Behaviors & Attitudes, Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

TABDILI

یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ اس مضمون میں ان امور کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہمارے خیال میں کراچی کی سیاست میں واضح تبدیلی کا باعث بنے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔

یہ جو ووٹ کا رجحان ہے

اس کے پیچھے کپتان ہے

حالیہ انتخابات میں ایم کیو ایم جس ہزیمت کا شکار ہوئی ہےوہ ایم کیو ایم کی قیادت اور اس کے سپورٹرز کے لئے انتہائی غیر متوقع اور نا قابل قبول ہے۔ہماری دانست میں وجوہات بہت سادہ ہیں جن کے سبب کراچی کی مقبول ترین سیاسی جماعت اس قدر عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی، اور پی ٹی آئی نے فقید المثال کامیابی حاصل کی۔

اسّی کی دہائی میں ایم کیو ایم کراچی اور شہری سندھ کے متوسط طبقہ کی جماعت بن کر ابھری۔ شہری اور دیہی سندھ میں تفریق، کوٹہ سسٹم، اردو بولنے والوں سے امتیازی سلوک، ان کے جائز حقوق کی پامالی یہ سب وہ عوامل تھے ، ایم کیو ایم جن کے خلاف احتجاج کے طور پر وجود میں آئی۔ چنانچہ ابتدا ہی سے اسے شاندار پزیرائی حاصل ہوئی۔ الطاف حسین ایک نمایاں لیڈر کے طور پر ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے۔ الطاف حسین خود بھی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سپورٹرز کے سامنے ایک انقلابی منشور پیش کیا کہ ایم کیو ایم ان کے حقوق کے لئے کس طرح پارلیمانی جد و جہد کرے گی اور اس کے کیا نتائج حاصل ہوں گے۔ لوگوں کو ان کا پروگرام قابل عمل نظر آیا۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے جمہوری راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایم کیو ایم نے متعدد انتخابات میں ریکارڈ توڑ کامیابیاں حاصل کیں۔

لیکن ۔۔۔ پچیس برس گزرنے کے بعد بھی خواب خواب ہی رہا۔ پچھلی نسل کے بزرگ خواب کی تعبیر کے انتظار میں قبر کے کنارے تک، اور جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے۔ خواب دکھانے والا پردیس سدھارا۔ پیچھے کارکنان کا جبر شروع ہوا۔ گن پوائنٹ پر چندے فطرے بھتے قربانی کی کھالوں کی وصولی اور جبری ہڑتالیں۔ کاروبار دوکانیں ٹھپ، تعلیمی ادارے بند۔ ظلم و جبر کے خلاف بننے والی جماعت آج خود ظلم و جبر کی علم بردار بن چکی تھی۔ سو پچھلی نسل میں سے بہت سے لوگ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو ئے۔

پھر یہ بھی کہ پردیس سے پارٹی بھلا کب تک چلائی جا سکتی تھی، کب تک متحد و منظم رکھی جا سکتی تھی۔ چنانچہ گزشتہ الیکشن کے بعد سے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو چلی۔ قائد کو مائنس کر دیا گیا۔ پارٹی کے اندر سے ہی کئی دھڑے وجود میں آگئے۔ جب سرکردہ رہنماؤں نے ہی اپنے لیڈر کو خیر باد کہہ دیا تو بھلا ووٹرز کو کیا پڑی تھی تعلق نبھانے کی۔

دوسری طرف ہماری نئی نسل خاموشی سے جوانی کی طرف گامزن تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ کل کے بچے آج شناختی کارڈ ہولڈر ہو چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم نکتہ تھا، کراچی کی دیگر سیاسی جماعتیں جسے مِس کر گئیں۔ دو بچوں کو دیکھ کر تو ہمیں خود حیرت ہوئی کہ اچھا یہ بھی ما شآء اللہ ووٹ ڈالنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اس نئی پود کو ایم کیو ایم کا منفی تعارف تھا۔ ادھر عمران خان کی صورت میں ملک کے سیاسی افق پر ایک نیا لیڈر نمودار ہوا جو کہ نئی نسل کو نئے پاکستان کا رومانوی خواب دکھا رہا تھا۔ ادھر تیس برس سے ملکی سیاست پر چند معروف چہرے ہی قابض تھے جنہوں نے قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہ دیا۔ تقریباْ اسی طرح کا ویکیوم اسی طرح کے زمینی حالات موجود تھے جن کے نتیجے میں ایم کیو ایم وجود میں آئی.

