Uncategorized

Dard e dil k wastay

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ان دنوں شہر کراچی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ خاص کر صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت واحد عدد یعنی سنگل ڈجٹ میں چل رہا ہے۔ جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت یعنی رئیل فیل چار پانچ ڈگری تک بھی گر چکا ہے۔

تو بھئی ہمیں تو آج کل بہت سردی لگ رہی ہے۔ یقیناً آپ کو بھی سردی لگ رہی ہو گی۔ ایسے میں اپنے ملازمین کا ضرور خیال کیجیے۔ وہ بھی انسان ہیں۔ انہیں بھی سردی لگ رہی ہوتی ہے۔ شاید ہم اور آپ سے زیادہ۔۔۔ کہ ان کے وسائل ہماری آپ کی نسبت کہیں کم اور محدود ہیں۔

اکثر علاقوں میں مزدور اپنی روزی کی خاطر گاڑیوں کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں۔ فی گاڑی سات آٹھ سو روپے ماہانہ مزدوری لیتے ہیں۔ کوئی آسان کام ہے اتنی سردی میں ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالنا۔۔۔ وہ بھی صبح صبح؟ ممکن ہے آپ کی گاڑی صاف کرنے بھی کوئی بندہ آتا ہو۔ اب اگر وہ سردی کی وجہ سے ایک دو دن ناغہ کر جائے تو کیا تنخواہ سے پیسے کاٹ لینے چاہئیں؟ اکثر دفاتر میں ملازمین کو paid leave ملتی ہے۔ اپنے ملازم کو بھی یہ سہولت دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔

گھروں میں صفائی دھلائی کے لیے ماسیاں آتی ہیں۔ جھاڑو پوچا برتن کپڑے دھونا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کل ایک گھر میں دیکھا۔۔۔ بے چاری ملازمہ اتنی سخت سردی میں لان کے کپڑے پہنے کھلے آسمان تلے ٹھنڈے پانی سے کپڑے دھو رہی۔ ہمیں تو دیکھ کے ہی جھرجھری آ گئی۔ بے حسی سی معلوم ہوئی۔ بھئی کپڑے دھلوانے اتنے ہی ضروری ہیں تو اندر غسل خانے میں دھلوا لیجیے۔ اور ہاں ملازمین کو بھی گرم پانی کی سہولت فراہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر خدمت تو وہ ہماری آپ ہی کی کر رہے ہوتے ہیں ناں؟ ملازمت اور بیگار میں کچھ تو فرق بہرحال رہنا ہی چاہیے۔

چوکیدار اور سیکیورٹی گارڈز بھی ہماری آپ کی املاک کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔ گارڈز کو گولی اور سردی دونوں سے بچانا ضروری ہے۔ ان کے لیے پکی چوکی بنا دی جائے تو بہت ہی اچھا ہے وگرنہ موسمی اثرات سے بچاؤ کے لیے مناسب سائبان کا انتظام ضرور ہونا چاہیے۔ کھلے آسمان تلے کرسی پر بٹھا دینا کچھ غیر انسانی سا عمل معلوم ہوتا ہے۔