Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Ramadhan, Uncategorized

Umeed e Karam

امیدِ کرم

رمضان المبارک بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
گرمی کی شدت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
روزے رکھنے کی ہمت و توفیق بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔۔۔
یہ حرام و حلال  سے رک جانا بھی اللہ ہی کے لئے ہے ۔۔۔
اور ۔۔۔
اجر بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔۔۔۔!

اللھمَّ تَقَبَّل صِیَامَنَا وَ قِیَامَنَا
اللھمَّ لا تَرُدَّنَا خَآئِبِیْنَ
😥

Advertisements
Emaan, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Ramadhan, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Apni Fikar Karo

اپنی فکر کرو

(رمضان المبارک میں ایک قوال کے قتل پر لکھی جانے والی تحریر)

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی زبانوں کو لگام دو۔
خدارا۔۔۔ شر نہ پھیلاؤ!
دیکھتے نہیں ہو۔۔۔
رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

کیا خبر!
کون کون اپنے حصہ کا پروانہ آزادی حاصل کر چکا ہو۔۔۔!
کیا خبر!
کس کس کے لئے جنت کا فیصلہ ہو چکا ہو۔۔۔!

کیوں  مرنے والے کے لئے جہنم کے فتوے جاری کر رہے ہو؟
صرف اس لئے کہ وہ بظاہر گناہ گار تھا؟
ارے تم جہاں والوں سے چھپ چھپ کر۔۔۔
تنہائی میں جو کچھ کرتے ہو۔۔۔
کیا تم گناہ گار نہیں ہو؟
پھر تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟

ذرا یہ تو بتاؤ۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے ۔۔۔
تو تمہاری جیب سے  کیا جاتا ہے۔۔۔؟
بتاؤ تو سہی۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے۔۔۔
تو کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ وہ سوال کر سکے اللہ سے۔۔۔۔
کہ آپ نے اسے جنت میں کیوں ڈال دیا۔۔۔؟
ارے پوچھو گے اللہ سے؟
ارے پوچھ سکتے ہو اللہ سے؟

چھوڑو مرنے والے کو۔۔۔۔
وہ اپنی منزل کو پہنچ گیا۔۔۔

اس کی سانسیں پوری ہوئیں۔۔۔
اس کے عمل کی مہلت ختم ہوئی۔۔۔
اب اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔۔۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔۔۔

اسے چھوڑو۔۔۔
اپنی فکر کرو۔۔۔
کہ ابھی سانسوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
ابھی عمل کے لئے مہلت باقی ہے۔۔۔!

دیکھتے نہیں ہو۔۔۔ رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی فکر کرو!ً

Behaviors & Attitudes, Drug trafficing, Hajj Umrah, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, حساب کتاب

Qaid Khana

قید خانہ

از۔۔۔ ابو شہیر

یہ 2009 ء کی بات ہے کہ پاکستان سے کچھ زائرین زیارت بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے حجاز مقدس پہنچے۔ جدہ ایئر پورٹ پر ان کی تلاشی لی گئی تو ان کے پاس سے منشیات کے پیکٹ برآمد ہوئے جو کہ کمال ہوشیاری سے ان کی چپلوں کے اندر چھپائے گئے تھے ۔ ان زائرین میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی تھا جو کہ اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز اس مبارک سفر سے کر رہا تھا ۔ زیارت بیت اللہ کے پر کیف تصورات میں ڈوبے اس جوڑے کو اندازہ ہی نہ تھا کہ ان کے ساتھ اس سفر میں کیا ہونے والا ہے۔ چنانچہ جدہ ایئر پورٹ پر سعودی قوانین کے مطابق منشیات برآمد کرنے کے جرم میں انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ۔ اور پھر تفتیش کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا  جو کہ عرصہ چار ماہ پر محیط ہے ۔

تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ چپل میں منشیات چھپانے کے مذموم فعل میں ٹریول ایجنٹ ملوث تھا اور زائرین قطعی بے قصور تھے ۔ چنانچہ پورے ملک کے عوام ان کے حق میں دعائیں کرنے لگے ۔ رمضان المبارک میں مساجد میں خصوصی دعائیں ہوئیں۔مساجد  میں بیٹھے معتکفین نے ان زائرین کے حق میں دست دعا بلند کیا ۔ یہاں تک کہ عوام نے منتیں مان لیں کہ یہ زائرین بخیر و عافیت واپس آ گئے تو ہم یہ کریں گے  ، ہم وہ کریں گے۔

نوبیاہتا جوڑے کی تربیت چونکہ دینی ماحول میں ہوئی تھی چنانچہ ادھر قید خانہ میں وہ بھی صرف ذات باری تعالیٰ ہی کی جانب متوجہ اور مناجات میں مشغول رہا ۔دل میں یہ یقین بسا ہوا تھا کہ ہم تو اللہ کے مہمان بن کر آئے ہیں۔ اور فقط بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت مقصود تھی ۔  نہ تو ہم نے کوئی غلط کام کیا نہ ہی ایسی کوئی نیت تھی ۔ تو اللہ ہمارے لئے کافی ہے ۔

بالآخر حکومتی سطح پر اس کیس کا نوٹس لیا گیا اور پاکستان اور سعودی وزرائے داخلہ کے درمیان مذاکرات ہوئے ۔ سعودی حکام بھی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ملزمان بے قصور ہیں اور انہیں جعلسازی کے ذریعے پھنسایا گیا ہے ۔ چنانچہ وہ ساعت سعید آن پہنچی کہ جس کا اہل خانہ و اہل وطن کو انتظار تھااور سعودی وزیر داخلہ نے ان کی رہائی کے احکامات جاری فرمائے ۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ان ملزمان کی حیثیت تبدیل ہو گئی اور اب انہیں شاہی مہمان کا درجہ حاصل ہو گیا ۔ نہایت اعزاز و تکریم کے ساتھ انہیں جیل سے نکالا گیا اور حرم مکی کے نہایت قریب ایک نہایت پر آسائش ہوٹل میں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا ۔ ہوٹل کی اس پوری منزل پر فقط یہی لوگ قیام پزیر تھے۔ سترہ فوجی افسران ان کی حفاظت پر مامور کئے گئے ۔ اگلے روز عمرہ کی ادائیگی اس شان سے کرائی گئی کہ فوجی افسران کےپہرے میں بیت اللہ کی دیوار کے بالکل ساتھ انہیں طواف کرایا گیا ۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد اگلی خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے آقائے نامدار سرور کونین ﷺ کی خدمت اقدس میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے واسطے مدینہ منورہ جانے کی خواہش ظاہر کی ۔

چنانچہ انتہائی جدید اور شاندار گاڑیوں کا پورا بیڑہ ان مہمانوں کو مکہ مکرمہ سے لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوا ۔ جہاں ان کو روضہ مبارک پر حاضری کے علاوہ وہ مخصوص زیارات بھی کروائی گئیں جن کا عام عازمین حج و عمرہ محض تصور ہی کر سکتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان کو مکہ مکرمہ لایا گیا جہاں انہوں نے اسی شان سے ایک اور عمرہ ادا کیا۔ پھر ان کو بازار لے جایا گیا کہ کچھ شاپنگ کر لیجئے۔ انہوں نے لاکھ بچنا چاہا کہ جی ہمیں کوئی حاجت نہیں لیکن ادھر سرکاری حکام کا اصرار کہ آپ ازراہ کرم کچھ شاپنگ کر لیں ورنہ ہماری کھنچائی ہو جائے گی ۔ چنانچہ انہوں نے کچھ شاپنگ کی ۔ پھر واپسی کا سفر شروع ہوا تو ایئر پورٹ پر اعلیٰ سعودی حکام انہیں رخصت کرنے کے لئے موجود تھے جہاں انہیں خصوصی طیارے میں سوار کرایا گیا ۔ تحائف پیش کئے گئے جن میں آب زم زم اور انتہائی اعلیٰ قسم کی عجوہ کھجوروں کی وافر مقدار شامل تھی۔

پھر جس وقت یہ عمرہ زائرین اسلام آباد کے چکلالہ ایئر بیس پر اترے تو اعلیٰ پاکستانی حکام نے ان کا استقبال کیا ۔ ادھر ان کے والدین اور اہل خانہ کو بھی کراچی سے اسلام آباد لایا جا چکا تھا ۔ ایئر پورٹ پر والدین ، اہل خانہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کے بعد مسلح پہرے داروں کے جلو میں ان کو قافلے کی شکل میں وزیر اعظم ہاؤس لے جایا گیا اور وزیر اعظم پاکستان سے ان کی ملاقات کرائی گئی ۔ خاطر مدارات کی گئی ، تحائف پیش کئے گئے ۔

یہاں سے رخصت ہونے کے بعد اس قافلے کی اگلی منزل ایوان صدر تھی ۔ جہاں صدر پاکستان نے ان سے ملاقات کی اور مبارکباد دی ۔ ایوان صدر میں بھی تواضع کی گئی اور صدر پاکستان کی جانب سے تحائف پیش کئے گئے۔ نیز صدر پاکستان نے ان سے ان کے روزگار کے حوالے سے بھی معلومات کی اور ان کے لئے مختلف سرکاری اداروں میں تقرری کے احکامات جاری کئے ۔

صدر پاکستان سے ملاقات کے بعد ان عمرہ زائرین کو بمعہ اہل خانہ پاک فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعہ کراچی لایا گیا جہاں ان کے استقبال کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے ۔ جنہوں نے ان کو مبارکباد دینے کے بعد بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچانے کے احکامات جاری کئے اور یوں مسلح پہرے داروں کی حفاظت میں یہ لوگ بالآخر اپنے گھر پہنچے۔

یہ ساری روداد ہمیں رئیس احمد صاحب نے سنائی جن کی بیٹی اور داماد کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ۔ رئیس بھائی یہ روداد سنا رہے تھے اور ہمارے ذہن میں یوم محشر کے مناظر کا تصور ابھر رہا تھا ۔

سورۃ الحآقۃ میں اللہ تعالیٰ نے یوم محشر کا منظر اس طرح بیان فرمایا ہے۔

فَأَمَّا مَنۡ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُ ۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَـٰبِيَهۡ (١٩) إِنِّى ظَنَنتُ أَنِّى مُلَـٰقٍ حِسَابِيَهۡ (٢٠) فَهُوَ فِى عِيشَةٍ۬ رَّاضِيَةٍ۬ (٢١) فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍ۬ (٢٢) قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ۬ (٢٣) كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِى ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ (٢٤)

تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے (۱۹) مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا (۲۰) پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا (۲۱) (یعنی) اونچے (اونچے محلوں) کے باغ میں (۲۲)جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے (۲۳) جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو (۲۴)

یہ گویا ایک اعلان ہو گا بارگاہ الٰہی سے کہ فلاں شخص بے گناہ ہے ، اس کو باعزت بری کر دیا جائے ۔ اس اعلان کے ہوتے ہی اس شخص کو شاہی مہمان کا درجہ مل جائے گا۔ اسے شاہی مہمان خانے میں ٹھہرایا جائے گا جہاں وہ اس عیش و آرام میں ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سورۃ الدھر میں اس مہمان نوازی کا نقشہ یوں بیان کیا گیا ہے۔

فَوَقَٮٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٲلِكَ ٱلۡيَوۡمِ وَلَقَّٮٰهُمۡ نَضۡرَةً۬ وَسُرُورً۬ا (١١) وَجَزَٮٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةً۬ وَحَرِيرً۬ا (١٢) مُّتَّكِـِٔينَ فِيہَا عَلَى ٱلۡأَرَآٮِٕكِ‌ۖ لَا يَرَوۡنَ فِيہَا شَمۡسً۬ا وَلَا زَمۡهَرِيرً۬ا (١٣) وَدَانِيَةً عَلَيۡہِمۡ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوفُهَا تَذۡلِيلاً۬ (١٤) وَيُطَافُ عَلَيۡہِم بِـَٔانِيَةٍ۬ مِّن فِضَّةٍ۬ وَأَكۡوَابٍ۬ كَانَتۡ قَوَارِيرَا۟ (١٥) قَوَارِيرَاْ مِن فِضَّةٍ۬ قَدَّرُوهَا تَقۡدِيرً۬ا (١٦) وَيُسۡقَوۡنَ فِيہَا كَأۡسً۬ا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلاً (١٧) عَيۡنً۬ا فِيہَا تُسَمَّىٰ سَلۡسَبِيلاً۬ (١٨) ۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡہِمۡ وِلۡدَٲنٌ۬ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤً۬ا مَّنثُورً۬ا (١٩) وَإِذَا رَأَيۡتَ ثَمَّ رَأَيۡتَ نَعِيمً۬ا وَمُلۡكً۬ا كَبِيرًا (٢٠)عَـٰلِيَہُمۡ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضۡرٌ۬ وَإِسۡتَبۡرَقٌ۬‌ۖ وَحُلُّوٓاْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ۬

تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا (۱۱) اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کرے گا (۱۲) ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت (۱۳) ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے (۱۴) خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس (۱۵) اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں (۱۶) اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی (۱۷) یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے (۱۸) اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں (۱۹) اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے (۲۰)ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے …

اس کے بعد اعلیٰ شخصیات یعنی انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام ؓ سے ملاقاتیں ، ساقیٔ کوثر ﷺ کی زیارت ، اور آپ ﷺ کے دست مبارک سے جام کوثر پیش کئے جانے کا اعزاز، اور پھر صدر کائنات اللہ رب العزت کا دیدار اور دست الٰہی سے شراب طہور پیش کئے جانے کا اعزاز۔۔۔ اللہ اکبر۔

وَسَقَٮٰهُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابً۬ا طَهُورًا (٢١) إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمۡ جَزَآءً۬ وَكَانَ سَعۡيُكُم مَّشۡكُورًا (٢٢)

اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا (۲۱)یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی (۲۲)

بس ایک بے گناہی ثابت کرنی ہے ۔ اور یہ اسی وقت ثابت ہو سکے گی جبکہ دنیوی زندگی گناہوں سے بچ بچ کر گزاری جائے ۔

حدیث مبارکہ ہے:

“اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَه’ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْت، وَ الْعَاجِزُ مَنْ اَتْبَعَ هَوَاهَا وَ تَمَنّیٰ علی اللہ.” (الترمذی)

“عقلمند وه ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکهے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئےعمل کرے … اور نادان وه ہے جو اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرے اور اس کے باوجود الله سے امیدیں باندهتا رہے.”

اور ایک اور حدیث مبارکہ ہے:

الدنیا سجن المؤمن و جنۃ الکافر

دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت۔

قید خانے میں بھلا اپنی مرضی کہاں چلتی ہے! سو اگر ہم بھی اس دنیاوی زندگی کو ایسے گذار پائیں جیسے اللہ کے ان دو بندوں نے اپنی قید کے دن گذارے، تو ان شاء اللہ آخرت میں عیش ہی عیش، مزے ہی مزے۔

Behaviors & Attitudes

Agar Hisaab Ho Gya to…?

اگر حساب ہو گیا تو ۔۔۔!؟

از ۔۔۔ ابو شہیر

ہم ایک آزاد قوم ہیں ۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے ہم میں سے ہر شخص کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے ۔ حکمرانوں اور اشرافیہ کا تو ذکر ہی کیا ، ہم عوام بھی قدم قدم پر قواعد و ضوابط اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم سے کس قدر غلط عمل سر زد ہو گیا ،  ہماری ذات سے کس کس کو کتنی کتنی تکلیف یا اذیت پہنچی، کس کس نے ہمیں برا بھلا کہا، اور کون کون خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖوَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا ۔ (النسا۔ 36)

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے : “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ “اسی طرح  ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفہوم) “اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔” دریافت کیا گیا : “یا رسول اللہ ! کون؟” فرمایا : “وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ۔ “

لفظ پڑوسی معنویت کے اعتبار سے بڑا وسیع لفظ ہے ۔ عرف عام میں تو اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے گھر آپ کے گھر سے متصل یا اطراف میں ہوتے ہیں ۔ تاہم وسیع تر معنوں میں پڑوسی اور پڑوس کا اطلاق ہر اس جگہ پر کیا جاتا ہے جہاں جہاں آپ کا وجود ہوتا ہے۔ مثلاً کاروبار کی جگہ ، دفتر ، دوکان ، کارخانہ ، بازار ، سفر ، مسجد ، درسگاہ وغیرہ۔ پھر اس سے آگے ایک گاؤں دوسرے گاؤں کا ، ایک شہر دوسرے شہر کا اور ایک ملک دوسرے ملک کا پڑوسی کہلائے گا ۔اس تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ بالا آیت قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں آئیے اپنا محاسبہ کرتے ہیں  اور ان افعال و اعمال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ دوسرے انسانوں کو تکلیف پہنچانے والے اعمال و افعال ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بڑے دھڑلے سے کئے جا رہے ہیں ۔

اولین المیہ تو شاید یہ ہے کہ نظم و ضبط نامی شے ہماری لغت میں ہی نہیں ہے۔ ٹریفک ہی کو دیکھ لیجئے ۔ کس قدر بے ہنگم طریقے سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں ۔ ٹریفک اصولوں اور قوانین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہوتے ہیں ۔ سگنل توڑنا ہم اپنی شان سمجھتے ہیں ۔ رانگ سائیڈ ڈرائیونگ میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ کراچی میں کسی بھی جگہ یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے لیکن شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ مناظر جامعہ کراچی کے اطراف میں رہائش پزیر لوگوں کو دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ روزانہ دن کے مختلف اوقات میں ٹریفک جام ہو جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آئی بی اے / جامعہ کراچی کے طلبا ، اساتذہ اور رہائش پزیر لوگ اپنی گاڑیاں آگے  یو ٹرن سے گھمانے کی  بجائے رانگ سائیڈ موڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے اطراف سےآنے والی گاڑیاں الجھ کر رہ جاتی ہیں ۔ سوچئے ! یہ مادر علمی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ (مہذب یا باشعور لکھنے کو جی نہیں مانتا)اساتذہ و طلبا کے نظم و ضبط کی تکلیف دہ صورت حال ہے۔اسی طرح غلط سمت (رانگ سائیڈ )سے یو ٹرن میں داخل ہو جانا اور اس پر ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کرنا ہماری روایت بنتی جا رہی ہے ۔ دو رویہ سڑک پر اپنی لین میں ٹریفک جام ہو جانے کے بعد دوسری لین میں گھس جانا اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کا راستہ بند کردینا بھی معمول کی بات ہے ۔

قطار انتظار کے تو ہم قائل ہی نہیں ۔ یوٹیلیٹی بل جمع کرانا ہو یا یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر سستے داموں چینی حاصل کرنی ہو ،  کسی اسٹیڈیم کے باہر میچ کا ٹکٹ لینا ہو یا خدانخواستہ کسی قدرتی آفت کا شکار ہونے کے بعد امدادی کیمپ سے امدادی سامان کا حصول ہو ، حرم مکی میں بیت اللہ شریف کی چوکھٹ یعنی “ملتزم” سے لپٹ کر دعا کرنے کی آرزو پوری کرنی ہو یا  “حجر اسود “کا بوسہ لینا ہو ، اور یا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں “ریاض الجنۃ “اور “اصحاب صفہ کے چبوترے “جیسے بابرکت مقامات پر نوافل ادا کرنے اور دعائیں مانگنے کی خواہش پوری کرنی ہو، ہر ہر مقام اور موقع پر الا ما شااللہ  ہمارا “نظم و ضبط “قابل دید ہوتا ہے ۔

شور شرابا بھی ہمیں بہت پسند ہے ۔ موٹر سائیکل ہے تو اس کا اچھا بھلا سائیلنسر نکلوا کر اس کی جگہ پائپ فٹ کروا دیا ۔۔۔ گاڑیوں میں woofer پر دھما دھم ہو رہی ہے ۔ گھروں میں اونچی آواز میں ٹیپ ریکارڈ ۔۔۔ سوری ڈیجیٹل سی ڈی پلیئرز (ٹیپ ریکارڈ تو بہت فرسودہ سی چیز ہو چکی ہے) پر موسیقی ، نعتیں یا نوحے بج رہے ہیں ۔۔۔ کسی کے کان کے پردے پھٹتے ہیں یا اعصاب متاثر ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ، who cares۔ بائیک میں ٹرین یا بس کا ہارن لگوا لیا اور پھر ہارن پر ہاتھ رکھ کر بھول گئے ۔ اب عوام الناس کی سماعتوں پرگراں گزر رہا ہو تو گزرتا رہے ۔ کہیں میوزیکل نائیٹ کے نام پر لوگوں کی راتوں کی نیند حرام کی جا رہی ہے تو کہیں “میلاد ” پورے محلے پر “مسلط”کیا جارہا ہے ۔

اسی طرح راہیں مسدود کرنا ، جگہ جگہ اسپیڈ بریکر بنانا اور بیریئر لگانا بھی ہمارا محبوب مشغلہ ہے خواہ آنے جانے والوں کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو ۔ قبرستانوں کا حال یہ ہے کہ راستوں میں قبریں بنا دی جاتی ہیں یہاں تک کہ چلنے کی جگہ بھی نہیں  بچتی جس کے باعث میت کو اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچانا حد درجہ دشوار ہو جاتا ہے ۔ اہم شاہراہوں اور پر ہجوم بازاروں کی گلیوں اور فٹ پاتھ پر لگے پتھارے بھی یہی بتاتے ہیں کہ ہمیں کسی کی تکلیف و پریشانی سے کوئی غرض ہی نہیں ہے ۔ مسجد میں ہم exit کے پاس بیٹھتے ہیں کیونکہ واپس بھی تو جانا ہوتا ہے ! بعد میں آنے والوں کو مشکل ہو تو یہ ان کا مسئلہ ہے ، ہمارا نہیں ۔ حرمین شریفین اپنی بے پناہ وسعت اور کشادگی کے باوجود تنگ پڑ جاتے ہیں اور اس کی سب سے اہم اور بنیادی وجہ یہی ہوتی  ہے کہ حجاج کرام مساجد کے اندرونی حصوں کی جانب بڑھنے کی بجائے راستوں میں ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ باہر کے صحن ، اندرونی راستے اور سیڑھیاں پہلے بھر جاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کو اندر جانے کا راستہ ہی نہیں مل پاتا ۔ نتیجتاً ان بے چاروں کو یا تو نماز ہی نہیں مل پاتی یا پھر سڑک یا فٹ پاتھ پر نماز پڑھنی پڑتی ہے جبکہ مسجد کے اندر بہت سے گوشے خالی پڑے ہوتے ہیں ۔

اور وہ منظر بھی نہایت قابل دید ہوتا ہے جب شادی ولیمہ کی تقریبات میں کھانا کھُلتا ہے ۔ اچھے خاصے متمول احباب بھی کھانے پر یوں ٹوٹتے ہیں جیسے کئی دن فاقے کے بعد کھانا ملا ہو یا یہ آخری کھانا ہے اور اس کے بعد کھانا نہیں ملے گا ۔ ایک ایک شخص کئی کئی بندوں کا کھانا پلیٹ میں جمع کرنا شروع کر دیتا ہے  اور پھر کھانے کے بعد کا منظر یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک میز پر کئی کئی افراد کا کھانا بچا ہوا ہوتا ہے بلکہ بہت سی پلیٹوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ ان کو تو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آج کل تقریبات میں کھانا کم از کم دو سو روپے فی کس کے حساب سے تیار ہوتا ہے ۔ اب ایک آدمی کے دو چار پانچ افراد کا کھانا پلیٹ میں نکالنے کا مطلب ہزار پانچ سو روپے کا کھانا برباد کرنا ہے کیونکہ کھائے گا تو وہ اپنی گنجائش کے ہی مطابق ۔ یوں یہ صورتحال صرف رزق کی بربادی ہی کا سبب نہیں بنتی بلکہ بہت سے مہمان کھانے سے محروم بھی رہ جاتے ہیں ۔ نیز اس صورتحال سے کھانا کم پڑ جانے کا بھی تاثر پیدا ہوتا ہے جو کہ میزبان کی سبکی اور بے عزتی پر منتج ہوتا ہے ۔ سوچئے ! اک ذرا سی ہوس سے کتنے لوگوں کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ہو گئیں!

ایسی اور بھی بہت سی تکلیف دہ مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مثلاً گاڑی کے پیچھے گاڑی پارک کر دینا ، واٹر ٹینکرز کے نلکوں سے بہنے والے پانی کے نتیجے میں سڑکوں پر کھنچتی ہوئی موت کی لکیریں ، بسوں میں خواتین کے لئے مخصوص حصوں پر مردوں کا قبضہ ، وغیرہ لیکن۔۔۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

ہزاروں ہی قصے ہیں کیا کیا بتاؤں

مختصر یہ کہ قدم قدم پر مسلمانوں کے جائز حقوق پامال یا سلب کئے جا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو ستایا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔ کہیں حکومت اس کی ذمہ دار ہے ، کہیں معاشرہ ۔ کہیں عوام اور کہیں فردِ واحد ۔ یہ جو معاشرہ بالخصوص مسلمان خواتین مردوں کو دوسری شادی سے روکتی ہیں ، کیا یہ ایک مسلمان مرد کے اس بنیادی حق کی نفی نہیں ہے جو کہ اس کو “اللہ رب العالمین  “نے دیا ہے ؟ صرف اس ایک “حق تلفی “سے معاشرے میں کتنا بگاڑ آ رہا ہے ، کتنی بے راہ روی بڑھ رہی ہے ، کتنے گھر اجڑ رہے ہیں یا کتنی بچیاں گھر بیٹھی ہیں ، اس کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں ۔

ہم مسلمان ہیں ۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ، یوم آخرت اور حساب کتاب پر ، نظامِ جزا و سزا  اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ سورۃ الزلزلۃ کی آخری دو آیات سے واضح ہے کہ کس قدر کڑا حساب کتاب ہونے والا ہے ۔

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴿٨

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا  (7)  اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا (8)

اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ حساب کتاب کو آسان فرمائے بلکہ بغیر حساب کتاب کے ہی بخش دے ۔ آمین ۔ لیکن ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم سے کہیں کوئی کوتاہی کوئی چوک تو نہیں ہو رہی ۔ دیکھ لینا چاہئے کہ ہم سے کہیں مذکورہ بالا یا ان جیسے دیگر “مظالم” میں سے کوئی ظلم تو سرزد نہیں ہو رہا۔ اگر ہو رہا ہے تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ “اگر میرے اس عمل کا حساب ہو گیا تو۔۔۔!؟”

اور یہ بھی واضح رہے کہ حساب کتاب تو مسلمانوں کا ہی ہو گا ۔ کافر تو بغیر حساب کتاب کے ہی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ تو ہم جو قدم قدم پر مسلمانوں کو ایذا پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ان کی حق تلفی کر رہے ہوتے ہیں ، اس کے بعد ہمیں اگلا سوال خود سے یہ کرنا  چاہئے کہ کیا ہم مسلمان باقی رہ گئے ہیں ؟کیا ہمارا ایمان برقرار ہے ؟کہ نبیِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا:

“اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ۔ “

لفظ پڑوسی کی تعریف اوپر درج ہے ۔ ازاراہ کرم ایک بار پھر دیکھ لیجئے ۔