Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب

#TIGHTS_ٹائٹس

۔۔۔۔ ٹائٹس ۔۔۔۔

عام ہوئے ہیں تنگ پجامے

اونچے اور بے ڈھنگ پجامے

اخلاقی اقدار کے باغی

اک اعلان جنگ پجامے

کیسا ہے ملبوس نرالا

برقع بھی، اور تنگ پجامے

سر ڈھانپا اسکارف سے، بہتر

لیکن اس کے سنگ پجامے؟

دیکھو، خود کو بائک پہ، گر

کر دیں تم کو دنگ پجامے

لاکھ چھپاؤ، کر دیتے ہیں

ظاہر اک اک انگ پجامے

چبھتی نظروں کو مت کوسو

دکھلاتے ہیں رنگ پجامے

بتلاتا ہے قول نبیؐ کا

ہیں یہ مثلِ ننگ پجامے

دیکھو! تم کو مروا نہ دیں

روز محشر تنگ پجامے

دینی تعلیمات سے، بہنو

کر لو ہم آہنگ پجامے

مومن کی آنکھوں میں کھٹکیں

مانؔ مثال سنگ پجامے

TIGHTS

AAM HUAY HAIN TANG PAJAMAY

OONCHAY AUR BAY-DHANG PAJAMAY

 

AKHLAQI AQDAAR KAY BAAGHI

EK AILAN E JANG PAJAMAY

 

KESA HY MALBOOS NIRALA

BURQA BHI, AUR TANG PAJAMAY

 

SAR DHAANPA SCARF SAY, BEHTER

LEKIN US KA SANG PAJAMAY?

 

DEKHO KHUD KO BIKE PAY, GAR

KAR DAIN TUM KO DANG PAJAMAY

 

LAAKH CHUPAO, KER DETEY HEN

ZAHIR EK EK ANG PAJAMAY

 

CHUBHTI NAZRON KO MAT KOSO

DIKHLATAY HEN RANG PAJAMAY

 

BATLATA HY QOUL NABI ﷺ KA

HEN YE MISL E NANG PAJAMAY

 

DEKHO! TUM KO MARWA NA DEN

ROZ E MEHSHER TANG PAJAMAY

 

DEENI TALEEMAT SAY BEHNO

KAR LO HUM AAHANG PAJAMAY

 

MOMIN KI ANKHON MAY KHATKEN

MAAN! MISAL E SANG PAJAMAY

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم آخرت, اسلام, حساب کتاب

Mera Dil Badal Day

 

If you think it’s that easy to leave singing… try to stop listening music & watching movies for a month!

 

If you think it’s that easy to leave a false profession… try to quit your banking job!

 

If you think it’s that easy to go for Tableegh, try to spare some time for that!

 

If you think it’s that easy to have beard on the face… try not to shave for a couple of weeks!

 

If you think it’s that easy to pull the trousers above the ankles… try to leave them pulled after Namaz!

 

If you think it’s that easy to wear only Shalwar Qameez… try to adopt this attire from now!

 

If you think it’s that easy to wear a Topi all the time… just have it on your head for a whole day!

 

And if you are a female you may think of attending a party without make up, or wearing a veil, or wearing abaya or lawn suits on all occasions!

 

There’s a huge difference between being a Born Muslim and being a Converted One! He converted to Islam at the peak of his career. (Here the term “converted” is used deliberately).

 

You know when you opt islam as the way of life… you have to face a lot of problems and difficulties! You’ve to see harsh gestures from people around you… you’ve to face comments & criticism, out of which the most bitter are from your loved ones… your family… your cousins… your friends… your siblings… even your parents sometimes… You’ve to bear “hey-if-you’re-doing-this, why-don’t-you-do-that” kinda attitude!

 

Junaid Jamshed faced all that stuff… he kept patient… he continued his journey… he knew one needs strong legs to reach the cliff…

 

He made mistakes during his youth… people didn’t notice them! He made mistakes after his conversion as well… people didn’t forgive… nor then not now…!

 

He was not perfect… is anyone of us? But he was extraordinary… how many of us are? Whatever he did, he did with passion… whether it was singing or Naatkhwani… business or tableegh… he showed dedication in all parts of his life!

 

He has now returned to Allah; The Most Merciful! I feel as if his beautiful voice is echoing here and there: Sarapa Faqr hoon… Ijz o Nidamat sath laya hoon!

 

May Allah bless his soul and grant him Jannah… May Allah shower His blessings on all the other Muslims who died in that tragic incident… aameen.

 

I always saw people weeping over the death of Ulama; yesterday I noticed Ulama weeping over him!

