Emaan, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Ramadhan, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Apni Fikar Karo

اپنی فکر کرو

(رمضان المبارک میں ایک قوال کے قتل پر لکھی جانے والی تحریر)

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی زبانوں کو لگام دو۔
خدارا۔۔۔ شر نہ پھیلاؤ!
دیکھتے نہیں ہو۔۔۔
رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

کیا خبر!
کون کون اپنے حصہ کا پروانہ آزادی حاصل کر چکا ہو۔۔۔!
کیا خبر!
کس کس کے لئے جنت کا فیصلہ ہو چکا ہو۔۔۔!

کیوں  مرنے والے کے لئے جہنم کے فتوے جاری کر رہے ہو؟
صرف اس لئے کہ وہ بظاہر گناہ گار تھا؟
ارے تم جہاں والوں سے چھپ چھپ کر۔۔۔
تنہائی میں جو کچھ کرتے ہو۔۔۔
کیا تم گناہ گار نہیں ہو؟
پھر تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟

ذرا یہ تو بتاؤ۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے ۔۔۔
تو تمہاری جیب سے  کیا جاتا ہے۔۔۔؟
بتاؤ تو سہی۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے۔۔۔
تو کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ وہ سوال کر سکے اللہ سے۔۔۔۔
کہ آپ نے اسے جنت میں کیوں ڈال دیا۔۔۔؟
ارے پوچھو گے اللہ سے؟
ارے پوچھ سکتے ہو اللہ سے؟

چھوڑو مرنے والے کو۔۔۔۔
وہ اپنی منزل کو پہنچ گیا۔۔۔

اس کی سانسیں پوری ہوئیں۔۔۔
اس کے عمل کی مہلت ختم ہوئی۔۔۔
اب اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔۔۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔۔۔

اسے چھوڑو۔۔۔
اپنی فکر کرو۔۔۔
کہ ابھی سانسوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
ابھی عمل کے لئے مہلت باقی ہے۔۔۔!

دیکھتے نہیں ہو۔۔۔ رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی فکر کرو!ً

Advertisements
امر بالمعروف و نہی عن المنکر

The Moment!

اَلسَّاعَۃ

صبح کا اخبار اٹھایا تو شہ سرخی میں گزشتہ روز پیش آنے والے ہیبت ناک واقعے ہی کا ذکر تھا ۔ اور ہونا بھی چاہئے تھا ۔ کچھ دیگر خبریں بھی اسی واقعے سے متعلق تھیں ، یعنی واقعے کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے خاصی تفصیلی رپورٹنگ کی گئی تھی ۔

تاہم باقی خبریں معمول کے مطابق تھیں۔ یعنی وہی بم دھماکے  ، وہی قتل و غارت ، وہی چوری ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں ، وہی الیکشن کا دنگل اور وہی سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازیاں۔ اخبار کے دیگر صفحات بھی معمول کے مطابق ہی تھے ۔ وہی ہالی وڈ ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی خبریں ۔ وہی فلموں ڈراموں پر عمیق تبصرے۔ وہی نئی فلموں کے پوسٹرز اور وہی فلمی اداکاراؤں کی نیم برہنہ تصاویر ۔ میگزین کھولا تو وہی فیشن اور ڈریس ڈیزائننگ کے نام پر عریانی کے مناظر ۔

اسی اثنا میں گلی میں بچوں کی اسکول وین آنی شروع ہو گئی تھیں ۔ جن میں سے کسی میں نعتوں کے نام پر دھمال ڈالی جا رہی تھی تو کہیں فلمی گانے بآواز بلند بج رہے تھے ۔ دفتر جانے کے لئے سڑک پر آئے تو وہی روزانہ کی ہنگامہ آرائی ۔ آگے نکل جانے کی دوڑ میں ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی اور جھگڑے ۔ گالی گلوچ ۔ ہاتھا پائی  کے مناظر ۔ قریب سے ایک بس گزری تو اس میں بھی اونچی آواز میں گانے بج رہے تھے ۔ پیچھے ایک بائیک پر ایک صاحب ایک خاتون کے ہمراہ رواں دواں تھے جو لباس پہنے ہوئے ہونے کے باوجود بے لباسی کی تصویر بنی ہوئی تھیں۔ بس اسٹاپ پر بھی دفتر اور اسکول جانے والی خواتین کی بے پردگی اور فیشن زدگی حسب معمول تھی ۔ اور اس “دعوت نظارہ “پر لبیک کہنے والے راہ چلتے ہر عمر کے مردوں کی رال بھی روزانہ کی طرح ٹپک رہی تھی ۔ سڑک کے کنارے لگے دیو ہیکل سائن بورڈز اور ہورڈنگز پر  حیا باختگی کے مناظر بھی جوں کے توں تھے ۔

دفتر پہنچے تو وہاں بھی وہی بے تکے اور بے ہودہ تبصرے ، تکیہ کلام کے طور پر گالیوں کا بے محابہ استعمال ۔ اسی دوران ایک انشورنس کمپنی کا ایجنٹ اپنی کمپنی کی دنیا بنانے یعنی سودی بزنس بڑھانے کے لئے گاہک گھیرنے آن پہنچا اور یوں اپنے ساتھ ساتھ گاہکوں کی بھی عاقبت خراب کرنے کی تگ و دو کرنے لگا۔ چائے پینے کے لئے کوئٹہ ہوٹل پر بیٹھے تو وہاں بھی ہوٹل کے مالک نے اپنے لئے “صدقہ جاریہ ” کا اہتمام کیا ہوا تھا یعنی جہازی سائز کے ٹی وی پر ہندوستانی فلم چل رہی تھی جس میں ناچ گانے کے علاوہ “بولڈ ” مناظر بھی رواں دواں تھے ۔ اطراف میں بیٹھے لوگوں کا بھی موضوع گفتگو وہی سیاست اور اس بحث کے دوران سیاستدانوں کے بارے میں وہی بد کلامیاں ، گھٹیا تبصرے …. مذاق کے نام پر بے ہودہ لطیفے اور فحش اشارے ۔

ڈیوٹی کے دوران ایک اسکول کا وزٹ کیا  تواسکول کے پلے ایریا میں ایک میراثی یعنی میوزک ٹیچر معصوم بچوں کو سُر سنگیت کے رموز و اوقاف سکھانے میں مصروف تھا۔ اور وہاں موجود استانیوں کی فیشن زدگی اور میک اپ کو دیکھ کر لگا کہ گویا ٹیچنگ نہیں ماڈلنگ کے لئے آئی ہوئی ہیں ۔ ایک اسپتال کا وزٹ کیا تو وہاں استقبالیہ کاؤنٹر پر بھی ایسی ہی مخلوق سے پالا پڑا …بلکہ وہاں تو خواتین کا ساتھ کام کرنے والے مردوں سے ہنسی مذاق دیکھ کر یہی محسوس ہوا کہ یہ بھی معمول کی بات ہے۔ قریب ہی بہت سارے بینک تھے جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ روزانہ کی طرح پوری شدت سے جاری تھی۔ ایک دوکان پر کچھ خریدنے کے لئے پہنچے تو دیکھا کہ حضرت نے موبائل فون کو کمپیوٹر کے اسپیکرز سے کنکٹ کر کے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کی “جگاڑ “کر رکھی تھی ۔ اس کو ہم نے گزشتہ کل کا واقعہ یاد دلایا تو سنتے وقت اس کے چہرے کی ناگواری و بیزاری دیدنی تھی ۔

ظہر کا وقت ہوا تو مسجد میں نماز پڑھنے گئے ۔ وہاں نمازیوں کی وہی مختصر سی تعداد ۔ پھر حسب معمول دوران نماز موبائل فون پر بجتی ہوئی موسیقی کی دھنیں اور نغمے ۔ نماز کے بعد مسجد سے آگے بڑھے تو گلی میں گول گپے والا احمد رشدی کی روح کو ” ایصال ثواب”  پہنچاتا اور اہل محلہ کی “دعائیں” لیتا ہوا جا رہا تھا ۔ پیچھے پیچھے والز آئس کریم والا اپنی سائیکل نما ریڑھی پر مخصوص دھن بجاتا ہوا اس “کار خیر “میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا ۔ قریبی اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی  اور وہاں بھی اسی نوعیت کے مناظر تھے ۔

