Intaqal, Mayyat, میت, جنازہ

تدفین میں تاخیر

بیرون ملک احباب کی خدمت میں

یہ پوسٹ ان احباب کی توجہ کے لیے ہے جو بیرون ملک رہائش پزیر ہیں۔ کسی کو غم روزگار لے گیا کسی کو اعلی تعلیم کی خواہش۔۔۔ کوئی بہن بیٹی رخصت ہو کے پردیس سدھاری تو کسی بھائی نے بوجوہ امیگریشن حاصل کر لی۔

پردیس میں رہنے والے بہت عظیم لوگ ہیں۔ اپنے گھر والوں کے معاشی مسائل کے حل کے لیے بہت بڑی قربانی دے رہے ہیں۔ ہر دکھ تکلیف تنہا سہتے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا دکھ اپنے گھر والوں ماں باپ بہن بھائیوں اور اپنے دوست یاروں سے دوری ہے۔ یہ دکھ اور بھی سوا ہو جاتا ہے جب اپنے پیاروں میں سے کوئی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ یہی نکتہ ہمارا موضوع ہے۔

پردیس میں رہنے والے اپنے معاشی مسائل یا ملازمت کی پابندیوں کے سبب بسا اوقات سالوں گھر نہیں آ پاتے۔ اس وقت بھی جب کسی پیارے کی شادی ہو رہی ہوتی ہے اور اس وقت بھی جب کوئی عزیز بستر مرگ پر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد یہ تڑپ جاتے ہیں اور حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ وطن واپس آ کر اپنے پیاروں کے گلے لگ کے رو لیں۔۔۔ مرنے والے کا آخری دیدار کر لیں۔۔۔ اس کے جنازے میں شرکت کر لیں۔۔۔ اس کی میت کو کاندھا دے دیں۔۔۔ اس کی قبر کو مٹی دے دیں۔

اب جو احباب مشرق وسطی میں رہتے ہیں وہ بھی فلائٹ دستیاب ہونے کی صورت میں کئی گھنٹوں میں گھر پہنچ پاتے ہیں۔۔۔ دوسری طرف یورپ امریکہ کینیڈا میں بسنے والوں کو گھر پہنچنے میں عموماً چوبیس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ یہ بھی اس صورت میں ممکن ہو پاتا ہے جب فلائٹ فوری دستیاب ہو ورنہ اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔

شرعی حکم ہم سب کے علم میں ہے کہ میت کی جلد از جلد تدفین کر دینی چاہیے۔ اب ایک طرف گھر والے انتظامات میں لگے ہوتے ہیں، دوسری طرف ان کا اصرار کہ میت کی تدفین ان کے آنے تک موخر کر دی جائے۔ ایسے میں میت کو سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

کئی کئی دن میت وہاں پڑی رہتی ہے جس کے بعد تدفین ہو پاتی ہے۔ سرد خانے کی ضرورت اور استعمال قتل یا حادثاتی اموات کا شکار ہونے والوں کے کیس کی تحقیقات یا لاوارث میتوں کے ورثاء کی تلاش و شناخت کے لیے تو سمجھ میں آتا ہے۔۔۔ لیکن جن کے ورثاء موجود ہیں انہیں سرد خانے میں ڈالنا ناقابل فہم ہے۔

بیرون ملک احباب کے انتظار میں میت کی تدفین کو موخر کرنے میں ایک اور قباحت یہ ہے کہ بعض اوقات نماز جنازہ میں بڑا مجمع ملنے کا موقع گنوا دیا جاتا ہے۔ مثلاً جمعہ کی نماز میں نماز جنازہ ہو تو ایک کثیر مجمع کی شرکت ہو جاتی ہے جو میت کے حق میں بہت خوش آئند ہے۔۔۔ اس کے برعکس دیگر نمازوں میں نمازیوں کی تعداد کہیں کم ہونے کے باعث نماز جنازہ میں بھی مجمع کم ہو جاتا ہے۔ ہماری دانست میں یہ میت کی حق تلفی کے مترادف ہے۔ میت ہماری محتاج ہے۔ ہمیں اس کے فائدے کی زیادہ سے زیادہ فکر کرنی چاہیے۔