کپتان کی سیاست سے ضرور اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہو گی کہ اس نے نئی نسل کو سیاست کی جانب متوجہ کیا، ووٹ کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا. عمران خان نے قومی سطح پر تبدیلی کے خواہشمند افراد کو اپنی جماعت کے ذریعے ایک راہ دکھائی۔ کپتان کا پیش کردہ نئے پاکستان کا خواب اس قدر حسین و دلکش تھا کہ نئی پود ساری کی ساری اس کی جھولی میں جا گری۔ ساتھ ہی پچھلی نسل کے مایوس و بیزار لوگوں نے بھی اپنا وزن ڈالا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ سو حیرت کیسی؟

Election, Pakistan, Politics, Social, پاکستان, سیاست

یہی تو ہے وہ اپنا پن

(یہ مضمون الیکشن 2018  سے چند روز قبل لکھا گیا۔ لہذا اسے اسی تناظر میں پڑھا جائے۔ بوجوہ قدرے تاخیر سے یہاں اب شائع کیا جا رہا ہے۔ ؎ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔

 یہ ایک سیاسی مضمون ہے۔ ممکن ہے مضمون کے مندرجات بعض قارئین کے سیاسی معیارات سے متصادم ہوں۔ ان سے پیشگی معذرت۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ سیاسی اختلاف بہر حال ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے۔)

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

 صاحب! واقعہ یہ ہے کہ اپنوں نے اپنوں کو چاہا تو واقعتاً دم نکال کے رکھ دیا اپنوں کا۔

اپنوں نے اپنوں کے لئے سیاسی جماعت بنائی تو اپنوں نے اپنوں کی جماعت کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ ہر الیکشن میں اپنوں کو ووٹ دیا . بھر بھر کے دیا۔ سالہا سال دیا۔ کیا قومی اسمبلی ، کیا صوبائی اسمبلی ، اور کیا بلدیاتی انتخابات۔ بیلٹ باکس بھر دیئے۔ لاکھوں ووٹ ، اور لاکھوں کے فرق سے کامیابی۔ لیکن جلد ہی اپنوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔

کچھ اپنوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دھتکار دیا گیا۔ جس کے بعد اپنوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ اس پھوٹ کے نتیجے میں اپنے ، اپنوں ہی کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے۔ اپنوں کی اس لڑائی میں اپنوں ہی کا خون بہا اور بہت بہا۔ اپنے شہر کے باسیوں نے ٹارگٹ کلنگ کا تاریک دور دیکھا۔ اپنے ہی جواں سال بچوں کے لاشے اٹھائے ۔ اپنے ہی شہر کے کچھ علاقے اپنوں کے لئے بند ہو گئے۔ نو گو ایریاز وجود میں آئے۔ پہلے سارا شہر اپنا تھا۔ سارے محلے اپنے تھے۔ اب اپنے ہی علاقے پرائے ٹھہرے۔ اپنے، اپنوں سے ملنے کے لئے ترسنے لگے۔

