Shadi ka Hangama

شادی کا ہنگامہ

knot

شادی ایک مقدس بندھن ہے جس کے ذریعے مرد و عورت ایک ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کرتے ہیں۔ یہ فطرت کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اولاد کے حصول کا ایک جائز طریقہ بھی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب شادیاں سادگی کے ساتھ منعقد ہو جایا کرتی تھیں۔ دلہن کو سہیلیاں گھر میں ہی تیار کر لیتی تھیں۔ اور دولہا تو خود ہی تیار ہو جایا کرتا تھا۔ مختصرسے باراتی دولہا کے ہمراہ جاتے اور سادگی سے دلہن کو رخصت کرا کر لے آتے ۔مایوں اور مہندی جیسی تقریبات کا کوئی وجود نہ تھا۔ نکاح اور ولیمہ کی فقط دو تقریبات پر ہی معاملہ نمٹ جاتا تھا۔ اور یہ تقریبات بھی باپردہ ہوا کرتی تھیں۔  دلہن کے دکھائی دے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔لیکن رفتہ رفتہ یہ فرسودگی رخصت ہوتی چلی گئی۔ چنانچہ آجکل شادیاں بہت جدت اختیار کر گئی ہیں۔ نیز اب شادی صرف نکاح اور ولیمہ تک محدود نہیں رہ گئی بلکہ اس میں کئی تقریبات کا اضافہ کیا جا چکا ہے ۔ منگنی کی تقریب، شادی کی تاریخ پکی ہونے کی تقریب ، بَری ، مایوں ، مہندی ، شادی ، ولیمہ اور پھر چوتھی ۔ ثانوی تقریبات میں صرف قریبی رشتہ داروں کو مدعو کیا جاتا ہے جبکہ مرکزی تقریبات یعنی شادی اور ولیمہ میں حتی الامکان پورے خاندان کو ۔ یہ الگ بات کہ جنہیں مدعو کیا جائے ان میں سے بہت سے آتے نہیں اور جنہیں مدعو نہ کیا جائے وہ برا مان جاتے ہیں۔بہرحال ان تمام تقریبات کے دعوت ناموں سے لے کر کھانوں تک اور منڈپ سے لے کر میک اپ تک ہر چیز کی خوب تیاری اور خوب اہتمام کیا جاتا ہے ۔

engagement

منگنی کی تقریب میں لڑکے والے لڑکی کو مٹھائی کھلاتے ہیں اور لڑکی والے لڑکے کو۔ پہلے یہ ذمہ داری خواتین تک ہی محدود تھی لیکن اب سب کو اجازت ہے ۔ چنانچہ مٹھائی کھلائی جاتی ہے ۔ اس موقع پر ہنسی مذاق ، دل لگی کی باتیں ،تصاویر ،موسیقی ایسے اجزا سے خوب لطف اندوز ہوا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل تک یہ بے تکی سی پابندی ہوا کرتی تھی کہ لڑکی کو لڑکے کا سارا خاندان دیکھ لے تو دیکھ لے پر لڑکا نہیں دیکھ سکتا ۔ مقام شکر ہے کہ اب بیشتر گھرانوں کو تک کی یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ بھئی لڑکے پر بے جا ظلم نہ کیا جائے ۔ چنانچہ اب ساتھ ہی بٹھا دیتے ہیں ۔ جس سے مزید یہ آسانی ہوئی کہ اب لڑکا لڑکی بھی ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا سکتے ہیں۔

mayoon

مایوں کی تقریب میں پہلے صرف لڑکی کو ابٹن لگایا جاتا تھا ۔ اب ساری تقریب کو ابٹن ملا جاتا ہے ۔ یعنی شامیانے قناتوں سے لے کر ملبوسات تک زرد رنگ کی بہار ۔ لڑکا لڑکی دونوں کے کزنز لڑکے اور لڑکیوں اور دوستوں  سہیلیوں کے لئے باقاعدہ ڈریس کوڈ ترتیب دیا جاتا ہے ۔ یعنی لڑکے سارے ایک جیسا لباس پہنیں گے اور لڑکیاں ایک جیسا۔ یہ غالباً واحد موقع ہوتا ہے جب ایک عورت بقائمی ہوش و حواس اور برضا و رغبت دوسری عورت کے عین مشابہ لباس خریدنے اور پہننے پر آمادہ نظر آتی ہے  ۔ اسی تقریب میں بَری بھی پہنچا دی جاتی ہے۔ جس کی پھر باقاعدہ نمائش ہوتی ہے اور جس کے نتیجے میں دیکھنے والوں کو باتیں بنانے کا بھرپور موقع ملتا ہے بالفاظ دیگر موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

hina

مہندی کی تقریب میں بھی مہندی اتنی نہیں ہوتی جتنی کہ تقریب۔ ملبوسات کا مذکورہ بالا ڈریس کوڈ۔ مایوں کی تقریب میں زرد رنگ غالب ہوتا ہے جبکہ مہندی میں سبز۔ لڑکیوں کے دوپٹے لڑکوں کے گلوں میں آ جاتے ہیں۔ اس فنکشن کی بہت زیادہ تیاری کی جاتی ہے۔ پہلے صرف گانے گا لئے جاتے تھے ڈھول کی تھاپ پر ، اب میوزک اور ڈانس کا بھی خوب اہتمام و التزام کیا جاتا ہے ۔ ناچنے کے لئے عام طور پر “منی بدنام ہوئی “جیسے گانے منتخب کئے جاتے ہیں ۔ والدین اپنی بیٹیوں کو ڈانس کرتے دیکھ کر ان کے ٹیلنٹ پر نہایت “پراؤڈ “فیل کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ پرفارمنسز تو اس قدر یادگار ہو جاتی ہیں کہ پھر برس ہا برس تک ان کے “تذکرے ” حاضرین، سامعین اور “دل تھامَعین “کی زبانوں پر رہتے ہیں۔ بہت سے نوجوان موقع سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے بھی ان تقریبات میں شرکت کرتے ہیں یعنی “بر کی تلاش”۔

banquet

پھر جناب آتی ہے شادی کی تقریب۔ پہلے شادی گھر کے باہر شامیانہ لگوا کر ہی نمٹا دی جاتی تھی ۔ لیکن بعد ازاں شادی ہال اور میرج گارڈنز سے ہوتی ہوئی آج یہ پہنچ چکی ہے ایئر کنڈیشنڈ بینکوئٹ ہال تک ۔ چنانچہ ۹ سے ۱۲ کے اس تین گھنٹے کے شو کے لئے کم و بیش تین لاکھ روپے کا بینکوئٹ ہال بک کرایا جاتا ہے جہاں مہمانوں کی آمد کوئی دس بجے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ میرج گارڈن اور بینکوئٹ ہال کے مالکان اسپاٹ لائٹ ، اسموک اور میوزک ایسی بیش بہا سہولیات بطور “گفٹ پیکچ ” فراہم کر کے مسلمانوں کی خوب دعائیں لیتے ہیں۔

Bridal-Gharara

عروسی ملبوسات کی خریداری پر بھی خوب وقت، محنت اور پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ دلہن کے لئے بیس پچیس ہزار روپے کا جوڑا تو عام بات ہے ۔گویا شادی ولیمہ کے دو جوڑے پچاس ہزار کے ہوئے۔ برسبیل تذکرہ ان گنہگار کانوں نے تو یہاں تک سنا کہ خریدنے والوں نے پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو جوڑے خریدے شادی اور ولیمہ کے لئے۔ ذرائع انتہائی معتبر تھے سو  یقین کرتے ہی بنی۔ خیر واپس آتے ہیں “رعایتی قیمت “والے جوڑوں کی طرف ۔ تو پچاس ہزار کے ان دو جوڑوں کے علاوہ پانچ سات ہزار فی عدد کے کم از کم گیارہ جوڑے مزید رکھے جاتے ہیں۔ دیگر ملبوسات ، جوتے اور پرس اس  کے علاوہ ہیں۔ پھر طلائی زیورات اور امیٹیشن جیولری اس کے علاوہ ۔ ادھر لڑکی والے بھی دولہا کے لئے شیروانی اور ولیمہ کے سوٹ کی خریداری کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ لڑکی کے لئے بیسیوں جوڑوں جوتوں کے علاوہ جہیز الگ جس میں سوئی سے لے کر فریج  ، ٹی وی ، واشنگ مشین تک کچھ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کی مناسبت سے جنریٹر بھی دیئے جانے لگے ہیں۔ ویسے دینے والے تو گاڑی بنگلہ بھی دیتے ہیں۔ خیر!

makeup

آرائش حسن کے لئے بھی نامی گرامی بیوٹی پارلرسے اپوائنٹمنٹ لی جاتی ہے۔ جو برائیڈل میک اپ کے لگ بھگ پندرہ ہزار روپے چارج کرتے ہیں۔ اور اب صرف دلہن ہی پارلر سے تیار نہیں ہوتی۔ بلکہ بہنیں بھاوجیں بھی پارلر سے تیار ہو کر ” سم تھنگ اسپیشل ” نظر آنے کی کامیاب کوشش کرتی ہیں ۔دوسری طرف دولہا کو تیار کرنے کے لئے بھی مینز سیلون وجود میں آ چکے ہیں۔ چنانچہ دولہا تیاری کے لئے وہاں کا رخ کرتا ہے۔

fireworks

بارات روانگی سے قبل پہلے گھر پر رسم ہوتی ہے۔ ڈھول تاشے والے بلائے جاتے ہیں۔ بارات روانگی کے وقت باہر گلی میں ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی رخصت کرانے نہیں ، اٹھانے جا رہے ہیں۔  شادی ہال پہنچ کر بھی آتش بازی اور فائرنگ کا مزید ایک دور چلتا ہے۔ ساتھ ہی ڈھول تاشے کی ڈب ڈباڈب اور چھن چھن پر بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں۔

undertaker

اللہ اللہ کر کے دولہا اندر داخل ہونے لگتا ہے تو شادی ہال کی لائٹس آف کر دی جاتی ہیں۔ پھر اسپاٹ لائٹ کی چاندنی ، ہیجان انگیز موسیقی کی گونج ، ایل ای ڈی لائٹس کی چکاچوند اور اسموک (دھوئیں) کے مرغولوں میں دولہا جب اسٹیج کی جانب بڑھتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا کوئی انڈر ٹیکر ٹائپ پہلوان ” ڈبلیو ڈبلیو ایف” کی ٹائٹل فائٹ کے لئے اکھاڑے کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ نوشہ میاں کے اکھاڑے میں اترنے یعنی اسٹیج پر براجمان ہوجانے کے بعد نکاح کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ دیکھئے نکاح کے ان دو بولوں کی “سادگی” تک پہنچنے کے لئے کیسے کیسے عظیم معرکے  سر کرنے پڑتے ہیں بیچارے کو۔ گویا ہمارا ہر دولہا کسی سندباد جہازی سے کم نہیں۔ بے چارہ شادی کی ایکسائٹمنٹ میں ایسا مست ہوتا ہے کہ یہ اندازہ تک نہیں کر پاتا کہ یار لوگ اس کے ساتھ بھی شادی کے بہانے وہی کچھ کر چکے ہیں جو آم کھلانے کے بہانے ایک مہمان کے ساتھ کیا تھا عامر لیاقت حسین نے ۔ ” ہم م م م … آم کھائے گا…!؟”

نکاح کے بعد دلہن کو بھی اسی ہنگامہ خیز انداز میں اسٹیج تک پہنچا یا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی  ہر کس و نا کس اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل کیمرے لئے آن دھمکتا ہے اور بیٹری بھر تصاویر بناتا اور بنواتا ہے۔ تواضع کے لئے انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں سے مزین انتہائی پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے جس پر مہمان یوں جھپٹتے ہیں گویا آج کے بعد کھانے کو نہیں ملے گا۔ طعام کے بعد ایک اور فوٹو سیشن ہوتا ہے جس کے بعد دلہن کی رخصتی عمل میں آتی ہے۔ دولہا والے دلہن کو رخصت کرا کر گھر پہنچتے ہیں تو ایک بار پھر فائرنگ کی جاتی ہے۔ یہ گویا اہل محلہ کے لئے اعلان ہوتا ہے کہ مجاہدین اسلام معرکہ سے بمعہ مال غنیمت سرخرو لوٹ آئے ہیں۔

dinner

ولیمہ کی تقریب کم و بیش شادی کی ہی تقریب کا چربہ ہوتی ہے۔ بس اس میں فائرنگ ، آتش بازی اور ڈھول تاشے کا اہتمام نہیں ہوتا۔ ولیمہ کے بعد ایک تقریب چوتھی کی بھی ہوتی ہے جو غالباً داماد کی سسرال میں آمدورفت پر پابندی کا قفل توڑنے کے لئے منعقد کی جاتی ہے۔یوں شادی کا ہنگامہ “حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” والی کیفیات کے ساتھ اختتام کو پہنچتا ہے ۔

تو جناب یہ تھا شادیوں کی جدت اور ترقی کا احوال۔ “مسلمانوں ” میں شادیاں اس طرح ہوتی ہیں۔ بس ایک ہی فرسودہ سی رسم رہ گئی ہے شادی میں اور وہ ہے نکاح۔ کیا خیال ہے… اس کا بھی کوئی آلٹرنیٹ نہیں تلاش کرنا چاہئے؟؟؟

Hunh! Hamen to kisi nay poocha hi nahi…

ہونہہ! ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں …

از۔۔۔ ابو شہیر

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ یعنی وہ دس صحابہ ؓ، جن کو دنیا ہی میں زبان رسالت ﷺ سے جنت کی بشارت عطا ہوئی ۔ان  کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا نکاح کر لیا ہے ؟

کہا: جی ہاں ۔

دریافت فرمایا: کس سے ؟

جواب دیا: ایک انصاری عورت سے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : اسے مہر کتنا دیاہے ؟

انہوں نے کہا :ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔

حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار چوٹی کے مالدار صحابہ ؓ میں ہوتا تھا۔ دولت ان پر برستی تھی ۔ مکے سے خالی ہاتھ آئے تھے لیکن جب ان کے انصاری بھائی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال ان کو پیش کیا تو انہوں نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کر لی اور دعا دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بازار کا راستہ بتا دیجئے ۔ یوں انہوں نے مدینہ منورہ میں تجارت کا آغاز کیا جو کہ بعد ازاں اتنی وسعت اختیار کر گئی کہ ان کا تجارتی مال سینکڑوں اونٹوں پر لد کر باہر جاتا اور اسی طرح باہر سے آتا ۔ تجارت کے علاوہ زراعت بھی وسیع پیمانے پر کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت کے ساتھ ساتھ دل کے بھی غنی تھے۔ اپنی دولت راہ خدا میں بے دریغ خرچ فرمایا کرتے تھے ۔ ابن اثیر کے مطابق حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو بار چالیس چالیس ہزار دینار راہ خدا میں وقف کئے ۔ ایک مرتبہ جہاد کے موقع پر پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ حاضر کئے ۔ سورۃ برأۃ کے نزول کے موقع پر چار ہزار درہم پیش کئے ۔ ایک مرتبہ اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینا ر میں فروخت کی اور یہ ساری رقم فقراء ، اہل حاجت اور امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک مرتبہ شام سے تجارتی قافلہ لوٹنے پر رسول اکرم ﷺ کا یہ قول سنا کہ عبد الرحمٰن ابن عوف ؓ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گےتو پورا قافلہ راہ خدا میں وقف کر دیا ۔ ابن سعدؒ کے مطابق ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کر کے ساری رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک اور موقع پر ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمان غنی ؓ کو فروخت کر کے وہ رقم بھی راہ خدا میں وقف کر دی ۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی میں ہزاروں غلام اور لونڈیاں آزاد کیں ۔

وفات کے وقت جو ترکہ پیچھے چھوڑا اس میں کثیر جائیداد کے علاوہ ١ ہزار اونٹ،٣ ہزار بکرياںاور سو گھوڑے چھوڑے ۔ ٢٠ اونٹ ان کی جرف کی زمينيں سيراب کرتے تھے۔ سونا اتنا تھا کہ اسے کلہاڑی سے کاٹا گيا اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں ميں آبلے پڑ گئے۔ عبدالرحمان کی ٤ بيواؤں ميں سے ہر ايک کو ٨٠ ہزار دينار ملے۔ ٥٠ ہزار ديناران کی وصيت کے مطابق مسافروں کو ديے گئے۔ جنگ بدر ميں حصہ لینے والے ہر صحابی کے ليے انھوں نے ٤٠٠ دينار کی وصيت کی تھی ، جن کی تعداد ١٠٠ تھی ۔ امہات المومنين کے ليے ایک باغ کی وصیت کی جو ٤ لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔ اپنے غلاموں ميں سے بيشتر کو انھوں نے آزاد کر ديا تھا۔ یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ    کی دولت کا مختصر سا جائزہ ہے ، جس سے بخوبی ظاہر ہے کہ وہ اپنے وقت کے کروڑ پتی آدمی تھے ۔ اتنے بڑے رئیس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا … تو اتنی سادگی سے  … کہ وقت کے نبی رسول اکرم ﷺ تک کو بھی مدعو نہیں کیا ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول پاک ﷺ سے کس قدر محبت تھی ، یہ جاننے کے لئے سیرت مبارکہ کے دو واقعات دیکھ لیتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی کفار کے نمائندے بن کر آئے تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ آپ ؐ کے وضو کا پانی تک زمین پر گرنے نہیں دیتے اور لے لے کر ہاتھوں اور چہروں پر مل لیتے ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ حضرت ام سلیم ؓ کے گھر میں آرام فرما رہے تھے ۔ گرمی کے باعث آپؐ کے جسم اطہر سے پسینہ ٹپک رہا تھا ۔ حضرت ام سلیم ؓ نے وہ پسینہ ایک بوتل نیچے رکھ دی اور پسینہ اس میں جمع ہونے لگا۔ حضور ﷺ کی آنکھ کھلی تو پوچھا کہ ام سلیم کیا کر رہی ہو۔ کہا آپ کا پسینہ مبارک جمع کر رہی ہوں۔ بعد میں جب اس پسینے کو چھڑکتیں تو پورا گھر مہک اٹھتا کہ حضور ﷺ کا پسینہ مبارک بھی معطر اور خوشبودار ہوتا تھا۔

تو رسول اللہ ﷺ سے تمام تر محبت کے باوجود حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے نکاح میں آپ ﷺ کو دعوت نہ دی ۔ بعد ازاں جب رسول اللہ ﷺ نے زرد رنگ کے نشانات دیکھے تو استفسار فرمایا کہ کیا نکاح کر لیا ہے ؟ جس کے بعد دونوں حضرات کے مابین درج بالا مکالمہ ہوا ۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعو نہ کئے جانے پر کسی قسم کی کوئی شکایت نہ کی ۔

بڑے دعوے کرتے ہیں ہم رشتہ داروں سے محبت کے ۔ لیکن جب ہمارا کوئی رشتہ دار ہمیں کسی وجہ سے اپنے ہاں کی تقریب میں مدعو نہ کرے تو ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے ؟ منہ بسور کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ناراض ہو جاتے ہیں۔ لڑ پڑتے ہیں۔ حد تو یہ کہ قطع تعلق کر بیٹھتے ہیں۔

“ہونہہ ! ہمیں تو کسی نے بلایا ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی نے اس قابل ہی نہیں سمجھا ۔ناک کٹ گئی ہماری ۔ لعنت ہو ایسی رشتہ داری پر۔  دفعہ کرو ایسے رشتہ داروں کو ۔ “

سوال یہ ہے کہ ہم اپنے رشتہ داروں سے جس قدر شدید محبت کے دعوے کیا کرتے ہیں …کیاہماری محبت اس محبت سے زیادہ … یا اس کے برابر ہے …یا ہو سکتی ہے … جو  صحابہ کرام ؓ اور رسول اللہ ﷺ نے درمیان تھی ؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہم صحابہ کرام ؓ اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے جتنے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے ہیں … کیا ہمارے گھروں کی شادیاں اتنی سادگی اور اتنی خاموشی سے ہو سکتی ہیں ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہمارا کوئی رشتہ دار سنت کی پیروی میں شادی ایسی “سادی “کر لے تو … کیا ہمارے لئے اس کا یہ عمل قابل قبول یا قابل برداشت ہوتا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنی کسی مجبوری کے تحت ہمیں مدعو نہ کرے  تو …  کیا ہمارا رد عمل سنت نبوی ﷺ سے مطابقت یا مشابہت رکھتا ہے ؟