Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم عرفہ, Yom e Arafa, اسلام, حج

Arif, Arafat, Ma’rfat

عارف، عرفات، معرفت

ایک بزرگ کی مجلس تھی۔

گفتگو کا موضوع تھا معرفت الہٰی۔۔۔

اللہ کی ذات کا عرفان کیسے حاصل ہو؟

بندہ کیسے عارف بن سکتا ہے؟

اس کے لئے کیا کیا جتن کرنے ہوں گے؟

کن کن مراحل سے گزرنا ہو گا؟

کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی؟

وغیرہ وغیرہ

حضرت ایک ایک نکتہ بیان کر رہے تھے۔

مجمع پر ایک سکوت طاری تھا۔۔۔

شرکائے مجلس ہمہ تن گوش بنے حضرت کی گفتگو سن رہے تھے۔۔۔

وہیں سے ایک موچی کا بھی گزر ہوا۔۔۔

بیٹھ کے سننے لگا حضرت کی باتیں۔۔۔

بیان ختم ہوا تو سارا مجمع تو سبحان اللہ ما شآء اللہ کی گردان کرتا ہوا اپنی اپنی راہ چلا۔

حضرت جی نے موچی کو بلا کے شفقت سے پوچھا:

“میاں کچھ سمجھ بھی آیا کیا گفتگو ہو رہی تھی؟”

بولا: “جی معرفت پر وعظ ہو رہا تھا.”

پوچھا: “پھر کیا سمجھ آیا؟ کیا ہوتی ہے معرفت؟”

بولا: “جی اور تو کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ بس اتنا ہی سمجھ آیا کہ ۔۔۔

پہلے جو میرا اللہ کہے، میں کر دوں،

پھر جو میں کہوں، میرا اللہ کر دے!”

 حج پر یہی سب کچھ ہوا کرتا ہے جناب۔

ARIF, ARAFAT, MA’ARFAT

========================

Aik Buzurg ki Majlis thi

Guftugu ka Mouzu tha Ma’arfat e Ilahi

Allah ki Zaat ka Irfan Kesey Hasil Ho?

Banda Kesey Arif ban sakta hy?

 Is kay liye kya kya jatan karnay hon gay?

Kin kin marahil say guzarna ho ga?

Kya kya qurbanian deni hon gi?

Waghera waghera

Hazrat aik aik Nukta bayan ker rahay they.

Majmay per aik sukut tari tha.

Shuraka e Majlis hama tan gosh banay Hazrat ki guftugu sun rahay thay

Wahin say aik Mochi ka guzar hua

Beth k laga sunnay Hazrat ki baten

Bayan khatam hua to sara majma SubhanAllah Ma Shaa Allah ki gardaan karta hua apni rah chala

Hazrat Ji nay Mochi ko bula kay shafqat say poocha: “Miyan! Kuch samajh bhi aya kya guftugu ho rahi thi?”

Bola: “Ji Ma’arfat pay wa’z ho raha tha.”

Poocha: “Phir! Kya samajh aya? Kya hoti hy Ma’arfat?

Bola: “Ji aur to kuch pallay nahi para. Bus Itna he samajh aya kay… Pehley jo Mera Allah Kahay, Main Kar Doon… Phir Jo Main Kahoon, Mera Allah Kar Day!”

HAJJ PER YEHI SUB KUCH HUA KARTA HY JANAB!

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Uncategorized, پاکستان, سیاست

میاں صاحب! یہ آپ نے کیا کر دیا؟

میاں صاحب! یہ آپ نے کیا کر دیا؟

جون ایلیا نے کہا تھا

میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں ، کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں۔

