Tauba

توبہ

ابو شہیر

توبہ کے چند ایمان افروز واقعات ملاحظہ کیجئے ۔

پہلا واقعہ گزشتہ امت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کے ایک نوجوان کا ہے جو کہ بڑا نافرمان تھا۔ اتنا کہ شہر والوں نے بیزار ہو کر اسے شہر بدر کر دیا۔ چلتے چلتے وہ ایک ویرانے میں جا پہنچا ۔ حالات کی تنگی اس پر آ پڑی ۔ کھانا پینا ختم ہوا ۔ پھر بیماری نے آ لیا ۔ یہاں تک کہ مرض الموت میں گرفتار ہوا۔ ایسے میں اس نے اللہ کو پکارا: اے وہ ذات جو معاف کرے تو گھٹتا نہیں اور عذاب دے تو بڑھتا نہیں۔ اے اللہ ! اگر مجھے معاف کرنے سے تیرے ملک میں کوئی کمی آتی ہو یا مجھے عذاب دینے سے تیری سلطنت میں اضافہ ہو تو پھر میرا کوئی سوال نہیں۔ اے میرے رب ساری عمر تیری نافرمانی میں کٹ گئی آج تک کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ ۔۔اے میرے رب میرا آج کوئی سنگی ساتھی نہیں رہا، میرا آج تیرے سوا کوئی سہارا نہیں رہا۔سب ناتے رشتے ٹوٹ گئے۔ آج میرے جسم نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ تُو مجھے اکیلا نہ چھوڑ۔۔ تو مجھے معاف فرما دے۔۔اے میرے رب مجھے معاف فرما دےکہ میں نے تیرے بارے میں سنا ہے کہ تو غفور الرحیم ہے۔ اسی حال میں اس کی جان نکل گئی۔

موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی : اے موسیٰ! میرا ایک دوست فلاں جنگل میں مر گیا ہے اس کےغسل کا انتظام کرو۔اس کا جنازہ پڑھواور لوگوں میں اعلان کردو کہ آج جو شخص اس کا جنازہ پڑھے گا اس کی بخشش کر دی جائے گی۔چناچہ موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کروا دیا۔ لوگ بھاگے جنگل کی طرف کہ دیکھیں کون اللہ کا دوست مر گیا۔۔۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے جسے لوگوں نے شہر سے نکال دیا تھا۔وہ موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے اے موسیٰ علیہ السلام یہ تو بہت گناہ گار شخص تھا ۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا دوست ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دریافت کیا: اے اللہ ! یہ تو گناہ گار شخص تھا ہماری نظر میں ۔ آخر اس میں ایسی کون سی بات تھی کہ یہ تیرا دوست بن گیا!!

اللہ تعالی نے فرمایا ۔اے موسیٰ! یہ واقعی ایسا ہی تھا جیسا آپ لوگ کہہ رہے ہیں۔ میں نے اسے دیکھا کہ یہ ذلیل ہو کر،فقیر ہو کر تنہاہی میں مر رہا ہے۔ آج اس کا کوئی دوست یار نہیں تھا۔کوئی اس کی پکار سُننے ولا تھا نہ ہی اس کی پکار کا جواب دینے والا۔۔ پھر اس نے مجھے پکارا ۔ تم ہی بتاؤ کہ کیا میری غیرت یہ گوارا کر سکتی تھی کہ میں بھی اس کی پکار کو نہ سنوں؟  مجھے میری عزت کی قسم! اگر وہ اس وقت پوری انسانیت کی بخشش کی دعا مانگتا تو میں سب کو معاف فرما دیتا ۔

دوسرا واقعہ دور نبوی ﷺ کی ایک عورت کا ہے جس سے زنا سرزد ہو گیا۔ صحیح مسلم میں حضرت سيدنا عمران بن حصين سے روايت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ايک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئی،اسے زنا کا حمل تھا ۔وہ عرض کرنے لگی: ”يارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ميں وہ کام (یعنی زنا)کر بيٹھی ہوں جس پر حد واجب ہوتی ہے ،آپ مجھ پر حد قائم فرما ديں ۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر ارشاد فرمايا:”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب وضع حمل ہو جائے تو اسے ميرے پاس لے آنا ۔” پھر ايساہی ہوا (یعنی وضع حمل کے بعد ولی اسے لے کر حاضر خدمت ہو گيا )تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ديا کہ اسے اس کے کپڑوں کے ساتھ باندھ د ياجائے۔(تاکہ ستر نہ کھلے)۔ پھراسے رجم کر ديا گيا ۔

بعد ازاں سرکار دو عالم ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو حضرت سيدنا عمر فاروق عرض گزار ہوئے:”يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھ دی حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کيا تھا ؟”اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا:”يقينا اس نے ايسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی يہ توبہ اہل مدينہ کے سترافراد پر تقسيم کر دی جائے تو انہيں بھی کافی ہو جائے (یعنی ان کی مغفرت ہو جائے)اور تو نے اس سے افضل کوئی توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر قربان کر دی۔”

تیسرا واقعہ امت مسلمہ کے ابتدائی دور کے ایک بزرگ کا ہے جن کا نام ہے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ ۔ جو کہ بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان تلاوت قرآن مجید میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی:

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ 

ترجمہ: جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ، کیا ان کے لئے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور جو حق اترا ہے ، اس کے لئے پسیج جائیں؟

جونہی یہ آیت ان کی سماعت سے ٹکرائی توخشیت الٰہی سے تھر تھر کانپنے لگے اور بے اختیار منہ سے نکلا: آگیا ۔ میرے رب ! اب اس کا وقت آ گیا۔  چنانچہ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور ایک سنسان کھنڈر نما مکان میں جا بیٹھے ۔ اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر آپ نے سچی توبہ کی اور توبہ کی پختگی کی خاطر ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی بیت اللہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاروں گا۔ وہاں علم حدیث پڑھنا شروع کیا ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے بلند پایہ محدث بنے ۔

گناہگاروں کی توبہ کے ایسے بے شمار واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ماضی قریب میں دیکھا جائے تو مشہور پاکستانی کرکٹرز جو کہ گلیمر کی دنیا میں ڈوبے ہوئے تھے ، ان کے رجوع الی اللہ کے واقعات بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ایک اہم ترین واقعہ مشہور گلوکار جنید جمشید کا ہے جس نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود گانا بجانا چھوڑ کر اللہ سے تعلق جوڑ لیا ۔ آج اللہ نے اسے دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

یہ تمام واقعات ذکر کرنے کا سبب یہ ہے کہ آج ایک اور بھٹکی ہوئی لڑکی اپنے  کئے پر نادم و تائب ہو کر راہ ہدایت کی جانب لوٹ رہی ہے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یقیناً اس سے ماضی میں کچھ ایسے کام ہوئے ہیں جو صرف اسی کے لئے نہیں بلکہ ملک و ملت کے لئے بھی رسوائی و شرمندگی کا باعث بنے لیکن آج جبکہ وہ توبہ کر رہی ہے تو اس کی تضحیک چہ معنی دارد۔ میڈیا بھی عجیب ہے کہ جب وہ تاریک راہوں میں بھٹک رہی تھی تو بھی اس پر لعن طعن کی جا رہی تھی اور اب جبکہ وہ روشنیوں کی سمت چل پڑی ہے تو “نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی “ ایسے محاورے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ وہ ان دنوں مالک ارض و سماوات سے اپنا رشتہ استوار بلکہ مستحکم کرنے کی غرض سے اس کے در کی چوکھٹ پر جا بیٹھی ہے ۔ کیا خبر اس کی توبہ اسے کون سی ارفع منازل طے کرا دے ۔ کون جانے کہ وہ رابعہ بصری کے برابر جا کھڑی ہو! اللہ کی اللہ ہی جانے ۔ کہیں نوح و لوط علیہم السلام جیسے انبیاء کی بیویاں جہنم کا ایندھن بن رہی ہیں  تو کہیں فرعون جیسے دشمن دین کی بیوی آسیہ اسلام قبول کر کے جنت میں ختم المرسلین ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل کر رہی ہیں۔ کہیں نبی ﷺ کا سردار چچا ابو لہب جہنم کے پست ترین درجات میں گر رہا ہے تو کہیں بلال رضی اللہ عنہ جیسا غلام ابن غلام حضور ﷺ کی سواری کی لگام پکڑے جنت میں داخل ہو رہا ہے ۔  قرآن نے کلیہ بتا دیا ہے  کہ

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ 

اللہ کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ ڈرنے والا ہے۔

مذاق اڑانے والوں کو اس حدیث مبارکہ کا بھی مطالعہ کر لینا چاہئے:

إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ

بندہ دوزخیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ، (اسی طرح دوسرا) بندہ جنتیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے ،

بلاشبہ اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے ۔

 ایسے میں دعا کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ سو آئیے دعا کریں! اس کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی۔کہ اللہ اسے بھی معاف فرمائے اور ہمیں بھی ۔ اللہ اسے بھی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں بھی ۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ، اپنی رضا پر فرمائے۔ آمین۔