بلکہ عوام الناس میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اقتدار و تکبر کے نشے میں چور ایک  شخص کا حال آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے … اور زمین کے نیچے ایسے کتنے ہی لوگ  ہوں گے جو کبھی یہی کہتے ہونگے کہ’ جو میں نے کہہ دیا نا ویسا ہی ہوگا’…

اے کاش ! کہ ہم  بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں، اپنے الفاظ کو تول لیا کریں۔

اللہ ہمیں  ہماری زبانوں کے شر سے محفوظ فرمائے ۔ آمین۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

The Moment!

اَلسَّاعَۃ

صبح کا اخبار اٹھایا تو شہ سرخی میں گزشتہ روز پیش آنے والے ہیبت ناک واقعے ہی کا ذکر تھا ۔ اور ہونا بھی چاہئے تھا ۔ کچھ دیگر خبریں بھی اسی واقعے سے متعلق تھیں ، یعنی واقعے کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے خاصی تفصیلی رپورٹنگ کی گئی تھی ۔

تاہم باقی خبریں معمول کے مطابق تھیں۔ یعنی وہی بم دھماکے  ، وہی قتل و غارت ، وہی چوری ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں ، وہی الیکشن کا دنگل اور وہی سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازیاں۔ اخبار کے دیگر صفحات بھی معمول کے مطابق ہی تھے ۔ وہی ہالی وڈ ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی خبریں ۔ وہی فلموں ڈراموں پر عمیق تبصرے۔ وہی نئی فلموں کے پوسٹرز اور وہی فلمی اداکاراؤں کی نیم برہنہ تصاویر ۔ میگزین کھولا تو وہی فیشن اور ڈریس ڈیزائننگ کے نام پر عریانی کے مناظر ۔

اسی اثنا میں گلی میں بچوں کی اسکول وین آنی شروع ہو گئی تھیں ۔ جن میں سے کسی میں نعتوں کے نام پر دھمال ڈالی جا رہی تھی تو کہیں فلمی گانے بآواز بلند بج رہے تھے ۔ دفتر جانے کے لئے سڑک پر آئے تو وہی روزانہ کی ہنگامہ آرائی ۔ آگے نکل جانے کی دوڑ میں ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی اور جھگڑے ۔ گالی گلوچ ۔ ہاتھا پائی  کے مناظر ۔ قریب سے ایک بس گزری تو اس میں بھی اونچی آواز میں گانے بج رہے تھے ۔ پیچھے ایک بائیک پر ایک صاحب ایک خاتون کے ہمراہ رواں دواں تھے جو لباس پہنے ہوئے ہونے کے باوجود بے لباسی کی تصویر بنی ہوئی تھیں۔ بس اسٹاپ پر بھی دفتر اور اسکول جانے والی خواتین کی بے پردگی اور فیشن زدگی حسب معمول تھی ۔ اور اس “دعوت نظارہ “پر لبیک کہنے والے راہ چلتے ہر عمر کے مردوں کی رال بھی روزانہ کی طرح ٹپک رہی تھی ۔ سڑک کے کنارے لگے دیو ہیکل سائن بورڈز اور ہورڈنگز پر  حیا باختگی کے مناظر بھی جوں کے توں تھے ۔

دفتر پہنچے تو وہاں بھی وہی بے تکے اور بے ہودہ تبصرے ، تکیہ کلام کے طور پر گالیوں کا بے محابہ استعمال ۔ اسی دوران ایک انشورنس کمپنی کا ایجنٹ اپنی کمپنی کی دنیا بنانے یعنی سودی بزنس بڑھانے کے لئے گاہک گھیرنے آن پہنچا اور یوں اپنے ساتھ ساتھ گاہکوں کی بھی عاقبت خراب کرنے کی تگ و دو کرنے لگا۔ چائے پینے کے لئے کوئٹہ ہوٹل پر بیٹھے تو وہاں بھی ہوٹل کے مالک نے اپنے لئے “صدقہ جاریہ ” کا اہتمام کیا ہوا تھا یعنی جہازی سائز کے ٹی وی پر ہندوستانی فلم چل رہی تھی جس میں ناچ گانے کے علاوہ “بولڈ ” مناظر بھی رواں دواں تھے ۔ اطراف میں بیٹھے لوگوں کا بھی موضوع گفتگو وہی سیاست اور اس بحث کے دوران سیاستدانوں کے بارے میں وہی بد کلامیاں ، گھٹیا تبصرے …. مذاق کے نام پر بے ہودہ لطیفے اور فحش اشارے ۔

