Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اسلام, علم دین

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

بات ہی کب کسی کی مانی ہے

دین عبادت کا نہیں اطاعت کا نام ہے۔
اللہ کے ہاں کوانٹٹی نہیں کوالٹی دیکھی جاتی ہے۔
اللہ کے ہاں مقدار نہیں، اخلاص کی اہمیت ہے۔
شریعت میں عام قاعدہ ہے، مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔

ایمان والوں کو کہا گیا اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ اولوا الامر کون ہیں؟ حکومت، علمائے دین، متعلقہ شعبہ کے ماہرین۔ مثلا مریض کے لیے معالج، طالبعلم کے لیے استاد۔۔۔ علی ھذا القیاس۔

ہم کتنے نمازی ہیں یہ ہم خود بھی جانتے ہیں اور اس کی گواہ ہماری مساجد بھی ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مسجد کے ہال صحن دالان حتی کہ چھتیں تک بھری ہوئی ہوتی ہیں جبکہ باقی چونتیس نمازوں میں مسجد کا ہال ہی پر ہو جائے تو بڑی بات ہے۔ اور فجر کا تو ذکر ہی رہنے دیجئے۔

اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی! ہفتہ بھر نمازوں سے غافل… جمعہ کا اہتمام۔ سال بھر نمازوں میں غفلت… رمضان میں مسجد کو دوڑیں۔ عید کے بعد پھر سال بھر کے لیے غائب۔ الا ما شآء اللہ۔

عذر کی صورت میں معذور کو خاصی آسانی عطا کی گئی۔ لیکن رعایت کے معاملہ میں بھی ہم افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ مثلا بیٹھ کر نماز۔ معذور کو رعایت حاصل ہے کہ اپنی تکلیف و مرض کی شدت کے مطابق بیٹھ کے نماز پڑھے۔ بیٹھنے کا مطلب زمین پہ بیٹھ کے نماز پڑھی جائے۔ لیکن چونکہ فی زمانہ بیٹھ کے نماز پڑھنے کو کرسی پر بیٹھنا ہی فرض کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ادھر کوئی معمولی سا عارضہ لاحق ہوا ادھر کرسی پکڑی۔ اب دفتر بازار واک سے لے کر مسجد آنے تک سارے کام پیدل ہو رہے لیکن نماز کرسی پر! ایسے ہی رمضان کے روزوں کا معاملہ ہے۔ بعضے محض زکام یا کسی معمولی بیماری پر روزہ چھوڑنے کو تیار۔

دوسری جانب نماز قصر کا مسئلہ ہے۔ شریعت نے چودہ سو برس پہلے بتا دیا کہ مسافر قصر نماز ادا کرے۔ مسافر کی تعریف بھی بیان کر دی۔ لیکن بعض انٹیلیکچوئلز شرعی حکم کے برخلاف پوری نماز پڑھنے پر مصر۔ تاویل یہ کہ اب سفر پہلے جیسا پر صعوبت کہاں رہا؟ یعنی شریعت آسانی دے رہی ہے لیکن چونکہ یہ آسانی اپنی سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔ سو یہاں بھی اپنی ہی کرنی ہے۔

اب اتے ہیں اس مسئلہ کی طرف جو آج کل درپیش ہے۔ کورونا وائرس کے سبب مساجد میں نماز باجماعت اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی۔ حکومت نے تمام مکاتب فکر کے علماء سے مشاورت کے بعد جمعہ کے اجتماعات کو تین تا پانچ افراد تک محدود کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ بڑے بڑے علماء نے فتاوی جاری کئے کہ باقی مسلمان حکومتی اقدام کی روشنی میں معذور ہو گئے۔ لہذا اب شرعی عذر کے سبب یہ مسلمان گھروں پر ہی نماز ظہر ادا کریں۔ لیکن صاحب… میں نہیں مانتا!

اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ مغربی ممالک سے لے کر مشرق وسطی تک اور سعودی عرب سے لے کر پاکستان تک اکثر مساجد بند ہیں یا نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس سارے معاملے میں ڈاکٹر علمائے دین اور حکمران سب ایک صفحہ پر ہیں۔ گویا امت کا سواد اعظم ایک نکتے پر متفق ہے کہ وباء کے پھیلاؤ اور نقصانات کے باعث ماہرین طب کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور موجودہ غیر معمولی صورتحال کے سبب مذہبی اجتماعات کو جہاں تک ممکن ہو سکے مختصر و محدود کر دیا جائے۔ لیکن….میں نہ مانوں۔۔۔

