Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam

Taufeeq

توفیق

بچے جب کم عمر اور نا سمجھ ہوتے ہیں

تو ماں باپ پینسل ان کے ہاتھ میں پکڑا تے ہیں

اور پھر اپنے ہاتھ سے ان کا ہاتھ پکڑ کر کاغذ پر چیزیں بناتے ہیں

اور پھر خود ہی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں کہ

“بے بی نے کنا پالا بنایا ہے۔۔۔”

(بے بی نے کتنا پیارا بنایا ہے)

اللہ تعالیٰ بھی ہمارے ہاتھوں چند نیک اعمال کرا دیتا ہے

جو کہ اس نے پہلے ہی ہماری تقدیر میں لکھ دیئے ہوتے ہیں،

پھر ان کے لئے درکار اسباب بھی عطا فرما دیتا ہے

اور پھر خود ہی توفیق بھی دیتا ہے نیک کام سرانجام دینے کی۔۔۔

گویا ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہم سے نیکیاں کرا دیتا ہے۔۔۔

اور پھر خود ہی خوش ہوتا ہے

اور

فرشتوں کے سامنے ہمارے اوپر فخر فرماتا ہے۔۔۔

!مثلاً حج

Behaviors & Attitudes, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Ibadat Nahi, Ata’at!

عبادت نہیں اطاعت

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
اب کوئی بال ناخن نہ کاٹے۔
اب کوئی خوشبو نہ لگائے۔
اب کوئی بناؤ سنگھار نہ کرے۔
خلاف ورزی کرنے والے کا چالان ہو گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
طواف زیارت کی ادائیگی تک نکاح معطل رہے گا۔
حکم عدولی کی صورت میں “بھاری” جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
نمازوں کےاوقات میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنی ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت کے نکل جانے کے بعد ادا کرنی ہے۔
کوئی شک؟
کوئی اعتراض؟

حج کے ذریعے فلسفہ دین سمجھایا جا رہا ہے۔۔۔
کہ دین عبادت کا نہیں
اطاعت کا نام ہے۔

ہاں
عبادت نہیں۔۔
اطاعت درکار ہے۔

جو کہا ہے اس کی بلاچوں چرا تعمیل۔۔۔
جس سے روکا ہے اس سے اجتناب۔۔
یہی اطاعت ہے
اور
یہی اصل عبادت ہے۔۔۔

Roman Urdu

IBADAT NAHI, ATA’AT

………………………………..

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Ab koi Baal Nakhun Na KaaTay

Ab koi Khushbu Na lagaey

Ab koi Banao Singhar Na karay

!Khilaf Warzi karnay walay ka “Challan” ho ga

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

“Tawaf e Zyarat ki adaegi tk “Nikah Muattal rahay ga

Hukum Adooli ki Soorat May “Bhaari” Jurmana aaid kiya jaega

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Namazon kay Awqaat may Radd o Badal kiya jata hy

Aik Namaz muqarrara waqt say Pehley ada karni hy

Aik Namaz muqarrara waqt nikal janay kay baad adan krni hy

?Koi Shak

?Koi Aitaraz

Hajj kay zariye Falsafa e Deen samjhaya ja raha hy

keh Deen Ibadat ka Nahi,

Ata’at ka naam hy

Haan

Ibadat Nahi

Ata’at darkaar hy

Jo kaha hy Uski Bila Choon Chara Tameel

Jis say Roka hy Us say Ijtanab

Yehi Ata’at Hy

Aur

Yehi Asal Ibadat Hy

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Takheer

 تاخیر

 جیسے کوئی خواب میں اپنے تکیے کے نیچے نوٹوں کی گڈی رکھی دیکھے۔۔۔ اور آنکھ کھلنے پر تکیے کے نیچے سے واقعی نوٹوں کی گڈی بر آمد ہو جائے۔۔۔ کچھ یہی معاملہ ہوا! نومبر کے آخری ہفتے میں ایک خاندان نے قدم بڑھایا اور ۔۔۔۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے تھا

 واقعہ یہ ہے کہ نومبر کے نصف آخر میں دو خاندانوں نے مل کے عمرہ کی ادائیگی کو جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن پھر ایک خاندان کو بوجوہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرا خاندان، جسے گروپ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا شامل تھے، بھی ڈانوا ڈول ہونے لگا۔ لیکن !آتش شوق کی چنگاری تو بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اب پیچھے ہٹنا کوئی آسان تھا

طے پایا کہ خاتون اور ان کا بیٹا ہی رخت سفر باندھ لیں۔ ادھر خاتون اور ان کے میاں جی کی مشترکہ خالہ نے خاتون کے میاں جی کو “پٹی پڑھانی شروع کی “کہ موقع اچھا ہے تم بھی ہمت کر لو۔۔۔ اور بہر طور راضی کر کے ہی دم لیا۔ چنانچہ قدم بڑھا دیا گیا! شاید رحمت خداوندی انتظار میں تھی۔۔۔ کہ “میاں جی” بھی ارادہ کر لیں تو فائنل اپروول عطا کر کے معاملات آگے بڑھائے جائیں !

 سفری انتظامات کے لئے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ پاسپورٹ پہلے سے تیار تھے۔ ایک دوست کی معرفت دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوائی جہاز کی نشستیں فوری بک کرا لی گئیں۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویزہ کے لئے درخواست دی گئی۔ وقت بہت کم تھا۔ ویزے بروقت لگ جانے کے امکانات خاصے کم تھے۔ لیکن ۔۔۔ جب “بلاوا “آ جائے ۔۔۔ تو پھر کون روک سکتا ہے!

