Umeed e Karam

امیدِ کرم

رمضان المبارک بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
گرمی کی شدت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
روزے رکھنے کی ہمت و توفیق بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
یہ حرام و حلال  سے رک جانا بھی اللہ ہی کے لئے ہے ۔۔۔
اور ۔۔۔
اجر بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔۔۔۔!

اللھمَّ تَقَبَّل صِیَامَنَا وَ قِیَامَنَا
اللھمَّ لا تَرُدَّنَا خَآئِبِیْنَ
😥

2014 in review

The WordPress.com stats helper monkeys prepared a 2014 annual report for this blog.

Here’s an excerpt:

The concert hall at the Sydney Opera House holds 2,700 people. This blog was viewed about 8,500 times in 2014. If it were a concert at Sydney Opera House, it would take about 3 sold-out performances for that many people to see it.

Click here to see the complete report.

Sa’d Bin Ma’az

sbmi

ابو شہیر

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عبارت یا تصویر آپ کی نظروں سے گزرتی ہے اور آپ ایک لمحہ کو ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں …  کہ وہ عبارت یا وہ تصویر آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور آپ پہلے سوچنے … اور پھر کھوجنے پر مجبور ہو جاتے  ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر (پوسٹ) گزشتہ دنوں فیس بک پر نظر سے گزری جس نے راقم کو ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا ۔ ملاحظہ کیجئے۔
sbm

مفہوم : اسلام لائے تو عمر تیس برس تھی …. اور مرے تو عمر چھتیس ۳۶ برس تھی…. اے سعد بن معاذ! چھ برس میں آپ نے ایسا کیا عمل کیا …

کہ آپ کی موت پر رحمان کا عرش جھوم اٹھا!

انتہائی پر اثر اور دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی اس پوسٹ کو پڑھ کر خیال آیا کہ نبی کریم ﷺ کے اس جانثار صحابی ؓ  کی زندگی کے بارے میں ذرا تاریخ کے اوراق کو کھنگالا جائے اور دیکھا جائے کہ صرف چھ برس کی اسلامی زندگی کے دوران اس نوجوان ؓ نے ایسا کیا عمل کیا کہ ان کی وفات پر عرش الٰہی خوشی سے جھوم اٹھا ۔

سیدنا سعد بن معاذ  رضی اللہ عنہ کا شمار رسول اللہ ﷺ کے انتہائی جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے ۔ تعلق مدینہ منورہ (سابقہ یثرب) کے مشہور قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل سے تھا ۔بعد ازاں  قبیلہ اوس کے رئیس بنے۔ ہجرت نبوی ﷺ سے ۳۲ برس قبل یثرب میں پیدا ہوئے۔ہجرت نبوی ﷺ سے ایک برس قبل اسلام قبول کیا جبکہ ہجرت کے پانچویں سال مدینۃ النبی ﷺ میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے اور دیار نبی ﷺ ہی آپ کا مدفن بنا ۔ اسلام پیش کیا گیا تو سعد بن معاذ ؓ نے نہ صرف یہ کہ فوراً ہی اسلام قبول کر لیا بلکہ اپنے قبیلے والوں سےشرط باندھ لی کہ  میرا تم سب مرد و عورت سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم مسلمان نہ ہو جاؤ۔ اس پر ان کے قبیلے کے سب مرد و زن مسلمان ہو گئے۔

حضرت سعد بن معاذ ؓ کی مختصر سی اسلامی زندگی کے اوراق پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بخوبی عیاں نظر آتی ہے کہ حضرت سعدؓ  کو جب جب موقع ملا ، انہوں نے بے مثال عزیمت و شجاعت کا مظاہر ہ کیا۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ بنی قریظہ دو ایسے مواقع ہیں جب ان کی فہم و فراست ، دینی حمیت اور اولو العزمی حد درجہ کمال کو پہنچی نظر آتی ہے۔

سعد ؓاور معرکہ بدر

میدان بدر میں رسول اللہ ﷺ نے  ایک اعلیٰ فوجی مجلس شوریٰ میں درپیش صورتحال کی سنگینی کا تذکرہ فرماتے ہوئے کمانڈروں اور عام فوجیوں سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پہلے حضرت ابو بکر ؓ ، پھر حضرت عمر بن الخطاب ؓ اور پھر حضرت مقداد بن عمروؓ نے پر عزیمت کلام کیا۔ تاہم یہ تینوں کمانڈر مہاجرین میں سے تھے جن کی تعداد لشکر میں کم تھی۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کی خواہش تھی کہ انصار کی رائے معلوم کریں کہ وہ لشکر میں اکثریت میں تھے اور معرکے کا اصل بوجھ انہی کے شانوں پر پڑنے والا تھا۔ یہ بات حضرت سعد بن معاذ ؓ ، جو کہ انصار کے کمانڈر اور علمبردار تھے ، بھانپ گئے۔ چنانچہ انہوں نے عرض کی : بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے اے اللہ کے رسول ﷺ کہ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ ﷺ نے اثبات میں جواب دیا ۔ جس پر حضرت سعد ؓ یوں گویا ہوئے:

“ہم تو آپ ﷺپر ایمان لائے ہیں۔ آپ ﷺ کی تصدیق کی ہے ۔ اور یہ گواہی دی ہے کہ آپ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں سب برحق ہے اور اس پر ہم نے آپ ﷺ کو اپنی سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے ۔ چنانچہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کے لئے پیش قدمی فرمائیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں بھی کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے ۔ ہمارا ایک بھی آدمی پیچھے نہ رہے گا ۔ ہمیں قطعاً کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ آپ ﷺ کل ہمارے ساتھ دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں پامرد اور لڑنے میں جواں مرد ہیں۔ اور ممکن ہے اللہ آپ ﷺ کو ہمارا وہ جوہر دکھلائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ پس آپ ہمیں ہمراہ لے کر چلیں ۔ اللہ برکت دے ۔” حضرت سعد ؓ کی یہ بات سن کر حضورﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ ﷺ پر نشاط طاری ہو گیا ۔

معرکہ بدر برپا ہوا اور مسلمان فتحیاب رہے ۔ فتح کے بعد جس وقت مسلمانوں نے مشرکین کی گرفتاری شروع کی، رسول اللہ ﷺ چھپر میں تشریف فرما تھے اور حضرت سعد بن معاذ ؓ تلوار حمائل کئے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعد ؓ کے چہرے پر لوگوں کی اس حرکت کا ناگوار اثر پڑ رہا ہے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اے سعد! بخدا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم کو مسلمانوں کا یہ کام ناگوار ہے ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ اہلِ شرک کے ساتھ پہلا معرکہ ہے جس کا موقع اللہ نے ہمیں فراہم کیا ہے ۔ اس لئے اہل شرک کو باقی چھوڑنے کے بجائے مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے اور اچھی طرح کچل دیا جائے۔

سعد ؓاور غزوہ احزب

غزوہ احد کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ایک سال سے زائد عرصہ پر مشتمل پیہم فوجی مہمات اور کارروائیوں کے نتیجے میں جزیرۃ العرب پر ایک گونہ سکون چھا گیا تھا ۔ یہود نے جب دیکھا کہ تائید الٰہی سے حالات مسلمانوں کے حق میں سازگار ہوتے چلے جا رہے ہیں تو انہیں سخت جلن ہوئی۔ انہوں نے نئے سرے سے سازش شروع کی اور مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ لیکن چونکہ انہیں مسلمانوں سے براہ راست ٹکرانے کی جرات نہ تھی اس لئے انہوں نے ایک خوفناک منصوبہ ترتیب دیا۔

چنانچہ قبیلہ یہود بنو نضیر جنہیں ان کی دسیسہ کاریوں کے سبب حضور ﷺ نے مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا ، ان کا ایک وفد قریش مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا ۔ قریش راضی ہو گئے ۔ پھر یہ وفد بنو غَطفان کے پاس پہنچا اور انہیں بھی جنگ پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا ۔ اسی طرح اس وفد نے دیگر قبائل عرب میں گھوم پھر کر لوگوں کو جنگ کی ترغیب دی اور ان قبائل کے بھی بہت سے افراد تیار ہو گئے ۔ یہ سارے لشکر طے شدہ پروگرام کے مطابق مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ کتب تاریخ کے مطابق ان سپاہ کی تعداد دس ہزار تھی ۔ حضور اقدس ﷺ کفار کی اس لشکر کشی کی اطلاع پاتے ہی مجلس شوریٰ منعقد فرمائی جس میں دفاعی منصوبہ پر صلاح مشورہ کیا۔ اہل شوریٰ نے غور و خوض کے بعد حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورہ پر مدینہ کے گرد خندق کھود کر مقابلہ کرنے کے مشورے کی منظوری دے دی۔ اور اہل ایمان نے نہایت مستعدی کے ساتھ چند ہی رو ز میں مطلوبہ معیار کے مطابق خندق کھود ڈالی۔

بنو قریظہ کی عہد شکنی

ایک طرف مسلمان محاذ جنگ پر سنگین مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری جانب یہود کے سازشی عناصر اپنی سازشوں میں مصروف تھے۔ چنانچہ بنو نضیر کا مجرم اکبر حُیی بن اخطب بنو قریظہ کے پاس آیا جو کہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور جنہوں نے حضور ﷺ سے معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کے مواقع پر آپ ﷺ کی مدد کریں گے ۔ حُیی نے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کو بھی عہد شکنی پر اکسایا۔ کعب نے لاکھ دامن بچانا چاہا لیکن حُیی نے اسے رام کر ہی لیا  جس کے بعد بنو قریظہ کے یہود حضور ﷺ سے کئے ہوئے معاہدے کے بر خلاف عملی طور پر جنگی کاروائیوں میں مصروف ہو گئے ۔ حضور ﷺ کو جب بنو قریظہ کی عہد شکنی کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے تصدیق کے لئے اپنے نمائندے روانہ کئے جنہوں نے واپس آ کر بتایا کہ بنو قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع درست ہے۔

