Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Takheer

 تاخیر

 جیسے کوئی خواب میں اپنے تکیے کے نیچے نوٹوں کی گڈی رکھی دیکھے۔۔۔ اور آنکھ کھلنے پر تکیے کے نیچے سے واقعی نوٹوں کی گڈی بر آمد ہو جائے۔۔۔ کچھ یہی معاملہ ہوا! نومبر کے آخری ہفتے میں ایک خاندان نے قدم بڑھایا اور ۔۔۔۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے تھا

 واقعہ یہ ہے کہ نومبر کے نصف آخر میں دو خاندانوں نے مل کے عمرہ کی ادائیگی کو جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن پھر ایک خاندان کو بوجوہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرا خاندان، جسے گروپ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا شامل تھے، بھی ڈانوا ڈول ہونے لگا۔ لیکن !آتش شوق کی چنگاری تو بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اب پیچھے ہٹنا کوئی آسان تھا

طے پایا کہ خاتون اور ان کا بیٹا ہی رخت سفر باندھ لیں۔ ادھر خاتون اور ان کے میاں جی کی مشترکہ خالہ نے خاتون کے میاں جی کو “پٹی پڑھانی شروع کی “کہ موقع اچھا ہے تم بھی ہمت کر لو۔۔۔ اور بہر طور راضی کر کے ہی دم لیا۔ چنانچہ قدم بڑھا دیا گیا! شاید رحمت خداوندی انتظار میں تھی۔۔۔ کہ “میاں جی” بھی ارادہ کر لیں تو فائنل اپروول عطا کر کے معاملات آگے بڑھائے جائیں !

 سفری انتظامات کے لئے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ پاسپورٹ پہلے سے تیار تھے۔ ایک دوست کی معرفت دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوائی جہاز کی نشستیں فوری بک کرا لی گئیں۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویزہ کے لئے درخواست دی گئی۔ وقت بہت کم تھا۔ ویزے بروقت لگ جانے کے امکانات خاصے کم تھے۔ لیکن ۔۔۔ جب “بلاوا “آ جائے ۔۔۔ تو پھر کون روک سکتا ہے!

سب انتظام ہو گیا۔۔۔ اور مارکیٹ ریٹ سے کم نرخ پر ہو گیا۔ مذکورہ دوست گھر سے پاسپورٹ تصاویر اور دیگر مطلوب دستاویزات لے گیا اور جب پاسپورٹ پر ویزے لگ گئے تو پاسپورٹ ٹکٹ گھر پہنچا گیا۔ سارے کام گھر بیٹھے ہو تے چلے گئے۔ ہوم سروس ! بارگاہ الٰہی میں یوں تو سارے ہی عازمین حج و عمرہ معزز و مکرم ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ شاید کچھ زیادہ ہی “اسپیشل کیس“تھا۔ سبحان اللہ ! کیسا وی آئی پی ٹریٹمنٹ تھا۔۔۔ کیا سوئفٹ ارینجمنٹ تھا!

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے،میں اس کی طرف ایک گز بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے ، میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

 نومبر کے آخری ہفتے میں اس خاندان نے قدم بڑھایا ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو اپنی ذات اطہر کے دیدار کی صلاحیت دی ہوتی تو ۔۔۔ قدم بڑھانے والے دیکھ ہی لیتے کہ اللہ تعالیٰ کیسے دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ کیسے بھاگم بھاگ سارے انتظامات کئے۔۔۔ جب ہی تو ۔۔۔ ۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے موجود تھا!

اللہ کو نہ دیکھ سکے ہوں گے ۔۔۔ دیکھ ہی کون سکتا ہے ۔۔۔ کہ چہرے پہ جڑی آنکھوں سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہاں اگر دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی ۔۔۔ تو سارا منظر صاف صاف دیکھ ہی لیا ہو گا!۔۔۔ کہ وہی اللہ فرماتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (فصلت۔۵۳)

 ترجمہ: “ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے!”

 اور ۳ دسمبر کو جب یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہو گا ۔۔۔ تو ممکن ہے کہ ۔۔۔ بیت اللہ کی مقدس اینٹوں۔۔۔ غلاف کعبہ کے متبرک دھاگوں ۔۔۔ مسجد الحرام کے فرش میں جڑی خوش نصیب مرمریں ٹائلوں۔۔۔ حرم مکی کی دیواروں اور ستونوں۔۔۔ برقی قمقموں سے نکلتی روشنی کی کرنوں۔۔۔ آسمان سے جھانکتے چاند ستاروں۔۔۔ سر کے اوپر سے گزرتے بادلوں۔۔۔ پیروں پہ لگی گرد کے ذروں ۔۔۔ دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں ۔۔۔ اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے ۔۔۔ اس سوال کی بازگشت سنائی دی ہو ۔۔۔ جو روانگی سے قبل گھر آئے ایک مہمان نے کیا تھاکہ ۔۔۔

 “تاخیر کس کی طرف سے تھی؟”

 ہاں!ساری تاخیر ، ساری ٹال مٹول، سارے بہانے ، ساری تاویلات ہماری ہی طرف سے ہیں۔ وہاں کوئی تاخیر نہیں۔قاعدہ البتہ طے کیا جا چکا ۔۔۔ پہلا قدم بندوں نے بڑھانا ہے۔۔۔ بندوں کو ہی بڑھانا ہو گا۔۔۔ وہاں تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کسی کو شک ہے ۔۔۔ تو ایک بار قدم بڑھا کے دیکھ لے ۔۔۔ !

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, عمرہ

Zan Mureed

زن مرید

پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت۔ سفید داڑھی ۔ چہرہ ایسا نورانی کہ بندہ دیکھتا ہی چلا جائے۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔  پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔  اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ تعجب تو ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا  اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے لیکن پھر یہ خیال ہوا کہ حج کے فوری بعد واپس روانگی ہو گی سو شاید طواف وداع بھی ابھی کر رہے ہیں۔  بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے  کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔

حج کے کئی روز بعد ایک دن میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے تو بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ حضرت ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔  کہنے لگے : چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔

ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا: میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟عرض کی : حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ  مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر رکن دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا۔ معذرت چاہی کہ  “ناحق آپ کو دکھی کر دیا۔” کہنے لگے: نہیں میاں ! معذرت کیسی؟  بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔ پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:

میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں یوں سمجھو  اس نے اپنے دلائل سے ہمیں قائل کر کے ہی دم لیا۔ سو حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔

میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا۔۔۔ اور مان بھی گیا۔

دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم  اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔  میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔ ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔

کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی: میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کوہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی ، تنگی و وسعت  ، دکھ بیماری میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل مطلب اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے۔

میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔  تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔

اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کے گھر کی زیارت کرا دی۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ میاں اندازہ کرو کہ اس کی طلب کتنی سچی اور دھن کتنی پکی تھی! کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا  ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت  نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔

میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔  کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔

 میاں! سارے خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔

چاہو تو تم بھی کہہ لو!

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Behaviors & Attitudes, Hajj Umrah, Islam, علم دین

Sarkar ka jalwa hy, tamasha nahi koi

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

زیارت حرمین شریفین ہر دور میں ہی مسلمانوں  کی سب سے بڑی آرزو رہی ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ حج عمرہ کو جاتے تھے تو اس حال میں کہ گناہوں پر شرمسار اور نادم ہوا کرتے تھے ۔ قدم قدم پر آنسو بہا رہے ہوتے تھے ۔ اللہ کے گھر جاتے تو سجدوں سے وہاں کے چپے چپے کو سجا دیتے ۔ ان کا گریہ آسمان کو رلا دیتا ۔ ان کی پکار عرش کو ہلا دیتی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری کو جاتے ہوئے دربار نبوی ﷺ کے آداب کے تصور سے ہی ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ۔ یہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں جاتے تو اس خیال سے کہ پیارےآقا ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گا، چہرہ کپڑے سے چھپا کر جاتے۔آواز بلند ہونا تو دور کی بات ، نگاہ تک بلند نہ ہوا کرتی ۔ حد درجہ مؤوب و محتاط۔ نتیجتاً ان کی مرادیں فوری بر آتیں۔ ان کو قبولیت کی سند نقد عطا ہو جایا کرتی ۔اور پھر یہ حرمین شریفین کے روح پرور مناظر کی تصاویر اپنے ذہن و دل میں محفوظ کئے گھروں کو واپس لوٹ آتے۔ جانے والوں کو دیکھ کر رہ جانے والے ان کے مقدر پر رشک کرتے  …اور جانے والے جب لوٹ کر آتے تو ان کے منتظر احباب ان کے گرد پروانہ وار جمع ہو کر ان سے وہاں کے قصے سنتے اور اپنی آنکھیں بھگوتے!

پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تصور کی جگہ تصویر نے لے لی۔ ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ موبائل فون اور کیمرے آ گئے۔اور حرمین شریفین سریلی گھنٹیوں ، حتیٰ کہ رومان پرور نغموں … جی ہاں رومان پرور نغموں سے گونجنے لگے ۔کیمرے کی آنکھ انسانی آنکھ سے زیادہ پیاسی ہو گئی ۔ الا ما شاء اللہ ہر فرد “پاپا رازی ” بننے پر کمربستہ ہو گیا۔ بس ہر منظر کیمرے میں محفوظ کر لیا جائے “تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے “۔ سارا وقت اسی فکر میں مبتلا کہ اس جگہ کی تصویر بنا لی جائے، اس مقام کی ویڈیو بنا لی جائے۔ حد تو یہ کہ طواف کر رہے تو منظر کشی میں مصروف …اور بارگاہ نبوی ﷺ میں سلام عرض کرنے کو جا رہے تو ویڈیو بنانے میں مصروف ۔ طواف بیت اللہ کے وقت جسمانی حالت و قلبی کیفیت کیا ہونی چاہئے تھی؟ توجہ کہاں ہونی چاہئے تھی؟ سب ایک طرف رکھ دیا۔ چلئے جناب آپ جانئے اور رب کعبہ! لیکن …وہ دربار رسالت ﷺ جس کے آداب کی بابت رب کعبہ نے قرآن اتار دیا اور کوتاہی پر سب نیک اعمال (اگر کچھ ہیں تو وہ بھی ) برباد ہونے کی وعید سنا دی ، اس دربار میں کس قدر محتاط رہنا چاہئے!

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات آیت نمبر دو میں فرمایا:

voice

اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اس آیت میں بظاہر تو صرف آواز پست کرنے کا حکم ہے ، تاہم اگر اس آیت کی تفسیر کا جائزہ لیا جائے تو بات کی گئی ہے حضور ﷺ سے محبت کی ،آپ ﷺ کی تعظیم و احترام کی ، آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع  کی ، آپ ﷺ کی ذات مبارک سے مکمل قلبی و جذباتی وابستگی کی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کے روبرو مؤدب ہو جاؤ۔ اگر خدانخواستہ حضور ﷺ کی تعظیم اور احترام میں کسی بھی پہلو سے کوئی فرو گذاشت ہو گئی اگرچہ لا علمی میں ہی ہوئی ہو (اور ظاہر ہے کہ جانتے بوجھتے تو کوئی مسلمان سے ایسے کسی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتا ) تو سب کیا کرایا برباد ہو جانے کی وعید ہے ۔

اسی ادب و تعظیم کو چند شعراء نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا :

؎ نظروں کو جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاؤ

بےتاب نگاہی بھی یہاں بے ادبی ہے

؎            اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

روضہ مبارک پر حاضری کے وقت اسی طرح فوٹوگرافی میں مشغول ایک صاحب کی خدمت میں مذکورہ بالا اشعار پیش کئے تو بولےکہ “شاعر کا قول ہے ، کوئی حدیث تھوڑی ہے “۔ درست فرمایا۔ چلیئے بھائی آپ کوئی حدیث لا دیجئے کہ جس میں دربار رسالت ﷺ میں حاضری کے وقت فوٹوگرافی کی “اس قدر تاکید “آئی ہو؟

ابھی گزشتہ دنوں ایک سعودی ٹی وی چینل، جو کہ مسجد نبوی ﷺ کے مناظر براہ راست نشر کرتا ہے ، پر یہ منظر دیکھا کہ سنہری جالیوں کے روبرو بیشتر افراد موبائل اور ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے تصاویر اور مووی بنانے میں مصروف تھے۔ اور ایک منچلے نے تو  موبائل سے اپنی سیلفی selfie  (سیلف پورٹریٹ) بنانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔خود ہی بتائیے کیا یہی تقاضے ہیں اس دربار عالی میں حاضری کے ؟

ایک حدیث میں آیا ہے کہ کہ قیامت کے قریب میری امت کے امیر لوگ تو حج محض سیرو تفریح کے ارادہ سے کریں گے ۔۔۔ اور میری امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا۔۔۔ اور علماءریاوشہرت کی وجہ سے حج کریں گے ۔۔۔اور غربا بھیک مانگنے کی غرض سے جائیں گے۔  (کنزالعمال)

غور فرمائیے! حجاج کے جن چار طبقات کا ذکر کیا گیا ہے کیا وہ چاروں ہی آج نظر نہیں آ رہے؟ خاص کر اول الذکر طبقہ … کہ جیسے لندن پیرس کی سیر و تفریح کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف ، ایسے ہی حرمین شریفین کی حاضری کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف۔ سیر و تفریح کے انداز میں حج و عمرہ ادا کرنے والے گروہ کو قرب قیامت کی نشانی بتایا گیا تو کیا احتیاط لازم نہیں؟ کم سے کم طواف بیت اللہ کے دوران اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت تو فوٹو گرافی سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ یوں بھی ہر ہر مقام کی بلا مبالغہ ہزارہا تصاویر پہلے ہی موجود ہیں۔

Hajj Umrah

Labbaik Allahumma Labbaik…

(In this write-up the Rituals of Umrah & Hajj (Manasik-e-Hajj o Umrah) are being presented in a unique way. You will definitely enjoy it once you cross the preamble. Please spare some time to read the complete write-up. )

Labbaik Allahumma Labbaik

Abu-Shaheer

Hajj is the fifth pillar of Islam. It’s a combination of both physical and financial modes of prayer. It’s a religious duty that must be carried out at least once in their lifetime by every able-bodied Muslim who can afford to do so. See the verse below.