سب انتظام ہو گیا۔۔۔ اور مارکیٹ ریٹ سے کم نرخ پر ہو گیا۔ مذکورہ دوست گھر سے پاسپورٹ تصاویر اور دیگر مطلوب دستاویزات لے گیا اور جب پاسپورٹ پر ویزے لگ گئے تو پاسپورٹ ٹکٹ گھر پہنچا گیا۔ سارے کام گھر بیٹھے ہو تے چلے گئے۔ ہوم سروس ! بارگاہ الٰہی میں یوں تو سارے ہی عازمین حج و عمرہ معزز و مکرم ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ شاید کچھ زیادہ ہی “اسپیشل کیس“تھا۔ سبحان اللہ ! کیسا وی آئی پی ٹریٹمنٹ تھا۔۔۔ کیا سوئفٹ ارینجمنٹ تھا!

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے،میں اس کی طرف ایک گز بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے ، میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

 نومبر کے آخری ہفتے میں اس خاندان نے قدم بڑھایا ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو اپنی ذات اطہر کے دیدار کی صلاحیت دی ہوتی تو ۔۔۔ قدم بڑھانے والے دیکھ ہی لیتے کہ اللہ تعالیٰ کیسے دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ کیسے بھاگم بھاگ سارے انتظامات کئے۔۔۔ جب ہی تو ۔۔۔ ۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے موجود تھا!

اللہ کو نہ دیکھ سکے ہوں گے ۔۔۔ دیکھ ہی کون سکتا ہے ۔۔۔ کہ چہرے پہ جڑی آنکھوں سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہاں اگر دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی ۔۔۔ تو سارا منظر صاف صاف دیکھ ہی لیا ہو گا!۔۔۔ کہ وہی اللہ فرماتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (فصلت۔۵۳)

 ترجمہ: “ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے!”

 اور ۳ دسمبر کو جب یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہو گا ۔۔۔ تو ممکن ہے کہ ۔۔۔ بیت اللہ کی مقدس اینٹوں۔۔۔ غلاف کعبہ کے متبرک دھاگوں ۔۔۔ مسجد الحرام کے فرش میں جڑی خوش نصیب مرمریں ٹائلوں۔۔۔ حرم مکی کی دیواروں اور ستونوں۔۔۔ برقی قمقموں سے نکلتی روشنی کی کرنوں۔۔۔ آسمان سے جھانکتے چاند ستاروں۔۔۔ سر کے اوپر سے گزرتے بادلوں۔۔۔ پیروں پہ لگی گرد کے ذروں ۔۔۔ دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں ۔۔۔ اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے ۔۔۔ اس سوال کی بازگشت سنائی دی ہو ۔۔۔ جو روانگی سے قبل گھر آئے ایک مہمان نے کیا تھاکہ ۔۔۔

 “تاخیر کس کی طرف سے تھی؟”

 ہاں!ساری تاخیر ، ساری ٹال مٹول، سارے بہانے ، ساری تاویلات ہماری ہی طرف سے ہیں۔ وہاں کوئی تاخیر نہیں۔قاعدہ البتہ طے کیا جا چکا ۔۔۔ پہلا قدم بندوں نے بڑھانا ہے۔۔۔ بندوں کو ہی بڑھانا ہو گا۔۔۔ وہاں تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کسی کو شک ہے ۔۔۔ تو ایک بار قدم بڑھا کے دیکھ لے ۔۔۔ !

Behaviors & Attitudes, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, عمرہ

Zan Mureed

زن مرید

پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت۔ سفید داڑھی ۔ چہرہ ایسا نورانی کہ بندہ دیکھتا ہی چلا جائے۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔  پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔  اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ تعجب تو ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا  اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے لیکن پھر یہ خیال ہوا کہ حج کے فوری بعد واپس روانگی ہو گی سو شاید طواف وداع بھی ابھی کر رہے ہیں۔  بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے  کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔

حج کے کئی روز بعد ایک دن میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے تو بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ حضرت ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔  کہنے لگے : چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔

ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا: میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟عرض کی : حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ  مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر رکن دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا۔ معذرت چاہی کہ  “ناحق آپ کو دکھی کر دیا۔” کہنے لگے: نہیں میاں ! معذرت کیسی؟  بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔ پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:

میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں یوں سمجھو  اس نے اپنے دلائل سے ہمیں قائل کر کے ہی دم لیا۔ سو حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔

میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا۔۔۔ اور مان بھی گیا۔

دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم  اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔  میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔ ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔

کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی: میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کوہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی ، تنگی و وسعت  ، دکھ بیماری میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل مطلب اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے۔

میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔  تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔

اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کے گھر کی زیارت کرا دی۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ میاں اندازہ کرو کہ اس کی طلب کتنی سچی اور دھن کتنی پکی تھی! کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا  ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت  نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔

میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔  کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔

 میاں! سارے خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔

چاہو تو تم بھی کہہ لو!

