Uncategorized

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

ایک دوست کے سانحہ ارتحال پر قلبی تاثرات۔۔۔

ہے دل میں بپا اک پکار محبت

نکالیں چلو کچھ غبار محبت

اس دھوکے کے گھر میں، جسے دنیا کہا جاتا ہے، موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ لوگ ہماری زندگیوں میں آتے ہیں۔۔۔ ہمارے ساتھ زندگی بسر کرتے پیں۔۔۔ اپنا ایک نقش ہماری زندگیوں میں چھوڑتے ہیں۔۔۔ اور پھر ایک دن اچانک ہمیں روتا دھوتا رنجیدہ افسردہ دکھی چھوڑ کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ پیچھے ہم ایک دوسرے کو اطلاع کرتے رہ جاتے ہیں کہ فلاں کا انتقال ہو گیا۔

لوگ تو مرتے ہی رہتے ہیں۔ روزانہ۔۔۔ ہر لمحہ۔۔۔ ان گنت۔ متعلقین۔۔۔ غیر متعلقین… سبھی! تو کیا دنیا چھوڑ کے جانے والے سبھی لوگ مر جاتے ہیں؟

واقعی؟

نہیں نا؟

میرے متعلقین میں سے بہت سے لوگ دنیا سے چلے گئے۔ بعض کی موت کو دل نے تسلیم کر لیا۔ صبر و قرار آ گیا۔ لیکن میرے دل کے ایک کونے میں ایک قطار ان احباب کی بھی ہے جن کی موت کے بارے میں، میں ابھی تک ایک انکار کی کیفیت میں ہوں۔ عجب ہی معاملہ ہے۔ جانے والے چلے بھی گئے۔ ان کی تجہیز و تکفین کے مراحل میں حصہ بھی لیا۔ ان کی نماز جنازہ بھی پڑھی۔ انہیں اپنے ہاتھوں سے قبر میں بھی اتار دیا۔ ان کے لیے روزانہ دعائے مغفرت بھی کرتا ہوں۔۔۔ لیکن پھر بھی تسلیم نہیں کر پاتا کہ وہ لوگ فوت ہو چکے ہیں۔ ڈھونڈوں تو نظر نہیں آتے۔۔۔ سوچوں تو پاس بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ جیتے جاگتے!

مثلاً ڈاک صاب ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 جون  ۱۹، ۲۰۱۹ کو وہ ہوا جس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔

معمول کے مطابق دفتر کے لیے نکلا۔ گاڑی سروس کے لیے دفتر کے قریب ایک سروس اسٹیشن پہ چھوڑی۔ گھنٹا آدھ گھنٹہ دفتر میں لگا ہو گا۔ ڈیوٹی وصول کر کے فیلڈ میں جانے کے لیے دفتر سے نکلنے تک زندگی پرسکون تھی۔

دفتر سے نکلتے نکلتے ہمشیرہکا فون آیا۔
آواز بھرائی ہوئی تھی۔

بھائی میسج دیکھ لیا؟

گھبرا کے پوچھا: نہیں تو۔ خیریت؟

عصام بھائی کا انتقال ہو گیا ہے۔

نہیں۔۔۔

کائنات دل میں گویا بھونچال آ گیا۔ اور ایک شجر سایہ دار دھڑام سے زمیں بوس ہوا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے آپ میں سے کتنوں نے اکھڑے ہوئے درختوں کا منظر دیکھا ہو گا۔۔۔ دیکھا بھی ہو گا تو معلوم نہیں کبھی ایک لمحہ رک کر اس کے گرد و پیش پر غور بھی کیا ہو گا۔ ایک تناور درخت جب آندھیوں کے ہاتھوں زمیں بوس ہوتا ہے تو جہاں اس کا وجود گرتا ہے وہاں اچھی خاصی تباہی ہوتی ہے۔ ہر حساس فرد درخت گرنے کا درد محسوس کرتا ہے۔۔۔ جن کے آنگن کا درخت گرتا ہے ان کا کرب ہرگز محتاج بیاں نہیں۔ ان کا دکھ یقیناً سب سے سوا ہوتا ہے۔ سب ان سے اظہار تاسف و ہمدردی بھی کرتے ہیں۔

لیکن اس زمین کے دکھ کا کیا مداوا ہو کہ جس میں وہ شجر پیوست تھا؟۔ پیوست کا مطلب تو آپ سمجھتے ہی ہوں گے۔

