Youm e Arafa

یوم عرفہ

یوم عرفہ

الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔

دین کی تکمیل کا دن۔۔۔

و اتممت علیکم نعمتی ۔۔۔

بندوں پر نعمت کے اتمام کا دن۔۔۔

و رضیت لکم الاسلام دینا۔۔۔

اسلام کو بندوں کے لئے دین کی حیثیت سے پسند کئے جانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

خطبہ حجۃ الوداع کا دن

یوم عرفہ

خواب کی تعبیر کا دن۔۔۔

آرزو کی تکمیل کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

پراگندہ حالوں کا دن ۔۔۔

بکھرے بالوں کا دن ۔۔۔

سفید پوشوں کا دن ۔۔۔

عرق آلود نفوس کا دن ۔۔۔

غبار آلود ملبوس کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

حج کا دن ۔۔۔

وقوف عرفات کا دن ۔۔۔

  خانہ بدوشوں کی ماننداک میدان میں ڈیرہ جمانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

لبیک اللھم لبیک کی پکار کا دن۔۔۔

دعاؤں کی تکرار کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

تکبیر کا دن ۔۔۔

تہلیل کا دن ۔۔۔

تحمید کا دن ۔۔۔

تسبیح کا دن۔۔۔

درود و سلام کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

اعتراف جرم کا دن ۔۔۔

گناہوں پر ندامت کا دن ۔۔۔

سچی توبہ کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

بدن سے نکلتے پسینے کی دھاروں کا دن۔۔۔

آنکھوں سے بہتی آبشاروں کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

بلکنے کا دن ۔۔۔

گڑگڑانے کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

دلوں کے اضطراب کا دن۔۔۔

سسکیوں اور مناجات کا دن۔۔۔

کپکپاتے لبوں پر مچلتی التجاؤں کا دن۔۔۔

دل کی گہرائیوں سے نکلی آہوں کا دن ۔۔۔

رحمت الٰہی کی متلاشی نگاہوں کا دن۔۔۔

بخشش کے حصول کے لئے پھیلائے گئے ہاتھوں کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

شیطان کی ذلت و رسوائی کا دن ۔۔۔

شیطان کی محنت کی بربادی کا دن ۔۔۔

شیطان کا اپنے سر میں خاک ڈالنے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

باری تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول فرمانے کا دن ۔۔۔

فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر فرمانے کا دن ۔۔۔

فرشتوں کو گواہ بنا کر بندوں کو معاف کرنے کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

بندوں پر انعام و اکرام کا دن۔۔۔

مغفرت کا دن ۔۔۔

بخشش کا دن ۔۔۔

جہنم سے نجات کا دن ۔۔۔

باغیوں کے لئے عام معافی کے اعلان کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا دن۔۔۔

از سر نو پیدائش کا دن۔۔۔

ایک نئے جنم کے آغاز کا دن ۔۔۔

آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کے عزم کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

حج مبرور کی صورت میں

جنت کنفرم ہو جانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

رب کو منانے کا دن ۔۔۔

رب کے مان جانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

پیچھے رہ جانے والوں کے لئے۔۔۔

حسرت و یاس کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Takheer

 تاخیر

 جیسے کوئی خواب میں اپنے تکیے کے نیچے نوٹوں کی گڈی رکھی دیکھے۔۔۔ اور آنکھ کھلنے پر تکیے کے نیچے سے واقعی نوٹوں کی گڈی بر آمد ہو جائے۔۔۔ کچھ یہی معاملہ ہوا! نومبر کے آخری ہفتے میں ایک خاندان نے قدم بڑھایا اور ۔۔۔۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے تھا

 واقعہ یہ ہے کہ نومبر کے نصف آخر میں دو خاندانوں نے مل کے عمرہ کی ادائیگی کو جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن پھر ایک خاندان کو بوجوہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرا خاندان، جسے گروپ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا شامل تھے، بھی ڈانوا ڈول ہونے لگا۔ لیکن !آتش شوق کی چنگاری تو بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اب پیچھے ہٹنا کوئی آسان تھا

طے پایا کہ خاتون اور ان کا بیٹا ہی رخت سفر باندھ لیں۔ ادھر خاتون اور ان کے میاں جی کی مشترکہ خالہ نے خاتون کے میاں جی کو “پٹی پڑھانی شروع کی “کہ موقع اچھا ہے تم بھی ہمت کر لو۔۔۔ اور بہر طور راضی کر کے ہی دم لیا۔ چنانچہ قدم بڑھا دیا گیا! شاید رحمت خداوندی انتظار میں تھی۔۔۔ کہ “میاں جی” بھی ارادہ کر لیں تو فائنل اپروول عطا کر کے معاملات آگے بڑھائے جائیں !

 سفری انتظامات کے لئے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ پاسپورٹ پہلے سے تیار تھے۔ ایک دوست کی معرفت دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوائی جہاز کی نشستیں فوری بک کرا لی گئیں۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویزہ کے لئے درخواست دی گئی۔ وقت بہت کم تھا۔ ویزے بروقت لگ جانے کے امکانات خاصے کم تھے۔ لیکن ۔۔۔ جب “بلاوا “آ جائے ۔۔۔ تو پھر کون روک سکتا ہے!

سب انتظام ہو گیا۔۔۔ اور مارکیٹ ریٹ سے کم نرخ پر ہو گیا۔ مذکورہ دوست گھر سے پاسپورٹ تصاویر اور دیگر مطلوب دستاویزات لے گیا اور جب پاسپورٹ پر ویزے لگ گئے تو پاسپورٹ ٹکٹ گھر پہنچا گیا۔ سارے کام گھر بیٹھے ہو تے چلے گئے۔ ہوم سروس ! بارگاہ الٰہی میں یوں تو سارے ہی عازمین حج و عمرہ معزز و مکرم ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ شاید کچھ زیادہ ہی “اسپیشل کیس“تھا۔ سبحان اللہ ! کیسا وی آئی پی ٹریٹمنٹ تھا۔۔۔ کیا سوئفٹ ارینجمنٹ تھا!

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے،میں اس کی طرف ایک گز بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے ، میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

 نومبر کے آخری ہفتے میں اس خاندان نے قدم بڑھایا ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو اپنی ذات اطہر کے دیدار کی صلاحیت دی ہوتی تو ۔۔۔ قدم بڑھانے والے دیکھ ہی لیتے کہ اللہ تعالیٰ کیسے دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ کیسے بھاگم بھاگ سارے انتظامات کئے۔۔۔ جب ہی تو ۔۔۔ ۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے موجود تھا!

اللہ کو نہ دیکھ سکے ہوں گے ۔۔۔ دیکھ ہی کون سکتا ہے ۔۔۔ کہ چہرے پہ جڑی آنکھوں سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہاں اگر دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی ۔۔۔ تو سارا منظر صاف صاف دیکھ ہی لیا ہو گا!۔۔۔ کہ وہی اللہ فرماتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (فصلت۔۵۳)

 ترجمہ: “ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے!”

 اور ۳ دسمبر کو جب یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہو گا ۔۔۔ تو ممکن ہے کہ ۔۔۔ بیت اللہ کی مقدس اینٹوں۔۔۔ غلاف کعبہ کے متبرک دھاگوں ۔۔۔ مسجد الحرام کے فرش میں جڑی خوش نصیب مرمریں ٹائلوں۔۔۔ حرم مکی کی دیواروں اور ستونوں۔۔۔ برقی قمقموں سے نکلتی روشنی کی کرنوں۔۔۔ آسمان سے جھانکتے چاند ستاروں۔۔۔ سر کے اوپر سے گزرتے بادلوں۔۔۔ پیروں پہ لگی گرد کے ذروں ۔۔۔ دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں ۔۔۔ اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے ۔۔۔ اس سوال کی بازگشت سنائی دی ہو ۔۔۔ جو روانگی سے قبل گھر آئے ایک مہمان نے کیا تھاکہ ۔۔۔

 “تاخیر کس کی طرف سے تھی؟”

 ہاں!ساری تاخیر ، ساری ٹال مٹول، سارے بہانے ، ساری تاویلات ہماری ہی طرف سے ہیں۔ وہاں کوئی تاخیر نہیں۔قاعدہ البتہ طے کیا جا چکا ۔۔۔ پہلا قدم بندوں نے بڑھانا ہے۔۔۔ بندوں کو ہی بڑھانا ہو گا۔۔۔ وہاں تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کسی کو شک ہے ۔۔۔ تو ایک بار قدم بڑھا کے دیکھ لے ۔۔۔ !

Zan Mureed

زن مرید

پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت کے حامل تھے۔ چہرے پہ سجی سفید داڑھی نہایت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔  پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔  اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ سخت تعجب ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا  اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے۔  بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے  کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔

حج کے بعد ایک روز میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔  کہنے لگے : چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔

ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا: میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟عرض کی : حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ  مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر رکن دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا کہ ناحق ان کو دکھی کر دیا۔ معذرت کرنےلگا ۔ کہنے لگے: نہیں میاں ! معذرت کیسی؟  بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔ پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:

میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں یوں سمجھو  اس نے اپنے دلائل سے ہمیں قائل کر کے ہی دم لیا۔ سو حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔

میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا۔۔۔ اور مان بھی گیا۔

دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم  اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔  میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔ ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔

کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی: میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کوہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی ، تنگی و وسعت  ، دکھ بیماری میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل مطلب اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے۔

میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔  تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔

اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کے گھر کی زیارت کرا دی۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ میاں اندازہ کرو کہ اس کی طلب کتنی سچی اور دھن کتنی پکی تھی! کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا  ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت  نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔

میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔  کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔

 ہمارے سب خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔

چاہو تو تم بھی کہہ لو!

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Time to remember!

Time to remember!
======================

Time to remember so many things!

Time to remember when It was Just a dream
Time to remember when it seemed but impossible!
Time to remember when the things started happening
Time to remember when it came out of nowhere!

Time to remember when you were applying
Time to remember when it was the first and the last day
Time to remember when it was Just-in-Time to pay

Time to remember when they were outnumbered
Time to remember when the situation became new
Time to remember when “they” decided for a ballot
Time to remember when THE CHANCES WERE VERY FEW!

Time to remember when the threats started building
Time to remember when the heart started sinking
Time to remember when the lips started praying
Time to remember when the keys started pressing
Time to remember when the fingers started shivering
Time to remember all this, that was happening…
When your number, you were entering!

Time to remember when the face turned white
Time to remember when the lips got dry
Time to remember when the link was connected
When the status appeared “SUCCESSFUL”, and you cry!

Time to remember when the tears started running
Time to remember when the greetings started sharing

Time to remember when you started the preparations
Time to remember when the scholars were training
Time to remember when, for the day of your departure
You were waiting… and waiting… and waiting…

Time to remember when the day had arrived
Time to remember when flying towards the destination
Time to remember when you reached
Time to remember when you ENTERED

Time to remember The Almighty, and His Mercy!
Time to remember when He was writing Your Destiny
Time to remember when He blessed you
With a Dream, which has to come true!

Congratulations!
The Day has arrived, for which
You were waiting… and waiting… and waiting…

And, for Your dream has come true
Say… Labbaik Allahumma Labbaik… 

(9th DhulHijjah, 1435H)
(Hajj 1435/2014)

Sarkar ka jalwa hy, tamasha nahi koi

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

زیارت حرمین شریفین ہر دور میں ہی مسلمانوں  کی سب سے بڑی آرزو رہی ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ حج عمرہ کو جاتے تھے تو اس حال میں کہ گناہوں پر شرمسار اور نادم ہوا کرتے تھے ۔ قدم قدم پر آنسو بہا رہے ہوتے تھے ۔ اللہ کے گھر جاتے تو سجدوں سے وہاں کے چپے چپے کو سجا دیتے ۔ ان کا گریہ آسمان کو رلا دیتا ۔ ان کی پکار عرش کو ہلا دیتی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری کو جاتے ہوئے دربار نبوی ﷺ کے آداب کے تصور سے ہی ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ۔ یہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں جاتے تو اس خیال سے کہ پیارےآقا ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گا، چہرہ کپڑے سے چھپا کر جاتے۔آواز بلند ہونا تو دور کی بات ، نگاہ تک بلند نہ ہوا کرتی ۔ حد درجہ مؤوب و محتاط۔ نتیجتاً ان کی مرادیں فوری بر آتیں۔ ان کو قبولیت کی سند نقد عطا ہو جایا کرتی ۔اور پھر یہ حرمین شریفین کے روح پرور مناظر کی تصاویر اپنے ذہن و دل میں محفوظ کئے گھروں کو واپس لوٹ آتے۔ جانے والوں کو دیکھ کر رہ جانے والے ان کے مقدر پر رشک کرتے  …اور جانے والے جب لوٹ کر آتے تو ان کے منتظر احباب ان کے گرد پروانہ وار جمع ہو کر ان سے وہاں کے قصے سنتے اور اپنی آنکھیں بھگوتے!

پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تصور کی جگہ تصویر نے لے لی۔ ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ موبائل فون اور کیمرے آ گئے۔اور حرمین شریفین سریلی گھنٹیوں ، حتیٰ کہ رومان پرور نغموں … جی ہاں رومان پرور نغموں سے گونجنے لگے ۔کیمرے کی آنکھ انسانی آنکھ سے زیادہ پیاسی ہو گئی ۔ الا ما شاء اللہ ہر فرد “پاپا رازی ” بننے پر کمربستہ ہو گیا۔ بس ہر منظر کیمرے میں محفوظ کر لیا جائے “تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے “۔ سارا وقت اسی فکر میں مبتلا کہ اس جگہ کی تصویر بنا لی جائے، اس مقام کی ویڈیو بنا لی جائے۔ حد تو یہ کہ طواف کر رہے تو منظر کشی میں مصروف …اور بارگاہ نبوی ﷺ میں سلام عرض کرنے کو جا رہے تو ویڈیو بنانے میں مصروف ۔ طواف بیت اللہ کے وقت جسمانی حالت و قلبی کیفیت کیا ہونی چاہئے تھی؟ توجہ کہاں ہونی چاہئے تھی؟ سب ایک طرف رکھ دیا۔ چلئے جناب آپ جانئے اور رب کعبہ! لیکن …وہ دربار رسالت ﷺ جس کے آداب کی بابت رب کعبہ نے قرآن اتار دیا اور کوتاہی پر سب نیک اعمال (اگر کچھ ہیں تو وہ بھی ) برباد ہونے کی وعید سنا دی ، اس دربار میں کس قدر محتاط رہنا چاہئے!

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات آیت نمبر دو میں فرمایا:

voice

اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اس آیت میں بظاہر تو صرف آواز پست کرنے کا حکم ہے ، تاہم اگر اس آیت کی تفسیر کا جائزہ لیا جائے تو بات کی گئی ہے حضور ﷺ سے محبت کی ،آپ ﷺ کی تعظیم و احترام کی ، آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع  کی ، آپ ﷺ کی ذات مبارک سے مکمل قلبی و جذباتی وابستگی کی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کے روبرو مؤدب ہو جاؤ۔ اگر خدانخواستہ حضور ﷺ کی تعظیم اور احترام میں کسی بھی پہلو سے کوئی فرو گذاشت ہو گئی اگرچہ لا علمی میں ہی ہوئی ہو (اور ظاہر ہے کہ جانتے بوجھتے تو کوئی مسلمان سے ایسے کسی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتا ) تو سب کیا کرایا برباد ہو جانے کی وعید ہے ۔

اسی ادب و تعظیم کو چند شعراء نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا :

؎ نظروں کو جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاؤ

بےتاب نگاہی بھی یہاں بے ادبی ہے

؎            اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

روضہ مبارک پر حاضری کے وقت اسی طرح فوٹوگرافی میں مشغول ایک صاحب کی خدمت میں مذکورہ بالا اشعار پیش کئے تو بولےکہ “شاعر کا قول ہے ، کوئی حدیث تھوڑی ہے “۔ درست فرمایا۔ چلیئے بھائی آپ کوئی حدیث لا دیجئے کہ جس میں دربار رسالت ﷺ میں حاضری کے وقت فوٹوگرافی کی “اس قدر تاکید “آئی ہو؟

ابھی گزشتہ دنوں ایک سعودی ٹی وی چینل، جو کہ مسجد نبوی ﷺ کے مناظر براہ راست نشر کرتا ہے ، پر یہ منظر دیکھا کہ سنہری جالیوں کے روبرو بیشتر افراد موبائل اور ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے تصاویر اور مووی بنانے میں مصروف تھے۔ اور ایک منچلے نے تو  موبائل سے اپنی سیلفی selfie  (سیلف پورٹریٹ) بنانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔خود ہی بتائیے کیا یہی تقاضے ہیں اس دربار عالی میں حاضری کے ؟

ایک حدیث میں آیا ہے کہ کہ قیامت کے قریب میری امت کے امیر لوگ تو حج محض سیرو تفریح کے ارادہ سے کریں گے ۔۔۔ اور میری امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا۔۔۔ اور علماءریاوشہرت کی وجہ سے حج کریں گے ۔۔۔اور غربا بھیک مانگنے کی غرض سے جائیں گے۔  (کنزالعمال)

غور فرمائیے! حجاج کے جن چار طبقات کا ذکر کیا گیا ہے کیا وہ چاروں ہی آج نظر نہیں آ رہے؟ خاص کر اول الذکر طبقہ … کہ جیسے لندن پیرس کی سیر و تفریح کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف ، ایسے ہی حرمین شریفین کی حاضری کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف۔ سیر و تفریح کے انداز میں حج و عمرہ ادا کرنے والے گروہ کو قرب قیامت کی نشانی بتایا گیا تو کیا احتیاط لازم نہیں؟ کم سے کم طواف بیت اللہ کے دوران اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت تو فوٹو گرافی سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ یوں بھی ہر ہر مقام کی بلا مبالغہ ہزارہا تصاویر پہلے ہی موجود ہیں۔

Qaid Khana

قید خانہ

از۔۔۔ ابو شہیر

یہ 2009 ء کی بات ہے کہ پاکستان سے کچھ زائرین زیارت بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے حجاز مقدس پہنچے۔ جدہ ایئر پورٹ پر ان کی تلاشی لی گئی تو ان کے پاس سے منشیات کے پیکٹ برآمد ہوئے جو کہ کمال ہوشیاری سے ان کی چپلوں کے اندر چھپائے گئے تھے ۔ ان زائرین میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی تھا جو کہ اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز اس مبارک سفر سے کر رہا تھا ۔ زیارت بیت اللہ کے پر کیف تصورات میں ڈوبے اس جوڑے کو اندازہ ہی نہ تھا کہ ان کے ساتھ اس سفر میں کیا ہونے والا ہے۔ چنانچہ جدہ ایئر پورٹ پر سعودی قوانین کے مطابق منشیات برآمد کرنے کے جرم میں انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ۔ اور پھر تفتیش کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا  جو کہ عرصہ چار ماہ پر محیط ہے ۔

تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ چپل میں منشیات چھپانے کے مذموم فعل میں ٹریول ایجنٹ ملوث تھا اور زائرین قطعی بے قصور تھے ۔ چنانچہ پورے ملک کے عوام ان کے حق میں دعائیں کرنے لگے ۔ رمضان المبارک میں مساجد میں خصوصی دعائیں ہوئیں۔مساجد  میں بیٹھے معتکفین نے ان زائرین کے حق میں دست دعا بلند کیا ۔ یہاں تک کہ عوام نے منتیں مان لیں کہ یہ زائرین بخیر و عافیت واپس آ گئے تو ہم یہ کریں گے  ، ہم وہ کریں گے۔

نوبیاہتا جوڑے کی تربیت چونکہ دینی ماحول میں ہوئی تھی چنانچہ ادھر قید خانہ میں وہ بھی صرف ذات باری تعالیٰ ہی کی جانب متوجہ اور مناجات میں مشغول رہا ۔دل میں یہ یقین بسا ہوا تھا کہ ہم تو اللہ کے مہمان بن کر آئے ہیں۔ اور فقط بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت مقصود تھی ۔  نہ تو ہم نے کوئی غلط کام کیا نہ ہی ایسی کوئی نیت تھی ۔ تو اللہ ہمارے لئے کافی ہے ۔

بالآخر حکومتی سطح پر اس کیس کا نوٹس لیا گیا اور پاکستان اور سعودی وزرائے داخلہ کے درمیان مذاکرات ہوئے ۔ سعودی حکام بھی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ملزمان بے قصور ہیں اور انہیں جعلسازی کے ذریعے پھنسایا گیا ہے ۔ چنانچہ وہ ساعت سعید آن پہنچی کہ جس کا اہل خانہ و اہل وطن کو انتظار تھااور سعودی وزیر داخلہ نے ان کی رہائی کے احکامات جاری فرمائے ۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ان ملزمان کی حیثیت تبدیل ہو گئی اور اب انہیں شاہی مہمان کا درجہ حاصل ہو گیا ۔ نہایت اعزاز و تکریم کے ساتھ انہیں جیل سے نکالا گیا اور حرم مکی کے نہایت قریب ایک نہایت پر آسائش ہوٹل میں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا ۔ ہوٹل کی اس پوری منزل پر فقط یہی لوگ قیام پزیر تھے۔ سترہ فوجی افسران ان کی حفاظت پر مامور کئے گئے ۔ اگلے روز عمرہ کی ادائیگی اس شان سے کرائی گئی کہ فوجی افسران کےپہرے میں بیت اللہ کی دیوار کے بالکل ساتھ انہیں طواف کرایا گیا ۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد اگلی خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے آقائے نامدار سرور کونین ﷺ کی خدمت اقدس میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے واسطے مدینہ منورہ جانے کی خواہش ظاہر کی ۔

چنانچہ انتہائی جدید اور شاندار گاڑیوں کا پورا بیڑہ ان مہمانوں کو مکہ مکرمہ سے لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوا ۔ جہاں ان کو روضہ مبارک پر حاضری کے علاوہ وہ مخصوص زیارات بھی کروائی گئیں جن کا عام عازمین حج و عمرہ محض تصور ہی کر سکتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان کو مکہ مکرمہ لایا گیا جہاں انہوں نے اسی شان سے ایک اور عمرہ ادا کیا۔ پھر ان کو بازار لے جایا گیا کہ کچھ شاپنگ کر لیجئے۔ انہوں نے لاکھ بچنا چاہا کہ جی ہمیں کوئی حاجت نہیں لیکن ادھر سرکاری حکام کا اصرار کہ آپ ازراہ کرم کچھ شاپنگ کر لیں ورنہ ہماری کھنچائی ہو جائے گی ۔ چنانچہ انہوں نے کچھ شاپنگ کی ۔ پھر واپسی کا سفر شروع ہوا تو ایئر پورٹ پر اعلیٰ سعودی حکام انہیں رخصت کرنے کے لئے موجود تھے جہاں انہیں خصوصی طیارے میں سوار کرایا گیا ۔ تحائف پیش کئے گئے جن میں آب زم زم اور انتہائی اعلیٰ قسم کی عجوہ کھجوروں کی وافر مقدار شامل تھی۔

پھر جس وقت یہ عمرہ زائرین اسلام آباد کے چکلالہ ایئر بیس پر اترے تو اعلیٰ پاکستانی حکام نے ان کا استقبال کیا ۔ ادھر ان کے والدین اور اہل خانہ کو بھی کراچی سے اسلام آباد لایا جا چکا تھا ۔ ایئر پورٹ پر والدین ، اہل خانہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد مسلح پہرے داروں کے جلو میں ان کو قافلے کی شکل میں وزیر اعظم ہاؤس لے جایا گیا اور وزیر اعظم پاکستان سے ان کی ملاقات کرائی گئی ۔ خاطر مدارات کی گئی ، تحائف پیش کئے گئے ۔

یہاں سے رخصت ہونے کے بعد اس قافلے کی اگلی منزل ایوان صدر تھی ۔ جہاں صدر پاکستان نے ان سے ملاقات کی اور مبارکباد دی ۔ ایوان صدر میں بھی تواضع کی گئی اور صدر پاکستان کی جانب سے تحائف پیش کئے گئے۔ نیز صدر پاکستان نے ان سے ان کے روزگار کے حوالے سے بھی معلومات کی اور ان کے لئے مختلف سرکاری اداروں میں تقرری کے احکامات جاری کئے ۔

صدر پاکستان سے ملاقات کے بعد ان عمرہ زائرین کو بمعہ اہل خانہ پاک فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعہ کراچی لایا گیا جہاں ان کے استقبال کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے ۔ جنہوں نے ان کو مبارکباد دینے کے بعد بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچانے کے احکامات جاری کئے اور یوں مسلح پہرے داروں کی حفاظت میں یہ لوگ بالآخر اپنے گھر پہنچے۔

یہ ساری روداد ہمیں رئیس احمد صاحب نے سنائی جن کی بیٹی اور داماد کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ۔ رئیس بھائی یہ روداد سنا رہے تھے اور ہمارے ذہن میں یوم محشر کے مناظر کا تصور ابھر رہا تھا ۔

سورۃ الحآقۃ میں اللہ تعالیٰ نے یوم محشر کا منظر اس طرح بیان فرمایا ہے۔

فَأَمَّا مَنۡ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُ ۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَـٰبِيَهۡ (١٩) إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـٰقٍ حِسَابِيَهۡ (٢٠) فَهُوَ فِى عِيشَةٍ۬ رَّاضِيَةٍ۬ (٢١) فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍ۬ (٢٢) قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ۬ (٢٣) كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِى ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ (٢٤)

تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے (۱۹) مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا (۲۰) پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا (۲۱) (یعنی) اونچے (اونچے محلوں) کے باغ میں (۲۲)جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے (۲۳) جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو (۲۴)

یہ گویا ایک اعلان ہو گا بارگاہ الٰہی سے کہ فلاں شخص بے گناہ ہے ، اس کو باعزت بری کر دیا جائے ۔ اس اعلان کے ہوتے ہی اس شخص کو شاہی مہمان کا درجہ مل جائے گا۔ اسے شاہی مہمان خانے میں ٹھہرایا جائے گا جہاں وہ اس عیش و آرام میں ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سورۃ الدھر میں اس مہمان نوازی کا نقشہ یوں بیان کیا گیا ہے۔

فَوَقَٮٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٲلِكَ ٱلۡيَوۡمِ وَلَقَّٮٰهُمۡ نَضۡرَةً۬ وَسُرُورً۬ا (١١) وَجَزَٮٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةً۬ وَحَرِيرً۬ا (١٢) مُّتَّكِـِٔينَ فِيہَا عَلَى ٱلۡأَرَآٮِٕكِ‌ۖ لَا يَرَوۡنَ فِيہَا شَمۡسً۬ا وَلَا زَمۡهَرِيرً۬ا (١٣) وَدَانِيَةً عَلَيۡہِمۡ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوفُهَا تَذۡلِيلاً۬ (١٤) وَيُطَافُ عَلَيۡہِم بِـَٔانِيَةٍ۬ مِّن فِضَّةٍ۬ وَأَكۡوَابٍ۬ كَانَتۡ قَوَارِيرَا۟ (١٥) قَوَارِيرَاْ مِن فِضَّةٍ۬ قَدَّرُوهَا تَقۡدِيرً۬ا (١٦) وَيُسۡقَوۡنَ فِيہَا كَأۡسً۬ا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلاً (١٧) عَيۡنً۬ا فِيہَا تُسَمَّىٰ سَلۡسَبِيلاً۬ (١٨) ۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡہِمۡ وِلۡدَٲنٌ۬ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤً۬ا مَّنثُورً۬ا (١٩) وَإِذَا رَأَيۡتَ ثَمَّ رَأَيۡتَ نَعِيمً۬ا وَمُلۡكً۬ا كَبِيرًا (٢٠)عَـٰلِيَہُمۡ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضۡرٌ۬ وَإِسۡتَبۡرَقٌ۬‌ۖ وَحُلُّوٓاْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ۬

تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا (۱۱) اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کرے گا (۱۲) ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت (۱۳) ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے (۱۴) خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس (۱۵) اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں (۱۶) اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی (۱۷) یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے (۱۸) اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں (۱۹) اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے (۲۰)ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے …

اس کے بعد اعلیٰ شخصیات یعنی انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام ؓ سے ملاقاتیں ، ساقیٔ کوثر ﷺ کی زیارت ، اور آپ ﷺ کے دست مبارک سے جام کوثر پیش کئے جانے کا اعزاز، اور پھر صدر کائنات اللہ رب العزت کا دیدار اور دست الٰہی سے شراب طہور پیش کئے جانے کا اعزاز۔۔۔ اللہ اکبر۔

وَسَقَٮٰهُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابً۬ا طَهُورًا (٢١) إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمۡ جَزَآءً۬ وَكَانَ سَعۡيُكُم مَّشۡكُورًا (٢٢)

اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا (۲۱)یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی (۲۲)

بس ایک بے گناہی ثابت کرنی ہے ۔ اور یہ اسی وقت ثابت ہو سکے گی جبکہ دنیوی زندگی گناہوں سے بچ بچ کر گزاری جائے ۔

حدیث مبارکہ ہے:

“اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَه’ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْت، وَ الْعَاجِزُ مَنْ اَتْبَعَ هَوَاهَا وَ تَمَنّیٰ علی اللہ.” (الترمذی)

“عقلمند وه ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکهے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئےعمل کرے … اور نادان وه ہے جو اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرے اور اس کے باوجود الله سے امیدیں باندهتا رہے.”

اور ایک اور حدیث مبارکہ ہے:

الدنیا سجن المؤمن و جنۃ الکافر

دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔

قید خانے میں بھلا اپنی مرضی کہاں چلتی ہے! سو اگر ہم بھی اس دنیاوی زندگی کو ایسے گذار پائیں جیسے اللہ کے ان دو بندوں نے اپنی قید کے دن گذارے، تو ان شاء اللہ آخرت میں عیش ہی عیش، مزے ہی مزے۔

Labbaik Allahumma Labbaik…

Labbaik Allahumma Labbaik

Abu-Shaheer

Hajj is the fifth pillar of Islam. It’s a combination of both physical and financial modes of prayer. It’s a religious duty that must be carried out at least once in their lifetime by every able-bodied Muslim who can afford to do so. See the verse below.

و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ۔ و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین

And (due) to Allah from the people is a pilgrimage to the House- for whoever is able to find thereto a way. But whoever disbelieves- then indeed, Allah is free from the need of the worlds. (Aal-e-Imran-97)

Allah has blessed us with everything. See! He almighty created the world before He sent us here. He almighty has blessed us with countless things which we could never know we needed. He blessed us with true belief, health, wealth, spouse, children, vehicles, house, servants, etc.

Subhanallah! Allah almighty; Our Lord; The one; like Whom there’s none; He who introduces himself to us as As-Samad, Al-Ghani; He who doesn’t need anyone and everyone needs Him; He who that if everyone became disobedient to Him wouldn’t harm Him and if everyone became the most obedient couldn’t benefit Him, He hasn’t asked for much, just a visit to His Holy House, a small journey in a whole lifetime, not from everyone, just a handful Muslims from around the globe every year. Now think in the light of the above verse of Quran and ask yourself, “Isn’t it His right to perform pilgrimage of His house, the Ka’abah?” Surely it is!

Those who come to understand the point scream out with utter humility:

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

(Labbaik! Allahumma Labbaik! Labbaika La Sharika Laka Labbaik! Innal-Hamda wan-ne’mata Laka wal-mulk La Sharika lak.)

Meaning: “Here I am at Your service O Allah, here I am. Here I am at Your service, You have no partner, here I am at Your service. For You alone is All Praise and All Grace, and for You alone is The Sovereignty. You have no partner.”

Yes! These beautiful words are the anthem of Hajj. The song of Hajj. The chant of Hajj. The essence of Hajj.

O ye the honorable guest of Allah!

Ever realized what do these words mean? Ever realized what spirit should reflect from these words? It doesn’t need a philosophical answer. In short, these words force the person to give up his own wills and wishes; these words imply a person to be in a state of complete, unconditional obedience to his Creator.

If Allah says: O My slave! Are you ready to perform Hajj?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah says: It’s an exalted job. It requires absolute purity… pure funds and pure intentions. Do you have it?

The servant replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: O My slave! I know that you love your wealth. Ponder, you’ll have to spend a lot, is that fine?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah says: See… you love your home and your spouse and your children… Are you ready to leave them for Me?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: See… A lot of exertion and fatigue is in store ahead… you might get proper rest… you will have to walk a lot… surely you will get tired. Want to come?

The salve replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: See… You have to face dust and storms… and extreme weather…

The slave replies: My Lord! I seek refuge with You from the heat of the day of judgement… Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Ok! Then relinquish your dress and wear two sheets, and make intention for Umrah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cut your hair and nails, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Avoid perfumes and fragrances, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cover your head, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cover your foot but a part of it, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slaves! Don’t do any sexual acts with your spouse, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t even talk about it nor touch each other with this intention, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Avoid any acts of sins…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t quarrel or fight with other people…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Remember! These are the boundaries of My Haram… Respect them. Don’t pluck any leaves or grass, don’t kill anything,not even lice, neither hunt game nor assist that…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do IDHTABA’(اضطباع), let your right shoulder be naked…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Kiss the black stone i.e. Hajr-e-Aswad…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک …Your Prophet ﷺ kissed that stone… If you’d be happy I am ready to do it in order to obey Your orders and to follow the Prophet’s Sunnah…*1

If Allah orders: Now perform the TAWAF (Circumambulations) of My House…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Do RAMAL (walk in the wrestlers’ style) in the first three rounds, and complete the last four rounds in the normal walking style.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now cover your shoulder and approach the Multazam (the door of Ka’abah).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah orders: Offer the obligatory prayers of Tawaf (Wajib-ul-Tawaf) behind the Maqam-e-Ibrahim.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now drink Zam-Zam water.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now offer Sa’ee (Running) between Safa and Marwah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: While offering Sa’ee, make a run between the green pillars (Meelain Akhdharain).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now do the Halq or Qasr (sacrifice your hair)

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now you can wear your normal dress.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now go to Madina and say Salam to the Holy Prophet ﷺ.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی۔۔۔ … Lower your voice. Don’t talk loudly over there.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Go back to Makkah and offer Umrah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

Then on the 8th of Zil-Hajj, if Allah orders: Wear the Ahram for Hajj, and leave for Mina, and try to reach there before noon (Zohr).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 9th of Zil-Hajj, try to reach Arafat before noon.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Offer the Zohr and Asar prayers jointly.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: After sunset, go towards Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t offer Maghrib Prayers (although the time of Maghrib prayers has started).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: When you reach Muzdalifa, and when the Isha time starts, offer Maghrib and Isha Prayers jointly.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah orders: You have to stay for the rest of the night under the sky in Muzdalifa. You will feel cold. You will have to bear the dust. You may have to sacrifice sleep.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Pick the stones for Rami from Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the morning of 10th Zil-Hajj, stay for a while after Fajr Prayers in order to offer Wuquf-e-Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now return to Mina.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Go for Rami and throw 7 stones at the Big Shaitan (Jamra ‘Uqba?) only. *2

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now slaughter an animal.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now do the Halq or Qasr.

The slave replies: O My LORD! You want me to sacrifice my hair… today I am ready to sacrifice my life for You… Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now wear your normal dress.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: My slaves! You still can’t make any sexual acts with your spouse before Tawaf-e-Ziyarah.

The slaves reply: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now offer Tawaf-e-Ziyarah, and make Sa’ee between Safa and Marwah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 11th of Zil-Hajj, perform Rami of all the three Shaitans (Jamrat).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 12th of Zil-Hajj, perform Rami of all the three Shaitans (Jamrat).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slaves! You have done whatever I asked of you. Now it’s My turn. I pledge to forgive all your sins and mistakes, no matter if they are as many as the particles of dust, or the leaves of the trees, or the drops of oceans.

The slaves scream with joy: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slave! See… I have purified you from all the sins… Don’t ever disobey Me from hereinafter. Ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: One last thing! Offer the obligatory Tawaf-e-Wida.

And the slave moans as the time has arrived to leave the Holy Ka’abah.

In a state of grief and sorrow, the slave still replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: I know your feelings. Don’t feel sad that you have to leave My House. See! I am with you everywhere.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slave! Don’t feel sad. I had promised you through the tongue of My Prophet ﷺ that

“There is no reward for Hajj-e-Mabrur (an accepted and approved Hajj) but Jannah.”

Trust Me and My Prophet ﷺ, that the Jannah is waiting for you, and you will surely enter that very soon.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

And when the day arrives, as the slave breathes his last… If Allah says:

یا ایتھا النفس المطئنۃ۔۔۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔۔۔ فادخلی فی عبادی۔۔ وادخلی جنتی۔۔۔

O reassured soul! Return to your Lord, well-pleased and pleasing (to Him), and enter amongst My (righteous) servants, and enter My paradise. (Al-Fajr… 27-30)

The slave, on receiving the permit of Jannah, screams with joy:

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

(Labbaik! Allahumma Labbaik! Labbaika La Sharika Laka Labbaik! Innal-Hamda wan-ne’mata Laka wal-mulk La Sharika lak.)

“Here I am at Your service O Allah, here I am. Here I am at Your service, You have no partner, here I am at Your service. For You alone is All Praise and All Grace, and for You alone is The Sovereignty. You have no partner.”

*1. According to Fiqh Hanafi, the Haji should stop calling the Talbiyah (Labbaik) before starting the Tawaf of Umrah. So the Talbiyah should be stopped, but the spirit (of submission to Allah) should be continued!

*2. According to Fiqh Hanafi, the Haji should stop calling the Talbiyah (Labbaik) before Rami (stoning of Big Shaitan on 10th Zilhaj). So the Talbiyah should be stopped, but the spirit (of submission to Allah) should be continued!