Election, Pakistan, Politics, امر بالمعروف و نہی عن المنکر

Aik Jasarat

ایک جسارت

از۔۔۔ ابو شہیر

الیکشن سے دو دن قبل یعنی 9 مئی 2013 ؁ کو ہمارے ایک بزرگ ہمارے گھر تشریف لائے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ دوران گفتگو والدہ نے سوال کیا کہ

ووٹ کس کو دیں گے؟”

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا : “ایم کیو ایم۔ ۔۔بقا کا معاملہ ہے۔ “

ان کا جواب سن کر سخت حیرت ہوئی۔ جی میں تو آئی کہ ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں ، ان کو احساس دلائیں کہ آپ کا یہ عمل آپ کی آخرت کے اعتبار سے کس قدر خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ، لیکن پھر ساتھ ہی وہ تلخ رویے یاد آئے ،  ماضی میں اس قسم کی جسارتوں پر جن کا سامنا کرنا پڑا ۔ سو فوری طور پر کوئی جواب نہ بن پڑا۔

بزرگوار تو یہ کہہ کر کچھ دیر میں چلے گئے لیکن ہمیں ایک اضطراب ، ایک کرب میں مبتلا کر گئے۔ یقیناً آپ یہ جاننا چاہ رہے ہوں گے کہ بزرگوار کے جواب پر ہمارے اس درجہ مضطرب ہوجانے کی وجہ کیا تھی ؟ تو چلئے پہلے اس کا جواب دیئے دیتے ہیں۔

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری اصل شناخت ، اصل پہچان اسلام ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں ، دیگر جو کچھ بھی ہیں اس کے بعد ہیں ۔ اس مسلمانی کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں ، جن سے انحراف و روگردانی کرنے کی صورت میں خدانخواستہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً عصبیت کے بارے میں حدیث رسول ﷺ ہے:

“لیس منا من دعا الی عصبیة ، ولیس منا من قاتل عصبیة ، ولیس منا من مات علی عصبیة”۔ (رواہ ابوداؤد‘ مشکوٰة:۴۱۸)

مفہوم: جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو عصبیت کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔یعنی عصیبت کی طرف بلانے والے سے نبی اکرم نے اعلان بریت کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر کئی سیاسی جماعتوں کی طرح ایم کیو ایم  بھی لسانیت کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ، اور لسانیت عصبیت ہی کی ایک شکل ہے۔

لسانیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ایم کیو ایم کے ابتدائی دور کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ اس کا آغاز بہت عمدہ تھا اور واقعتاً یہ ایک تحریک بن کر ابھری۔ جماعت کی تنظیم کی اگر بات کی جائے تو وہ بھی مثالی تھی اور آج بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ اس جماعت نے نوجوان طبقے کو بہت زیادہ متاثر کیا اور نوجوان قیادت کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا ۔ عظیم احمد طارق جیسے جواں سال لیڈر کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ نوجوان کارکن جس طرح اپنے قائد کے جانثار بنے ، جلسوں میں جو شاندار نظم و ضبط کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، جس طرح قائد کی ایک آواز پر جلسہ گاہ میں خاموشی طاری ہو جایا کرتی ہے ، وہ درحقیقت اس جماعت کا ایک امتیازی وصف ہے ۔ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسا نوجوان میئر نصیب ہوا جس نے اپنی انتھک محنت اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محض چار برسوں میں اس شہر کی کایا پلٹ دی ۔ قائد تحریک الطاف حسین کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی ۔ جن کے ایک اشارے پر تنظیم کے کارکن کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ الطاف حسین ہی کی بصیرت تھی جس نے مصطفیٰ کمال میں چھپی صلاحیتوں کو پہچانا ورنہ مصطفیٰ کمال کو کون جانتا تھا ؟

