Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam

Taufeeq

توفیق

بچے جب کم عمر اور نا سمجھ ہوتے ہیں

تو ماں باپ پینسل ان کے ہاتھ میں پکڑا تے ہیں

اور پھر اپنے ہاتھ سے ان کا ہاتھ پکڑ کر کاغذ پر چیزیں بناتے ہیں

اور پھر خود ہی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں کہ

“بے بی نے کنا پالا بنایا ہے۔۔۔”

(بے بی نے کتنا پیارا بنایا ہے)

اللہ تعالیٰ بھی ہمارے ہاتھوں چند نیک اعمال کرا دیتا ہے

جو کہ اس نے پہلے ہی ہماری تقدیر میں لکھ دیئے ہوتے ہیں،

پھر ان کے لئے درکار اسباب بھی عطا فرما دیتا ہے

اور پھر خود ہی توفیق بھی دیتا ہے نیک کام سرانجام دینے کی۔۔۔

گویا ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہم سے نیکیاں کرا دیتا ہے۔۔۔

اور پھر خود ہی خوش ہوتا ہے

اور

فرشتوں کے سامنے ہمارے اوپر فخر فرماتا ہے۔۔۔

!مثلاً حج

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Ibadat Nahi, Ata’at!

عبادت نہیں اطاعت

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
اب کوئی بال ناخن نہ کاٹے۔
اب کوئی خوشبو نہ لگائے۔
اب کوئی بناؤ سنگھار نہ کرے۔
خلاف ورزی کرنے والے کا چالان ہو گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
طواف زیارت کی ادائیگی تک نکاح معطل رہے گا۔
حکم عدولی کی صورت میں “بھاری” جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
نمازوں کےاوقات میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنی ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت کے نکل جانے کے بعد ادا کرنی ہے۔
کوئی شک؟
کوئی اعتراض؟

حج کے ذریعے فلسفہ دین سمجھایا جا رہا ہے۔۔۔
کہ دین عبادت کا نہیں
اطاعت کا نام ہے۔

ہاں
عبادت نہیں۔۔
اطاعت درکار ہے۔

جو کہا ہے اس کی بلاچوں چرا تعمیل۔۔۔
جس سے روکا ہے اس سے اجتناب۔۔
یہی اطاعت ہے
اور
یہی اصل عبادت ہے۔۔۔

Roman Urdu

IBADAT NAHI, ATA’AT

………………………………..

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Ab koi Baal Nakhun Na KaaTay

Ab koi Khushbu Na lagaey

Ab koi Banao Singhar Na karay

!Khilaf Warzi karnay walay ka “Challan” ho ga

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

“Tawaf e Zyarat ki adaegi tk “Nikah Muattal rahay ga

Hukum Adooli ki Soorat May “Bhaari” Jurmana aaid kiya jaega

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Namazon kay Awqaat may Radd o Badal kiya jata hy

Aik Namaz muqarrara waqt say Pehley ada karni hy

Aik Namaz muqarrara waqt nikal janay kay baad adan krni hy

?Koi Shak

?Koi Aitaraz

Hajj kay zariye Falsafa e Deen samjhaya ja raha hy

keh Deen Ibadat ka Nahi,

Ata’at ka naam hy

Haan

Ibadat Nahi

Ata’at darkaar hy

Jo kaha hy Uski Bila Choon Chara Tameel

Jis say Roka hy Us say Ijtanab

Yehi Ata’at Hy

Aur

Yehi Asal Ibadat Hy

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم عرفہ, Yom e Arafa, اسلام, حج

