Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Social, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔1

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے*

  اللہ رب العزت نے ۲۰۰۲ میں حج کی سعادت عطا فرمائی۔

 اس وقت دو حج اسکیمز ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ اور اسپانسر شپ۔

ہم نے اسپانسرشپ اسکیم کے تحت نیشنل بینک میں درخواست جمع کرائی۔ بینک کے ایک ملازم نے عبد الغنی نامی ایک صاحب  کا پتہ دیا جو حجاج کے لیے رہائش کا انتظام کرتے تھے۔

ان سے ملے۔ وہ مکہ کی رہائش کے 1600 ریال مانگ رہے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ 1500 ریال میں معاملہ نمٹ جائے۔ ( بینک اکاؤنٹ بالکل خالی ہو چکا تھا)۔ خاصی بحث و تکرار کے بعد طے پایا کہ 1500 ریال ابھی جمع کرا دیں۔۔۔ بقیہ 100 ریال مکہ مکرمہ پہنچ کر ادا کر دیجیے گا۔ ہم نے 1500 ریال ادا کر دیئے۔

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عبد الغنی صاحب ہاتھ ہی نہ آئے۔ یہاں تک کہ حج بھی گزر گیا۔ حج کے بعد عبد الغنی صاحب نے حجاج کرام کی ضیافت کی۔ اس دن وہ موجود تھے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کو یاد دلایا کہ بھائی ان کے 100 ریال ادا کر دیتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا کہ چھوڑو کیا ضرورت ہے یاد دلانے کی۔ میں نے کہا: بھائی ہمیں 100 ریال کے پیچھے اپنا حج برباد نہیں کرنا چاہیے۔ بات اس کے بھی دل کو لگی۔

جا کے عبد الغنی صاحب سے ملے اور یاد دلایا کہ آپ کے 100 ریال باقی تھے۔

اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا۔

بولے: ارے چھوڑیئے۔۔۔ خیر ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔ بس۔۔۔ ہو گیا سب۔
اللہ اکبر۔۔۔

اللہ رب العزت نے ہمارا حج بھی خراب نہیں ہونے دیا اور ہمارے 100 ریال بھی بچا لیے۔ فللہ الحمد۔

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کی عطا کردہ توفیق سے یہ ممکن ہوا۔ ہمارا کوئی کمال نہیں۔

معزز عازمین حج

ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حج پہ شیطان بہت چوکس ہوتا ہے۔ مقابلے میں حاجی کو بھی بہت چوکس اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چند برس قبل ایک صاحب گورنمنٹ پیکج پہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے میں ہر حاجی کے لیے دہی کا ایک پیکٹ یا ایک کیلا یا ایک سیب مختص ہوتا ہے۔ بعض حاجی ایک کے بجائے دو دو اٹھا لیتے۔۔۔ پیچھے کئی حاجی محروم رہ جاتے۔

ایسے ہی بند کمروں میں سگریٹ پینا ساتھی حاجیوں کے لیے سخت آزار کا باعث ہوتا ہے۔ محتاط رہیے! اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Hajj kay baad

حج کے بعد

حج کرنا آسان ہے۔۔۔ لیکن اس کو صحیح سلامت اپنی قبر تک لے کر جانا کہیں مشکل!

حج کے بعد اپنی بقیہ زندگی شریعت اسلامیہ کے مطابق گزارنے کی کوشش کیجیے۔ علماء کے مطابق بعض امور ایسے ہیں کہ بندہ چاہے سو رہا ہو یا جاگ رہا ہو حتی کہ نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو یا بیت اللہ کا طواف ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔۔۔ بندہ حالت گناہ میں ہے۔۔۔ چوبیس گھنٹے۔۔۔ دن رات۔

یہ گناہ کون سے ہیں۔

مردوں کے لیے داڑھی مونڈھنا یا ازار یعنی شلوار پاجامہ وغیرہ سے ٹخنوں کو ڈھانپنا۔

خواتین کا پردہ نہ کرنا۔۔۔ یا غیر ساتر یعنی باریک و مختصر یا نامکمل لباس۔۔۔ آدھی یا بغیر آستین کا لباس۔۔۔ ایسی ساڑھی جس میں پیٹ ننگا ہو۔۔۔ چست لباس جس میں بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوتے ہوں مثلا ٹائٹس پہننا۔۔۔ اس طرح کے لباس میں ملبوس خواتین مسلسل حالت گناہ میں کہلائیں گی۔ اب تو مرد بھی چڈے نیکر میں باہر گھومتے نظر آتے ہیں۔ یا خالی پاجامہ پہن کے باہر آ گئے جو ناف سے نیچے گر رہا ہے۔ آجکل جو پتلونیں آ رہی ہیں ان میں بندہ اکڑوں بیٹھے یا سجدے میں جائے تو آدھی آدھی تشریف عریاں ہوتی ہے۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ ستر پوشی کا خیال نہ کرنا محض خواتین ہی کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی خلاف شرم و حیا اور باعث گناہ ہے۔

