Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, عمرہ

Expectations of Hajis

حجاج کرام کی بلند و بالا توقعات

محترم عازمین حج

اپنی توقعات کو پست رکھئے۔

بہت زیادہ توقعات وابستہ نہ کیجیے۔

خانوادہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مشقت یاد کیجیے۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ بی بی ہاجرہ اور اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ایک ویران جگہ لا کے چھوڑ دیا۔

ذرا اس ویرانی کا تصور تو کر کے دیکھئے۔ ذرا اس گرمی کا تصور تو کیجئے۔

کیا بی بی ہاجرہ نے کوئی شکوہ کیا۔

انہوں نے جب یہ جانا کہ معاملہ اللہ کے حوالے ہے تو پھر توکلت علی اللہ کا پیکر بن گئیں۔

بی بی ہاجرہ کی صبر و شکر کی ساری ادائیں آج حج کا حصہ ہیں۔

حج انتظامات بہت شاندار ہوتے ہیں۔

دوبارہ پڑھئے *بہت شاندار۔*

ماضی میں پتھریلی زمین پر بیٹھنا پڑتا تھا۔

اب جگہ جگہ ماربل ٹائل قالین ایئر کنڈیشنرز لگے ہیں۔

عرفات میں گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے پانی کی پھوار کا بندوبست کیا گیا ہے۔ واش روم کچن اسپتال سمیت سارے انتظامات موجود۔

پہلے سہولیات کم تھیں لیکن مجمع بھی کم تھا۔

آج کا اصل چیلنج حجاج کرام کا ازدحام ہے۔

بیس پچیس لاکھ حجاج کرام کو مقررہ اوقات میں مقررہ مقام تک پہنچانا اصل چیلنج ہے۔ دنیا کے بہت سے شہروں کی آبادی اس سے کہیں کم ہے۔

آٹھ ذی الحج کو منیٰ میں بیس پچیس لاکھ آبادی کا شہر آباد ہوتا ہے۔

اگلے 24 گھنٹے میں یہ بیس پچیس لاکھ کا مجمع پہلے مرحلہ میں منیٰ سے عرفات پہنچایا جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں عرفات سے مزدلفہ اور اس سے اگلے مرحلے میں واپس منیٰ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ معاملہ کس قدر دشوار گزار اور نازک ہے۔ کھانے اور ٹرانسپورٹ میں اونچ نیچ عین ممکن ہے۔

ایک صاحب کہا کرتے تھے کہ حاجی کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ حاجی کو حرم میں بھی ٹھہرا دو تو شکایت کرے گا کہ واش روم کے لیے بہت دور جانا پڑتا ہے۔

شیطان کے حملوں سے محتاط رہیے۔ ہر دم چوکنا رہیے۔

لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید

شکرگزاری کے بدلے مزید نعمتوں کی بشارت ہے۔ جبکہ ناشکری کی صورت میں سخت عذاب کی وعید۔

اللھم اجعلنا من الصابرین و اجعلنا من الشاکرین

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم عرفہ, Yom e Arafa, اسلام, حج

Arif, Arafat, Ma’rfat

عارف، عرفات، معرفت

ایک بزرگ کی مجلس تھی۔

گفتگو کا موضوع تھا معرفت الہٰی۔۔۔

اللہ کی ذات کا عرفان کیسے حاصل ہو؟

بندہ کیسے عارف بن سکتا ہے؟

اس کے لئے کیا کیا جتن کرنے ہوں گے؟

کن کن مراحل سے گزرنا ہو گا؟

کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی؟

وغیرہ وغیرہ

حضرت ایک ایک نکتہ بیان کر رہے تھے۔

مجمع پر ایک سکوت طاری تھا۔۔۔

شرکائے مجلس ہمہ تن گوش بنے حضرت کی گفتگو سن رہے تھے۔۔۔

وہیں سے ایک موچی کا بھی گزر ہوا۔۔۔

بیٹھ کے سننے لگا حضرت کی باتیں۔۔۔

بیان ختم ہوا تو سارا مجمع تو سبحان اللہ ما شآء اللہ کی گردان کرتا ہوا اپنی اپنی راہ چلا۔

حضرت جی نے موچی کو بلا کے شفقت سے پوچھا:

“میاں کچھ سمجھ بھی آیا کیا گفتگو ہو رہی تھی؟”

بولا: “جی معرفت پر وعظ ہو رہا تھا.”

پوچھا: “پھر کیا سمجھ آیا؟ کیا ہوتی ہے معرفت؟”

بولا: “جی اور تو کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ بس اتنا ہی سمجھ آیا کہ ۔۔۔

پہلے جو میرا اللہ کہے، میں کر دوں،

پھر جو میں کہوں، میرا اللہ کر دے!”

 حج پر یہی سب کچھ ہوا کرتا ہے جناب۔

ARIF, ARAFAT, MA’ARFAT

========================

Aik Buzurg ki Majlis thi

Guftugu ka Mouzu tha Ma’arfat e Ilahi

Allah ki Zaat ka Irfan Kesey Hasil Ho?

Banda Kesey Arif ban sakta hy?

 Is kay liye kya kya jatan karnay hon gay?

Kin kin marahil say guzarna ho ga?

Kya kya qurbanian deni hon gi?

Waghera waghera

Hazrat aik aik Nukta bayan ker rahay they.

Majmay per aik sukut tari tha.

Shuraka e Majlis hama tan gosh banay Hazrat ki guftugu sun rahay thay

Wahin say aik Mochi ka guzar hua

Beth k laga sunnay Hazrat ki baten

Bayan khatam hua to sara majma SubhanAllah Ma Shaa Allah ki gardaan karta hua apni rah chala

Hazrat Ji nay Mochi ko bula kay shafqat say poocha: “Miyan! Kuch samajh bhi aya kya guftugu ho rahi thi?”

Bola: “Ji Ma’arfat pay wa’z ho raha tha.”

Poocha: “Phir! Kya samajh aya? Kya hoti hy Ma’arfat?

Bola: “Ji aur to kuch pallay nahi para. Bus Itna he samajh aya kay… Pehley jo Mera Allah Kahay, Main Kar Doon… Phir Jo Main Kahoon, Mera Allah Kar Day!”

HAJJ PER YEHI SUB KUCH HUA KARTA HY JANAB!