ڈیوٹی کے دوران ایک اسکول کا وزٹ کیا  تواسکول کے پلے ایریا میں ایک میراثی یعنی میوزک ٹیچر معصوم بچوں کو سُر سنگیت کے رموز و اوقاف سکھانے میں مصروف تھا۔ اور وہاں موجود استانیوں کی فیشن زدگی اور میک اپ کو دیکھ کر لگا کہ گویا ٹیچنگ نہیں ماڈلنگ کے لئے آئی ہوئی ہیں ۔ ایک اسپتال کا وزٹ کیا تو وہاں استقبالیہ کاؤنٹر پر بھی ایسی ہی مخلوق سے پالا پڑا …بلکہ وہاں تو خواتین کا ساتھ کام کرنے والے مردوں سے ہنسی مذاق دیکھ کر یہی محسوس ہوا کہ یہ بھی معمول کی بات ہے۔ قریب ہی بہت سارے بینک تھے جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ روزانہ کی طرح پوری شدت سے جاری تھی۔ ایک دوکان پر کچھ خریدنے کے لئے پہنچے تو دیکھا کہ حضرت نے موبائل فون کو کمپیوٹر کے اسپیکرز سے کنکٹ کر کے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کی “جگاڑ “کر رکھی تھی ۔ اس کو ہم نے گزشتہ کل کا واقعہ یاد دلایا تو سنتے وقت اس کے چہرے کی ناگواری و بیزاری دیدنی تھی ۔

ظہر کا وقت ہوا تو مسجد میں نماز پڑھنے گئے ۔ وہاں نمازیوں کی وہی مختصر سی تعداد ۔ پھر حسب معمول دوران نماز موبائل فون پر بجتی ہوئی موسیقی کی دھنیں اور نغمے ۔ نماز کے بعد مسجد سے آگے بڑھے تو گلی میں گول گپے والا احمد رشدی کی روح کو ” ایصال ثواب”  پہنچاتا اور اہل محلہ کی “دعائیں” لیتا ہوا جا رہا تھا ۔ پیچھے پیچھے والز آئس کریم والا اپنی سائیکل نما ریڑھی پر مخصوص دھن بجاتا ہوا اس “کار خیر “میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا ۔ قریبی اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی  اور وہاں بھی اسی نوعیت کے مناظر تھے ۔

شام کو پارک میں جانا ہوا تو وہ بھی حسب معمول “ڈیٹ پوائنٹ “بنا ہوا تھا۔ پارک کے مختلف گوشوں میں لڑکے لڑکیاں دنیا و مافیہا سے بے نیاز عہد و پیمان میں مصروف تھے بلکہ کہیں کہیں تو بات “کافی آگے “بڑھ چکی تھی ۔ جاگنگ ٹریک پر دوڑتے ہوئے مردوں نے کانوں پر حسب معمول ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے ۔ کچھ خواتین بھی وزن کم کرنے یا خود کو فٹ رکھنے کی جستجو میں واک کر رہی تھیں  اور روزانہ کی طرح اطراف میں بیٹھے حضرات کا سانس پھلائے دے  رہی تھیں۔ رات کو پڑوس میں “مہندی “کی تقریب تھی ۔ وہاں بھی اس نوعیت کی تقریبات کی طرح گویا “پریاں “اتری ہوئی تھیں ۔  محفل حسب معمول مخلوط تھی جس میں رقص و موسیقی کا انتظام “بصد اہتمام” نظر آیا ۔

 قارئین ! آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی کیا اوٹ پٹانگ ہانکے جا رہے ہو۔ صاف صاف کہو کیا کہنا ہے ؟

 تو جناب !عرض یہ کرنا تھا کہ

“ایک دن قبل  ہمارے شہر میں زلزلہ آیا تھا ۔ “

اللہ نے فضل فرمایا کہ اتنی بڑی آفت بغیر کوئی نقصان پہنچائے ٹال دی گئی …. لیکن اگلے دن سب کچھ ویسے کا ویسے ہی تھا … سب کے معمولات جوں کے توں تھے… جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ یہ زلزلہ بتا کر نہیں آیا تھا …. اور ملک الموت بھی آنے سے پہلے کال یا ایس ایم ایس نہیں کرے گا….  نہ  ہی قیامت اطلاع دے کر آئے  گی ۔ اور یہ  بھی یاد رہے کہ

مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَت قَیَامَتُہ‘

ترجمہ: جو مر گیا اس کی قیامت آ گئی ۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہماری آخری گھڑی آئے …. تو ہم اس وقت کوئی ایسا کام کر رہے ہوں کہ …. خدانخواستہ ہمارا ایمان پہ خاتمہ بھی شک میں پڑ جائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ(اٰل عمران۔ 102 )

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

Behaviors & Attitudes, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Just for a few days…

چند ہی دن کی تو بات ہے

از۔۔۔ ابو شہیر

ہمارے ایک دوست شیر دل کا تعلق صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں سے ہے ۔ گزشتہ دنوں ہم سب دوستوں نے پروگرام بنایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ  شیر دل کے گاؤں میں کچھ وقت گزارا جائے۔ چنانچہ بروز ہفتہ صبح چھ بجے شالیمار ایکسپریس سے روانہ ہوئے ۔ اور شام چار بجے دو گھنٹہ تاخیر سے رحیم یار خان ریلوے اسٹیشن پر اترے ۔ جہاں سے گاؤں جانے کے لئے شیر دل نے فون پر رابطہ کر کے پہلے ہی سے ایک ٹویوٹا ہائی ایس کا انتظام کروا لیا تھا ۔ جس وقت شیر دل کے گھر پہنچے تو شام کے کوئی ساڑھ پانچ چھ بج رہے تھے ۔ شیر دل کے گھر والوں نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا ۔ مردوں کے قیام کے لئے گھر کے بیرونی حصے میں انتظام کیا گیاتھا جبکہ خواتین کو پہلے تو گھر کے اندرونی حصے میں لے جایا گیا اور بعد ازاں قریب ہی ایک دوسرے گھر میں ان کے قیام کا انتظام کر دیا گیا۔

گاؤں کے دوسرے گھروں کی طرح شیر دل کا گھر بھی کچا پکا سا بنا ہوا تھا ۔ لال اینٹوں سے تعمیر شدہ چند کمرے تھے جبکہ چہار دیواری خالص دیہاتی طرز پر مٹی گارے اور بھوسے کی لپائی سے تعمیر کی گئی تھی ۔ ہم مردوں کو گھر کے بیرونی حصہ میں ٹھہرایا گیا تھا جس میں ایک درمیانے سائز کا کمرہ بنا ہوا تھا جبکہ بقیہ حصہ صحن تھا ۔ صحن کے ایک کونے میں ایک عدد بیت الخلا تھا جس کی چھت ندارد تھی اور دروازے کے نام پر بھی محض ایک ٹاٹ کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ لیکن بقول شیر دل یہ بھی ہماری ہی سہولت کی خاطر تعمیر کیا گیا تھا ۔ بیت الخلا کے باہر ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا ۔ دوسرے کونے میں ایندھن جمع کیا ہوا تھا جس میں اپلے ، گھاس پھونس اور لکڑی شامل تھی ۔ ایک کونے میں چھپر ڈال کر “کچن “نما ایک چیز بنی تھی جس میں مٹی کی لپائی سے چولہا بنایا گیا تھا ۔ چند پلنگ تھے جو دن کے وقت کمرے کے اندر کر دیئے جاتے اور شام میں باہر صحن میں بچھا لئے جاتے۔ پھر یہی ڈرائنگ روم بن جاتا اور بعد ازاں بیڈ روم۔ اوپن ایئر ڈرائنگ روم اور بیڈ روم۔

موسم گرما کا آغاز ہو چکا تھا ۔ دن میں خاصی گرمی ہوتی تھی ۔ لیکن رات کے وقت موسم کافی خوشگوار بلکہ درحقیقت خنک ہو جاتا تھا ۔ موٹی چادر اوڑھنی پڑ جاتی تھی ۔ واپڈا والوں کی مہربانی سے بجلی چوبیس گھنٹوں میں سے بمشکل چند گھنٹے ہی میسر ہوا کرتی تھی یعنی   ؎ “آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ “والا معاملہ تھا۔ رات میں بجلی کی غیر موجودگی میں گاؤں میں تو بالکل گھپ اندھیرا ہو جاتا تھا ۔ ایسے میں جب چارپائی پر لیٹتے تو تاروں بھرا آسمان نہایت دل کش منظر پیش کر رہا ہوتا تھاجسے دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتے کہ کراچی میں تو اگر مطلع صاف بھی ہو ، تب بھی آسمان پر اتنے تارے کہاں نظر آتے ہیں ۔  آہ! شہر کی روشنیوں نے تو آسمان کا حسن ہی دھندلا کر رکھ دیا ہے ۔