مسجدیں بند ہونے یا جمعہ پر حکومتی پابندی سے یقینا کوئی مسلمان خوش نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے مسجد جانے پر اسے مطعون کر سکتا ہے۔ دکھ اور افسوس لیکن اس بات کا ہے کہ نہ حکومتی احکامات کی پابندی کی جا رہی نہ علماء کی ہدایات پر کان دھرے جا رہے نہ ڈاکٹر صاحبان کی التجاؤں کو سنجیدہ لیا جا رہا، اور نہ ہی امریکہ اسپین اٹلی سے آنے والی آہ و بکا سے عبرت پکڑی جا رہی ہے، الا ما شآء اللہ۔

بعض دین سے محبت رکھنے والے حکومتی اقدام پر معترض ہیں کہ سپر اسٹورز اور بازار کھلے ہیں لیکن مساجد پر پابندی پے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ محترم آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ سارے اسکول کالج یونیورسٹیز تمام مدارس سارے ہوائی اڈے ریلوے سروس بس سروس کریم اوبر سروس ہوٹل ریستوران ٹورزم سارے چائے کے ہوٹل تمام شاپنگ مال سارے شادی ہال تمام سنیما گھر مکینک کپڑے جوتے کی دوکانیں بے شمار فیکٹریز اور جانے کیا کیا بند ہوا پڑا ہے۔ حتی کہ اسپتالوں میں او پی ڈیز بھی بند ہیں۔ فقط چند گنے چنے شعبے کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ بھی دن میں محدود وقت کے لیے۔

پھر تقریبا تمام ہی سپر اسٹورز نے چار حفاظتی تدابیر دروازے پر ہی لازمی اختیار کی ہوئی ہیں۔ اول ماسک کے بغیر کوئی گاہک اندر نہیں جا سکتا۔ دوم ہر فرد کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔ سوم ہر فرد کے ہاتھ سینیٹائز کئے جاتے ہیں۔ چہارم ٹرالی کے دستے کو جراثیم کش کیمیکل سے صاف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ ہجوم پر اعتراضات کے بعد بعض اسٹورز سیل بھی کئے گئے جس کے بعد ان سپر اسٹورز نے پانچویں تدبیر یہ اختیار کی کہ گاہکوں کو باہر ہی مناسب فاصلے سے قطار میں کھڑا کر کے انتظار کرایا کیا جا رہا ہے اور اندر بھی کراؤڈ مینیجمنٹ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

اب آئیے مساجد پر۔ علماء نے جمعہ پر حکومتی پابندی پر عوام کو معذور قرار دیتے ہوئے گھروں میں ظہر ادا کرنے ہدایت کی۔ لیکن عوام نے اس شرعی رعایت کو رد کر دیا۔ اور ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت کا ادراک نہ کرتے ہوئے مسجدوں کو گئے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اولین جمعہ میں مساجد میں خطبہ سے قبل اردو بیان بھی ہوا۔ اس کے بعد اگلے جمعہ حکومت نے زیادہ سختی کی اور 12 سے 3 بجے کرفیو اور مساجد کو تالے لگانے جیسے انتہائی اقدامات کئے۔ اس تدبیر کا توڑ یہ کیا گیا کہ بعض نمازی 12 بجے سے قبل ہی مساجد پہنچ گئے یا کرفیو کے اوقات میں چور دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ جمعہ کے بعد جب بڑی تعداد میں نمازی مساجد سے باہر نکلتے دیکھے گئے تو عوام اور پولیس کے درمیان نوک جھونک یا لاٹھی چارج و پتھراؤ سے لے کر امام مسجد کی گرفتاری ایسے ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے۔ ہماری دانست میں ان سب واقعات کا بنیادی سبب حکومتی احکامات سے ہماری سرتابی ہے۔

اولوا الامر کی ہدایات یہ بھی تھیں اور ہیں کہ کم عمر بچے مسجد نہ جائیں۔ اسی طرح بزرگ افراد جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس کے سبب زیادہ خطرے میں ہیں مسجد نہ جائیں۔ نزلہ زکام بخار یا کسی اور بیماری میں مبتلا افراد بھی مسجد نہ جائیں۔ لیکن افسوس عمر رسیدہ افراد ایک مرتبہ پھر ہمارے برادر خورد کے اس قول کی تائید کرتے نظر ائے کہ ہمارے ہاں عمر رسیدہ افراد تو کمی نہیں، بزرگ لیکن شاذ ہی کوئی ملتا ہے۔ علماء نے کہا ماسک اور دیگر تمام حفاظتی تدابیر اختیار کر کے مسجد آئیں۔ لیکن خال خال ہی کوئی ماسک پہنے مسجد جاتا دکھائی دیا۔ ایمان ہمارا ایسا نحیف و لاغر کہ جمعہ کے جمعہ مسجد لاتا ہے لیکن توکل میں ہم شاید خود کو سیدنا عمر فاروق سے بھی آگے سمجھتے ہیں۔ ہماری ایسی لاپرواہیوں کے باعث دین دینی مراکز اور علماء و ائمہ مساجد کس قدر رسوا و بدنام ہو رہے ہیں اس کا ہمیں نہ احساس ہے نہ فکر۔ جون ایلیا کا یہ قطعہ نہایت موزوں و بر محل معلوم ہوتا ہے۔۔۔
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی

قرآن ایمان والوں کو کہتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اولوا الامر کی بھی۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی عطا کردہ رخصت پر عمل کرنے کو ایسا ہی پسند کرتا ہے جیسا اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔ انما الاعمال بالنیات کی روشنی میں امیر اور اولو الامر کی اطاعت کی نیت سے گھر پر نماز ادا کر لی جائے، یا رعایت و رخصت پر یہ سوچ کر عمل کر لیا جائے کہ یہ بھی اللہ کو پسند ہے تو ان شآء اللہ اس پر بھی بڑا اجر و ثواب متوقع ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری عبادات طاعات الہی ہیں یا محض خواہش نفس کی پیروی!

Eid, Islam, moon sighting, Ramadhan, Roza, اسلام, رمضان المبارک, رویت ہلال, روزہ, عید

سوال ہونا چاہئے

سوال ہونا چاہئے۔۔۔

*مفتی پوپلزئی سے*
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ جب حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کا پورا ادارہ بنایا ہوا ہے جس کی صوبائی اور ذیلی کمیٹیاں بھی ہیں، جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماء شامل ہیں، اور جس پر کسی مکتبہ فکر کے علماء کو اعتراض ہے نہ اس سے اختلاف، پھر آپ کیوں اس ادارے کی رویت سے انحراف کرتے ہیں؟ آپ کیوں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں؟ آپ کس حیثیت میں رویت ہلال کا اعلان کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ سعودی عرب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو وضاحت کر دیجئے ہم اس کو قبول کر لیں گے۔۔۔ لیکن آپ جھوٹی رویت کا اعلان کیوں کرتے ہیں؟کیوں کذب بیانی کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ ماہرین فلکیات کی تحقیقات بتا رہی ہوتی ہیں کہ چاند افق پر موجود ہی نہ ہو گا، یا غروب آفتاب سے قبل یا ساتھ یا فوری بعد غروب ہو جائے گا، پھر یہ چاند آپ کو کہاں اور کیسے نظر آ جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ پھر آپ کیوں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے ہیں؟ کیوں قومی و ملی یکجہتی کو پارہ پارہ کرتے ہیں؟ کیوں امت میں انتشار پیدا کر رہے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔ کیا آپ کا یہ طرز عمل آپ کو اس فہرست میں لاکھڑا نہیں کر رہا؟ آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ کو سعودی عرب بھیج دیا جائے یا آپ وہاں کے شہری ہوتے یا آپ کو آج وہاں کی شہریت عطا کر دی جائے تو کیا آپ وہاں ایسی کسی جرات کا تصور بھی کر پائیں گے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ کہ آپ کے عزائم کیا ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ سال میں صرف دو چاند کی رویت پر کیوں اس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اور باقی دس ماہ کہاں غائب ہوجاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ محرم الحرام کی رویت کے وقت آپ کا احساس ذمہ داری کہاں سو جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ کیا آپ محرم الحرام کا چاند ادھر ادھر کرنے کی جرات ہمت کر سکتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کے صرف دو چاند میں مسئلہ آتا ہے ، اختلاف آتا ہے ۔۔۔ باقی دس ماہ سیدھے کیسے ہو جاتے ہیں؟ باقی دس ماہ کی قمری تاریخیں کیوں بقیہ ملک سے آگے پیچھے نہیں ہوتیں؟ اور اگر ہوتی ہیں تو اب تک تو دس بارہ پندرہ دن کا فرق کیوں نہیں آ گیا آپ کے اور حکومت کے چاندوں کی رویت میں؟ کیا آپ بقیہ دس ماہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ہی چلتے ہیں؟

*مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے*
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ ایک شخص آپ کے خلاف برس ہا برس سے مسلسل علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے، آپ نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔ کہ اس فتنے کی سرکوبی کے لئے آپ کے پاس کیا کوئی اختیارات ہیں؟ اور اگر اختیارات نہیں ہیں تو اب تک اختیارات حاصل کرنے کی کیا کوئی کوشش کی گئی؟ اور اگر نہیں کی گئی تو کیوں نہیں کی جاتی؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ آپ نے اب تک اس فتنے کے خلاف عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا؟

*حکومت سے*
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ جس وقت مسجد قاسم خان کا مفتی کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے اس وقت حکومت کی رٹ کہاں ہوتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے ریاست کے اندر ریاست بنائے بیٹھا ہے، حکومت کب جاگے گی ؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ حکومت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرتی؟ کیوں ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایسے مواقع پر کیوں اس فتنے کو ڈھیل دی جاتی ہے؟ کیوں اس فتنے سے آنکھ چرائی جاتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ اگر قانونی کاروائی ممکن نہیں تو کم از کم ایسے مواقع پر اس فتنے کو دو تین دن کے لئے نظربند کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کیوں اس کا موبائل نہیں چھین لیا جاتا؟ کیوں اس کو ملک سے باہر نہیں بھیج دیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ کیوں ایسے مواقع پر دفعہ ۱۴۴ کا استعمال نہیں کیا جاتا؟ کیوں اس کے گرد جمع ہونے والے جمگھٹے کو منتشر نہیں کر دیا جاتا؟

*میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے*
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ ایک غیر اہم شخص کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کیوں اتنی کوریج دیتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں بھول جاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں پکڑتے کہ آؤ ناں مفتی صاب اب چاند دکھاؤ ۔ محرم کا چاند دکھاؤ۔ ربیع الاول کا چاند دکھاؤ۔ ذی الحج کا چاند دکھاؤ؟

*پیمرا سے*
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ ایک شخص کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے، تو اس کے گرد جمع ہونے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کی پالیسی کیا ہے؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ ایسے فتنے کو خواہ مخواہ اہمیت دینے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کے قوانین کیا کہتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ اس بارے میں پیمرا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے؟ اور اگر کوئی نہیں ہے تو ضابطہ اخلاق کیوں نہیں تیار کر لیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ جس طرح گزشتہ برسوں میں رمضان المبارک میں فضول گیم شوز پر پابندی کا حکم جاری کیا، ، کیوں اس فتنے کی رپورٹنگ پر پابندی کا حکم جاری نہیں کیا جاتا؟

*معاصر علمائے کرام سے*
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ وہ امت میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات اس فتنے کے خلاف کیوں آواز بلند نہیں کرتے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔ کہ آپ حضرات نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات کئے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات نے اب تک مسجد قاسم خان کے مفتی کا گریبان کیوں نہیں پکڑا؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات کیوں اس فتنے کی مذمت نہیں کرتے؟ کیوں اس کے خلاف واشگاف الفاظ میں ہم آواز ہو کر برات کا اعلان نہیں کرتے؟

*عدلیہ سے*
سوال ہونا چاہئے عدلیہ سے۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے پورے ملک میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ برس ہا برس سے مسلسل حکومت اور اداروں کے خلاف چل رہا ہے ۔۔۔ برس ہا برس سے عوام الناس کو حکومتی اداروں کے خلاف بلا وجہ بھڑکا رہا ہے۔۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے روزے اور عیدیں برس ہا برس سے خراب کرا رہا ہے ۔۔۔ معزز عدالت کیوں اس فتنے کے خلاف سوموٹو ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کو عدالت میں طلب نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کے خلاف احکامات جاری نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پابند سلاسل نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پھانسی کی سزا نہیں سناتی؟

*عوام الناس سے*
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ اے مسلمانو! تم کیوں اس شخص کی پیروی کرتے ہو جس نے امت کو تفرقہ میں ڈال رکھا ہے؟

سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ جب حکومت نے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے جو درست کام کر رہا ہے ، اور جس پر بڑے بڑے علمائے وقت کو اعتماد ہے ، مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی ایسے اکابرین وقت جس کی رویت کے مطابق روزے عید کرتے ہیں ، اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام! تم کیوں اس ادارے سے انحراف کرتے ہو؟ کیوں اپنے روزے عید برباد کرتے ہو؟
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ سعودی عرب میں بھی رویت ہلال میں خطا یا غلطی ہو جاتی ہے، یا ہو چکی ہے، ذی الحج کی رویت میں خطا ہو چکی ہے، تو ایسا ہو جانے کے باوجودوہاں کے علمائے کرام نے کبھی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا۔۔۔ بلکہ حج بھی درست قرار پایا اور روزے کی قضا بھی کر لی۔۔۔ اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام ! حکومت نے ادارہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔ اگر وہ کوئی غفلت کرتے ہیں تو گناہ ثواب ان کے ذمہ ۔۔۔ اور اللہ کے فضل سے آج تک کوئی غفلت ثابت بھی نہیں ہوئی ، پھر کیوں اس ادارے پر اعتماد نہیں کرتے؟

