Emaan, Islam, Social, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, علم دین

سائیڈ اسٹینڈ اٹھا لیں

سائیڈ اسٹینڈ اٹھا لیں

دو تین روز قبل ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک صاحب نے ازدواجیات پر مبنی ایک لطیفہ شیئر کیا۔

بیوی: میں نے سنا ہے کہ جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا ملے گا؟

شوہر: کچھ نہیں۔ یہ پیکیج صرف مظلوم طبقے کے لیے ہے۔

اس خیال سے کہ موصوف لطیفے کے متن سے صرف نظر کر گئے ہوں گے، میں نے توجہ دلائی کہ۔۔۔ اس طرح کے لطیفے نہ بنانے چاہئیں نہ شیئر کرنے چاہئیں۔ ایمانیات کے خلاف ہیں۔ “عورتوں کو جنت میں کیا ملے گا” کے جواب میں “کچھ نہیں” کہہ کر قرآن میں ایمان والی عورتوں کے لیے درج جنت کے انعامات کی نفی کر دی گئی۔۔۔ گویا مذاق مذاق میں قرآن کا انکار ہو گیا۔ سورة الاحزاب کی آیت 35 بھی مثال کے طور پر شیئر کی۔

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا۔

بے شک اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں اور ایمان دار مردوں اور ایماندار عورتوں اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردار عورتوں اور سچے مردوں اور سچی عورتوں اور صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں اور عاجزی کرنے والے مردوں اور عاجزی کرنے والی عورتوں اور خیرات کرنے والے مردوں اور خیرات کرنے والی عورتوں اور روزہ دار مردوں اور روزہ دار عورتوں اور پاک دامن مردوں اور پاک دامن عورتوں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور بہت یاد کرنے والی عورتوں کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کیا ہے۔

اور بھی بہت ساری آیات ہیں جن میں ایمان والی عورتوں کے لیے انعامات کا ذکر ہے۔

بولے: ڈیئر۔۔۔

یہ واٹس ایپ گروپ تبلیغ کے لیے نہیں ہے۔

اگر ہم ایک لمحے کے لیے ہنس مسکرا لیں تو ہمیں ایسا کرنے دو۔

میں نے جواب دیا: تبلیغ کون کر رہا ہے بھائی۔۔۔

میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ اپنی بائیک کا سائیڈ اسٹینڈ اٹھا لیں۔

تدبّروا

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک

صبر یا حاجی” حج کی حفاظت۔4″

 اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔4

صبر یا حاجی

حج عمرہ کا ایک اہم سبق صبر ہے۔ حاجی کو واش روم سے لے کر بس کے چلنے تک اور طواف کے ہجوم میں پھنس پھنس کر چلنے سے لے کر ایئر پورٹ پر فلائٹ کی روانگی تک کہاں کہاں انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حج عمرہ سے وطن واپسی پر حاجی یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ بیلٹ پر سامان جمع کرنے کے بعد زم زم کا انتظار ان کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض حاجی کسی دوسرے حاجی کی زم زم کی بوتل لے کر چلتے بنتے ہیں۔ اس خیال سے کہ کوئی بات نہیں وہ ہماری بوتل لے جائے گا۔

ایسا نہ کیجیے۔

یہ چوری ہے۔ گناہ کبیرہ! اتنا بڑا گناہ کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔

پھر آپ کی ذرا سی جلد بازی اور بد نظمی سے وہ حاجی سخت مشکل میں آ جائے گا جس کا زم زم آپ لے جا رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ کہ حاجی عبد الرحمان صاحب اس کی بوتل اٹھا لے گئے ہیں سو بدلے میں وہ بھی حاجی عبد الرحمان کی بوتل اٹھا لے جا سکتا ہے۔

ممکن ہے حاجی عمر رسیدہ ہو۔

ممکن ہے حاجی بیمار ہو۔

عین ممکن ہے اسے آخر تک انتظار کرنا پڑے۔ اس سارے عمل میں اس کا کتنا وقت خراب ہو گا اور ساتھ ساتھ باہر منتظر اس کے گھر والوں کا وقت بھی نیز ان کو بھی انتظار کی شدید اذیت سے گزرنا ہو گا۔

عین ممکن ہے حاجی کو اپنے زم زم کی تلاش میں ایئر پورٹ پہ دھکے کھانے پڑیں۔

ایئر پورٹ عملے کی منت خوشامد کرنی پڑے۔

زم زم گمشدگی کی شکایت درج کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے۔ جو کہ اسے کبھی نہیں ملنے والا کیونکہ اس کا زم زم کھویا نہیں کوئی دوسرا حاجی لے جا چکا ہے۔

ممکن ہے اس حاجی کی تربیت یا حج عمرہ کے بعد کی ایمانی کیفیت اسے کسی اور کا سامان اٹھانے کی اجازت ہی نہ دے۔ اور وہ اپنی بوتل پر صبر کر کے ایسے ہی خالی ہاتھ چلا جائے۔

اس ساری تکلیف و دل آزاری کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

غور کیجیے ایک بوتل اٹھانے کے پیچھے کیا کیا گناہ کما لیا۔

ممکن ہے آپ کا سارا حج عمرہ یہیں برباد ہو جائے۔

اللہ سے ڈرتے رہیے۔