جس جماعت کو ایسے جانثار اور مخلص کارکن میسر ہوں وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی تھی !لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ یہ جماعت ان تاریک راہوں کی جانب چل نکلی جن پر سفر نے اسے آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اپنے بھی خفا ہیں اور بیگانے بھی ناخوش ۔ ایم کیو ایم جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم لے کر کھڑی ہوئی تھی لیکن بد قسمتی سے آج خود ایک جاگیردار جماعت کا روپ دھار چکی ہے۔ فیوڈل ازم سے نفرت کرنے والی اس جماعت کے اطوار و افکار میں آج خود فیوڈل ازم واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ بات بے بات ہڑتالیں کرنے میں یہ جماعت اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اردو بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار اس جماعت کے مختلف اقدامات سے آج اردو بولنے والوں ہی کا شدید استحصال ہو رہا ہے ۔ شہر کراچی کی آبادی کا بیشتر حصہ اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور شہر کے بیشتر علاقے اردو بولنے والوں کا مسکن ہیں۔ ہم خود بھی اردو بولنے والے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ہڑتالوں کے سبب کاروبار زندگی معطل ہوجانے سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے یقیناً کوئی راکٹ سائنس درکار نہیں۔صرف الیکشن سے قبل ماہ مئی کے ابتدائی ہفتے کا جائزہ لیں تو اس دوران تین مرتبہ شہر کراچی بند ہوا اور الیکشن کے بعد سے اب تک متعدد بار شہر بند کرایا جا چکا ہے ۔تاہم طریقہ واردات میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ لندن یا رابطہ کمیٹی کی جانب سے ایک یوم سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر دوکانیں اور کاروبار بند رکھیں۔ اور اس رضاکارانہ یوم سوگ ، اور عوام کا ایم کیو ایم سے اظہار یک جہتی وغیرہ کی حقیقت بھی اب سب پر پوری طرح عیاں ہو چکی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں کے باعث ان پر اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے ۔ کاروباری طبقے سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں سے ان کو کہاں کہاں کتنا کتنا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

اختلاف رائے اس جماعت کو برداشت نہیں ہے ۔ آپ اس کے قائد کی جانب انگلی اٹھا کے دیکھیں ، یہ آپ کا بازو کیا ، گردن مروڑنے پر اتر آئے گی ۔ ایم کیو ایم کی قیادت دینی طبقے سے بھی شدید بیزار معلوم ہوتی ہے ۔ خود اس جماعت کے کارندے کلاشنکوفیں لے کر دندناتے اور شہر بند کراتے پھرتے ہیں ، لیکن اگر کوئی اسلام پسند فحاشی کے اڈے بند کرانے کے لئے ڈنڈہ اٹھالے تو یہ پورے شہر میں “ڈنڈہ بردار کلاشنکوفی شریعت نامنظور “کے بینرز کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اس کھلی غنڈہ گردی کے باوجود بھی میڈیا ان کی طرف براہ راست نشاندہی کرنے سے عاجز ہے اور ساری فرد جرم “نا معلوم افراد “پر عائد کر دی جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا! قربانی کی کھالوں کی چھینا جھپٹی اور زور زبردستی سے شروع ہونے والا سلسلہ آج یہاں تک دراز ہو چکا ہے کہ ووٹ بھی گن پوائنٹ پر لئے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کے ثبوت کے طور پر حالیہ الیکشن کے بعد کی چند ویڈیوز ہی دیکھ لیجئے ۔ الیکشن میں دھاندلی اور جعلی ووٹنگ کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جب یہ جماعت ایک بار پھر کراچی کی بیشتر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو اگلے روز لندن سے ویڈیو خطاب میں جماعت کے قائد الطاف حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں فرمایا کہ “اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کی عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو پھر کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کر دیجئے “۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان جب اس دھاندلی کے خلاف مظاہرے کے لئے تین تلوار چورنگی پر اکٹھے ہوئے تو ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ تین تلوار پر جو لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں، بہت شو بازی کر رہے ہیں ، میں لڑائی جھگڑا چاہتا نہیں ہوں ورنہ تو ابھی اپنے کارکنوں کو حکم دوں تو وہ تین تلواروں کو اصلی تلواروں کی شکل دے دیں گے” ۔ اسی طرح سے میڈیا کے مختلف اینکر پرسنز کو ٹھونک دینے والا بیان بھی سب کو یاد ہی ہو گا۔ اس شر انگیزی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے مختلف ترجمان مثلا ً رضا ہارون وغیرہ اپنے قائد کے ان فرامین کی عجیب و غریب تاویلیں اور توجیہات بھی پیش کر رہے تھے ۔

درج بالا تمام عوامل کو بالفرض نظر انداز کر بھی دیا جائے تو ایک نہایت سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت کے قائد الطاف حسین قادیانیوں کے بارے میں بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کبھی وہ مرزا طاہر کی موت پر افسردہ و رنجیدہ نظر آتے ہیں تو کبھی مرزا مسرور کی ماں کی موت پر تعزیتی پیغام جاری فرماتے اور دعائے مغفرت فرماتے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں انہوں نے مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے جن خیالا ت کا اظہار فرمایا ، وہ آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایسی جماعت کو ووٹ دینا ، اس کو سپورٹ کرنا ، اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا ، مظلوموں کی آہیں لینے کا ساتھ ساتھ ہماری دانست میں ایمان کے بنیادی تقاضوں کی بھی خلاف ورزی ہے جو اخروی خسارے کا بھی باعث بن سکتی ہے ۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے تفصیل سے بحث کی ہے جس کے آخر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں :

“خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے ۔ ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت ۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے ، اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نا اہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی ، اور اس کے تباہ کن ثمرا ت بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ “

تو قارئین ! یہ تھیں ہمارے کرب و اضطراب کی وجوہات۔ ہمارے وہ بزرگ ہم سے اور ہم ان سے محبت کے دعوے دار ہیں، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص سے محبت کا حقیقی اظہار یہ ہے کہ اسے نقصان سے بچایا جائے ، اور سب سے بڑا اور حقیقی نقصان تو آخرت کا ہے ۔ انہیں شاید اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ایم کیو ایم کو ووٹ دے کر وہ درحقیقت ایم کیو ایم کے متوقع جرائم میں شریک ہو جائیں گے جس پر آخرت میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ دماغ مسلسل اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا کہ ان تک پیغام کس طرح اور کن الفاظ میں پہنچایا جائے ۔ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ہماری اس جسارت کو گستاخی پر محمول نہ کر لیں، کہیں وہ برا نہ مان جائیں، کہیں ناراض نہ ہو جائیں ۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ صرف بزرگوار ہی پر کیا موقوف، اور بھی نجانے کتنے لوگ اپنا اپنا ووٹ ایسی ہی کسی جماعت کو دینے کا سوچے بیٹھے ہوں ۔ تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دینی فریضے کو مد نظر رکھتے ہوئے کافی غور و خوض کے بعد موبائل فون پر ایک پیغام ترتیب دیا اور بزرگوار کے ساتھ ساتھ فون کونٹیکٹس میں محفوظ دیگر نمبرز پر بھی ارسال کر دیا ۔  

ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھئے گا کہ …

-شرعی طور پر ووٹ کی حیثیت شہادت یعنی گواہی کی ہے …. تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ کا ووٹ کسی فاسق و فاجر شخص / جماعت کے حق میں گواہی تو نہیں بن رہا ؟

پاکستان ایک وعدے کے تحت حاصل کیا گیا تھا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام … تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ جس کو ووٹ دے رہے ہیں وہ شخص / جماعت اس عہد کے برخلاف نظریات کی حامل تو نہیں ۔

-یہ مت بھولئے گا کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں آخرت کا ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے اس ووٹ کا کیا جواز پیش کریں گے؟

اگلے روز ان کا جواب موصول ہوا کہ … تمہارا پیغام بہت پر اثر تھا ، جس نے مجھے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔

اللہ اکبر ! ہمیں ایک قلبی سکون و طمانیت محسوس ہوئی کہ ہمارے ان بزرگ نے ہمارے پیغام کو اہمیت دی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائی ۔ درحقیقت یہ ان کا بڑا پن ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ ناراض ہوئے نہ برہم ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہمارے دل میں ان کی عزت و تکریم مزید بڑھ گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کار خیر کی توفیق ، فہم ، جرات اور حوصلہ عطا فرمایا ۔

جو افراد بھی ایم کیو ایم (یا ایسی ہی کسی اور جماعت )سے وابستگی یا اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ وہ بھی ہماری درج بالا گزارشات پر غور فرمائیں اور ایک بار مسلمان بن کر ضرور سوچیں ۔۔۔ یا تو تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے باطل نظریات پر نظر ثانی کرے یا پھر اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے ۔

کراچی کی عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک اس جماعت کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی، کب تک ہڑتالوں اور یوم سوگ کے نام پر کاروبار اور دوکانیں بند کرتی رہے گی؟ کراچی کی عوام کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ آیا وہ مظلوم ہے ظالم ؟ کہ ظالم کو ظلم سے نہ روکنے والا یا ظلم میں ہاتھ بٹانے والا بھی ظالم ہے۔

آخر میں ہم یہ کہتے چلیں کہ ہمیں اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ ہم نے یہاں اصلاح احوال کی جو کوشش کی ہے ، اس کو غلط معنوں میں لئے جانے یعنی ہماری اس جسارت کو گستاخی سمجھے جانے کا خاصا امکان ہے ، جس کے بعد ہمیں بھی کڑے رد عمل اور تنقید کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ٹھونک دینے پر اتر آئے … لیکن کیا کیجئے …. مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ !

اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ ، و ارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

حوالہ جات:

کراچی کو الگ کر دیجئے  ، اور پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=1nHwERmyTrM

اینکر پرسنز کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=9mSENwP4EMo

ووٹ کی شرعی حیثیت

http://urdulook.info/forum/showthread.php?6986-%D9%88%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA!

Advertisements
Election, Pakistan, Politics

Salam Pakistan!

سلام پاکستان

از۔۔۔ ابو شہیر

بالآخر الیکشن منعقد ہو گئے۔پانچ سال سے مہنگائی، بد امنی ، لا قانونیت ، بھتہ خوری، ظلم ، جبر ، تشدد، کرپشن، بھوک، افلاس ، لوڈ شیڈنگ، سی این جی کی بندش، ہڑتالوں اور یوم سوگ کی ماری قوم کو آخر کار وہ موقع ہاتھ آیا کہ جب وہ اپنے حق رائے دہی کو استعمال کرتے ہوئے حبیب جالب کے قالب میں ڈھل کر بتا دیتی:
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر، میں تمہیں، کس طرح سے کہوں؟
تم نہیں چارہ گر
کوئی مانے ، مگر
میں نہیں مانتا
میں نہیں جانتا
اور قوم کی اکثریت نے اپنے عمل سے بتا دیا ، مہر شہادت ثبت کر دی ۔ سلام پاکستان!
اہلیہ نے صبح ہی صبح ووٹ ڈالنے کی فرمائش کر دی۔ سو نہار منہ پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا۔ جس کے باہر گمان اور سابقہ تجربات کے بر خلاف عورتوں مردوں کی طویل قطار موجود تھی۔ ہم بھی جا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک طرف پولنگ کا عمل نہایت سست روی سے آگے بڑھ رہا تھا تو دوسری جانب سورج نصف النہار کی جانب تیزی سے گامزن تھا، لیکن عوام کی ثابت قدمی دیدنی تھی۔ سلام پاکستان!
یہ قطاریں دیکھ کر ملک کے دیگر حصوں کے” جاگیرداروں” کی طرح کراچی کے جاگیرداروں کی صفوں میں بھی کھلبلی مچی ہوئی تھی ۔ وہ حیران و پریشان تھے کہ یہ اتنے لوگ کہاں سے نکل آئے، اور اتنی استقامت سے کیسے کھڑے ہوئے ہیں قطاروں میں۔ ارے گزشتہ پانچ برسوں میں سی این جی کی قطاروں میں کھڑا کر کے تم نے ہی تو تربیت دی تھی ہمیں ۔ چودہ چودہ گھنٹے بجلی بند کر کے تم نے ہی تو گرمی برداشت کرنے کی ٹریننگ دی تھی ہمیں۔ اس وقت اگر تمہیں حیرت نہیں ہوئی تو پھر آج ہماری برداشت پر حیرت زدہ کیوں ہو؟سلام پاکستان!
قطار میں کھڑے لوگوں کی غالب اکثریت نامعلوم افراد سے نجات کی خواہاں تھی۔ بیس بائیس برس کے نوجوان ہی کیا، کئی ادھیڑ عمر کے افراد بھی زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے آئے ہوئے تھے۔ آج کراچی کے یہ سب پاکستانی ، پاکستان کے لئے گھروں سے نکل آئے تھے۔ اور آج اس الیکشن کے دن کو بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ہڑتالوں کے خلاف یوم یکجہتی کے طور پر منا رہے تھے ۔ سلام پاکستان!
تین چار گھنٹے کی صبر آزما جد و جہد کے بعد قطار میں کھڑے لوگ بالآخر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ کسی کے سر میں درد ہو رہا تھا تو کوئی پسینے میں شرابور تھا۔ تاہم سب کے چہروں پر یک گونہ اطمینان تھا کہ “نامعلوم افراد “کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے ۔ سب شاداں تھے کہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف نہی عن المنکر کے طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کر دیا ہے۔ پیچھے ایک طویل قطار ہنوز موجود تھی ، سلام پاکستان!
سورج زوال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا جبکہ کراچی کی جاگیردار جماعت اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ زوال کی جانب گامزن تھی ۔ دن ڈھلے نامعلوم کارکنوں کا حوصلہ جواب دے گیا ۔ ادھر جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد جماعت اسلامی کے پولنگ ایجنٹس بھی پولنگ اسٹیشنز سے اٹھ کھڑے ہوئے جن کے چلے جانے کے بعد تو نامعلوم افراد کو کھلی چھٹی مل گئی ۔ اب ووٹرز کی شامت آ گئی ۔ دھونس دھمکی کے عادی نا معلوم بدمعاش ، ووٹرز کو گالیاں دینے لگے کہ تم سب ہمارے بجائے دوسروں کو کیوں ووٹ ڈال رہے ہو؟ سلام پاکستان !
ایک پاکستانی نے بتایا کہ وہ جب بیلٹ پیپر پر مہر لگانے لگا تو ایک نامعلوم فرد نے بیلٹ پیپر اس کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی لیکن اس پاکستانی نے کمال جرات و بہادری سے اس کی یہ جسارت ناکام بنا دی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر ڈالا جو کہ ظاہر ہے “نامعلوم افراد “کے خلاف ہی تھا۔ ایک اور پاکستانی نے بتایا کہ اسے بھی ایک نامعلوم فرد نے بیلٹ پیپر پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے الٹا اس نامعلوم فرد پر ہی چڑھائی کر ڈالی کہ تمہارے اس عمل سے پیچھے کھڑے سو افراد کا ذہن بھی تبدیل ہو چکا ہے ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اندر پہنچی تو بیلٹ پیپر ہی ختم ہو چکے تھے لیکن خواتین انتظار کرتی رہیں۔ اللہ اللہ کر کے بیلٹ پیپر آئے تو انہوں نے جب بیلٹ پیپر پر نامعلوم افراد کے خلاف مہر لگائی تو وہاں موجود ایک نامعلوم خاتون نے کہا کہ آپ نے انتخابی نشان پر مہر نہیں لگائی ، دوبارہ مہر لگائیں انتخابی نشان کے اوپر ، ورنہ آپ کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔ جس پر انہوں نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ چلو ضائع ہوتا ہے تو ہونے دو، دوبارہ مہر تو میں ہرگز نہیں لگاؤں گی ۔ سلام پاکستان !
شہر کے بہت سے پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عملہ “نامعلوم ” وجوہات کی بنا پر خاصی تاخیر سے پہنچا ۔ لیکن ووٹرز بہر حال ڈٹے رہےاور صبر و استقلال کے ساتھ انتظار کرتے رہے۔ ان مقامات پر پولنگ خاصی تاخیر سے شروع ہوئی ۔ شام میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا لیکن ووٹرز کی قطاریں ختم نہ ہو پائیں۔ جس کے باعث الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانا پڑا ۔ سلام پاکستان !
لیکن پھر اس ساری جد و جہد پر شب خون مار دیا گیا ۔ مقررہ وقت پر پولنگ اسٹیشنز کے بند ہو جانے والے دروازے نامعلوم افراد کے لئے کھلے رہے جنہوں نے رضاکارانہ ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ پولنگ اسٹیشنز پر تعینات عملہ ، پولیس اہلکار ، رینجرز …. کہیں یہ بے بس تھے اور کہیں اس کارخیر میں شامل ۔ سو ریکارڈ ووٹ کاسٹ ہوئے۔ اور ایسے اندھا دھند کہ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ووٹ کاسٹ ہو گئے۔
ہمارے بھی کچھ متعلقین پولنگ اسٹیشنز پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے ۔ انہوں نے صورتحال یہ بتائی کہ جب ڈبے کھلے تو نامعلوم افراد بھاری مارجن سے شکست کھا چکے تھے ۔ لیکن پھر نامعلوم رضاکاروں نے چھپائی شروع کی ، ٹھپا ٹھپ ، ٹھپا ٹھپ ، ٹھپا ٹھپ ۔۔۔ اور صرف اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ مخالف ووٹ پھاڑے گئے یا دوہری مہریں لگا کر ضائع کئے گئے۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے ۔
پھر نتائج آنے شروع ہوئے تو کراچی کا پہلا نتیجہ رات ایک بجے سنایا گیا جس کے مطابق شہر کے ایک حصہ سے مسترد شدہ نمائندہ ، نامعلوم افراد کے قلب سے تقریباً پونے دو لاکھ ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس حلقے میں فی گھنٹہ 1800 ووٹ، فی منٹ 300 ووٹ اور فی سیکنڈ 5 ووٹ کاسٹ ہوئے ۔ کچھ حلقے اسے ورلڈ ریکارڈ بھی قرار دے رہے ہیں ، واللہ اعلم۔ بہرحال اس واحد نتیجے کے بعد کراچی کے مزید کسی حلقے کے نتیجے کے لئے اہل کراچی کو اگلے دن کا انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران ہونے والی نامعلوم ووٹنگ سب کے علم میں ہے ۔ اور پھر اگلے روز میڈیا پر نا معلوم افراد کی “فقید المثال کامیابی ” کے تذکروں کی بھرمار تھی۔ نجانے کیوں اس “تاریخی” کامیابی کے باوجود نا معلوم افراد نے ماضی کی طرح جشن کامیابی نہیں منایا ۔ شاید کھسیاہٹ بہت شدید تھی ۔
کراچی کی باشعور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا ۔ نامعلوم افراد کے گھروں میں صف ماتم بچھ چکی تھی ۔ اگلے روز “مجلس شام غریباں “سے خطاب کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے “ڈی پورٹڈ سرغنہ ” نے دھمکی دی کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کے عوام کا فیصلہ منظور نہیں تو کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کیوں نہیں کر دیتے ، نیز یہ بھی فرمایا کہ ابھی اپنے ساتھیوں کو حکم دوں تو تین تلواروں کو اصلی تلواروں میں تبدیل کر دیں گے… جس کی تشریح نامعلوم افراد کے “راضی برضا ” ترجمان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ کی کہ وہ اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کو اصلی شکل میں بدل دیں گے۔ اب اس اتنی اچھی بات کو اتنے غصے میں کرنے کی کیا ضرورت تھی چیف صاب کو، یہ تو نامعلوم افراد ہی بہتر بتا سکیں گے۔
ان دھمکیوں پر تعلیم یافتہ اور با شعور شہریوں نے لندن میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ میں فون کر کے شکایات درج کرانی شروع کر دیں کہ برطانیہ کا ایک شہری پاکستان کے عوام کے خلاف دہشت گردی کی کھلی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان شکایات کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ یقیناً لندن انتظامیہ کی جانب سے چیف صاب کی کھنچائی ہوئی ہو گی کہ حضرت کو اگلے ہی دن اپنے بیان کی تردید کرنی پڑی ۔ سلام پاکستان !
آخری خبریں آنے تک چیف صاب نا سازیٔ طبع کے باعث اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں ۔ یقیناً اس وقت وہ جس ٹینشن سے گزر رہے ہیں اس میں ڈائیریا میں مبتلا ہو جانا عین ممکن ہے ۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ چیف صاب کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں ۔ اور یہ تو عوام جانتے ہی ہیں کہ دعا کیا مانگنی ہے ۔ سلام پاکستان !