بیرون ملک احباب جہاں اتنی قربانیاں دے رہے ہیں وہیں ایک قربانی اور دے لیں تو اس کا فائدہ آپ کے گھر والوں کو بھی پہنچے گا اور آپ کی میت کے لیے بھی ان شآء اللہ خیر اور راحت کا سبب بنے گا۔ یعنی میت کی تدفین میں تاخیر کا سبب نہ بنیں۔ گھر آئیے ضرور آئیے۔۔۔ اپنے پیاروں کے گلے لگ کے اپنا غم ہلکا کیجیے۔۔۔ بس ایک قدم آگے بڑھ کے جی کڑا کر کے گھر والوں کو کہیں کہ۔۔۔ میں آ رہا ہوں۔۔۔ لیکن میرا انتظار نہ کیجیے بلکہ تدفین میں جلدی کیجیے۔ رہی میت کے آخری دیدار کی خواہش تو یہ تو ویڈیو لنک پر بھی کیا جا سکتا ہے۔

آخری بات یہ کہ مرنا ہم سب نے ہی ہے۔ تو کیوں نہ وصیت کر جائیں کہ ہمارے مرنے کے بعد تدفین میں نہ بے جا تاخیر کی جائے نہ کسی کا انتظار۔ کیونکہ تاخیر ہو گی تو ممکن ہے ہماری میت بھی کئی دن کے لیے سرد خانے میں ڈال دی جائے۔ اف! اس خیال سے ہی وحشت ہوتی ہے۔

(متفق ہوں تو آگے شیئر کرتے جائیے۔)

Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اسلام, علم دین

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

دین عبادت کا نہیں اطاعت کا نام ہے۔
اللہ کے ہاں کوانٹٹی نہیں کوالٹی دیکھی جاتی ہے۔
اللہ کے ہاں مقدار نہیں، اخلاص کی اہمیت ہے۔
شریعت میں عام قاعدہ ہے، مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔

ایمان والوں کو کہا گیا اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ اولوا الامر کون ہیں؟ حکومت، علمائے دین، متعلقہ شعبہ کے ماہرین۔ مثلا مریض کے لیے معالج، طالبعلم کے لیے استاد۔۔۔ علی ھذا القیاس۔

ہم کتنے نمازی ہیں یہ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اس کی گواہ ہماری مساجد بھی ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مسجد کے ہال صحن دالان حتی کہ چھتیں تک بھری ہوئی ہوتی ہیں جبکہ باقی چونتیس نمازوں میں مسجد کا ہال ہی پر ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اور فجر کا تو ذکر ہی رہنے دیجئے۔

اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی! ہفتہ بھر نمازوں سے غافل… جمعہ کا اہتمام۔ سال بھر نمازوں میں غفلت… رمضان میں مسجد کو دوڑیں۔ عید کے بعد پھر سال بھر کے لیے غائب۔ الا ما شآء اللہ۔

عذر کی صورت میں معذور کو خاصی آسانی عطا کی گئی۔ لیکن رعایت کے معاملہ میں بھی ہم افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ مثلا بیٹھ کر نماز۔ معذور کو رعایت حاصل ہے کہ اپنی تکلیف و مرض کی شدت کے مطابق بیٹھ کے نماز پڑھے۔ بیٹھنے کا مطلب زمین پہ بیٹھ کے نماز پڑھی جائے۔ لیکن چونکہ فی زمانہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کو کرسی پر بیٹھنا ہی فرض کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ادھر کوئی معمولی سا عارضہ لاحق ہوا ادھر کرسی پکڑی۔ اب دفتر بازار واک سے لے کر مسجد آنے تک سارے کام پیدل ہو رہے لیکن نماز کرسی پر! ایسے ہی رمضان کے روزوں کا معاملہ ہے۔ بعضے محض زکام یا کسی معمولی بیماری پر روزہ چھوڑنے کو تیار۔

دوسری جانب نماز قصر کا مسئلہ ہے۔ شریعت نے چودہ سو برس پہلے بتا دیا کہ مسافر قصر نماز ادا کرے۔ مسافر کی تعریف بھی بیان کر دی۔ لیکن بعض انٹیلیکچوئلز شرعی حکم کے برخلاف پوری نماز پڑھنے پر مصر۔ تاویل یہ کہ اب سفر پہلے جیسا پر صعوبت کہاں رہا؟ یعنی شریعت آسانی دے رہی ہے لیکن چونکہ یہ آسانی اپنی سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔ سو یہاں بھی اپنی ہی کرنی ہے۔