نہایت آسان تھاکہ پانامہ اسکینڈل کے آتے ہی میاں صاحب استعفیٰ دیتے اور عزت سے رخصت ہو جاتے لیکن انہوں نے مشکل راستے کا انتخاب کیا۔ شاید انہوں نے یہ سوچ کر اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا ہو کہ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ ان کی عزت کا ملمع پرت در پرت اترنا شروع ہوا۔ صرف ان کی شخصیت ہی نہیں ان کا پورا خاندان بلکہ ان کی تین نسلیں بشمول مرحومین تماشہ بن کر رہ گئیں۔ہر آنے والا دن ان کے لئے ایک نیا تازیانہ لئے طلوع ہوتا۔ کبھی انہیں اسمبلی ارکان کے سامنے جھوٹ بولنے پر خفت اٹھانا پڑی تو کبھی قوم کے سامنے کذب بیانی کی شرمندگی۔ کبھی قطری خط ان کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنا تو کبھی جعلی دستاویزات ان کے لئے باعث ندامت۔ ڈٹ جانے سے ہٹ جانے تک، اربوں سے عربوں تک، لوٹ سے جھوٹ تک، پانامہ سے اقامہ تک کیا کیا کھیل کھیلا گیا سب عیاں ہو گیا۔ کبھی کیلیبری فونٹ ان کے لئے بھیانک خواب ثابت ہوا تو کبھی جعلی مہریں ان کے لئے باعث آزار بنیں۔ غرض جس شاخ پہ انہوں نے ہاتھ رکھا وہ شاخ وہیں سے ٹوٹ گئی۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اللہ کی پکڑ تھی جس کے آگے میاں صاحب کی ایک نہ چلی۔ اللہ کی اللہ ہی جا نے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ عافیہ صدیقی کی چیخیں تھیں جنہوں نے عرش کو ہلا دیا ، تو کچھ کا خیال ہے کہ عاشق رسول ﷺ ممتاز قادری کو عجلت میں دی گئی پھانسی تھی جس نے اللہ کے جلال کو دعوت تھی، کچھ کے خیال میں یہ سود کے خلاف حکم امتناعی کا حصول تھا جس نے اللہ کے غضب کو للکارا۔ کچھ کے خیال میں یہ قرض اتارو ملک سنوارو اسکیم کا کھایا گیا پیسہ تھا جو اب اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ اللہ کی اللہ ہی جانے۔

عوام کے سامنے ان کی عزت تار تار ہوتی رہی لیکن آنکھوں پہ چڑھی چربی نے قوت بصارت ہی سلب کر رکھی تھی۔ میڈیا چیختا چلاتا رہا کہ وزیر اعظم نے جھوٹ بولا خیانت کی ، ان کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادوں کی تفصیلات کا آئے روز ٹی وی اسکرین پر چرچا رہا لیکن عرفان صدیقی ، جاوید چوہدری اور عطا الحق قاسمی ایسے درباریوں کے قصیدے ان کے کانوں میں رس گھولتے رہے۔

ان کے اپنے مشیر ان کو غلط مشورے دیتے رہے۔ ان کے اپنے ہاتھ غلط چلتے رہے۔ ان کے اپنے پیر غلط سمت میں اٹھے۔ ان کے اپنے ذہن نے چالیں بنیں تو ان کے اپنے دہن نے کذب اگلا۔ نہ ان کے مختلف مواقع پر دیئے گئے بیانات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے نہ ان کے اہل خانہ کے بیانات ان کے حق میں موافقت۔ ان کے بیٹے حسین نواز کا لندن فلیٹوں کی ملکیت تسلیم کرتے ہوئے الحمدللہ کہنا کچھ ایسا ہی معلوم ہوا جیسا کسی راشی افسر کے عالیشان بنگلے کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا ھذا من فضل ربی۔ ان کی بیٹی کے تیار کردہ ڈاکومنٹس میں استعمال کئے گئے کیلیبری فونٹ کے میڈیا اور عوام نے خوب چٹخارے لئے۔ یہاں تک کہ جب تیار کردہ جعلی دستاویزات عدالت کے روبرو پیش کی گئیں تو منصب عدالت پر فائز ججز بھی پکار اٹھے کہ ہمیں دکھ ہو رہا ہے میاں صاحب ! یہ آپ نے کیا کر دیا۔

۲۰ اپریل کو دو ججز نے ان کو نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ بقیہ تین ججز نے انہیں جے آئی ٹی کے سامنے اپنی بے گناہی کے ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے تمام اہل خانہ کے جوابات ایک دوسرے سے مختلف۔ دستاویزات ایک دوسرے سے مختلف۔ ثبوت ایک دوسرے سے مختلف۔ جے آئی ٹی کے سامنے بے گناہی تو کیا ثابت ہوتی الٹا پکڑائی دے بیٹھے۔ اتنے ثبوت ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے کہ دس جلدیں تیار ہو گئیں موٹی موٹی۔ نو جلدوں کو اوپن کر دیا گیا ۔ دسویں جلد ابھی تک نہیں کھولی گئی۔ سنا ہے آگ ہے آگ۔ واللہ اعلم۔

میاں صاحب کی قسمت دیکھئے کہ وہ تین بار وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے لیکن ان کی بد قسمتی دیکھئے کہ تینوں بار مدت پوری نہ کر سکے۔ مدت پوری ہونے سے قبل ہی نکال باہر کئے گئے۔ ہر بار ایک مختلف راستے سے ۔ پہلی بار صدر نے نکالا، دوسری بار فوج نے، اور اب تیسری بار عدالت نے۔ کیا بات ہے میاں صاحب۔۔۔