اچھا یہ تو حالت گناہ کا بیان ہو گیا۔

اس سے اگلی حالت معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حالت کفر ہے۔

*دین کے کسی حکم پر عمل نہ کرنا باعث گناہ ہے لیکن دین کے کسی حکم کا انکار یا شعائر اسلام کا مذاق اڑانا کفر ہے۔*

نماز نہ پڑھنا روزہ نہ رکھنا داڑھی صاف کرنا یا پردہ کا اہتمام نہ کرنا یہ سب گناہ میں شمار ہو گا۔۔۔

لیکن

ان میں سے کسی کے انکار یا مذاق اڑانے یا کسی اور کلمہ کفر کی ادائیگی کے باعث بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

*خدانخواستہ ایسے کسی عمل کے ارتکاب سے ایمان ختم۔*

*شادی شدہ ہے تو نکاح بھی ختم۔*

*اور اگر حج کر چکا تھا تو وہ بھی باطل ہو گیا۔*

اب درج ذیل امور لازم ہوں گے۔

سچی توبہ

تجدید ایمان

اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔

*اگر صاحب استطاعت ہے تو حج بھی دوبارہ فرض ہے۔*

حج کے بعد گناہوں سے بچیں۔ خاص کر چوبیس گھنٹے کے گناہ!

مرد داڑھی اور ٹخنے کھلے رکھنے کا اہتمام کریں۔ خواتین پردہ اور ستر پوشی کا اہتمام کریں۔ کم از کم درجہ میں روڈ کا پردہ تو لازم کر ہی لیں یعنی گھر سے باہر نکلیں تو اس وقت پردہ لازمی کریں۔ بازار یا دفتر جانا ہو یا کسی تقریب میں یا کسی رشتہ دار کے گھر یا بچہ کو اسکول سے لینے کے لیے۔۔۔ جب تک راستہ میں ہیں کم از کم اتنی دیر ہی عبایا نقاب کا اہتمام کر لیں۔ کیا ضرورت ہے سب کو سب کچھ دکھانے کی!

مرد گھر کا سربراہ ہے اور بیوی بچے اس کے ماتحت۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں ہر کوئی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔
چنانچہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی یا بچیوں کے لباس کا خیال رکھے۔ انہیں بے پردہ یا غیر ساتر لباس میں گھر سے باہر جانے سے روکے۔ ورنہ آخرت میں اللہ رب العزت کے حضور جوابدہ ہو گا۔

گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ فرائض و واجبات کی ادائیگی کا بھی خوب اہتمام کریں۔ بعض لوگوں کو دیکھا کہ حج سے آنے کے بعد نمازیں بھی چھوڑ دیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دینے کو کفر کہا گیا ہے۔

پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کا بھرپور اہتمام کریں۔

 رمضان المبارک کے روزے رکھیں۔

دیگر فرض عبادات کا بھی خوب اہتمام کریں۔

اللہ سے لو لگائے رکھیں۔

اپنے ایمان کے حوالے سے حد درجہ چوکنا اور محتاط رہیں۔ شعائر اسلام کا مذاق اڑانے یا  فرائض دینیہ کے انکار سے گریز کریں۔ اللہ سے خوب ڈرتے رہیں۔ پناہ مانگتے رہیں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو ہدایت عقل سمجھ شعور عطا فرمائے اور شریعت مطہرہ کو مکمل طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ حج عمرہ کی سعادت بار بار عطا فرمائے۔

آمین

وما علینا الا البلاغ

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam

Taufeeq

توفیق

بچے جب کم عمر اور نا سمجھ ہوتے ہیں

تو ماں باپ پینسل ان کے ہاتھ میں پکڑا تے ہیں

اور پھر اپنے ہاتھ سے ان کا ہاتھ پکڑ کر کاغذ پر چیزیں بناتے ہیں

اور پھر خود ہی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں کہ

“بے بی نے کنا پالا بنایا ہے۔۔۔”

(بے بی نے کتنا پیارا بنایا ہے)

اللہ تعالیٰ بھی ہمارے ہاتھوں چند نیک اعمال کرا دیتا ہے

جو کہ اس نے پہلے ہی ہماری تقدیر میں لکھ دیئے ہوتے ہیں،

پھر ان کے لئے درکار اسباب بھی عطا فرما دیتا ہے

اور پھر خود ہی توفیق بھی دیتا ہے نیک کام سرانجام دینے کی۔۔۔

گویا ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہم سے نیکیاں کرا دیتا ہے۔۔۔

اور پھر خود ہی خوش ہوتا ہے

اور

فرشتوں کے سامنے ہمارے اوپر فخر فرماتا ہے۔۔۔

!مثلاً حج

Behaviors & Attitudes, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Ibadat Nahi, Ata’at!

عبادت نہیں اطاعت

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
اب کوئی بال ناخن نہ کاٹے۔
اب کوئی خوشبو نہ لگائے۔
اب کوئی بناؤ سنگھار نہ کرے۔
خلاف ورزی کرنے والے کا چالان ہو گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
طواف زیارت کی ادائیگی تک نکاح معطل رہے گا۔
حکم عدولی کی صورت میں “بھاری” جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
نمازوں کےاوقات میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنی ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت کے نکل جانے کے بعد ادا کرنی ہے۔
کوئی شک؟
کوئی اعتراض؟

حج کے ذریعے فلسفہ دین سمجھایا جا رہا ہے۔۔۔
کہ دین عبادت کا نہیں
اطاعت کا نام ہے۔

ہاں
عبادت نہیں۔۔
اطاعت درکار ہے۔

جو کہا ہے اس کی بلاچوں چرا تعمیل۔۔۔
جس سے روکا ہے اس سے اجتناب۔۔
یہی اطاعت ہے
اور
یہی اصل عبادت ہے۔۔۔

Roman Urdu

IBADAT NAHI, ATA’AT

………………………………..

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Ab koi Baal Nakhun Na KaaTay

Ab koi Khushbu Na lagaey

Ab koi Banao Singhar Na karay

!Khilaf Warzi karnay walay ka “Challan” ho ga

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

“Tawaf e Zyarat ki adaegi tk “Nikah Muattal rahay ga

Hukum Adooli ki Soorat May “Bhaari” Jurmana aaid kiya jaega

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Namazon kay Awqaat may Radd o Badal kiya jata hy

Aik Namaz muqarrara waqt say Pehley ada karni hy

Aik Namaz muqarrara waqt nikal janay kay baad adan krni hy

?Koi Shak

?Koi Aitaraz

Hajj kay zariye Falsafa e Deen samjhaya ja raha hy

keh Deen Ibadat ka Nahi,

Ata’at ka naam hy

Haan

Ibadat Nahi

Ata’at darkaar hy

Jo kaha hy Uski Bila Choon Chara Tameel

Jis say Roka hy Us say Ijtanab

Yehi Ata’at Hy

Aur

Yehi Asal Ibadat Hy

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم عرفہ, Yom e Arafa, اسلام, حج

Arif, Arafat, Ma’rfat

عارف، عرفات، معرفت

ایک بزرگ کی مجلس تھی۔

گفتگو کا موضوع تھا معرفت الہٰی۔۔۔

اللہ کی ذات کا عرفان کیسے حاصل ہو؟

بندہ کیسے عارف بن سکتا ہے؟

اس کے لئے کیا کیا جتن کرنے ہوں گے؟

کن کن مراحل سے گزرنا ہو گا؟

کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی؟

وغیرہ وغیرہ

حضرت ایک ایک نکتہ بیان کر رہے تھے۔

مجمع پر ایک سکوت طاری تھا۔۔۔

شرکائے مجلس ہمہ تن گوش بنے حضرت کی گفتگو سن رہے تھے۔۔۔

وہیں سے ایک موچی کا بھی گزر ہوا۔۔۔

بیٹھ کے سننے لگا حضرت کی باتیں۔۔۔

بیان ختم ہوا تو سارا مجمع تو سبحان اللہ ما شآء اللہ کی گردان کرتا ہوا اپنی اپنی راہ چلا۔

حضرت جی نے موچی کو بلا کے شفقت سے پوچھا:

“میاں کچھ سمجھ بھی آیا کیا گفتگو ہو رہی تھی؟”

بولا: “جی معرفت پر وعظ ہو رہا تھا.”

پوچھا: “پھر کیا سمجھ آیا؟ کیا ہوتی ہے معرفت؟”

بولا: “جی اور تو کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ بس اتنا ہی سمجھ آیا کہ ۔۔۔

پہلے جو میرا اللہ کہے، میں کر دوں،

پھر جو میں کہوں، میرا اللہ کر دے!”

 حج پر یہی سب کچھ ہوا کرتا ہے جناب۔

ARIF, ARAFAT, MA’ARFAT

========================

Aik Buzurg ki Majlis thi

Guftugu ka Mouzu tha Ma’arfat e Ilahi

Allah ki Zaat ka Irfan Kesey Hasil Ho?

Banda Kesey Arif ban sakta hy?

 Is kay liye kya kya jatan karnay hon gay?

Kin kin marahil say guzarna ho ga?

Kya kya qurbanian deni hon gi?

Waghera waghera

Hazrat aik aik Nukta bayan ker rahay they.

Majmay per aik sukut tari tha.

Shuraka e Majlis hama tan gosh banay Hazrat ki guftugu sun rahay thay

Wahin say aik Mochi ka guzar hua

Beth k laga sunnay Hazrat ki baten

Bayan khatam hua to sara majma SubhanAllah Ma Shaa Allah ki gardaan karta hua apni rah chala

Hazrat Ji nay Mochi ko bula kay shafqat say poocha: “Miyan! Kuch samajh bhi aya kya guftugu ho rahi thi?”

Bola: “Ji Ma’arfat pay wa’z ho raha tha.”

Poocha: “Phir! Kya samajh aya? Kya hoti hy Ma’arfat?

Bola: “Ji aur to kuch pallay nahi para. Bus Itna he samajh aya kay… Pehley jo Mera Allah Kahay, Main Kar Doon… Phir Jo Main Kahoon, Mera Allah Kar Day!”

HAJJ PER YEHI SUB KUCH HUA KARTA HY JANAB!

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Takheer

 تاخیر

 جیسے کوئی خواب میں اپنے تکیے کے نیچے نوٹوں کی گڈی رکھی دیکھے۔۔۔ اور آنکھ کھلنے پر تکیے کے نیچے سے واقعی نوٹوں کی گڈی بر آمد ہو جائے۔۔۔ کچھ یہی معاملہ ہوا! نومبر کے آخری ہفتے میں ایک خاندان نے قدم بڑھایا اور ۔۔۔۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے تھا

 واقعہ یہ ہے کہ نومبر کے نصف آخر میں دو خاندانوں نے مل کے عمرہ کی ادائیگی کو جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن پھر ایک خاندان کو بوجوہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرا خاندان، جسے گروپ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا شامل تھے، بھی ڈانوا ڈول ہونے لگا۔ لیکن !آتش شوق کی چنگاری تو بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اب پیچھے ہٹنا کوئی آسان تھا

طے پایا کہ خاتون اور ان کا بیٹا ہی رخت سفر باندھ لیں۔ ادھر خاتون اور ان کے میاں جی کی مشترکہ خالہ نے خاتون کے میاں جی کو “پٹی پڑھانی شروع کی “کہ موقع اچھا ہے تم بھی ہمت کر لو۔۔۔ اور بہر طور راضی کر کے ہی دم لیا۔ چنانچہ قدم بڑھا دیا گیا! شاید رحمت خداوندی انتظار میں تھی۔۔۔ کہ “میاں جی” بھی ارادہ کر لیں تو فائنل اپروول عطا کر کے معاملات آگے بڑھائے جائیں !

 سفری انتظامات کے لئے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ پاسپورٹ پہلے سے تیار تھے۔ ایک دوست کی معرفت دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوائی جہاز کی نشستیں فوری بک کرا لی گئیں۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویزہ کے لئے درخواست دی گئی۔ وقت بہت کم تھا۔ ویزے بروقت لگ جانے کے امکانات خاصے کم تھے۔ لیکن ۔۔۔ جب “بلاوا “آ جائے ۔۔۔ تو پھر کون روک سکتا ہے!

سب انتظام ہو گیا۔۔۔ اور مارکیٹ ریٹ سے کم نرخ پر ہو گیا۔ مذکورہ دوست گھر سے پاسپورٹ تصاویر اور دیگر مطلوب دستاویزات لے گیا اور جب پاسپورٹ پر ویزے لگ گئے تو پاسپورٹ ٹکٹ گھر پہنچا گیا۔ سارے کام گھر بیٹھے ہو تے چلے گئے۔ ہوم سروس ! بارگاہ الٰہی میں یوں تو سارے ہی عازمین حج و عمرہ معزز و مکرم ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ شاید کچھ زیادہ ہی “اسپیشل کیس“تھا۔ سبحان اللہ ! کیسا وی آئی پی ٹریٹمنٹ تھا۔۔۔ کیا سوئفٹ ارینجمنٹ تھا!