اب اتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جو آج کل درپیش ہے۔ کورونا وائرس کے سبب مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی۔ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء سے مشاورت کے بعد جمعہ کے اجتماعات کو تین تا پانچ افراد تک محدود کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ بڑے بڑے علماء نے فتاوی جاری کئے کہ باقی مسلمان حکومتی اقدام کی روشنی میں معذور ہو گئے۔ لہذا اب شرعی عذر کے سبب یہ مسلمان گھروں پر ہی نماز ظہر ادا کریں۔ لیکن صاحب… میں نہیں مانتا!

اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ مغربی ممالک سے لے کر مشرق وسطی تک اور سعودی عرب سے لے کر پاکستان تک اکثر مساجد بند ہیں یا نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں ڈاکٹر علمائے دین اور حکمران سب ایک صفحہ پر ہیں۔ گویا امت کا سواد اعظم ایک نکتے پر متفق ہے کہ وباء کے پھیلاؤ اور نقصانات کے باعث ماہرین طب کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور موجودہ غیر معمولی صورتحال کے سبب مذہبی اجتماعات کو جہاں تک ممکن ہو سکے مختصر و محدود کر دیا جائے۔ لیکن….میں نہ مانوں۔۔۔

مسجدیں بند ہونے یا جمعہ پر حکومتی پابندی سے یقینا کوئی مسلمان خوش نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے مسجد جانے پر اسے مطعون کر سکتا ہے۔ دکھ اور افسوس لیکن اس بات کا ہے کہ نہ حکومتی احکامات کی پابندی کی جا رہی نہ علماء کی ہدایات پر کان دھرے جا رہے نہ ڈاکٹر صاحبان کی التجاؤں کو سنجیدہ لیا جا رہا، اور نہ ہی امریکہ اسپین اٹلی سے آنے والی آہ و بکا سے عبرت پکڑی جا رہی ہے، الا ما شآء اللہ۔

بعض دین سے محبت رکھنے والے حکومتی اقدام پر معترض ہیں کہ سپر اسٹورز اور بازار کھلے ہیں لیکن مساجد پر پابندی پے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ محترم آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ سارے اسکول کالج یونیورسٹیز تمام مدارس سارے ہوائی اڈے ریلوے سروس بس سروس کریم اوبر سروس ہوٹل ریستوران ٹورزم سارے چائے کے ہوٹل تمام شاپنگ مال سارے شادی ہال تمام سنیما گھر مکینک کپڑے جوتے کی دوکانیں بے شمار فیکٹریز اور جانے کیا کیا بند ہوا پڑا ہے۔ حتی کہ اسپتالوں میں او پی ڈیز بھی بند ہیں۔ فقط چند گنے چنے شعبے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ بھی دن میں محدود وقت کے لیے۔

پھر تقریبا تمام ہی سپر اسٹورز نے چار حفاظتی تدابیر دروازے پر ہی لازمی اختیار کی ہوئی ہیں۔ اول ماسک کے بغیر کوئی گاہک اندر نہیں جا سکتا۔ دوم ہر فرد کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔ سوم ہر فرد کے ہاتھ سینیٹائز کئے جاتے ہیں۔ چہارم ٹرالی کے دستے کو جراثیم کش کیمیکل سے صاف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ ہجوم پر اعتراضات کے بعد بعض اسٹورز سیل بھی کئے گئے جس کے بعد ان سپر اسٹورز نے پانچویں تدبیر یہ اختیار کی کہ گاہکوں کو باہر ہی مناسب فاصلے سے قطار میں کھڑا کر کے انتظار کرایا کیا جا رہا ہے اور اندر بھی کراؤڈ مینیجمنٹ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

