Uncategorized

Mar kay bhi chain na paya to kidhar jaen gay…?

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

از ابو شہیر

24 جنوری 2013 کو روزنامہ “جنگ” کراچی میں انصار عباسی صاحب کا مضمون بعنوان “پاکستان میں سب چلتا ہے”پڑھ کر بہت خوشی ہوئی جس میں انہوں نے چند دن قبل ہی وفات پانے والی ایک معروف گلوکارہ (نام ہم دانستہ نہیں لکھ رہے)کے انتقال پر میڈیا کے رویے کو موضوع بحث بنایا ۔ مضمون کی ابتدائی سطور یوں تھیں ۔۔۔  “بیچارہ کوئی اداکار یا گلوکار یا شوبز سے تعلق رکھنے والا کوئی اور فرد یہاں فوت ہو جائے تو ٹی وی چینلز اس کا جو حال کرتے ہیں ، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ ہمیں تو ہمارا دین یہ سکھاتا ہے کہ کسی مسلمان کے مرنے پر اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے ، مگر ہمارے چینلز ہیں کہ چن چن کر اس کے ناچ گانے دکھانے لگ جاتے ہیں “۔۔۔

“پھر 25 جنوری 2013 کے روزنامہ “جنگ” کراچی میں کشور ناہید نے اپنے مضمون میں اسی گلوکارہ کے علاوہ دیگر بہت سی گلوکاراؤں کے حوالے سے معاشرے کی بے اعتنائی پر اپنی دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ۔ “فلاں نے چھوٹے بھائیوں کو پڑھایا ، ان کی شادیاں کیں اور امریکہ میں نوکریاں بھی دلوائیں ۔ ان بھائیوں کی انا یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ ان کی بہن ایک گانے والی ہے ۔ اس لئے انہوں نے امریکہ ہی میں مستقل رہنے کا بندو بست کر لیا ۔” “فلاں نے اپنے بیٹوں کو پڑھایا لکھایا ، شادیاں کیں اور جب وہ کسی قابل ہو گئے تو اعتراض کرنے لگے اسی ماں پر جس نے کمائی کر کے ان کو کسی لائق بنایا تھا ۔ پھر انہوں نے بھی غیر ممالک کا رخ کیا ۔ ان کی ایک بیٹی بھی تھی ۔ اس کی شادی کی تو داماد ، گھر داماد بن گیا۔ اس میں وہ شرم محسوس نہیں کرتا تھا ، البتہ ان کے گانے پر معترض تھا ۔   “

کون مسلمان نہیں جانتا کہ موسیقی اور گانا بجانا حرام ہے ؟پھر جو خواتین اس پیشے سے وابستہ ہو جاتی ہیں وہ بے پردگی کے باعث ایک اور نافرمانی کی بھی مرتکب ہوتی ہیں۔ یہ ایک اجمالی بات ہے ، کسی خاص فرد کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا رہی ۔ ویسے بھی جو مر گیا اس کے بارے میں لب کشائی مناسب نہیں ، مرنے والا جانے اور اس کا رب ۔ تاہم یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا اور اپنے اعمال کی بازپرس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ جس طرح کچھ اچھے اعمال صدقہ جاریہ کی صورت میں مرنے کے بعد بھی نافع ہو سکتے ہیں ، اسی طرح کچھ برے اعمال طرح گناہ جاریہ کی صورت میں مرنے کے بعد بھی ایک مستقل وبال کا سبب بن سکتے ہیں۔ مرنے والے مر جاتے ہیں ، پیچھے ان کے ناچ گانے زندہ رہ جاتے ہیں۔

مذکورہ مضامین کا بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں بڑے سبق آموز معلوم ہوتے ہیں ۔انصار عباسی صاحب کے مضمون سے واضح ہے کہ چونکہ …عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں … لہٰذا مرنے کے بعد متوفی کے پرستار بجائے دعائے مغفرت کے ، اسی عشق بتاں کے قصے لے بیٹھتے ہیں ۔ اور ٹی وی چینلز متوفی یا متوفیہ کے ناچ گانے دکھا دکھا کر گویا اس کی روح کو “ایصال ثواب “پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور پھر سال کے سال “…A tribute to ” کے عنوان سے پروگرام بنا کر برسی بھی “نہایت عقیدت و احترام “سے منائی جاتی ہے، جن کا اختتام عموماً  “حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” والی کیفیت پر ہوتا ہے ۔

کشور ناہید کا مضمون تو گویا ایک ریسرچ پیپر ہے جس سے یہ چشم کشا حقیقت عیاں ہے کہ موسیقی اور گائیکی سے وابستہ شخصیات کو دنیا ہی میں عشق بتاں کے وبال کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ لوگوں کو یہ بھی یاد ہو گا کہ وہ ، جن کو پاکستان کا سب سے بڑا غزل گائیک کہا جاتا تھا ، ان کی بھی زندگی کے آخری ایام نہایت کسمپرسی میں گزرے ۔ اور پھر جب انتقال ہوا تو تدفین میں بھی ایک گلوکارپیش پیش تھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی قاری حافظ اس وقت آگے آگے ہوتا ۔ معلوم ہوا کہ انسان جن لوگوں سے تعلق جوڑے گا ، مرنے کے بعد انہی کے ہاتھوں قبر میں اتارا جائے گا۔ جنید جمشید سے پوچھا گیا کہ گانا کیوں چھوڑا ؟ بولے کہ گلوکاری سے خوب شہرت کمائی ، لیکن زندگی میں سکون نہیں تھا ۔ جب سے تائب ہوا ہوں ، چین سے ہوں۔ اب تائب نہ ہونے والوں کو سوچنا چاہئے کہ …مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے ، لغزشوں سے در گزر فرمائے اور جو انسان زندہ ہیں ان کو نیک ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین۔ افسوس !زندگی کا مقصد کیا بتایا گیا ہے اور ہم نے کیا بنا لیا !

Advertisements