شام کو پارک میں جانا ہوا تو وہ بھی حسب معمول “ڈیٹ پوائنٹ “بنا ہوا تھا۔ پارک کے مختلف گوشوں میں لڑکے لڑکیاں دنیا و مافیہا سے بے نیاز عہد و پیمان میں مصروف تھے بلکہ کہیں کہیں تو بات “کافی آگے “بڑھ چکی تھی ۔ جاگنگ ٹریک پر دوڑتے ہوئے مردوں نے کانوں پر حسب معمول ہیڈ فون لگائے ہوئے تھے ۔ کچھ خواتین بھی وزن کم کرنے یا خود کو فٹ رکھنے کی جستجو میں واک کر رہی تھیں  اور روزانہ کی طرح اطراف میں بیٹھے حضرات کا سانس پھلائے دے  رہی تھیں۔ رات کو پڑوس میں “مہندی “کی تقریب تھی ۔ وہاں بھی اس نوعیت کی تقریبات کی طرح گویا “پریاں “اتری ہوئی تھیں ۔  محفل حسب معمول مخلوط تھی جس میں رقص و موسیقی کا انتظام “بصد اہتمام” نظر آیا ۔

 قارئین ! آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی کیا اوٹ پٹانگ ہانکے جا رہے ہو۔ صاف صاف کہو کیا کہنا ہے ؟

 تو جناب !عرض یہ کرنا تھا کہ

“ایک دن قبل  ہمارے شہر میں زلزلہ آیا تھا ۔ “

اللہ نے فضل فرمایا کہ اتنی بڑی آفت بغیر کوئی نقصان پہنچائے ٹال دی گئی …. لیکن اگلے دن سب کچھ ویسے کا ویسے ہی تھا … سب کے معمولات جوں کے توں تھے… جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ یہ زلزلہ بتا کر نہیں آیا تھا …. اور ملک الموت بھی آنے سے پہلے کال یا ایس ایم ایس نہیں کرے گا….  نہ  ہی قیامت اطلاع دے کر آئے  گی ۔ اور یہ  بھی یاد رہے کہ

مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَت قَیَامَتُہ‘

ترجمہ: جو مر گیا اس کی قیامت آ گئی ۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہماری آخری گھڑی آئے …. تو ہم اس وقت کوئی ایسا کام کر رہے ہوں کہ …. خدانخواستہ ہمارا ایمان پہ خاتمہ بھی شک میں پڑ جائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ(اٰل عمران۔ 102 )

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

Uncategorized

Mar kay bhi chain na paya to kidhar jaen gay…?

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

از ابو شہیر

24 جنوری 2013 کو روزنامہ “جنگ” کراچی میں انصار عباسی صاحب کا مضمون بعنوان “پاکستان میں سب چلتا ہے”پڑھ کر بہت خوشی ہوئی جس میں انہوں نے چند دن قبل ہی وفات پانے والی ایک معروف گلوکارہ (نام ہم دانستہ نہیں لکھ رہے)کے انتقال پر میڈیا کے رویے کو موضوع بحث بنایا ۔ مضمون کی ابتدائی سطور یوں تھیں ۔۔۔  “بیچارہ کوئی اداکار یا گلوکار یا شوبز سے تعلق رکھنے والا کوئی اور فرد یہاں فوت ہو جائے تو ٹی وی چینلز اس کا جو حال کرتے ہیں ، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ ہمیں تو ہمارا دین یہ سکھاتا ہے کہ کسی مسلمان کے مرنے پر اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے ، مگر ہمارے چینلز ہیں کہ چن چن کر اس کے ناچ گانے دکھانے لگ جاتے ہیں “۔۔۔