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Behaviors & Attitudes, Hajj Umrah, Islam, علم دین

Sarkar ka jalwa hy, tamasha nahi koi

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

زیارت حرمین شریفین ہر دور میں ہی مسلمانوں  کی سب سے بڑی آرزو رہی ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ حج عمرہ کو جاتے تھے تو اس حال میں کہ گناہوں پر شرمسار اور نادم ہوا کرتے تھے ۔ قدم قدم پر آنسو بہا رہے ہوتے تھے ۔ اللہ کے گھر جاتے تو سجدوں سے وہاں کے چپے چپے کو سجا دیتے ۔ ان کا گریہ آسمان کو رلا دیتا ۔ ان کی پکار عرش کو ہلا دیتی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری کو جاتے ہوئے دربار نبوی ﷺ کے آداب کے تصور سے ہی ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ۔ یہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں جاتے تو اس خیال سے کہ پیارےآقا ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گا، چہرہ کپڑے سے چھپا کر جاتے۔آواز بلند ہونا تو دور کی بات ، نگاہ تک بلند نہ ہوا کرتی ۔ حد درجہ مؤوب و محتاط۔ نتیجتاً ان کی مرادیں فوری بر آتیں۔ ان کو قبولیت کی سند نقد عطا ہو جایا کرتی ۔اور پھر یہ حرمین شریفین کے روح پرور مناظر کی تصاویر اپنے ذہن و دل میں محفوظ کئے گھروں کو واپس لوٹ آتے۔ جانے والوں کو دیکھ کر رہ جانے والے ان کے مقدر پر رشک کرتے  …اور جانے والے جب لوٹ کر آتے تو ان کے منتظر احباب ان کے گرد پروانہ وار جمع ہو کر ان سے وہاں کے قصے سنتے اور اپنی آنکھیں بھگوتے!

پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تصور کی جگہ تصویر نے لے لی۔ ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ موبائل فون اور کیمرے آ گئے۔اور حرمین شریفین سریلی گھنٹیوں ، حتیٰ کہ رومان پرور نغموں … جی ہاں رومان پرور نغموں سے گونجنے لگے ۔کیمرے کی آنکھ انسانی آنکھ سے زیادہ پیاسی ہو گئی ۔ الا ما شاء اللہ ہر فرد “پاپا رازی ” بننے پر کمربستہ ہو گیا۔ بس ہر منظر کیمرے میں محفوظ کر لیا جائے “تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے “۔ سارا وقت اسی فکر میں مبتلا کہ اس جگہ کی تصویر بنا لی جائے، اس مقام کی ویڈیو بنا لی جائے۔ حد تو یہ کہ طواف کر رہے تو منظر کشی میں مصروف …اور بارگاہ نبوی ﷺ میں سلام عرض کرنے کو جا رہے تو ویڈیو بنانے میں مصروف ۔ طواف بیت اللہ کے وقت جسمانی حالت و قلبی کیفیت کیا ہونی چاہئے تھی؟ توجہ کہاں ہونی چاہئے تھی؟ سب ایک طرف رکھ دیا۔ چلئے جناب آپ جانئے اور رب کعبہ! لیکن …وہ دربار رسالت ﷺ جس کے آداب کی بابت رب کعبہ نے قرآن اتار دیا اور کوتاہی پر سب نیک اعمال (اگر کچھ ہیں تو وہ بھی ) برباد ہونے کی وعید سنا دی ، اس دربار میں کس قدر محتاط رہنا چاہئے!

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات آیت نمبر دو میں فرمایا:

voice

اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اس آیت میں بظاہر تو صرف آواز پست کرنے کا حکم ہے ، تاہم اگر اس آیت کی تفسیر کا جائزہ لیا جائے تو بات کی گئی ہے حضور ﷺ سے محبت کی ،آپ ﷺ کی تعظیم و احترام کی ، آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع  کی ، آپ ﷺ کی ذات مبارک سے مکمل قلبی و جذباتی وابستگی کی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کے روبرو مؤدب ہو جاؤ۔ اگر خدانخواستہ حضور ﷺ کی تعظیم اور احترام میں کسی بھی پہلو سے کوئی فرو گذاشت ہو گئی اگرچہ لا علمی میں ہی ہوئی ہو (اور ظاہر ہے کہ جانتے بوجھتے تو کوئی مسلمان سے ایسے کسی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتا ) تو سب کیا کرایا برباد ہو جانے کی وعید ہے ۔

اسی ادب و تعظیم کو چند شعراء نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا :

؎ نظروں کو جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاؤ

بےتاب نگاہی بھی یہاں بے ادبی ہے

؎            اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

روضہ مبارک پر حاضری کے وقت اسی طرح فوٹوگرافی میں مشغول ایک صاحب کی خدمت میں مذکورہ بالا اشعار پیش کئے تو بولےکہ “شاعر کا قول ہے ، کوئی حدیث تھوڑی ہے “۔ درست فرمایا۔ چلیئے بھائی آپ کوئی حدیث لا دیجئے کہ جس میں دربار رسالت ﷺ میں حاضری کے وقت فوٹوگرافی کی “اس قدر تاکید “آئی ہو؟

ابھی گزشتہ دنوں ایک سعودی ٹی وی چینل، جو کہ مسجد نبوی ﷺ کے مناظر براہ راست نشر کرتا ہے ، پر یہ منظر دیکھا کہ سنہری جالیوں کے روبرو بیشتر افراد موبائل اور ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے تصاویر اور مووی بنانے میں مصروف تھے۔ اور ایک منچلے نے تو  موبائل سے اپنی سیلفی selfie  (سیلف پورٹریٹ) بنانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔خود ہی بتائیے کیا یہی تقاضے ہیں اس دربار عالی میں حاضری کے ؟

ایک حدیث میں آیا ہے کہ کہ قیامت کے قریب میری امت کے امیر لوگ تو حج محض سیرو تفریح کے ارادہ سے کریں گے ۔۔۔ اور میری امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا۔۔۔ اور علماءریاوشہرت کی وجہ سے حج کریں گے ۔۔۔اور غربا بھیک مانگنے کی غرض سے جائیں گے۔  (کنزالعمال)

غور فرمائیے! حجاج کے جن چار طبقات کا ذکر کیا گیا ہے کیا وہ چاروں ہی آج نظر نہیں آ رہے؟ خاص کر اول الذکر طبقہ … کہ جیسے لندن پیرس کی سیر و تفریح کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف ، ایسے ہی حرمین شریفین کی حاضری کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف۔ سیر و تفریح کے انداز میں حج و عمرہ ادا کرنے والے گروہ کو قرب قیامت کی نشانی بتایا گیا تو کیا احتیاط لازم نہیں؟ کم سے کم طواف بیت اللہ کے دوران اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت تو فوٹو گرافی سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ یوں بھی ہر ہر مقام کی بلا مبالغہ ہزارہا تصاویر پہلے ہی موجود ہیں۔

Hajj Umrah

Labbaik Allahumma Labbaik…

(In this write-up the Rituals of Umrah & Hajj (Manasik-e-Hajj o Umrah) are being presented in a unique way. You will definitely enjoy it once you cross the preamble. Please spare some time to read the complete write-up. )

Labbaik Allahumma Labbaik

Abu-Shaheer

Hajj is the fifth pillar of Islam. It’s a combination of both physical and financial modes of prayer. It’s a religious duty that must be carried out at least once in their lifetime by every able-bodied Muslim who can afford to do so. See the verse below.

و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ۔ و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین

And (due) to Allah from the people is a pilgrimage to the House- for whoever is able to find thereto a way. But whoever disbelieves- then indeed, Allah is free from the need of the worlds. (Aal-e-Imran-97)

Allah has blessed us with everything. See! He almighty created the world before He sent us here. He almighty has blessed us with countless things which we could never know we needed. He blessed us with true belief, health, wealth, spouse, children, vehicles, house, servants, etc.

Subhanallah! Allah almighty; Our Lord; The one; like Whom there’s none; He who introduces himself to us as As-Samad, Al-Ghani; He who doesn’t need anyone and everyone needs Him; He who that if everyone became disobedient to Him wouldn’t harm Him and if everyone became the most obedient couldn’t benefit Him, He hasn’t asked for much, just a visit to His Holy House, a small journey in a whole lifetime, not from everyone, just a handful Muslims from around the globe every year. Now think in the light of the above verse of Quran and ask yourself, “Isn’t it His right to perform pilgrimage of His house, the Ka’abah?” Surely it is!

Those who come to understand the point scream out with utter humility:

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

(Labbaik! Allahumma Labbaik! Labbaika La Sharika Laka Labbaik! Innal-Hamda wan-ne’mata Laka wal-mulk La Sharika lak.)

Meaning: “Here I am at Your service O Allah, here I am. Here I am at Your service, You have no partner, here I am at Your service. For You alone is All Praise and All Grace, and for You alone is The Sovereignty. You have no partner.”

Yes! These beautiful words are the anthem of Hajj. The song of Hajj. The chant of Hajj. The essence of Hajj.

O ye the honorable guest of Allah!

Ever realized what do these words mean? Ever realized what spirit should reflect from these words? It doesn’t need a philosophical answer. In short, these words force the person to give up his own wills and wishes; these words imply a person to be in a state of complete, unconditional obedience to his Creator.

If Allah says: O My slave! Are you ready to perform Hajj?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah says: It’s an exalted job. It requires absolute purity… pure funds and pure intentions. Do you have it?

The servant replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: O My slave! I know that you love your wealth. Ponder, you’ll have to spend a lot, is that fine?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah says: See… you love your home and your spouse and your children… Are you ready to leave them for Me?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: See… A lot of exertion and fatigue is in store ahead… you might get proper rest… you will have to walk a lot… surely you will get tired. Want to come?

The salve replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: See… You have to face dust and storms… and extreme weather…

The slave replies: My Lord! I seek refuge with You from the heat of the day of judgement… Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Ok! Then relinquish your dress and wear two sheets, and make intention for Umrah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cut your hair and nails, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Avoid perfumes and fragrances, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cover your head, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do not cover your foot but a part of it, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slaves! Don’t do any sexual acts with your spouse, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t even talk about it nor touch each other with this intention, ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Avoid any acts of sins…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Do not quarrel or fight with other people…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Remember! These are the boundaries of My Haram… Respect them. Don’t pluck any leaves or grass, don’t kill anything,not even lice, neither hunt game nor assist that…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: O My slave! Do IDHTABA’(اضطباع), let your right shoulder be naked…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Kiss the black stone i.e. Hajr-e-Aswad…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک …Your Prophet ﷺ kissed that stone… If you’d be happy I am ready to do it in order to obey Your orders and to follow the Prophet’s Sunnah…*1

If Allah orders: Now perform the TAWAF (Circumambulations) of My House…

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Do RAMAL (walk in the wrestlers’ style) in the first three rounds, and complete the last four rounds in the normal walking style.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now cover your shoulder and approach the Multazam (the door of Ka’abah).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah orders: Offer the obligatory prayers of Tawaf (Wajib-ul-Tawaf) behind the Maqam-e-Ibrahim.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now drink Zam-Zam water.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now offer Sa’ee (Running) between Safa and Marwah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: While offering Sa’ee, make a run between the green pillars (Meelain Akhdharain).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now do the Halq or Qasr (sacrifice your hair)

