Behaviors & Attitudes, Social, معاشرت, اخلاقیات

Encroachment

و ما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ان دنوں شہر کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف حالیہ مہم کا آغاز شہر کے قلب صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف موجود ناجائز دوکانوں کے انہدام سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں دوکانوں کے باہر نکلے شیڈز اور فٹ پاتھوں پر بڑھائے گئے دوکانوں کے حصوں کو مسمار کر دیا گیا ، یا کیا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ اور آرام باغ ایسے مرکزی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے۔ اس مہم پر جہاں شہریوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا  ہے وہیں جن لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا ہے وہ اس مہم کے خلاف مبغوض و مغموم نظر آ رہے ہیں۔  ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب متاثرین کا نقصان پورا کرے اور ان کی روزی کا پہلے سے بہتر انتظام فرما دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں  کئی مرتبہ  ان پتھاروں اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن بھی ہوئے لیکن بات نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھی ۔ دو چار دن بعد سب پہلے جیسا ہو جاتا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان قابضین کو حکومت اور انتطامیہ کی جانب سے مختلف جگہوں اور دوکانوں کی پیشکش کی گئی کہ اپنا کاروبار وہاں سیٹ کر لیں۔ اسی طرح کی پیشکشیں کچی آبادیوں میں مقیم  افراد کی بھی کی گئیں۔ زمینیں بھی الا ٹ کی گئیں اور پیسے بھی دیئے گئے۔ لیکن  انہوں نے ان دوکانوں زمینوں ہی کو بیچ ڈالا ، یا کرائے پر چڑھا دیا اور خود واپس وہیں آن موجود ہوئے۔ اس طرح کے “کامیاب تجربات “کے بعد شاید ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا سخت ایکشن ہو جائے گا اور ایک روز وہ فی الواقعی فٹ پاتھ پر آ جائیں گے۔

دیکھا جائے تو اس میں سب سے بڑا قصور خود ان ہی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے مفت کی جگہوں پر بیٹھ کے خوب پیسے بنائے۔ جم کے کاروبار کیا۔ کیا اتنا نہ کما لیا تھا کہ چاہتے تو کسی مناسب جگہ دوکان لے کر کاروبار سیٹ کر لیتے ؟ بھلے سے پتھارہ بھی ساتھ ساتھ چلاتے رہتے۔  لیکن لاکھوں کمانے کے باوجوداپنا طرز عمل بدلا نہ ٹھکانہ۔ اب چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، رو رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، جھولیاں پھیلا پھیلا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے! نادانی  بھلا کس نے دکھائی ۔ عارضی ٹھکانے پر بیٹھے کاروبار کرتے رہے۔ سو وہ ٹھکانہ عارضی ہی ثابت ہوا۔ایسے جو دوکاندار ابھی بچ رہے ہیں، وہ اس سب سے سبق سیکھیں     ؎ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا۔

یہ مہم ہمیں ایک اور امر کی جانب بھی متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ عارضی ٹھکانہ ایک دن چھننے والا ہے۔ سب کاروبار جائیدادیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عارضی پتھارے کے بجائے آخرت کی پکی دوکان کو سیٹ کیا جائے۔ دنیا کی اس کچی آبادی کے بجائے آخرت کے پکے گھر کی تعمیر پر محنت کی جائے۔ نماز روزے حج عمرے کی فکر کر لی جائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی فکر کر لی جائے۔ نیکیوں  کے قمقموں سے اس گھر کو مزین کر لیا جائے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مالک الملک کے حکم پر یہ عارضی ٹھکانہ مسمار کر دیا جائے گا۔ پھر تہی دامانی کے پچھتاووں کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحديد: ٢٠﴾

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد  میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) سخت عذاب اور (مومنوں کے لئے) اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔

 

Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, Politics, Social, اسلام, سیاست, علم دین

ایک بھاری مضمون

غیر اللہ کو سجدہ حرام ہے۔ عمران خان نے مزار پہ سجدہ کیا، غلط کیا۔ اب اس کی وہ جو بھی تاویل پیش کریں، غلط بہرحال غلط ہی رہے گا۔ان کو اللہ تعالی کے حضور توبہ کرنی چاہئے۔

عمران خان آج کل لائم لائٹ میں ہیں۔ سو وہ ہر لمحہ کیمروں کی زد اور فوٹوگرافروں کے نرغے میں ہیں۔ ان کا ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔

عمران کی بد قسمتی… کہ ان کا مزار کی چوکھٹ پہ سجدہ ریکارڈ ہو گیا۔ ورنہ ہمارے حکمران کہاں کہاں نہ سجدہ ریز ہوئے… کبھی امریکہ کی چوکھٹ تو کبھی آئی ایم ایف و ورلڈ بینک کی دہلیز اور کبھی آستانہ اقوام متحدہ۔ لیکن وہ سجدے نہ کبھی ریکارڈ ہوئے نہ کبھی مرتکبین نے انہیں سجدہ تسلیم کیا۔ سو ایسے سجدے بھلا کیسے حرام قرار دیئے جا سکتے ہیں۔۔۔؟

حرام سے یاد آیا۔۔۔
کرنے والوں نے تو۔۔۔ 
۔ ہندووں کے مندر میں جا کے ان کی پوجا پاٹ میں بھی حصہ لے کے دکھایا
۔ تو کسی نے عیسائیوں کے چرچ میں ان کی دعائیہ تقریب میں بھی شرکت کر ڈالی 
۔ اور کسی نے ہندوؤں سکھوں کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے دھڑلے سے کہا کہ جسے آپ رب مانتے ہو، ہم بھی اسی کو رب مانتے ہیں۔۔۔  جس رب کو آپ پوجتے ہو ہم بھی اسی کو پوجتے ہیں۔۔۔ 
لیکن ایسا کرنا یا کہنا کوئی حرام ہے کیا؟

حرام سے یاد آیا۔۔۔
ناجائز ذرائع سے مال کمانا بھی تو حرام ہے ناں۔۔۔؟
امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ کے پاس کرتے کے لئے اضافی کپڑا کہاں سے آیا؟ لیکن پاکستانی وزیر اعظم سے منی ٹریل مانگنا کتنی غلط بات ہے۔ صحیح تو کہہ رہا ہے وہ کہ اگر میرے اثاثے میری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تو تمہیں کیا ہے بھئی ؟ اب آپ خود ہی اپنی ایمان سے بتائیے۔۔۔ اس نے کوئی حرام کمایا ہو گا کیا؟

حرام سے یاد آیا۔۔۔
جھوٹ بھی تو حرام ہے ناں۔۔۔؟
اب اگر کوئی یہ کہے کہ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔۔۔ لیکن خود اس کا بھائی اسے لندن پراپرٹی کی بینیفیشل اونر قرار دے دے۔۔۔ اور یہی نہیں بلکہ وہ خود الیکشن کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنے اثاثوں میں ۱۵۰۰ کنال زمین بھی ڈکلیئر کرے تو اس میں جھوٹ کہاں سے آیا؟ اور حرام کہاں سے آیا؟

حرام سے یا د آیا۔۔۔
جعلسازی بھی تو حرام ہے ناں۔۔۔؟
اب اگر دو نمبر ٹرسٹ ڈیڈز جمع کرائی جائیں یا تاریخوں میں رد و بدل کیا جائے یا کیلیبری فونٹ استعمال کیا جائے تو یہ سب جعلسازی تو نہیں کہلائے گی ناں! ایسا کرنا کون سا حرام ہے؟

حرام سے یاد آیا۔۔۔
کسی کو یہودیوں کا ایجنٹ کہنا بھی تو حرام ہے ناں۔۔۔ ؟
اب چاہے وہ پاکستان میں ڈرون حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے نیٹو سپلائی ہی کیوں نہ بند کرا دے، یا مدارس کو فنڈنگ کرے یا امام مسجد کے لئے تنخواہیں جاری کرے۔۔۔ رہے گا وہ یہودیوں ہی کا ایجنٹ۔ البتہ اگر کوئی ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کر دے تو وہ کوئی امریکی ایجنٹ تھوڑی کہلائے گا۔ ممبئی حملوں کو پاکستان کے سر تھوپنے والا ، کارگل کوایڈونچر اور واجپائی کی پیٹھ میں گھونپا گیا چھرا ماننے والا، مودی اور سجن جندال کی میزبانی کرنے والا ، بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے خلاف ایک لفظ نہ کہنے والا کوئی بھارتی ایجنٹ تھوڑی کہلائے گا۔ توبہ توبہ اتنی بڑی تہمت۔۔۔

تہمت سے یاد آیا۔۔۔
کسی پر تہمت لگانا بھی تو حرام ہے ناں۔۔۔؟
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ریحام خان کی کتاب کے چرچے رہے۔ کتاب کے حوالے سے بڑے تبصرے کئے یار لوگوں نے۔ خوب چٹخارے لئے۔ نہ محرمات کا خیال کیا گیا نہ ماہ مبارک کے تقدس کا۔ کسی نے عمران کو زانی خان کہا، تو کسی نے اس کے سپورٹرز کو قوم یوتھ (بر وزن قوم لوط) یا لوطئے (بر وزن یوتھئے) کہا… کسی نے منافق کہا ۔۔۔ اور ان گنت مرتبہ کہا۔ لیکن اس سب میں بھلا حرام کہاں سے آیا? بقول شخصے۔۔۔

That’s ground reality.

منافق سے یاد آیا۔۔۔
پشاور میں بارش کا پانی کھڑا ہو جائے یا سڑک ٹوٹ جائے تو یہ صوبائی حکومت کی نا اہلی کہلائے گی، لیکن اگر لاہور میں بارش سے سڑکیں بہہ جائیں، یا زمین میں دھنس جائیں تو یہ قدرتی آفت کہلائے گی۔ جواز میں پیرس لندن نیویارک دوبئی کی مثالیں دی جائیں گی ۔ لیکن یہ سب کچھ منافقت تھوڑی کہلائے گی۔

منافق سے یاد آیا۔۔۔
سپریم کورٹ اگر جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دے دے، تو وہ فیصلہ درست۔ لیکن اگر وہی سپریم کورٹ نواز شریف کو نا اہل قرار دے دے، تو یہ فیصلہ غلط ۔ لو جی !یہ منافقت کہاں سے ہو گئی بھلا؟

منافق سے یاد آیا۔۔۔
عمران خان یا فواد چوہدری کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو جائیں تو بلے بلے ۔۔۔ لیکن اگر شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے جائیں تو یہ پری پول رگنگ کہلائے گی۔ کیا کہا؟ یہ منافقت ہے؟ او جاؤ یار اپنا کام کرو۔

عمران خان آج کل لائم لائٹ میں ہیں۔ سو وہ ہر لمحہ کیمروں کی زد اور فوٹوگرافروں کے نرغے میں ہیں۔ان کا ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔

ہمارا بھی ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے۔ بد قسمتی سے ہمیں عمران کے انجام کا تو کنفرم علم ہے، اپنے بارے میں البتہ ہم بہت مطمئن اور بے فکر ہیں۔۔۔ مذکورہ بالا ساری حرام کاریوں کے باوجود۔۔۔

اپنی آخرت کے بارے میں اتنی بے فکری کسی طور مناسب نہیں۔

وضاحت: اس مضمون میں حرام اور منافق جیسے بھاری الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلے چند دنوں سے کچھ احباب بہت کثرت سے یہ الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ سو جوابی غزل اسی بحر میں پیش کی گئی ہے۔۔۔۔

Behaviors & Attitudes, Pakistan, Politics, Uncategorized, پاکستان, سیاست

میاں صاحب! یہ آپ نے کیا کر دیا؟

میاں صاحب! یہ آپ نے کیا کر دیا؟

جون ایلیا نے کہا تھا

میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں ، کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں۔

نہایت آسان تھاکہ پانامہ اسکینڈل کے آتے ہی میاں صاحب استعفیٰ دیتے اور عزت سے رخصت ہو جاتے لیکن انہوں نے مشکل راستے کا انتخاب کیا۔ شاید انہوں نے یہ سوچ کر اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا ہو کہ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ ان کی عزت کا ملمع پرت در پرت اترنا شروع ہوا۔ صرف ان کی شخصیت ہی نہیں ان کا پورا خاندان بلکہ ان کی تین نسلیں بشمول مرحومین تماشہ بن کر رہ گئیں۔ہر آنے والا دن ان کے لئے ایک نیا تازیانہ لئے طلوع ہوتا۔ کبھی انہیں اسمبلی ارکان کے سامنے جھوٹ بولنے پر خفت اٹھانا پڑی تو کبھی قوم کے سامنے کذب بیانی کی شرمندگی۔ کبھی قطری خط ان کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنا تو کبھی جعلی دستاویزات ان کے لئے باعث ندامت۔ ڈٹ جانے سے ہٹ جانے تک، اربوں سے عربوں تک، لوٹ سے جھوٹ تک، پانامہ سے اقامہ تک کیا کیا کھیل کھیلا گیا سب عیاں ہو گیا۔ کبھی کیلیبری فونٹ ان کے لئے بھیانک خواب ثابت ہوا تو کبھی جعلی مہریں ان کے لئے باعث آزار بنیں۔ غرض جس شاخ پہ انہوں نے ہاتھ رکھا وہ شاخ وہیں سے ٹوٹ گئی۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اللہ کی پکڑ تھی جس کے آگے میاں صاحب کی ایک نہ چلی۔ اللہ کی اللہ ہی جا نے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ عافیہ صدیقی کی چیخیں تھیں جنہوں نے عرش کو ہلا دیا ، تو کچھ کا خیال ہے کہ عاشق رسول ﷺ ممتاز قادری کو عجلت میں دی گئی پھانسی تھی جس نے اللہ کے جلال کو دعوت تھی، کچھ کے خیال میں یہ سود کے خلاف حکم امتناعی کا حصول تھا جس نے اللہ کے غضب کو للکارا۔ کچھ کے خیال میں یہ قرض اتارو ملک سنوارو اسکیم کا کھایا گیا پیسہ تھا جو اب اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ اللہ کی اللہ ہی جانے۔

عوام کے سامنے ان کی عزت تار تار ہوتی رہی لیکن آنکھوں پہ چڑھی چربی نے قوت بصارت ہی سلب کر رکھی تھی۔ میڈیا چیختا چلاتا رہا کہ وزیر اعظم نے جھوٹ بولا خیانت کی ، ان کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادوں کی تفصیلات کا آئے روز ٹی وی اسکرین پر چرچا رہا لیکن عرفان صدیقی ، جاوید چوہدری اور عطا الحق قاسمی ایسے درباریوں کے قصیدے ان کے کانوں میں رس گھولتے رہے۔

ان کے اپنے مشیر ان کو غلط مشورے دیتے رہے۔ ان کے اپنے ہاتھ غلط چلتے رہے۔ ان کے اپنے پیر غلط سمت میں اٹھے۔ ان کے اپنے ذہن نے چالیں بنیں تو ان کے اپنے دہن نے کذب اگلا۔ نہ ان کے مختلف مواقع پر دیئے گئے بیانات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے نہ ان کے اہل خانہ کے بیانات ان کے حق میں موافقت۔ ان کے بیٹے حسین نواز کا لندن فلیٹوں کی ملکیت تسلیم کرتے ہوئے الحمدللہ کہنا کچھ ایسا ہی معلوم ہوا جیسا کسی راشی افسر کے عالیشان بنگلے کی پیشانی پر جلی حروف میں لکھا ھذا من فضل ربی۔ ان کی بیٹی کے تیار کردہ ڈاکومنٹس میں استعمال کئے گئے کیلیبری فونٹ کے میڈیا اور عوام نے خوب چٹخارے لئے۔ یہاں تک کہ جب تیار کردہ جعلی دستاویزات عدالت کے روبرو پیش کی گئیں تو منصب عدالت پر فائز ججز بھی پکار اٹھے کہ ہمیں دکھ ہو رہا ہے میاں صاحب ! یہ آپ نے کیا کر دیا۔

۲۰ اپریل کو دو ججز نے ان کو نااہل قرار دے دیا تھا جبکہ بقیہ تین ججز نے انہیں جے آئی ٹی کے سامنے اپنی بے گناہی کے ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے تمام اہل خانہ کے جوابات ایک دوسرے سے مختلف۔ دستاویزات ایک دوسرے سے مختلف۔ ثبوت ایک دوسرے سے مختلف۔ جے آئی ٹی کے سامنے بے گناہی تو کیا ثابت ہوتی الٹا پکڑائی دے بیٹھے۔ اتنے ثبوت ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے کہ دس جلدیں تیار ہو گئیں موٹی موٹی۔ نو جلدوں کو اوپن کر دیا گیا ۔ دسویں جلد ابھی تک نہیں کھولی گئی۔ سنا ہے آگ ہے آگ۔ واللہ اعلم۔

میاں صاحب کی قسمت دیکھئے کہ وہ تین بار وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے لیکن ان کی بد قسمتی دیکھئے کہ تینوں بار مدت پوری نہ کر سکے۔ مدت پوری ہونے سے قبل ہی نکال باہر کئے گئے۔ ہر بار ایک مختلف راستے سے ۔ پہلی بار صدر نے نکالا، دوسری بار فوج نے، اور اب تیسری بار عدالت نے۔ کیا بات ہے میاں صاحب۔۔۔

۲۰ اپریل کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے جشن کو دیکھ کر پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا تھا کہ ابھی ان کو پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یہ دنیامیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ دنیا کے جس ملک میں بھی جائیں گے، جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں ان کو وہاں وہاں آوازیں پڑیں گی۔ ان کو لندن میں آوازیں لگیں گی۔ ان کو مکے مدینے میں آوازیں لگیں گیں۔ اور پھر سب نے دیکھا کہ آوازیں لگیں ۔ لندن میں بھی اور مدینے میں بھی۔

میاں صاحب اب ستر برس کی عمر کو پہنچنے والے ہیں۔ اوسط عمر کے حساب سے وہ اپنی زندگی پوری کر چکے ہیں اور اب بونس پر جی رہے ہیں۔ انسان زندگی میں بے حساب دولت کما سکتا ہے لیکن ہماری دانست میں ایک انسان کی اصل کمائی یہ ہے کہ اس کے پیچھے ، اس کے مرنے کے بعد لوگ اسے کس طرح یاد رکھتے ہیں۔ اچھے الفاظ میں یا برے الفاظ میں۔ اگر آج میاں صاحب اپنی عمر بھر کی کمائی کا صدق دل سے جائزہ لیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ وہ تہی داماں ہیں۔ خالی ہاتھ ہیں۔ آج ان کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہیں لیکن ان کی عزت کا فالودہ بن چکا ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات اور عدالتی فیصلے کے بعد اب وہ ایک سرٹیفائڈ جھوٹے ، لٹیرے اور خائن کا ٹائٹل حاصل کر چکے ہیں۔ میاں صاحب اور ان کا خاندان ندامت محسوس کرے نہ کرے لیکن اکثر پاکستانی اپنے وزیر اعظم کے کرتوت منظر عام پر آنے کے بعد اپنے سر شرم سے جھکے ہوئے محسوس کر رہے ہیں۔

۲۰ اپریل کے فیصلے پر بھی مٹھائیاں بانٹی گئیں اور بھنگڑے ڈالے گئے۔وہ بھی CONVICTION تھی جسے شاید CONVOCATION سمجھاگیا۔ آج بھی کوئی شرمندگی ہے نہ ندامت ۔ معصومیت بھرا سوال کہ ہمیں بتایا جائے ہم پر الزام کیا ہے؟ وہی حسین نواز والا الحمد للہ کہ مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

وزیر اعظم ہاؤس سے بے دخل کئے جانے کے بعد میاں صاحب ایک قافلے کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوئے۔ کوئے جاناں سے کوئے ملامت کے اس سفر کے لئے انہیں جی ٹی روڈ اختیار کرنی پڑی۔ ساری زندگی موٹر ویز تعمیر کرانے والے میاں صاحب موٹر وے سے فیض یاب نہ ہو سکے۔ شداد اور اس کی جنت کا قصہ یاد آتا ہے۔ تین چار روز میں تقریریں کرتے ، اس ہنگام میں ملکی معیشت کو کئی ارب روپے کے ٹیکے لگاتے ، کئی شہروں کا سکون برباد کرتے، آئین، عدلیہ اور ایک معصوم بچے کو روندتے ہوئے میاں صاحب بالآخر لاہور پہنچ چکے۔ پہلے سوال تھا کہ ہم پر الزام کیا ہے؟ اب پوچھتے ہیں مجھے کیوں نکالا ؟ خواجہ آصف کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔۔۔ او کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیّا ہوتی ہے۔۔۔

اب انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ اتنی رسوائی جگ ہنسائی ہو چکی لیکن شاید ابھی تک “تسلی” نہیں ہوئی میاں صاحب کی۔ اس نظر ثانی کی اپیل کے بعد لگتا ہے کہ قدرت دسویں جلد بھی کھلوانے والی ہے۔ دسویں جلد سنا ہے آگ ہے آگ۔ واللہ اعلم۔

اور اس سب کے بعد انہیں ایک حساب اور بھی دینا ہے ۔۔۔ اپنے دل کے بائی پاس کا ۔ قوم اس حوالے سے شک میں مبتلا ہے میاں صاحب۔ قوم بھُولی نہیں ہے۔اگر یہ بائی پاس بھی ایک ڈھکوسلا نکلا ، اگر سینے پر ٹانکے نہ نکلے میاں صاحب! تو پھر کفن پہنتے ہوئے آپ کو ایک اور ذلت ایک اور رسوائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ کیا وقت ہو گا وہ ۔۔۔ الامان الحفیظ۔۔۔