و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ۔ و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین

And (due) to Allah from the people is a pilgrimage to the House- for whoever is able to find thereto a way. But whoever disbelieves- then indeed, Allah is free from the need of the worlds. (Aal-e-Imran-97)

Allah has blessed us with everything. See! He almighty created the world before He sent us here. He almighty has blessed us with countless things which we could never know we needed. He blessed us with true belief, health, wealth, spouse, children, vehicles, house, servants, etc.

Subhanallah! Allah almighty; Our Lord; The one; like Whom there’s none; He who introduces himself to us as As-Samad, Al-Ghani; He who doesn’t need anyone and everyone needs Him; He who that if everyone became disobedient to Him wouldn’t harm Him and if everyone became the most obedient couldn’t benefit Him, He hasn’t asked for much, just a visit to His Holy House, a small journey in a whole lifetime, not from everyone, just a handful Muslims from around the globe every year. Now think in the light of the above verse of Quran and ask yourself, “Isn’t it His right to perform pilgrimage of His house, the Ka’abah?” Surely it is!

Those who come to understand the point scream out with utter humility:

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

(Labbaik! Allahumma Labbaik! Labbaika La Sharika Laka Labbaik! Innal-Hamda wan-ne’mata Laka wal-mulk La Sharika lak.)

Meaning: “Here I am at Your service O Allah, here I am. Here I am at Your service, You have no partner, here I am at Your service. For You alone is All Praise and All Grace, and for You alone is The Sovereignty. You have no partner.”

Yes! These beautiful words are the anthem of Hajj. The song of Hajj. The chant of Hajj. The essence of Hajj.

O ye the honorable guest of Allah!

Ever realized what do these words mean? Ever realized what spirit should reflect from these words? It doesn’t need a philosophical answer. In short, these words force the person to give up his own wills and wishes; these words imply a person to be in a state of complete, unconditional obedience to his Creator.

If Allah says: O My slave! Are you ready to perform Hajj?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah says: It’s an exalted job. It requires absolute purity… pure funds and pure intentions. Do you have it?

The servant replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: O My slave! I know that you love your wealth. Ponder, you’ll have to spend a lot, is that fine?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah says: See… you love your home and your spouse and your children… Are you ready to leave them for Me?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: See… A lot of exertion and fatigue is in store ahead… you might get proper rest… you will have to walk a lot… surely you will get tired. Want to come?

The salve replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: See… You have to face dust and storms… and extreme weather…

The slave replies: My Lord! I seek refuge with You from the heat of the day of judgement… Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Ok! Then relinquish your dress and wear two sheets, and make intention for Umrah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cut your hair and nails, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Avoid perfumes and fragrances, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cover your head, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cover your foot but a part of it, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slaves! Don’t do any sexual acts with your spouse, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t even talk about it nor touch each other with this intention, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Avoid any acts of sins…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Do not quarrel or fight with other people…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Remember! These are the boundaries of My Haram… Respect them. Don’t pluck any leaves or grass, don’t kill anything,not even lice, neither hunt game nor assist that…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do IDHTABA’(اضطباع), let your right shoulder be naked…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Kiss the black stone i.e. Hajr-e-Aswad…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک …Your Prophet ﷺ kissed that stone… If you’d be happy I am ready to do it in order to obey Your orders and to follow the Prophet’s Sunnah…*1

If Allah orders: Now perform the TAWAF (Circumambulations) of My House…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Do RAMAL (walk in the wrestlers’ style) in the first three rounds, and complete the last four rounds in the normal walking style.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now cover your shoulder and approach the Multazam (the door of Ka’abah).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah orders: Offer the obligatory prayers of Tawaf (Wajib-ul-Tawaf) behind the Maqam-e-Ibrahim.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now drink Zam-Zam water.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now offer Sa’ee (Running) between Safa and Marwah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: While offering Sa’ee, make a run between the green pillars (Meelain Akhdharain).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now do the Halq or Qasr (sacrifice your hair)

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now you can wear your normal dress.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now go to Madina and say Salam to the Holy Prophet ﷺ.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی۔۔۔ … Lower your voice. Don’t talk loudly over there.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Go back to Makkah and offer Umrah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

Then on the 8th of Zil-Hajj, if Allah orders: Wear the Ahram for Hajj, and leave for Mina, and try to reach there before noon (Zohr).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 9th of Zil-Hajj, try to reach Arafat before noon.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Offer the Zohr and Asar prayers jointly.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: After sunset, go towards Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t offer Maghrib Prayers (although the time of Maghrib prayers has started).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: When you reach Muzdalifa, and when the Isha time starts, offer Maghrib and Isha Prayers jointly.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah orders: You have to stay for the rest of the night under the sky in Muzdalifa. You will feel cold. You will have to bear the dust. You may have to sacrifice sleep.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Pick the stones for Rami from Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the morning of 10th Zil-Hajj, stay for a while after Fajr Prayers in order to offer Wuquf-e-Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now return to Mina.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Go for Rami and throw 7 stones at the Big Shaitan (Jamra ‘Uqba?) only. *2

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now slaughter an animal.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now do the Halq or Qasr.

The slave replies: O My LORD! You want me to sacrifice my hair… today I am ready to sacrifice my life for You… Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now wear your normal dress.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: My slaves! You still can’t make any sexual acts with your spouse before Tawaf-e-Ziyarah.

The slaves reply: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now offer Tawaf-e-Ziyarah, and make Sa’ee between Safa and Marwah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 11th of Zil-Hajj, perform Rami of all the three Shaitans (Jamrat).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 12th of Zil-Hajj, perform Rami of all the three Shaitans (Jamrat).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slaves! You have done whatever I asked of you. Now it’s My turn. I pledge to forgive all your sins and mistakes, no matter if they are as many as the particles of dust, or the leaves of the trees, or the drops of oceans.

The slaves scream with joy: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slave! See… I have purified you from all the sins… Don’t ever disobey Me from hereinafter. Ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: One last thing! Offer the obligatory Tawaf-e-Wida.

And the slave moans as the time has arrived to leave the Holy Ka’abah.

In a state of grief and sorrow, the slave still replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: I know your feelings. Don’t feel sad that you have to leave My House. See! I am with you everywhere.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slave! Don’t feel sad. I had promised you through the tongue of My Prophet ﷺ that

“There is no reward for Hajj-e-Mabrur (an accepted and approved Hajj) but Jannah.”

Trust Me and My Prophet ﷺ, that the Jannah is waiting for you, and you will surely enter that very soon.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

And when the day arrives, as the slave breathes his last… If Allah says:

یا ایتھا النفس المطئنۃ۔۔۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔۔۔ فادخلی فی عبادی۔۔ وادخلی جنتی۔۔۔

O reassured soul! Return to your Lord, well-pleased and pleasing (to Him), and enter amongst My (righteous) servants, and enter My paradise. (Al-Fajr… 27-30)

The slave, on receiving the permit of Jannah, screams with joy:

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

(Labbaik! Allahumma Labbaik! Labbaika La Sharika Laka Labbaik! Innal-Hamda wan-ne’mata Laka wal-mulk La Sharika lak.)

“Here I am at Your service O Allah, here I am. Here I am at Your service, You have no partner, here I am at Your service. For You alone is All Praise and All Grace, and for You alone is The Sovereignty. You have no partner.”

*1. According to Fiqh Hanafi, the Haji should stop calling the Talbiyah (Labbaik) before starting the Tawaf of Umrah. So the Talbiyah should be stopped, but the spirit (of submission to Allah) should be continued!

*2. According to Fiqh Hanafi, the Haji should stop calling the Talbiyah (Labbaik) before Rami (stoning of Big Shaitan on 10th Zilhaj). So the Talbiyah should be stopped, but the spirit (of submission to Allah) should be continued!

Hajj Umrah

Dastan-e-Safar

داستانِ سفر

حج ایک ایسی تمنا ہے جو بلا شبہ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے ۔ ایک ایسی آرزو جس کے پورے ہونے کے خواب دیکھے جاتے ہیں ۔ جس نے مقامات مقدسہ کو نہیں دیکھا ، وہ ایک بار حاضری کی تمنا کرتا ہے اور جس کو ایک مرتبہ حاضری کا شرف حاصل ہو جاتا ہے وہ پھر باربار حاضری کی دعا کرتا ہے۔  بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے حرمین شریفین کو نہیں دیکھا اس کی تو طلب ہے اور جو دیکھ آیا  اس کی تڑپ ہے۔

عازمین حج و عمرہ کی قسمت پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے بلکہ ان معاملات میں تو حسد بھی جائز ہے ۔ جس وقت حجاج کرام روانہ ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کے متعلقین ان کو بڑی حسرت کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور جب وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کر کے واپس لوٹتے ہیں تو جا جا کر ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کی داستان سفر بڑے ذوق و شوق سے سنتے ہیں ۔ قابل مبارکباد اور لائق تحسین ہیں وہ نفوس جو اس عظیم عبادت کی ادائیگی کا شرف حاصل کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہمارے بہت سے متعلقین حج و عمرہ کا شرف حاصل کر کے واپس لوٹے ۔ ان میں سے کئی افراد کے تاثرات جان کر خاصا دکھ ہوا کہ ان کے منہ سے شکوہ شکایت کے علاوہ کچھ نہ سنا ۔پہلے تو یہ دیکھ لیجئے کہ شکایات کیا تھیں ؟ کسی نے کہا : اس قدر گرمی تھی کہ توبہ توبہ ! کوئی بولا : رش بہت تھا ۔ کسی نے کہا : رہائش حرم سے بہت دور تھی ۔ کسی نے شکوہ کیا : پیدل چل چل کے بھیا میری تو ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔ کسی کو کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آیا ۔ کسی کو مہنگائی نے پریشان کیا ۔ کسی کو عرب باشندوں کے رویہ میں درشتگی کی شکایت رہی ۔ یہاں تک کہ ایک صاحب کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ تو ہجوم دیکھ کر اس قدر بوکھلائے کہ کہہ بیٹھے : دوبارہ نہیں آؤں گا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

ایسے لوگوں کو اول تو توبہ کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ان کی شکایات کس قدر بے جا ہیں ۔ ہم ایسے لوگوں کی خدمت میں بصد ادب یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ کو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ وہاں کا موسم کس قدر گرم ہوتا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں کس قدر اژدھام ہوتا ہے ؟  کم و بیش پچیس لاکھ افراد ، وہ بھی مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ۔ سب کا رہن سہن الگ ۔ طور طریقے الگ ۔ معاشرت الگ ۔ تو ایسے مختلف النوع افراد کے اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنا کوئی آسان کام ہے ؟ رہائش حرم سے دور تھی تو کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں تھی ؟ سرکاری اسکیم میں فارم بھرتے وقت آپ کو معلوم ہو جانا چاہئے تھا کہ حرم شریف سے آپ کی رہائش کا کم سے کم فاصلہ اتنے کلومیٹر ہو گا ۔ اور پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج پر جانے والوں کو بھی ٹور آپریٹر بتا دیتے ہیں کہ ان کی رہائش حرم سے کتنے فاصلے پر ہو گی ۔ تو اس فاصلے پر شکایت و برہمی کیسی ؟ اور پھر ذرا یہ تو سوچئے کہ کیا پچیس کے پچیس لاکھ افراد حرم شریف سے بالکل متصل رہائش حاصل کر سکتے ہیں؟ بہت مبالغہ کر لیا جائے تو شاید تین چار لاکھ افراد قریب کی رہائش گاہوں میں قیام پذیر ہو سکیں، بقیہ حجاج کرام کو تو یقیناً درجہ بدرجہ پیچھے ہی جانا ہو گا ۔ پیدل چلنے کی شکایت کرنے والوں کو بھی تربیت کے دوران بتا دیا جاتا ہے کہ میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے ، اس کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار رہئے ۔ لیکن ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برصغیر کے اکثر باشندوں کو ڈھلتی یا آخر عمر میں حج کا خیال آتا ہے ۔ اور پھر یہی لوگ واپس آ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میاں !حج تو جوانی کی عبادت ہے ۔ تو اب بڑھاپے میں تو دو قدم چلنا بھی مشکل ہوا کرتا ہے ، میلوں چلنے کا دم کہاں۔کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آ رہا تھا تو بھائی خود پکا لیتے۔ لیکن وہاں پہنچ کر خواتین صاف کہہ دیتی ہیں کہ ہم یہاں ہانڈی چولہا کرنے نہیں آئے  اور کسی حد تک وہ حق بجانب بھی ہوتی ہیں کہ ان بے چاریوں کی عمر کا بیشتر حصہ باورچی خانے کی نذر ہو جاتا ہے ۔ تاہم اگر چند لوگ خدمت کے جذبے کے ساتھ باری باری کھانا بنا لیا کریں تو کسی پر بار بھی نہیں ہو گا اور لذت کے علاوہ خاطر خواہ بچت کا بھی باعث ہو گا ۔ عرب باشندوں کے رویہ کی شکایت کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع جو کہ ان کی زبان نہیں سمجھ سکتا اور نہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں تو اس مجمع کو کنٹرول کرنا کس قدر مشکل کام ہے ؟ سوچئے تو سہی کہ اپنا ہی بچہ بات نہ مانے یا بیوی آپ کی بات نہ سمجھے تو کس قدر غصہ آتا ہے ۔ وہاں تو معاملہ ہی مختلف ہے۔

خیر یہ تو شکایات کے پلندے کا جواب ہو گیا ۔ اب ذرا نعمتوں  اور رحمتوں کا تذکرہ  ہو جائے ۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ آپ کے اطراف میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی مالی حیثیت آپ سے کہیں زیادہ ہےلیکن حج عمرہ ابھی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور آپ کی خوش نصیبی کہ آپ کو یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔ حج عمرہ کی توفیق ہو جانا بھی در حقیقت اللہ کا بہت بڑا انعام ہے ۔  بہت سے لوگ اس بہانے ہوائی جہاز کا سفر بھی کر لیتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے آپ کا بھی یہ پہلا ہوائی سفر ہو ۔ چلئے یہ خواہش بھی پوری ہو گئی ۔ تمام عمر نمازوں کی نیت کرتے وقت “منہ میرا کعبہ شریف کی طرف ” کہتے رہے ، آج اس کعبہ شریف کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا ۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اس گھر کا طواف کر لیا بلکہ ان گنت طواف کر لئے ۔ اس گھر کے اندر نوافل ادا کر لئے ۔ (جی ہاں حطیم خانہ کعبہ کا ہی حصہ ہے جو کہ تعمیر نہیں کیا گیا ) ۔ ملتزم سے لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگ لیں ، حدیث مبارکہ کے مطابق جہاں کوئی دعا رد نہیں ہوتی ۔ کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے ۔صفا مروہ جیسے مبارک مقامات کو دیکھ لیا ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان کی زیارت کر لی۔حرم مکی میں نمازیں ادا کر لیں کہ جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے ۔ پھر وہ وادی جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر  کے گلے پر چھری چلائی ، جہاں شیطان کو کنکریاں ماریں اس وادی یعنی منیٰ کو بھی دیکھ لیا  ۔ اور بالآخر وہ مبارک ساعت آن پہنچی کہ جب نو ذی الحج کو زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کا وقت میدان عرفات میں گزارا ، جہاں اللہ رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل ہوئے ۔ تمام گناہ معاف کر دئیے گئے ۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ کتنی بڑی ۔۔۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ کتنی بڑی کامیابی ہے ۔ کتنا بڑا انعام ہے ۔

اور پھر حبیب کبریا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر بنفس نفیس درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ۔  کتنی بڑی سعادت حاصل ہو گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود سے آراستہ مسجد کی زیارت ہو گئی ۔ اس مسجد میں خوب نمازیں پڑھیں جہاں ایک نماز کا ثواب ایک روایت کے مطابق ایک ہزار کے برابر ہے ۔ پھر جنت (ریاض الجنۃ) میں داخل ہو گئے … کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ میرے حجرے سے میرے منبر تک کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ پیارے آقا ﷺ نے اس کو جنت کہا تو میں کیوں نہ کہوں کہ ریاض الجنۃ میں پہنچ گئے گویا جنت میں پہنچ گئے۔ سو جنت میں بھی پہنچ گئے۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ اسلام کی پہلی مسجد یعنی مسجد قبا میں نوافل ادا کئے اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے عمرہ کا شرف حاصل ہوا ۔ جی ہاں ! حدیث مبارکہ کے مطابق مسجد قبا میں دو رکعت اخلاص کے ساتھ ادا کرنے پر مقبول عمرہ کا ثواب ہے ۔ مسجد قبلتین کی زیارت ہوئی ۔ احد پہاڑ کی زیارت ہوئی جس کے بارے میں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔ اللہ اکبر ۔ جنت البقیع میں آرام فرما صحابہ کرام اور احد کے دامن میں شہدائے احد کے مقبروں پر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل ہوا ۔ کیا کیا گنِواوَں!

عبادات سے ہٹ کر دیکھئے ! ایئر کنڈیشنڈ کمرے ۔ ایئر کنڈیشنڈگاڑیاں ۔ ایئر کنڈیشنڈ مسجدیں ۔ ایئر کنڈیشنڈ خیمے ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے کبھی ایئر کنڈیشنڈکمروں میں آرام کیا ؟ ایئر کنڈیشنڈگاڑیوں میں سفر کیا؟ اب تو وہاں ہر جگہ سہولیات میسر ہیں ۔ سوچیں تو سہی کہ اگر یہ سب سہولیات نہ ہوتیں تو کیا ہوتا ؟ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ دنیا جہان کی نعمتیں آج اس شہر میں موجود ہیں جو کبھی قرآن کی گواہی کے مطابق بے آب و گیاہ وادی ہوا کرتا تھا ۔ دودھ ، گوشت ، اناج ، چائے کی پتی ، چینی اور مصالحہ جات سے لے کر سبزیوں اور موسم و بے موسم کے پھلوں تک ہر چیز اس شہر میں موجود ہے ۔  دودھ جوس کولڈڈرنگ لسی پانی آئس کریم چائے کافی وغیرہ وغیرہ ۔ اور ان سب سے بڑھ کر آب زم زم ۔ وہ مقد س پانی جو ایک نبی کے قدموں سے جاری ہوا اور پھر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پانی اس میں شامل ہوا۔ جی ہاں ! میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم کے کنویں سے ڈول میں پانی بھر کر پیش کیا گیا ۔ آپ نے خوب سیر ہو کر پیا اور باقی پانی واپس کنویں میں انڈیل دیا ۔ یاد کیجئے کہ وہ پانی جو کبھی گھونٹ دو گھونٹ تبرک کی شکل میں ملتا تھا ، اس مقدس سفر کے دوران کتنا پی لیا ؟ بلا مبالغہ سینکڑوں گلاس ۔ یاد کیجئے ! خوب یا د کیجئے ! کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے زم زم کے کولر کے نیچے گلاس رکھ کر بٹن دبایا ہو اور پانی نہ آیا ہو؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے وضو کرنے کے لئے یا بیت الخلاء میں طہارت کے لئے نل کھولا ہو اور پانی نہ آیا ہو ؟ کیا کبھی کسی چیز کی قلت دیکھی ؟ مقامی باشندوں کے علاوہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع ایک شہر میں جمع ہے۔ کیا کبھی دودھ کی قلت ہوئی ؟کبھی ایسا ہوا کہ چائے نہ ملی ہو ؟ یا آٹا شارٹ ہو گیا ہو ؟ یا چینی نہ مل رہی ہو ؟ یا کولڈرنک مارکیٹ سے غائب ہوئی ہو ؟ چلو یہ تو شہر ہے ۔ منیٰ مزدلفہ عرفات میں بھی سب کچھ مل رہا ہے ۔ پھر راستوں میں جگہ جگہ بڑے بڑے ٹرالرز سے اشیائے خورد و نوش اللہ کے مہمانوں پر مفت نچھاور کی جا رہی ہیں ۔ سرد موسم میں نلکوں میں گرم پانی آ رہا ہے تو گرمی کی تمازت سے بچانے کے لئے حجاج کرام پر  فواروں سےٹھنڈے پانی کی پھواریں ماری جا رہی ہیں۔ کون کر رہا ہے یہ سب کچھ؟ کیا انسانوں کے بس کی بات ہے ؟ کیا کیا نہ کھلایا رب کعبہ نے ۔ کیا کیا نہ پلایا رب کعبہ نے۔

رب کعبہ نے شیخ عبد الرحمٰن السدیس کی بلند و بالا تلاوت سے فیض یاب ہونے کے مواقع عطا کئے ۔ شیخ سعود الشریم کی مسحور کن قرات سنوا دی ۔ کیسٹ یا سی ڈی یا ٹی وی پر سننے اور براہ راست سننے میں فرق محسوس کیا آپ نے ؟ شیخ علی احمد ملا کی فلک شگاف  ، شیخ فاروق ابراہیم حضراوی کی گھمبیر اور شیخ محمد ماجد حکیم کی مسحور کن آواز وں میں بلند ہونے والی اذانیں ،شیخ صلاح البدیر کی رقت آمیز تلاوتیں ، کیا کیا گِنواوَں؟ کون کون سی رحمت کا تذکرہ کروں ؟  مقصد یہ باور کرانا تھا کہ بھائی ! کتنا کچھ ہوتا ہے حاجی کے پاس بتانے کو !

اے مدینے کے زائر !خدا کے لئے  داستان سفر  مجھ کو یوں مت سنا

دل مچل جائے گا ، بات بڑھ جائے گی ، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

جی ہاں!داستان سفر اس طرح سنائیے کہ سننے والے کا بھی دل مچل جائے وہاں جانے کو ۔ حسرت سے اس کی آنکھیں جل تھل ہو جائیں ۔ اس کے شوق کی چنگاری بھڑک کر شعلے میں تبدیل ہو جائے ۔ آپ ضیوف الرحمٰن یعنی اللہ تعالیٰ کے مہمانوں میں شامل رہے … گویا اللہ تعالیٰ آپ کی میزبانی کرتا رہا ۔۔۔ اس کیفیت ، اس سعادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذکورہ بالا رحمتوں کو یاد کیجئے اور ان کا تذکرہ کیجئے ۔ زحمتوں اور تکالیف کو فراموش کر دیجئے ، بھول جائیے ۔ اور اگر کبھی مشکلات کا تذکرہ بھی کریں تو تربیت کی غرض سے ، سکھانے کے لئے ، اگلے کو دشواری سے بچانے کے لئے ، آگاہی دینے کے لئے ۔۔۔ نہ کہ شکوہ شکایت کے لئے ۔ خدانخواستہ نا شکری میں شمار نہ ہو جائے ۔

چلتے چلتے صبیح رحمانی کی ایک نظم ملاحظہ فرمائیے ۔ دیکھئے شاعر نے اپنے مشاہدات ِحرم کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔

کعبے کی رونق ! کعبے کا منظر !اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاوَں برابر !اللہ اکبر اللہ اکبر

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو

لایا کہاں مجھ کومیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

حمد خدا سے تر ہیں زبانیں ، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں

بس اک صدا آ رہی ہے برابر ، اللہ اکبر اللہ اکبر

مانگی ہیں میں نےجتنی دعائیں منظور ہوں گی مقبول ہوں گی

میزاب رحمت ہے میرے سر پر اللہ اکبر اللہ اکبر

یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں

رویا غلاف کعبہ پکڑ کر اللہ اکبر اللہ اکبر

اپنی عطا سے بلوا لیا ہے ، مجھ پر کرم میرے رب نے کیا ہے

پہنچا ہوں پھر سے حطیم کے اندر  اللہ اکبر اللہ اکبر

قطرے کو جیسے سمندر سمیٹے ، مجھ کو مطاف اپنے اندر سمیٹے

جیسے سمیٹے آغوش مادر اللہ اکبر اللہ اکبر

باب کرم پر آئے ہوئے ہیں ، پھر ملتزم پر آئے ہوئے ہیں

اے سچے داتا !تیرے گداگر اللہ اکبر اللہ اکبر

بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے ، چوما ہے تجھ کو خود مصطفیٰ نے

اے حجر اسود تیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

جس پر نبی کے قدم کو سجایا ، اپنی نشانی کہہ کے بتایا

محفوظ  رکھا رب نے وہ پتھر اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھا صفا بھی ، مروہ بھی دیکھا  رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا

دیکھا رواں اک سروں کا سمندر اللہ اکبر اللہ اکبر

کعبے کے اوپر سے جاتے نہیں ہیں ، کس کو ادب یہ سکھاتے نہیں ہیں !