شہر کے تکلفات کو چھوڑ کر گاؤں میں زندگی کا کچھ وقت بسر کرنے کا تجربہ سب کے لئے نیا لیکن خوشگوار اور یادگار رہا ۔ شہر میں ہمیں جو آسائشیں اور سہولیات میسر ہیں ، گاؤں میں ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ سو اب جو کچھ میسر تھا ، اسی میں گزارا کرنا تھا ۔کچی زمین ، بغیر پلستر کا کمرہ ۔ نہ کرسی نہ صوفہ نہ بیڈ نہ میٹرس ، سو چارپائی ہی کرسی صوفہ تھی اور چارپائی ہی بیڈ ۔ میٹرس کے بجائے موٹی چادر بچھی ہوتی تھی لیکن نیند تو اس پر بھی آ ہی جاتی تھی، اور وہ بھی پرسکون نیند۔ بجلی کی موجودگی میں مدھم روشنی اور عدم موجودگی میں گھپ اندھیرا۔ کون سا یو پی ایس اور کہاں کا جنریٹر ۔ تو اندھیرے سے بھی دوستی ہو گئی ۔ بہت ضرورت پڑتی تو موبائل فون کی ٹارچ سے کام چل جاتا تھا ۔ نہ ٹی وی ، نہ کمپیوٹر ، نہ انٹر نیٹ نہ فیس بک ۔ ٹیکنالوجی کے نام پر لے دے کے فقط ایک موبائل فون ہی تھا ۔

صبح فجر کی نماز کے بعد ہم سب تیار ہو کر باہر سیر کو نکل جاتے ۔ اطراف میں گندم اور گنے کے کھیت بھی تھے اور آم کے باغات بھی ۔ تو کبھی ادھر کو نکل جاتے کبھی ادھر کو ۔ اور جس وقت سورج کی سنہری کرنیں گندم کی سنہری بالیوں پرپڑتیں تو یہ “طلائی منظر “قابل دید ہوتا تھا ۔ آم کے باغ میں جاتے تو وہاں ماحول پر طاری گھمبیرتا ایک الگ ہی تاثر دے رہی ہوتی ۔ درختوں پر چڑھ کر بچپن کی یادیں تازہ کرتے ۔ بہت دیر او ر بہت دور تک سیر کرنے کے بعد جب گھر واپس پہنچتے تو یوں لگ رہا ہوتا تھا کہ جیسے دن کے بارہ ایک بج چکے ہوں گے …. لیکن گھڑی پر نگاہ پڑتی تو حیرت ہوتی کہ ہائیں …. ابھی تو صرف نو ساڑھے نو ہی بجے ہیں! کچھ ہی دیر میں شیر دل کے بھائی بھی آ کر بیٹھ جاتے۔ پتہ چلتا کہ صبح منہ اندھیرے کھیتوں میں جا کر اپنے روزمرہ کام کر آئے ہیں اور اب پورا دن فراغت ہی فراغت ہے ۔ لو جی ! ہم شہر والوں کے تو کام ہی ختم نہیں ہوتے کہ دن ختم ہو جاتا ہے ۔ معاملات و معمولات میں اک ذرا سی تبدیلی سے وقت میں کتنی برکت آ جاتی ہے۔

پورے گھر میں نہ نلکا تھا نہ شاور نہ ٹونٹی نہ بیسن نہ کموڈ ۔ بیت الخلاء جانا ہوتا تھا تو ہینڈ پمپ سے لوٹے میں پانی بھر لیا جاتا ۔ نہانے کا “فطری “طریقہ یہ تھا کہ پاجامہ یا لنگی باندھ کر ہینڈ پمپ کے نیچے ہی بیٹھ جاتے ۔ پھر پہلے ایک ساتھی ہینڈ پمپ چلاتا اور دوسرا نہا لیتا ۔ بعد میں دوسرا پہلے کی مدد کرتا ۔ خواتین گھر کے اندرونی حصے میں بنے بیت الخلاء میں ہی اپنی ضروریات پوری کر لیا کرتی تھیں ، خوش قسمتی سے جس کی چھت بھی تھی اور دروازہ بھی۔ پینے کے لئے بھی یہی ہینڈ پمپ کا پانی استعمال ہوتا تھاکہ منرل واٹر کہاں سے لاتے اور کتنا لاتے ! بچوں نے بھی یہی پانی پیا اور اللہ کے فضل سے سب صحتمند ہی رہے ۔

گھرمیں چولہا تھا نہ علاقے میں گیس دستیاب تھی ۔ سو کھانا مٹی یا اینٹوں سے بنے چولہے پر پکایا جاتا اور ایندھن کے طور پر اپلے اور لکڑی کا استعمال کیا جاتا۔ کھانا مقامی خواتین ہی بناتی تھیں تاہم ہماری خواتین نے بھی ایک وقت کا کھانا ان ہی حالات میں بنایا ۔ اور ما شا اللہ خوب بنایا ۔ اور یہ بتانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ کھانے پکانے اور برتن دھونے کے لئے بھی ہینڈ پمپ کا پانی ہی استعمال ہوتا ۔ سواری بھی کوئی پاس نہ تھی …. لیکن جانا بھی تو کہیں نہیں ہوتا تھا ۔ بس گاؤں کی حدود تک ہی محدود تھے ۔ تاہم یہ حدود اتنی محدود بھی نہ تھیں ۔ اور “گیارہ نمبر ” کی سواری یعنی دو ٹانگوں پر کہاں کہاں نہ پھرے ۔

واپس آ کر خیال آیا کہ بجلی ، گیس ، منرل واٹر ، ٹی وی ، کمپیوٹر ، انٹر نیٹ ، وائی فائی ، فیس بک ، ای میل ،اسکائپ،  صوفہ ، کرسی ، ٹیبل ، بیڈ ، میٹرس ، اے سی، مائیکرو ویو، استری، پانی کی موٹر، گیزر ، کار ، موٹر سائیکل ، نلکے ، شاور ، کموڈ ، امریکن کچن …  غرض بے شمار سہولیات کے بغیر بھی وقت گزر ہی گیا …اور خوب گزرا ۔

سوچنا شروع کیا کہ کیسے ؟ آخر کیسے گزر بسر ہو گئی ؟ بہت سوچا ۔ بہت سوچا ۔ بالآخر وجہ سمجھ آئی …. کہ چونکہ دل کو یہ اطمینان تھا …. یہ ڈھارس تھی … یہ یقین تھا کہ بس دو ہی دن کی تو بات ہے ، پھر گھر جا کر سارے مزے کریں گے…. تو بس گزارا ہو گیا ۔

قرآن بھی تو یہی یاد دہانی کرا رہا ہے :

قَـٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ O قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ۬ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ O قَـٰلَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلاً۬‌ۖ لَّوۡ أَنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ O

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیئے ۔ (خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔ کاش تم جانتے ہوتے ۔ ( سورۃ المؤمنون ۔ ۱۱۲۔۱۱۴ )

آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کتنی مختصر ہے !قرآن تو گویا ایسے بتا رہا ہے جیسے کوئی شخص صبح دفتر یا دوکان جانے کے لئے نکلتا ہے … اور شام کو گھر واپس آ جاتا ہے۔ کیوں نہ یہ مختصر سا وقت اللہ رب العزت کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزار لیا جائے ….  خواہشات کی تکمیل اور سہولیات کی تگ و دو میں حرام کاریاں کرنے کی بجائے دل کو یہ تسلی اور نفس کو یہ تھپکی دے دی جائے کہ بس چند گھنٹوں ہی کی تو بات ہے…. پھر ان شآء اللہ جنت میں جا کر مزے کریں گے۔

آپ چاہیں تو ہماری یہ گاؤں کے سفر کی روداد ایک بار پھر پڑھ لیجئے … یا اپنا کوئی ایسا سفر یاد کر لیجئے ۔ خلاصہ یہی نکلے گا کہ  ….

“جو کچھ ہمیں دستیاب ہے ، زندگی اس سے بہت کم میں بھی بسر ہو سکتی ہے ….

اگر یہ یقین ہو جائے کہ ….

فقط چند ہی دن کی تو  بات ہے ۔ “