Arif, Arafat, Ma’rfat

عارف، عرفات، معرفت

ایک بزرگ کی مجلس تھی۔

گفتگو کا موضوع تھا معرفت الہٰی۔۔۔

اللہ کی ذات کا عرفان کیسے حاصل ہو؟

بندہ کیسے عارف بن سکتا ہے؟

اس کے لئے کیا کیا جتن کرنے ہوں گے؟

کن کن مراحل سے گزرنا ہو گا؟

کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی؟

وغیرہ وغیرہ

حضرت ایک ایک نکتہ بیان کر رہے تھے۔

مجمع پر ایک سکوت طاری تھا۔۔۔

شرکائے مجلس ہمہ تن گوش بنے حضرت کی گفتگو سن رہے تھے۔۔۔

وہیں سے ایک موچی کا بھی گزر ہوا۔۔۔

بیٹھ کے سننے لگا حضرت کی باتیں۔۔۔

بیان ختم ہوا تو سارا مجمع تو سبحان اللہ ما شآء اللہ کی گردان کرتا ہوا اپنی اپنی راہ چلا۔

حضرت جی نے موچی کو بلا کے شفقت سے پوچھا:

“میاں کچھ سمجھ بھی آیا کیا گفتگو ہو رہی تھی؟”

بولا: “جی معرفت پر وعظ ہو رہا تھا.”

پوچھا: “پھر کیا سمجھ آیا؟ کیا ہوتی ہے معرفت؟”

بولا: “جی اور تو کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ بس اتنا ہی سمجھ آیا کہ ۔۔۔

پہلے جو میرا اللہ کہے، میں کر دوں،

پھر جو میں کہوں، میرا اللہ کر دے!”

 حج پر یہی سب کچھ ہوا کرتا ہے جناب۔

ARIF, ARAFAT, MA’ARFAT

========================

Aik Buzurg ki Majlis thi

Guftugu ka Mouzu tha Ma’arfat e Ilahi

Allah ki Zaat ka Irfan Kesey Hasil Ho?

Banda Kesey Arif ban sakta hy?

 Is kay liye kya kya jatan karnay hon gay?

Kin kin marahil say guzarna ho ga?

Kya kya qurbanian deni hon gi?

Waghera waghera

Hazrat aik aik Nukta bayan ker rahay they.

Majmay per aik sukut tari tha.

Shuraka e Majlis hama tan gosh banay Hazrat ki guftugu sun rahay thay

Wahin say aik Mochi ka guzar hua

Beth k laga sunnay Hazrat ki baten

Bayan khatam hua to sara majma SubhanAllah Ma Shaa Allah ki gardaan karta hua apni rah chala

Hazrat Ji nay Mochi ko bula kay shafqat say poocha: “Miyan! Kuch samajh bhi aya kya guftugu ho rahi thi?”

Bola: “Ji Ma’arfat pay wa’z ho raha tha.”

Poocha: “Phir! Kya samajh aya? Kya hoti hy Ma’arfat?

Bola: “Ji aur to kuch pallay nahi para. Bus Itna he samajh aya kay… Pehley jo Mera Allah Kahay, Main Kar Doon… Phir Jo Main Kahoon, Mera Allah Kar Day!”

HAJJ PER YEHI SUB KUCH HUA KARTA HY JANAB!

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Takheer

 تاخیر

 جیسے کوئی خواب میں اپنے تکیے کے نیچے نوٹوں کی گڈی رکھی دیکھے۔۔۔ اور آنکھ کھلنے پر تکیے کے نیچے سے واقعی نوٹوں کی گڈی بر آمد ہو جائے۔۔۔ کچھ یہی معاملہ ہوا! نومبر کے آخری ہفتے میں ایک خاندان نے قدم بڑھایا اور ۔۔۔۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے تھا

 واقعہ یہ ہے کہ نومبر کے نصف آخر میں دو خاندانوں نے مل کے عمرہ کی ادائیگی کو جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن پھر ایک خاندان کو بوجوہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرا خاندان، جسے گروپ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا شامل تھے، بھی ڈانوا ڈول ہونے لگا۔ لیکن !آتش شوق کی چنگاری تو بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اب پیچھے ہٹنا کوئی آسان تھا

طے پایا کہ خاتون اور ان کا بیٹا ہی رخت سفر باندھ لیں۔ ادھر خاتون اور ان کے میاں جی کی مشترکہ خالہ نے خاتون کے میاں جی کو “پٹی پڑھانی شروع کی “کہ موقع اچھا ہے تم بھی ہمت کر لو۔۔۔ اور بہر طور راضی کر کے ہی دم لیا۔ چنانچہ قدم بڑھا دیا گیا! شاید رحمت خداوندی انتظار میں تھی۔۔۔ کہ “میاں جی” بھی ارادہ کر لیں تو فائنل اپروول عطا کر کے معاملات آگے بڑھائے جائیں !

