The power of Imagination

تصور اور تخیل

تصور اور تخیل دو بڑی زبردست قوتیں ہیں جو انسان کو عطا کی گئی ہیں۔ دونوں کا دائرہ کار نہایت وسیع ہےکہ ماضی حال اور مستقبل تمام سمتوں میں سفر کرتی ہیں۔  اور رفتار ایسی کہ روشنی بھی ان کے مقابلے میں گھونگھے سے زیادہ سست نظر آئے۔ یہ ایسی حیرت انگیز قوتیں ہیں جن کی مدد سے انسان اپنے پیکر خاکی کو حرکت دیئے بغیر دنیا جہان کے دورافتادہ مقامات کی سیریں کرتا پھرتا ہے۔

تصور انسان کو ایک لمحے میں دنیا کے کسی بھی ایسے گوشے میں پہنچا سکتا ہے جو کہ اس نے دیکھ رکھا ہو۔۔۔ مثلاً کوئی شخص حرمین شریفین کی زیارت کر کے آ چکا ہو تو وہ جب چاہے تصور ہی تصور میں خود کو خانہ کعبہ کی چوکھٹ یعنی ملتزم سے لپٹا کر اشک ہائے ندامت بہا سکتا ہے اور چاہے تو سنہری جالیوں کے روبرو دست بستہ کھڑے ہو کر جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں درود ہائے عقیدت کا نذرانہ پیش کر سکتا ہے ۔ آپ اسے یادداشت بھی کہہ یا سمجھ سکتے ہیں لیکن ہماری دانست میں تصور، یادداشت سے مختلف ایک قوت ، ایک کیفیت کا نام ہے۔

جبکہ تخیل کی قوت تصور کی قوت سے بھی اعلیٰ ہے کہ یہ انسان کو ایک لمحے میں دنیا کے بلکہ دنیا ہی کیا کائنات کے ان گوشوں تک پہنچا دیتی ہے جو کہ اس نے دیکھے بھی نہ ہوں۔۔۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ تخیل میں برپا ہونے والے ان مناظر یا تصاویر کی حقیقت سے کسی بھی قسم کی جزوی یا کلی مطابقت محض اتفاقیہ ہی ہو سکتی ہے۔۔۔!  قوت تخیل ہی کی بدولت شاعر یا ادیب اپنے اشعار و تحاریر میں ایسے مضامین پیش کرتے ہیں جو زمانہ حال میں دیوانے کی بڑ معلوم ہوتے ہیں لیکن آئندہ چل کر حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔جیسا کہ غالب کا سوا صدی قبل کا یہ مصرعہ “لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور” آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہے۔ شاید اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ شاعر یا ادیب سائنسدان سے سو برس آگے ہوتا ہے۔

اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ تخیل کی قوت کی پہنچ اس سے بھی آگے ہے۔ یہ انسان کو کائنات سے بھی باہر لے جاتی ہے ۔۔۔! اور وہ خیالوں ہی خیالوں میں ملائکہ جنت دوزخ عرش اور کرسی یہاں تک کہ ان سب سے بالاتر خالق کون و مکاں کی ذات تک کے خیالی خاکے بنا لیتا ہے۔  یہ علیحدہ بات کہ ان خیالی خاکوں کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ کسی قسم کی اتفاقیہ مطابقت بھی نا ممکن ہے، نہ زمانہ موجود میں اور نہ آئندہ۔۔۔!

تخیل کی قوت کی بدولت انسان کبھی سجدے میں خود کو باری تعالیٰ کے قدموں میں پیشانی رگڑتا دیکھ رہا ہوتاہے  تو کبھی ہاتھوں سے باری تعالیٰ کی پاکیزگی و لطافت محسوس کر رہا ہوتا ہے ، کبھی دعا میں باری تعالیٰ کا دامن  رحمت پکڑ کر لٹک جاتا ہے اور کبھی باری تعالیٰ کے غیظ و غضب سے خوف زدہ ہو کر اسی کی آغوش میں پناہ لے کر خود کو محفوظ و مامون سمجھنے لگتا ہے۔ مطلوب بھی یہی ہے کہ عبادت ایسے کرو گویا اپنے رب کو دیکھ رہے ہو!

تیری دید بھی مجھ کو ہو جائے کیسے؟ میں فرشِ زمیں پہ ، تو عرشِ بریں پہ!

ہو معراجِ مومن سے مجھ کو نظارا ۔۔۔ اے پروردگارا ! اے پروردگارا!