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now you can wear your normal dress.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now go to Madina and say Salam to the Holy Prophet ﷺ.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی۔۔۔ … Lower your voice. Don’t talk loudly over there.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Go back to Makkah and offer Umrah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

Then on the 8th of Zil-Hajj, if Allah orders: Wear the Ahram for Hajj, and leave for Mina, and try to reach there before noon (Zohr).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 9th of Zil-Hajj, try to reach Arafat before noon.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Offer the Zohr and Asar prayers jointly.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: After sunset, go towards Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Don’t offer Maghrib Prayers (although the time of Maghrib prayers has started).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: When you reach Muzdalifa, and when the Isha time starts, offer Maghrib and Isha Prayers jointly.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک (Here I am at Your service O Allah, here I am.)

If Allah orders: You have to stay for the rest of the night under the sky in Muzdalifa. You will feel cold. You will have to bear the dust. You may have to sacrifice sleep.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Pick the stones for Rami from Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the morning of 10th Zil-Hajj, stay for a while after Fajr Prayers in order to offer Wuquf-e-Muzdalifa.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now return to Mina.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Go for Rami and throw 7 stones at the Big Shaitan (Jamra ‘Uqba?) only. *2

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now slaughter an animal.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now do the Halq or Qasr.

The slave replies: O My LORD! You want me to sacrifice my hair… today I am ready to sacrifice my life for You… Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: Now wear your normal dress.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: My slaves! You still can’t make any sexual acts with your spouse before Tawaf-e-Ziyarah.

The slaves reply: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: Now offer Tawaf-e-Ziyarah, and make Sa’ee between Safa and Marwah.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 11th of Zil-Hajj, perform Rami of all the three Shaitans (Jamrat).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: On the 12th of Zil-Hajj, perform Rami of all the three Shaitans (Jamrat).

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slaves! You have done whatever I asked of you. Now it’s My turn. I pledge to forgive all your sins and mistakes, no matter if they are as many as the particles of dust, or the leaves of the trees, or the drops of oceans.

The slaves scream with joy: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slave! See… I have purified you from all the sins… Don’t ever disobey Me from hereinafter. Ok?

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah orders: One last thing! Offer the obligatory Tawaf-e-Wida.

And the slave moans as the time has arrived to leave the Holy Ka’abah.

In a state of grief and sorrow, the slave still replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: I know your feelings. Don’t feel sad that you have to leave My House. See! I am with you everywhere.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

If Allah says: My slave! Don’t feel sad. I had promised you through the tongue of My Prophet ﷺ that

“There is no reward for Hajj-e-Mabrur (an accepted and approved Hajj) but Jannah.”

Trust Me and My Prophet ﷺ, that the Jannah is waiting for you, and you will surely enter that very soon.

The slave replies: Labbaik Allahumma Labbaik… لبیک اللھم لبیک

And when the day arrives, as the slave breathes his last… If Allah says:

یا ایتھا النفس المطئنۃ۔۔۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔۔۔ فادخلی فی عبادی۔۔ وادخلی جنتی۔۔۔

O reassured soul! Return to your Lord, well-pleased and pleasing (to Him), and enter amongst My (righteous) servants, and enter My paradise. (Al-Fajr… 27-30)

The slave, on receiving the permit of Jannah, screams with joy:

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

(Labbaik! Allahumma Labbaik! Labbaika La Sharika Laka Labbaik! Innal-Hamda wan-ne’mata Laka wal-mulk La Sharika lak.)

“Here I am at Your service O Allah, here I am. Here I am at Your service, You have no partner, here I am at Your service. For You alone is All Praise and All Grace, and for You alone is The Sovereignty. You have no partner.”

*1. According to Fiqh Hanafi, the Haji should stop calling the Talbiyah (Labbaik) before starting the Tawaf of Umrah. So the Talbiyah should be stopped, but the spirit (of submission to Allah) should be continued!

*2. According to Fiqh Hanafi, the Haji should stop calling the Talbiyah (Labbaik) before Rami (stoning of Big Shaitan on 10th Zilhaj). So the Talbiyah should be stopped, but the spirit (of submission to Allah) should be continued!

Hajj Umrah

Dastan-e-Safar mujko yun mat suna

داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا

حج ایک ایسی تمنا ہے جو بلا شبہ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے ۔ ایک ایسی آرزو جس کے پورے ہونے کے خواب دیکھے جاتے ہیں ۔ جس نے مقامات مقدسہ کو نہیں دیکھا ، وہ ایک بار حاضری کی تمنا کرتا ہے اور جس کو ایک مرتبہ حاضری کا شرف حاصل ہو جاتا ہے وہ پھر باربار حاضری کی دعا کرتا ہے۔  بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے حرمین شریفین کو نہیں دیکھا اس کی تو طلب ہے اور جو دیکھ آیا  اس کی تڑپ ہے۔

عازمین حج و عمرہ کی قسمت پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے بلکہ ان معاملات میں تو حسد بھی جائز ہے ۔ جس وقت حجاج کرام روانہ ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کے متعلقین ان کو بڑی حسرت کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور جب وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کر کے واپس لوٹتے ہیں تو جا جا کر ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کی داستان سفر بڑے ذوق و شوق سے سنتے ہیں ۔ قابل مبارکباد اور لائق تحسین ہیں وہ نفوس جو اس عظیم عبادت کی ادائیگی کا شرف حاصل کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہمارے بہت سے متعلقین حج و عمرہ کا شرف حاصل کر کے واپس لوٹے ۔ ان میں سے کئی افراد کے تاثرات جان کر خاصا دکھ ہوا کہ ان کے منہ سے شکوہ شکایت کے علاوہ کچھ نہ سنا ۔پہلے تو یہ دیکھ لیجئے کہ شکایات کیا تھیں ؟ کسی نے کہا : اس قدر گرمی تھی کہ توبہ توبہ ! کوئی بولا : رش بہت تھا ۔ کسی نے کہا : رہائش حرم سے بہت دور تھی ۔ کسی نے شکوہ کیا : پیدل چل چل کے بھیا میری تو ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔ کسی کو کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آیا ۔ کسی کو مہنگائی نے پریشان کیا ۔ کسی کو عرب باشندوں کے رویہ میں درشتگی کی شکایت رہی ۔ یہاں تک کہ ایک صاحب کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ تو ہجوم دیکھ کر اس قدر بوکھلائے کہ کہہ بیٹھے : دوبارہ نہیں آؤں گا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

ایسے لوگوں کو اول تو توبہ کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ان کی شکایات کس قدر بے جا ہیں ۔ ہم ایسے لوگوں کی خدمت میں بصد ادب یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ کو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ وہاں کا موسم کس قدر گرم ہوتا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں کس قدر اژدھام ہوتا ہے ؟  کم و بیش پچیس لاکھ افراد ، وہ بھی مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ۔ سب کا رہن سہن الگ ۔ طور طریقے الگ ۔ معاشرت الگ ۔ تو ایسے مختلف النوع افراد کے اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنا کوئی آسان کام ہے ؟ رہائش حرم سے دور تھی تو کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں تھی ؟ سرکاری اسکیم میں فارم بھرتے وقت آپ کو معلوم ہو جانا چاہئے تھا کہ حرم شریف سے آپ کی رہائش کا کم سے کم فاصلہ اتنے کلومیٹر ہو گا ۔ اور پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج پر جانے والوں کو بھی ٹور آپریٹر بتا دیتے ہیں کہ ان کی رہائش حرم سے کتنے فاصلے پر ہو گی ۔ تو اس فاصلے پر شکایت و برہمی کیسی ؟ اور پھر ذرا یہ تو سوچئے کہ کیا پچیس کے پچیس لاکھ افراد حرم شریف سے بالکل متصل رہائش حاصل کر سکتے ہیں؟ بہت مبالغہ کر لیا جائے تو شاید تین چار لاکھ افراد قریب کی رہائش گاہوں میں قیام پذیر ہو سکیں، بقیہ حجاج کرام کو تو یقیناً درجہ بدرجہ پیچھے ہی جانا ہو گا ۔ پیدل چلنے کی شکایت کرنے والوں کو بھی تربیت کے دوران بتا دیا جاتا ہے کہ میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے ، اس کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار رہئے ۔ لیکن ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برصغیر کے اکثر باشندوں کو ڈھلتی یا آخر عمر میں حج کا خیال آتا ہے ۔ اور پھر یہی لوگ واپس آ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میاں !حج تو جوانی کی عبادت ہے ۔ تو اب بڑھاپے میں تو دو قدم چلنا بھی مشکل ہوا کرتا ہے ، میلوں چلنے کا دم کہاں۔کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آ رہا تھا تو بھائی خود پکا لیتے۔ لیکن وہاں پہنچ کر خواتین صاف کہہ دیتی ہیں کہ ہم یہاں ہانڈی چولہا کرنے نہیں آئے  اور کسی حد تک وہ حق بجانب بھی ہوتی ہیں کہ ان بے چاریوں کی عمر کا بیشتر حصہ باورچی خانے کی نذر ہو جاتا ہے ۔ تاہم اگر چند لوگ خدمت کے جذبے کے ساتھ باری باری کھانا بنا لیا کریں تو کسی پر بار بھی نہیں ہو گا اور لذت کے علاوہ خاطر خواہ بچت کا بھی باعث ہو گا ۔ عرب باشندوں کے رویہ کی شکایت کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع جو کہ ان کی زبان نہیں سمجھ سکتا اور نہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں تو اس مجمع کو کنٹرول کرنا کس قدر مشکل کام ہے ؟ سوچئے تو سہی کہ اپنا ہی بچہ بات نہ مانے یا بیوی آپ کی بات نہ سمجھے تو کس قدر غصہ آتا ہے ۔ وہاں تو معاملہ ہی مختلف ہے۔

خیر یہ تو شکایات کے پلندے کا جواب ہو گیا ۔ اب ذرا نعمتوں  اور رحمتوں کا تذکرہ  ہو جائے ۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ آپ کے اطراف میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی مالی حیثیت آپ سے کہیں زیادہ ہےلیکن حج عمرہ ابھی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور آپ کی خوش نصیبی کہ آپ کو یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔ حج عمرہ کی توفیق ہو جانا بھی در حقیقت اللہ کا بہت بڑا انعام ہے ۔  بہت سے لوگ اس بہانے ہوائی جہاز کا سفر بھی کر لیتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے آپ کا بھی یہ پہلا ہوائی سفر ہو ۔ چلئے یہ خواہش بھی پوری ہو گئی ۔ تمام عمر نمازوں کی نیت کرتے وقت “منہ میرا کعبہ شریف کی طرف ” کہتے رہے ، آج اس کعبہ شریف کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا ۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اس گھر کا طواف کر لیا بلکہ ان گنت طواف کر لئے ۔ اس گھر کے اندر نوافل ادا کر لئے ۔ (جی ہاں حطیم خانہ کعبہ کا ہی حصہ ہے جو کہ تعمیر نہیں کیا گیا ) ۔ ملتزم سے لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگ لیں ، حدیث مبارکہ کے مطابق جہاں کوئی دعا رد نہیں ہوتی ۔ کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے ۔صفا مروہ جیسے مبارک مقامات کو دیکھ لیا ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان کی زیارت کر لی۔حرم مکی میں نمازیں ادا کر لیں کہ جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے ۔ پھر وہ وادی جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر  کے گلے پر چھری چلائی ، جہاں شیطان کو کنکریاں ماریں اس وادی یعنی منیٰ کو بھی دیکھ لیا  ۔ اور بالآخر وہ مبارک ساعت آن پہنچی کہ جب نو ذی الحج کو زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کا وقت میدان عرفات میں گزارا ، جہاں اللہ رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل ہوئے ۔ تمام گناہ معاف کر دئیے گئے ۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ کتنی بڑی ۔۔۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ کتنی بڑی کامیابی ہے ۔ کتنا بڑا انعام ہے ۔

اور پھر حبیب کبریا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر بنفس نفیس درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ۔  کتنی بڑی سعادت حاصل ہو گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود سے آراستہ مسجد کی زیارت ہو گئی ۔ اس مسجد میں خوب نمازیں پڑھیں جہاں ایک نماز کا ثواب ایک روایت کے مطابق ایک ہزار کے برابر ہے ۔ پھر جنت (ریاض الجنۃ) میں داخل ہو گئے … کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ میرے حجرے سے میرے منبر تک کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ پیارے آقا ﷺ نے اس کو جنت کہا تو میں کیوں نہ کہوں کہ ریاض الجنۃ میں پہنچ گئے گویا جنت میں پہنچ گئے۔ سو جنت میں بھی پہنچ گئے۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ اسلام کی پہلی مسجد یعنی مسجد قبا میں نوافل ادا کئے اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے عمرہ کا شرف حاصل ہوا ۔ جی ہاں ! حدیث مبارکہ کے مطابق مسجد قبا میں دو رکعت اخلاص کے ساتھ ادا کرنے پر مقبول عمرہ کا ثواب ہے ۔ مسجد قبلتین کی زیارت ہوئی ۔ احد پہاڑ کی زیارت ہوئی جس کے بارے میں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔ اللہ اکبر ۔ جنت البقیع میں آرام فرما صحابہ کرام اور احد کے دامن میں شہدائے احد کے مقبروں پر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل ہوا ۔ کیا کیا گنِواوَں!

عبادات سے ہٹ کر دیکھئے ! ایئر کنڈیشنڈ کمرے ۔ ایئر کنڈیشنڈگاڑیاں ۔ ایئر کنڈیشنڈ مسجدیں ۔ ایئر کنڈیشنڈ خیمے ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے کبھی ایئر کنڈیشنڈکمروں میں آرام کیا ؟ ایئر کنڈیشنڈگاڑیوں میں سفر کیا؟ اب تو وہاں ہر جگہ سہولیات میسر ہیں ۔ سوچیں تو سہی کہ اگر یہ سب سہولیات نہ ہوتیں تو کیا ہوتا ؟ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ دنیا جہان کی نعمتیں آج اس شہر میں موجود ہیں جو کبھی قرآن کی گواہی کے مطابق بے آب و گیاہ وادی ہوا کرتا تھا ۔ دودھ ، گوشت ، اناج ، چائے کی پتی ، چینی اور مصالحہ جات سے لے کر سبزیوں اور موسم و بے موسم کے پھلوں تک ہر چیز اس شہر میں موجود ہے ۔  دودھ جوس کولڈڈرنگ لسی پانی آئس کریم چائے کافی وغیرہ وغیرہ ۔ اور ان سب سے بڑھ کر آب زم زم ۔ وہ مقد س پانی جو ایک نبی کے قدموں سے جاری ہوا اور پھر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پانی اس میں شامل ہوا۔ جی ہاں ! میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم کے کنویں سے ڈول میں پانی بھر کر پیش کیا گیا ۔ آپ نے خوب سیر ہو کر پیا اور باقی پانی واپس کنویں میں انڈیل دیا ۔ یاد کیجئے کہ وہ پانی جو کبھی گھونٹ دو گھونٹ تبرک کی شکل میں ملتا تھا ، اس مقدس سفر کے دوران کتنا پی لیا ؟ بلا مبالغہ سینکڑوں گلاس ۔ یاد کیجئے ! خوب یا د کیجئے ! کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے زم زم کے کولر کے نیچے گلاس رکھ کر بٹن دبایا ہو اور پانی نہ آیا ہو؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے وضو کرنے کے لئے یا بیت الخلاء میں طہارت کے لئے نل کھولا ہو اور پانی نہ آیا ہو ؟ کیا کبھی کسی چیز کی قلت دیکھی ؟ مقامی باشندوں کے علاوہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع ایک شہر میں جمع ہے۔ کیا کبھی دودھ کی قلت ہوئی ؟کبھی ایسا ہوا کہ چائے نہ ملی ہو ؟ یا آٹا شارٹ ہو گیا ہو ؟ یا چینی نہ مل رہی ہو ؟ یا کولڈرنک مارکیٹ سے غائب ہوئی ہو ؟ چلو یہ تو شہر ہے ۔ منیٰ مزدلفہ عرفات میں بھی سب کچھ مل رہا ہے ۔ پھر راستوں میں جگہ جگہ بڑے بڑے ٹرالرز سے اشیائے خورد و نوش اللہ کے مہمانوں پر مفت نچھاور کی جا رہی ہیں ۔ سرد موسم میں نلکوں میں گرم پانی آ رہا ہے تو گرمی کی تمازت سے بچانے کے لئے حجاج کرام پر  فواروں سےٹھنڈے پانی کی پھواریں ماری جا رہی ہیں۔ کون کر رہا ہے یہ سب کچھ؟ کیا انسانوں کے بس کی بات ہے ؟ کیا کیا نہ کھلایا رب کعبہ نے ۔ کیا کیا نہ پلایا رب کعبہ نے۔

رب کعبہ نے شیخ عبد الرحمٰن السدیس کی بلند و بالا تلاوت سے فیض یاب ہونے کے مواقع عطا کئے ۔ شیخ سعود الشریم کی مسحور کن قرات سنوا دی ۔ کیسٹ یا سی ڈی یا ٹی وی پر سننے اور براہ راست سننے میں فرق محسوس کیا آپ نے ؟ شیخ علی احمد ملا کی فلک شگاف  ، شیخ فاروق ابراہیم حضراوی کی گھمبیر اور شیخ محمد ماجد حکیم کی مسحور کن آواز وں میں بلند ہونے والی اذانیں ،شیخ صلاح البدیر کی رقت آمیز تلاوتیں ، کیا کیا گِنواوَں؟ کون کون سی رحمت کا تذکرہ کروں ؟  مقصد یہ باور کرانا تھا کہ بھائی ! کتنا کچھ ہوتا ہے حاجی کے پاس بتانے کو !

اے مدینے کے زائر !خدا کے لئے  داستان سفر  مجھ کو یوں مت سنا

دل مچل جائے گا ، بات بڑھ جائے گی ، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

جی ہاں!داستان سفر اس طرح سنائیے کہ سننے والے کا بھی دل مچل جائے وہاں جانے کو ۔ حسرت سے اس کی آنکھیں جل تھل ہو جائیں ۔ اس کے شوق کی چنگاری بھڑک کر شعلے میں تبدیل ہو جائے ۔ آپ ضیوف الرحمٰن یعنی اللہ تعالیٰ کے مہمانوں میں شامل رہے … گویا اللہ تعالیٰ آپ کی میزبانی کرتا رہا ۔۔۔ اس کیفیت ، اس سعادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذکورہ بالا رحمتوں کو یاد کیجئے اور ان کا تذکرہ کیجئے ۔ زحمتوں اور تکالیف کو فراموش کر دیجئے ، بھول جائیے ۔ اور اگر کبھی مشکلات کا تذکرہ بھی کریں تو تربیت کی غرض سے ، سکھانے کے لئے ، اگلے کو دشواری سے بچانے کے لئے ، آگاہی دینے کے لئے ۔۔۔ نہ کہ شکوہ شکایت کے لئے ۔ خدانخواستہ نا شکری میں شمار نہ ہو جائے ۔

چلتے چلتے صبیح رحمانی کی ایک نظم ملاحظہ فرمائیے ۔ دیکھئے شاعر نے اپنے مشاہدات ِحرم کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔

کعبے کی رونق ! کعبے کا منظر !اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاوَں برابر !اللہ اکبر اللہ اکبر

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو

لایا کہاں مجھ کومیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

حمد خدا سے تر ہیں زبانیں ، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں

بس اک صدا آ رہی ہے برابر ، اللہ اکبر اللہ اکبر

مانگی ہیں میں نےجتنی دعائیں منظور ہوں گی مقبول ہوں گی

میزاب رحمت ہے میرے سر پر اللہ اکبر اللہ اکبر

یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں

رویا غلاف کعبہ پکڑ کر اللہ اکبر اللہ اکبر

اپنی عطا سے بلوا لیا ہے ، مجھ پر کرم میرے رب نے کیا ہے

پہنچا ہوں پھر سے حطیم کے اندر  اللہ اکبر اللہ اکبر

قطرے کو جیسے سمندر سمیٹے ، مجھ کو مطاف اپنے اندر سمیٹے

جیسے سمیٹے آغوش مادر اللہ اکبر اللہ اکبر

باب کرم پر آئے ہوئے ہیں ، پھر ملتزم پر آئے ہوئے ہیں

اے سچے داتا !تیرے گداگر اللہ اکبر اللہ اکبر

بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے ، چوما ہے تجھ کو خود مصطفیٰ نے

اے حجر اسود تیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

جس پر نبی کے قدم کو سجایا ، اپنی نشانی کہہ کے بتایا

محفوظ  رکھا رب نے وہ پتھر اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھا صفا بھی ، مروہ بھی دیکھا  رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا

دیکھا رواں اک سروں کا سمندر اللہ اکبر اللہ اکبر

کعبے کے اوپر سے جاتے نہیں ہیں ، کس کو ادب یہ سکھاتے نہیں ہیں !

کتنے موَدب ہیں یہ کبوتر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

تیرے کرم کی کیا بات مولا ! تیرے حرم کی کیا بات مولا!

تا عمر کر دے آنا مقدر اللہ اکبر اللہ اکبر

مولا! صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے ؟ بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے

بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر اللہ اکبر اللہ اکبر