اُدھر مشرکین حملے کی نیت سے مدینہ کی طرف بڑھے تو خندق سے واسطہ پڑا جو ان کے اور مدینہ کے درمیان حائل تھی ۔ چنانچہ انہیں مجبوراً محاصرہ کرنا پڑا ۔ ان کا اس قسم کے دفاع سے کبھی واسطہ ہی  نہ پڑا تھا چنانچہ خندق کے گرد غیض و غضب سے چکر کاٹتے رہتے ۔ نیز فریقین کی جانب سے تیر اندازی بھی جاری رہی ۔ اسی تیر اندازی میں فریقین کے چند آدمی مارے گئے جبکہ ایک تیر حضرت سعد بن معاذ ؓ کے بھی لگا جس سے ان کے بازو کی بڑی رگ کٹ گئی ۔ سعد ؓ نے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے بنی قریظہ کے فیصلہ سے قبل موت نصیب نہ کر۔ (بنی قریظہ سعد کے حلیف تھے)۔ چنانچہ سعد ؓ  کا زخم مندمل ہونے لگا۔ ادھر کفار کا لشکر منتشر ہو کر لوٹ گیا جبکہ بنی قریظہ آکر اپنے قلعوں میں محفوظ ہو گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ واپس مدینہ چلے آئے ۔ سعد رضی اللہ عنہ کے لئے چرمی خیمہ مسجد کے اندر نصب کر دیا گیا۔

سعد ؓاور بنو قریظہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام آئے، اور پوچھا : یا رسول اللہﷺ آپ نے لباس جنگ اتار دیا ہے ؟ واللہ فرشتوں نے تو ابھی تک نہیں اتارا۔ آپ ﷺ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے جنگ کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے زرہ پہن لی اور لوگوں کو حکم فرما دیا کہ وہ بھی بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے بنی قریظہ کا محاصرہ کر لیا جو کہ ۲۵ روز تک جاری رہا ۔

جب محاصرہ سخت ہو گیا اور مصیبت بڑھ گئی تو ان کو پیغام بھیجا کہ تم رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے نیچے اتر آؤ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہم سعد بن معاذؓ کے فیصلے کو قبول کریں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا مطالبہ منظور کر لیا ۔ چنانچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ   کو ان کی بیماری کے باعث گدھے پر سوار کرا کے لایا گیا ۔ ان کے گرد و پیش قوم کا ہجوم تھا جو سفارش کر رہے تھے : اے ابو عمرو! وہ آپ کے دوست اور حلیف ہیں اور سخت مصیبت زدہ اور ناگفتہ بہ حالت میں ہیں۔ حضرت سعدؓ سن رہے تھے اور ان کی بات کو کچھ اہمیت نہ دے رہے تھے ۔ چلتے چلتے اپنے محلے میں آئے تو ان سے مخاطب ہوئے :

اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور سرزنش کی پرواہ نہ کروں۔

(یہ ان امور میں سے ایک ہے جن پر انصار نے حضور ﷺ سے عقبہ کی دوسری بیعت کے وقت بیعت کی تھی ۔)

پھر حضرت سعد ؓنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا : میرا ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ ۔۔۔

۔۔۔ ان کے جنگجو مرد قتل کر دیئے جائیں

۔۔۔ اور بال بچوں کو قید کر لیا جائے

۔۔۔ اور مال و متاع تقسیم کر دیا جائے۔

یہ فیصلہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ کا سات آسمان کے اوپر سے جو فیصلہ تھا، تم نے اس کے مطابق فیصلہ کیا۔  چنانچہ بنی قریظہ کے سارے جنگجو مرد قتل کر دیئے گئے جن کی تعداد مختلف روایات میں سات سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

پھر سعد ؓنے دعا کی : یا اللہ ! اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہے تو مجھے اس کے لئے باقی رکھ اور اگر تو نے ان کی لڑائی ختم کر دی ہے تو  مجھے اپنے پاس بلا لے ۔ اس کے بعد وہ مسجد نبوی میں اپنے خیمے میں واپس چلے گئے۔ وہیں رات میں زخم پھر پھوٹ پڑا یہاں تک کہ وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے۔ ان کی وفات پر حضرت جبرئیل علیہ السلام ریشمی عمامہ پہنے ہوئے آئے اور پوچھا کہ اے محمد ﷺ یہ کون سی میت ہے کہ جس کےلئے آسمان کے سب دروازے کھل گئے ہیں اور اللہ کا عرش خوشی سے جھوم رہا ہے۔ حضور ﷺ کو اندازہ ہو گیا کہ وفات پانے والے حضرت سعدؓ ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ ان کے گھر کی جانب چلے۔ اور اتنا تیز چلے کہ ساتھ چلنے والے صحابہؓ  کو دقت پیش آنے لگی اور تیزی کی وجہ سے ان کے جوتوں کے تسمے ٹوٹنے لگے ۔
janaza

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے ( بنی قریظہ کے فیصلہ کی بنا پر ) کہا کہ جنازہ کس قدر ہلکا پھلکا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں دریافت ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہلکا اور بے وقار نہیں ، اس کو فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے ۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد ؓ کے جنازے میں شریک ہوئے ہیں ، اور ان فرشتوں نے آج سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا۔

حضور ﷺ کا اپنے صحابہ ؓ کے بارے میں ارشاد گرامی ہے:

sahaba

اصحابی کا لنجوم، بایھم اقتدیتم اھتدیتم

مفہوم: میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ، ہدایت پا جاؤ گے۔

حضور ﷺ کے اس جلیل القدر صحابی ؓ  کی زندگی میں جانثاری و وفا شعاری کے جو درخشندہ ابواب نظر آتے ہیں وہ تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کو جس طرح اپنایا، وہ ان کی زندگی میں جا بجا نظر آتا ہے ۔ بالخصوص بنی قریظہ کا فیصلہ سناتے وقت ان کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات ۔۔۔

اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور سرزنش کی پرواہ نہ کروں۔

بحیثیت مسلمان اگر صرف اسی ایک نکتے کو زندگی کا نصب العین بنا لیا جائے تو انشا ء اللہ اخروی نجات کے لئے کافی ہو گا … یعنی دین کے ہر ہر حکم اور تقاضے پر عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت یا سرزنش کی پرواہ نہ کی جائےچاہے وہ دوست ہوں یا رشتہ دار ، افسر ہوں یا حکمراں، اپنے ہوں یا پرائے۔اللہ رب العزت ہمارے قلوب کو بھی ہدایت کے نور سے اسی طرح روشن فرمائے جس طرح سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل کو منور فرمایا۔آمین !

 

R.I.P.

R.I.P.

By Abu Shaheer

In the last few days, two distinguished personalities died. Both were famous and renowned; and had their fans and followers worldwide. The death of the “Fast & Furious” fame Paul Walker shocked his fans, and fellows of the film industry. Then “the Symbol of Peace” Nelson Mandela left this world; making not only the South African Nation fall in grief, but also the rest of the world. People shared their feelings, memories, tribute and prayers for their beloved personalities on social media.

The strange part of the story was the “R.I.P” (Rest-In-Peace) comments by the Muslims. It seems Muslims do not know the teachings of the Holy Quran about praying for deceased disbelievers. Let’s have a look at the death incident of Abu-Talib, the Uncle of the Holy Prophet ﷺ.

Death of Abu-Talib:

In the tenth year of the Prophethood, Abu Talib fell ill and passed away. When Abu Talib was on the death bed, the Prophet  ﷺentered the room where he saw Abu Jahl and ‘Abdullah bin Abi Omaiyah. He requested his uncle:

“My uncle, you just make a profession that there is no true god but Allâh, and I will bear testimony before Allâh (of your being a believer)”.

Abu Jahl and ‘Abdullah bin Abi Omaiyah addressing him said: “Abu Talib, would you abandon the religion of ‘Abdul-Muttalib?” The Messenger of Allâh ﷺ  constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu Jahl and ‘Abdullah bin Abi Omaiyah) — till Abu Talib gave his final decision and he stuck to the religion of ‘Abdul-Muttalib and refused to profess that there is no true god but Allâh. Upon this the Messenger of Allâh ﷺ  remarked:

“By Allâh, I will persistently beg pardon for you till I am forbidden to do so (by Allâh)”.

It was then that Allâh, the Magnificent and Glorious revealed this verse:

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

“It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allâh’s forgiveness for the Mushrikûn (polytheists, idolaters, pagans, disbelievers in the Oneness of Allâh) even though they be of kin, after it has become clear to them that they are the dwellers of the Fire (because they died in a state of disbelief).” [9:113]

And it was said to the Messenger of Allâh ﷺ:

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚوَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

“Verily! You [O Muhammad (Peace be upon him) ] guide not whom you like.” [28:56]

It goes without saying that Abu Talib was very much attached to Muhammad ﷺ. For forty years, Abu Talib had been the faithful friend — the prop of his childhood, the guardian of his youth and in later life a very tower of defence. The sacrifices to which Abu Talib exposed himself and his family for the sake of his nephew, while yet incredulous of his mission, stamp his character as singularly noble and unselfish. The Prophet ﷺ  did his best to persuade his octogenarian uncle to make profession of the true faith, but he remained obdurate and stuck to the paganism of his forefathers, and thus could not achieve complete success. Al-‘Abbas bin ‘AbdulMuttalib narrated that he said to the Prophetﷺ    “You have not been of any avail to your uncle (Abu Talib) (though) by Allâh, he used to protect you and get angry on your behalf.”

The Prophet  said: “He is in a shallow fire, and had it not been for me, he would have been at the bottom of the (Hell) Fire.”

Abu Sa‘id Al-Khudri narrated that he heard the Prophet ﷺ  say, when the mention of his uncle was made, “I hope that my intercession may avail him, and he be placed in a shallow fire that rises up only to his heels.” [Excerpt from Al-Raheeq-ul-Makhtum… a book about the Life of the Prophet Muhammad ﷺ]

There is no doubt that the great South African leader, Nelson Mandela, struggled through his life for the peace and human rights, for which he had also earned the Noble prize for Peace, and he should be given more respect over a film actor. But… for me, Abu Talib was undoubtedly a far better personality than Nelson Mandela. He took care, supported, and guarded the Holy Prophetﷺ    throughout his life. Although he didn’t embrace Islam; yet we Muslims have a great deal of respect for him in our hearts for whatever he had done in support of his Nephew ﷺ. However, he could not succeed in securing a peaceful place to rest in, in the hereafter, which is quite clear from the above mentioned Hadith. Secondly, when the Prophet   ﷺwished to pray for his deceased uncle, Allah Almighty allowed neither him nor the other Muslims to pray for disbelievers (even though they be of kin), as mentioned in the verses stated above. So if Muslims are not allowed to say R.I.P for Abu Talib, how could they be allowed to say R.I.P for Nelson Mandela or Paul Walker?

For wrong faiths (kufr & shirk), Allah Almighty said clearly:

لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ O

Do not ascribe partners to Allah. Indeed, ascribing partners toAllah (shirk) is grave transgression.” [31:13]

And for the disbelievers (mushrikin) Allah Almighty gave a clear word:

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا  O

Surely, Allah does not forgive that a partner is ascribed to Him, and forgives anything short of that for whomsoever He wills. Whoever ascribes a partner to Allah has indeed gone far astray. [04:116]

So Muslims should avoid saying R.I.P for the disbelievers in case it would be considered as a violation of the clear teachings of Islam. We Muslims must take care of our belief and pray constantly for that:

Our Lord, do not let our hearts deviate from the right path after You have given us guidance, and bestow upon us mercy from Your own. Surely, You, and You alone, are the One who bestows in abundance. O Allah! Whomsoever You keep alive, let him live as a follower of Islam and whomsoever You cause to die, let him die a Believer.

May Allah guide us all, the right path. Aameen.

Facing the Music

Facing the music

By Abu Shaheer

The arena was looking as special as the event!

Very well decorated venue, neat and clean atmosphere, pleasant weather, bright lights, wonderful outfits, glittering eyes, smiles on the faces, gossips and cheers, sharing of gifts and wishes, delicious meal along with scrumptious dessert; almost everything was present that could be required for the first celebration of the first child…! Could have been a wonderful event… Could have been!

Everything was going fine until a group of monkeys had jumped into the fair! They were only five or six, including a female, yet they were enough to spoil the whole impression. The group was so-called a “musical band” or “singers”; though they were the antonyms.

The “clowns” ruined the peace of the environment by making a hell of a noise.  They had no idea about what to sing and how to sing? They were so stupid that they didn’t even know that they were performing in a party; and not in a “live concert”. They had to perform like play back singers; however they behaved like anchors. They became the captors while the guests, their hostages. They were enjoying their activities as they were behind the echo chambers while the guests (at least six of them) were “unjoying” as they were in front of the echo chambers. They were “rented” for entertaining the guests and they were literally “abusing” them.

No way to escape… The guests had to “face the music!”

Moral: Adding a little more spice/salt could spoil the whole recipe.

Nama-e-Mubarak

نامۂ مبارک

از ابو شہیر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

محمد ﷺ کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور رسول ہے ۔ یہ خط ہِرَقَل کے نام ہے جو روم کا رئیس اعظم ہے۔ ۔۔ اس کو سلامتی ہو جو ہدایت کا پیروکار ہے۔۔۔ اس کے بعد میں تجھ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ تم اسلام لاؤ، سلامت رہو گے۔ اللہ تمہیں دگنا اجر دے گا ۔ اگر تم نے نہ مانا تو اہل ملک کا گناہ تمہارے سر ہو گا ۔ اے اہل کتاب ! کسی ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے ۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، اور ہم میں سے کوئی ( اس کے سوا) کسی کو خدا نہ بنائے۔ اور اگر تم نہیں مانتے تو گواہ رہو کہ ہم مانتے ہیں۔ “

ہِرَقَل کو رسالتمآب ﷺ کا یہ خط اس وقت موصول ہوا جبکہ وہ نینوا کے میدان میں اپنے وقت کی سب سے بڑی طاقت یعنی کسریٰ کو پامال کر چکا تھا ۔ اس نے بازنطینی سلطنت کو شام ، فلسطین ، آرمینیا اور ایشیائے کوچک میں عیسائیوں کے وہ لاتعداد گرجے دوبارہ کلیسا کو دلوائے تھے، جنہیں مجوسیوں نے آتشکدوں میں تبدیل کر دیا تھا ۔ ان عظیم کامیابیوں کے بعد اس کی شان و شوکت کا نظارہ دیکھنے والے اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ صحرائے عرب سے نبوت کا ایک دعویدار دنیا کے اس عظیم فرمانروا سے ہم کلام ہونے کی جرأت کرے گا ، جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا تھا۔قیصر کو سرکار مدینہ ﷺ کا خط موصول ہو ا تو اس نے حکم دیا کہ اگر عرب کا کوئی باشندہ یہاں موجود ہو تو اسے ہمارے سامنے پیش کیا جائے ۔ اتفاق سے عرب تاجروں کا ایک قافلہ غزہ میں مقیم تھا ، اور مکہ سے ابوسفیان اس کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ قیصر کے آدمی انہیں تلاش کر کے یروشلم لے آئے ۔ ہرقل نے دربار منعقد کیا جس میں حکومت کے عمال اور کلیسا کے اکابر بھی موجود تھے ۔ پھر اس نے مترجم کی وساطت سے ابو سفیان سے چند سوال و جواب کئے اور پھر ان کا حکیمانہ تجزیہ کرتے ہوئے ابوسفیان سے کہا :

” تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ وہ شریف النسب ہے ۔ پیغمبر ہمیشہ اچھے خاندانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ تم یہ کہتے ہو کہ اس خاندان سے کبھی کسی اور نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں یہ سمجھتا کہ یہ خاندانی اثرات کا نتیجہ ہے۔ تم یہ مانتے ہو کہ اس خاندان میں کوئی بادشاہ نہ تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو میں یہ سمجھتا کہ اسے بھی بادشاہت کی خواہش ہے۔ تم یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اب جو شخص انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا ، وہ خدا پر کیونکر جھوٹ باندھ سکتا ہے ۔ تم کہتے ہو کہ اس کے پیرو کمزور اور غریب ہیں اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ پیغمبروں کے ابتدائی پیرو ہمیشہ غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔ تم نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اسے ماننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہمارے نزدیک یہ بھی اس کے دین کی سچائی کی علامت ہے۔ تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ اس نے کبھی فریب نہیں کیا ۔ پیغمبر یقیناً کبھی فریب نہیں کرتے ۔ تم یہ کہتے ہو کہ وہ نماز ، تقویٰ اور عفو کی ہدایت کرتا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو میری قیام گاہ تک اس کا قبضہ ہو جائے گا ۔ مجھے اس بات کا احساس ضرور تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ وہ عرب میں پیدا ہو گا۔ اگر میں وہاں پہنچ سکتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔ “

سلطنت کے اکابر اور کلیسا کے پیشواؤں کی موجودگی میں یہ الفاظ اس شخص کی زبان سے نکلے تھے ، جنہیں وہ دین مسیح کا سب سے بڑا حامی و ناصر سمجھتے تھے۔ ان کے سینوں میں غصے کی آگ سلگ رہی تھی لیکن قیصر کے احترام کے باعث ان کی زبانیں گنگ ہو چکی تھیں ۔ لیکن جب ہرقل کے حکم سے بھرے دربا ر میں یہ خط پڑھ کر سنایا گیا تو ان کی قوت برداشت جواب دے گئی۔ خاموش نگاہوں کا احتجاج زبانوں پر آ گیا اور پادریوں اور راہبوں کی دبی ہوئی آوازیں بھی بلند ہونے لگیں۔ روم کے شہنشاہ نے ہدایت کے جس نور کو اپنے سینے میں جگہ دینے کی جسارت کی تھی ، اس کے راستے میں دنیاوی جاہ وہ حشمت اور تخت و تاج کی محبت کے پردے حائل ہو گئے ۔ وہ ہاتھ جو اچانک حسین پھولوں کی طرف بڑھے تھے، کانٹوں کے خوف سے پیچھے ہٹ گئے ۔ اور وہ ہمت جو کبھی ہرقل کو مایوسی کی دلدل سے نکال کر نینوا اور دست گرد کے میدانوں کی طرف لے گئی تھی ، اچانک جواب دے گئی۔ ہرقل نے اپنی رعایا کا اضطراب دور کرنے کے لئے عربوں کو اپنے دربار سے نکل جانے کا حکم دیا ۔ اور کلیسا کی عظمت اور تقدیس کے محافظ اسے مبارکباد دینے لگے ۔ وہ خوش تھے ، وہ اس بات پر خوش تھے کہ انہوں نے ایک پیاسے مسافر کو ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے کی طرف بھاگنے سے روک لیا ہے ۔ ”  (قیصر و کسریٰ ۔۔۔ از نسیم حجازی)

اردو کے معروف ناول نگار نسیم حجازی کے ناول  “قیصر و کسریٰ ” کے مطالعہ کے دوران جب یہ واقعہ نظر سے گزرا ، تو قیصر روم کے اقدام پر سخت تاسف ہوا کہ قیصر ایک درست نتیجہ پر پہنچ جانے کے باوجود اپنے حواریوں درباریوں کے دباؤ کے باعث ایک درست قدم اٹھانے سے محروم رہ گیا ۔اور ان حواریوں درباریوں پر بھی سخت افسوس ہوا کہ ان کی بھی کیسی مت ماری گئی تھی ۔ انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک ایک نکتہ سامنے آیا ۔ ۔۔!

بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ قرآن پاک کی آیات اور جناب رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کل بھی تر و تازہ تھیں اور آج بھی ۔۔۔ اور آئندہ قیامت تک کے لئے زندہ و جاوید ہیں۔ تو آج جب میرے سامنے رسول اکرم ﷺ کا کوئی حکم پیش کیا جاتا ہے کہ قال رسول اللہ ﷺ ۔۔۔ تو کیا مجھے یوں نہیں سمجھنا چاہئے ۔۔۔کہ رسول اکرم ﷺ کا نامہ مبارک مجھ تک پہنچ گیا ہے ۔۔۔ جس کے ذریعے گویا مجھ کو اسلام کی مبارک تعلیمات پر عمل کی جانب توجہ دلائی جا رہی ہے۔ پیغام رساں یا قاصد کوئی عالم دین بھی ہو سکتا ہے اور کوئی عام مسلمان بھی ۔ پیغام تحریر کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور تقریر کی صورت میں بھی ۔ بڑے دعوے کرتا ہوں میں ایمان کے ، اسلام کے ۔۔۔ لیکن  “نامہ مبارک ” موصول ہونے پر میرا ردعمل کیا ہوا کرتا ہے۔۔۔؟ ساتھ ہی ایک خیال یہ بھی آیا کہ جب میرے کسی عزیز کو ” نامہ مبارک ” پہنچتا ہے ، تو اس وقت میری ذمہ داری کیا بنتی ہے اور میرا طرز عمل کیا ہوتا ہے ؟

غور کیجئے ! کیا دن بھر میں ہمیں کئی “نامہ مبارک” یا ارشاد گرامی موصول نہیں ہوتے؟ مثلاً داڑھی رکھو ۔۔۔ پانی ٹھہر ٹھہر کر پیو۔۔۔ نظریں نیچی رکھو۔۔۔ آپس میں گالی گفتاری نہ کرو۔۔۔ اب ہر مسلمان کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ ایسے میں اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے ؟ ایک صورت یہ ہے کہ بات کو سنا ، سینے سے لگا یا ، اور عمل بھی شروع کر دیا ۔ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین والی کیفیت ہے ۔۔۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ بات کو عقیدت سے سنا ، یہ بھی سمجھا کہ ہاں بات تو حق ہے ، لیکن معاشرتی دباؤ کے باعث عمل نہ کیا ،جیسا کہ قیصر روم نے کیا ۔۔۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ بیزاری کے ساتھ ایک کان سے سنا، دوسرے کان سے نکال دیا ۔۔۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ سرے سے کان ہی نہ دھرا۔۔۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ حقارت سے کوڑے دان میں پھینک دیا ۔ ۔۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ قاصد کو بھی لائق ملامت اور قابل گردن زدنی قرار دے دیا ۔

یقیناً ایک مومن کی شان سے یہ بات بہت بعید ہے کہ جب اسے “نامہ مبارک ” موصول ہو تو وہ اس پیغام پر توجہ نہ دے ۔۔۔ یا جب اس کے کسی عزیز کو ” نامہ مبارک”  پہنچایا جائے تو وہ قیصر روم کے درباریوں سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر یہ کہتا نظر آئے کہ قاصد نے پیغام پہنچا کر غلط کیا ، اس کو ایسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔

آئیے ! ہم سب انفرادی طور پر اپنا محاسبہ کریں کہ مذکورہ ہر دو صورتوں میں ہمارا ردعمل کیا ہوتا ہے ؟

Mar kay bhi chain na paya to kidhar jaen gay…?

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

از ابو شہیر

24 جنوری 2013 کو روزنامہ “جنگ” کراچی میں انصار عباسی صاحب کا مضمون بعنوان “پاکستان میں سب چلتا ہے”پڑھ کر بہت خوشی ہوئی جس میں انہوں نے چند دن قبل ہی وفات پانے والی ایک معروف گلوکارہ (نام ہم دانستہ نہیں لکھ رہے)کے انتقال پر میڈیا کے رویے کو موضوع بحث بنایا ۔ مضمون کی ابتدائی سطور یوں تھیں ۔۔۔  “بیچارہ کوئی اداکار یا گلوکار یا شوبز سے تعلق رکھنے والا کوئی اور فرد یہاں فوت ہو جائے تو ٹی وی چینلز اس کا جو حال کرتے ہیں ، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ ہمیں تو ہمارا دین یہ سکھاتا ہے کہ کسی مسلمان کے مرنے پر اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے ، مگر ہمارے چینلز ہیں کہ چن چن کر اس کے ناچ گانے دکھانے لگ جاتے ہیں “۔۔۔

“پھر 25 جنوری 2013 کے روزنامہ “جنگ” کراچی میں کشور ناہید نے اپنے مضمون میں اسی گلوکارہ کے علاوہ دیگر بہت سی گلوکاراؤں کے حوالے سے معاشرے کی بے اعتنائی پر اپنی دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ۔ “فلاں نے چھوٹے بھائیوں کو پڑھایا ، ان کی شادیاں کیں اور امریکہ میں نوکریاں بھی دلوائیں ۔ ان بھائیوں کی انا یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ ان کی بہن ایک گانے والی ہے ۔ اس لئے انہوں نے امریکہ ہی میں مستقل رہنے کا بندو بست کر لیا ۔” “فلاں نے اپنے بیٹوں کو پڑھایا لکھایا ، شادیاں کیں اور جب وہ کسی قابل ہو گئے تو اعتراض کرنے لگے اسی ماں پر جس نے کمائی کر کے ان کو کسی لائق بنایا تھا ۔ پھر انہوں نے بھی غیر ممالک کا رخ کیا ۔ ان کی ایک بیٹی بھی تھی ۔ اس کی شادی کی تو داماد ، گھر داماد بن گیا۔ اس میں وہ شرم محسوس نہیں کرتا تھا ، البتہ ان کے گانے پر معترض تھا ۔   “

کون مسلمان نہیں جانتا کہ موسیقی اور گانا بجانا حرام ہے ؟پھر جو خواتین اس پیشے سے وابستہ ہو جاتی ہیں وہ بے پردگی کے باعث ایک اور نافرمانی کی بھی مرتکب ہوتی ہیں۔ یہ ایک اجمالی بات ہے ، کسی خاص فرد کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا رہی ۔ ویسے بھی جو مر گیا اس کے بارے میں لب کشائی مناسب نہیں ، مرنے والا جانے اور اس کا رب ۔ تاہم یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا اور اپنے اعمال کی بازپرس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ جس طرح کچھ اچھے اعمال صدقہ جاریہ کی صورت میں مرنے کے بعد بھی نافع ہو سکتے ہیں ، اسی طرح کچھ برے اعمال طرح گناہ جاریہ کی صورت میں مرنے کے بعد بھی ایک مستقل وبال کا سبب بن سکتے ہیں۔ مرنے والے مر جاتے ہیں ، پیچھے ان کے ناچ گانے زندہ رہ جاتے ہیں۔

مذکورہ مضامین کا بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں بڑے سبق آموز معلوم ہوتے ہیں ۔انصار عباسی صاحب کے مضمون سے واضح ہے کہ چونکہ …عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں … لہٰذا مرنے کے بعد متوفی کے پرستار بجائے دعائے مغفرت کے ، اسی عشق بتاں کے قصے لے بیٹھتے ہیں ۔ اور ٹی وی چینلز متوفی یا متوفیہ کے ناچ گانے دکھا دکھا کر گویا اس کی روح کو “ایصال ثواب “پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور پھر سال کے سال “…A tribute to ” کے عنوان سے پروگرام بنا کر برسی بھی “نہایت عقیدت و احترام “سے منائی جاتی ہے، جن کا اختتام عموماً  “حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” والی کیفیت پر ہوتا ہے ۔

کشور ناہید کا مضمون تو گویا ایک ریسرچ پیپر ہے جس سے یہ چشم کشا حقیقت عیاں ہے کہ موسیقی اور گائیکی سے وابستہ شخصیات کو دنیا ہی میں عشق بتاں کے وبال کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ لوگوں کو یہ بھی یاد ہو گا کہ وہ ، جن کو پاکستان کا سب سے بڑا غزل گائیک کہا جاتا تھا ، ان کی بھی زندگی کے آخری ایام نہایت کسمپرسی میں گزرے ۔ اور پھر جب انتقال ہوا تو تدفین میں بھی ایک گلوکارپیش پیش تھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی قاری حافظ اس وقت آگے آگے ہوتا ۔ معلوم ہوا کہ انسان جن لوگوں سے تعلق جوڑے گا ، مرنے کے بعد انہی کے ہاتھوں قبر میں اتارا جائے گا۔ جنید جمشید سے پوچھا گیا کہ گانا کیوں چھوڑا ؟ بولے کہ گلوکاری سے خوب شہرت کمائی ، لیکن زندگی میں سکون نہیں تھا ۔ جب سے تائب ہوا ہوں ، چین سے ہوں۔ اب تائب نہ ہونے والوں کو سوچنا چاہئے کہ …مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے ، لغزشوں سے در گزر فرمائے اور جو انسان زندہ ہیں ان کو نیک ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین۔ افسوس !زندگی کا مقصد کیا بتایا گیا ہے اور ہم نے کیا بنا لیا !