Emaan, Ramadhan, Roza, Taraweeh, Uncategorized, اسلام, تراویح, رمضان المبارک, روزہ

اگر آپ موسم کی سختیوں کے باوجود محض اللہ کی رضا کی خاطر روزے رکھ رہے ہیں۔۔۔
اس حال میں کہ
ان روزوں سے آپ کی طبیعت ہلکان ہوئی جا رہی ہے۔۔۔

اگر گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث آپ مکمل آرام حاصل نہیں کر پا رہے۔۔۔
پھر بھی آپ رات کو تراویح کی لمبی لمبی رکعتوں میں محض اللہ کی رضا کی خاطر قیام کر رہے ہیں۔۔۔
اس حال میں کہ
تھکن سے آپ کا جسم نڈھال ہے۔۔۔
اور نیند سے آنکھیں بوجھل ۔۔۔
تو پھر یہ حدیث مبارکہ آپ ہی کے لئے ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :
” الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ ,
يَقُولُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ , إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ,
وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : رَبِّ , إِنِّي مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ,
فَيُشَفَّعَانِ ” .

 

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Uncategorized, نماز, اسلام, علم دین

Prayer on Chair

کرسی پر نماز

کرسی پر نماز کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔

بہت سے لوگ معمولی عذر یا تکلیف کی صورت میں بھی کرسی پکڑ لیتے ہیں۔

ہر فرد کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ اپنے عذر کی نوعیت کو کسی عالم دین سے ڈسکس کر کے ان سے معلوم کرے کہ آیا اس کے لئے کرسی پر نماز ادا کرنا درست ہے یا نہیں۔

عمل دیکھ کر نہیں سیکھ کر کرنا چاہئے۔

یہ نماز کا مسئلہ ہے۔

فرض عبادت کا مسئلہ ہے۔

روزانہ اور پانچ وقت کا مسئلہ ہے۔

اورقیامت کے روز پہلے سوال کا مسئلہ ہے۔

Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Ramadhan, Uncategorized

Umeed e Karam

امیدِ کرم

رمضان المبارک بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
گرمی کی شدت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
روزے رکھنے کی ہمت و توفیق بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
یہ حرام و حلال  سے رک جانا بھی اللہ ہی کے لئے ہے ۔۔۔
اور ۔۔۔
اجر بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔۔۔۔!

اللھمَّ تَقَبَّل صِیَامَنَا وَ قِیَامَنَا
اللھمَّ لا تَرُدَّنَا خَآئِبِیْنَ
😥

Behaviors & Attitudes, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Sahaba kay Waqiat, Seerat-un-Nabi, Uncategorized, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, علم دین

Sa’d Bin Ma’az

sbmi

ابو شہیر

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عبارت یا تصویر آپ کی نظروں سے گزرتی ہے اور آپ ایک لمحہ کو ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں …  کہ وہ عبارت یا وہ تصویر آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور آپ پہلے سوچنے … اور پھر کھوجنے پر مجبور ہو جاتے  ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر (پوسٹ) گزشتہ دنوں فیس بک پر نظر سے گزری جس نے راقم کو ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا ۔ ملاحظہ کیجئے۔
sbm

مفہوم : اسلام لائے تو عمر تیس برس تھی …. اور مرے تو عمر چھتیس ۳۶ برس تھی…. اے سعد بن معاذ! چھ برس میں آپ نے ایسا کیا عمل کیا …

کہ آپ کی موت پر رحمان کا عرش جھوم اٹھا!

انتہائی پر اثر اور دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اس پوسٹ کو پڑھ کر خیال آیا کہ نبی کریم ﷺ کے اس جانثار صحابی ؓ  کی زندگی کے بارے میں ذرا تاریخ کے اوراق کو کھنگالا جائے اور دیکھا جائے کہ صرف چھ برس کی اسلامی زندگی کے دوران اس نوجوان ؓ نے ایسا کیا عمل کیا کہ ان کی وفات پر عرش الٰہی خوشی سے جھوم اٹھا ۔

سیدنا سعد بن معاذ  رضی اللہ عنہ کا شمار رسول اللہ ﷺ کے انتہائی جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے ۔ تعلق مدینہ منورہ (سابقہ یثرب) کے مشہور قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل سے تھا ۔بعد ازاں  قبیلہ اوس کے رئیس بنے۔ ہجرت نبوی ﷺ سے ۳۲ برس قبل یثرب میں پیدا ہوئے۔ہجرت نبوی ﷺ سے ایک برس قبل اسلام قبول کیا جبکہ ہجرت کے پانچویں سال مدینۃ النبی ﷺ میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اور دیار نبی ﷺ ہی آپ کا مدفن بنا ۔ اسلام پیش کیا گیا تو سعد بن معاذ ؓ نے نہ صرف یہ کہ فوراً ہی اسلام قبول کر لیا بلکہ اپنے قبیلے والوں سےشرط باندھ لی کہ  میرا تم سب مرد و عورت سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم مسلمان نہ ہو جاؤ۔ اس پر ان کے قبیلے کے سب مرد و زن مسلمان ہو گئے۔

حضرت سعد بن معاذ ؓ کی مختصر سی اسلامی زندگی کے اوراق پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بخوبی عیاں نظر آتی ہے کہ حضرت سعدؓ  کو جب جب موقع ملا ، انہوں نے بے مثال عزیمت و شجاعت کا مظاہر ہ کیا۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ بنی قریظہ دو ایسے مواقع ہیں جب ان کی فہم و فراست ، دینی حمیت اور اولو العزمی حد درجہ کمال کو پہنچی نظر آتی ہے۔

سعد ؓاور معرکہ بدر

میدان بدر میں رسول اللہ ﷺ نے  ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ میں درپیش صورتحال کی سنگینی کا تذکرہ فرماتے ہوئے کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پہلے حضرت ابو بکر ؓ ، پھر حضرت عمر بن الخطاب ؓ اور پھر حضرت مقداد بن عمروؓ نے پر عزیمت کلام کیا۔ تاہم یہ تینوں کمانڈر مہاجرین میں سے تھے جن کی تعداد لشکر میں کم تھی۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کی خواہش تھی کہ انصار کی رائے معلوم کریں کہ وہ لشکر میں اکثریت میں تھے اور معرکے کا اصل بوجھ انہی کے شانوں پر پڑنے والا تھا۔ یہ بات حضرت سعد بن معاذ ؓ ، جو کہ انصار کے کمانڈر اور علمبردار تھے ، بھانپ گئے۔ چنانچہ انہوں نے عرض کی : بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے اے اللہ کے رسول ﷺ کہ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ ﷺ نے اثبات میں جواب دیا ۔ جس پر حضرت سعد ؓ یوں گویا ہوئے:

“ہم تو آپ ﷺپر ایمان لائے ہیں۔ آپ ﷺ کی تصدیق کی ہے ۔ اور یہ گواہی دی ہے کہ آپ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب برحق ہے اور اس پر ہم نے آپ ﷺ کو اپنی سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے ۔ چنانچہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کے لئے پیش قدمی فرمائیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں بھی کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے ۔ ہمارا ایک بھی آدمی پیچھے نہ رہے گا ۔ ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ آپ ﷺ کل ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جواں مرد ہیں۔ اور ممکن ہے اللہ آپ ﷺ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ پس آپ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں ۔ اللہ برکت دے ۔” حضرت سعد ؓ کی یہ بات سن کر حضورﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ ﷺ پر نشاط طاری ہو گیا ۔

معرکہ بدر برپا ہوا اور مسلمان فتحیاب رہے ۔ فتح کے بعد جس وقت مسلمانوں نے مشرکین کی گرفتاری شروع کی، رسول اللہ ﷺ چھپر میں تشریف فرما تھے اور حضرت سعد بن معاذ ؓ تلوار حمائل کئے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعد ؓ کے چہرے پر لوگوں کی اس حرکت کا ناگوار اثر پڑ رہا ہے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اے سعد! بخدا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم کو مسلمانوں کا یہ کام ناگوار ہے ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ اہلِ شرک کے ساتھ پہلا معرکہ ہے جس کا موقع اللہ نے ہمیں فراہم کیا ہے ۔ اس لئے اہل شرک کو باقی چھوڑنے کے بجائے مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے اور اچھی طرح کچل دیا جائے۔

سعد ؓاور غزوہ احزب

غزوہ احد کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ایک سال سے زائد عرصہ پر مشتمل پیہم فوجی مہمات اور کارروائیوں کے نتیجے میں جزیرۃ العرب پر ایک گونہ سکون چھا گیا تھا ۔ یہود نے جب دیکھا کہ تائید الٰہی سے حالات مسلمانوں کے حق میں سازگار ہوتے چلے جا رہے ہیں تو انہیں سخت جلن ہوئی۔ انہوں نے نئے سرے سے سازش شروع کی اور مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ لیکن چونکہ انہیں مسلمانوں سے براہ راست ٹکرانے کی جرات نہ تھی اس لئے انہوں نے ایک خوفناک منصوبہ ترتیب دیا۔

چنانچہ قبیلہ یہود بنو نضیر جنہیں ان کی دسیسہ کاریوں کے سبب حضور ﷺ نے مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا ، ان کا ایک وفد قریش مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا ۔ قریش راضی ہو گئے ۔ پھر یہ وفد بنو غَطفان کے پاس پہنچا اور انہیں بھی جنگ پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ۔ اسی طرح اس وفد نے دیگر قبائل عرب میں گھوم پھر کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب دی اور ان قبائل کے بھی بہت سے افراد تیار ہو گئے ۔ یہ سارے لشکر طے شدہ پروگرام کے مطابق مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ کتب تاریخ کے مطابق ان سپاہ کی تعداد دس ہزار تھی ۔ حضور اقدس ﷺ کفار کی اس لشکر کشی کی اطلاع پاتے ہی مجلس شوریٰ منعقد فرمائی جس میں دفاعی منصوبہ پر صلاح مشورہ کیا۔ اہل شوریٰ نے غور و خوض کے بعد حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورہ پر مدینہ کے گرد خندق کھود کر مقابلہ کرنے کے مشورے کی منظوری دے دی۔ اور اہل ایمان نے نہایت مستعدی کے ساتھ چند ہی رو ز میں مطلوبہ معیار کے مطابق خندق کھود ڈالی۔

بنو قریظہ کی عہد شکنی

ایک طرف مسلمان محاذ جنگ پر سنگین مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری جانب یہود کے سازشی عناصر اپنی سازشوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ بنو نضیر کا مجرم اکبر حُیی بن اخطب بنو قریظہ کے پاس آیا جو کہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور جنہوں نے حضور ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کے مواقع پر آپ ﷺ کی مدد کریں گے ۔ حُیی نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو بھی عہد شکنی پر اکسایا۔ کعب نے لاکھ دامن بچانا چاہا لیکن حُیی نے اسے رام کر ہی لیا  جس کے بعد بنو قریظہ کے یہود حضور ﷺ سے کئے ہوئے معاہدے کے بر خلاف عملی طور پر جنگی کاروائیوں میں مصروف ہو گئے ۔ حضور ﷺ کو جب بنو قریظہ کی عہد شکنی کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے تصدیق کے لئے اپنے نمائندے روانہ کئے جنہوں نے واپس آ کر بتایا کہ بنو قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع درست ہے۔

اُدھر مشرکین حملے کی نیت سے مدینہ کی طرف بڑھے تو خندق سے واسطہ پڑا جو ان کے اور مدینہ کے درمیان حائل تھی ۔ چنانچہ انہیں مجبوراً محاصرہ کرنا پڑا ۔ ان کا اس قسم کے دفاع سے کبھی واسطہ ہی  نہ پڑا تھا چنانچہ خندق کے گرد غیض و غضب سے چکر کاٹتے رہتے ۔ نیز فریقین کی جانب سے تیر اندازی بھی جاری رہی ۔ اسی تیر اندازی میں فریقین کے چند آدمی مارے گئے جبکہ ایک تیر حضرت سعد بن معاذ ؓ کے بھی لگا جس سے ان کے بازو کی بڑی رگ کٹ گئی ۔ سعد ؓ نے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے بنی قریظہ کے فیصلہ سے قبل موت نصیب نہ کر۔ (بنی قریظہ سعد کے حلیف تھے)۔ چنانچہ سعد ؓ  کا زخم مندمل ہونے لگا۔ ادھر کفار کا لشکر منتشر ہو کر لوٹ گیا جبکہ بنی قریظہ آکر اپنے قلعوں میں محفوظ ہو گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ واپس مدینہ چلے آئے ۔ سعد رضی اللہ عنہ کے لئے چرمی خیمہ مسجد کے اندر نصب کر دیا گیا۔

سعد ؓاور بنو قریظہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام آئے، اور پوچھا : یا رسول اللہﷺ آپ نے لباس جنگ اتار دیا ہے ؟ واللہ فرشتوں نے تو ابھی تک نہیں اتارا۔ آپ ﷺ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے جنگ کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے زرہ پہن لی اور لوگوں کو حکم فرما دیا کہ وہ بھی بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے بنی قریظہ کا محاصرہ کر لیا جو کہ ۲۵ روز تک جاری رہا ۔

جب محاصرہ سخت ہو گیا اور مصیبت بڑھ گئی تو ان کو پیغام بھیجا کہ تم رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے نیچے اتر آؤ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہم سعد بن معاذؓ کے فیصلے کو قبول کریں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا مطالبہ منظور کر لیا ۔ چنانچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ   کو ان کی بیماری کے باعث گدھے پر سوار کرا کے لایا گیا ۔ ان کے گرد و پیش قوم کا ہجوم تھا جو سفارش کر رہے تھے : اے ابو عمرو! وہ آپ کے دوست اور حلیف ہیں اور سخت مصیبت زدہ اور ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ حضرت سعدؓ سن رہے تھے اور ان کی بات کو کچھ اہمیت نہ دے رہے تھے ۔ چلتے چلتے اپنے محلے میں آئے تو ان سے مخاطب ہوئے :

اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور سرزنش کی پرواہ نہ کروں۔

(یہ ان امور میں سے ایک ہے جن پر انصار نے حضور ﷺ سے عقبہ کی دوسری بیعت کے وقت بیعت کی تھی ۔)

پھر حضرت سعد ؓنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا : میرا ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ ۔۔۔

۔۔۔ ان کے جنگجو مرد قتل کر دیئے جائیں

۔۔۔ اور بال بچوں کو قید کر لیا جائے

۔۔۔ اور مال و متاع تقسیم کر دیا جائے۔

یہ فیصلہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ کا سات آسمان کے اوپر سے جو فیصلہ تھا، تم نے اس کے مطابق فیصلہ کیا۔  چنانچہ بنی قریظہ کے سارے جنگجو مرد قتل کر دیئے گئے جن کی تعداد مختلف روایات میں سات سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

پھر سعد ؓنے دعا کی : یا اللہ ! اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہے تو مجھے اس کے لئے باقی رکھ اور اگر تو نے ان کی لڑائی ختم کر دی ہے تو  مجھے اپنے پاس بلا لے ۔ اس کے بعد وہ مسجد نبوی میں اپنے خیمے میں واپس چلے گئے۔ وہیں رات میں زخم پھر پھوٹ پڑا یہاں تک کہ وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے۔ ان کی وفات پر حضرت جبرئیل علیہ السلام ریشمی عمامہ پہنے ہوئے آئے اور پوچھا کہ اے محمد ﷺ یہ کون سی میت ہے کہ جس کےلئے آسمان کے سب دروازے کھل گئے ہیں اور اللہ کا عرش خوشی سے جھوم رہا ہے۔ حضور ﷺ کو اندازہ ہو گیا کہ وفات پانے والے حضرت سعدؓ ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ ان کے گھر کی جانب چلے۔ اور اتنا تیز چلے کہ ساتھ چلنے والے صحابہؓ  کو دقت پیش آنے لگی اور تیزی کی وجہ سے ان کے جوتوں کے تسمے ٹوٹنے لگے ۔
janaza

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے ( بنی قریظہ کے فیصلہ کی بنا پر ) کہا کہ جنازہ کس قدر ہلکا پھلکا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہلکا اور بے وقار نہیں ، اس کو فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے ۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد ؓ کے جنازے میں شریک ہوئے ہیں ، اور ان فرشتوں نے آج سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا۔

حضور ﷺ کا اپنے صحابہ ؓ کے بارے میں ارشاد گرامی ہے:

sahaba

اصحابی کا لنجوم، بایھم اقتدیتم اھتدیتم

مفہوم: میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ، ہدایت پا جاؤ گے۔

حضور ﷺ کے اس جلیل القدر صحابی ؓ  کی زندگی میں جانثاری و وفا شعاری کے جو درخشندہ ابواب نظر آتے ہیں وہ تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کو جس طرح اپنایا، وہ ان کی زندگی میں جا بجا نظر آتا ہے ۔ بالخصوص بنی قریظہ کا فیصلہ سناتے وقت ان کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات ۔۔۔

اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور سرزنش کی پرواہ نہ کروں۔

بحیثیت مسلمان اگر صرف اسی ایک نکتے کو زندگی کا نصب العین بنا لیا جائے تو انشا ء اللہ اخروی نجات کے لئے کافی ہو گا … یعنی دین کے ہر ہر حکم اور تقاضے پر عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت یا سرزنش کی پرواہ نہ کی جائےچاہے وہ دوست ہوں یا رشتہ دار ، افسر ہوں یا حکمراں، اپنے ہوں یا پرائے۔اللہ رب العزت ہمارے قلوب کو بھی ہدایت کے نور سے اسی طرح روشن فرمائے جس طرح سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل کو منور فرمایا۔آمین !

 

Behaviors & Attitudes, Islam, Uncategorized

R.I.P.

R.I.P.

By Abu Shaheer

In the last few days, two distinguished personalities died. Both were famous and renowned; and had their fans and followers worldwide. The death of the “Fast & Furious” fame Paul Walker shocked his fans, and fellows of the film industry. Then “the Symbol of Peace” Nelson Mandela left this world; making not only the South African Nation fall in grief, but also the rest of the world. People shared their feelings, memories, tribute and prayers for their beloved personalities on social media.

The strange part of the story was the “R.I.P” (Rest-In-Peace) comments by the Muslims. It seems Muslims do not know the teachings of the Holy Quran about praying for deceased disbelievers. Let’s have a look at the death incident of Abu-Talib, the Uncle of the Holy Prophet ﷺ.

Death of Abu-Talib:

In the tenth year of the Prophethood, Abu Talib fell ill and passed away. When Abu Talib was on the death bed, the Prophet  ﷺentered the room where he saw Abu Jahl and ‘Abdullah bin Abi Omaiyah. He requested his uncle:

“My uncle, you just make a profession that there is no true god but Allâh, and I will bear testimony before Allâh (of your being a believer)”.

Abu Jahl and ‘Abdullah bin Abi Omaiyah addressing him said: “Abu Talib, would you abandon the religion of ‘Abdul-Muttalib?” The Messenger of Allâh ﷺ  constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu Jahl and ‘Abdullah bin Abi Omaiyah) — till Abu Talib gave his final decision and he stuck to the religion of ‘Abdul-Muttalib and refused to profess that there is no true god but Allâh. Upon this the Messenger of Allâh ﷺ  remarked:

“By Allâh, I will persistently beg pardon for you till I am forbidden to do so (by Allâh)”.

It was then that Allâh, the Magnificent and Glorious revealed this verse:

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

“It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allâh’s forgiveness for the Mushrikûn (polytheists, idolaters, pagans, disbelievers in the Oneness of Allâh) even though they be of kin, after it has become clear to them that they are the dwellers of the Fire (because they died in a state of disbelief).” [9:113]

And it was said to the Messenger of Allâh ﷺ:

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚوَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

“Verily! You [O Muhammad (Peace be upon him) ] guide not whom you like.” [28:56]

It goes without saying that Abu Talib was very much attached to Muhammad ﷺ. For forty years, Abu Talib had been the faithful friend — the prop of his childhood, the guardian of his youth and in later life a very tower of defence. The sacrifices to which Abu Talib exposed himself and his family for the sake of his nephew, while yet incredulous of his mission, stamp his character as singularly noble and unselfish. The Prophet ﷺ  did his best to persuade his octogenarian uncle to make profession of the true faith, but he remained obdurate and stuck to the paganism of his forefathers, and thus could not achieve complete success. Al-‘Abbas bin ‘AbdulMuttalib narrated that he said to the Prophetﷺ    “You have not been of any avail to your uncle (Abu Talib) (though) by Allâh, he used to protect you and get angry on your behalf.”

The Prophet  said: “He is in a shallow fire, and had it not been for me, he would have been at the bottom of the (Hell) Fire.”

Abu Sa‘id Al-Khudri narrated that he heard the Prophet ﷺ  say, when the mention of his uncle was made, “I hope that my intercession may avail him, and he be placed in a shallow fire that rises up only to his heels.” [Excerpt from Al-Raheeq-ul-Makhtum… a book about the Life of the Prophet Muhammad ﷺ]

There is no doubt that the great South African leader, Nelson Mandela, struggled through his life for the peace and human rights, for which he had also earned the Noble prize for Peace, and he should be given more respect over a film actor. But… for me, Abu Talib was undoubtedly a far better personality than Nelson Mandela. He took care, supported, and guarded the Holy Prophetﷺ    throughout his life. Although he didn’t embrace Islam; yet we Muslims have a great deal of respect for him in our hearts for whatever he had done in support of his Nephew ﷺ. However, he could not succeed in securing a peaceful place to rest in, in the hereafter, which is quite clear from the above mentioned Hadith. Secondly, when the Prophet   ﷺwished to pray for his deceased uncle, Allah Almighty allowed neither him nor the other Muslims to pray for disbelievers (even though they be of kin), as mentioned in the verses stated above. So if Muslims are not allowed to say R.I.P for Abu Talib, how could they be allowed to say R.I.P for Nelson Mandela or Paul Walker?

For wrong faiths (kufr & shirk), Allah Almighty said clearly:

لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ O

Do not ascribe partners to Allah. Indeed, ascribing partners toAllah (shirk) is grave transgression.” [31:13]

And for the disbelievers (mushrikin) Allah Almighty gave a clear word:

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا  O

Surely, Allah does not forgive that a partner is ascribed to Him, and forgives anything short of that for whomsoever He wills. Whoever ascribes a partner to Allah has indeed gone far astray. [04:116]

So Muslims should avoid saying R.I.P for the disbelievers in case it would be considered as a violation of the clear teachings of Islam. We Muslims must take care of our belief and pray constantly for that:

Our Lord, do not let our hearts deviate from the right path after You have given us guidance, and bestow upon us mercy from Your own. Surely, You, and You alone, are the One who bestows in abundance. O Allah! Whomsoever You keep alive, let him live as a follower of Islam and whomsoever You cause to die, let him die a Believer.

May Allah guide us all, the right path. Aameen.

Uncategorized

Facing the Music

Facing the music

By Abu Shaheer

The arena was looking as special as the event!

Very well decorated venue, neat and clean atmosphere, pleasant weather, bright lights, wonderful outfits, glittering eyes, smiles on the faces, gossips and cheers, sharing of gifts and wishes, delicious meal along with scrumptious dessert; almost everything was present that could be required for the first celebration of the first child…! Could have been a wonderful event… Could have been!

Everything was going fine until a group of monkeys had jumped into the fair! They were only five or six, including a female, yet they were enough to spoil the whole impression. The group was so-called a “musical band” or “singers”; though they were the antonyms.

The “clowns” ruined the peace of the environment by making a hell of a noise.  They had no idea about what to sing and how to sing? They were so stupid that they didn’t even know that they were performing in a party; and not in a “live concert”. They had to perform like play back singers; however they behaved like anchors. They became the captors while the guests, their hostages. They were enjoying their activities as they were behind the echo chambers while the guests (at least six of them) were “unjoying” as they were in front of the echo chambers. They were “rented” for entertaining the guests and they were literally “abusing” them.

No way to escape… The guests had to “face the music!”

Moral: Adding a little more spice/salt could spoil the whole recipe.