Behaviors & Attitudes, Sahaba kay Waqiat, Social, Uncategorized, پاکستان, اخلاقیات, اسلام, حسن سلوک

Qatra Qatra Darya

قطرہ قطرہ دریا

“دس روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ?”

“ہرگز نہیں…”

“مرضی ہے آپ کی… ورنہ اس سے زیادہ ہی پھینک دیتا ہے ہر کوئی… کبھی ہفتے میں… کبھی مہینے میں… وہ بھی جانتے بوجھتے…”

“کوئی نہیں… جانتے بوجھتے کون پھینکے گا بھلا?”

“پھینکتے ہیں جناب… آپ بھی پھینکتے ہیں… آپ نے بھی بارہا پھینکے ہیں…”

“کب پھینکے میں نے?”

“تین روپے تو ابھی چند منٹ پہلے پھینک کے آ رہے ہیں آپ!”

“ہیں! کہاں?”

“سی این جی بھروائی تھی ناں ابھی آپ نے اپنی گاڑی میں? چار سو سینتیس روپے کی سی این جی آئی تھی… سی این جی پمپ والے نے چار سو چالیس روپے لیے… آپ نے بھی اعتراض کیا نہ تین روپے واپسی کا تقاضا… تین روپے پھینکے آپ نے جانتے بوجھتے کہ نہیں?”

“اوہ… اچھا… ہاں…”

“اور ایسا آپ ہر دوسرے دن کر رہے ہوتے ہیں… کبھی روپیہ کبھی دو روپے کبھی تین روپے… ہفتے دو ہفتے میں دس بیس روپے صرف سی این جی اسٹیشن پر  پھینک دیئے…”

“ہاں یار یہ تو کبھی خیال ہی نہیں کیا میں نے… “

“جی بھائی صاحب! کوئی خیال نہیں کرتا…
اور یاد دلائوں! وہ پرسوں پلے روز جو آپ کے ماموں نے ریمیٹنس بھیجی تھی امریکہ سے 23 ہزار بتیس روپے… کیشئر نے آپ کو کتنے دیئے?”

“23 ہزار تیس روپے…”

“دو روپے وہاں بینک میں پھینک آئے آپ…”

“ٹھیک کہہ رہے ہو بھائی!”

“جی جناب ہم لوگ خیال نہیں کرتے ورنہ جوتا لینے جائیے تو قیمت 2499 روپے… دیئے کتنے? 2500… چپل 799 کی, دیئے 800… موبائل کارڈ 599 کا, دوکاندار نے وصول لیے 600…”

“اوہ بھائی یہ کیا گورکھ دھندہ لے بیٹھے… واقعی کتنے پیسے پھینک دیتے ہیں ہم… کبھی غور ہی نہیں کیا!”

“جی ی ی ی! اب بتائیے دس  روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ? جانتے بوجھتے?”

“مگر کہاں?”

“چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں!”

“دس روپے سے کیا ہو گا?”

“کیوں نہیں ہو گا… ایک چھٹانک لوہا تو آ ہی جائے گا… یا دس بیس گرام سیمنٹ… یا ایک مٹھی بجری… یا ڈیم پر کام کرنے والے مزدور کی ایک روٹی… کچھ نہ کچھ تو ہو رہے گا… قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے… دیکھئے ۲۲ کروڑ کی آبادی ہے پاکستان کی۔۔۔ اگر ہر فرد دس روپے  روز بھی دے ناں ڈیم فنڈ میں ۔۔۔ تو ایک دن میں دو سو بیس کروڑ روپے جمع ہو سکتے ہیں، یعنی دو ارب بیس کروڑ روپے۔۔۔ دس دن میں بائیس ارب، اور سو دن میں دو سو بیس ارب روپے۔۔۔ یوں ہم سب پاکستانی مل کے  سال بھر میں آٹھ سو ارب روپے جمع کر سکتے ہیں  “

“مگر ان لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں… لے کے ڈکار جائیں…”

“تو آپ کی کون سی قرقی ہو جانی ہے دس روپے سے… آپ نیک نیتی سے دے دیجئے… سوچئیے اگر واقعی ڈیم بن گیا تو… نسلیں دعائیں دیں گی ان شآء اللہ… صدقہ جاریہ ہے صدقہ جاریہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق موٴمن کے عمل اور اس کی نیکیوں میں سے جس کا ثواب موٴمن کو اس کے مرنے کے بعد پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک ہے نہر جاری کرنا… اسی طرح ایک مرتبہ ایک صحابیؓ کے دریافت کرنے پر کہ کون سا صدقہ افضل ہے… اپؐ نے فرمایا: پانی پلانا.”

“سبحان اللہ!”

“دیکھئے اللہ تعالی نے ہمیں فقط کوشش کرنے کو کہا ہے… نتائج نہیں مانگے… آپ اخلاص کے ساتھ دے دیجئے… اپنے حصے کا ثواب جھپٹ لیجئے… آپ کی قبر میں ان شآء اللہ سیلاب آ جائے گا اجر و ثواب کا, سیلاب… بڑا نادر موقع ہے اور بہت معمولی رقم… چلیں اپنا موبائل نکالئے اور DAM لکھ کر 8000 پر میسج بھیج دیجئے… اور اپنے احباب کو بھی اس نیکی پر اکسائیے… جزاک اللہ خیراً کثیراً

Advertisements
Behaviors & Attitudes, media, Pakistan, Politics, Social, Uncategorized, پاکستان, اخلاقیات

Media ki Makhi

میڈیا کی مٙکھی

اشفاق احمد لکھتے ہیں…
میں نے تائے سے کہا: تایا سن میں تمہیں ایک کام کی بات بتاتا ہوں – وہ بڑے تجسس سے میری طرف دیکھنے لگا – میں نے اسے بتایا کہ یہ جو مکھی ہوتی ہے اور جسے معمولی اور بہت حقیر خیال کیا جاتا ہے یہ دیکھنے اور بینائی کے معاملے مین تمام کیڑوں سے تیز ہوتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں میں تین ہزار محدب شیشے یا لینز لگے ہوتے ہیں اور یہ ہر زاویے سے دیکھ سکتی ہے – اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بھی اور جس طریقے سے بھی اس پر حملہ آور ہوں ، یہ اڑ جاتی ہے – اور اللہ نے اسے یہ بہت بڑی اور نمایاں خصوصیت دی ہے –

اب میں سمجھ رہا تھا کہ اس بات کا تائے پر بہت رعب پڑے گا کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے کمال کی بات تھی لیکن تایا کہنے لگا:

” لکھ لعنت ایسی مکھی تے جندیان تن ہزار اکھاں ہوون او جدوں وی بہندی ائے گندگی تے بہندی ائے “

(ایسی مکھی پر لعنت بیشمار ہو جس کی تین ہزار آنکھیں ہوں اور وہ جب بھی بیٹھے گندگی پر ہی بیٹھے)

آج کل میڈیا جس رویہ کا مظاہرہ کر رہا ہے یہ مثال اس پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے… تین ہزار محدب عدسوں کی مانند ایچ ڈی کیمرے… لیکن اصل ایشوز کے بجائے نان ایشوز پر گھنٹوں کے مباحثے اور ٹاک شوز…
تف ہے ایسے میڈیا پر…