کتنے موَدب ہیں یہ کبوتر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

تیرے کرم کی کیا بات مولا ! تیرے حرم کی کیا بات مولا!

تا عمر کر دے آنا مقدر اللہ اکبر اللہ اکبر

مولا! صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے ؟ بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے

بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر اللہ اکبر اللہ اکبر

Hajj Umrah, Uncategorized

Hajj Guidance… Step by Step

O The Honorable Guest of ALLAH!

Assalamoalaikum

Hope you will be in the best states of Iman and health; and anxiously waiting for the day of your departure to the Holy Cities which is now very near. May Allah Almighty accept this struggle from you and from all the HAJIs in flying colors and bless you with whatever HE Almighty has promised; both in this world and hereafter. Aameen.

I wish to share some tips regarding HAJJ as per my experiences. I hope you may find these tips very useful regarding your HOLY trip.

INTENTIONS & PREPARATIONS 

  • Check your intentions first. Your intentions must be pure and for seeking Allah’s happiness.
  • According to the FATAWA of numerous renowned Muslim Scholars (ULAMA) there are certain organizations such as banks, insurance companies, etc, working with which earns you false money. Hajj must be done with pure (HALAL) funds, for Hajj done with forbidden (HARAAM) funds is haraam and is not permitted. Some of the scholars said that HAJJ is not valid in this case, and one of them even said:

“If you have done Hajj with money whose source is HARAAM, you have not done Hajj but your camel has.” May Allah guide us the right path.

  • Remember! Performing HAJJ is another thing and taking it to your grave is another thing. We know in the light of the teachings of the Holy Prophet Sallallah-o-Alaih-e-Wasallam that Hajj-e-Mabroor (Accepted Hajj) means all your Sins have been forgiven by Almighty Allah, and thus you surely become eligible for JANNAH. Ulama say that if a person looks changed (noble) after Hajj, it means his Hajj is accepted. So, be desperate to change yourself before going to HAJJ. Start staying away from the SINS, EVILS and bad habits. After Hajj, it would be difficult for any person to change himself altogether.
  • Try your best to learn and seek knowledge about Manasik-e-Hajj & Umrah. Remember! You are going to spend a huge capital (more or less 3 lac rupees) on HAJJ trip. It’s a sort of investment. So your target must be to earn maximum profits/rewards from this investment. Think! If you have to invest this capital in a business, how much will you stretch to seek knowledge about that particular business? Or simply imagine if you have to buy a car for 3,00,000/- rupees, how much will you ask the people before buying that particular car?

Hajj is the journey of a lifetime. It has become very expensive as well. Don’t take it lightly/casually or else you will simply spoil a huge capital as well as your dream trip. (May you not!) Remember the Hadith of the Prophet Muhammad Sallallaho Alaih-e-Wasallam which means that there are so many people who earn nothing but hunger and thirst while keeping a fast; and there are so many people who earn nothing but fatigue while praying through the whole night. So brother! Are you going to earn only fatigue and dust? I am sure you are not. So learn the Manasik and FAQ’s of Hajj as much as you can. Learn like a student, and try to gather as much knowledge as you can, remember it, so that you may deliver it like a teacher in future.

Pray as much as you can before going to Hajj. See the following prayers.

O Allah! Please forgive me

O Allah! Please help and guide me in learning the Manasik-e-Hajj.

O Allah! Please accept this effort from me.

O Allah! Please make things easier for me.

O Allah! Please bless me with noble companions/room-mates during the whole journey.

 THINGS REQUIRED DURING HAJJ TRIP

-Ihram (2 pairs)

-Ihram Belt

-Slippers/Chappal (2 pairs)

-Hajj/Umrah Guide Book

-Dresses (5 pairs)

-Belt

-Cotton/Leather socks

-Shoes/Sandals

-Under garments

-Spectacles (2 pieces)

-Sunglasses

-Medicines (That you may use regularly)

-Other General Medicines you may need during the Holy trip. For example, medicines for pain, fever, stomach problems, cough and throat problems, etc.)

 

TRAVEL DOCUMENTS

-Passport/Visa

-Air Ticket

-Photocopies of Passport/Ticket/National ID Card etc. (2 sets)

-Extra attested Photographs

 

UTENSILS

-Steel/Plastic Plate

-Steel Spoon/Fork

-Knife

-Ceramic/Plastic Cup or Mug

 

STATIONARY

-Ball Point

-Note Book

-Carton Packing Tape

-Permanent Bold Marker

-Telephone Directory (note your family’s/relatives’/other important contact numbers)

 

SANITATION

-Soap (Both normal and fragrance free)

-Sanitizer

-Shampoo

-Tooth Brush

-Tooth Paste

-Miswak

-Towel

-Perfume/Itr

-Nail cutter

-Scissors

-Mirror

-Razors

-Comb/Hair Brush

-Jhanwa (Foot File)

-Wet Tissues/Wipes

 

OTHERS

-Suitcase

-Shoulder bag (It will be used as a hand carry in the aircraft and during Hajj 5 days.)

-Small Shoulder bag/Hand bag (To put things like Passport, Ticket, Pocket Quran, Mobile Phone, Spectacles, medicines and things that you may have to keep anytime with you.)

-Water Bottle (Like the one that school going children use)

-Bed Sheet

-Rope (10 Meters)

-Rope clips

-Large Safety Pins

-Tissue Paper Roll (2 Pieces)

-Jaey Namaz (Velveteen)

-Topi (Cap for Namaz)

-Tasbih (Beads)

-Pocket Quran

-Umbrella

-Thread and needle

-Petroleum jelly (fragrance free)

-Cold Cream

-Anklets

-Sweater/Warm Shawl for cold weather

-Water Spray Bottle (It may be used to stay fresh in extreme heat. It may also be used for making wudu).

TEA MAKING KIT

-Electric Kettle

-Tea bags

-Sugar or Sweetener

-Everyday Tea Whitener/Dry Milk

(Yes! You may buy tea from a tea shop, but it may cost a lot of time and fatigue).

 

GADGETS

-Mobile Phone

-Charger

-Extra Battery or Power Bank

-Iron (Istri)

-Extension Wire (10 Meters. It will be helpful in charging up your mobile phones and other purposes)

-Multi Socket Plug

 

MONEY: In my opinion, you must have 1500-2000 Saudi Riyals. (You will need around 500 SR for Qurbani/slaughter, 100-200 SR may be consumed in phone calls, at least 20 SR for daily expenses/meals… 40 day stay means 800 SR, and money for other unknown/unexpected/accidental expenses).

EXTRAS FOR FEMALES

Sanitary Napkins

Menses stopping pills as per doctor’s advice

Canvas shoes

Black Abaya/Coat (Saudi govt. has made it compulsory for every female pilgrim)

Where to buy these things?

(In Karachi, one of the best places from where you can get all/most of the things listed above is the shop situated in front of Alamgir Masjid, Bahadurabad, Karachi.­­ Rates are also economical. Haji camp, near PIDC House is the other place.)

  • You must have purchased AHRAM. If not, purchase it as soon as possible. Towel Ahram is better. Take care while purchasing the Ahram. The material should be THICK enough through which your body should not be seen in bright light. Similarly females SHOULD NOT WEAR such dresses (thin fabric or body-fitted dresses) through which their body parts become exposed.

Try to learn HOW TO WEAR AHRAM and must do some practice of wearing AHRAM before leaving. One or two days before your departure, try to spend sometime while wearing AHRAM in order to get used to of it.

  • Remember! You have to walk a lot during the HOLY TRIP. You have to offer TAWAF and SA’EE while performing UMRAH. One Umrah means you have to walk nearly 10 kilometers (from your residence to HARAM, inside HARAM, Offering TAWAF & SA’EE and then back to your residence). Besides UMRAH, you would surely like to offer Daily 5 times PRAYERS (SALAT) and NAFL TAWAF(s). Similarly in MADINA MUNAWARAH, you will have to walk a lot to offer Daily PRAYERS inside MASJID-e-NABWI.  Therefore, try to develop the habit of walking, as much as you can, before going for HAJJ.
  • Old HAJIs are highly advised to go for HAJJ with some younger attendants. HAJJ involves a lot of fatigue and aged people are almost unable to perform the MANASIK properly and/or timely.
  • It is better to take your Mobile phone (with charger and an extra battery) with you and purchase a SIM there. That will be very beneficial for you as well as your HAJJ companions and families to contact each other. Call charges are cheaper from Pakistan than those from Saudi Arabia. So it is better that your family contact you from here rather than you contact them. SMS is even cheaper. Nowadays some mobile services are offering very competitive call rates from Saudia to Pakistan. Similarly, some Mobile Phone Services in Pakistan also offer some competitive call packages and very economical SMS Bucket packages.

Caution: You may find difficulty while forwarding SMS.

  • Make at least two extra Photo copies of your passport, tickets and all documents and place one of them in your hand bag and the other in your luggage. In case you miss the original documents, you must have photocopies of your traveling documents in order to avoid any problems.

LEAVING YOUR HOME

  • Check your things and make sure you have taken all the items which you may require during a 40-day stay in Saudi Arabia. (See the list of items above).
  • Pay some charity (Sadqa) and pray Allah for make things easier for you.
  • Remember! Things like scissors, blades, knife, fork, nail cutter, and such other things should not be kept in your hand carry. The airport authorities will not allow anybody to take things like mentioned above with him inside the aircraft. However, you may keep these things in your luggage/suitcase.
  • It is advised to wear AHRAM from your home. But, do not make the INTENTION (NIYAT) of HAJJ/UMRAH before the take-off of the air-craft in case there would be a delay/cancellation of your flight and you have to wait for long before getting another flight. Once you have made the INTENTION (NIYAT) of HAJJ/UMRAH while wearing AHRAM, you bound yourself to obey the restrictions of AHRAM, and you can/will not come out of the STATE OF AHRAM before offering UMRAH/HAJJ and HAIRCUT after that, otherwise you have to pay the penalty (DAM).

However, make your INTENTION as soon as your aircraft takes off; in case you may sleep and cross the MEEQAT without being in the state of AHRAM; for which you have to pay the panelty (DAM). Once you make the INTENTION of HAJJ/UMRAH, start reciting TALBIYAH (Labbaik Allahumma Labbaik….). Now you are in STATE OF AHRAM. Remember the restrictions of AHRAM (written in Hajj/Umrah books) and follow them.

  • You must know that after leaving your home in Pakistan, you will reach your destination in MAKKAH MUKARRAMAH in more or less 15 hours. See the details below:

-The airline advices you to reach the airport at least 4 hours before your flight time.

-Flight duration for PIA or Saudi Airlines is aprox. 4 hours. (In case of a connected flight, it will take some more time.)

-Immigration process at Jeddah Hajj Terminal may take 3 to 4 hours.

-You will be sent to the Pakistan Camp at Jeddah Hajj Terminal after immigration where it may take an hour or two before you get the bus for MAKKAH MUKARRAMAH.

-Travel time from Jeddah to MAKKAH is aprox. 2 hours.

You are wise enough to understand how tiring the whole process would be; and if you have a late night or early morning flight, you may have to compromise on your night sleep which will add the sufferings. Moreover, majority of your relatives come on the last day (the day of your departure) to meet you. The whole day is also tiring due to a lot of hospitality.

In short, you would be extremely tired and exhausted when you reach your destination in MAKKAH MUKARRAMAH.

  • Remember and keep in mind the lesson of the Battle of UHAD! Follow your Master. Saudi Hajj Authorities are your master. Always follow their instructions. Never violate them otherwise you will definitely suffer; you will create problems not only for yourself but also for others; you may be the culprit for disturbing the whole HAJJ MOVEMENT.

AT JEDDAH AIRPORT 

  • As it is mentioned above that it will take a lot of time for immigration process. So be patient and try to enjoy the proceedings. Must follow the instructions given by the immigration/airport authorities at JEDDAH AIRPORT.
  • After immigration, you will be sent to the Pakistan Camp at Jeddah Airport. From there, you will be sent to Makkah Mukarramah by bus. Before sitting inside the bus, make sure that your luggage is loaded on the same bus on which you are going to travel. Be extremely careful and never compromise on this; otherwise you may lose your things and will definitely suffer.
  • In the washrooms at Jeddah Airport, rubber pipes are attached with the taps for washing. The pressure of water is very high. ALWAYS TURN ON THE TAP VERY SLOWLY AND ADJUST THE PRESSURE OF WATER OTHERWISE YOU AND YOUR DRESS MAY GET WET/IMPURE. It is also better to wash the floor of the washroom before using it.

 AT MAKKAH MUKARRAMAH

  • After reaching your residence in MAKKAH MUKARRAMAH, stay there for a while in your room and let the things settled down.
  • It is highly advised to take some rest before going to MASJID-ul-HARAAM for UMRAH. However, the reality is that the HOLY KAABAH has attracted the HAJIS from thousands of miles; and when the HAJIS reach MAKKAH, the magnetism increases such a great deal that one could hardly stay in his room even for a single minute. Still I recommend some rest before you leave for UMRAH. (You must know and consider that you have to walk a lot during the UMRAH exercise and that too barefoot; and you would be already tired. The whole walk includes from your residence, during Umrah, and way back to your residence may be equivalent to 8-10 kilometers).
  • Before getting out of your residence for the first time, must obtain the address of your residence (or visiting card) from the reception. When you come out of your building, have a look around and mark the key places near/around your building. Remember! You are not a native of this city; all the things are new for you and you may lose your path while returning from the HOLY HARAM after UMRAH.

 AT MASJID-ul-HARAAM

  • While entering the MASJID-ul-HARAAM, note down or memorize the gate number.
  • Pick your shoes and put them in one of the shoe racks inside the MASJID-ul-HARAAM. Note down or memorize the shoe-rack’s number.
  • Plz Plz Plz MAKE SURE THAT YOU HAVE SWITCHED OFF YOUR MOBILE OR TURNED IT TO THE SILENT MODE WHEN YOU ARE INSIDE THE MASJID-ul-HARAAM. May you not hear the melodious ring tones (and even the songs) of the mobiles and may you not see people talking on their mobiles inside the MASJID-ul-HARAAM even during TAWAF, which is unfortunately a very common sight these days.
  • Once again think about and revise your supplications in mind before having the first sight at BAITULLAH SHARIF.

AT FIRST SIGHT

  • Say Takbeer, Tahleel, Tahmeed and Tasbih or simply recite 3rd or 4th KALMAH. Then recite DURUD SHARIF. Then start your supplications. Ask for this world and the life hereafter. Especially, seek ALLAH’s help for offering your MANASIK-e-HAJJ timely and easily. Also pray for ALLAH’s help and guidance for the KHUDDAM-ul-HUJJAJ (authorities, workers and volunteers of the Saudi Ministry of HAJJ) in organizing a successful HAJJ MOVEMENT.
  • Before starting UMRAH, hold the hand-out “UMRAH step-by-step” in your hands and follow the steps.
  • Remember! You may miss your companion(s) during TAWAF either because of big crowd, or because of the starting of the congregation prayers during which women are being sent back inside the MASJID, or any other reason(s).

Keeping in mind these possible situations, it is better to have a talk with your wife/family/companions before starting the TAWAF. Mark a key place inside the MATAF and tell everyone, “In case we miss each other during TAWAF, we will meet at this place after completing the TAWAF.”

  • Similarly, before starting SAEE, have a talk with your wife/family/companions. Mark a key place inside the path of SAEE and tell everyone, “In case we miss each other during SAEE, we will meet at this place after completing the SAEE.”

Remember! Men have to run between the two green pillars on the path of SAEE. If you are doing SAEE with a female companion, choose the extreme right or left side of the track and slow down after completing the run between the two green pillars so that your companion may re-join you.

  • After completing the SAEE, go back to the same gate from which you had entered the MASJID-ul-HARAAM. It will help you to find your shoes as well as the exact path towards your residence.
  • Hairdressing saloons exist everywhere around the HOLY HARAM. You may go to a hairdresser near your residence and have a haircut.
  • It is also reported that many HAJIS contact their relatives from the MASJID-ul-HARAAM and say: “I am standing in front of KAABAH. Ask Allah whatever you want.” This is a very silly act and BID’At. MAY ALLAH ALMIGHTY GUIDE US ALL.
  • Try as much as you can to facilitate the other Hajis regardless of nationality or relation. THE BEST ACT BESIDES PERFORMING MANASIK-E-HAJJ IS TO FACILITATE/HELP THE HAJIs. Your companions (even if that is your wife) are also HAJIS. Take care of them and try your best to facilitate them and earn lots of SAWAB.
  • You will be provided ZAMZAM water at your residence there. But in the crowded days, you may get lesser or even no ZAMZAM water at your residence. Try to fetch ZAMZAM water for your roommates as much as you can. You will need a CAN to take ZAMZAM water to Pakistan. So it is better to purchase it earlier and use it for KHIDMAT.

VERY IMPORTANT

  • Remember! You are going for Hajj. So, take extra care of your health; especially before HAJJ. People used to do lots of TAWAF and UMRAHS; and in the end, get exhausted or sick; and then find immense difficulties to perform Manasik-e-Hajj properly and timely. (Also keep in mind that one should not compromise quality on quantity while offering any sort of prayers e.g. Tawaf, Umrah, Nafl Salat, etc).
  • Remember! Despite all the facilities and ease, the exercise of HAJJ still involves a lot of fatigue. You have to walk a lot to offer the Manasik-e-Hajj. The weather is hot. The Places are over crowded, so you need a lot of stamina to move either. Therefore, it is highly advised to stop all undue activities at least three days before Hajj. If your residence in Makkah is far distant from the HOLY HARAM, it would be better for you to offer SALAT in a nearby MASJID. Anywhere INSIDE the boundaries of HARAM, every good deed is equivalent to 1,00,000 good deeds.

A TOTALLY DIFFERENT ADVICE…

(NOTE: It’s totally my personal opinion. You may disagree with this.)

  • All the Ulama and Books advise Hajis to do as many TAWAF as possible. Spiritually, it seems a very good and true advice. But my dear Muslim Brother! Nowadays, the MASJID-ul-HARAAM in MAKKAH is over crowded. You may know, more than 25 lac people come to offer Hajj. And in the last week before Hajj, almost all the Hajis are there in Makkah.

Now try to understand a very critical situation (I hope u will.) The Hajis who have arrived in Makkah Mukarramah 30 or 20 days back, or the Hajis who first went to Madina Munawarah, all have come back to Makkah Mukarramah. They have had enough opportunity to do number of Nafli Tawafs and Nafli Umrahs… and they did so. But they still want more. On the other hand, thousands of Hajis who are arriving in the last days from Madina or rest of the world, have to perform their obligatory Umrah. They will find immense difficulties to perform the Manasik-e-Umrah especially Tawaf because of those who have already done enough but are still greedy.

The situation is quite similar after Hajj. You know, before leaving from Makkah Mukarramah, Tawaf-e-Wida is obligatory (WAJIB) for all Hajis. Now a large number of Hajis who had arrived earlier to Saudi Arabia, or who had come for a shorter Hajj trip (15-20 days haj trip) have to depart for Madina Munawwarah or to their homelands immediately (may be on the very next day) after Hajj. They have to perform their obligatory Tawaf-e-Wida.

Now again comes a critical situation. The Hajis, who will still have enough days to stay (more or less 20 days) in Makkah are greedy to perform Nafli Tawafs and Nafli Umrahs. Therefore, the Hajis who are going to depart earlier find a great deal of difficulty in offering the Tawaf-e-Wida.

SO I WOULD LIKE TO ADVISE YOU TO BE PATIENT IN THE WEEKS BEFORE AND AFTER HAJJ. FACILITATE OTHER HAJIS. AFTER DOING YOUR OBLIGATIONS, SACRIFICE FOR OTHER HAJIS. ALLAH ALMIGHTY KNOWS WHATEVER IS INSIDE YOUR HEART. A MOMIN’s INTENTION IS SUPERIOR TO HIS ACTIONS. ALSO PRAY FOR MULTIPLE VISITS TO THE HOLY PLACES IN FUTURE. INSHALLAH YOU WILL GET MORE OPPORTUNITIES WHEN YOU WILL COME ON UMRAH TRIP IN THE OFF-SEASON.

An alternative is to go on the first floor or the roof of the Haram for Nafli TAWAF and leave MATAF for the other Muslims in order to facilitate them in their remaining obligations.

Note: As per my knowledge, the natives of MAKKAH used to avoid going to MASJID-ul-HARAAM during the HAJJ season in order to leave space for the GUESTS of ALLAH ALMIGHTY. It is simply a clear guideline for the HAJIS as well.

KISSING the Black Stone (Hajr-e-Aswad)

  • It is extremely difficult to kiss Hajr-e-Aswad (the black-stone) because of a huge crowd around it. If you want to kiss it easily, go to MASJID-ul-HARAAM far before ASR Prayers. Soon after the ASR AZAN, the guards move the crowd away from the Hajr-e-Aswad. Then a queue is formed from the corner or Hajr-e-Aswad alongside the wall of HOLY KAABAH. The persons standing in that queue are allowed to kiss the Hajr-e-Aswad one by one. The queue is quite long but the turn comes quite quickly. In this way, one can kiss the Hajr-e-Aswad very easily without any fatigue or difficulty.

Remember! Kissing the Hajr-e-Aswad is Sunnah, while bother a HAJI is forbidden (Haraam.)

  • Always keep your Hajj ID or Passport with you. Never go outside without it otherwise you may find problems. (May you not find any.) Many HAJIS used to go to Jeddah. From Muallim, an approval called Tasreeh is required to go there. But many HAJIS go without getting a tasreeh as well. It is better to get the Tasreeh if you wish to go to Jeddah, and Make Sure That You Have Your Hajj ID or Passport.

GOING FOR HAJJ

Once again check your intentions and make them pure. Again read the restrictions of AHRAM.

  • Pay some charity (Sadqa) and pray Allah to make things easier for you.
  • See the list of things you may need during 5 days of HAJJ. Don’t take any extra luggage/burdon. Most important things are an extra AHRAM, an extra pair of slippers, Miswak, HAJJ BOOK, general medicines, extra spectacles, sunglasses, a dress to wear after HAJJ, Mobile phone with charger/extra battery, odorless petroleum jelly, fragrance free soap, (warm shawl in winter season).
  • Nowadays, many HAJIS used to smoke (cigarette) while in the state of AHRAM. This is strictly prohibited. Remember! ALLAH ALMIGHTY likes HIS believers to wear perfumes and fragrances in their normal life. Yet HE has banned these for the people who are in the state of AHRAM. If the perfumes are banned or simply HARAAM (which give pleasant smell), how could be the smoking cigarette become HALAL that gives a very unpleasant smell and its smell and smoke disturbs the people around? So the people who are addicted of smoking should avoid it whilst in the state of AHRAM. In fact, if they try, they could easily get rid of this habit during the HOLY TRIP.

AT MINA

  • Mina is a place of Tents. There are around 100 MAKTABS in MINA. “MAKTAB” is a term used for a group of tents which may possess more or less 500 tents. All the tents are similar/identical and all the MAKTABs are similar as well. It is usually very difficult to identify your tent because of thousands of similar/identical tents. And therefore, many Hajis lose their way or their companions as well.
  • When you reach your tent in Mina, first of all memorize/note your tent number inside the MAKTAB. Then come out of your tent (preferably with one or two wise companions) and try to find/locate the washrooms and kitchen inside your MAKTAB. Remember the direction in which you are going after coming out of your tent. Once you locate the washroom and kitchen, guide your companions; especially the females.
  • Remember! Cooking or making any sort of fire is STRICTLY prohibited inside the tents in MINA. Some years back, hundreds of HAJIS were burnt when a huge fire blown out in the tents of MINA. So please never violate these instructions. You may get food/tea from the said kitchen located inside your MAKTAB.
  • While coming out of the MAKTAB, you must know the Road Number (in Arabic “Tareeq Raqam”) on which your MAKTAB is located and note/memorize it. Several bridges (in Arabic “Kubri”) are also passing across over/near the tents like Kubri Khalid, Kubri Abdul Aziz etc. If there is one near your MAKTAB, try to know the name of it and keep it in your mind.
  • If you are familiar with the maps, it is better to get a map of Mina. You can get it from your Maktab/ Muallim’s office free of cost. Try to know where the Muallim’s office is and get the map from there before Hajj.
  • Another useful tip is to make some prominent banners of your HAJJ GROUP’s name (in Pakistan), take them with you in MINA and hang them around your MAKTAB.
  • You will reach Mina on the night of 7th Zil-Hajj (it doesn’t make any issue) or on the morning of 8th zil hajj. Now before going to Arafat, you have to do nothing but offering the daily compulsory prayers. So, when you reach in Mina, try, at your convenience, to locate the way to JAMRAAT (the place where you have to do Rami on the 10th, 11th and 12th zil hajj.) It is better to visit JAMRAAT today, i.e. on 8thzil hajj, in order to have an idea of where to go and how to do RAMI.

Note: JAMRAAT is the key place in Mina. If you lose your way, the location of JAMRAAT may help you in finding your way towards your MAKTAB.

  • HAJJ has been falling in winter season during the last few years. Take some warm clothing and odorless petroleum jelly with you as well. In the state of AHRAM, if you feel cold, you may wear more than one sheets, or a warm shawl. For dryness of skin or lips, you may use odorless petroleum jelly.

·         In the washrooms of the HOLY MASJIDS and Mahsa’ir, rubber pipes are used for cleaning instead of pots (LOTA.) [You will not find any pot (LOTA) anywhere in the washrooms except your residences.] The pressure of water is very high. ALWAYS TURN ON THE TAP VERY SLOWLY AND ADJUST THE PRESSURE OF WATER OTHERWISE YOU AND YOUR DRESS MAY GET WET/IMPURE. It is also better to wash the floor of the washroom before using it. Showers are also installed. Warm water is also supplied accordingly. Great!

AT ARAFAT

  • The day of HAJJ i.e. 9th of Zil-Hajj has arrived. After Fajr Salat, recite Takbir-e-Tashriq which is obligatory for every Muslim (man and woman) after every Farz Salat till the ASR Salat on the 13th of Zil-Hajj.

Now you have to reach ARAFAT where you have to stay from afternoon till sunset. At this time, remember that this is that particular day and time for which you have spent that huge capital i.e. 3 lac rupees.

·         Remember! Today is the day of acceptance of supplications! Today is the day of forgiveness! Today is the most worried day for the DEVIL (SHAITAN) for his whole effort to misguide you from the right path is surely going to spoil! Today is the day of pride and honor for you.

·         Remember! Only the HAJIs who are offering SALAT inside MASJID-e-NIMRA and that too behind the IMAM of MASJID-e-NIMRA can offer ZOHR and ASR SALATs jointly. So, if you are staying away from MASJID-e-NIMRA, offer ZOHR SALAT and ASR SALAT separately at their respective times.

  • Recite 3rd KALMA, 4th KALMA, DURUD SHARIF and ASTAGHFAR 100 times each. Then start your supplications.

·         While doing prayers at ARAFAT (or anywhere else; especially while offering daily SALAT), one must remember that…

  • I am seeing ALLAH!
  • ALLAH is observing me!
  • I am the center of attention of ALLAH!
  • ALLAH is listening to me!
  • ALLAH is smiling with happiness for my struggle and effort for performing HAJJ!
  • ALLAH is praising me in front of MALAIKAH (angels.)
  • You have to try your best to get ALLAH’s approval and acceptance regarding your HAJJ. Especially the time before sunset; it would be better to repeat these words …
    • O’ ALLAH! Please accept this effort from me/us…
    • O’ ALLAH! Please approve this effort from me/us…
    • O’ ALLAH! If you do not accept this from me/our; my/our huge capital, my/our 3 lac rupees would be spoiled… All of my/our efforts would be spoiled… I/we would earn nothing but fatigue and dust!
    • O’ ALLAH! Do not reject this effort from me/us please… please… please!

·         Leave ARAFAT after the sunset without offering MAGHRIB SALAT in ARAFAT. The ruling is that you have to offer MAGHRIB SALAT in MUZDALFA and that too when the time of ISHA SALAT starts. (Nowhere before entering MUZDALFA, and not before the time of ISHA SALAT).

·         After spending the daytime in ARAFAT, you have to go to MUZDALIFA to spend the night.  It is approximately six kilometers from ARAFAT to MINA (where your tents are), and MUZDALIFA is about half way there.  One should leave ARAFAT right after Maghrib and walk this trip. In our experience it is actually a lot faster and easier to walk rather than taking the buses (traffic jam is a very common problem) unless you have a physical difficulty for which you are unable to walk that long.

AT MUZDALIFA

  • It is also said that walking has another advantage i.e. the experience of walking on the same route through which the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam walked.  You will see nothing on the right or the left of you but other Muslims going towards the same place you are going to.

·         When you walk from ARAFAT, do not stop as soon as you see the signboards of “MUZDALIFA BEGINS”.  Continue walking for a while and you will find that the areas ahead are far less crowded and the bathrooms are in a much better state.  People used to stop as soon as they reach MUZDALIFA and thus make/find it quite crowded.  So if you continue walking for another 10-15 minutes you would have your pick of spots and with a better bathroom situation.

  • You have to spend the whole night under the sky. It would be better to get closer to MINA in a walk-and-stay manner. (Walk some distance towards MINA, stay and take some rest and food, then start walking again).

·         If you reach MUZDALFA early, wait for the start of the time of ISHA SALAT. After that, offer MAGHRIB SALAT first, and then ISHA SALAT.

  • After offering FAJR SALAT, stay for a while to perform the WUQUF-e-MUZDALFA which is obligatory (WAJIB). It is better to leave MUZDALFA after sunrise (ISHRAQ).
  • Pick the stones for RAMI (Pick approx. 100 stones), wash them and collect them in a small empty water bottle which would be readily available around you.

BACK TO MINA

  • On reaching MINA, you have to perform RAMI.
  • Saudi Hajj Authorities have made several changes in the architecture of JAMRAAT as well as in the process of RAMI. They have constructed several wide multi-storey bridges at the JAMRAAT and construct wide concrete screens at the top of the Devils. Moreover, they now give a particular time for performing RAMI to the HAJIS of a certain MAKTAB. Go for RAMI at the given time in order to assist the Hajj authorities and the HAJIS. Don’t take any luggage, bag or umbrella with you; these things are strictly prohibited to be taken there. These small acts of obedience from your side will INSHALLAH definitely result in a successful HAJJ MOVEMENT with no casualties or losses, like they were occurred almost every year during the last two decades.
  • According to some recent researches and FATAWAs, HAJIs are allowed to do RAMI in the night as well (till the SUBH SADIQ i.e. the time before FAJR AZAN).
  • Women should throw stones for themselves unless there is a physical disability. So take your female companions with you to JAMARAT. Upon reaching, guide them to stay aside near/under a visible place e.g. a sign-board. Then first do your own RAMI and after that, facilitate them in doing their RAMI.
  • According to FIQAH HANAFI, the sequence must be followed in RAMI, QURBANI and HALAQ (haircut) otherwise you have to pay DAM (penalty). Therefore, on the 10th Zil-Hajj, after coming from MUZDALFA, first perform RAMI (throw stones to Devil) at the time given by the Hajj authorities, then slaughter the animal and finally have a haircut. Don’t see what the other HAJIS are doing. Follow your own FIQAH.
  • Remember! You are in the state of AHRAM and on a HOLY JOURNEY. Because of plenty of spare time in MINA, people start discussions on unnecessary topics, start cursing people or even start sharing vulgar jokes. You must try to avoid these sorts of discussions as these are useless as well as HARAAM. Concentrate only on HAJJ matters and try to teach each other.
  • As per my experience, there is a lot of cheating in Sacrifice/Slaughter (Qurbani/Zabiha). Try to go yourself to the slaughter house and do the sacrifice (Qurbani/Zabiha) in front of you, or send a reliable person as AMEEN. Don’t trust on any unknown person or banks for Qurbani/Zabiha.
  • After the confirmation of Slaughter, have a haircut and break your AHRAM. Now you can wear your normal dress.
  • Now you have to offer Tawaf-e-Ziarah and Saee of Hajj. You must do Tawaf-e-Ziarah before the sunset of the 12th Zil-Hajj. Other obligations are the Rami of three Devils (shaitan) on the 11th and 12th Zilhajj.
  • Leave MINA before sunset on the 12th of Zil-Hajj. You may leave after that as well. But if you stay in MINA till the Subh-e-Sadiq of the 13th Zil-Hajj, the Rami of the 3 Devils on the 13th of Zil-Hajj will become obligatory, and if you will not do it, you have to pay the penalty (DAM).
  • Last obligation of Hajj is the Tawaf-e-Wida or the Farewell Tawaf. You have to do it before your departure from Makkah Mukarramah. If one departs from Makkah without offering Tawaf-e-Wida, he has to pay the penalty (DAM). But if one has offered a Nafil Tawaf after Tawaf-e-Ziarah and then he could not offer Tawaf-e-Wida, then that Nafil Tawaf will compensate the Tawaf-e-Wida. In this case, he does not have to pay any penalty.

 Congratulations on achieving a successful (and, INSHALLAH, approved) HAJJ…

HAJJ MUBARAK

—–======——======—–=====—–=====—–

MADINA MUNAWARAH

  • Another most respectable ritual of the HAJJ/UMRAH trip is to go to MADINA MUNAWARRAH and pay SALAM to the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam.
  • On the way to MADINA, recite Durud Sharif as much as you can.
  • When you reach MADINA MUNAWARRAH, try to offer all the prayers inside the MASJID-e-NABWI, preferably in the area closer to the ROZA MUBARAK as per your convenience.
  • To offer nawafil inside RIYAZ-UL-JANNAH, it is better to go inside the MASJID-e-NABWI 1 or 2 hours after Isha prayers. Now the MASJID-e-NABWI is opened 24 hours. Several timings are fixed for women. Women are usually sent in groups according to their nationality. The workers show the national flags in order to call the women pilgrims of that country. Teach your females to show discipline and respect being inside MASJID-e-NABWI; and especially while going towards the PROPHET’s Grave. (Sallallaho Alaihe Wasallam).

EXTREMELY IMPORTANT

  • You should be extremely careful at the time of visit to ROZA MUBARAK. Your voice should not get loud in any case. See Surah HUJURAT, Verses no. 1 & 2. (I am sure you did). Don’t turn your back to the ROZA-e-MUBARAK accept offering congregation prayers.
  • On my recent trip (2010) I have noticed many people who were capturing snapshots and videos with mobile phone’s/digital cameras while on the way towards and in front of the Grave of The Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam. These things are completely ridiculous and totally against the teachings of the above said verses of Surah HUJURAT. May Allah Almighty guide us all.
  • It is also reported that many HAJIs contact their relatives while standing in front of the HOLY PROPHET and say: “I am standing in front of the HOLY PROPHET, pay your Salam to The Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam.” This is a very silly act and BID’At. MAY ALLAH ALMIGHTY GUIDE US ALL.
  • With high respect, say SALAM in a medium and gentle voice. Keep in mind the meanings of the sayings of Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam which mean that whoever comes to my grave is like one who met me in my life. Keep in mind that the Prophet Muhammad Sallallaho Alaih e Wasallam is listening my SALAM.
  • Don’t make any supplications there. When you have finished, go away from the ROZA-e-MUBARAK, turn towards KAABAH, raise your hands and make your supplications.
  • When you come out after saying SALAM to the HOLY PROPHET (Sallallaho Alaihe Wasallam), don’t drop your shoes from height as they make a loud noise. Lean down and put your shoes on the ground gently.
  • You may know that MASJID-e-QUBA is the first MASJID of Islam. And according to the meaning of a Hadith Mubarka, if one offers nafil SALAT there with pure intentions, he will get reward of an Accepted/approved (MAQBOOL) UMRAH. So take advantage of this opportunity and offer as many nawafil as you can and earn the reward of maqbool umrah. But remember one thing! When you go with the group for the ZIARAAT trip, offer 2 or 4 nafl. There is an alternate plan! After offering FAJR Prayers in Masjid-e-Nabwi, go to Masjid-e-Quba via taxi and offer ISHRAQ prayers there, then offer as many nawafil as you wish. Our beloved HOLY PROPHET (Sallallaho Alaihe Wasallam) used to go to Masjid-e-Quba on Saturday’s.
  • Arab people, especially the natives of MADINA MUNAWARRAH, used to keep a FAST on Mondays and Thursdays as this is a Noble Sunnah of the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam. They break their FAST (IFTAR) in MASJID-e-NABWI and for this, they bring dates and other eatables with them in big quantities. You may find hundreds of very long plastic sheets, laid down inside the MASJID-e-NABWI, decorated with dates, ZAMZAM water and other eatables. Try to keep a FAST and attend/enjoy the IFTAR there… (anybody can).
  • There are only two things to be brought from HARAMAIN SHARIFAIN; ZAMZAM water from MAKKAH MUKARRAMAH and dates from MADINA MUNAWARRAH. So try to purchase dates from MADINA MUNAWARRAH. The wholesale market of dates is very near from MASJID-e-NABWI. Stand in front of MASJID-e-NABWI while facing KAABAH. Now see/go straight in the RIGHT DIAGONAL DIRECTION, cross the outer courts of MASJID-e-NABWI and then carefully cross the road (carefully). Now you are about to reach the dates market. Dates naming MABROOM, KHUDHRI, KALMA (QALMI), AJWA, and AMBER are very special. AMBER and AJWA are quite expensive while the others are relatively cheaper.

A Comprehensive Dua for all Sacred Places

  • O Allah! Please grant me whatever had been asked by the Prophet Muhammad Sallallaho Alaihe Wasallam, His companions (Sahaba Kiram) and other noble MUSLIMS, at this particular place. Aameen!

MISCELLANEOUS ADVICES

  • Whenever you face any difficulty, pay some charity (Sadqa) and pray Allah to make things easier for you. It is better to give charity to the workers of the two HOLY HARAMS.
  • Usually after every FARZ SALAT, dead bodies (JANAZAHs) come in both the HOLY HARAMS and the SALAT-ul-MAYYIT (Namaz-e-Janazah) is offered. So, be prepared for that, and if required, learn the Dua of SALAT-ul-MAYYIT. Stay for a couple of minutes after every FARZ SALAT before offering sunnah or nawafil SALAT, in case there is a JANAZAH prayer to be held.
  • O Brother! Remember! Like you, every Muslim wishes to offer SALAT in HATEEM, in RIYAZ-ul-JANNAH, at the place of ASHAAB-e-SUFFAH and other such sacred places. But when a Muslim gets a place there, he unfortunately holds that place as if it is only his right to sit there and offer SALAT. You may see people who would be offering continuous prayers or reciting the HOLY QURAN in RIYAZ-ul-JANNAH while hundreds of other Muslims are dying to find a place to offer SALAH inside the RIYAZ-ul-JANNAH. You are requested not to show attitude like this (I use the term QABZA GROUP for the people showing this attitude). Offer SALAT and leave the place for another Muslim.
  • Try to reach HARAM (both) at least 30 minutes before AZAN in order to offer SALAT comfortably. And on FRIDAYs, you must reach the HARAM as late as 11.00 A.M otherwise you will hardly find any place inside HARAM.
  • Never sit in the passages and stairs of the HARAMAIN SHARIFAIN. You may see people sitting in the passages and stairs waiting for SALAT while there is an ample space left vacant inside the MASJID and thus, people who get late to reach HARAM couldn’t even find a place to enter the MASJID.
  • You may find plenty of spare time during your visit to the HOLY HARAMAIN. Spend this time in learning the religious affairs. For example, if there is any HAFIZ-e-QURAN or QARI in your group, try to learn TAJWEED in order to recite the HOLY QURAN and offer SALAT properly. This is an excellent opportunity for you.
  • There is an office of Wheel Chairs at the extreme end of the court outside Safa/Marwa near the birth place of Rasulullah Sallallaho Alaihe Wasallam. From there, after submitting an ID, any Haji can get a wheel chair (if required) free of cost and use it. The color copy of the Pakistani CNIC is also acceptable.
  • Similarly, there is an office of Wheel Chairs at the gate no. 8 naming “Saud Gate” at the right side of the MASJID-e-NABWI (keeping the QIBLA direction in front of you). From there, after submitting an ID, any Haji can get a wheel chair (if required) free of cost and use it.

Caution: Never submit your passport there to get a wheel chair as your passport may get lost. You may submit the color copy of your CNIC to get a wheelchair. They accept color copy of CNIC.

  • For filling the 10-liter can of ZAMZAM water, there is a place at the extreme end of the court outside Safa/Marwa near the birth place of Rasulullah Sallallaho Alaihe Wasallam. You have to walk a lot and also wait for quite a while for your turn. Therefore, it is better to go there after ISHA SALAT, in order to avoid scorching afternoons. And if you have your own wheelchair or a trolley, you may use it to carry the can(s) easily.

Caution: Never use the borrowed wheelchair for carrying your luggage or heavy cans of water as it may result in the damage of wheelchair. Remember! These wheelchairs are being provided to facilitate the handicapped HAJIS. You may purchase a folding trolley which is a very handy thing and easily available at the shops around HARAMAIN for about 30 Saudi Riyals.

  • In the crowded days you may find serious difficulties while purchasing the meals right after ZOHR or ISHA SALAT because of the presence of hundreds of customers. Therefore it would be better to buy your meals from the nearby restaurant before going for SALAT; or go to the restaurant at least 30 minutes after SALAT to get the meals easily.
  • On my recent trip (2010) I have noticed many people were capturing snapshots and videos with mobile phone’s/digital cameras, or making phone calls while performing TAWAF. These acts are simply ridiculous and totally against the teachings of the SHARIAH. May Allah Almighty guide us all.
  • HAJR-e-ASWAD (The Black Stone) is the only place allowed for kissing. Therefore, avoid kissing any other sacred place or thing e.g. Maqam-e-Ibrahim, etc.
  • It is highly advised that the female pilgrims should consult a lady doctor and ask her to prescribe some medicines for avoiding menstruation during the HOLY TRIP. Take these medicines as per your doctor’s advice.

Caution: Women should not enter any MASJID whilst in the state of impurity as it is forbidden according to SHARIAH.

  • Women must wear a black coat (abaya).
  • Men should teach women how to offer SALAT in congregation.
  • Women should offer SALAT at their residence. However, being present in the HOLY MASJID at the time of congregation SALAT, they can offer SALAT in congregation; however they should offer SALAT in the areas which are particularly marked for women. You may find women offering SALAT with their male companions.

Remember! If a woman offers congregation SALAT while standing amongst males, she would be the culprit of spoiling SALAT of 3 men; one on her right, one on her left and one behind her.

  • Women should NEVER go to the densely crowded places; especially the HAJR-e-ASWAD (Black Stone) or MULTAZAM. Allah surely knows your intentions and wishes; HE Almighty will reward you for the same, Inshallah.
  • Always be careful while crossing the roads.
  • Have you ever checked your SALAT? Have you ever tried to learn the SUNNAH way of offering SALAT or you are still offering the SALAT in the same way you had learned during your childhood?

Caution: Majority of people is found offering SALAT in a very casual manner. Even they do not know the compulsions and obligations of the SALAT. So it is highly advised to learn the SUNNAH method of offering SALAT as it has to be offered 5 times a day.

  • Daily, after MAGHRIB SALAT, Molana Makki Sahab used to give a speech in URDU language in MASJID-ul-HARAAM. Try to attend that particular speech. After ISHA SALAT, a Question/Answer session also takes place. If you wish to ask a question, write that on a piece of paper and send it to Molana Sahab. You will get the answer at your turn, inshallah.
  • If you are facing difficulties in finding a particular place inside/around the HOLY MASJIDS, ask any worker (khadim). All the workers (khuddam) can speak/understand certain languages; especially URDU.
  • Pocket-pickers are also present there. Therefore, when you are there, don’t carry all of your money (currency) in a single pocket; especially when you are going to perform TAWAF, or going to MULTAZAM or HATEEM or HAJR-e-ASWAD, or any other similar densely crowded place. Only put money that is sufficient/enough for daily use. Approximately 50 Saudi Riyals are more than enough for a day. Put rest of your money in a safe place which could be a pocket on the inner garment. However, when you are leaving from Pakistan, carry all your money either in your AHRAM’s belt or in your Hand Bag. Don’t leave it in your luggage/suitcase.
  • At the time of your departure from JEDDAH AIRPORT, don’t forget to send your flight number to your family/relatives. Tell them to confirm the flight’s exact arrival time from the Airline’s flight enquiry, before coming to the airport to receive you.

Caution: Hajj flights usually get late.

The Basic Key

The more you are prepared, the easier is the Hajj for you.

Back Home

After reaching home, first of all thank Allah Almighty for giving you this valuable opportunity. Try to stay away from the Sins and evils for the remaining life. I repeat! Performing Hajj is another thing… and taking it to the grave is another thing. May Allah protect you… Aameen.

Share your memories with your relatives and friends. Share the blessings, but avoid sharing the problems/difficulties. I know a person of my family, who had got multiple chances to visit the HOLY HARAMAINs, and every time when she came back, unfortunately, she only discussed the problems she had faced there. Don’t forget! You were the guest of Allah Almighty. And discussing only the problems means an allegation the hospitality of our beloved Allah.

In future, if you find anybody going to perform Hajj/Umrah, try to teach him/her the Manasik. This act will become a Sadqa-e-Jariya for you, Inshallah.

Wish you all the best, O the HONORABLE GUEST of ALLAH!

May HE Almighty makes this Holy Journey and all the MANASIK easier for you, and May He Almighty accept/approve this effort from you and from all the HAJIs, and May He Almighty grant and bless all of you with whatever He Almighty has promised. Aameen.

One last statement…….!!!

May be you are thinking that you are “dying” to go there…

But believe me! You are not dying to go there; in fact you are “willing” to go there!

You will surely understand the difference once you would have returned…!

(Abhi aap ko lag raha ho ga k aap Haramain Sharifain ki ziyarat k liye tarap rahay hen…

Lekin yaqeen janiye… ye tarap nahi, talab hy…. Tarap kya hoti hy, ye wahan say aanay k baad pata chalay ga).

My eyes are getting wet now.

The Hajj season makes my eyes wet every year… as I always wish… I could be there….!

{Yeh HAJJ ka mosam bhi ajeeb hy… Her saal sogwar kr deta hy…}

Fi Amanillah

Aspirant for Prayers

Abu Shaheer

P.S: If you feel this document is worthy, please give me a favor by forwarding it to the other people who are going for Hajj/Umrah.

Jazakallah!

Some small acts of generosity!
  • Say Salam to strangers
  • Help a new-comer in performing UMRAH.
  • Buy tea for someone
  • Fetch ZAMZAM water for others; especially for your roommates
  • Offer to carry someone’s groceries
  • Carry someone’s bags for them
  • Guide someone ill to the infirmary
  • Recite TALBIYAH loudly, encouraging others
  • On the days of Eid, walk through the tents reciting Takbir-e-Tashriq loudly reminding others
  • Gather stones for people
  • Offer to throw on behalf of disable Hajjis
  • Guide people to the Jamarat
  • Lower your gaze
  • Remind people of the lives of the Sahaabah
  • Give major attention to shy people in your group
  • Remind people of patience, and why they came here
  • Explain the importance of purifying ones actions for the sake of Allah
  • Make dua for forgotten friends (and the author of this list)
  • Don’t allow Muslims to fight during Hajj
  • Give charity to the workers (Khuddam) of the two HOLY MASJIDs
  • Offer a free haircut to the HAJIs if you know how to do it
  • Remind people to go home as better Muslims
  • Compliment someone sincerely
  • Take young Muslims and invite them to sit with the elders. Make them the center of attention
  • Give a tafseer class after Salah / ask someone knowledgeable
  • (For men) Offer perfume to those around you inside the HOLY MASJIDs
  • Focus hard on helping those immediately near you
  • Take people to the slaughter house and help them / Or assist them in purchasing their slaughter coupons
  • Fill your pockets with candies and give to the children that you meet
  • Always intend reward from Allah for everything you go through during Hajj
Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, علم دین

Labbaik Allahumma Labbaik

(اس مضمون میں مناسک حج و عمرہ ایک نہایت منفرد انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ مختصر تمہید کے بعد اصل مضمون شروع ہوتا ہے۔ مکمل مضمون پڑھنے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نیا ولولہ، ایک نئی تازگی محسوس کریں گے۔ ان شآء اللہ)

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔ 

از۔۔۔ ابو شہیر 

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ یہ مالی و بدنی عبادات کا مجموعہ ہے ۔ حج ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مسلمان ، عاقل و بالغ ، تن درست اور مالدار ہو ۔ جیسا کہ درج ذیل آیت میں حکم ہے ۔

و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین o  {اٰل عمران ۔ ۹۷}

مفہوم : اور … لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو ، وہ اس کا حج کرے…. اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو بھی وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے ۔

سبحان اللہ ! اللہ رب العزت …. جس نے اپنی ذات کا خود تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ غنی ہے ، وہ صمد ہے ، وہ بے نیاز ہے ، وہ بے عیب ہے ، اس کی ذات کسی بھی قسم کی اثر پذیری سے پاک ہے ، ساری دنیا نافرمان ہو جائے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ساری دنیا فرمانبردار بن جائے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا …. وہ جو داتا ہے ، جو عطا ہی عطا ہے ، جس کی صفت نوازنا ہی نوازنا ہے ، دینا ہی دینا ہے …. وہ اللہ رب العالمین کہہ رہا ہے کہ لوگوں پر میرا یہ حق ہے کہ جو میرے گھر یعنی بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ میرے گھر کا حج کرے ۔
ذرا غور کیجئے ! اللہ تعالیٰ نے دنیا پہلے بنائی …. دنیا کو پہلے سجایا ، ہمیں بعد میں اس دنیا میں بھیجا ۔ بے شمار نعمتیں بن مانگے ہی عطا فرما دیں ۔ ایمان و صحت ، گاڑی ، بنگلہ ، نوکر چاکر ، بینک بیلنس ، بیوی بچے ، عیش و عشرت…. کیا کچھ عطا فرما دیا ۔ اس سب کو ذہن میں رکھتے ہوئے بندہ جب مذکورہ بالا آیت کا جائزہ لیتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت اس سے سوال کر رہی ہے کہ “اے  بندے ! تیرے رب نے تجھے اتنی ساری نعمتیں عطا کیں …. تو کیا اس رب کا اتنا بھی حق نہیں بنتا کہ تو اس کے  گھر کا حج کرے ؟ “

پس ! جن لوگوں کو یہ بات سمجھ آ جاتی ہے وہ پکار اٹھتے ہیں …. لبیک اللہم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔میں حاضر ہوں ! میرے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ہوں ۔ سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور ملک بھی تیرا ہی ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ مبارک ہیں وہ عشاق ، جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا ۔ جی ہاں ! یہ مبارک کلمات یعنی …. لبیک اللہم لبیک …. یہ حج کا ترانہ ہیں ۔
لیکن اے رحمان کے معزز مہمانو! ان کلمات پر غور بھی کر لینا کہ یہ کلمات دراصل کیا ہیں ؟ ان الفاظ کی ادائیگی سے کون سی ادا ظاہر ہونی چاہئے ؟ کسی فلسفے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک دیوانگی کا اظہار ہے جو بندہ اپنے رب کی محبت کے اظہار کے طور پر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اب میں قدم قدم پہ اپنے نفس کی ، اپنی خواہشات کی ، اپنی پسند نا پسند کی نفی کرنے کو تیار ہوں ۔
اللہ کہے : میرے بندے ! حج کی ادائیگی کے لئے تیار ہے ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : یہ بڑا اونچا عمل ہے ۔ اس کی ادائیگی کے لئے مال بھی پاکیزہ (حلال ) ہونا چاہئے ، نیت بھی پاکیزہ (خالص ) ہونی چاہئے ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! مجھے پتہ ہے کہ تجھے مال سے محبت ہے ۔ دیکھ لے ! بڑا خرچہ ہو جائے گا تیرا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھ لے تجھے اپنا گھر بار اور بیوی بچے بھی بہت عزیز ہیں ۔ میری خاطر یہ سب چھوڑنے کو تیار ہو ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : آگے بڑی مشقت ہے ۔ آرام نہیں ملے گا ۔ پیدل بہت چلنا پڑے گا ۔ توتھک جائے گا ۔ برداشت کر لے گا یہ سب ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : گرد و غبار بھی سہنا پڑے گا ۔ گرمی بھی بہت ہو گی ۔ بندہ کہے : میرے اللہ ! قیامت کی گرمی سے بچا لینا ۔ جہنم کی آگ سے بچا لینا ۔ میں حاضر …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اچھا ! چل بھئی پھر اب احرام باندھ لے ۔ اپنے کپڑے اتار کر دو چادریں باندھ لے ۔ (عمرہ کی نیت کر لے ) ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے !میری بندی ! اب بال اور ناخن نہیں کاٹنا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! اب خوشبو نہیں لگانا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اب سر کو مت ڈھانپنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اب بند جوتا نہیں پہننا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! چہرے کو کپڑا مت لگانا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! اب آپس میں میاں بیوی والا تعلق قائم نہ کرنا ۔

وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : بلکہ اب تو اس قسم کی (یعنی شہوت والی ) کوئی بات بھی نہ کرنا ، الفاظ بھی منہ سے نہ نکالنا ، ایک دوسرے کو اس نیت سے چھونا بھی نہیں ۔ وہ کہیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو !اب کوئی گناہ کا کام نہ ہونے پائے ۔ بندے بندیاں جواب دیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو !لڑائی جھگڑا مت کرنا ۔ بندے بندیاں کہیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو ! یہ میرے حرم کی حدود ہیں ۔ ان کی حرمت کا خیال رکھنا ۔ گھاس پتے نہ توڑنا ۔ جوں ٹڈی نہ مارنا۔ شکار نہ کرنا نہ شکار کی طرف رہنمائی کرنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اضطباع کر لے یعنی اپنا دایاں کندھا کھول لے ۔ اور طواف کی نیت کر لے۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک …. 1
اللہ کہے : حجر اسود کا استلام کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….میرے اللہ !تیر ے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پتھر کا بوسہ لیا ۔ میں تیرے حکم اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع میں اس پتھر کا بوسہ لیتا ہوں ۔ بلکہ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کے بوسے کا بھی بوسہ لیتا ہوں ۔{  تیرےبوسے کو بوسہ دیتے ہیں سنگ اسود پر       وگرنہ ہم مسلمانوں کا کیا رکھا ہے پتھر میں}

اللہ کہے : اب میرے گھر کے گرد پروانہ وار (سات )چکر لگاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! شروع کے تین چکروں میں پہلوانوں کی طرح اکڑ اکڑ کر چلو (رمل کرو ) اور آخر کے چار چکر عام انداز سے چل کے پورے کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : کندھا دوبارہ ڈھانپ لو اور میرے گھر کی چوکھٹ (ملتزم ) پر آؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : مقام ابراہیم کے پیچھے جاکر دو رکعت نماز (واجب الطواف ) ادا کرو ۔ ( ایسی جگہ ادا کرو کہ طواف کرنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے تمہیں بھی نماز کی ادائیگی میں تکلیف نہ ہو اورتمہارے نماز پڑھنے سے طواف کرنے والوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔ پوری مسجد مقام ابراہیم کے پیچھے ہے ) بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : زم زم پانی پیو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب صفا مروہ کے درمیان سعی کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! سبز ستونوں کے درمیان دوڑو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : سر کے بالوں کی قربانی دو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب چادریں اتار کر اپنے کپڑے پہن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : جاؤ اب میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہو کر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی …. دیکھو میرے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار کے آداب کا خاص خیال رکھنا ۔ آواز پست رکھنا ۔ زور زور سے نہ بولنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب واپس مکہ آکر عمرہ ادا کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
پھر آٹھ ذی الحج کا دن آن پہنچے اور اللہ کہے : (حج کی نیت سے ) دوبارہ احرام باندھ لو اور (ظہر سے قبل )منیٰ میں پہنچ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : نو ذی الحج کو (زوال آفتاب سے قبل )عرفات کے میدان میں آ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : ظہر عصر کی نماز ملا کر پڑھو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : غروب آفتاب کے بعد اب مزدلفہ کے میدان کو چلو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو ابھی مغرب کی نماز مت پڑھنا ( ہر چند کہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے ) ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک….
اللہ کہے : مزدلفہ کے میدان میں پہنچ کر (عشاء کا وقت ہو جانے کے بعد )مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : رات کھلے آسمان کے نیچے بسر کرنی ہے ۔ سردی بھی لگے گی ۔ گر دو غبار بھی سہنا پڑے گا ۔ نیند بھی قربان کرنی پڑے گی۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : شیطان کو مارنے کے لئے مزدلفہ کے میدان سے کنکریاں چن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دس ذی الحج کی صبح فجر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر مزدلفہ میں ٹھہر کر وقوف مزدلفہ ادا کرو ۔ بندہ کہے…. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب واپس منیٰ کو لوٹ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب جا کے صرف بڑے شیطان کو سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک …. 2
اللہ کہے : چلو اب دم شکرانہ (ذبیحہ ) ادا کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب بال کٹوا لو ۔ بندہ کہے …. میرے اللہ ! تو بال کٹوانے کو کہہ رہا ہے ۔ آج تو میں تیری خاطر سر کٹوانے کو بھی تیا ر ہوں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب چادریں اتار کر عام لباس پہن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندو! دیکھو ! احرام سے تو باہر آ چکے ہو لیکن طواف زیارت سے قبل ازدواجی تعلقات قائم مت کرنا ۔ بندے بندیاں کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب طواف زیارت ادا کرو ۔ صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے: گیارہ ذی الحج کو تینوں جمرات کی رمی کرو یعنی سات سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : بارہ ذی الحج کو تینوں جمرات کی رمی کرو یعنی سات سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! تو نے یہ سب کچھ کر دیا ۔ اب میری باری ہے ! جا میں نے تیرے سارے (صغیرہ و کبیرہ) گناہ معاف کر دئیے ۔بلکہ ان کو نیکیوں سے تبدیل کر دیا۔ بندہ خوشی سے جھومتے ہوئے نعرہ مارے …. ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! دیکھ اب میں نے تجھے پاک صاف کر دیا ۔ اب میری نافرمانی نہ کرنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب آخری کام ۔ طواف وداع ادا کرو ۔ بندہ کی کراہ نکل جائے … کہ اب بیت اللہ سے رخصت کا وقت آن پہنچا ۔ اس کربناک کیفیت میں بھی بندہ یہی کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میں تیرے دل کی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہوں ۔ تو میرے گھر سے جدائی کا رنج نہ کر ۔ میں ہر جگہ تیرے ساتھ ہوں ناں ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! غم نہ کر ! میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبانی تجھے ضمانت دی تھی ناں کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ بس مجھ پر ، میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کے وعدے پر یقین کر لے کہ جنت تیری منتظر ہے ۔ تو عنقریب اس میں داخل ہو نے والا ہے ۔ بندہ کہے :…. لبیک اللہم لبیک ….
اور پھر ایک دن جب بندے کی سانسیں رک جائیں ……. تو اللہ کہے : …. یا ایتھا النفس المطمئنۃ o ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ o فادخلی فی عبادی o وادخلی جنتی o ….
اے اطمینان پانے والی روح ! اپنے رب کی طرف لوٹ چل ، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ۔ تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا ۔ اور میری بہشت میں داخل ہو جا ۔ {الفجر 27-30 }
اور جنت میں داخلے کا پروانہ ملنے کی خوشی میں بندہ نعرہ مارے:…. لبیک اللہم لبیک ….لبیک لا شریک لک لبیک۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

1۔ فقہی حکم یہ ہے کہ عمرہ کے طواف کی نیت کے بعد تلبیہہ پڑھنا بند کر دی جائے۔۔۔ اس سے اگلے مراحل میں ہم نے جو لبیک اللہم لبیک کی تکرار کی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ حاجی کی قلبی کیفیت اور جذبہ وہی رہے ۔۔۔ یعنی خود سپردگی  اور تسلیم و رضا۔

2۔ اسی طرح فقہی حکم کے مطابق دس ذی الحج کو رمی جمار سے قبل تلبیہہ پڑھنا بند کر دی جائے گی۔۔۔ اس سے اگلے مراحل میں ہم نے جو لبیک اللہم لبیک کی تکرار کی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ حاجی کی قلبی کیفیت اور جذبہ وہی رہے ۔۔۔ یعنی خود سپردگی اور تسلیم و رضا۔