۲۰ اپریل کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے جشن کو دیکھ کر پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا تھا کہ ابھی ان کو پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یہ دنیامیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ دنیا کے جس ملک میں بھی جائیں گے، جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں ان کو وہاں وہاں آوازیں پڑیں گی۔ ان کو لندن میں آوازیں لگیں گی۔ ان کو مکے مدینے میں آوازیں لگیں گیں۔ اور پھر سب نے دیکھا کہ آوازیں لگیں ۔ لندن میں بھی اور مدینے میں بھی۔

میاں صاحب اب ستر برس کی عمر کو پہنچنے والے ہیں۔ اوسط عمر کے حساب سے وہ اپنی زندگی پوری کر چکے ہیں اور اب بونس پر جی رہے ہیں۔ انسان زندگی میں بے حساب دولت کما سکتا ہے لیکن ہماری دانست میں ایک انسان کی اصل کمائی یہ ہے کہ اس کے پیچھے ، اس کے مرنے کے بعد لوگ اسے کس طرح یاد رکھتے ہیں۔ اچھے الفاظ میں یا برے الفاظ میں۔ اگر آج میاں صاحب اپنی عمر بھر کی کمائی کا صدق دل سے جائزہ لیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ وہ تہی داماں ہیں۔ خالی ہاتھ ہیں۔ آج ان کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہیں لیکن ان کی عزت کا فالودہ بن چکا ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات اور عدالتی فیصلے کے بعد اب وہ ایک سرٹیفائڈ جھوٹے ، لٹیرے اور خائن کا ٹائٹل حاصل کر چکے ہیں۔ میاں صاحب اور ان کا خاندان ندامت محسوس کرے نہ کرے لیکن اکثر پاکستانی اپنے وزیر اعظم کے کرتوت منظر عام پر آنے کے بعد اپنے سر شرم سے جھکے ہوئے محسوس کر رہے ہیں۔

۲۰ اپریل کے فیصلے پر بھی مٹھائیاں بانٹی گئیں اور بھنگڑے ڈالے گئے۔وہ بھی CONVICTION تھی جسے شاید CONVOCATION سمجھاگیا۔ آج بھی کوئی شرمندگی ہے نہ ندامت ۔ معصومیت بھرا سوال کہ ہمیں بتایا جائے ہم پر الزام کیا ہے؟ وہی حسین نواز والا الحمد للہ کہ مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

وزیر اعظم ہاؤس سے بے دخل کئے جانے کے بعد میاں صاحب ایک قافلے کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوئے۔ کوئے جاناں سے کوئے ملامت کے اس سفر کے لئے انہیں جی ٹی روڈ اختیار کرنی پڑی۔ ساری زندگی موٹر ویز تعمیر کرانے والے میاں صاحب موٹر وے سے فیض یاب نہ ہو سکے۔ شداد اور اس کی جنت کا قصہ یاد آتا ہے۔ تین چار روز میں تقریریں کرتے ، اس ہنگام میں ملکی معیشت کو کئی ارب روپے کے ٹیکے لگاتے ، کئی شہروں کا سکون برباد کرتے، آئین، عدلیہ اور ایک معصوم بچے کو روندتے ہوئے میاں صاحب بالآخر لاہور پہنچ چکے۔ پہلے سوال تھا کہ ہم پر الزام کیا ہے؟ اب پوچھتے ہیں مجھے کیوں نکالا ؟ خواجہ آصف کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔۔۔ او کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیّا ہوتی ہے۔۔۔

اب انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ اتنی رسوائی جگ ہنسائی ہو چکی لیکن شاید ابھی تک “تسلی” نہیں ہوئی میاں صاحب کی۔ اس نظر ثانی کی اپیل کے بعد لگتا ہے کہ قدرت دسویں جلد بھی کھلوانے والی ہے۔ دسویں جلد سنا ہے آگ ہے آگ۔ واللہ اعلم۔

اور اس سب کے بعد انہیں ایک حساب اور بھی دینا ہے ۔۔۔ اپنے دل کے بائی پاس کا ۔ قوم اس حوالے سے شک میں مبتلا ہے میاں صاحب۔ قوم بھُولی نہیں ہے۔اگر یہ بائی پاس بھی ایک ڈھکوسلا نکلا ، اگر سینے پر ٹانکے نہ نکلے میاں صاحب! تو پھر کفن پہنتے ہوئے آپ کو ایک اور ذلت ایک اور رسوائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ کیا وقت ہو گا وہ ۔۔۔ الامان الحفیظ۔۔۔