مار دھاڑ کے اس دور کے بعد طاقت پکڑنے والے اپنے ، اپنے ہی شہر پر ، اپنے ہی شہر والوں پر ، اپنے ہی ہم زبانوں پر قابض و حاوی ہوتے چلے گئے۔ بد معاشی اس قدر بڑھی کہ اپنوں سے اپنا حصہ وصولنے پر اتر آئے۔ عید الاضحیٰ آئی تو اپنوں نے اپنوں سے کہا کہ قربانی کی کھالیں اپنوں کو دیجئے۔ اپنوں نے پس و پیش کی تو گن پوائنٹ پر کھالیں چھینی گئیں۔اپنوں کی اس بد معاشی کے باعث بہت سے اپنے، اپنی قربانیاں اپنے گھر پر کرنے کے بجائے مدارس میں کرانے پر مجبور ہو گئے۔ رمضان المبارک آیا تواپنوں نے اپنوں سے زکوٰۃ طلب کی۔ عید الفطر آئی تو فطرے کی پرچیاں پہلے ہی اپنوں کے گھروں دفتروں تک پہنچا دی جاتیں۔ اور پرچیوں کی تعداد کے بقدر فطرہ کی جبری وصولی ہوتی رہی۔

اپنوں سے اپنائیت کی وصولی کا ایک خوفناک طریقہ بے سر و پا ہڑتالیں تھیں۔ آئے دن شہر کو تالا لگوا دیا جاتا۔ اپنوں کے حکم سے انحراف کی کسی اپنے کو اجازت نہ تھی۔ شہر میں کوئی اپنا مارا جاتا یا برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کسی اپنے کے خلاف تحقیقات کرنا چاہتی، نتیجہ ہڑتال۔ لندن سے یا رابطہ کمیٹی سے ایک حکم آنے کی دیر ہوتی۔ سارے یونٹ و سیکٹر انچارج اپنے اپنے علاقوں میں نکل آتے، ہوائی فائرنگ ہوتی ۔۔۔ اور اپنا شہر شٹ ڈاؤن۔ ہر ماہ کئی کئی ہڑتالیں۔ بسا اوقات ایک ایک ہفتہ میں دو دو تین تین ہڑتالیں۔ آن کی آن میں سارا شہر بند۔ ٹرانسپورٹ بند۔ بلکہ اگلے دن کی ہڑتال کی کال اور شہر کو شام سے ہی تالا۔ ارے جو اپنا صبح گھر سے نکلا ہے، وہ شام کو گھر کیسے پہنچے گا، اپنوں کی بلا سے۔ ہر اپنا اپنے گھر والوں کی بخیریت گھر واپسی کے لئے فکر مند اور دعا گو۔ اپنوں کی دوکانیں بند، کاروبار بند۔ اپنوں کی گاڑیاں نذر آتش۔ اپنوں کی دوکانیں نذر آتش۔ اپنوں کی فیکٹریاں نذر آتش۔ اور کہیں فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور بھی نذر آتش۔ اپنے ہی بچوں کے تعلیمی ادارے بند۔ اپنوں کے گھروں میں لاشے۔ اپنوں کے گھروں میں فاقے۔ اپنے بچے تعلیم سے دور، گٹکا اور مین پوری تھوکنے پر مسرور۔ ایک طرف اپنوں کے بازار کاروبار بند ، دوسری طرف اپنوں ہی سے قربانی کی کھالیں ، چندے فطرے زکوٰۃ کی بھتے کی طرح وصولی۔ کمائے گا نہیں تو کھلائے گا کہاں سے؟ اپنوں کی بلا سے۔

باہر سے آنے والے اس شہر میں کھپ گئے، پنپ گئے۔ ان کی دوکانیں جم گئیں۔ ان کے کاروبار چمک گئے۔ کپڑے کا کاروبار دیکھئے، اکثر دوکانیں پٹھانوں کی ہیں۔ رابی سینٹر ہو یا سمامہ شاپنگ سینٹر ۔ پٹھانوں کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسری قومیت کا بندہ نظر آئے۔ پورے پورے بازار پٹھان چلا رہے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ بھی پہلے پٹھان ہی چلا رہے تھے اور خوب چلا رہے تھے۔ ان کی منی بسیں بند ہوئیں تو آج سرائیکی المعروف ریاستی رکشے چلا رہے ہیں۔ اپنے شہر کے بچے ہی کچھ نہ کر پائے۔ جنہوں نے پاکستان بنایا اور پھر محدود وسائل کے باوجود نوزائیدہ مملکت کو کامیابی سے چلا کے دکھایا، ان کے اپنے بچے اس قدر ناکارہ ہرگز تو نہیں ہو سکتے!

تیس سال سے شہر پر قابض اپنوں کو نہ شہر میں لوڈ شیڈنگ نظر آئی نہ کچرا، نہ ٹرانسپورٹ نہ شہر کے دیگر مسائل۔ درمیان میں مصطفیٰ کمال نہ آتا تو اپنوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اپنوں کے لئے۔ آج وہ بھی اپنوں سے ناطہ توڑ بیٹھا ہے۔ جو اپنے کسی اور جماعت میں تھے، وہ غیر ٹھہرے۔ غیروں نے کے الیکٹرک کی دھاندلیوں کے خلاف نیپرا اور دیگر فورمز پر اپنوں کا مقدمہ لڑا اور خوب لڑا۔ ہر فورم پر لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کے خلاف آواز بلند کی۔

واٹر بورڈ میں تو الا ماشآء اللہ سارے ہی اپنے بیٹھے ہیں۔ ان کی مہربانی سے شہر کے بیشتر علاقے پانی کو ترس رہے ہیں۔ اپنے عارف علوی نے واٹر پالیسی پیش کی تو اپنوں کو بھی اپنا سمندر یاد آیا ۔ کہ اس کے پانی کو ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ذریعے میٹھا کر کے پانی کی قلت کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ارے تیس سالوں سے کیا کر رہے تھے؟

قصہ مختصر بہت لمبی کہانی ہے اپنے پن کی۔ آج 2018 کا الیکشن آیا تو کہتے ہیں، اپنوں کا ووٹ اپنوں کے لئے۔۔۔ کام تو اپنے ہی آتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

وقت آ گیا ہے کہ اپنوں کو اپنائیت کا بھرپور گرم جوشی سے جواب دیا جائے۔

Election, Pakistan, Politics

Muqaddar Ka Sikandar

مقدر کا سکندر

وہ 1949 ء میں ایک متمول کشمیری گھرانے میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ ایک تاجر اور صنعتکار تھا ۔ 70 کی دہائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا تو اس کے باپ کے کارخانے کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں اس نے سیاست میں کودنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اپنی سیاست کا آغاز کیا ۔ قسمت اور بڑے صوبے کے اس وقت کے گورنر جنرل غلام جیلانی خان کی مہربانی سے وہ 1980 ء میں اسی صوبے کا وزیر خزانہ بن گیا ۔ جبکہ اگلے پانچ برسوں میں وہ اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اسی دوران وہ اپنا خاندانی کارخانہ بھی دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ آج اس کا خاندان فولاد کی ایک عظیم الشان انڈسٹری کا مالک ہے ۔ نیز اس خاندان نے زراعت ، ٹرانسپورٹ اور شوگر ملز میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

تاریخ کی کتابوں کو کھنگالا جائے تو شاید ہی کوئی ایسی دوسری مثال ملے کہ قسمت کسی پر اس درجہ مہربان ہوئی ہو جتنی اس پر مہربان ہوئی ۔ اس کے کاروبار پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آج اس کی صنعتی ایمپائر دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ اس کے سیاسی کیریر جائزہ لیں تو تعجب ہوتا ہے کہ وہ محض31 برس کی عمر میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر خزانہ، پھر 33 برس کی عمر میں اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ، اور پھر صرف 41 برس کی عمر میں ملک کا وزیر اعظم بن چکا تھا۔ اتنی کم عمری میں کسی کو ترقی کی اتنی منازل طے کرتے ہوئے اس زمین آسمان نے کم کم ہی دیکھا ہو گا ۔ اس وقت کے صدر نے اس کی حکومت کو برطرف کی تو عدالتی حکم اس کے حق میں آ گیا ۔ یہ اور بات کہ جلد یا بدیر اسے بہرحال وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا ہی پڑا۔

ایک مختصر وقفے کے بعد قسمت نےپھر انگڑائی لی اور اس شان سے کہ اس کی جماعت نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ اس مرتبہ پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی سادہ اکثریت کے باعث وہ ایک طاقتور وزیر اعظم تھا۔ وہ چاہتا تو کیا کچھ نہیں کر سکتا تھا! وہ چاہتا تو ملکی تاریخ کا دھارا موڑ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کا مقدر سنوار سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنا کر عوام کے دلوں پر حکومت کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو ملکی دولت لوٹنے والوں کو عبرت کا نشان بنا سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں اسلامی شریعت نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں عدل و انصاف کا اسلامی نظام نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو یہ سب کر کے اپنا حشر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کروا سکتا تھا۔۔۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

تاہم اس کی خوش قسمتی کے قصے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ مقدر نے اسے ایک اور سنہرا موقع فراہم کیا ۔ ہمسایہ ملک بھارت نے 1998 ء میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا تو مئی 1998 ء کو اس کی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کے ہاتھوں پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اور کرہ ارض کی ساتویں جوہری قوت بن گیا۔ قومی تاریخ کا یہ وہ یادگار ترین لمحہ تھا کہ جب نہ صرف یہ کہ پوری پاکستانی قوم ایک سرشاری کے عالم میں اس کی پشت پر کھڑی تھی بلکہ پورا عالم اسلام بھی اس پر فخر کر رہا تھا ۔ لیکن پھر اچانک ایک احمقانہ فیصلے کے ذریعے فارن کرنسی اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی گئی جس کے نتیجے میں قومی یک جہتی کی ساری فضا سبو تاژ ہو گئی ۔ اس فیصلے کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی بھی کہا جاتا ہے۔ صرف عوام کی دولت ہی نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھی لوٹ لئے گئے ۔

لیکن وہ اس سب سے بے پروا محض اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آیا۔ اس جد و جہد میں وہ ان آہنی دیواروں سے ٹکرا بیٹھا جن سے ٹکرانے کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوتا ۔سو اس کی حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی اور ملک ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں پھنس گیا۔ جیل کی کال کوٹھری اس کا مقدر بنی ۔ وہ عر ش سے گر کر پاتال میں پہنچ چکا تھا۔ اس کے سر پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے۔لیکن قسمت نے ابھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ سو یہ خطرہ بھی کسی نہ کسی طور ٹلا اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں آمر وقت نے اسے جلا وطن کرنے کا حکم دیا ۔ وہ سرزمین حجاز مقدس جا پہنچا جہاں وہ شاہی مہمان کی حیثیت سے جدہ کے ایک عالیشان محل میں قیام پزیر رہا ۔

پھر کسی نہ کسی طرح وہ وطن واپس آنے میں کامیاب ہوا ۔ اور آج وہ ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بن چکا ہے۔ آج پھر پارلیمنٹ میں اسے عددی اکثریت حاصل ہے۔ آج ایک بار پھر اس کے پاس موقع ہے کہ وہ چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اسے کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے کسی دوسری پارٹی کی حمایت درکار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی سیاسی حریف ماری جا چکی ہے جبکہ اس کی حریف سیاسی جماعت آخری ہچکیاں لیتی نظر آ رہی ہے۔ وہ الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کر رہا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر یہ کریں گے ، اور وہ کریں گے۔ اسے ملک کی سسکتی بلکتی عوام نے نجات دہندہ سمجھ کر بھاری اکثریت سے منتخب کیا لیکن آج اس کی حکومت کے ابتدائی فیصلے دیکھ کر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ماضی کے نشیب و فراز سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اس نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے سابقہ ادوار حکومت کی طرح سرکاری ملازمتوں پر پابندی کا حکم صادر کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی خارج از امکان قرار دیا جا چکا ہے۔ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے لٹیروں کا بے لاگ احتساب کر کے لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کے بجائے آئی ایم ایف سے مزید سودی قرضے لینے کو ناگزیر قرار دیا جا چکا ہے ۔ بے چہرہ جنگ اور ڈرون حملوں سے متعلق حکومتی پالیسیز بھی کمزوری اور بودہ پن کا شکار نظر آ رہی ہیں۔