“پھر 25 جنوری 2013 کے روزنامہ “جنگ” کراچی میں کشور ناہید نے اپنے مضمون میں اسی گلوکارہ کے علاوہ دیگر بہت سی گلوکاراؤں کے حوالے سے معاشرے کی بے اعتنائی پر اپنی دل گرفتگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ۔ “فلاں نے چھوٹے بھائیوں کو پڑھایا ، ان کی شادیاں کیں اور امریکہ میں نوکریاں بھی دلوائیں ۔ ان بھائیوں کی انا یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ ان کی بہن ایک گانے والی ہے ۔ اس لئے انہوں نے امریکہ ہی میں مستقل رہنے کا بندو بست کر لیا ۔” “فلاں نے اپنے بیٹوں کو پڑھایا لکھایا ، شادیاں کیں اور جب وہ کسی قابل ہو گئے تو اعتراض کرنے لگے اسی ماں پر جس نے کمائی کر کے ان کو کسی لائق بنایا تھا ۔ پھر انہوں نے بھی غیر ممالک کا رخ کیا ۔ ان کی ایک بیٹی بھی تھی ۔ اس کی شادی کی تو داماد ، گھر داماد بن گیا۔ اس میں وہ شرم محسوس نہیں کرتا تھا ، البتہ ان کے گانے پر معترض تھا ۔   “

کون مسلمان نہیں جانتا کہ موسیقی اور گانا بجانا حرام ہے ؟پھر جو خواتین اس پیشے سے وابستہ ہو جاتی ہیں وہ بے پردگی کے باعث ایک اور نافرمانی کی بھی مرتکب ہوتی ہیں۔ یہ ایک اجمالی بات ہے ، کسی خاص فرد کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا رہی ۔ ویسے بھی جو مر گیا اس کے بارے میں لب کشائی مناسب نہیں ، مرنے والا جانے اور اس کا رب ۔ تاہم یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا اور اپنے اعمال کی بازپرس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ جس طرح کچھ اچھے اعمال صدقہ جاریہ کی صورت میں مرنے کے بعد بھی نافع ہو سکتے ہیں ، اسی طرح کچھ برے اعمال طرح گناہ جاریہ کی صورت میں مرنے کے بعد بھی ایک مستقل وبال کا سبب بن سکتے ہیں۔ مرنے والے مر جاتے ہیں ، پیچھے ان کے ناچ گانے زندہ رہ جاتے ہیں۔

مذکورہ مضامین کا بغور جائزہ لیا جائے تو دونوں بڑے سبق آموز معلوم ہوتے ہیں ۔انصار عباسی صاحب کے مضمون سے واضح ہے کہ چونکہ …عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں … لہٰذا مرنے کے بعد متوفی کے پرستار بجائے دعائے مغفرت کے ، اسی عشق بتاں کے قصے لے بیٹھتے ہیں ۔ اور ٹی وی چینلز متوفی یا متوفیہ کے ناچ گانے دکھا دکھا کر گویا اس کی روح کو “ایصال ثواب “پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور پھر سال کے سال “…A tribute to ” کے عنوان سے پروگرام بنا کر برسی بھی “نہایت عقیدت و احترام “سے منائی جاتی ہے، جن کا اختتام عموماً  “حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” والی کیفیت پر ہوتا ہے ۔

کشور ناہید کا مضمون تو گویا ایک ریسرچ پیپر ہے جس سے یہ چشم کشا حقیقت عیاں ہے کہ موسیقی اور گائیکی سے وابستہ شخصیات کو دنیا ہی میں عشق بتاں کے وبال کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ لوگوں کو یہ بھی یاد ہو گا کہ وہ ، جن کو پاکستان کا سب سے بڑا غزل گائیک کہا جاتا تھا ، ان کی بھی زندگی کے آخری ایام نہایت کسمپرسی میں گزرے ۔ اور پھر جب انتقال ہوا تو تدفین میں بھی ایک گلوکارپیش پیش تھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی قاری حافظ اس وقت آگے آگے ہوتا ۔ معلوم ہوا کہ انسان جن لوگوں سے تعلق جوڑے گا ، مرنے کے بعد انہی کے ہاتھوں قبر میں اتارا جائے گا۔ جنید جمشید سے پوچھا گیا کہ گانا کیوں چھوڑا ؟ بولے کہ گلوکاری سے خوب شہرت کمائی ، لیکن زندگی میں سکون نہیں تھا ۔ جب سے تائب ہوا ہوں ، چین سے ہوں۔ اب تائب نہ ہونے والوں کو سوچنا چاہئے کہ …مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے ، لغزشوں سے در گزر فرمائے اور جو انسان زندہ ہیں ان کو نیک ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین۔ افسوس !زندگی کا مقصد کیا بتایا گیا ہے اور ہم نے کیا بنا لیا !