 

His life has set an example… His death has left a message… A crystal clear message: Turn To Allah Before You Return To Allah!

Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, علم دین

Just 3 seconds

فقط تین سیکنڈ

خبروں کے مطابق سرحدوں کی صورتحال سخت کشیدہ ہے۔۔۔ بھارت پاکستان پر ایک اور جنگ مسلط کرنے کے درپے ہے۔۔۔ اگر جنگ ہوئی تو کیا ہو گا؟ کیا یہ جنگ روایتی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی؟ یا ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے! اللہ تعالیٰ وطن اور اہل وطن کو جنگ سے محفوظ ہی رکھے۔

آج ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں سے متعلق ایک رپورٹ دیکھی جس کے مطابق ایٹمی دھماکے کی جگہ کے ڈیڑھ میل کے اندر موجود فرد کا جسم صرف تین سیکنڈ میں بھاپ بن کر تحلیل ہو جاتا ہے۔

چونکہ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی، اس لئے ابھی ہمارے پاس کافی وقت ہے۔ بہتر ہے کہ اس وقت کو غنیمت جانتے ہوئے کہ اللہ سے صلح کر لی جائے، ان تمام امور و افعال سے اجتناب کیا جائے جو کہ اس کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔۔۔ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی جائے۔۔۔ اس کو راضی کر لیا جائے۔۔۔

کیونکہ خدانخواستہ ایٹمی حملے کی صورت میں ہمارے پاس فقط تین سیکنڈ ہوں گے۔۔۔

توبہ کا خیال آتے آتے جسم تحلیل ہو چکا ہو گا۔۔۔!

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا یا کریم

 

Emaan, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Ramadhan, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Apni Fikar Karo

اپنی فکر کرو

(رمضان المبارک میں ایک قوال کے قتل پر لکھی جانے والی تحریر)

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی زبانوں کو لگام دو۔
خدارا۔۔۔ شر نہ پھیلاؤ!
دیکھتے نہیں ہو۔۔۔
رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

کیا خبر!
کون کون اپنے حصہ کا پروانہ آزادی حاصل کر چکا ہو۔۔۔!
کیا خبر!
کس کس کے لئے جنت کا فیصلہ ہو چکا ہو۔۔۔!

کیوں  مرنے والے کے لئے جہنم کے فتوے جاری کر رہے ہو؟
صرف اس لئے کہ وہ بظاہر گناہ گار تھا؟
ارے تم جہاں والوں سے چھپ چھپ کر۔۔۔
تنہائی میں جو کچھ کرتے ہو۔۔۔
کیا تم گناہ گار نہیں ہو؟
پھر تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟

ذرا یہ تو بتاؤ۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے ۔۔۔
تو تمہاری جیب سے  کیا جاتا ہے۔۔۔؟
بتاؤ تو سہی۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے۔۔۔
تو کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ وہ سوال کر سکے اللہ سے۔۔۔۔
کہ آپ نے اسے جنت میں کیوں ڈال دیا۔۔۔؟
ارے پوچھو گے اللہ سے؟
ارے پوچھ سکتے ہو اللہ سے؟

چھوڑو مرنے والے کو۔۔۔۔
وہ اپنی منزل کو پہنچ گیا۔۔۔

اس کی سانسیں پوری ہوئیں۔۔۔
اس کے عمل کی مہلت ختم ہوئی۔۔۔
اب اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔۔۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔۔۔

اسے چھوڑو۔۔۔
اپنی فکر کرو۔۔۔
کہ ابھی سانسوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
ابھی عمل کے لئے مہلت باقی ہے۔۔۔!

دیکھتے نہیں ہو۔۔۔ رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی فکر کرو!ً

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, facebook, Islam, فیس بک, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب, علم دین

Your Memories on Facebook

!یور میموریز آن فیس بک

memo

!مائی گاڈ۔۔۔

 !یہ فیس بک بھی ناں ۔۔۔

!بہت گڑبڑ چیز ہے۔۔۔

!اس کی یادداشت ۔۔۔  توبہ

!اس کا حافظہ۔۔۔ غضب

!بتائیے بھلا۔۔۔

!سال دو سال پہلے ہم نے آج کے دن کیا شیئر کیا تھا، “یور میموریز آن فیس بک” کے نام سے لا کے سامنے رکھ دیا۔۔۔

!اب کل ہی کی بات لے لیجئے۔۔۔

!ہماری ہی ایک پوسٹ ہمارے ہی سامنے لا کے رکھ دی کہ یہ لو۔۔۔

!یہ تم نے پچھلے برس آج کے دن شیئر کی تھی۔۔۔

گویا ۔۔۔

ہماری اپنی ہی کارستانیاں ۔۔۔

ہمارے اپنے ہی کرتوت ۔۔۔

ہمارے ہی سامنے رکھ کے ۔۔۔

ہمیں کہہ رہی ہو۔۔۔

اِقْرَأْ كِتَابَكَ ۔۔۔ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ﴿سورۃ الاسراء ، آیت 14﴾

!لو پڑھ لو اپنا اعمال نامہ! آج تم خود اپنا حساب لینے کے لئے کافی ہو

!آگے خود ہی سمجھ لیجئے

Join our facebook page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Sahaba kay Waqiat, یوم آخرت, اسلام

Eman Ki Hifazat

ایمان کی حفاظت

صاحبو!

کوئی تو وجہ ہو گی جو ایمان والوں کو کہا جا رہا ہے کہ مرنا تو مسلمان ہی مرنا؟

کوئی تو سبب ہو گا جو ایمان والوں کو ایمان کی حفاظت کی دعا سکھائی جا رہی ہے؟

صاحبو! حقیقت یہ ہے ایمان اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے جو کہ ہمیں بن مانگے مل گئی۔ ہم نے نہ تو اس کے لئے کوئی فارم بھرا نہ کوئی درخواست جمع کروائی۔ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں مسلمان بنا دیا ۔ اتنی بڑی نعمت کی قدر نہ کرنا بڑی نادانی ہے۔

صاحبو! ایمان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ بلال ؓ سے پوچھئے کہ چلچلاتی دھوپ میں تپتی ریت پر لٹا دیئے جانے اور پیٹھ جھلس جانے کے باوجود ، اور گلے میں رسی ڈال کر گلیوں میں کھینچے جانے کے باوجود بھی ایمان سے دستبرداری قبول نہ کی۔ ایمان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ خبابؓ سے پوچھئے کہ جنہیں کبھی شدید گرمی میں لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹا دیا جاتا تو کبھی لوہے کی سلاخیں آگ میں دہکا کر پیٹھ کو داغا جاتا اور کبھی انگاروں پر ہی لٹا کر گھسیٹا جاتا یہاں تک کہ ان کے خون اور چربی سے وہ آگ ٹھنڈی ہو جاتی ، لیکن اتنی سخت تکالیف کے باوجود بھی ایمان سے دستبرداری گوارا نہ کی۔ ایمان کی قدر و قیمت جاننی ہے تو فرعون کی کنیز سے جانئے کہ جس کی دو بیٹیاں تھیں ۔ ایک شیرخوار اور ایک تھوڑی بڑی۔ فرعون نے اسے ایمان سے تائب ہونے کو کہا تو اس نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ فرعون نے بر سر دربار کڑھاؤ میں تیل کھولانے کا حکم دیا۔ پھر پہلے بڑی بچی کو کھولتے تیل میں ڈلوا دیا، اس کے بعد شیر خوار بچی کو اور آخر میں ماں کو بھی تیل میں پکوا دیا۔ اس عورت نے اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے تیل میں پکتا دیکھنا گوارا کر لیا اور پھر خود بھی جل مری لیکن ایمان سے دستبرداری قبول نہ کی ۔ ایمان کی قدر و قیمت جاننی ہے تو فرعون کی ملکہ سے پوچھئے ۔ وہ مسلمان ہو گئی تو فرعون نے اسے بھی سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ ملکہ نے جان دے دی لیکن ایمان سے دستبرداری گوارا نہ کی۔

ہاں صاحبو ! ایمان والوں کے راہ ہدایت سے ڈگمگا جانے کا امکان موجود ہے ، اور نتیجتاً خاتمہ ایمان پر نہ ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ شیطان اور شیطانی قوتیں مسلسل تاک میں ہیں۔ ابھی پڑوسی ملک کے اخبار کی دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک مسلمان شخص جس نے ایک ہندو خاتون کو مسلمان کر کے اس سے شادی کی، پانچ چھ برس گزر جانے کے بعد خود بمعہ اہل و عیال ہندو مذہب اختیار  کر لیا۔ اسی طرح ایک مسلمان لڑکی ایک ہندو لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو گئی ۔ لیکن لڑکے کے گھر والے شادی میں رکاوٹ بن گئے۔ لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ صرف دو واقعات ہیں۔ ایسے نجانے کتنے واقعات روزانہ دنیا بھر میں پیش آتے ہوں گے۔

