Hajj Umrah, Uncategorized, حج, علم دین, عمرہ

عازمین حج اپنی دعاؤں کا ذخیرہ بڑھائیے

*عازمین حج اپنی دعاؤں کا ذخیرہ بڑھائیے۔*

مشاہدہ ہے کہ بہت سے حجاج طواف اور سعی میں کتاب دیکھ کے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیں *دعا پڑھی نہیں جاتی، مانگی جاتی ہے۔*

حج فارم جمع کرانے کے بعد سے ہی تیاری شروع کر دیجئے۔

قرآنی دعائیں یاد کر لیجئے۔ زیادہ تر دعائیں انبیاۓ کرام علیہم السلام کی درج ہیں جن کے آگے اللہ رب العزت نے استجاب لہم کہہ کے مقبولیت کی مہر لگا دی۔ چہل ربنا نامی کتابچہ میں قرآن پاک کی 40 دعائیں جمع کر دی گئی ہیں جن کا آغاز ربنا سے ہوتا ہے۔ مثلاً ربنا اٰتنا فی الدنیا۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا۔۔۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی دعائیں بڑی پیاری، مختصر و جامع ہیں۔۔۔ جتنی یاد ہو سکیں یاد کر لیں۔

ایسے ہی حج کی کتاب میں بہت جامع دعائیں موجود ہیں۔ کوشش کر کے کتاب میں موجود دعاؤں کو یاد کر لیں اور ترجمہ بھی سمجھ لیں۔ عربی میں یاد ہو جائیں تو بہت اچھی بات ہے ورنہ دعاؤں کا ترجمہ ہی یاد کر لیں۔

ایک اور ذخیرہ حرم مکی کی دعائے ختم القرآن ہے۔ سن سن کے بہت سی دعائیں یاد ہو جاتی ہیں۔۔۔ معنی بھی آسان ہیں۔

یاد رکھیں!

حج عمرہ کے دوران قدم قدم پر دعاؤں کی قبولیت کے مقامات ہیں۔ چنانچہ ہر مقام پر خوب دعائیں کرنی ہوتی ہیں۔

بیت اللہ پہ پہلی نظر کے وقت دعا

طواف میں دعا

سعی میں دعا

ملتزم پہ دعا

حطیم میں دعا

عرفات میں دعا

مزدلفہ میں دعا

منیٰ میں دعا

طواف زیارت میں دعا

مسجد میں داخل ہوتے وقت دعا

مسجد سے نکلتے وقت دعا

زم زم پیتے وقت دعا

مسجد نبوی ﷺ میں دعا

روضہ رسول ﷺ پر درود و سلام پیش کرنے کے بعد دعا

ریاض الجنة میں دعا

اصحاب صفہ کے چبوترے پر دعا

غرض ہر ہر مقام پہ دعا ہی دعا

تو اس کے لیے دعاؤں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ پاس ہونا چاہئے۔

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک

صبر یا حاجی” حج کی حفاظت۔4″

 اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔4

صبر یا حاجی

حج عمرہ کا ایک اہم سبق صبر ہے۔ حاجی کو واش روم سے لے کر بس کے چلنے تک اور طواف کے ہجوم میں پھنس پھنس کر چلنے سے لے کر ایئر پورٹ پر فلائٹ کی روانگی تک کہاں کہاں انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حج عمرہ سے وطن واپسی پر حاجی یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ بیلٹ پر سامان جمع کرنے کے بعد زم زم کا انتظار ان کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض حاجی کسی دوسرے حاجی کی زم زم کی بوتل لے کر چلتے بنتے ہیں۔ اس خیال سے کہ کوئی بات نہیں وہ ہماری بوتل لے جائے گا۔

ایسا نہ کیجیے۔

یہ چوری ہے۔ گناہ کبیرہ! اتنا بڑا گناہ کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔

پھر آپ کی ذرا سی جلد بازی اور بد نظمی سے وہ حاجی سخت مشکل میں آ جائے گا جس کا زم زم آپ لے جا رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ کہ حاجی عبد الرحمان صاحب اس کی بوتل اٹھا لے گئے ہیں سو بدلے میں وہ بھی حاجی عبد الرحمان کی بوتل اٹھا لے جا سکتا ہے۔

ممکن ہے حاجی عمر رسیدہ ہو۔

ممکن ہے حاجی بیمار ہو۔

عین ممکن ہے اسے آخر تک انتظار کرنا پڑے۔ اس سارے عمل میں اس کا کتنا وقت خراب ہو گا اور ساتھ ساتھ باہر منتظر اس کے گھر والوں کا وقت بھی نیز ان کو بھی انتظار کی شدید اذیت سے گزرنا ہو گا۔

عین ممکن ہے حاجی کو اپنے زم زم کی تلاش میں ایئر پورٹ پہ دھکے کھانے پڑیں۔

ایئر پورٹ عملے کی منت خوشامد کرنی پڑے۔

زم زم گمشدگی کی شکایت درج کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے۔ جو کہ اسے کبھی نہیں ملنے والا کیونکہ اس کا زم زم کھویا نہیں کوئی دوسرا حاجی لے جا چکا ہے۔

ممکن ہے اس حاجی کی تربیت یا حج عمرہ کے بعد کی ایمانی کیفیت اسے کسی اور کا سامان اٹھانے کی اجازت ہی نہ دے۔ اور وہ اپنی بوتل پر صبر کر کے ایسے ہی خالی ہاتھ چلا جائے۔

اس ساری تکلیف و دل آزاری کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

غور کیجیے ایک بوتل اٹھانے کے پیچھے کیا کیا گناہ کما لیا۔

ممکن ہے آپ کا سارا حج عمرہ یہیں برباد ہو جائے۔

اللہ سے ڈرتے رہیے۔