محبت کا شجر زمین دل میں نمو پاتا ہے۔ جوں جوں یہ درخت تناور ہوتا جاتا ہے۔۔۔ اس کی جڑیں زمین دل میں شریانوں کی صورت پیوست ہوتی جاتی ہیں۔ پھر جب کسی آندھی کے سبب یہ شجر محبت زمیں بوس ہوتا ہے تو دل کی زمین پھٹ جاتی ہے۔ اچھی خاصی مٹی جڑوں کے ساتھ اکھڑ جاتی ہے اور پیچھے خاصا گہرا شگاف پڑ جاتا ہے۔ سال بیت چکا ہے۔ زمین دل کا شگاف جوں کا توں معلوم ہوتا ہے۔ جانے کیا صورت ہو گی اس کے پر ہونے کی۔۔۔ ہو گی بھی کہ نہیں۔

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے مابین تعلق کتنا پختہ و توانا ہو چکا تھا اس کا اندازہ ڈاک صاب کے اچانک چلے جانے کے بعد ہوا۔ وہ میرے رفیق بھی تھے اور میرے اور میرے اہل و عیال کے طبیب و مسیحا بھی۔ میری عربی کی لغت بھی تھے اور مترجم بھی۔۔۔ میرا قرآن و حدیث کا سرچ انجن بھی تھے اور ریفرنس بک بھی۔ جب جب کسی قرآنی آیت یا حدیث مبارکہ کی تلاش ہوتی تو ان ہی سے رجوع کرتا۔ ہر لحاظ سے “فون اے فرینڈ”۔ فون اے فرینڈ تو آپ سمجھتے ہی ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل و عیال میں سے کسی کی طبیعت کی خرابی کی صورت میں فوراً  ڈاک صاب کو فون کرتا۔

عجیب طبیب تھے۔ ڈاکٹر ہونے کے باوجود اینٹی بائیوٹک ادویات سے حتی الامکان دور رہنے کا مشورہ دیتے۔ بخار تین دن تک نہ اترے تب ہی اینٹی بائیوٹک دی جائے گی اس سے پہلے فقط کیلپول یا پیناڈول اور ساتھ صبر کی تلقین۔ اور ہاں مسنون دعا بھی لا باس طھور ان شآء اللہ۔

عجیب طبیب تھے۔ ایلوپیتھک ڈاکٹر ہونے کے باوجود حکمت اور ہومیوپیتھی کے بھی معترف۔ عطائیوں سے استفادہ کے بھی قائل تھے۔ متعلقین میں سے کسی کو جوڑ پٹھوں کی تکلیف ہوتی تو رفاع عام سوسائٹی میں ایک عطائی حکیم صاحب کے پاس بھیج دیتے۔ اللہ کے فضل سے مجھ سمیت کتنے ہی لوگوں کو آرام آیا۔

عجیب طبیب تھے۔ حکمت اور ہومیوپیتھی کی قدامت اور بزرگی کو مانتے تھے ۔ کہا کرتے تھے کہ یہ طریقہ ہائے علاج سینکڑوں سال سے چلے آ رہے ہیں جبکہ ایلوپیتھی کی عمر سو سال سے بھی کم ہے۔ بس سرجری میں ایلوپیتھی آگے ہے۔

عجیب طبیب تھے۔ طبی و شرعی ہر دو تقاضوں سے واقف۔ کئی برس پہلے ایک روزے کے دوران میری اہلیہ کی طبیعت کافی خراب ہو گئی۔۔۔ Doc Saab نے فون پر کیفیات و علامات سنیں تو فوراً ہی روزہ ختم کرنے کا مشورہ دے دیا۔ عمل درآمد میں ذرا تامل نہ ہوا کہ عبادات میں رخصت کے ضمن میں علماء یہی فتوی دیتے ہیں کہ ایسے طبیب کے مشورے پر عمل کیا جا سکتا ہے جو دین دار ہو۔ کیا کیا آسانیاں تھیں ڈاک صاب کی بدولت۔

مجھے یا میرے متعلقین میں سے کسی کو ڈاک صاب سے معائنہ کروانا ہوتا تو وی آئی پی پروٹوکول ملتا۔۔۔ “سلمان بھائی سیدھے میرے کمرے میں چلے آئیں۔” نہ قطار نہ انتظار۔ میرے فیملی آئی اسپیشلسٹ بن چکے تھے۔ میری والدہ، ایک ماموں، تین خالاؤں اور میرے سسر کے آنکھوں کے آپریشن انہی کے کلینک پر ہوئے۔ آپریشن کے بعد خود ہی مجھے فون کر کر کے سب کی خیریت بھی لیا کرتے۔

