Aitakaaf, Eid, Islam, Ramadhan, لیلۃ القدر, اسلام, رمضان المبارک, عید

Indicator

انڈیکیٹر

عید الفطر کے فوراً بعد (اکثر اگلے ہی روز سے) شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
رمضان المبارک کے بعد ہم گناہوں کی طرف کس قدر بے تابی سے  لپکتے ہیں ، اس کا اندازہ لگانا ہو تو یہ شادیوں کی تقریبات بہترین انڈیکیٹر ہیں۔
غیر شرعی رسومات، مخلوط محافل،
بے پردگی، بے ہودگی،
چھچھور پن، فحش گانے ، بے ہنگم موسیقی،
ان گانوں پر تھرکتی ناچتی اپنی ہی بہنیں بیٹیاں بییویاں بھانجیاں بھتیجیاں،
اس “مجرے “کو دیکھ کر انجوائے کرنے والے اپنے ہی باپ بھائی شوہر چچا تایا ماموں کی بے غیرتیاں،
دولہا دلہن کا شادی ولیمہ کے پنڈال میں پیش کیا جانے والا “آئٹم نمبر “،
اور جانے کیا کیا۔۔۔

ایسے میں کسی کو شاید احساس تک نہیں رہتا کہ ۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رمضان المبارک کا مقدس مہینہ رخصت ہوا ہے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی عشرہ رحمت، عشرہ مغفرت اور عشرہ نجات گزرا ہے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رب کو راضی کرنے کے لئے روزے رکھے تھے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رب کو راضی کرنے کے لئے راتوں کو قیام کیا تھا۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی جہنم سے آزادی کے لئے اعتکاف کیا تھا۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی لیلۃ القدر میں مغفرت کی دعائیں مانگی تھیں۔۔۔
ابھی ایک دو دن قبل ہی لیلۃ الجائزہ میں رمضان المبارک کی عبادات کی قبولیت کے لئے آہ و زاری کی تھی۔۔۔
اور ابھی کل یا پرسوں ہی عید الفطر کی نماز پڑھنے کے بعد رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل کر کے عید گاہ سے نکلے تھے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

یاد کیجئے کس لئے عطا کیا گیا تھا یہ مہینہ؟
لعلکم تتقون
(تاکہ تم متقی بن جاؤ)

Advertisements
Islam, Lailatul Qadr, Ramadhan, لیلۃ القدر, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Lailatul-Qadr

لیلۃ القدر

ابو شہیر

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا ۔ عشرہ نجات ۔۔۔ جہنم سے آزادی کا عشرہ۔ صلوٰۃ التراویح میں قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کی تلاوت جاری تھی۔ سورۃ محمد کی آیت نے اسے جھنجھوڑا۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے )دلوں پر قفل لگ گئے ہیں؟

آگے پھر سورۃ الحجرات شروع ہوئی ، یہاں تک کہ قاری صاحب نے اس سورۃ مبارکہ کی آخری آیت تلاوت فرمائی۔۔۔

اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْض۔۔۔

بے شک اللہ تعالیٰ زمین آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔

گزشتہ شب اعتکاف میں بیٹھے ساتھیوں کے درمیان یہ مذاکرہ چل نکلا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطلب کیا ہے؟ سب ساتھیوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ خلاصہ یہ تھا کہ اللہ علیم ہے ، حکیم ہے، عظیم ہے … سب سے زیادہ علم والا ، حکمت والا، قدرت والا، طاقت والا، بصارت و بصیرت والا… کوئی بھی چیز اس کی قدرت اور اس کے علم سے باہر نہیں۔ بڑی نافع گفتگو رہی تھی۔ ایمان تازہ ہو گیا ۔ تو اس پس منظر میں مذکورہ بالا آیت سن کر اس کے دل میں اپنے رب کی عظمت مزید قوی ہوئی کہ کیسا زبردست ہے وہ رب کہ سب کچھ جانتا ہے! وہ بھی …. جو ہمیں نظر آرہا ہے یا جو ہمارے علم میں ہے ، اور وہ بھی… جو ہماری نگاہوں سے ہی نہیں ، ہمارے وہم و گمان سے بھی اوجھل ہے۔ یا اللہ ! تجھ سا نہ کوئی ہے نہ ہو سکتاہے ۔ اشھد ان لا الٰہ الا اللہ ۔

دفعتاً اسے ایک جھرجھری سی آئی! اللہ تعالیٰ تو اس کے بارے میں بھی سب کچھ جانتا ہے ۔ اس کا اگلا پچھلا سب اس رب کے علم میں ہے۔ اس کی نافرمانیاں ! اس کی سرکشیاں! اس کے جرائم ! اس کی بغاوتیں! کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں۔ اور اس کا انجام … وہ علام الغیوب تو اس کا بھی علم رکھتا ہے۔ “اے اللہ! اے میرے رب! بے شک تو جانتا ہے کہ تیرے اس بندے کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ تو جانتا ہے کہ آخرت میں میرے لئے کیا ہے ؟ خدانخواستہ جہنم ؟ ہلاکت؟ تباہی و بربادی؟ انگارے؟ تیرا غیظ و غضب؟ ” بس اس خیال کا آنا تھا کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آگے کیا پڑھا گیا ، اسے کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا اسے یاد ہے کہ اس کی گھگھی بندھی ہوئی تھی ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔ اور دل ہی دل میں

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا ۔۔۔

اللھم اغفر لنا و ارحمنا و اعتق رقابنا من النار ۔۔۔

کی گردان چل رہی تھی ۔ اے اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے ، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، ہمیں معاف فرما دے۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما! ہم پر رحم فرما! اور ہمیں جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرما۔ آمین۔

روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد کے پیش امام صاحب ایک مختصر سی حدیث مبارکہ اور اس کا ترجمہ و تشریح بیان فرماتے ۔ حسب معمول اس روز بھی ایک حدیث مبارکہ بیان فرمائی۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ زبان تو بے شک امام صاحب کی تھی لیکن کلام کس کا تھا؟ الصادق و المصدق ﷺ کا! البشیر ﷺ کا! یقیناً آپ ﷺ کُلُّ نفسٍ ذآئقَۃُ المَوت کے اٹل قانون کے تحت دار لفنا سے دار البقا کو ہجرت فرما گئے لیکن ۔۔۔ لاریب کہ آپ ﷺ کا کلام آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک کے لئے زندہ رہے گا۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ کہ حالات و واقعات کی ترتیب اور ٹائمنگ ہی کچھ ایسی تھی ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ۔۔۔ جہنم سے نجات کا عشرہ ۔۔۔ رحمت الٰہی جوش میں ہے ۔ مغفرت کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ بخشش کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ ایک ایک رات میں ہزاروں کو جہنم سے آزادی کے پروانے عطا ہو رہے ہیں۔ اعلانات ہو رہے ہیں ۔۔۔

اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃ ۔۔۔

بے شک تمہارا رب بڑی بخشش والا ہے۔

ہے کوئی طلبگار؟

اعلانات ہو رہے ہیں۔۔۔

ھل مِن تائِبٍ فَاَتوبَ عَلیہ ؟

ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کروں؟

ھل مِن مُستَغفِراٍ فَاَغفِرَ لَہ’ ؟

ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ اسے بخش دوں؟

رات کی تاریکی میں ایک بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں لبوں کو جنبش دیئے بغیر سرگوشیاں کرتا ہے ، دل ہی دل میں راز و نیاز کرتا ہے ، اور وہ ذات جو

یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْر

ہے ۔۔۔ یعنی آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے، سب سن لیتی ہے اور صبح کو یہ مژدہ سنائی دے جاتا ہے ۔ امام صاحب نے حدیث مبارکہ پڑھی ۔ اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔ خدا کرے کہ اس جسارت کو گستاخی و بے ادبی پر محمول نہ کیا جائے ۔۔۔اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔۔۔ کہ جیسے اس رحیم و کریم ذات نے اپنے ایک گناہگار بندے کی آہ و بکا کو سند قبولیت عطا فرماتے ہوئے اپنے نبی ﷺ سے کہا ہو کہ اے میرے محبوب! میرے بندوں کو اپنی زبان مبارک سے خوشخبری سنا دیجئے کہ ۔۔۔

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہ’

یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

بھلا کیا نام دیا جائے اس شب کو جس میں ایک بندۂ عاصی کی ایسی قدر افزائی ہوئی ۔۔۔

قدر کی رات؟

لیلۃ القدر؟

Behaviors & Attitudes, Ramadhan, رمضان المبارک, رویت ہلال

Anay walay dino ka aik khaka…

آنے والے دنوں کا ایک خاکہ

از۔۔۔ ابو شہیر

ایک بار پھررمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔

ایک بار پھر شہر میں تراویح کے شارٹ پیکیجز کے بینرز جا بجا سجا دیئے جائیں گے ۔

ایک بار پھر رویت ہلال پر فضیحتہ ہو گا ۔ پھر ملک کے ایک مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی روزوں کا آغاز کر کے قومی و ملی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیں گے۔

ایک بار پھر ٹی وی چینلز پر رویت ہلال کے حوالے سے طویل و لا حاصل مباحثے دیکھنے کو ملیں گے۔

ایک بار پھر رویت ہلال کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر بہت سے اولو العزم افراد تین روزہ اور چھ روزہ تراویح پڑھ کر باقی مہینے کے لئے فارغ ہو جائیں گے ۔

ایک بار پھر اوقات سحر میں بعض مساجد سے اعلانات بلند ہوں گے کہ حضرات اس وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہو رہے ہیں۔ آپ حضرات جلد از جلد سحری کھا کر فارغ ہو جائیں۔ سحری کا انتہائی وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہے ۔

ایک بار پھر روزہ خوری انجوائے کرنے والے بصد اہتمام روزی خوری انجوائے کریں گے ۔ دفاتر اور جائے کاروبار میں اس مقصد کے لئے الیکٹرک کیٹل ، ٹی بیگز اور خشک دودھ کا اسٹاک کر لیا جائے گا۔ چھوٹے کو حلوائی کی دوکان پر بھیج کر سموسے منگوا لئے جائیں گے جہاں صبح گیارہ بجے سے ہی سموسے تلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہو گا ۔ یہ نہ بھی ہوا تو بیکریاں زندہ باد۔ سگریٹ پان بھی خاطر خواہ مقدار میں رات کو ہی جمع کر لئے جائیں گے تاکہ دن کے اوقات میں پریشانی نہ ہو ۔

ایک بار پھر پھلوں اور سبزیوں کے نرخ بڑھا دیئے جائیں گے ۔ بد تر سے بد تر کوالٹی کے پھل کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہو گی ، لیکن خریدار پھر بھی خرید رہے ہوں گے ۔ تاہم ساتھ ساتھ ریڑھی والے کو بے بھاؤ کی بھی سنا رہے ہوں گے ۔

ایک بار پھر بے صبری کے مناظر اپنے عروج پر ہوں گے ۔ بالخصوص شام کے اوقات میں دفتر اور کاروبار سے لوٹنے والوں کی کیفیت وہی ہو گی کہ بس میں نکل جاؤں، دنیا جائے بھاڑ میں۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں پھر ٹریفک جام کے مناظر نظر آئیں گے ۔پھر سڑکوں پر ٹریفک درہم برہم نظر آئے گا ۔

ایک بار پھر سڑکوں پر لوگ لڑائی جھگڑا ، ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کرتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر موسیقی کے دلدادہ لوگ جو سارا سال ہندوستانی فلمی گانوں سے  لطف اندوز ہوتے رہے ، رمضان کے احترام میں قوالیوں سے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر رمضان عمرہ سیزن کے نام پر ٹریول ایجنٹ عازمین عمرہ کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر گلی محلوں میں رمضان ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ اور نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرائے جائیں گے۔

ایک بار پھر خواتین پورا پورا دن ٹی وی چینلز کے  کوکنگ پروگرامز  دیکھتی، ان میں بتائی جانے والی نت نئے پکوانوں کی تراکیب ذہن نشین کرتی اور شام کو کچن میں ان پر عملدرآمد کرتی نظر آئیں گی۔

ایک بار پھر افطاری میں خوش خوراکی کے مناظر نظر آئیں گے ۔ لذت کام و دہن کی اشیاء حلق تک بھر لینے کے بعد لوگ تراویح میں ڈکاریں مارتے نظر آئیں گے۔ اسی طرح بہت سے نمازی دوران نماز جھولے جھولتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر دوران تراویح  بہت سے نمازی امام صاحب کے رکوع میں جانے کے انتظار میں بیٹھے نظر آئیں گے اور جونہی امام صاحب رکوع میں جائیں گے یہ جلدی سے نیت باندھ کر رکوع میں شامل ہو جائیں گے ۔ اور یوں ایک ٹکٹ میں دو مزے ہو جائیں گے یعنی تراویح کی تراویح  اور آرام کا آرام۔

ایک بار پھر ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ تراویح میں نمازیوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی ۔ لیکن ختم قرآن والی شب ایک بار پھر نمازیوں کی ایک بھرپور تعداد نظر آئے گی۔

ایک بار پھر اعتکاف میں معتکفین اپنا پورا پورا بیڈروم اٹھا کر مسجد میں ڈیرہ ڈال لیں گے ۔

ایک بار پھر معتکفین مسجد کے واش روم میں جا جا کر سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہوا کریں گے ۔

ایک بار پھر عید کے چاند کی رویت پر فضیحتہ ہو گا ۔ اور پھر ملک کے اسی مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی عید منا کر ایک بار پھر قومی و ملی یکجہتی کو پرزے پرزے کر دیں گے ۔

ایک بار پھر میڈیا پر رویت ہلال کے مسئلے پر طویل و لا حاصل مباحثے گرم ہو جائیں گے۔

ایک بار پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات المعروف “چاند رات ” کو نوجوان لڑکے بازاروں میں اپنی نظروں کی تسکین کا سامان کرنے پہنچ جائیں گے ۔

ایک بار پھر اسی انعام کی رات میں خواتین ہاتھوں پر مہندی لگوانے کے لئے یا چوڑیاں پہننے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے بیٹھی ہوں گی ۔

ایک بار پھر مساجد ویران ہو جائیں گی۔

اور ایک بار پھر سال بھر کے دوران نمازوں میں نمازیوں کی وہی گنی چنی تعداد نظر آیا کرے گی جو کہ جمعۃ المبارک کے علاوہ نظر آیا کرتی ہے۔

قارئین کرام!

غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ تاہم گزشتہ برسوں میں ہم نے وطن عزیز میں رمضان المبارک کے دوران جس قسم کے مناظر دیکھے ہیں ، ان کی روشنی میں ہم نے آئندہ رمضان المبارک کا ایک خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ماہ مبارک میں یہ سب کچھ یا ایسا بہت کچھ نہ ہو۔