*اللہ رب العزت کی بارگاہ میں۔۔۔*
اے اللہ! مفتی پوپلزئی نے تیری امت میں تفرقہ ڈال رکھا ہے۔ ۔۔تیری امت میں اختلاف و انتشار کا سبب بنا ہوا ہے ۔۔۔ تیرے مسلمان بندوں کے روزے عیدیں خراب کرا رہا ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف خروج کئے ہوئے ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے۔۔۔
اے اللہ ! تو قرآن میں کہتا ہے الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ کہ فتنہ و فساد قتل و غارت گری سے بھی زیادہ برا ہے۔۔۔
اے اللہ! تو قرآن میں کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔
اے اللہ! یہ شخص خود کو مفتی کہلواتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی اصلاح کے نام پر فتنہ فساد کا سبب بنا ہوا ہے۔۔۔
اے اللہ ! اس کو ہدایت عطا فرما۔۔۔ اور اگر اس کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو پھر پاکستان کے مسلمانوں کو اس فتنے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادے۔۔۔
اے اللہ ! تو اس کو مفسدین میں شمار کرتے ہوئے اس کے انجام تک پہنچا دے۔
آمین

Behaviors & Attitudes, Social

Performance

کارکردگی

کل یوٹیلیٹی اسٹور کے پاس سے گزر ہوا۔

حالت زار پہ سخت افسوس ہوا۔

کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔

ایک طرف نجی شعبے کے تحت چلنے والی امتیاز سپر مارکیٹ ہے۔۔۔

جس کے شیلف بلامبالغہ ہزاروں ملکی و غیر ملکی اشیاء سے لدے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔

  جہاں تقریباً تمام اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔

جہاں خریداروں کی اتنی بھرمار نظر آتی ہے کہ اکثر اوقات تو ٹرالی چلانے کو بھی جگہ نہیں ملتی۔۔۔

بلکہ کبھی کبھی تو ٹرالی ہی  دستیاب نہیں ہوتی۔۔۔

نجی ادارہ ہونے کے باوجود خریداری پر صارفین کو اچھی خاصی رعایت دی جاتی ہے۔۔۔

صرف امتیاز ہی کیا۔۔۔

چیز اپ کو دیکھ لیں۔۔۔

بلکہ ناہید، اور ہائپر اسٹار اور میٹرو۔۔۔

کیا کیا گِنوایا جائے۔۔۔؟

اور دوسری جانب حکومت کے تحت چلنے والے یوٹیلیٹی اسٹور۔۔۔

یاسیت کا شکار۔۔۔!

اسٹور گاہکوں سے خالی ۔۔۔

اور اسٹور کے شیلف اشیائے صرف سے خالی۔۔۔

یہاں ہجوم صرف اسی وقت نظر آتا ہے جب چینی یا کوکنگ آئل وغیرہ کی قلت ہو جائے۔۔۔

(جن کی قلت کی ذمہ دار بھی خود حکومت ہی ہوتی ہے)

ورنہ کوئی قریب نہیں پھٹکتا۔۔۔

سمجھ نہیں آتا کہ حکومتی انتظام و انصرام کے تحت چلنے والے ادارے کیوں زبوں حالی کا شکار ہیں۔

حکومت… جس کے پاس قانون سازی سے لے کر وسائل تک ہر چیز کی بھرمار ہوا کرتی ہے۔۔۔

جبکہ ان کے مقابل پرائیویٹ ادارے خوب چل رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔۔۔۔

آپ اسٹیل مل کو دیکھ لیجئے کہاں سے کہاں پہنچ گئی جبکہ نجی اسٹیل ملیں کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔۔۔

پوسٹ آفس کا موازنہ نجی کوریئر سروس ٹی سی ایس سے کر لیجئے۔۔۔

ریلوے میں ساری ٹرینیں ایک طرف اور پٹے پر دی جانے والی گرین لائنز اور بزنس ٹرین دوسری طرف۔۔۔

پی آئی اے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔۔

سی ڈی اے اور کے ڈی اے بمقابلہ بحریہ ٹاؤن و ڈی ایچ اے۔۔۔۔

علیٰ ھذا القیاس۔۔۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے