Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Seerat-un-Nabi, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Jannay wala

جاننے والا

کوئی پانچ سات برس قبل کی بات ہے ۔  میرے آفس کے ایک صاحب حج کو جا رہے تھے۔ ساتھ میں کچھ محرم خواتین بھی تھیں۔ روانگی سے قبل اتنے ہی فکرمند و پریشان  تھے جتنا کہ ایک حاجی ہوا کرتا ہے۔

میری ملاقات ہوئی تو کہنے لگے: بھائی مکہ میں تو ایک دوست رہتا ہے ۔اس سے بات ہو گئی ہے۔ اور بھی ایک دو جاننے والے ہیں۔ وہاں کی تو ساری سیٹنگ ہو گئی ہے ۔ بس مدینہ کی ٹینشن ہے۔وہاں اپنا کوئی جاننے والا نہیں ہے۔

میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: ہمارا تو ہے اک جاننے والامدینہ میں۔۔۔

آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

 ہاں۔۔۔
ہے تو ایک جاننے والا۔۔۔

جس نے ہماری فکر میں اپنی نیندیں قربان کیں اور رات رات بھر قیام کر کے اپنے پیر سُجائے۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جس کے طائف میں کھائے گئے پتھروں سے لہولہان بدن کا صدقہ محمد بن قاسم ؒ کی صورت میں اس خطے کو ایمان کی روشنی سے منور کر گیا۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جب میں اس پر درود بھیجتا ہوں تو درود پہنچانے پر مامور فرشتہ میرا اور میرے والد کا نام لے کر کہتا ہے کہ یا رسول اللہ! آپ کے امتی فلاں بن فلاں نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا نذرانہ بھیجا ہے۔

ہاں! ہم پہچانیں نہ پہچانیں۔ وہ ہمیں خوب پہچانتا ہے۔

ہمارے ماں باپ مال آل اولاد اس پر قربان۔۔۔

صلی اللہ علیہ و آلہٖ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا دائما ابدا ابدا