Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Hajj kay baad

حج کے بعد

حج کرنا آسان ہے۔۔۔ لیکن اس کو صحیح سلامت اپنی قبر تک لے کر جانا کہیں مشکل!

حج کے بعد اپنی بقیہ زندگی شریعت اسلامیہ کے مطابق گزارنے کی کوشش کیجیے۔ علماء کے مطابق بعض امور ایسے ہیں کہ بندہ چاہے سو رہا ہو یا جاگ رہا ہو حتی کہ نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو یا بیت اللہ کا طواف ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔۔۔ بندہ حالت گناہ میں ہے۔۔۔ چوبیس گھنٹے۔۔۔ دن رات۔

یہ گناہ کون سے ہیں۔

مردوں کے لیے داڑھی مونڈھنا یا ازار یعنی شلوار پاجامہ وغیرہ سے ٹخنوں کو ڈھانپنا۔

خواتین کا پردہ نہ کرنا۔۔۔ یا غیر ساتر یعنی باریک و مختصر یا نامکمل لباس۔۔۔ آدھی یا بغیر آستین کا لباس۔۔۔ ایسی ساڑھی جس میں پیٹ ننگا ہو۔۔۔ چست لباس جس میں بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوتے ہوں مثلا ٹائٹس پہننا۔۔۔ اس طرح کے لباس میں ملبوس خواتین مسلسل حالت گناہ میں کہلائیں گی۔ اب تو مرد بھی چڈے نیکر میں باہر گھومتے نظر آتے ہیں۔ یا خالی پاجامہ پہن کے باہر آ گئے جو ناف سے نیچے گر رہا ہے۔ آجکل جو پتلونیں آ رہی ہیں ان میں بندہ اکڑوں بیٹھے یا سجدے میں جائے تو آدھی آدھی تشریف عریاں ہوتی ہے۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ ستر پوشی کا خیال نہ کرنا محض خواتین ہی کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی خلاف شرم و حیا اور باعث گناہ ہے۔

اچھا یہ تو حالت گناہ کا بیان ہو گیا۔

اس سے اگلی حالت معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حالت کفر ہے۔

*دین کے کسی حکم پر عمل نہ کرنا باعث گناہ ہے لیکن دین کے کسی حکم کا انکار یا شعائر اسلام کا مذاق اڑانا کفر ہے۔*

نماز نہ پڑھنا روزہ نہ رکھنا داڑھی صاف کرنا یا پردہ کا اہتمام نہ کرنا یہ سب گناہ میں شمار ہو گا۔۔۔

لیکن

ان میں سے کسی کے انکار یا مذاق اڑانے یا کسی اور کلمہ کفر کی ادائیگی کے باعث بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

*خدانخواستہ ایسے کسی عمل کے ارتکاب سے ایمان ختم۔*

*شادی شدہ ہے تو نکاح بھی ختم۔*

*اور اگر حج کر چکا تھا تو وہ بھی باطل ہو گیا۔*

اب درج ذیل امور لازم ہوں گے۔

سچی توبہ

تجدید ایمان

اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔

*اگر صاحب استطاعت ہے تو حج بھی دوبارہ فرض ہے۔*

حج کے بعد گناہوں سے بچیں۔ خاص کر چوبیس گھنٹے کے گناہ!

مرد داڑھی اور ٹخنے کھلے رکھنے کا اہتمام کریں۔ خواتین پردہ اور ستر پوشی کا اہتمام کریں۔ کم از کم درجہ میں روڈ کا پردہ تو لازم کر ہی لیں یعنی گھر سے باہر نکلیں تو اس وقت پردہ لازمی کریں۔ بازار یا دفتر جانا ہو یا کسی تقریب میں یا کسی رشتہ دار کے گھر یا بچہ کو اسکول سے لینے کے لیے۔۔۔ جب تک راستہ میں ہیں کم از کم اتنی دیر ہی عبایا نقاب کا اہتمام کر لیں۔ کیا ضرورت ہے سب کو سب کچھ دکھانے کی!

مرد گھر کا سربراہ ہے اور بیوی بچے اس کے ماتحت۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں ہر کوئی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔
چنانچہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی یا بچیوں کے لباس کا خیال رکھے۔ انہیں بے پردہ یا غیر ساتر لباس میں گھر سے باہر جانے سے روکے۔ ورنہ آخرت میں اللہ رب العزت کے حضور جوابدہ ہو گا۔

گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ فرائض و واجبات کی ادائیگی کا بھی خوب اہتمام کریں۔ بعض لوگوں کو دیکھا کہ حج سے آنے کے بعد نمازیں بھی چھوڑ دیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دینے کو کفر کہا گیا ہے۔

پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کا بھرپور اہتمام کریں۔

 رمضان المبارک کے روزے رکھیں۔

دیگر فرض عبادات کا بھی خوب اہتمام کریں۔

اللہ سے لو لگائے رکھیں۔

اپنے ایمان کے حوالے سے حد درجہ چوکنا اور محتاط رہیں۔ شعائر اسلام کا مذاق اڑانے یا  فرائض دینیہ کے انکار سے گریز کریں۔ اللہ سے خوب ڈرتے رہیں۔ پناہ مانگتے رہیں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو ہدایت عقل سمجھ شعور عطا فرمائے اور شریعت مطہرہ کو مکمل طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ حج عمرہ کی سعادت بار بار عطا فرمائے۔

آمین

وما علینا الا البلاغ