 سفری انتظامات کے لئے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ پاسپورٹ پہلے سے تیار تھے۔ ایک دوست کی معرفت دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوائی جہاز کی نشستیں فوری بک کرا لی گئیں۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویزہ کے لئے درخواست دی گئی۔ وقت بہت کم تھا۔ ویزے بروقت لگ جانے کے امکانات خاصے کم تھے۔ لیکن ۔۔۔ جب “بلاوا “آ جائے ۔۔۔ تو پھر کون روک سکتا ہے!

سب انتظام ہو گیا۔۔۔ اور مارکیٹ ریٹ سے کم نرخ پر ہو گیا۔ مذکورہ دوست گھر سے پاسپورٹ تصاویر اور دیگر مطلوب دستاویزات لے گیا اور جب پاسپورٹ پر ویزے لگ گئے تو پاسپورٹ ٹکٹ گھر پہنچا گیا۔ سارے کام گھر بیٹھے ہو تے چلے گئے۔ ہوم سروس ! بارگاہ الٰہی میں یوں تو سارے ہی عازمین حج و عمرہ معزز و مکرم ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ شاید کچھ زیادہ ہی “اسپیشل کیس“تھا۔ سبحان اللہ ! کیسا وی آئی پی ٹریٹمنٹ تھا۔۔۔ کیا سوئفٹ ارینجمنٹ تھا!

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے،میں اس کی طرف ایک گز بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے ، میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

 نومبر کے آخری ہفتے میں اس خاندان نے قدم بڑھایا ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو اپنی ذات اطہر کے دیدار کی صلاحیت دی ہوتی تو ۔۔۔ قدم بڑھانے والے دیکھ ہی لیتے کہ اللہ تعالیٰ کیسے دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ کیسے بھاگم بھاگ سارے انتظامات کئے۔۔۔ جب ہی تو ۔۔۔ ۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے موجود تھا!

اللہ کو نہ دیکھ سکے ہوں گے ۔۔۔ دیکھ ہی کون سکتا ہے ۔۔۔ کہ چہرے پہ جڑی آنکھوں سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہاں اگر دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی ۔۔۔ تو سارا منظر صاف صاف دیکھ ہی لیا ہو گا!۔۔۔ کہ وہی اللہ فرماتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (فصلت۔۵۳)

 ترجمہ: “ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے!”

 اور ۳ دسمبر کو جب یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہو گا ۔۔۔ تو ممکن ہے کہ ۔۔۔ بیت اللہ کی مقدس اینٹوں۔۔۔ غلاف کعبہ کے متبرک دھاگوں ۔۔۔ مسجد الحرام کے فرش میں جڑی خوش نصیب مرمریں ٹائلوں۔۔۔ حرم مکی کی دیواروں اور ستونوں۔۔۔ برقی قمقموں سے نکلتی روشنی کی کرنوں۔۔۔ آسمان سے جھانکتے چاند ستاروں۔۔۔ سر کے اوپر سے گزرتے بادلوں۔۔۔ پیروں پہ لگی گرد کے ذروں ۔۔۔ دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں ۔۔۔ اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے ۔۔۔ اس سوال کی بازگشت سنائی دی ہو ۔۔۔ جو روانگی سے قبل گھر آئے ایک مہمان نے کیا تھاکہ ۔۔۔

 “تاخیر کس کی طرف سے تھی؟”

 ہاں!ساری تاخیر ، ساری ٹال مٹول، سارے بہانے ، ساری تاویلات ہماری ہی طرف سے ہیں۔ وہاں کوئی تاخیر نہیں۔قاعدہ البتہ طے کیا جا چکا ۔۔۔ پہلا قدم بندوں نے بڑھانا ہے۔۔۔ بندوں کو ہی بڑھانا ہو گا۔۔۔ وہاں تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کسی کو شک ہے ۔۔۔ تو ایک بار قدم بڑھا کے دیکھ لے ۔۔۔ !

Behaviors & Attitudes, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, عمرہ

Zan Mureed

زن مرید

پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت۔ سفید داڑھی ۔ چہرہ ایسا نورانی کہ بندہ دیکھتا ہی چلا جائے۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔  پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔  اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ تعجب تو ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا  اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے لیکن پھر یہ خیال ہوا کہ حج کے فوری بعد واپس روانگی ہو گی سو شاید طواف وداع بھی ابھی کر رہے ہیں۔  بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے  کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔

حج کے کئی روز بعد ایک دن میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے تو بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ حضرت ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔  کہنے لگے : چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔

ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا: میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟عرض کی : حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ  مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر رکن دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا۔ معذرت چاہی کہ  “ناحق آپ کو دکھی کر دیا۔” کہنے لگے: نہیں میاں ! معذرت کیسی؟  بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔ پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:

میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں یوں سمجھو  اس نے اپنے دلائل سے ہمیں قائل کر کے ہی دم لیا۔ سو حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔

میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا۔۔۔ اور مان بھی گیا۔

دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم  اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔  میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔ ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔

کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی: میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کوہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی ، تنگی و وسعت  ، دکھ بیماری میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل مطلب اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے۔

میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔  تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔

اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کے گھر کی زیارت کرا دی۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ میاں اندازہ کرو کہ اس کی طلب کتنی سچی اور دھن کتنی پکی تھی! کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا  ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت  نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔

میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔  کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔

 میاں! سارے خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔

چاہو تو تم بھی کہہ لو!

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Hajj Umrah

Dastan-e-Safar

داستانِ سفر

حج ایک ایسی تمنا ہے جو بلا شبہ ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے ۔ ایک ایسی آرزو جس کے پورے ہونے کے خواب دیکھے جاتے ہیں ۔ جس نے مقامات مقدسہ کو نہیں دیکھا ، وہ ایک بار حاضری کی تمنا کرتا ہے اور جس کو ایک مرتبہ حاضری کا شرف حاصل ہو جاتا ہے وہ پھر باربار حاضری کی دعا کرتا ہے۔  بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے حرمین شریفین کو نہیں دیکھا اس کی تو طلب ہے اور جو دیکھ آیا  اس کی تڑپ ہے۔

عازمین حج و عمرہ کی قسمت پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے بلکہ ان معاملات میں تو حسد بھی جائز ہے ۔ جس وقت حجاج کرام روانہ ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کے متعلقین ان کو بڑی حسرت کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور جب وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کر کے واپس لوٹتے ہیں تو جا جا کر ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کی داستان سفر بڑے ذوق و شوق سے سنتے ہیں ۔ قابل مبارکباد اور لائق تحسین ہیں وہ نفوس جو اس عظیم عبادت کی ادائیگی کا شرف حاصل کر چکے ہیں یا کرنے والے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہمارے بہت سے متعلقین حج و عمرہ کا شرف حاصل کر کے واپس لوٹے ۔ ان میں سے کئی افراد کے تاثرات جان کر خاصا دکھ ہوا کہ ان کے منہ سے شکوہ شکایت کے علاوہ کچھ نہ سنا ۔پہلے تو یہ دیکھ لیجئے کہ شکایات کیا تھیں ؟ کسی نے کہا : اس قدر گرمی تھی کہ توبہ توبہ ! کوئی بولا : رش بہت تھا ۔ کسی نے کہا : رہائش حرم سے بہت دور تھی ۔ کسی نے شکوہ کیا : پیدل چل چل کے بھیا میری تو ٹانگیں ٹوٹ گئیں ۔ کسی کو کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آیا ۔ کسی کو مہنگائی نے پریشان کیا ۔ کسی کو عرب باشندوں کے رویہ میں درشتگی کی شکایت رہی ۔ یہاں تک کہ ایک صاحب کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ تو ہجوم دیکھ کر اس قدر بوکھلائے کہ کہہ بیٹھے : دوبارہ نہیں آؤں گا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

ایسے لوگوں کو اول تو توبہ کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ان کی شکایات کس قدر بے جا ہیں ۔ ہم ایسے لوگوں کی خدمت میں بصد ادب یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ کو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ وہاں کا موسم کس قدر گرم ہوتا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ وہاں کس قدر اژدھام ہوتا ہے ؟  کم و بیش پچیس لاکھ افراد ، وہ بھی مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ۔ سب کا رہن سہن الگ ۔ طور طریقے الگ ۔ معاشرت الگ ۔ تو ایسے مختلف النوع افراد کے اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنا کوئی آسان کام ہے ؟ رہائش حرم سے دور تھی تو کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں تھی ؟ سرکاری اسکیم میں فارم بھرتے وقت آپ کو معلوم ہو جانا چاہئے تھا کہ حرم شریف سے آپ کی رہائش کا کم سے کم فاصلہ اتنے کلومیٹر ہو گا ۔ اور پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج پر جانے والوں کو بھی ٹور آپریٹر بتا دیتے ہیں کہ ان کی رہائش حرم سے کتنے فاصلے پر ہو گی ۔ تو اس فاصلے پر شکایت و برہمی کیسی ؟ اور پھر ذرا یہ تو سوچئے کہ کیا پچیس کے پچیس لاکھ افراد حرم شریف سے بالکل متصل رہائش حاصل کر سکتے ہیں؟ بہت مبالغہ کر لیا جائے تو شاید تین چار لاکھ افراد قریب کی رہائش گاہوں میں قیام پذیر ہو سکیں، بقیہ حجاج کرام کو تو یقیناً درجہ بدرجہ پیچھے ہی جانا ہو گا ۔ پیدل چلنے کی شکایت کرنے والوں کو بھی تربیت کے دوران بتا دیا جاتا ہے کہ میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے ، اس کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار رہئے ۔ لیکن ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ برصغیر کے اکثر باشندوں کو ڈھلتی یا آخر عمر میں حج کا خیال آتا ہے ۔ اور پھر یہی لوگ واپس آ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میاں !حج تو جوانی کی عبادت ہے ۔ تو اب بڑھاپے میں تو دو قدم چلنا بھی مشکل ہوا کرتا ہے ، میلوں چلنے کا دم کہاں۔کھانے کا ذائقہ سمجھ نہیں آ رہا تھا تو بھائی خود پکا لیتے۔ لیکن وہاں پہنچ کر خواتین صاف کہہ دیتی ہیں کہ ہم یہاں ہانڈی چولہا کرنے نہیں آئے  اور کسی حد تک وہ حق بجانب بھی ہوتی ہیں کہ ان بے چاریوں کی عمر کا بیشتر حصہ باورچی خانے کی نذر ہو جاتا ہے ۔ تاہم اگر چند لوگ خدمت کے جذبے کے ساتھ باری باری کھانا بنا لیا کریں تو کسی پر بار بھی نہیں ہو گا اور لذت کے علاوہ خاطر خواہ بچت کا بھی باعث ہو گا ۔ عرب باشندوں کے رویہ کی شکایت کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع جو کہ ان کی زبان نہیں سمجھ سکتا اور نہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں تو اس مجمع کو کنٹرول کرنا کس قدر مشکل کام ہے ؟ سوچئے تو سہی کہ اپنا ہی بچہ بات نہ مانے یا بیوی آپ کی بات نہ سمجھے تو کس قدر غصہ آتا ہے ۔ وہاں تو معاملہ ہی مختلف ہے۔

خیر یہ تو شکایات کے پلندے کا جواب ہو گیا ۔ اب ذرا نعمتوں  اور رحمتوں کا تذکرہ  ہو جائے ۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ آپ کے اطراف میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی مالی حیثیت آپ سے کہیں زیادہ ہےلیکن حج عمرہ ابھی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور آپ کی خوش نصیبی کہ آپ کو یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔ حج عمرہ کی توفیق ہو جانا بھی در حقیقت اللہ کا بہت بڑا انعام ہے ۔  بہت سے لوگ اس بہانے ہوائی جہاز کا سفر بھی کر لیتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے آپ کا بھی یہ پہلا ہوائی سفر ہو ۔ چلئے یہ خواہش بھی پوری ہو گئی ۔ تمام عمر نمازوں کی نیت کرتے وقت “منہ میرا کعبہ شریف کی طرف ” کہتے رہے ، آج اس کعبہ شریف کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا ۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اس گھر کا طواف کر لیا بلکہ ان گنت طواف کر لئے ۔ اس گھر کے اندر نوافل ادا کر لئے ۔ (جی ہاں حطیم خانہ کعبہ کا ہی حصہ ہے جو کہ تعمیر نہیں کیا گیا ) ۔ ملتزم سے لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگ لیں ، حدیث مبارکہ کے مطابق جہاں کوئی دعا رد نہیں ہوتی ۔ کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے ۔صفا مروہ جیسے مبارک مقامات کو دیکھ لیا ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان کی زیارت کر لی۔حرم مکی میں نمازیں ادا کر لیں کہ جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے ۔ پھر وہ وادی جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر  کے گلے پر چھری چلائی ، جہاں شیطان کو کنکریاں ماریں اس وادی یعنی منیٰ کو بھی دیکھ لیا  ۔ اور بالآخر وہ مبارک ساعت آن پہنچی کہ جب نو ذی الحج کو زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کا وقت میدان عرفات میں گزارا ، جہاں اللہ رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل ہوئے ۔ تمام گناہ معاف کر دئیے گئے ۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ کتنی بڑی ۔۔۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ کتنی بڑی کامیابی ہے ۔ کتنا بڑا انعام ہے ۔

اور پھر حبیب کبریا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر بنفس نفیس درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ۔  کتنی بڑی سعادت حاصل ہو گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود سے آراستہ مسجد کی زیارت ہو گئی ۔ اس مسجد میں خوب نمازیں پڑھیں جہاں ایک نماز کا ثواب ایک روایت کے مطابق ایک ہزار کے برابر ہے ۔ پھر جنت (ریاض الجنۃ) میں داخل ہو گئے … کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ میرے حجرے سے میرے منبر تک کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ پیارے آقا ﷺ نے اس کو جنت کہا تو میں کیوں نہ کہوں کہ ریاض الجنۃ میں پہنچ گئے گویا جنت میں پہنچ گئے۔ سو جنت میں بھی پہنچ گئے۔ کتنی بڑی سعادت ہے ۔ اسلام کی پہلی مسجد یعنی مسجد قبا میں نوافل ادا کئے اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے عمرہ کا شرف حاصل ہوا ۔ جی ہاں ! حدیث مبارکہ کے مطابق مسجد قبا میں دو رکعت اخلاص کے ساتھ ادا کرنے پر مقبول عمرہ کا ثواب ہے ۔ مسجد قبلتین کی زیارت ہوئی ۔ احد پہاڑ کی زیارت ہوئی جس کے بارے میں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔ اللہ اکبر ۔ جنت البقیع میں آرام فرما صحابہ کرام اور احد کے دامن میں شہدائے احد کے مقبروں پر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل ہوا ۔ کیا کیا گنِواوَں!

عبادات سے ہٹ کر دیکھئے ! ایئر کنڈیشنڈ کمرے ۔ ایئر کنڈیشنڈگاڑیاں ۔ ایئر کنڈیشنڈ مسجدیں ۔ ایئر کنڈیشنڈ خیمے ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے کبھی ایئر کنڈیشنڈکمروں میں آرام کیا ؟ ایئر کنڈیشنڈگاڑیوں میں سفر کیا؟ اب تو وہاں ہر جگہ سہولیات میسر ہیں ۔ سوچیں تو سہی کہ اگر یہ سب سہولیات نہ ہوتیں تو کیا ہوتا ؟ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ دنیا جہان کی نعمتیں آج اس شہر میں موجود ہیں جو کبھی قرآن کی گواہی کے مطابق بے آب و گیاہ وادی ہوا کرتا تھا ۔ دودھ ، گوشت ، اناج ، چائے کی پتی ، چینی اور مصالحہ جات سے لے کر سبزیوں اور موسم و بے موسم کے پھلوں تک ہر چیز اس شہر میں موجود ہے ۔  دودھ جوس کولڈڈرنگ لسی پانی آئس کریم چائے کافی وغیرہ وغیرہ ۔ اور ان سب سے بڑھ کر آب زم زم ۔ وہ مقد س پانی جو ایک نبی کے قدموں سے جاری ہوا اور پھر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پانی اس میں شامل ہوا۔ جی ہاں ! میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زم زم کے کنویں سے ڈول میں پانی بھر کر پیش کیا گیا ۔ آپ نے خوب سیر ہو کر پیا اور باقی پانی واپس کنویں میں انڈیل دیا ۔ یاد کیجئے کہ وہ پانی جو کبھی گھونٹ دو گھونٹ تبرک کی شکل میں ملتا تھا ، اس مقدس سفر کے دوران کتنا پی لیا ؟ بلا مبالغہ سینکڑوں گلاس ۔ یاد کیجئے ! خوب یا د کیجئے ! کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے زم زم کے کولر کے نیچے گلاس رکھ کر بٹن دبایا ہو اور پانی نہ آیا ہو؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے وضو کرنے کے لئے یا بیت الخلاء میں طہارت کے لئے نل کھولا ہو اور پانی نہ آیا ہو ؟ کیا کبھی کسی چیز کی قلت دیکھی ؟ مقامی باشندوں کے علاوہ پچیس لاکھ افراد کا مجمع ایک شہر میں جمع ہے۔ کیا کبھی دودھ کی قلت ہوئی ؟کبھی ایسا ہوا کہ چائے نہ ملی ہو ؟ یا آٹا شارٹ ہو گیا ہو ؟ یا چینی نہ مل رہی ہو ؟ یا کولڈرنک مارکیٹ سے غائب ہوئی ہو ؟ چلو یہ تو شہر ہے ۔ منیٰ مزدلفہ عرفات میں بھی سب کچھ مل رہا ہے ۔ پھر راستوں میں جگہ جگہ بڑے بڑے ٹرالرز سے اشیائے خورد و نوش اللہ کے مہمانوں پر مفت نچھاور کی جا رہی ہیں ۔ سرد موسم میں نلکوں میں گرم پانی آ رہا ہے تو گرمی کی تمازت سے بچانے کے لئے حجاج کرام پر  فواروں سےٹھنڈے پانی کی پھواریں ماری جا رہی ہیں۔ کون کر رہا ہے یہ سب کچھ؟ کیا انسانوں کے بس کی بات ہے ؟ کیا کیا نہ کھلایا رب کعبہ نے ۔ کیا کیا نہ پلایا رب کعبہ نے۔

رب کعبہ نے شیخ عبد الرحمٰن السدیس کی بلند و بالا تلاوت سے فیض یاب ہونے کے مواقع عطا کئے ۔ شیخ سعود الشریم کی مسحور کن قرات سنوا دی ۔ کیسٹ یا سی ڈی یا ٹی وی پر سننے اور براہ راست سننے میں فرق محسوس کیا آپ نے ؟ شیخ علی احمد ملا کی فلک شگاف  ، شیخ فاروق ابراہیم حضراوی کی گھمبیر اور شیخ محمد ماجد حکیم کی مسحور کن آواز وں میں بلند ہونے والی اذانیں ،شیخ صلاح البدیر کی رقت آمیز تلاوتیں ، کیا کیا گِنواوَں؟ کون کون سی رحمت کا تذکرہ کروں ؟  مقصد یہ باور کرانا تھا کہ بھائی ! کتنا کچھ ہوتا ہے حاجی کے پاس بتانے کو !

اے مدینے کے زائر !خدا کے لئے  داستان سفر  مجھ کو یوں مت سنا

دل مچل جائے گا ، بات بڑھ جائے گی ، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

جی ہاں!داستان سفر اس طرح سنائیے کہ سننے والے کا بھی دل مچل جائے وہاں جانے کو ۔ حسرت سے اس کی آنکھیں جل تھل ہو جائیں ۔ اس کے شوق کی چنگاری بھڑک کر شعلے میں تبدیل ہو جائے ۔ آپ ضیوف الرحمٰن یعنی اللہ تعالیٰ کے مہمانوں میں شامل رہے … گویا اللہ تعالیٰ آپ کی میزبانی کرتا رہا ۔۔۔ اس کیفیت ، اس سعادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذکورہ بالا رحمتوں کو یاد کیجئے اور ان کا تذکرہ کیجئے ۔ زحمتوں اور تکالیف کو فراموش کر دیجئے ، بھول جائیے ۔ اور اگر کبھی مشکلات کا تذکرہ بھی کریں تو تربیت کی غرض سے ، سکھانے کے لئے ، اگلے کو دشواری سے بچانے کے لئے ، آگاہی دینے کے لئے ۔۔۔ نہ کہ شکوہ شکایت کے لئے ۔ خدانخواستہ نا شکری میں شمار نہ ہو جائے ۔

چلتے چلتے صبیح رحمانی کی ایک نظم ملاحظہ فرمائیے ۔ دیکھئے شاعر نے اپنے مشاہدات ِحرم کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔

کعبے کی رونق ! کعبے کا منظر !اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاوَں برابر !اللہ اکبر اللہ اکبر

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو

لایا کہاں مجھ کومیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

حمد خدا سے تر ہیں زبانیں ، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں

بس اک صدا آ رہی ہے برابر ، اللہ اکبر اللہ اکبر

مانگی ہیں میں نےجتنی دعائیں منظور ہوں گی مقبول ہوں گی

میزاب رحمت ہے میرے سر پر اللہ اکبر اللہ اکبر

یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں ، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں

رویا غلاف کعبہ پکڑ کر اللہ اکبر اللہ اکبر

اپنی عطا سے بلوا لیا ہے ، مجھ پر کرم میرے رب نے کیا ہے

پہنچا ہوں پھر سے حطیم کے اندر  اللہ اکبر اللہ اکبر

قطرے کو جیسے سمندر سمیٹے ، مجھ کو مطاف اپنے اندر سمیٹے

جیسے سمیٹے آغوش مادر اللہ اکبر اللہ اکبر

باب کرم پر آئے ہوئے ہیں ، پھر ملتزم پر آئے ہوئے ہیں

اے سچے داتا !تیرے گداگر اللہ اکبر اللہ اکبر

بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے ، چوما ہے تجھ کو خود مصطفیٰ نے

اے حجر اسود تیرا مقدر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

جس پر نبی کے قدم کو سجایا ، اپنی نشانی کہہ کے بتایا

محفوظ  رکھا رب نے وہ پتھر اللہ اکبر اللہ اکبر

دیکھا صفا بھی ، مروہ بھی دیکھا  رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا

دیکھا رواں اک سروں کا سمندر اللہ اکبر اللہ اکبر

کعبے کے اوپر سے جاتے نہیں ہیں ، کس کو ادب یہ سکھاتے نہیں ہیں !

کتنے موَدب ہیں یہ کبوتر ! اللہ اکبر اللہ اکبر

تیرے کرم کی کیا بات مولا ! تیرے حرم کی کیا بات مولا!

تا عمر کر دے آنا مقدر اللہ اکبر اللہ اکبر

مولا! صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے ؟ بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے

بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر اللہ اکبر اللہ اکبر