مہنگائی اور افراط زر کی ماری عوام بجا طور پر کسی ریلیف کی آس لئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی لیکن اس کے وزیر خزانہ کے پیش کردہ بجٹ کے نتیجے میں غریب آدمی کے تن پر موجود آخری چیتھڑہ اور منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی ۔ 82 ارب روپے کا کلیم تو اکیلے توقیر صادق پر ہی نکلتا ہے۔ ایسے کتنے ہی توقیر صادق ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرتے رہے ۔ لیکن انہیں پکڑ کر ان سے غبن کردہ ملکی دولت وصول کرنے کی بجائے وہ ایک بار پھر عوام ہی سے قربانی کا طلبگار ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس سولہ فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے ۔ موبائل فون پر ٹیکسز میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ آج موبائل فون صارفین کو 100 روپے کے کارڈ پر 41.50 روپے ٹیکس دینا ہو گا گویا 41.50 فیصد ٹیکس۔ دنیا میں شاید ہی کسی ملک میں اس شرح سے ٹیکس نافذ کیا گیا ہو۔ سی این جی کی قیمتوں میں بھی رمضان المبارک کے بعد ہوشربا اضافہ کی شنید ہے جو کہ ذرائع کے مطابق 80 فیصد تک ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی یقیناً ایک عالمی ریکارڈ ہی ہو گا ۔ حد تو یہ ہے کہ عازمین حج پر بھی فی کس پانچ ہزار روپے ٹیکس لگا دیا ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ ٹیکس حجاج کرام پر نہیں بلکہ حج ٹور آپریٹر پر لگایا گیا ہے ، لیکن ظاہر ہے ٹور آپریٹر وصول تو حاجیوں سے ہی کرے گا ، اپنے پاس سے تو دینے سے رہا۔ کاش کبھی کوئی غیر جانبدار ادارہ اس بات کا جائزہ لے اور بتائے کہ پاکستان کی عوام بالخصوص ملازمت پیشہ طبقہ (جن کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس پیشگی ہی وصول کر لیا جاتا ہے) انکم ٹیکس، جی ایس ٹی ، ایکسائز ڈیوٹی ، پراپرٹی ٹیکس ، موٹر وہیکل ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کی مدات میں اپنی آمدنی کا کل کتنا فیصد حصہ بطور ٹیکس ادا کر رہا ہے؟

ملک کی اسلام پسند عوام اور دینی حلقے اس سے بجا طور پر توقع کر رہے ہیں کہ وہ ملکی معیشت کو سودی نظام سے پاک کرنے کے لئے اقدامات کرے… ملک میں اسلامی نظام عدل رائج کرے … اسلامی شریعت کے نفاذ کی عملی کوشش کرے … ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سعی کرے… لیکن ایسی “خرافات ” اس کی ترجیحات میں شامل کہاں؟

اتنے مواقع جس شخص کو ملیں اسے مقدر کا سکندر کہا جاتا ہے ۔۔۔  معلوم نہیں کہ اتنے مواقع ملنے کے بعد بھی ملک و قوم کے لئے کچھ نہ کر پانے والے شخص کو کیا کہا جائے گا؟90 کی دہائی میں جب وہ پاکستان کا وزیر اعظم تھا تو ملائیشیا میں مہاتیر محمد اس کا ہم عصر تھا۔ آج ترکی کا رجب طیب اردگان اس کے معاصرین میں شامل ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے وطن کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ دونوں نے ملکی و عالمی سطح پر کتنی نیک نامی کمائی ۔

آہ ارضِ وطن …. تیرا مقدر !

واہ سکندر… تیرا مقدر!