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے،میں اس کی طرف ایک گز بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے ، میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

 نومبر کے آخری ہفتے میں اس خاندان نے قدم بڑھایا ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو اپنی ذات اطہر کے دیدار کی صلاحیت دی ہوتی تو ۔۔۔ قدم بڑھانے والے دیکھ ہی لیتے کہ اللہ تعالیٰ کیسے دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ کیسے بھاگم بھاگ سارے انتظامات کئے۔۔۔ جب ہی تو ۔۔۔ ۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے موجود تھا!

اللہ کو نہ دیکھ سکے ہوں گے ۔۔۔ دیکھ ہی کون سکتا ہے ۔۔۔ کہ چہرے پہ جڑی آنکھوں سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہاں اگر دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی ۔۔۔ تو سارا منظر صاف صاف دیکھ ہی لیا ہو گا!۔۔۔ کہ وہی اللہ فرماتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (فصلت۔۵۳)

 ترجمہ: “ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے!”

 اور ۳ دسمبر کو جب یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہو گا ۔۔۔ تو ممکن ہے کہ ۔۔۔ بیت اللہ کی مقدس اینٹوں۔۔۔ غلاف کعبہ کے متبرک دھاگوں ۔۔۔ مسجد الحرام کے فرش میں جڑی خوش نصیب مرمریں ٹائلوں۔۔۔ حرم مکی کی دیواروں اور ستونوں۔۔۔ برقی قمقموں سے نکلتی روشنی کی کرنوں۔۔۔ آسمان سے جھانکتے چاند ستاروں۔۔۔ سر کے اوپر سے گزرتے بادلوں۔۔۔ پیروں پہ لگی گرد کے ذروں ۔۔۔ دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں ۔۔۔ اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے ۔۔۔ اس سوال کی بازگشت سنائی دی ہو ۔۔۔ جو روانگی سے قبل گھر آئے ایک مہمان نے کیا تھاکہ ۔۔۔

 “تاخیر کس کی طرف سے تھی؟”

 ہاں!ساری تاخیر ، ساری ٹال مٹول، سارے بہانے ، ساری تاویلات ہماری ہی طرف سے ہیں۔ وہاں کوئی تاخیر نہیں۔قاعدہ البتہ طے کیا جا چکا ۔۔۔ پہلا قدم بندوں نے بڑھانا ہے۔۔۔ بندوں کو ہی بڑھانا ہو گا۔۔۔ وہاں تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کسی کو شک ہے ۔۔۔ تو ایک بار قدم بڑھا کے دیکھ لے ۔۔۔ !

Behaviors & Attitudes, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, عمرہ

Zan Mureed

زن مرید

پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت۔ سفید داڑھی ۔ چہرہ ایسا نورانی کہ بندہ دیکھتا ہی چلا جائے۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔  پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔  اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ تعجب تو ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا  اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے لیکن پھر یہ خیال ہوا کہ حج کے فوری بعد واپس روانگی ہو گی سو شاید طواف وداع بھی ابھی کر رہے ہیں۔  بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے  کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔

حج کے کئی روز بعد ایک دن میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے تو بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ حضرت ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔  کہنے لگے : چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔

ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا: میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟عرض کی : حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ  مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر رکن دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا۔ معذرت چاہی کہ  “ناحق آپ کو دکھی کر دیا۔” کہنے لگے: نہیں میاں ! معذرت کیسی؟  بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔ پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:

میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں یوں سمجھو  اس نے اپنے دلائل سے ہمیں قائل کر کے ہی دم لیا۔ سو حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔

میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا۔۔۔ اور مان بھی گیا۔

دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم  اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔  میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔ ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔

کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی: میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کوہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی ، تنگی و وسعت  ، دکھ بیماری میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل مطلب اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے۔

میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔  تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔

اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کے گھر کی زیارت کرا دی۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ میاں اندازہ کرو کہ اس کی طلب کتنی سچی اور دھن کتنی پکی تھی! کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا  ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت  نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔

میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔  کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔

 میاں! سارے خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔

چاہو تو تم بھی کہہ لو!

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297