عجیب طبیب تھے۔

آشوب چشم کی دوا کیا کرتے تھے۔۔۔

آشوب چشم میں مبتلا کر گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذاتی خوبیوں کی بات کریں تو ڈاک صاب اعلیٰ صفات و اخلاق کے حامل تھے۔ خاص کر کچھ عادات بڑی عمدہ اور پختہ تھیں۔ لین دین ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کرتے۔ اگر کوئی بایاں ہاتھ بڑھا بھی دیتا تو اسے بائیں ہاتھ سے چیز نہ لینے دیتے بلکہ دائیں ہاتھ میں ہی دیتے۔ اسی طرح اپنے والد والدہ کا ذکر ہمیشہ ان الفاظ میں کرتے۔۔۔ “بابا ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔امی ، اللہ ان پر رحم فرمائے۔” ان کے کسی واقف کی معرفت کسی کا کوئی کام نکل جاتا تو ہمیشہ یہی کہتے کہ “اللہ نے اسکا دل نرم کر دیا۔”

اور ایک نمایاں عادت تھی کثرت سے سلام کرنا ۔۔۔ اتنی کثرت سے کہ بسا اوقات تو ہمیں اختلاج ہونے لگتا۔۔۔ جتنی بار کمرے سے باہر گئے، واپس داخل ہوئے تو السلام علیکم۔۔۔

اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید ڈاک صاب نے اپنی جنت پکی کرنے کے لئے اس حدیث کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔

وَعن عبدِاللَّهِ بنِ سَلاَمٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشوا السَّلامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا باللَّيْل وَالنَّاسُ نِيامٌ، تَدخُلُوا الجَنَّةَ بِسَلامٍ.

رواهُ الترمذيُّ وقالَ: حديثٌ حسنٌ صحيحٌ.

اے لوگو ! سلام کو عام کرو، اور کھانا کھلاؤ، اور رات میں جب لوگ سوتے ہوں اُس وقت نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“

تو حدیث مبارکہ میں مذکور تین باتوں پر عمل کرنے کی تو بھرپور سعی کرتے رہے ڈاک صاب ۔ سلام بھی خوب کثرت سے کیا کرتے تھے۔ کھلانے پلانے میں بھی بخیل نہ تھے۔ کتنی ہی مرتبہ ان سے ٹریٹ لی۔ گاڑی کی تبدیلی پر ٹریٹ۔ صاحب زادے کی امتحان میں کامیابی پر ٹریٹ۔ صاحبزادی کے ڈاکٹر بن جانے پر ٹریٹ۔ اور جانے کون کون سی موقع بے موقع ضیافتیں۔ کھلانے پلانے کا دوسرا مطلب اگر غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا لیا جائے تو وہاں بھی پیچھے نہ تھے۔ رات کی عبادت کا بھید بھی وفات کے وقت ظاہر ہو گیا۔ ان شآء اللہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گئے ہوں گے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بڑی امید ہے۔ اس سے بڑا قدردان کوئی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنازہ اس بات کا ثبوت اور گواہ تھا کہ ڈاک صاب نے اپنی زندگی میں خوشبو ہی خوشبو بانٹی۔ ایک بڑا مجمع ان کے حق میں دعائے مغفرت کے لئے موجود تھا۔ نماز جنازہ جامعہ ستاریہ میں ادا کی گئی جو کہ اہل حدیث مکتبہ فکر سے متعلق ہے۔ کسی نے بتایا کہ ڈاک صاب فجر کی نماز اکثر یہیں پڑھا کرتے تھے۔ نماز جنازہ جہری پڑھی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی پیش امام کو میت کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے پایا۔ نماز جنازہ میں وہ بھی موجود تھے جو اہل حدیث امام کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور تدفین میں وہ بھی موجود تھے جو اس سے قبل کبھی کسی میت کی تدفین کے لئے قبرستان نہیں گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سال سے اوپر ہو چکا ڈاک صاب کے انتقال کو۔ کہاں کہاں نہیں یاد آئے۔۔۔ کہاں کہاں نہیں یاد آتے۔۔۔ اکثر ان کے گھر کے سامنے سے گزر ہوتا ہے۔۔۔ بسا اوقات دن میں دو مرتبہ۔۔۔ ایسے ہی کبھی ناظم آباد پٹرول پمپ کے پاس سے گزروں تو لازماً یاد آتے ہیں۔۔۔ اور وہ سروس اسٹیشن جہاں ان کی وفات کے دن گاڑی سروس کو دی تھی وہ تو آفس کے راستے ہی میں ہے۔۔۔ اور دوستوں کی ہفتہ وار مجلس میں۔۔۔ اور خاص کر کورونا وبا کے ان ایام میں کسی طبی مشورے کے لئے، جبکہ اکثر کلینکس کی بندش کے باعث ڈاکٹرز تک رسائی بے حد دشوار ہو چلی ہے۔ دعائے مغفرت کی صورت میں محبت کا خراج لازمی وصول کرتے ہیں۔ آہ میرے فون اے فرینڈ۔ اب تو بس یہ دعائے مغفرت ہی ان سے رابطہ کا ذریعہ ہے۔ فللہ الحمد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کا بچپن لڑکپن مکہ مکرمہ کی گلیوں میں کھیلتے کودتے گزرا۔ حرم مکی باب عمرہ کے عین سامنے والے محلے میں رہا کرتے تھے۔ کنگ عبداللہ ایکسٹینشن کے بعد یہ سارا علاقہ اب حرم مکی میں شامل ہو چکا۔ مکہ مکرمہ میں قیام تین عشروں سے زائد پر محیط رہا۔ اللہ تعالی ڈاک صاب کی کامل مغفرت فرمائے۔ درجات بلند فرمائے۔ اور جیسے دنیا میں انہیں سالہا سال اپنے گھر کا پڑوس عطا فرمایا ایسے ہی آخرت میں ہمیشہ کے لیے اپنا پڑوس عطا فرمائے۔ اللہ کریم ان کے اہل و عیال کی حفاظت کفالت فرمائے۔ آمین۔