اب آئیے مساجد پر۔ علماء نے جمعہ پر حکومتی پابندی پر عوام کو معذور قرار دیتے ہوئے گھروں میں ظہر ادا کرنے ہدایت کی۔ لیکن عوام نے اس شرعی رعایت کو رد کر دیا۔ اور ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت کا ادراک نہ کرتے ہوئے مسجدوں کو گئے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اولین جمعہ میں مساجد میں خطبہ سے قبل اردو بیان بھی ہوا۔ اس کے بعد اگلے جمعہ حکومت نے زیادہ سختی کی اور 12 سے 3 بجے کرفیو اور مساجد کو تالے لگانے جیسے انتہائی اقدامات کئے۔ اس تدبیر کا توڑ یہ کیا گیا کہ بعض نمازی 12 بجے سے قبل ہی مساجد پہنچ گئے یا کرفیو کے اوقات میں چور دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ جمعہ کے بعد جب بڑی تعداد میں نمازی مساجد سے باہر نکلتے دیکھے گئے تو عوام اور پولیس کے درمیان نوک جھونک یا لاٹھی چارج و پتھراؤ سے لے کر امام مسجد کی گرفتاری ایسے ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے۔ ہماری دانست میں ان سب واقعات کا بنیادی سبب حکومتی احکامات سے ہماری سرتابی ہے۔

اولوا الامر کی ہدایات یہ بھی تھیں اور ہیں کہ کم عمر بچے مسجد نہ جائیں۔ اسی طرح بزرگ افراد جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس کے سبب زیادہ خطرے میں ہیں مسجد نہ جائیں۔ نزلہ زکام بخار یا کسی اور بیماری میں مبتلا افراد بھی مسجد نہ جائیں۔ لیکن افسوس عمر رسیدہ افراد ایک مرتبہ پھر ہمارے برادر خورد کے اس قول کی تائید کرتے نظر ائے کہ ہمارے ہاں عمر رسیدہ افراد تو کمی نہیں، بزرگ لیکن شاذ ہی کوئی ملتا ہے۔ علماء نے کہا ماسک اور دیگر تمام حفاظتی تدابیر اختیار کر کے مسجد آئیں۔ لیکن خال خال ہی کوئی ماسک پہنے مسجد جاتا دکھائی دیا۔ ایمان ہمارا ایسا نحیف و لاغر کہ جمعہ کے جمعہ مسجد لاتا ہے لیکن توکل میں ہم شاید خود کو سیدنا عمر فاروق سے بھی آگے سمجھتے ہیں۔ ہماری ایسی لاپرواہیوں کے باعث دین دینی مراکز اور علماء و ائمہ مساجد کس قدر رسوا و بدنام ہو رہے ہیں اس کا ہمیں نہ احساس ہے نہ فکر۔ جون ایلیا کا یہ قطعہ نہایت موزوں و بر محل معلوم ہوتا ہے۔۔۔
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی

قرآن ایمان والوں کو کہتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔ انما الاعمال بالنیات کی روشنی میں امیر اور اولو الامر کی اطاعت کی نیت سے گھر پر نماز ادا کر لی جائے، یا رعایت و رخصت پر یہ سوچ کر عمل کر لیا جائے کہ یہ بھی اللہ کو پسند ہے تو ان شآء اللہ اس پر بھی بڑا اجر و ثواب متوقع ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی!

Uncategorized

Why Isolation???

آئسولیشن کا فائدہ؟؟؟

ہم سب کورونا وائرس کے سبب گھروں تک محدود کر دیئے گئے ہیں۔ بظاہر احتیاطی تدبیر ہے وائرس سے بچنے بچانے کی۔ حقیقت اللہ ہی جانے کہ اس آئسولیشن کے پیچھے اس کا کیا پلان ہے ہمارے لیے؟

ابھی چار چھ دن پہلے تک وقت رک ہی نہیں رہا تھا۔ کب رات ہوئی کب دن نکلا کچھ پتہ ہی نہ چلتا تھا۔ نہ کام پورے ہو رہے تھے نہ آرام۔ کھانا بھاگم بھاگ تو نمازیں لپک جھپک۔ ہر وقت ایک افراتفری۔ اب فرصت ہی فرصت ہے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا کریں۔ ٹک کے گھروں میں بیٹھنا دوبھر لگ رہا ہے۔

غالب نے کہا تھا
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

تو فرصت کے یہ دن تصور جاناں میں بھی بسر کئے جا سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے دن میں کچھ لمحات اپنے رب کے ساتھ نہ گزار لیے جائیں؟ کتنا تھک گئے تھے ناں ہم۔ تو ماں سے ستر گنا زیادہ شفیق و مہربان رب کی گود میں چند منٹ سستا نہ لیا جائے؟ کیوں نہ نمازوں کو سکون سے ادا کر لیا جائے۔ اللہ کا کچھ ذکر کچھ تلاوت قرآن کریم کچھ صبح و شام کی تسبیحات کا اہتمام کر لیا جائے۔ رب کریم سے راز و نیاز کی باتیں کر لی جائیں۔ پیارے نبی ﷺ کی خدمت میں روزانہ سو دو سو درود پاک کا ہدیہ پیش کر دیا جائے۔۔۔ کچھ سیرت مبارکہ کا مطالعہ کر لیا جائے۔ گھر والوں کے ساتھ دو چار منٹ اللہ رسول کی بات کر لی جائے۔

کیا کہا؟
نسخہ طویل ہو گیا۔
اچھا۔۔۔
چلیں مختصر کر لیں۔
فقط اپنی نمازوں کو ہی کچھ طویل کر لیں۔
آج کل بیشتر افراد گھروں پر ہی نماز ادا کر رہے ہیں۔

فجر کی نماز میں طویل سورتوں سے تلاوت مسنون ہے۔ تو جن کو طویل سورتیں یا ان کا کچھ حصہ یاد ہو وہ نماز فجر میں وہی تلاوت کر لیں۔ کم سے کم اتنا قیام ہو جائے جتنا مسجد میں ہوتا ہے۔ چھوٹی سورتیں یاد ہیں تو ایک سے زائد سورتیں ترتیب سے تلاوت کر لیں۔ ظہر میں بھی تلاوت کی مقدار کچھ بڑھا لیں۔ بعض اکابرین کا سنا کہ ظہر کی اول دو رکعات میں سورة یس کی تلاوت کرتے ہیں۔ جن کو سورة یس حفظ ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ یا کوئی اور طویل سورة۔ ورنہ وہی ایک سے زائد چھوٹی سورتوں کی تلاوت کر لیں۔ ایسے ہی عشاء میں کر لیں۔ عشاء کے وتر کی رکعات میں رسول اللہ ﷺ سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس سنت پر عمل کر لیں۔

کیا کہا؟

ابھی بھی زیادہ ہے۔

اچھا۔۔۔

چلیں تلاوت کم مقدار میں ہی کر لیں۔ رکوع سجدے کی تسبیحات بڑھا لیں۔ تین کی بجائے پانچ سات مرتبہ پڑھ لیں۔ سنن و نوافل میں قومہ میں سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کا اضافہ کر لیں۔ سجدے میں تسبیحات کے علاوہ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفر لی یا اور کوئی مسنون دعا کا اضافہ کر لیں۔ دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں اللھم اغفر لی و ارحمنی و عافنی و ارزقنی و اھدنی واسترنی و اجبرنی و ارفعنی پڑھ لیں۔ قعدہ آخر میں تشھد اور درود شریف کے بعد ایک دعا کی بجائے زیادہ دعائیں کر لیں۔

جی؟

اس سے بھی کم۔

چلیں پھر نماز کے بعد کچھ اضافی دعا ہی کر لیں۔ آج کل تو ویسے بھی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ناں ہم سب کو۔
سوچ لیجیے۔

جانے یہ فرصت کتنے روز کی ہے۔

ایاما معدودات

کتنے ہی واقعات ہیں آئسولیشن کے۔ یونس علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، اصحاب کہف، غار حرا، شعب ابی طالب۔ غور کیجیے ان آئسولیشنز کے بعد کے مدارج پر۔

اللہ ہی جانے کہ اس کا ہمارے لیے اس آئسولیشن کے پیچھے کیا پلان ہے؟ فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ ان میں سے ایک یہ کہ فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔

زندگی تم ذرا یہیں رکنا ؏

میں زمانہ بدل کے آتا ہوں

زندگی رکی ہوئی ہے۔

زمانہ بدلنے کی کچھ کوشش نہ کر لی جائے۔

#خودکلامی