تو صاحبو! اپنے صاحب ایمان ہونے پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جانا چاہئے بلکہ ایک تو اس کی حفاظت کی ہر دم کوشش کرتے رہنا چاہئے ، دوسرے یہ کہ اللہ سے ایمان کی حفاظت کی، استقامت کی ، خاتمہ بالخیر کی خوب اور مسلسل دعا بھی کرتے رہنا چاہئے ۔ یہ سب اسی صورت میں ہوگا جبکہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دل میں پیدا ہو گی۔

تو  کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دلوں سے نکل گئی ہے خدانخواستہ؟ جی ہاں صاحبو!  ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو داڑھی، مردوں کی ٹخنوں سے اونچی شلواراور عورتوں کے پردے وغیرہ پر جملے کستے نظر آتے ہیں، یا نماز روزے کی توہین کرتے پھرتے ہیں ۔۔۔ ” کچھ نہیں ہوتا ان نمازوں سے” … ” روزہ تو وہ رکھے جس کے گھر کھانے کو نہ ہو”…  اس نوعیت کے جملے یقیناً آپ نے بھی سنے ہوں۔ استغفراللہ۔ داڑھی ، شرعی حلیہ، پردہ ، نماز ، روزہ وغیرہ یہ سب دینی شعائر میں سے ہیں۔  اور علمائے دین کے مطابق دینی شعائر کی تضحیک و توہین سے ایمان کے دائرے سے خارج ہو جانے کا اندیشہ ہے۔خود ہی سوچئے کہ ایمان کی قدر و قیمت ہمارے دلوں میں ہوتی تو اسلاف کے طریقوں پر عمل کرنے میں شرمندگی محسوس کر رہے ہوتے نہ غیروں کے طریقوں پر عمل کرنے پہ فخر ۔ سوچنا چاہئے کہ کہیں ہم ایمانی تقاضوں کے بالکل بر خلاف تو نہیں چل رہے ؟

صاحبو!ایمان قائم رہے گا تو آخرت میں کسی نہ کسی درجہ میں نجات ہو ہی جائے گی اور خدانخواستہ اگر ایمان نہ رہا تو نجات کی کوئی صورت نہ ہو گی۔

صاحبو! کوئی تو وجہ ہو گی جو حدیث مبارکہ میں خبردار کیا جا رہا ہے ۔

انما الاعمال بالخواتیم (متفق علیہ)

اعمال کا دار ومدار تو خاتمہ پر ہے۔

صاحبو! کوئی تو وجہ ہو گی جو ایمان والوں کو کہا جا رہا ہے کہ مرنا تو مسلمان ہی مرنا؟

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (اٰل عمران ۔ ۱۰۲)

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔

صاحبو! کوئی تو سبب ہو گا جو ایمان والوں کو ایمان کی حفاظت کی دعا سکھائی جا رہی ہے ؟ سو آئیے ایمان کی حفاظت کی فکر ، کوشش اور دعا کریں:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ (اٰل عمران ۔ ۸)

اے ہمارے رب! تو نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما  ۔ بے شک تیری ، اور صرف تیری ذات ہی وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔

Join our Facebook Page

https://www.facebook.com/profile.php?id=100010437041297

Islam, Lailatul Qadr, Ramadhan, لیلۃ القدر, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Lailatul-Qadr

لیلۃ القدر

ابو شہیر

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا ۔ عشرہ نجات ۔۔۔ جہنم سے آزادی کا عشرہ۔ صلوٰۃ التراویح میں قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کی تلاوت جاری تھی۔ سورۃ محمد کی آیت نے اسے جھنجھوڑا۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے )دلوں پر قفل لگ گئے ہیں؟

آگے پھر سورۃ الحجرات شروع ہوئی ، یہاں تک کہ قاری صاحب نے اس سورۃ مبارکہ کی آخری آیت تلاوت فرمائی۔۔۔

اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْض۔۔۔

بے شک اللہ تعالیٰ زمین آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔

گزشتہ شب اعتکاف میں بیٹھے ساتھیوں کے درمیان یہ مذاکرہ چل نکلا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطلب کیا ہے؟ سب ساتھیوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ خلاصہ یہ تھا کہ اللہ علیم ہے ، حکیم ہے، عظیم ہے … سب سے زیادہ علم والا ، حکمت والا، قدرت والا، طاقت والا، بصارت و بصیرت والا… کوئی بھی چیز اس کی قدرت اور اس کے علم سے باہر نہیں۔ بڑی نافع گفتگو رہی تھی۔ ایمان تازہ ہو گیا ۔ تو اس پس منظر میں مذکورہ بالا آیت سن کر اس کے دل میں اپنے رب کی عظمت مزید قوی ہوئی کہ کیسا زبردست ہے وہ رب کہ سب کچھ جانتا ہے! وہ بھی …. جو ہمیں نظر آرہا ہے یا جو ہمارے علم میں ہے ، اور وہ بھی… جو ہماری نگاہوں سے ہی نہیں ، ہمارے وہم و گمان سے بھی اوجھل ہے۔ یا اللہ ! تجھ سا نہ کوئی ہے نہ ہو سکتاہے ۔ اشھد ان لا الٰہ الا اللہ ۔

دفعتاً اسے ایک جھرجھری سی آئی! اللہ تعالیٰ تو اس کے بارے میں بھی سب کچھ جانتا ہے ۔ اس کا اگلا پچھلا سب اس رب کے علم میں ہے۔ اس کی نافرمانیاں ! اس کی سرکشیاں! اس کے جرائم ! اس کی بغاوتیں! کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں۔ اور اس کا انجام … وہ علام الغیوب تو اس کا بھی علم رکھتا ہے۔ “اے اللہ! اے میرے رب! بے شک تو جانتا ہے کہ تیرے اس بندے کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ تو جانتا ہے کہ آخرت میں میرے لئے کیا ہے ؟ خدانخواستہ جہنم ؟ ہلاکت؟ تباہی و بربادی؟ انگارے؟ تیرا غیظ و غضب؟ ” بس اس خیال کا آنا تھا کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آگے کیا پڑھا گیا ، اسے کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا اسے یاد ہے کہ اس کی گھگھی بندھی ہوئی تھی ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔ اور دل ہی دل میں

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا ۔۔۔

اللھم اغفر لنا و ارحمنا و اعتق رقابنا من النار ۔۔۔

کی گردان چل رہی تھی ۔ اے اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے ، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، ہمیں معاف فرما دے۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما! ہم پر رحم فرما! اور ہمیں جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرما۔ آمین۔

روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد کے پیش امام صاحب ایک مختصر سی حدیث مبارکہ اور اس کا ترجمہ و تشریح بیان فرماتے ۔ حسب معمول اس روز بھی ایک حدیث مبارکہ بیان فرمائی۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ زبان تو بے شک امام صاحب کی تھی لیکن کلام کس کا تھا؟ الصادق و المصدق ﷺ کا! البشیر ﷺ کا! یقیناً آپ ﷺ کُلُّ نفسٍ ذآئقَۃُ المَوت کے اٹل قانون کے تحت دار لفنا سے دار البقا کو ہجرت فرما گئے لیکن ۔۔۔ لاریب کہ آپ ﷺ کا کلام آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک کے لئے زندہ رہے گا۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ کہ حالات و واقعات کی ترتیب اور ٹائمنگ ہی کچھ ایسی تھی ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ۔۔۔ جہنم سے نجات کا عشرہ ۔۔۔ رحمت الٰہی جوش میں ہے ۔ مغفرت کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ بخشش کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ ایک ایک رات میں ہزاروں کو جہنم سے آزادی کے پروانے عطا ہو رہے ہیں۔ اعلانات ہو رہے ہیں ۔۔۔

اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃ ۔۔۔

بے شک تمہارا رب بڑی بخشش والا ہے۔

ہے کوئی طلبگار؟

اعلانات ہو رہے ہیں۔۔۔

ھل مِن تائِبٍ فَاَتوبَ عَلیہ ؟

ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کروں؟

ھل مِن مُستَغفِراٍ فَاَغفِرَ لَہ’ ؟

ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ اسے بخش دوں؟

رات کی تاریکی میں ایک بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں لبوں کو جنبش دیئے بغیر سرگوشیاں کرتا ہے ، دل ہی دل میں راز و نیاز کرتا ہے ، اور وہ ذات جو

یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْر

ہے ۔۔۔ یعنی آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے، سب سن لیتی ہے اور صبح کو یہ مژدہ سنائی دے جاتا ہے ۔ امام صاحب نے حدیث مبارکہ پڑھی ۔ اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔ خدا کرے کہ اس جسارت کو گستاخی و بے ادبی پر محمول نہ کیا جائے ۔۔۔اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔۔۔ کہ جیسے اس رحیم و کریم ذات نے اپنے ایک گناہگار بندے کی آہ و بکا کو سند قبولیت عطا فرماتے ہوئے اپنے نبی ﷺ سے کہا ہو کہ اے میرے محبوب! میرے بندوں کو اپنی زبان مبارک سے خوشخبری سنا دیجئے کہ ۔۔۔

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہ’

یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

بھلا کیا نام دیا جائے اس شب کو جس میں ایک بندۂ عاصی کی ایسی قدر افزائی ہوئی ۔۔۔

قدر کی رات؟

لیلۃ القدر؟