اللھم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ و اکرم نزلہ و وسع مدخلہ و اغسلہ بالمآء و الثلج و البرد و نقہ من الذنوب و الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔
اللھم حاسبہ حسابا یسیرا و ادخلہ الجنۃ بغیر حساب و لا عذاب۔

ربنا اغفر لنا و لاخواننا الذین سبقونا بالایمان و لا تجعل فی قلوبنا غل للذین آمنوا ربنا انک رؤف رحیم۔

ربنا اغفر لی و لوالدی و للمؤمنین یوم یقوم الحساب۔ رب ارحمھما کما ربیٰنی صغیرا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو ادب میں کچھ اشعار ایسے ہیں کہ ڈاک صاب کے اچانک چلے جانے کے بعد سے بار بار یاد آتے ہیں۔۔۔

مثلا بہادر شاہ ظفر کا یہ ضرب المثل مصرعہ۔۔۔۔

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ، وہ دکان اپنی بڑھا گئے

یا خالد شریف کا یہ ضرب المثل شعر۔۔۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

یا مرزا غالب کا یہ شعر۔۔۔

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

اور جون ایلیا کا یہ شعر تو قیامت ہے

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

اور جون ایلیا ہی کا ایک اور شعر جو اب ان کی وفات کو ایک سال گزرنے پر یاد آ رہا ہے۔۔۔

جانی! کیا آج میری برسی ہے؟

یعنی کیا آج مر گیا تھا میں؟

نہیں ڈاک صاب۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذکر فان الذکری تنفع المومنین۔

ایمان کا مذاکرہ ایمان والوں کو نفع دیتا ہے۔

مومن مومن کا بھائی ہے۔۔۔ ایک دوسرے کا سہارا ہے۔ ایک کا ایمان یا عمل کمزور پڑنے لگتا ہے تو دوسرے کو دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں، وہ بھی تو کر رہا ہے۔ اللہ کے چند بندوں نے اس فکر کے ساتھ کہ اپنے آپ کو اور اپنی آئندہ نسل کو اس پرفتن دور میں کس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے، آپس میں جڑنا شروع کیا۔ ایک ٹوٹی پھوٹی سی کوشش جاری ہے۔ ایک ساتھی جو سب سے کم عمر تھا کئی برس قبل موبائل اسنیچنگ کے دوران گولی لگنے سے شہید ہو گیا، ایک ساتھی جو عمر میں سب سے زیادہ تھا وہ سجدے کی حالت میں اپنے رب سے جا ملا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیگر ساتھیوں کو بھی حسن خاتمہ کی نعمت سے نواز دے۔ آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واٹس ایپ پر ڈاک صاب کی جانب سے موصول ہونے والی آخری نصیحت شیئر کر رہا ہوں جو 14 جون 2019 کو موصول ہوئی۔ ایک مسنون دعا سے متعلق حدیث مبارکہ مکمل عربی متن اور اردو انگریزی ترجمہ کے ساتھ۔ ڈاکٹر صاحب اکثر یہ دعا دہرایا کرتے تھے اور ہمیں بھی سکھلایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس دعا اس پیغام اور ڈاک صاب کی دیگر حسنات کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ اور بلندی درجات کا سبب بنائے۔

حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ قُلْتُ لأُمِّ سَلَمَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ عِنْدَكِ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ ” يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ” . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لأَكْثَرِ دُعَائِكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ ” يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلاَّ وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ ” . فَتَلاَ مُعَاذٌ : ( ربَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا )

Shahr bin Hawshab said: “I said to Umm Salamah: ‘O Mother of the Believers! What was the supplication that the Messenger of Allah ﷺ said most frequently when he was with you?” She said: ‘The supplication he said most frequently was: “O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā Muqallibal-qulūb, thabbit qalbī `alā dīnik).’” She said: ‘So I said: “O Messenger of Allah ﷺ, why do you supplicate so frequently: ‘O Changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion.’ He said: ‘O Umm Salamah! Verily, there is no human being except that his heart is between Two Fingers of the Fingers of Allah, so whomsoever He wills He makes steadfast, and whomever He wills He causes to deviate.’”

حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ اے ام المومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس اکثر کیا دعا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایايَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَی دِينِکَ (یعنی۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ) پھر فرمانے لگیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اکثر یہی دعا کیوں کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوئی شخص ایسا نہیں کہ اس کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو۔ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ پھر حدیث کے راوی معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا) 3۔ ال عمران : 8) (یعنی اے اللہ ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کر۔)

[Jami At-Tirmidhi, Chapters on Supplication, Hadith: 3522]

Chapter: The Supplication: “O Changer Of The Hearts”.

Grade: Hasan

#Supplication #Hadith

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس دن ڈاک صاب  کی وفات ہوئی اس دن سے ان سے تعلق کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا۔ لیکن جب کبھی لفظ جوڑنے بیٹھتا تو دل پہلے بیٹھنے لگ جاتا۔ اب بھی کئی دن کی مشقت کے بعد بمشکل یہ چند لفظ جوڑ پایا ہوں۔۔۔ اور یہ کئی دن بھی کئی مہینوں پر محیط ہیں۔۔۔ نصف صدی کا قصہ نہ سہی، دو چار برس کی بات بھی تو نہیں۔۔

نکالا ہے کچھ کچھ غبار محبت

اک عرصے سے تھا اک ادھار محبت

انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ۔۔۔

فصبر جمیل و اللہ المستعان

Hajj Umrah, Uncategorized, حج, علم دین, عمرہ

عازمین حج اپنی دعاؤں کا ذخیرہ بڑھائیے

*عازمین حج اپنی دعاؤں کا ذخیرہ بڑھائیے۔*

مشاہدہ ہے کہ بہت سے حجاج طواف اور سعی میں کتاب دیکھ کے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں *دعا پڑھی نہیں جاتی، مانگی جاتی ہے۔*

حج فارم جمع کرانے کے بعد سے ہی تیاری شروع کر دیجئے۔

قرآنی دعائیں یاد کر لیجئے۔ زیادہ تر دعائیں انبیاۓ کرام علیہم السلام کی درج ہیں جن کے آگے اللہ رب العزت نے استجاب لہم کہہ کے مقبولیت کی مہر لگا دی۔ چہل ربنا نامی کتابچہ میں قرآن پاک کی 40 دعائیں جمع کر دی گئی ہیں جن کا آغاز ربنا سے ہوتا ہے۔ مثلاً ربنا اٰتنا فی الدنیا۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا۔۔۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی دعائیں بڑی پیاری، مختصر و جامع ہیں۔۔۔ جتنی یاد ہو سکیں یاد کر لیں۔

ایسے ہی حج کی کتاب میں بہت جامع دعائیں موجود ہیں۔ کوشش کر کے کتاب میں موجود دعاؤں کو یاد کر لیں اور ترجمہ بھی سمجھ لیں۔ عربی میں یاد ہو جائیں تو بہت اچھی بات ہے ورنہ دعاؤں کا ترجمہ ہی یاد کر لیں۔

ایک اور ذخیرہ حرم مکی کی دعائے ختم القرآن ہے۔ سن سن کے بہت سی دعائیں یاد ہو جاتی ہیں۔۔۔ معنی بھی آسان ہیں۔

یاد رکھیں!

حج عمرہ کے دوران قدم قدم پر دعاؤں کی قبولیت کے مقامات ہیں۔ چنانچہ ہر مقام پر خوب دعائیں کرنی ہوتی ہیں۔

بیت اللہ پہ پہلی نظر کے وقت دعا

طواف میں دعا

سعی میں دعا

ملتزم پہ دعا

حطیم میں دعا

عرفات میں دعا

مزدلفہ میں دعا

منیٰ میں دعا

طواف زیارت میں دعا

مسجد میں داخل ہوتے وقت دعا

مسجد سے نکلتے وقت دعا

زم زم پیتے وقت دعا

مسجد نبوی ﷺ میں دعا

روضہ رسول ﷺ پر درود و سلام پیش کرنے کے بعد دعا

ریاض الجنة میں دعا

اصحاب صفہ کے چبوترے پر دعا

غرض ہر ہر مقام پہ دعا ہی دعا

تو اس کے لیے دعاؤں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ پاس ہونا چاہئے۔

Uncategorized

ابو! میں سب سمجھ گیا

A Tribute… An Inspiration… #FathersDay

*ابو! میں سب سمجھ گیا*😢😢😢😢

“بیٹا جب تم باپ بنو گے ناں ، پھر سمجھ آئے گی”

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ جانے کتنی ہی مرتبہ آپ کی زبان سے یہ جملہ سنا ، لیکن کبھی سمجھ ہی نہ آیا۔ اب خود باپ بنا ہوں تو آپ کے الفاظ کی بازگشت قدم قدم پر سنائی دیتی ہے۔ حالات کے تند و تیز تھپیڑے گویا کتاب ماضی کے اوراق پلٹتے جا رہے ہیں۔ اور وہ سارے مناظر بالکل صاف اور واضح نظر آ رہے ہیں ، جو اس وقت سرے سے نظر ہی نہیں آیا کرتے تھے۔ اس وقت کیونکر نظر آتے ؟ باپ والی عینک جو نہیں لگی تھی آنکھوں پہ۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ بچپن میں ہمیں دوکان سے کوئی چیز لینے کے لئے کیوں نہیں بھیجتے تھے؟ اور اگر کبھی بھیج بھی دیتے تھے تو پیچھے پیچھے کیوں چلے آیا کرتے تھے؟ وجہ سمجھ آ گئی ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ ہم پر اتنی کڑی نگاہ کیوں رکھتے تھے؟ دوسری گلی میں جانے سے کیوں روکتے تھے؟ بڑے لڑکوں کے ساتھ بیٹھنے سے کیوں منع کرتے تھے؟ ہمارے جوگرز کے بجائے چپل پہن کر باہر کھیلنے پر کیوں برہم ہو جایا کرتے تھے؟ قمیض کا اوپر والا بٹن کھلا رہ جانے پر کیوں ڈانٹا کرتے تھے؟ چپل گھسیٹ کے چلنے پر کیوں ٹوکتے تھے؟ سالن میں انگلی ڈوب جانے پر کیوں برا مناتے تھے؟ اوزار اور دیگر اشیاء استعمال کرنے کے بعد واپس ان کی مخصوص جگہ پر نہ رکھنے پر کیوں ناراض ہوتے تھے؟ سب سمجھ آ گیا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ ہمارے رات دیر تک جاگنے پر کیوں ناراض ہوتے تھے؟ فجر کی نماز کے لئے کیوں جگایا کرتے تھے؟ نمازوں کے بارے میں باز پرس کیوں کیا کرتے تھے؟ کیوں صرف مخصوص اوقات میں ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت دیتے تھے؟ کیوں ہماری تعلیم کے حوالے سے ہم پر حد درجہ سختی کیا کرتے تھے؟ کیوں ہم پر اتنی پابندیاں تھیں؟ سب پتہ چل گیا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ کیوں ہمارے گھر سے کالج آفس جاتے وقت ہم پر دعائیں پڑھ کر پھونکا کرتے تھے؟ کیوں ہمارے دیر سے گھر آنے پر پریشان ہو جایا کرتےتھے؟ کیوں اخبار میں کسی بچے کی موت کی خبر سن کر لرز جایا کرتے تھے؟ اور کیوں دل پکڑ لیا کرتے تھے؟ سب کا سب بہت اچھے سے سمجھ آ گیا ہے ۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ نے 1970 میں زیرو میٹر موٹر سائیکل خریدی تھی ۔ لیکن اس کے بعد آپ دوبارہ کبھی موٹر سائیکل تبدیل نہ کر پائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتنا تنگ کرنے لگی تھی وہ۔ خاص کر صبح سویرے ! ادھر آپ کو اپنے دفتر اور ہمارے اسکول کی جلدی ہوتی، ادھر اس کے نخرے۔ بیسیوں ککیں مارنے کے بعد اسٹارٹ ہوا کرتی تھی۔ اور بھی کیا کیا مسائل تھے۔ آپ کے لئے بائیک تبدیل کرنا ناگزیر ہو چکا تھا ، اس کے باوجود آپ نے اسی کو اوورہال کروالیا۔ ابو! آپ نے بائیک تبدیل کیوں نہ کی؟ میں اب بہت اچھی طرح سمجھ گیاہوں۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ ہر موسم سرما میں ڈھیر سارا ڈرائی فروٹ لا کے امی کو دے دیا کرتے تھے۔ امی سارا ڈرائی فروٹ صفائی کے بعد مکس کر کے ایک بڑی سی برنی میں رکھ دیا کرتی تھیں۔ اور آپ کی اولاد مزے سے کھایا کرتی۔ آپ کی نگاہ بڑی دور رس تھی ، اور ہماری اس قدر کمزور کہ ہم یہ بھی نہ دیکھ پائے کہ آپ وہ ڈرائی فروٹ کم کم ہی کھایا کرتے تھے۔ اور تعجب کی بات یہ بھی تھی کہ ڈرائی فروٹ تو ہر موسم سرما میں باقاعدگی سے آیا کرتا تھا، بلکہ مونگ پھلی ، گزک اور ریوڑیاں بھی۔۔۔ لیکن آپ کی جیکٹ سوئیٹر کئی کئی برس تک تبدیل نہ ہوتے تھے۔ ابو ! آپ اپنی ضروریات کو کیوں ٹالا کرتے تھے؟ اور کہاں کہاں اپنی خواہشات کو کچلا کرتے تھے؟ مجھے بہت اچھی طرح سمجھ آ گیا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ کی عینک کے شیشوں پر اتنی خراشیں کیوں پڑ جایا کرتی تھیں؟ آپ کے ہاتھ کی گھڑی کیوں کبھی نہ بدلی؟ آپ کا کوٹ کیسے کئی کئی برس چلا کرتا تھا؟ آپ اور امی ہرتقریب میں وہی جوڑے کیوں پہنا کرتےجو پہلے بھی کئی تقریبات میں پہن چکے ہوتے تھے؟ مجھے پوری طرح سمجھ آ چکا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ کے سر پر اپنے اہل و عیال کے لئے پکی چھت کا سودا کیوں سوار ہوا ؟ آپ نے کیوں اس خواب کی تعبیر کے حصول کی تگ ودو میں دن رات ایک کر دیا؟آپ کو کیوں نہ کھانے کا ہوش رہا نہ آرام کا؟آپ کیوں عید بقرعید والے دن بھی دفتر چلے جاتے تھے؟ آپ نے کس طرح تنکا تنکا جوڑ کے آشیانہ بنایا؟ اس شدید اور ان تھک محنت نے آپ کے قویٰ پر کیا اثرات مرتب کئے؟ حالات سے پنجہ آزمائی کے سبب آپ کے بدن کے جوڑوں پر کیا گزری ؟ راتوں کی ڈیوٹی نے آپ کے اعصاب پر کیا اثرات مرتب کئے ؟ اور وفات کے وقت خون آلود قے کی صورت میں آپ کا کلیجہ کیوں باہر آ گیا؟ سب سب سب سمجھ آ گیا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ کو پتہ ہے آپ کے دو بیٹے یورپ گئے تو ہر طرح کی آزادی کے باوجود برائیوں سے بچے رہے!آپ کو پتہ ہے آپ کے سب سے چھوٹے بیٹے نے بیروزگاری کے دنوں میں پرکشش سیلری کے باوجود یورپ میں ڈپارٹمنٹل اسٹور کی ملازمت کو منہ نہ لگایا کہ اسٹور کے شیلفوں میں شراب کی بوتلیں بھی سجانی پڑیں گی! آپ کو پتہ ہے آپ کا جملہ “ میں نے اپنی دانست میں تمہیں کبھی حرام نہیں کھلایا” اس کی راہ کی دیوار بن گیا تھا۔ ابو! کیا کیا بتاؤں کہ کہاں کہاں ہم نے اس حلال رزق کی برکتیں اپنی زندگی اور اپنے معاملات میں محسوس کی ہیں. ابو! آپ کیوں بار بار یہ بات باور کراتے تھے کہ “میں نے اپنی دانست میں تمہیں حرام نہیں کھلایا؟” ابو! آپ کیوں اپنے دفتری معمولات کے بارے میں ہمیں بتاتے تھے؟ آپ نے کیوں بے شمار مرتبہ بتایا کہ “جس ہوٹل فیکٹری کی گیس بند ہوتی ہے ناں ، وہ دور سے ہی پانچ سو کا نوٹ دکھاتا ہے؟” اس وقت کتنی بڑی رقم ہوا کرتی تھی پانچ سو روپے ! (ابو سوئی سدرن گیس کمپنی میں ملازمت کرتے تھے اور 1997 میں ریٹائر ہوئے تھے-) مہینے بھر میں جانے کتنی ایسی پیشکشیں ہوتی ہوں گی آپ کو! ابو ! آپ کا رزق حلال پر یقین اتنا اٹل و غیر متزلزل کیوں تھا؟ آپ نے کیوں ایسے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا؟ سب سمجھ آ گیا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔آپ کیوں ہمیں اتنی دعائیں دیا کرتے تھے؟ آپ کی دعاؤں نے کہاں کہاں اپنا اثر دکھایا؟ اور کہاں کہاں ہماری حفاظت اور خیر و برکت کا سبب بنیں؟ سب سمجھ آ چکا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ تقریبات میں شرکت کے لئے اپنی فیملی کو کیا خوب manage کرتے تھے! محدود وسائل کے باجود کس طرح اپنے اہل و عیال کو ہر ممکن راحت میں رکھنے کی کوشش کرتے تھے!پانچ بچوں کے ساتھ بائیک پر لمبا سفر کہاں ممکن تھا۔ سو آپ نے اس کا حل یہ نکالا کہ ہمیں گھر سے بس اسٹاپ تک بائیک پر پہنچاتے۔ اور وہاں سے شادی ہال تک دوبارہ بائیک پر پہنچاتے۔ جاتے آتے ایسا کیوں ہوتا تھا؟ ٹیکسی میں سفر کی عیاشی کا موقع کیوں کم کم آیا کرتا تھا؟سب سمجھ آ چکا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ کیوں ہمیں قناعت سکھاتے تھے؟ آپ اوروں کی حرص سے بچنے کو کیوں کہتے تھے؟ آپ کیوں بار بار کہا کرتے تھے کہ اپنی چیز سب سے اچھی؟ آپ کیوں امید دلایا کرتے تھے کہ “بس تھوڑے دنوں کی بات ہے پھر ان شآء اللہ سب دلدر دور ہو جائیں گے؟” سب سمجھ میں آ گیا ہے۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آپ مہینے کی آخری تاریخوں میں کس کرب میں مبتلا ہو جایا کرتے تھے؟ ہمارے کسی تقاضے پر کیوں مضطرب ہو جایا کرتے تھے؟ کیوں اپنی جیب میں موجود رقم کو بار بار گنا کرتے تھے؟کیوں الماری میں ہینگر پر لٹکے اپنے کوٹ کی جیبوں کی تلاشی لیا کرتے تھے؟ ابو! ۔۔۔ کیا کیا بتاؤں ۔۔۔ میں اب آپ کے سارے رازوں سے واقف ہو گیا ہوں۔

ابو! اللہ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ۔ آج آپ حیات ہوتے تو شاید میں یہ سب کچھ کہنے کی جرات نہ کر پاتا۔۔۔

ہاں آپ کے پیر اپنی آنکھوں سے لگا کر اولاد یعقوب کی طرح اتنی التجا ضرور کرتا۔۔۔

يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ

ابو! ہمارے لئے مغفرت کی دعا کر دیجئے ۔ بے شک ہم خطا کار ہیں۔
کبھی آپ کی شفقتوں اور قربانیوں کو سمجھ ہی نہ پائے۔۔۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ۔
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا