Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Social

Panama Leaks-Poetry

۔۔۔۔ پانامہ لیکس ۔۔۔۔

خارش پاگل کر دیتی ہے

پیچش پاگل کر دیتی ہے

مکھن ہوش بھلا دیتا ہے

پالش پاگل کر دیتی ہے

ڈالر پونڈ ریال دِرَم کی

بارش پاگل کر دیتی ہے

کرسی پہ قابض رہنے کی

خواہش پاگل کر دیتی ہے

ہر عہدہ ہو میرے تابع

نازش پاگل کر دیتی ہے

جج صاحب اور جرنیلوں سے

رنجش پاگل کر دیتی ہے

قسمت والو! قسمت ہی کی

گردش پاگل کر دیتی ہے

پاؤں تلے، یا  کرسی تلے ہو

جنبش پاگل کر دیتی ہے

کھاتے وقت یہ ہوش کہاں تھا

بندش پاگل کر دیتی ہے

مجرم کو اقبال ہی بہتر

مالش پاگل کر دیتی ہے

کس نے پہنائے یہ جھمکے

پرسش پاگل کر دیتی ہے

لے آئے خط اک، قطری کا

پوزش پاگل کر دیتی ہے

کیلیبری یہ بتلاتا ہے

دانش پاگل کر دیتی ہے

قصر وزارت کیوں چھڑوایا

آتش پاگل کر دیتی ہے

پاجامہ کہ پانامہ ہو

لغزش پاگل کر دیتی ہے

افسانے کا حاصل یہ ہے

پیچش پاگل کر دیتی ہے

Advertisements